Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • قصور:محبت کا خونی انجام، پسند کی شادی کرنے والا نوجوان عدالت کے باہر قتل

    قصور:محبت کا خونی انجام، پسند کی شادی کرنے والا نوجوان عدالت کے باہر قتل

    قصور،باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نویدسندھو)محبت کا خونی انجام، پسند کی شادی کرنے والا نوجوان عدالت کے باہر قتل

    تفصیلات کے مطابق قصور میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان کو عدالت کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ قصور کی مقامی عدالت کے باہر پیش آیا، جس نے ایک بار پھر پسند کی شادی کے تنازعات میں تشدد کی انتہا کو بے نقاب کر دیا۔

    مقتول نوجوان کی شناخت وقاص کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق نواحی گاؤں روشن بھیلا سے تھا۔ وقاص نے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کی تھی، جس پر لڑکی کے گھر والے سخت ناراض تھے۔ اس شادی کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے وقاص کے خلاف اغوا کا مقدمہ تھانہ شیخم میں درج کرایا تھا۔

    گذشتہ روز جب وقاص عدالت میں پیش ہوا تو لڑکی نے اپنے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ اس بیان پر لڑکی کا بھائی عمران مشتعل ہو گیا اور اس نے عدالت کے دروازے پر وقاص پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وقاص موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ لوگوں نے عدالت کے باہر اس طرح کے سفاکانہ قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

    ڈی پی او عیسیٰ خاں سکھیرا کے مطابق ملزم عمران کی گرفتاری کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • سگی بیٹی سے زیادتی، باپ کو 25 سال قید کی سزا

    سگی بیٹی سے زیادتی، باپ کو 25 سال قید کی سزا

    کراچی (باغی ٹی وی ) عدالت نے اپنی سگی بیٹی کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندے صفت باپ کو 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی کی عدالت نے ملزم پر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا اور دھمکیاں دینے کے جرم میں مزید 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔

    پراسیکیوٹر حنا ناز کے مطابق ملزم نے 2020 میں اپنی بیٹی کو پہلی بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ بیٹی نے اپنی ماں کو اس بارے میں بتایا، لیکن ماں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ چند ماہ بعد متاثرہ لڑکی نے ایک بچے کو جنم دیا اور ماں کو بتایا کہ بچے کا باپ اس کا اپنا شوہر ہے۔ اس انکشاف پر ماں نے اپنے شوہر (لڑکی کے باپ) کو مارا پیٹا۔

    متاثرہ لڑکی نے فیس بک پر دوستی کے دوران وارث نامی شخص کو یہ ساری کہانی بتائی۔ وارث نے لڑکی سے شادی کرنے کی رضامندی ظاہر کی اور شادی کے بعد متاثرہ لڑکی نے اپنے شوہر وارث کے ساتھ مل کر اپنے باپ کے خلاف تھانہ نیو کراچی میں مقدمہ درج کروایا۔ عدالت میں لڑکی نے اپنے باپ کو ملزم قرار دیا اور عدالت نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزا سنائی۔

    سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ سےنہ صرف متاثرہ لڑکی کو انصاف ملا بلکہ معاشرے میں ایسے گھناؤنے جرائم کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھی ہے۔

  • سیالکوٹ:انسانیت سوز واقعات، نومولود بچوں کو کچرے کے ڈھیر پر پھینکنے کا سلسلہ جاری

    سیالکوٹ:انسانیت سوز واقعات، نومولود بچوں کو کچرے کے ڈھیر پر پھینکنے کا سلسلہ جاری

    سیالکوٹ (بیوروچیف شاہد ریاض ) سیالکوٹ میں نومولود زندہ و مردہ بچوں کو کچرے پر پھینکنے کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ تھانہ قلعہ کالروالا کے علاقہ محمود ججہ میں پیش آیا، جہاں ایک نامعلوم ملزم نے نومولود بچے کو جوہڑ کنارے پھینک دیا۔

    اس سے قبل تھانہ کینٹ کے علاقوں سے 3 نومولود بچوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ پسرور روڈ پر آڈھا سٹاپ کے قریب سے بھی نومولود بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ جبکہ تھانہ پھوکلیان کے علاقہ سے ایک زندہ بچہ ایک گھر کے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

    ان واقعات نے سیالکوٹ پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس مقدمات قتل کے نامزد و نامعلوم ملزمان کو تلاش کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے، لیکن ایسے معصوم بچوں کو پھینکنے والوں کی تلاش میں ناکام کیوں ہو جاتی ہے؟ ان واقعات پر نہ تو پولیس کا ہیومن ریسورس کام کرتا ہے اور نہ ہی پولیس کے مخبر خاص کوئی اطلاع دیتے ہیں۔

    سیالکوٹ کے شہریوں میں ان واقعات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس فوری طور پر ان واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرے اور انہیں سخت سزا دی جائے۔

  • عالمی یوم جنگلات

    عالمی یوم جنگلات

    عالمی یوم جنگلات
    تحریر:ملک ظفراقبال
    21 مارچ کو عالمی یوم جنگلات منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جنگلات کی اہمیت ان کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانا ہے۔ جنگلات نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ معاشی، سماجی اور ثقافتی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 21 مارچ 2012 کو عالمی یوم جنگلات کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ جنگلات کے تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا۔ ہر سال اس دن کو ایک خاص تھیم کے تحت منایا جاتا ہے، جو جنگلات سے متعلق اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ عام طور پر یہ تھیم جنگلات کے تحفظ، آب و ہوا کی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور جنگلات کے معاشی فوائد جیسے موضوعات پر مبنی ہوتا ہے۔

    جنگلات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس کے بیشمار فوائد ہیں۔ جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جس سے آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ یہ بارش کے نظام کو منظم کرتے ہیں اور سیلابوں کو روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ جنگلات جانوروں، پودوں اور دیگر حیاتیات کے لیے رہائش گاہ فراہم کرتے ہیں۔ دنیا کی 80 فیصد زمینی حیاتیات جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔ جنگلات لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں، خاص طور پر لکڑی، کاغذ اور دیگر جنگلی مصنوعات کی صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں، یہ سیاحت کو فروغ دیتے ہیں اور مقامی معیشتوں کو مستحکم کرتے ہیں۔ جنگلات مقامی کمیونٹیز کے لیے روحانی اور ثقافتی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ قدرتی حسن فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ ہیں۔

    عالمی یوم جنگلات کے موقع پر درخت لگانے کی مہمات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ جنگلات کے تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔ اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹیز میں آگاہی واکس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جنگلات کی اہمیت کے بارے میں میڈیا کے ذریعے پیغامات پھیلائے جاتے ہیں۔ حکومتی اور غیر سرکاری تنظیمیں جنگلات کے تحفظ کے لیے پالیسیوں پر بحث کرتی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ پائیدار جنگلات کے انتظام کو فروغ دیا جاتا ہے۔ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مقامی کمیونٹیز کو جنگلات کے تحفظ میں شامل کیا جاتا ہے۔ عالمی یوم جنگلات ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگلات ہمارے سیارے کے لیے ناگزیر ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے (FAO) کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا کم از کم 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے، فضائی آلودگی کم ہواور حیاتیاتی تنوع محفوظ رہے۔ دنیا میں جنگلات کی اوسط شرح تقریباً 31 فیصد ہے، جبکہ کچھ ممالک جیسے فن لینڈ، سویڈن، اور برازیل میں یہ شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ عالمی معیار سے بہت کم ہے۔ موجودہ جنگلات کا تناسب تقریباً 4.8 فیصد ہے، جبکہ مطلوبہ تناسب کم از کم 25 فیصد ہے۔ جنگلات کی کمی سے ماحولیاتی عدم توازن، زمینی کٹاؤ، آلودگی، اور گلوبل وارمنگ جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

    پاکستان میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کی اہم وجوہات میں غیر قانونی کٹائی، زرعی اور رہائشی زمین میں اضافہ، صنعتی ترقی اور شہری توسیع اور قدرتی آفات جیسے جنگل کی آگ شامل ہیں۔ جنگلات میں اضافہ کے لیے شجرکاری مہمات، غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے خلاف سخت اقدامات اور ان پر عمل درآمد اور درخت لگانے اور جنگلات کے تحفظ کے فوائد پر شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔

    پاکستان میں جنگلات کی تباہی کے ذمہ داران میں مقامی زمیندار اور سرکاری عملہ شامل ہے۔ حکومت جنگلات میں سرمایہ کاری اس قدر نہیں کر پا رہی جس کی گزشتہ کئی دہائیوں سے ضرورت ہے۔ پاکستان میں جنگلات زیادہ تر مہم سازی شجر کاری سے شروع ہوتے اور فائلوں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں جو کہ عدم دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگر پاکستان اپنے جنگلات کے رقبے کو عالمی معیار کے مطابق لے آئے تو ماحولیاتی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور ملک کی معیشت، زراعت اور آب و ہوا پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • اوکاڑہ: غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    اوکاڑہ: غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    اوکاڑہ(نامہ نگارملک ظفر) غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    اوکاڑہ میں غیر معیاری ادویات کی فروخت کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سیف اللہ وڑائچ اور ڈرگ انسپکٹرز سمیت بورڈ کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں میڈیکل سٹورز کے خلاف کارروائیوں کے 15 کیسز پیش کیے گئے، جن میں سے 5 کیسز ڈرگ کورٹ کو بھجوائے گئے۔ 7 کیسز میں میڈیکل سٹور مالکان کو وارننگ دی گئی جبکہ 3 کیسز ملتوی کر دیے گئے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر نے واضح کیا کہ خلاف قانون چلائے جانے والے میڈیکل سٹورز کو کسی صورت کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ادویات کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم کیا۔

    چوہدری عبدالجبار گجر نے مزید کہا کہ کوالیفائیڈ سٹاف کے بغیر کام کرنے والے میڈیکل سٹورز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے میڈیکل سٹور مالکان کو ہدایت کی کہ زائد المیعاد ادویات کو مخصوص کاؤنٹرز میں رکھیں اور اس سلسلے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔

    انہوں نے قواعد و ضوابط کے تحت عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

  • اوچ شریف: اغوا کار مہمان،7 روزبعد بھی لڑکی بازیاب نہ ہوسکی

    اوچ شریف: اغوا کار مہمان،7 روزبعد بھی لڑکی بازیاب نہ ہوسکی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے اغوا کا معمہ الجھ گیا، 19 سالہ شادی شدہ لڑکی سات دن بعد بھی بازیاب نہ ہو سکی۔ تھانہ چنی گوٹھ کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعہ نے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ چنی گوٹھ کی حدود میں 19 سالہ شادی شدہ لڑکی کے اغوا کا معمہ سات دن گزرنے کے بعد بھی حل نہ ہو سکا۔ پولیس نے محمد یونس نامی ملزم کو تو گرفتار کر لیا ہے، لیکن نہ تو لڑکی کو بازیاب کروا سکی ہے اور نہ ہی دیگر ملزمان کو گرفتار کر پائی ہے۔

    مغویہ کی والدہ رخسانہ بی بی نے الزام لگایا ہے کہ پولیس رشوت لے کر ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ان کی 19 سالہ بیٹی ‘م’ کی شادی موضع طاہر والی میں ملک منور سے ہوئی تھی۔ ملک منور نے اپنی بیوی کے نام اڑھائی ایکڑ زمین منتقل کی جس پر اس کے بڑے بھائی ملک شبیر نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ ملک شبیر نے میاں بیوی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ زمین واپس اس کے نام کر دیں۔ انکار پر ملک شبیر نے لڑکی کے والدین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

    9 مارچ کو جب ‘م’ اپنے والدین سے مل کر واپس سسرال جا رہی تھی تو ملک شبیر نے اپنے بیٹے اعظم، بھائی یونس اور دو نامعلوم افراد کی مدد سے اسے اغوا کر لیا۔ لڑکی کی والدہ رخسانہ بی بی نے تھانہ چنی گوٹھ میں مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی، لیکن چار دن تک پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ بالآخر مقدمہ تو درج ہو گیا لیکن پولیس ابھی تک نہ تو لڑکی کو بازیاب کروا سکی ہے اور نہ ہی تمام ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے۔

    متاثرہ خاندان نے ڈی پی او بہاولپور، آئی جی پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ تفتیشی سب انسپکٹر عبدالرزاق کو تبدیل کر کے کسی ایماندار افسر کو تفتیش سونپی جائے اور ان کی بیٹی کو بازیاب کروایا جائے۔

  • گوجرانوالہ: ایف آئی اے نے ویزا فراڈ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا

    گوجرانوالہ: ایف آئی اے نے ویزا فراڈ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا

    گوجرانوالہ,باغی ٹی وی (نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) ایف آئی اے نے ویزا فراڈ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابقفیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) گوجرانوالہ نے ویزا فراڈ اور انسانی سمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے کھاریاں اور گوجرانوالہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت ساجد محمود، محمد افضل اور وسکین احمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    ملزم ساجد محمود نے ایک شہری کو اٹلی میں ملازمت دلانے کے وعدے پر 8 لاکھ 60 ہزار روپے بٹورے، جبکہ محمد افضل اور وسکین احمد نے شہریوں کو ملائیشیا بھجوانے کے لیے 55 لاکھ روپے وصول کیے۔ تاہم ملزمان شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے میں ناکام رہے اور بھاری رقوم لے کر روپوش ہو گئے۔

    ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • ننکانہ : بابا گورونانک یونیورسٹی میں نوجوانوں میں ووٹ کی آگاہی کے لیے سیمینار

    ننکانہ : بابا گورونانک یونیورسٹی میں نوجوانوں میں ووٹ کی آگاہی کے لیے سیمینار

    ننکانہ صاحب، باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز )ضلعی الیکشن کمشنر کے زیر اہتمام بابا گورونانک یونیورسٹی کے مرکزی ہال میں نوجوانوں میں ووٹ کے حوالے سے آگاہی سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر رائے سلطان بھٹی، الیکشن آفیسر وسام علی خان، رجسٹرار بابا گورونانک یونیورسٹی، ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر یاسر سعید، سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی شازیہ بانو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال، سماجی رہنما ڈاکٹر عابد علی عابد، ڈسٹرکٹ ووٹرز ایجوکیشن کمیٹی کے ممبران اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ووٹ ڈالنے کے عمل، ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار اور نوجوان ووٹرز کو جمہوری عمل میں شرکت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر رائے سلطان بھٹی نے نوجوانوں کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں انتخابی حقوق کے ذمہ دارانہ استعمال کی تلقین کی۔ انہوں نے نوجوان ووٹرز کی شرکت سے طرز حکمرانی میں بہتری اور پالیسی سازی میں تبدیلیوں کی مثالیں بھی پیش کیں۔

    سیمینار میں نوجوان ووٹرز کو ضروری معلومات فراہم کی گئیں اور معلوماتی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔

  • ننکانہ صاحب: دانش سکول گورننگ باڈی کا اجلاس، معیاری تعلیم پر زور

    ننکانہ صاحب: دانش سکول گورننگ باڈی کا اجلاس، معیاری تعلیم پر زور

    ننکانہ صاحب، باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کی زیر صدارت دانش سکول کی گورننگ باڈی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پرنسپل دانش سکول کرنل (ر) محمد محی الدین اطہر، وائس پرنسپل اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔

    پرنسپل دانش سکول نے داخلہ پالیسی، سکول کی سرگرمیوں اور تعلیمی نتائج پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں اساتذہ کی بھرتی اور بجٹ کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    چیئرمین گورننگ باڈی دانش سکول محمد تسلیم اختر راؤ نے کہا کہ دانش سکول ایک جدید منصوبہ ہے جو پسے ہوئے طبقے کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود تعلیم کے پلیٹ فارم سے اس سکول کے لیے مزید کوشش کریں گے تاکہ غریبوں کے بچے بغیر کسی خرچے کے تعلیم حاصل کر سکیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ سکول میں معیاری تعلیم کی فراہمی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

  • سیالکوٹ: غیر قانونی ایل پی جی اور پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ: غیر قانونی ایل پی جی اور پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ(بیوروچیف شاہدریاض) غیر قانونی ایل پی جی اور پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ میں غیر قانونی ایل پی جی گیس کی ڈی کنڈنگ اور منی پیٹرول پمپس کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران 10 دکانداروں کو حراست میں لیا گیا، 6 کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، اور 10 دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری کی نگرانی میں سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ نے یہ کارروائی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر ایل پی جی گیس کی فروخت ایک خطرناک جرم ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو افراد ایسے کاروبار میں ملوث ہیں، وہ فوری طور پر یہ کام چھوڑ دیں، ورنہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ کارروائی شہریوں کی حفاظت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون کے اطلاق کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی کاموں میں ملوث افراد کی اطلاع دیں۔