Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: سستی گندم، مہنگی روٹی ، تندور مالکان فلور ملیں لگانے کے خواب دیکھنے لگے، عوام لُٹ گئے!

    سیالکوٹ: سستی گندم، مہنگی روٹی ، تندور مالکان فلور ملیں لگانے کے خواب دیکھنے لگے، عوام لُٹ گئے!

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہد ریاض کی رپورٹ) ایک طرف حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ گندم کی قیمتوں میں تاریخی کمی آئی ہے، دوسری طرف تندوروں اور ہوٹلوں پر روٹی کی قیمت مسلسل عوام کا منہ چِڑا رہی ہے۔ گندم 3900 روپے فی من سے کم ہو کر اب صرف2000سے 2400 روپے فی من میں فروخت ہو رہی ہے، مگر افسوس کہ سیالکوٹ میں روٹی اب بھی 15 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف غریب طبقے کے ساتھ سنگین مذاق ہے بلکہ ریاستی نااہلی کی کھلی علامت بھی ہے۔

    جس گندم پر کسان کو مناسب نرخ نہیں دیا گیا، وہی سستی گندم عوام تک پہنچنے سے پہلے تندوروں کی چمنی میں جل کر مہنگائی کے دھوئیں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ روٹی کی لاگت میں نمایاں کمی کے باوجود کوئی تندور والا یا ہوٹل مالک قیمت کم کرنے کو تیار نہیں۔ جیسے انہیں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہو کہ جتنا چاہو لوٹو، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

    عوام چیخ رہے ہیں، سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب گندم کی قیمت میں 1500 روپے فی من کمی ہو چکی ہے تو روٹی کی قیمت میں بھی کمی کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا صرف اشرافیہ کو ریلیف دینا حکومت کا مقصد ہے؟ کیا غریبوں کے لیے اس ریاست میں صرف مہنگائی، بیروزگاری، اور ناانصافی ہی مقدر رہ گئی ہے؟ تندور مالکان کے منافع کے سامنے انتظامیہ کی بے بسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ فوڈ اتھارٹی، پرائس کنٹرول کمیٹی اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صرف ائرکنڈیشنڈ بندکمروں میں فائلوں میں موجود ہیں، زمینی سطح پر ان کا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔

    عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ روٹی کی قیمت فوری طور پر 8 روپے مقرر کی جائے، تندوروں اور ہوٹلوں پر روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کا موثر نظام بحال کیا جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو عوامی ردعمل کسی بڑے احتجاج کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

    مہنگائی کے مارے عوام کے لیے روٹی اب ضرورت نہیں، خواب بنتی جا رہی ہے۔ اگر ریاستی ادارے فوری طور پر ہوش میں نہ آئے تو صرف معاشی بحران نہیں، معاشرتی بغاوت جنم لے سکتی ہے اورپھر تب سوال صرف روٹی کا نہیں، نظام کا ہوگا۔

  • اوچ شریف: ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر، ماں بیٹی جاں بحق، باپ زخمی

    اوچ شریف: ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر، ماں بیٹی جاں بحق، باپ زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی,نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے بلہ جھلن میں رات کے وقت ایک دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد حادثے کا شکار ہو گئے۔ موٹر سائیکل پر سوار محمد سلیم، اس کی اہلیہ فرزانہ بی بی اور کمسن بیٹی سویرا بی بی سڑک کے کنارے کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئے۔ حادثے کی وجہ موٹر سائیکل کی ہیڈ لائٹ کا خراب ہونا بتایا جا رہا ہے، جس کے باعث سامنے کھڑی ٹریکٹر ٹرالی نظر نہ آ سکی۔

    افسوسناک حادثے میں 32 سالہ فرزانہ بی بی اور اس کی ایک سالہ بیٹی موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ 35 سالہ محمد سلیم شدید زخمی ہو گیا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے رورل ہیلتھ سینٹر اوچ شریف منتقل کر دیا۔ جاں بحق ماں بیٹی کی لاشیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔

    حادثے کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا چھا گئی، اہل علاقہ نے سڑکوں پر کھڑی بغیر روشنی والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: پریس کلب کے زیراہتمام،یومِ تشکر پر پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی، ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازیخان: پریس کلب کے زیراہتمام،یومِ تشکر پر پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی، ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) پریس کلب ڈیرہ غازی خان کے زیر اہتمام صدر شیر افگن بزدار کی قیادت میں "یومِ تشکر” کے عنوان سے پاک فوج کی عظیم قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مقامی صحافیوں، سماجی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پاک فوج سے اپنی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

    ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "پاک فوج زندہ باد”، "پاکستان کا دفاع ہماری اولین ترجیح ہے” اور "قوم اپنے محافظوں کے ساتھ ہے” جیسے نعرے درج تھے۔ ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزری اور قومی جذبے سے لبریز مناظر دیکھنے کو ملے۔

    صدر پریس کلب شیر افگن بزدار نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی قربانیاں وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کی ضامن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یومِ تشکر” منانے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم اپنی افواج کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    شرکاء نے ریلی کے دوران زوردار نعرے بازی کی اور کہا کہ دشمن عناصر جو پاک فوج کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، اُن کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب قومی اتحاد اور یکجہتی کے لیے ناگزیر ہیں۔

  • پاکستان کی تاریخی دفاعی فتح پر عالمی میڈیا حیران

    پاکستان کی تاریخی دفاعی فتح پر عالمی میڈیا حیران

    پاکستان کی تاریخی دفاعی فتح پر عالمی میڈیا حیران
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پاکستان نے بھارتی جارحیت کا نہ صرف بروقت اور فیصلہ کن جواب دیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی عسکری حکمت عملی، دفاعی مہارت، اور تکنیکی برتری کو بھی منوایا۔ بین الاقوامی میڈیا، دفاعی تجزیہ کاروں اور عالمی مبصرین نے کھلے الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے جس پیشہ ورانہ انداز میں دشمن کے حملے کو ناکام بنایا وہ جدید جنگی تاریخ میں ایک شاندار مثال ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی، جب کہ پاکستان کی فضائیہ نے دشمن کو زبردست چیلنج دیا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاعی نظام کو بروقت متحرک کیا بلکہ بھارتی عزائم کو بھی مکمل طور پر خاک میں ملا دیا۔ اربوں ڈالر کی بھارتی عسکری سرمایہ کاری عملی میدان میں بے اثر دکھائی دی۔

    برطانوی جریدہ "ٹیلی گراف” نے پاکستان کی دفاعی کامیابی کو "تضحیک آمیز شکست” کے طور پر بیان کیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان نے جدید میزائل ٹیکنالوجی کی مدد سے بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ ٹیلی گراف نے اسے "ٹیکنالوجی کے مقابلے میں مہارت اور حکمت عملی کی فتح” قرار دیا۔

    الجزیرہ نے اس واقعے کو جنگی تاریخ میں رافیل طیاروں کی پہلی شکست قرار دیتے ہوئے اسے عالمی منظرنامے پر ایک غیر متوقع لمحہ کہا۔ رپورٹ کے مطابق ایک محدود وسائل رکھنے والے ملک نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک بڑی طاقت کو جس انداز میں زیر کیا، وہ دنیا بھر کے لیے حیرت کا باعث بنا۔

    روسی دفاعی تجزیہ کار سرگئی کارلوف نے چینل "روسیا ٹوڈے” پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کو ایک "اسٹریٹیجک پیغام” قرار دیا۔ ان کے بقول

    یہ محض ایک دفاعی کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح اعلان تھا کہ پاکستان صرف اپنی سرحدوں کا دفاع ہی نہیں کر سکتا بلکہ کسی بھی جارحیت کو مؤثر انداز میں ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔”

    فرانسیسی روزنامہ "لوموند” نے بھارتی عسکری ناکامی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ بھارتی قیادت کو اب اپنی جنگی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اخبار کے مطابق پاکستان نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ وہ امن کا داعی ضرور ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے میں ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہایت درست نشانے پر وار کرتے ہوئے بھارتی ایئر بیسز، ریڈار اسٹیشنز اور زمینی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچایا، جس کے بعد بھارت نے فوری طور پر سفارتی مدد کے لیے امریکہ اور دیگر اتحادیوں سے رجوع کیا۔ یہ قدم بھارت کی کمزور دفاعی تیاریوں کو عالمی برادری کے سامنے آشکار کرنے کا باعث بنا۔

    پاکستان کی یہ کامیابی نہ صرف عسکری میدان میں ایک فیصلہ کن لمحہ ہے بلکہ اس کے قومی دفاع، خودمختاری اور پرامن پالیسیوں کے تسلسل کا بھی ثبوت ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو باور کرا دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

    اس کامیابی نے نہ صرف پاک فوج کے جدید تربیتی نظام اور اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا بلکہ اس بات کو بھی ثابت کر دیا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی محض ردِعمل نہیں بلکہ مکمل تیاری، بروقت فیصلہ سازی اور قومی جذبے پر مبنی ایک جامع حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اندرونی سطح پر قوم کا اتحاد، عوام کا اعتماد اور سیاسی و عسکری قیادت کی یکجہتی اس کامیابی کی اصل بنیاد بنے۔

  • بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!

    بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!

    بھارت سے مذاکرات، فتح پر سمجھوتہ؟ ہرگز نہیں!
    قوم کی نظریں قیادت پر، میدان کی جیت کو میز پر ہارنے نہ دیا جائے!
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
    اس کالم کا مقصد پاکستانی قوم اور اس کے اداروں کو خبردار کرنا ہے کہ مذاکرات کی میز پر کوئی ایسی کمزوری نہ دکھائی جائے جو میدان جنگ میں حاصل کی گئی فتح کو سیاسی شکست میں بدل دے۔ پاکستانی عوام اپنی فوج اور حکومت سے اس وقت غیر معمولی توقعات رکھتے ہیں اور کوئی غلطی ناقابل معافی ہوگی۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ محدود جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سیز فائر نے خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس کے نظریاتی بازو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے ہمنوا "گودی میڈیا” کی جانب سے اس شکست کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت اپنی عسکری ناکامیوں کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی یہی کوشش جاری ہے۔ بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ماضی میں متعدد بار اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پروپیگنڈے اور سفارتی چالوں کا سہارا لیا ہے۔ 1965 کی جنگ میں بھارت نے اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کیا حالانکہ پاکستانی افواج نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر بھارتی پیش قدمی کو روک دیا تھا۔ جنگ کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بھارت نے پاکستان کو سبق سکھایا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت پاک فوج نے بھارت کو شکست دوچارکیا تھا۔ اسی طرح 1999 کی کارگل جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی لیکن بھارت نے عالمی دباؤ اور سفارتی چالوں کے ذریعے اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کیا۔ بھارتی میڈیا نے اسے "آپریشن وجے” کے نام سے پروموٹ کیا حالانکہ پاکستانی فوج نے بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔

    2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے بالاکوٹ میں "سرجیکل سٹرائیک” کا دعویٰ کیا لیکن پاکستانی فضائیہ نے 27 فروری 2019 کو بھارتی طیاروں کو مار گرا کر اور ایک پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو گرفتار کر کے بھارت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ اس کے باوجود بی جے پی نے اس واقعے کو الیکشن مہم میں استعمال کر کے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنی عسکری ناکامیوں کو میڈیا پروپیگنڈے اور سفارتی چالوں کے ذریعے سیاسی فائدے میں بدلنے کی مہارت رکھتا ہے۔ موجودہ سیز فائر کے بعد بھی یہی کوشش متوقع ہے، خاص طور پر جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بہار کے الیکشن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور الیکشن کیلئے ہی پہلگام فالزفیلگ اپریشن کیا اور اسی کا بہانا بنا پاکستان پر شب خون مارا ،جس میں مساجد اور معصوم بچے ،خواتین اور بزرگ شہید ہوئے۔

    بھارت کی حالیہ عسکری ناکامی کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے کئی چالوں کا امکان ہے۔ بھارت یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ سیز فائر اس کی سفارتی کامیابی ہے اور پاکستان نے دباؤ میں آ کر اسے قبول کیا۔ گودی میڈیا اس بیانیے کو تقویت دینے کے لیے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن رپورٹس کا سہارا لے رہا ہے، جیسا کہ حالیہ سوشل میڈیا میں بھارتی صحافیوں کے پروپیگنڈے کے دعوؤں سے ظاہر ہوتا ہے۔ بھارت مذاکرات سے پہلے یا دوران پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے، جیسا کہ 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد دیکھا گیا۔ بی جے پی بہار کے الیکشن میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس سیز فائر کو "مودی کی قیادت میں بھارت کی طاقت” کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ ماضی میں بی جے پی نے ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح جیسے واقعات کو الیکشن میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا تھا حالانکہ وہ حلقہ 2024 کے الیکشن میں ہار گئی۔ مذاکرات کی میز پر بھارت غیر حقیقت پسندانہ مطالبات پیش کر سکتا ہے جیسے کہ کشمیر کے معاملے پر یک طرفہ رعایت یا پاکستانی سرزمین سے مبینہ دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ۔ یہ مطالبات مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان کو کمزور پوزیشن میں دکھانے کے لیے ہوں گے۔

    پاکستانی قوم اس وقت اپنی فوج اور حکومت سے غیر معمولی توقعات رکھتی ہے۔ حالیہ آپریشن "بنیان مرصوص” میں پاکستانی فضائیہ اور مسلح افواج نے بھارت کے عسکری دعوؤں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ عوام میں پاک فوج اور حکومت کی مقبولیت عروج پر ہے اور یہ مقبولیت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ لیکن یہ سرمایہ مذاکرات کی میز پر ایک غلط فیصلے سے ضائع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عوام یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وہ میدان جنگ میں جیتی ہوئی فتح کو سیاسی طور پر ہارنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر پاکستانی قیادت نے بھارت کے دباؤ میں آ کر کوئی کمزوری دکھائی، جیسے کہ غیر ضروری رعایت دینا یا بھارت کے پروپیگنڈے کا مقابلہ نہ کرنا تو عوام اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ سوشل میڈیا خاص طورایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستانی صارفین کے تبصروں سے واضح ہے کہ عوام اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر کرتے ہیں اور بھارت کی ناکامی کو اپنی فتح سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ جو اس فتح کو کمزور کرے، عوامی غم و غصے کو دعوت دے گا۔

    پاکستان کو مذاکرات کی میز پر مضبوط پوزیشن کے ساتھ بیٹھنا ہوگا۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنا ہوگا کہ سیز فائر بھارت کی عسکری ناکامی کا نتیجہ ہے۔ عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ جیسے فورمز پر اس بیانیے کو تقویت دی جائے۔ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا ٹیموں کو بھارتی گودی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں کا فوری اور ٹھوس جواب دینا ہوگا۔ بھارت کے دعوؤں کی آزاد تصدیق کے لیے انٹرنیشل میڈیا کو دعوت دی جائے۔ پاکستان کو کشمیر سمیت تمام اہم ایشوز پر اپنے اصولی موقف پر ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کو مثبت سمت میں رکھا جائے۔ پاکستانی قیادت کو عوام کو اعتماد میں لے کر ہر فیصلے کی شفافیت یقینی بنانی ہوگی۔ عوام کی حمایت پاکستانی پوزیشن کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔

    بھارت کی حالیہ عسکری ناکامی اور سیز فائر اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی عسکری طاقت اور قومی عزم بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ لیکن یہ فتح اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک مذاکرات کی میز پر اسے سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ بھارت کی تاریخی چالیں اور موجودہ پروپیگنڈا حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے ہر حربہ آزمائے گا۔ پاکستانی قیادت اور اداروں کو اس حقیقت سے آگاہ رہنا ہوگا کہ عوام کی نظریں ان پر ہیں اور کوئی غلطی ناقابل معافی ہوگی۔ پاکستانی قوم اپنی فتح پر فخر کرتی ہے اور وہ اس فتح کو کسی بھی قیمت پر ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔

  • شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ

    شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ

    شاہینوں نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کر دیا پاک بھارت جنگ بندی کا فیصلہ
    تحریر :سید ریاض جاذب
    جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی بالآخر کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان 12 مئی کو اہم بات چیت طے پا چکی ہے، جس سے خطے میں امن کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ بندی کا اطلاق 12 مئی دوپہر تک ہوگا۔ مزید برآں، دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہیں کہ وہ کسی غیر جانبدار مقام پر وسیع تر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مؤثر، بروقت اور مربوط جوابی حکمت عملی نے بھارت کو بھاری نقصان سے دوچار کیا۔ خاص طور پر آپریشن "بنیان مرصوص” کے بعد، بھارت نے سفارتی سطح پر اپنے قریبی اتحادیوں کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں شروع کیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار جنگ میں روایتی قوت سے زیادہ ٹیکنالوجی اور فضائی حکمت عملی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
    پاک فضائیہ نے نہ صرف بھارت کے جدید ترین دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنایا بلکہ کم وقت میں دشمن کے اہم مراکز کو نشانہ بنا کر بھارتی افواج کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اس کامیابی کو خطے کے دیگر ممالک اور عالمی مبصرین نے بھی تسلیم کیا ہے۔

    پاک فضائیہ کی جانب سے جدید ڈرون سسٹمز، ریڈار جامنگ ٹیکنالوجی اور لڑاکا طیاروں کی منظم حکمت عملی نے نہ صرف فضائی برتری کو یقینی بنایا بلکہ دشمن کی منصوبہ بندی کو بھی تہس نہس کر دیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف دفاع ہی نہیں، بلکہ مؤثر حملے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    قوم میں اس کامیابی کے بعد ایک نئی توانائی اور جوش دیکھنے میں آیا۔ پورے ملک میں پاک فوج اور فضائیہ کے حق میں مہمات چلیں، جبکہ عوامی حلقوں میں قومی فخر اور اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں حب الوطنی کے جذبات نے ایک نئی روح پھونکی۔

    اس عسکری برتری کے ساتھ ساتھ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی نہایت متوازن اور پختہ رویہ اپنایا۔ جنگ بندی کے پیغام کو نہ صرف کھلے دل سے قبول کیا گیا بلکہ دنیا کو واضح طور پر باور کرایا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ، اسلامی ممالک، چین، روس اور امریکہ سمیت عالمی قوتوں نے پاکستان کی پالیسی کو سراہا ہے۔

    پاک فوج، بالخصوص فضائیہ نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ بھارتی قیادت کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ اگر جنگ کا سلسلہ مزید آگے بڑھتا، تو اسے ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا، شاید ایسا نقصان جس سے دوبارہ سنبھلنا ممکن نہ ہوتا۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ملکی قیادت کا پیغام واضح ہے: پاکستان امن چاہتا ہے، مگر ہر جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دے گا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے متحد ہو کر قوم کو ایک پیج پر رکھا اور دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا۔ اس ہم آہنگی نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر باور کرایا کہ پاکستان داخلی استحکام اور قومی وحدت کی قوت سے لیس ہے۔

    ہفتے کی صبح سویرے شروع ہونے والے آپریشن کے بعد خطے میں یہ تاثر عام ہوا کہ اگر جنگ جاری رہتی تو بھارت کی شکست یقینی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی کی راہ اپنائی۔

    اس ساری صورت حال نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان صرف عسکری اعتبار سے ہی نہیں، بلکہ سیاسی، سفارتی اور قومی سطح پر بھی مکمل طور پر متحد اور تیار ہے۔ اگر بھارت سنجیدگی اور نیک نیتی سے مذاکرات کرے تو 12 مئی کی بات چیت خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔

  • سیالکوٹ: شہریوں کا پاک فوج کے جوانوں کا والہانہ استقبال، پھول نچھاور، نعرے بلند

    سیالکوٹ: شہریوں کا پاک فوج کے جوانوں کا والہانہ استقبال، پھول نچھاور، نعرے بلند

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی رپورٹ) پاک فوج کا والہانہ استقبال، شہریوں نے ٹینکوں پر پھول نچھاور کیے، پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج اٹھے

    سیالکوٹ میں شہریوں نے وطن کے محافظوں کا فقیدالمثال استقبال کیا، جب سرحدی علاقے سے واپس آنے والے پاک فوج کے ٹینک اور جوان شہر میں داخل ہوئے تو فضا "پاک فوج زندہ باد” اور "پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اٹھی۔ پرجوش عوام نے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر سڑکوں کے کنارے قطار در قطار کھڑے ہو کر نہ صرف پھول نچھاور کیے بلکہ جوانوں کو گلدستے اور پھولوں کے ہار بھی پیش کیے۔ بچے، بزرگ، خواتین سب ہی اس تاریخی لمحے میں شریک ہوئے، ہر ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھامے قوم کے محافظوں کو سلام پیش کیا گیا۔

    شہریوں کی محبت اور عقیدت دیکھ کر پاک فوج کے اہلکار بھی جذبے سے لبریز دکھائی دیے، انہوں نے عوام کے نعروں کا جواب "پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے دیا۔ ٹینکوں پر سوار جوان ہاتھ ہلا کر عوام کا شکریہ ادا کرتے رہے۔

    ادھر صرف سیالکوٹ ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی قوم کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ شہری سڑکوں پر نکل آئے، پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا، قومی نغمے گائے، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور ہر طرف قومی پرچموں کی بہار نظر آئی۔

    قوم اور افواجِ پاکستان کے درمیان یہ مثالی ہم آہنگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وطن عزیز کے دفاع میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔

  • سیالکوٹ: گوہد پور میں ترقیاتی منصوبے 30 مئی تک مکمل ہوں گے، منشاء اللہ بٹ

    سیالکوٹ: گوہد پور میں ترقیاتی منصوبے 30 مئی تک مکمل ہوں گے، منشاء اللہ بٹ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض)رکنِ صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ترقیاتی ویژن کے تحت یونین کونسل گوہد پور میں گلیوں، سڑکوں، سیوریج نظام اور قبرستان کی چار دیواری کے منصوبے 30 مئی تک مکمل کر لیے جائیں گے، جن پر مجموعی طور پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔

    یہ بات انہوں نے گوہد پور میں نئی سڑک کی تعمیر کے جاری منصوبے کے معائنے کے دوران کہی۔ اس موقع پر میونسپل آفیسر انفراسٹرکچر بلال قیصر، سب انجینئر استفانس سمیت علاقہ کے معززین بھی موجود تھے۔

    منشاء اللہ بٹ نے بتایا کہ پیسپ (PESP) پروگرام کے تحت علاقے میں سیوریج کی نئی لائنیں بچھائی جا چکی ہیں، جن کے بعد سڑکوں کی بحالی کا کام ٹف ٹائلز کی تنصیب کے ذریعے تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب عوامی فلاحی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر بلدیاتی سہولیات میسر آ سکیں۔

  • سیالکوٹ: بھارتی پسپائی کے بعد ایمرجنسی سائرن ڈرلز منسوخ، اسکولوں میں مشقیں جاری

    سیالکوٹ: بھارتی پسپائی کے بعد ایمرجنسی سائرن ڈرلز منسوخ، اسکولوں میں مشقیں جاری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)افواجِ پاکستان اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جانب سے دشمن بھارت کو دندان شکن جواب دینے کے بعد، اس کی شکست و پسپائی اور جنگ بندی پر آمادگی کے پیش نظر محکمہ سول ڈیفنس سیالکوٹ نے شہر میں جاری تمام ایمرجنسی سائرن ڈرلز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ سول ڈیفنس کنٹرولر صباء اصغر علی کے مطابق اگرچہ سائرن ڈرلز منسوخ کر دی گئی ہیں، تاہم شہر کے تعلیمی اداروں میں جاری آزمائشی اور تربیتی مشقیں بدستور شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی۔ ان مشقوں کا مقصد نئی نسل کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ وہ ہر سطح پر اپنی حفاظت اور قومی سلامتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

    محکمہ سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ حالات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سیالکوٹ: اجتماعی زیادتی کے کیس میں دو ملزمان کو عمر قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ

    سیالکوٹ: اجتماعی زیادتی کے کیس میں دو ملزمان کو عمر قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ پولیس کی مؤثر تفتیش اور بھرپور پیروی کے نتیجے میں گینگ ریپ کے ایک افسوسناک کیس میں عدالت نے دو ملزمان کو عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر سیالکوٹ کے علاقے کوٹ کوڑا کے رہائشی ملزمان عمیر ارشد اور اسامہ ذوالفقار نے ایک 13 سالہ کم عمر محنت کش لڑکی کو ڈیڑھ ماہ تک اپنی درندگی کا نشانہ بنایا، جس کے باعث متاثرہ لڑکی حاملہ ہو گئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ صدر پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد محمد عارف کی درخواست پر فوری مقدمہ درج کیا۔

    تفتیش کی ذمہ داری ایس ایس آئی او یو سیل کی انچارج خاتون افسر انسپکٹر رضیہ صابر کو سونپی گئی، جنہوں نے سائنسی بنیادوں پر شواہد اکٹھے کیے اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں چالان پیش کیا۔ پولیس کی محنت اور قانونی پیروی کے نتیجے میں عدالت نے دونوں مجرمان کو عمر قید، پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور متاثرہ لڑکی کو آٹھ لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے انسپکٹر رضیہ صابر کی شاندار کارکردگی پر انہیں تعریفی سرٹیفیکیٹ اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے سے جرائم کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے لیے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دلوانا ناگزیر ہے۔ سیالکوٹ پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتی رہے گی۔