Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • حافظ آباد: ٹریفک پولیس اہلکار کی بدتمیزی،لائسنس دکھانا شہری کاجرم بن گیا،2000روپے جرمانہ کی دھمکی

    حافظ آباد: ٹریفک پولیس اہلکار کی بدتمیزی،لائسنس دکھانا شہری کاجرم بن گیا،2000روپے جرمانہ کی دھمکی

    حافظ آباد ،باغی ٹی وی(خبرنگارشمائلہ کی رپورٹ) نواحی گاؤں کوٹ بختاور کے رہائشی اور محکمہ سوئی گیس کے ملازم جواد الحسن نون نے ٹریفک پولیس اہلکار کی زیادتیوں کا انکشاف کیا ہے۔ متاثرہ شخص کے مطابق حافظ آباد میں ڈیوٹی کے دوران فوارہ چوک پر ٹریفک پولیس اہلکار افضال نے انہیں روکا اور ڈرائیونگ لائسنس طلب کیا۔

    لائسنس دکھانے پر اہلکار نے بے بنیاد اعتراضات اٹھائے، کبھی لائسنس کو جعلی قرار دیا تو کبھی تصویر پر اعتراض کیا۔ آن لائن تصدیق کے باوجود اہلکار نے بدتمیزی اور گالم گلوچ کی، زبردستی لائسنس ضبط کر لیا اور کہا کہ 2000 روپے جرمانہ ادا کرنے پر لائسنس واپس ملے گا۔

    متاثرہ شہری جواد الحسن نون نے بتایا کہ ان کا لائسنس حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری شدہ اصل دستاویز ہے۔ لائسنس ضبط کرنا اور ناجائز جرمانہ عائد کرنا سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔

    متاثرہ شخص نے ڈی پی او حافظ آباد فیصل گلزار سے واقعہ کا فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ عوام نے بھی ٹریفک پولیس کے اس رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

  • پنڈی بھٹیاں، بند روڈ پر مسلح ڈاکوؤں نے تاجر کی گاڑی چھین لی

    پنڈی بھٹیاں، بند روڈ پر مسلح ڈاکوؤں نے تاجر کی گاڑی چھین لی

    حافظ آباد(باغی ٹی وی خبرنگار)پنڈی بھٹیاں میں بند روڈ پر مسلح افراد نے تاجر کی گاڑی چھین لی، ڈرائیور سے گن پوائنٹ پر موبائل اور کار لے کر فرار

    تفصیل کے مطابق پنڈی بھٹیاں میں علی ٹاؤن بند روڈ پر مسلح افراد نے مقامی تاجر رانا وقار کے ڈرائیور سے کار چھین لی۔ ڈرائیور بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا جب واقعہ پیش آیا۔

    واقعہ بند روڈ پر اس وقت پیش آیا جب ڈرائیور نے بچوں کو چیز دلانے کے لیے گاڑی روکی۔ تعاقب میں آئی ایک گاڑی سے تین مسلح افراد اترے اور گن پوائنٹ پر موبائل اور چابی چھین کر کار سے بچوں کے بستے باہر پھینک دیے۔ ملزمان گاڑی لے کر فرار ہوگئے۔

    سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کی کار چھیننے کی کارروائی دیکھی جا سکتی ہے۔ پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی گئی ہے، جس پر فوری کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • حافظ آباد: انسداد پولیو مہم کا آغاز، 2 لاکھ 38 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    حافظ آباد: انسداد پولیو مہم کا آغاز، 2 لاکھ 38 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    حافظ آباد،باغی ٹی وی (خبرنگارشمائلہ) انسداد پولیو مہم کا آغاز، 2 لاکھ 38 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    ضلع بھر میں آج سے پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگیا۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق نے جھگیوں میں رہنے والے بچوں کو حفاظتی قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔

    انسداد پولیو مہم 3 فروری سے 7 فروری تک جاری رہے گی، جس دوران پانچ سال تک کی عمر کے 2 لاکھ 38 ہزار 551 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق محکمہ صحت نے 998 ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنز، بازاروں، عوامی مقامات، اسکولوں اور گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو جیسی خطرناک بیماری سے بچانے کے لیے حفاظتی قطرے لازمی پلائیں اور کسی بچے کو قطرے پینے سے محروم نہ رہنے دیں۔ علمائے کرام، تاجروں، اساتذہ، اور میڈیا نمائندگان سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی ہے تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جاسکے۔

  • تنگوانی: ڈاکوؤں کی موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش، مزاحمت پر فائرنگ سے تین زخمی، دو ڈاکو گرفتار

    تنگوانی: ڈاکوؤں کی موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش، مزاحمت پر فائرنگ سے تین زخمی، دو ڈاکو گرفتار

    تنگوانی ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمنصور بلوچ) گاؤں نور اللہ خان باجکانی کے قریب ڈاکوؤں کی موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش مزاحمت پر خونریز تصادم میں بدل گئی۔ تنگوانی تھانے کی حدود گہنا نہر پر ڈاکوؤں نے تین نوجوانوں سے بائیک چھیننے کی کوشش کی، مزاحمت پر فائرنگ کر کے عبدالنبی، عابد علی، اور اشفاق احمد کو شدید زخمی کر دیا۔

    گولیوں کی آواز سن کر گاؤں کے رہائشیوں نے دو ڈاکوؤں کو پکڑ کر تنگوانی پولیس کے حوالے کر دیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ عبدالنبی کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر کے پولیس نے گرفتار ڈاکوؤں کے خلاف تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پولیس ریکارڈ چیک کر کے ڈاکوؤں کے دیگر جرائم کی تفصیلات بھی حاصل کر رہی ہے۔ عوام نے مقامی افراد کی جرات اور پولیس کے فوری ایکشن کی تعریف کی ہے۔

  • لاہور:تھانہ چونگ میں ایمیگریشن وکیل کو دھمکیاں، حبسِ بے جا کا مقدمہ درج

    لاہور:تھانہ چونگ میں ایمیگریشن وکیل کو دھمکیاں، حبسِ بے جا کا مقدمہ درج

    لاہور (باغی ٹی وی) تھانہ چونگ کے علاقے میں ایک ایمیگریشن وکیل کو اسلحے کے زور پر ہراساں کرنے، حبسِ بے جا میں رکھنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق متاثرہ وکیل سید رحمان قادر شاہ نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے ایمیگریشن لا کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنے کلائنٹس کو لیگل سروسز فراہم کرتے ہیں۔ مورخہ 30 جنوری 2025 کو انہیں ملزمان نے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک دفتر میں لے جا کر حبسِ بے جا میں رکھا۔

    ملزمان میں محسن علی، محمد وارث، عثمان شبیر، شاہد امین، محمد عمران، ارسلان علی، اظہر شاہ، اور سلمان منظور شامل ہیں۔ درخواست کے مطابق، متاثرہ کو دفتر میں زبردستی احسان خالق اور محمد علی گھر کی کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ان پر معافی مانگنے کا دباؤ ڈالا گیا۔ انکار پر، احسان خالق نے ان کی کنپٹی پر پسٹل رکھ کر دھمکیاں دیں اور کہا کہ کاروبار بند کر دو ورنہ جان سے مار دیا جائے گا۔

    متاثرہ وکیل نے مزید بتایا کہ ان کے والد کو فون پر دھمکیاں دی گئیں اور یقین دہانی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ بعد ازاں، متاثرہ کو دفتر سے زبردستی نکال دیا گیا۔

    پولیس نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے درخواست پر مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمہ میں دفعات 506-B، 148، 149، اور 342 شامل کی گئی ہیں۔ مزید تفتیش کے لیے کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    عوام نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ شخص کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ پولیس حکام کے مطابق تفتیش جاری ہے اور جلد مزید پیشرفت کی جائے گی۔

  • حافظ آباد: جعلی دیسی گھی فروخت کرنے والے دکاندار کے خلاف مقدمہ درج

    حافظ آباد: جعلی دیسی گھی فروخت کرنے والے دکاندار کے خلاف مقدمہ درج

    حافظ آباد،باغی ٹی وی (خبرنگارشمائلہ کی رپورٹ)جعلی دیسی گھی فروخت کرنے والے دکاندار کے خلاف مقدمہ درج

    تفصیل کے مطابق حافظ آباد میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، عوام کو دیسی گھی کے نام پر جعلی اور مضر صحت گھی فروخت کرنے والے دکاندار کے خلاف تھانہ سٹی حافظ آباد میں مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ روڈ، اندرون ریلوے پھاٹک پر واقع "دیسی گھی شاپ” کے مالک کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ حکام کے مطابق دکان سے گھی کے نمونے لیے گئے، جو لیبارٹری ٹیسٹ میں فیل ہو گئے، جس کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی اشیائے خور و نوش کی فروخت کے خلاف 1223 پر اطلاع دیں۔ ملاوٹ شدہ خوراک انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اور جو افراد کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرتے ہیں، وہ عوام کے کھلے دشمن ہیں۔

    پنجاب حکومت خالص اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، تاکہ عوام تک صحت مند غذائی اجزاء پہنچ سکیں۔

  • خیبر: جمرود میں پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار فائرنگ سے شہید

    خیبر: جمرود میں پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار فائرنگ سے شہید

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) تحصیل جمرود کے علاقے سخی پل پٹے اوبہ میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے خیبر پولیس کا اہلکار عبدالخالق شہید ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار معمول کے مطابق پولیو ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ گھات لگائے نامعلوم حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گیا۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام کے مطابق ملزمان کی تلاش جاری ہے اور جلد انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پولیو ٹیموں اور ان کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر حملے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ دہشت گرد عناصر انسداد پولیو مہم میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہید اہلکار کے اہل خانہ کے لیے خصوصی امداد اور تحفظ کے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکار بغیر کسی خوف کے اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔

  • ڈسکہ: قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز، 1,76,140 بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    ڈسکہ: قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز، 1,76,140 بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    ڈسکہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارملک عمران) قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز، 1,76,140 بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

    ڈسکہ میں رواں سال کی پہلی پانچ روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سادات انور نے خانہ بدوش بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔

    تحصیل بھر میں پانچ سال تک کے 1,76,140 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 611 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر سادات انور کے مطابق 568 موبائل ٹیمیں، 29 فکسڈ ٹیمیں اور 14 ٹرانزٹ ٹیمیں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر، اسکولوں، بھٹہ جات، بس اسٹینڈز اور دیگر مقامات پر بچوں کو قطرے پلا رہی ہیں۔

    انسداد پولیو مہم 3 فروری سے 7 فروری تک جاری رہے گی۔ والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور محکمہ صحت کی ٹیموں سے تعاون کریں۔

  • منڈی بہاؤالدین: پولیس کے ٹرن آؤٹ اور ڈسپلن کی بہتری کے لیے جنرل پریڈ کا انعقاد

    منڈی بہاؤالدین: پولیس کے ٹرن آؤٹ اور ڈسپلن کی بہتری کے لیے جنرل پریڈ کا انعقاد

    منڈی بہاؤالدین ،باغی ٹی وی(نامہ نگارافنان طالب) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وسیم ریاض خان کی زیر نگرانی پولیس اہلکاروں کے ٹرن آؤٹ اور ڈسپلن کو بہتر بنانے کے لیے جنرل پریڈ منعقد کی گئی۔

    پریڈ میں ضلع بھر کے پولیس افسران، لیڈیز پولیس، ایلیٹ فورس اور ٹریفک پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ ڈی پی او وسیم ریاض خان نے پریڈ کا معائنہ کیا، سلامی لی اور جوانوں کے ٹرن آؤٹ کا جائزہ لیا۔ پولیس کے چاک و چوبند دستوں نے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے سلامی دی۔

    جنرل پریڈ کا مقصد پولیس فورس کی جسمانی فٹنس اور ڈسپلن کو برقرار رکھنا ہے۔ بعد ازاں مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا گیا اور سرکاری گاڑیوں کی انسپکشن بھی کی گئی۔

  • سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ایک علیحدہ سرائیکی صوبے کا مطالبہ ایک عرصے سے زیر بحث ہے لیکن حالیہ دنوں میں کچھ واقعات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ خواجہ غلام فرید کے مزار پر منعقد ہونے والی "روہی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس” کے دوران دیے گئے متنازع بیانات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان تنازع کو ہوا دی ہے۔ ان بیانات میں سرائیکی عوام کو "پناہ گزین” کہہ کر پنجاب چھوڑنے کی دھمکیاں دی گئیں جو نہ صرف ایک سنگین مسئلہ ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کا بھی اشارہ دیتا ہے۔ ایسے بیانات عوام میں نفرت کو بڑھاتے ہیں اور ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جو معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنازع کس کے مفاد میں ہے اور اس کے پیچھے کون سے عناصر سرگرم ہیں؟ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں نے ہمیشہ لسانی اور نسلی بنیادوں پر ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ، سندھ میں قوم پرستی کو بڑھانا اور اب پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان اختلافات کو جنم دینا اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں لیکن اب ایک بار پھر ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

    سرائیکی قوم اپنی قدیم ثقافت، زبان اور تاریخی ورثے پر فخر کرتی ہے۔ چولستان کے قدیم شہر گنویری والا کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ سرائیکی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس علاقے کے لوگ اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔ سرائیکی وسیب کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں علیحدہ صوبہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی ثقافت، زبان اور تشخص کا بہتر تحفظ کر سکیں۔ اس کے علاوہ سرائیکی وسیب کی معاشی پسماندگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں کے عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع حاصل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ خطہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ ایک علیحدہ صوبہ اس علاقے کی ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور عوام کو وہ حقوق دلوا سکتا ہے جن سے وہ طویل عرصے سے محروم ہیں۔
    سرائیکی عوام کو جنوبی پنجاب یا پنجاب کہلانے پر بھی اعتراض ہے کیونکہ وہ اپنی الگ ثقافتی اور لسانی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ خود کو پنجابی نہیں سمجھتے اور ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں ایک علیحدہ شناخت دی جائے۔ ماضی میں کئی سیاسی جماعتوں نے سرائیکی صوبے کے قیام کے وعدے کیے لیکن کوئی بھی حکومت ان وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے سرائیکی عوام کو خوش کرنے کے لیے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا، لیکن یہ محض ایک نمائشی اقدام ثابت ہوا۔ موجودہ حکومت تو سرائیکی سیکرٹریٹ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے عوام میں مزید مایوسی اور غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

    سرائیکی صوبے کے قیام کے لیے ایک طویل جدوجہد جاری ہے جو 1970 کی دہائی سے مختلف ادوار میں چلتی آ رہی ہے۔ سرائیکی قوم پرست جماعتیں اور دانشور مسلسل یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ سرائیکی وسیب کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں اور ایک علیحدہ صوبہ ہی ان مسائل کا واحد حل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بہاولپور ریاست کے پنجاب میں انضمام کو بھی متنازع سمجھا جاتا ہے اور بعض لوگ اس فیصلے کو زبردستی مسلط کیا گیا قدم قرار دیتے ہیں۔

    سرائیکی عوام کو طویل عرصے سے سیاسی جماعتوں کی وعدہ خلافیوں کا سامنا رہا ہے اور اس وقت وسیب کے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ ہر انتخابات میں سیاستدان سرائیکی علاقوں میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے سبز باغ دکھاتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد ان کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سرائیکی عوام کے اندر یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ انہیں سیاسی جماعتوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھانی چاہیے۔

    سرائیکی عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں دیگر قوموں کی طرح مکمل حقوق دیے جائیں، لیکن عملی طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سرائیکی صوبے کا قیام پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کیونکہ اگر سرائیکی عوام کو ان کے حقوق نہ دیے گئے تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے جو قومی وحدت کو کمزور کر سکتا ہے۔ کچھ لوگ موجودہ حکومت کے طرز عمل کو 1971 میں مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والے سلوک سے تشبیہ دے رہے ہیں کیونکہ اس وقت بھی بنگالی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا تھا جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا تھا۔

    سرائیکی دانشوروں اور قوم پرست رہنمائوں کا موقف واضح ہے کہ ایک علیحدہ صوبہ ہی سرائیکی عوام کے مسائل کا حل ہے۔ موجودہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں مخلص نظر نہیں آتی اور پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔ اگر سرائیکی عوام کو ان کے حقوق نہ دیے گئے تو اس کے نتیجے میں مزید بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ سرائیکی عوام بغیر کسی سیاسی مفاد کے اپنے حقوق کے لیے خود آواز بلند کریں اور اپنی شناخت، ثقافت اور حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں۔

    سرائیکی عوام کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ کسی تعصب یا علیحدگی پسندی پر مبنی نہیں بلکہ یہ ان کے جائز حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ تمام قومیتوں کو مساوی حقوق دیے جائیں۔ اگر سرائیکی صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف وسیب کے عوام کو انصاف ملے گا بلکہ وفاق پاکستان مزید مستحکم ہوگا۔ ایک نئے صوبے کا قیام ملکی انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنائے گا اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گا، جس سے قومی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ یہی وقت ہے کہ اس دیرینہ مطالبے کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ وسیب کے عوام کو احساس محرومی سے نجات ملے اور پاکستان مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔