Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: ڈی او ریسکیو 1122 نارووال انجینئر نعیم اختر دورانِ ڈیوٹی حادثے میں شہید

    سیالکوٹ: ڈی او ریسکیو 1122 نارووال انجینئر نعیم اختر دورانِ ڈیوٹی حادثے میں شہید

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہد ریاض)ڈی او ریسکیو 1122 نارووال انجینئر نعیم اختر دورانِ ڈیوٹی حادثے میں شہید

    نارووال ریسکیو 1122 کے ضلعی آفیسر انجینئر نعیم اختر دورانِ ڈیوٹی سڑک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ حادثہ ککے موڑ کے قریب پیش آیا، جہاں تیز رفتار بس کی ٹکر سے وہ شدید زخمی ہوئے اور ہیڈ انجری کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق انجینئر نعیم اختر ایک ذمہ دار، دیانتدار اور پیشہ ور افسر کے طور پر جانے جاتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانی جانیں بچانے اور خدمت خلق کے لیے وقف کی۔ ان کی ناگہانی موت پر ریسکیو کمیونٹی اور شہریوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کی قربانی نہ صرف ادارے کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے ایک مثال ہے۔ ریسکیو 1122 کے افسران اور اہلکاران نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

  • میرواہ گورچانی: فاس دی ہوپ سکول کی داخلہ مہم، تعلیم کے فروغ کیلئے شعور بیداری واک

    میرواہ گورچانی: فاس دی ہوپ سکول کی داخلہ مہم، تعلیم کے فروغ کیلئے شعور بیداری واک

    میرپورخاص(باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور حکومت سندھ کے اشتراک سے تعلیم کی فراہمی میں پیش پیش تعلیمی ادارہ فاس دی ہوپ ہائیر سیکنڈری اسکول میرواہ گورچانی کی جانب سے داخلہ مہم برائے سال 2025-26 کے سلسلے میں شعور بیدار کرنے کے لیے فاطمہ ریزیڈنسی سے شجاع آباد پریس کلب تک ایک بیداری واک کا اہتمام کیا گیا۔

    واک کی قیادت سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میرپورخاص ریجن کے ہیڈ علی محمد شہوانی نے کی، جبکہ شرکاء نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے والے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "تعلیم سب کے لیے”، "تعلیم کامیاب زندگی کی کنجی” جیسے نعروں کے ساتھ مثبت پیغامات درج تھے۔

    ریجنل ہیڈ علی محمد شہوانی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

    "تعلیم صرف ایک فرد کو علم ہی نہیں دیتی بلکہ اُسے بہتر انسان بناتی ہے، اس کی سوچ میں وسعت، کردار میں نکھار، اور زندگی میں شعور پیدا کرتی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ تعلیم انسان کو اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرتی ہے، تنقیدی سوچ کو فروغ دیتی ہے، اور کامیاب معاشرہ تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اسکولوں میں ضرور داخل کروائیں تاکہ سندھ کا کوئی بھی بچہ تعلیم کے زیور سے محروم نہ رہ جائے۔

    اس موقع پر دیگر مقررین غلام محمد نودھانی، غلام فرید اوٹھو، نثار چانگ، مختیار لغاری و دیگر نے بھی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، ادارے اور والدین مل کر اگر سنجیدگی سے کام کریں تو تعلیم کا ہر چراغ روشن ہو سکتا ہے۔

    یہ بیداری واک نہ صرف داخلہ مہم کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بنی بلکہ شہریوں میں تعلیم کی اہمیت کا پیغام بھی کامیابی سے پہنچایا، جو آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

  • سیالکوٹ: ایف آئی اے اور انٹرپول کی مشترکہ کارروائی، قتل و اقدام قتل کے 3 بین الاقوامی اشتہاری ملزمان گرفتار

    سیالکوٹ: ایف آئی اے اور انٹرپول کی مشترکہ کارروائی، قتل و اقدام قتل کے 3 بین الاقوامی اشتہاری ملزمان گرفتار

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) ایف آئی اے اور انٹرپول کی مشترکہ کارروائی، قتل و اقدام قتل کے 3 بین الاقوامی اشتہاری ملزمان گرفتار

    سیالکوٹ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن اور انٹرپول نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے قتل اور اقدام قتل کے سنگین مقدمات میں ملوث 3 بین الاقوامی اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد کی شناخت آفتاب افضل، ارمان گورائیہ اور محمد امین کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    ملزمان کو ریڈ نوٹسز کے تحت متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے سیالکوٹ منتقل کیا گیا، جہاں ایف آئی اے امیگریشن نے انہیں قانونی کارروائی کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا۔ آفتاب افضل 2022 سے تھانہ کینٹ گوجرانوالہ، ارمان گورائیہ 2024 سے تھانہ علی پور چھٹہ، جبکہ محمد امین 2020 سے تھانہ صدر ٹوبہ ٹیک سنگھ کو مطلوب تھا۔

    یہ گرفتاری ایف آئی اے، انٹرپول اسلام آباد، انٹرپول ابوظہبی اور امیگریشن سیالکوٹ کے مابین قریبی رابطہ کاری کا نتیجہ ہے، جسے حکام نے پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

  • لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ،مسیحاغائب

    لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ،مسیحاغائب

    لنڈی کوتل(مہد شاہ شینواری کی رپورٹ)لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ، سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی نے مریضوں کی زندگی داؤ پر لگا دی

    لنڈی کوتل کے عوام چیخ رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں لیکن ان کی آواز شاید ان ایوانوں تک نہیں پہنچ رہی جہاں سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل جو پورے علاقے کے مریضوں کے لیے امید کی آخری کرن ہے، اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی، مستقل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نہ ہونا اور عملے کی غیر سنجیدگی نے ہسپتال کو ایک بے یار و مددگار عمارت میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں مریض قسمت کے سہارے پڑے ہوتے ہیں۔

    ہسپتال کے ایک سینئر اہلکار اور ضلع خیبر پیرامیڈیکس کے صدر ولی خان آفریدی نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی اور مستقل ایم ایس کی عدم تعیناتی کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ایم ایس کے ذمے جمرود ہسپتال کی ذمہ داریاں بھی ہیں، جس کے باعث وہ لنڈی کوتل میں باقاعدگی سے موجود نہیں رہتے۔ ولی خان نے اعلان کیا ہے کہ پیر کو مقامی مشران اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک اہم اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

    فلاحی کارکن اختر علی شینواری نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند بااثر افراد ذاتی مفادات کی خاطر لنڈی کوتل کے عوام کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔ روزانہ مریض ہسپتال کے در و دیوار سے ٹکرا کر واپس مایوس لوٹتے ہیں، کیونکہ ان کا علاج کرنے والا کوئی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا۔

    ایک اور ہسپتال اہلکار نے کیجولٹی وارڈ میں عملے کی غفلت کی نشاندہی کی اور کہا کہ ماضی میں ایم ایس شیرانی کے دور میں ہسپتال میں نظم و ضبط قائم تھا، اور کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی تھی۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر شعبہ بے توجہی اور بدنظمی کا شکار ہے۔

    جب ان مسائل پر خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر عدنان قادری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ان مسائل کو متعلقہ حکام کے سامنے رکھیں گے اور لنڈی کوتل کے عوام کو درپیش طبی مشکلات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف وعدے کافی ہیں؟
    لنڈی کوتل کے عوام بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کے ہسپتال میں فوری طور پر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے، مستقل ایم ایس مقرر کیا جائے اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی ہو۔ یہ کوئی سیاست یا مراعات کی بات نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق کا مسئلہ ہے ، علاج کا حق دیا جائے۔

    یہ محض ایک ہسپتال نہیں، پورے قبائلی علاقے کی سانسیں اس کی صحت سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر ہسپتال کو نظر انداز کیا گیا تو یہ عوامی بے چینی کسی بڑے احتجاج کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
    عوام کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال ہمارے بچوں کی جانوں کا مسئلہ ہے، اس پر خاموشی ناقابلِ برداشت ہے۔

  • پسرور:پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے شاندار ریلی، عوامی جوش و جذبے کا فقید المثال مظاہرہ

    پسرور:پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے شاندار ریلی، عوامی جوش و جذبے کا فقید المثال مظاہرہ

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض)پسرور میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت رکنِ قومی اسمبلی علی زاہد خاں نے کی۔ اس پُرجوش اور منظم ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور قومی پرچموں کے ساتھ پاک فوج کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اپنے جوش و جذبے کا بھرپور اظہار کیا۔

    ریلی علی زاہد خاں کے ڈیرے سے شروع ہو کر پرانا نادرا آفس چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں مقررین نے شرکاء سے خطاب کیا۔ ریلی کے دوران فضا "پاکستان زندہ باد”، "پاک فوج زندہ باد”، اور "شہداء کو سلام” جیسے نعروں سے گونجتی رہی۔ ریلی میں ہر عمر کے افراد بشمول خواتین، بچے، بزرگ، طلباء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جس نے اسے پسرور کی تاریخ میں قومی جذبے کی ایک روشن مثال بنا دیا۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار، پارلیمانی سیکرٹری ایریگیشن رانا محمد فیاض، اور پارلیمانی سیکرٹری بلدیات خرم خاں ورک بھی موجود تھے۔ علی زاہد خاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ہماری سرحدوں کی محافظ ہے اور پوری قوم اپنی افواج پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قوم اپنے شہداء کو یاد رکھتی ہے، وہ ناقابل شکست ہوتی ہے، اور شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

    ایم پی اے رانا محمد فیاض نے کہا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے والی ہماری بہادر افواج ہیں، اور نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ حب الوطنی کو عمل میں لائیں۔ خرم خاں ورک نے شہریوں کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریلی کا مقصد پاک فوج سے محبت اور قومی یکجہتی کا پیغام دینا ہے۔

    ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی، اور اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی تاکہ نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ مزید فروغ پائے۔ پسرور کے شہریوں نے بھرپور انداز میں اپنے محافظوں کے ساتھ یکجہتی کا عزم دہرایا اور کہا کہ ملک دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

    یہ ریلی پسرور کے قومی شعور اور افواجِ پاکستان سے لازوال وابستگی کی ایک یادگار تصویر بن کر ابھری۔

  • بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر

    بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر

    بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان نے بھارتی جارحیت، منظم جھوٹی پروپیگنڈا مہم اور فالس فلیگ آپریشنز کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہوئے ایک جامع ڈوزیئر جاری کیا ہے۔ یہ ڈوزئر آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی، پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے دفاع کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ اس دستاویز نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان کی فوجی صلاحیت، سفارتی حکمت عملی اور عالمی پوزیشن کو اجاگر کیا۔

    22 اپریل 2025 کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے پہلگام میں ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کیا۔ ڈوزیئر کے مطابق یہ حملہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسس ونگ (RAW) کا فالس فلیگ آپریشن تھا۔ ٹیلی گرام پر لیک ہونے والی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے "سائیکولوجیکل آپریشنز اور بیانیہ کنٹرول” کے ذریعے حملے کو پاکستان کی انٹرسروسز انٹیلی جنس (ISI) پر ڈالنے کی منصوبہ بندی کی۔ بھارت نے حملے کے 10 منٹ کے اندر پاکستان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جو بغیر تحقیق کے کیا گیا۔ پاکستان نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نے مسترد کر دیا۔ بین الاقوامی میڈیا، بھارتی سیاستدانوں اور سول سوسائٹی نے بھارتی بیانیے کو مشکوک قرار دیا۔ بھارت نے حقائق دبانے کے لیے یوٹیوب اور ٹوئٹر چینلز پر پابندی لگائی، جو اس کے سیاسی مقاصد کو عیاں کرتا ہے۔

    پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے 23 اپریل کو جارحانہ اقدامات اٹھائے، جن میں انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی، پاکستانی ویزوں کی منسوخی، واہگہ اٹاری بارڈر کی بندش، پاکستانی ہائی کمیشن کی بندش اور سفارتی عملے کی تعداد میں کمی شامل تھی۔ 7 مئی کو بھارت نے پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے چھ شہروں مریدکے، بہاولپور اور مظفرآباد پر میزائل حملے کیے، جن میں مساجد تباہ ہوئیں اور خواتین، بچوں سمیت درجنوں شہری شہید ہوئے۔ بھارت نے 100 سے زائد ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل کیے، جبکہ پاکستانی فضائی حدود میں 57 کمرشل پروازیں موجود تھیں، جس سے ہزاروں شہریوں کی جان خطرے میں پڑی۔

    پاکستان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بھارتی جنگی طیاروں، جن میں تین رافیل جیٹس، ایک MiG-29 اور ایک SU-30 شامل تھے کو مار گرایا۔ 10 مئی کو بھارت کے پاکستانی ایئر بیسز پر حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا۔ یہ آپریشن اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت تھا۔ پاکستان نے بھارتی فوجی تنصیبات، جن میں میزائل اسٹوریج، ایئر بیسز اور اسٹریٹجک اہداف شامل تھے کو نشانہ بنایا۔ ڈوزئر کے مطابق پاکستان نے پانچ بھارتی طیاروں، 84 ڈرونز، S-400 بیٹری سسٹمز (آدم پور اور بھوج)، براہموس میزائل اسٹوریج (بیاس اور ناگروٹہ)، فیلڈ سپلائی ڈپو (اُڑی)، ریڈار اسٹیشن (پونچھ) اور فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹرز (10 اور 80 بریگیڈ) کو تباہ کیا۔ پاکستان نے فتح سیریز کے F1 اور F2 میزائلوں، درست ہتھیاروں اور آرٹلری کا استعمال کیا، صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے شہری علاقوں کو محفوظ رکھا۔

    ڈوزیئر میں سیٹلائٹ تصاویر، فیلڈ انٹیلی جنس اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس شامل ہیں، جو بھارتی میڈیا اور RAW سے منسلک سوشل میڈیا کی جھوٹی مہم کو بے نقاب کرتی ہیں۔ بھارتی میڈیا نے پہلگام واقعے کے بعد جنگی ماحول بنایا، جسے بین الاقوامی میڈیا نے جھوٹا قرار دیا۔ بھارتی سول سوسائٹی نے اسے سیکیورٹی ناکامی قرار دیا۔ بھارت کی فوری الزام تراشی اس کے دعوؤں کی ساکھ کو مشکوک بناتی ہے۔ پاکستان نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی جو بھارت کے مقاصد کو بے نقاب کرتی ہے۔

    بھارت کا فالس فلیگ آپریشنز کا تاریخی پس منظر ہے، جیسے 1971 کی مشرقی پاکستان مداخلت، 1999 کا کارگل تنازعہ اور 2016-2019 کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کو عیاں کیا۔ ڈوزئر میں بتایا گیا کہ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، جس کے ثبوت پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے پیش کیے۔

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ کئی دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد 10 مئی 2025 کی شام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان ہوا، جس کی تصدیق پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بھارتی سیکرٹری خارجہ نے کی۔ سفارتی ماہرین کے مطابق ڈوزئر نے پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ عالمی میڈیا نے بھارتی بیانیے کی خامیوں کو اجاگر کیا اور بھارتی میڈیا کے جنگی جنون کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو جارحیت، شہریوں پر حملوں اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ امن کا حامی ہے لیکن اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرے گا۔ اس کی ردعمل بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھا جو اس کی پیشہ ورانہ فوجی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی اس تاریخی فتح نے بھارتی جارحیت کو بے نقاب کیا اور عالمی برادری کو پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر کوئی جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔

    پاکستان زندہ باد
    پاک افواج پائندہ باد

  • ڈیرہ غازی خان: ایل پی جی گیس لیکیج، ریسکیو 1122 کا بروقت آپریشن، بڑا حادثہ ٹل گیا

    ڈیرہ غازی خان: ایل پی جی گیس لیکیج، ریسکیو 1122 کا بروقت آپریشن، بڑا حادثہ ٹل گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) پل شوریا، جامپور روڈ نزد ٹول پلازہ پر اس وقت خطرے کی گھنٹی بجی جب ایک ایل پی جی کیپسول سے گیس کا شدید اخراج شروع ہو گیا۔ گیس لیکج کسی بھی لمحے خوفناک دھماکے میں تبدیل ہو سکتی تھی، تاہم ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان نے برق رفتاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممکنہ تباہی کو ٹال دیا۔

    کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی فوری ردعمل دیتے ہوئے دو فائر وہیکلز (KCF&R-01، DGF-01) اور ایک ریسکیو وہیکل جائے وقوعہ کی جانب روانہ کی گئیں، جو صرف 13 منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں۔ ٹیم نے حفاظتی اقدامات کے تحت فوری آپریشن کا آغاز کیا اور گیس کے پھیلاؤ کو محدود کرتے ہوئے علاقے کو محفوظ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر جناب احمد کمال خود موقع پر موجود رہے اور پورے ریسکیو آپریشن کی براہ راست نگرانی کی۔ ان کی قیادت میں ریسکیو ٹیم نے نہ صرف جائے وقوعہ کو کلیئر کیا بلکہ اطراف کے علاقے سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ کسی بھی ممکنہ دھماکے سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے، جس سے بڑی انسانی و مالی تباہی سے بچا جا سکا۔

    ریسکیو 1122 کے اس بروقت اور مؤثر رسپانس پر احمد کمال، اسسٹنٹ کمشنر تیمور عثمان، اور سی ڈی او عمران مہدی کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریسکیو 1122 تاخیر سے پہنچتی تو حالات انتہائی خطرناک ہو سکتے تھے۔

    شہریوں نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ویلڈن ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان آپ نے ثابت کر دیا کہ مستعدی، مہارت اور جذبے سے کسی بھی بڑے سانحے کو روکا جا سکتا ہے۔

  • اوچ شریف اور خیرپور ٹامیوالی میں خوفناک ٹریفک حادثات: ایک جاں بحق، چار زخمی

    اوچ شریف اور خیرپور ٹامیوالی میں خوفناک ٹریفک حادثات: ایک جاں بحق، چار زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) جنوبی پنجاب کے دو مختلف علاقوں اوچ شریف اور خیرپور ٹامیوالی میں تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی ایک بار پھر انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن گئی۔ دو الگ الگ حادثات میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق جبکہ چار افراد شدید زخمی ہو گئے، جنہیں ریسکیو 1122 نے فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل کیا۔

    اوچ شریف کے علاقے للو والی موری میں موٹر سائیکل اور رکشہ کے درمیان تصادم اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار موٹر سائیکل رکشہ سے ٹکرا گیا۔ حادثے میں موٹر سائیکل سوار نوجوان محمد فیصل ولد کریم بخش، قوم لنگاہ، عمر تقریباً 25 سال شدید زخمی ہو گیا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمی نوجوان کو ابتدائی طبی امداد دی اور RHC اوچ شریف منتقل کیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    دوسرا المناک حادثہ خیرپور ٹامیوالی کے علاقے میں فوجی والا پل کے قریب پیش آیا، جہاں دو موٹر سائیکلیں تیز رفتاری کے باعث آمنے سامنے آ گئیں۔ شدید تصادم کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے، جن میں بزرگ شہری محمد امیر ولد لال خان، عمر 60 سال، سکنہ بستی جھوک لال، موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں محمد نعمان اور عمر فاروق ولد زاہد سلیم شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے فوری طور پر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر THQ خیرپور ٹامیوالی منتقل کیا۔

    حادثات کے بعد دونوں علاقوں میں کہرام مچ گیا جبکہ اہل علاقہ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

  • پیر عادل: یورو ویگن کی ٹکر سے بچی شدید زخمی، حالت تشویشناک

    پیر عادل: یورو ویگن کی ٹکر سے بچی شدید زخمی، حالت تشویشناک

    پیر عادل (باغی ٹی وی، نامہ نگار باسط علی گاڈی) یوروویگن کی ٹکر سے بچی شدید زخمی، حالت تشویشناک،تونسہ روڈ پر حادثہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں

    تھانہ کوٹ مبارک کی حدود میں انڈس ہائی وے پر واقع پی ٹی شاہ پمپ کے قریب افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ ایک کارسوار نے سڑک کراس کرتی ہوئی بچی کو بچانے کی کوشش کی مگر یورو گاڑی کی زد میں آ کر بچی شدید زخمی ہوگئی۔

    ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر فوری طور پر زخمی بچی کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازیخان منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

    پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اہل علاقہ نے سڑک پر بڑھتے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کی میزبانی میں وفاقی وزراء اور صنعت کاروں کا اہم اجلاس

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کی میزبانی میں وفاقی وزراء اور صنعت کاروں کا اہم اجلاس

    کراچی (باغی ٹی وی، خصوصی رپورٹ)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کی، جس میں وفاقی وزراء، صنعت کاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ (ڈسکوز) کی طرف منتقلی کے عمل پر تبادلہ خیال اور اسے کابینہ کے فیصلے کے مطابق عملی جامہ پہنانے کے لیے لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اجلاس میں صنعت کاروں کے تحفظات سنے گئے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ان کی تجاویز اور خدشات پر حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر، اسد عالم، مرزا اختیار بیگ، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، وفاقی و صوبائی سیکریٹریز، ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)، سی ای او کراچی الیکٹرک مونس علوی، اور شہر کے ممتاز صنعت کاروں زبیر موتی والا، شبیر دیوان، جاوید بلوانی سمیت دیگر نے شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ کی طرف منتقلی ایک لازمی عمل ہے، لیکن اسے صنعت کاروں کے لیے قابل قبول اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعت کاروں کے اعتماد کو یقینی بنائے اور اس منتقلی کے لیے باہمی اتفاق سے ایک واضح ٹائم لائن طے کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیپٹو پاور پلانٹس سے منقطع ہونے والی گیس کو سندھ کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا اور اسے صوبے سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔

    صنعت کاروں نے اجلاس میں اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل گرڈ کی بجلی کی سپلائی اکثر غیر مستحکم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے کیپٹو پاور پلانٹس بند کرکے مکمل طور پر گرڈ پر انحصار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے "ڈی-گرڈ لیوی آرڈیننس 2025” کے تحت مجوزہ اضافی چارجز پر بھی اعتراض اٹھایا، کیونکہ گیس کمپنیاں پہلے ہی زائد چارجز وصول کر رہی ہیں۔ صنعت کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کیپٹو پاور پلانٹس پر مزید ٹیکس عائد ہونے سے صنعتی شعبے پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا، جو معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ سندھ حکومت کی دعوت پر صنعت کاروں کے تحفظات سننے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشیں شامل ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایسی پالیسیاں بنانے کی ہدایت دی ہے جو صنعتی ترقی کو فروغ دیں۔

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے صنعتی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی صنعت کاروں کے ساتھ گزشتہ زوم میٹنگز اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اجلاس کو بتایا کہ صنعتی ٹیرف میں پہلے ہی 30 فیصد کمی کی جا چکی ہے اور ڈسکوز اپنی کارکردگی بہتر بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7,000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کا فزیبلٹی پلان تیار ہے اور اب تک 583 کیپٹو پاور پلانٹس نیشنل گرڈ سے منسلک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بالآخر تمام صنعتوں کو خودکار بجلی پیداوار سے نیشنل گرڈ پر منتقل ہونا پڑے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں تقریباً 660 کیپٹو پاور پلانٹس ہیں اور صنعت کاروں نے ٹیرف میں مجوزہ اضافے پر جائز تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد صنعت کاروں کی آواز کو براہ راست سننا اور ان کے مسائل کا حل نکالنا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے صنعت کاروں کے ساتھ براہ راست مشاورت پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ منتقلی کے عمل کے دوران صارفین پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے اور گیس کے استعمال کے حوالے سے سندھ کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ صنعت کاروں کی تمام تجاویز اور تحفظات کو باضابطہ طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ، ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی جو کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ کی طرف منتقلی کے دوران محصولات کے نفاذ اور عبوری عرصے کے تعین کا جائزہ لے گی۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ نے اج اس اجلاس کو "انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ وزیراعلیٰ اور صنعت کاروں کی تجاویز کو وزیراعظم تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون اور صنعت کاروں کے ساتھ مشاورت کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔

    یہ اجلاس کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ کی طرف منتقلی کے عمل کو منظم اور شفاف بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت صنعت کاروں کے مفادات کے تحفظ اور صوبے کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔