Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈی جی خان: جھنگی پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، پولیس کا بھرپور جواب

    ڈی جی خان: جھنگی پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، پولیس کا بھرپور جواب

    ڈی جی خان(باغی ٹی وی)تونسہ کے علاقہ وہوا میں جھنگی پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، پولیس کا بھرپور جواب

    تفصیل کے مطابق ڈی جی خان کے علاقے تھانہ وہوا کی حضرت عمر فاروق جھنگی پولیس چیک پوسٹ پر خوارج دہشتگردوں کا حملہ ایک بار پھر ناکام بنا دیا گیا۔ پنجاب پولیس کے بہادر جوانوں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 15 سے 20 دہشتگردوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف اطراف سے چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ حملے میں راکٹ لانچرز، ہینڈ گرینیڈ اور دیگر جدید اسلحہ استعمال کیا گیا، تاہم چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے مستعدی سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

    آر پی او ڈی جی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے آپریشن کی قیادت کی جبکہ ڈی پی او سید علی بھی ہمراہ رہے۔ پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی میں دہشتگردوں کے جانی نقصان کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ دہشتگردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

    پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ سال یکم اور 2 مئی کی درمیانی شب بھی جھنگی چوکی پر حملے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ گزشتہ دو سالوں میں پنجاب پولیس کی سرحدی چوکیوں پر خوارج دہشتگردوں کے 18 حملے ناکام بنائے جا چکے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر جھنگی چیک پوسٹ کو مزید محفوظ بنایا گیا ہے، جہاں اضافی نفری، جدید آلات اور اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے حملے کو ناکام بنانے پر اہلکاروں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کے جوان ملک و قوم کے دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں۔

    آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ پولیس چوکی پر تعینات تمام اہلکار محفوظ ہیں اور ان کا مورال بلند ہے۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں آئندہ بھی ناکام ہوں گی، کیونکہ پنجاب پولیس ہر قسم کی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ

    افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ

    افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پا کستان نے 1979 ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے۔ یہ ایک انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات پاکستانی معاشرے پر نمایاں ہوتے گئے اور انسانی ہمدردی میں کیا گیا فیصلہ پاکستانیوں کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا ،جس سے جان ہی نہیں چھوٹ رہی ، تقریبا َچار دہائیوں کے بعد یہ مہاجرین ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے سماجی، اقتصادی اور سیکیورٹی اثرات نے پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔

    افغان مہاجرین کو پاکستان نے ہمیشہ کھلے دل سے قبول کیا، ان کے لیے کیمپ قائم کیے گئے، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے اور انہیں تعلیم و صحت کی سہولیات دی گئیں۔ لیکن بدلے میں ان افغانیوں نے پاکستان کو منشیات ،ناجائزاسلحہ ،چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے تحفے دئے ، جن کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں ،بیشترپاکستانیوں کی رائے ہے کہ افغان مہاجرین ملکی وسائل پر بوجھ بن چکے ہیں۔پاکستان کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔

    افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں غیر رجسٹرڈ ہے، جو مقامی معیشت پربوجھ ہیں۔ ملازمتوں کے مواقع، صحت اور تعلیم کے وسائل پر ان کا بوجھ پاکستانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ایک اور سنگین مسئلہ سیکیورٹی کا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بہت سے افغان مہاجرین دہشت گردی اور جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کئی بار ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ افغان مہاجرین کیمپ انتہا پسند عناصر کی پناہ گاہ بن چکے ہیں۔

    30 جنوری 2025 کو افغان صوبہ بادغیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد کا بیٹا بدرالدین عرف یوسف ڈیرہ اسماعیل خان کے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارے جانے والے تین دہشت گردوں میں شامل تھا، جو فتنہ الخوارج (FAK) کے دہشت گردوں کے ساتھ ہلاک ہوا۔ یوسف کی کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ساتھ ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان کھلم کھلا پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، جہاں دہشت گرد گروہوں کو ٹریننگ، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مسلسل پشت پناہی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور کابل حکومت کا یہ رویہ دراصل پاکستان کے خلاف ایک کھلی جنگ کے مترادف ہے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے باہمی روابط اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں.

    اب افغان مہاجرین پاکستان میں سماجی تناؤ اور جرائم کی شرح میں اضافے کی علامت بن چکے ہیں ، جو مقامی آبادی کے لیے تشویشناک ہے۔پاکستان کئی دہائیوں سے افغان حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ مہاجرین کی واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کرے مگر اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان کا مئوقف واضح ہے کہ مہاجرین کو باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے تاکہ ملکی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سخت فیصلے کرے اور تمام افغان مہاجرین کو ملک بدر کرے۔ اقوام متحدہ کی ہدایات اور بین الاقوامی مہاجر قوانین کو پس پشت ڈال کر ہمیں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دیناہوگی۔ جو ممالک ان افغان مہاجرین سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ خود ان دہشت گردوں کو اپنے ممالک میں جگہ دیں۔

    ہمیں اب ان ظالمان دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج کے ایجنٹوں سے ہر حال میں چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ بہت ہو گئی مہمان نوازی، اب یہ ہمارے گھر میں بیٹھ کر ہمارے بچوں، بزرگوں، خواتین اور ہماری افواج پر حملوں میں دہشت گردوں کی معاونت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں امن کے قیام اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے افغان دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

    دوسری طرف افغان مہاجرین نے ملک کے اندر موجود مافیاز کے ساتھ ملی بھگت کرکے بھاری رقوم کے عوض پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں۔ یہ ایک نہایت خطرناک معاملہ ہے جو ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ نہ صرف ان افغانوں کے خلاف سخت کارروائی کریں بلکہ نادرا میں موجود ان کے سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کریں جو چند روپوں کی خاطر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر غیر ملکیوں کو پاکستانی شہری ہونے کے جعلی دستاویزات فراہم کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی ناگزیر ہے تاکہ ملک کے اندر کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔

    پاکستان کی بقاء استحکام اور روشن مستقبل کے لیے اب فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔ ہمیں مزید تاخیر کے بغیر اپنی سرزمین کو غیر قانونی مہاجرین اور ان کے سہولت کاروں سے پاک کرنا ہوگا۔ یہ مسئلہ صرف قانون و انتظام کا نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا ہے۔ اب اگر ہم نے سنجیدہ اور سخت فیصلے نہ کیے تو ہمارا ملک مسلسل عدم استحکام، دہشت گردی اور معاشی مشکلات کا شکار رہے گا۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، خودمختار اور مستحکم پاکستان چھوڑنا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم بے خوف ہو کر قومی مفاد میں عملی اقدامات کریں۔

  • خیبر: ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بہتری کے لیے گرینڈ جرگہ، KITE کی توسیع پر مشاورت

    خیبر: ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بہتری کے لیے گرینڈ جرگہ، KITE کی توسیع پر مشاورت

    خیبر(باغی ٹی وی رپورٹ) ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بہتری کے لیے گرینڈ جرگہ، KITE کی توسیع پر مشاورت

    خیبر رائفلز ہیڈ کوارٹر میں کمانڈنٹ خیبر رائفلز کے زیر صدارت خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن (KITE) کی بہتری اور ای کامرس تعلیم کے فروغ کے لیے گرینڈ مشاورتی جرگہ منعقد ہوا۔

    جرگے میں سینکڑوں مشران، بلدیاتی نمائندگان، عمائدین، ماہرین تعلیم اور یوتھ نے شرکت کی، جہاں KITE میں مزید جدید ٹیکنیکل پروگرام شامل کرنے اور اسے شلمان و علی مسجد جیسے دور افتادہ علاقوں تک وسعت دینے کی تجاویز پیش کی گئیں۔

    کمانڈنٹ خیبر رائفلز نے شرکاء کو یقین دلایا کہ ان سفارشات کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا اور مزید بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ قومی مشران اور طلبہ نے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ پر خیبر رائفلز کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے علاقے کی ترقی کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا۔

  • سیالکوٹ: فیملی کورٹ کمپلیکس کا افتتاح، جلد انصاف کی فراہمی پر زور

    سیالکوٹ: فیملی کورٹ کمپلیکس کا افتتاح، جلد انصاف کی فراہمی پر زور

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) چیف جسٹس میڈم عالیہ نیلم، جسٹس فاروق حیدر، رجسٹرار ایمبر گل، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ندیم طاہر سید، اور سینیئر سول جج احسن یعقوب ثاقب نے سیالکوٹ میں فیملی کورٹ کمپلیکس کا افتتاح کیا۔

    اس موقع پر شجرکاری مہم میں حصہ لیا اور سیشن کورٹ کے کمیٹی روم میں جج صاحبان سے خطاب کیا۔ چیف جسٹس نے خطاب میں زور دیا کہ سائلین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور مقدمات کو جلد نمٹایا جائے۔

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی تیسری وآخری قسط ملاحظہ فرمائیں

    دنیا کے ابتدائی قدیمی ورثے دریائے سرسوتی کنارے آباد سرائیکی تہذیبی شہر گنویری والا کا مستقبل اور چیلنجز
    اللہ رب العزت انسان کے غور و فکر اور عملی فلاحی تحقیقی کام کو پسند فرماتا ہے۔دنیا میں جدت اور خوشحال اکنامک سکلڈ انفارمیشن میرے نزدیک آرکیالوجی سائنس کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔جن قوموں نے قرآن مجید اور دیگر مقدس قدیم کتابوں ویدک لٹریچر،انجیل،تورات،زبور کی بدولت دنیا میں موجود دریائی،میدانی،پہاڑی،سمندری،جنگلات اور ریگستانوں میں چھپے انسانی تمدنی،ثقافتی اور تاریخی قدیم عجوبے تہذیبی خزانوں کو ڈھونڈا اور ان پرانے ورثے آثارقدیمہ کی بدولت نئی حکمت و دانش سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنایا.آج دنیا میں امریکہ،چین، روس،برطانیہ، فرانس،جاپان، قطر،دوبئی، سعودی عرب جیسے عظیم ممالک کی مضبوط شکل میں موجود ہیں۔

    دریائےسرسوتی سرائیکی وسیب روہی چولستان کے ابتدائی انسانی دنیا کے مشترکہ تہذیبی اثاثے کے حوالے سے سرسوتی اور سرائیکی کا سات ہزار سے آٹھ ہزار شہر گنویری کی قدامت بارے اہم شہادت قابل غور بات ہے۔سرائیکی محقق سید نور علی ضامن حسینی بخاری ریٹائرڈ ڈپٹی چیف انجینئر آبپاشی مغربی پاکستان (آل اولاد حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنی کتاب "معارف سرائیکی” ناشر مصطفٰی شاہ اکیڈمی احمدپورشرقیہ، مطبع پنجاب آرٹ پریس لاہور،اول اشاعت 1972ء کے صحفہ نمبر11 پر اپنے ایک بے تکلف پنجابی دوست دانشور پرویز حسن صادق کو انٹرویو میں کہا کہ سرائیکی تو قرآن پاک کے ” اصحاب الرس ” کی زبان ہے۔جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ فرقان، سورہ ق میں موجود ہے۔

    اس کا ثبوت انہوں نے صفحہ نمبر 104 پر سر آرل سٹین کی ریسرچ مطابق دریائے گھاگھرا،سرسوتی جس کی عظمت کے گیت مقدس کتاب رگ وید سنسکرت زبان میں موجود ہیں اور جرمن دانشور پروفیسر آردان راتھ کی تحقیق موجب دریائے سندھو یعنی دریائے انڈس کو رگ وید میں بیان کردہ دریائےسرسوتی کہا گیا ہے۔بہت سے دوسرے دانشوروں اور میری صحیح رائے کے مطابق سرسوتی سے مراد دراصل "سویراس وتی ” ہوسکتا ہے۔یعنی اصحاب الرس کا دریا۔اسی بناء پر یہ یقین غالب ہے کہ سرائیکی کا لفظ دراصل سویراکی تھا جو آہستہ آہستہ بگڑ کر سرائیکی ہوگیا۔

    ان حقائق کی روشنی میں کیا ہمارے مقامی سرائیکی وسیب کے عوامی نمائندے اپنے قدیم تاریخی،تمدنی،ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے ایم این ایز، ایم پی ایز نے کیا کلیدی کردار ادا کیا ہے؟۔یہ اہم سوال ہے۔کیا سرائیکی خطے میں گنویری والا میوزیم قائم ہوا؟کیا سرائیکی وسیب میں سرسوتی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کے لئے عملی اقدامات ہوئے؟کیا سرائیکی لینگؤیج،آرٹ اینڈ آرکیالوجی کلچرل سنٹر کا قیام قلعہ ڈیراور چولستان پر قائم ہوا؟کیا چولستان کے قدیم تاریخی قلعوں کی تزئین و آرائش کے عملی اقدامات ہوئے؟
    چند گزارشات سے سرائیکی خطے کی روہی میں تعمیر نو اور ترقی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔

    ان تمام اہم مسائل کو سرائیکی وسیب کے ہر شاعر،قصولی،نقاد،دانشور،ادیب،محقق اور صحافی نے اپنے ورثے کے تحفظ کے لئے ایمانداری سے ہر جگہ فریاد کرتے نظر آ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر نوجوان نسل اب اپنے تہذیبی ورثے کی حفاظت اور تعمیر نو کے لیے آگے آرہے ہیں۔سرائیکی شاعر پیشے کے اعتبار سے وکیل ثاقب قریشی کا سرائیکی کلام میں سرائیکی ورثے کے کمال تخیل پیش کیا۔
    گالھ ٹرپئی اے اینکوں پندھ کریندا ڈیکھیں
    اے نہ سمجھیں میڈی منزل کوں زمانے لگسن


    شاعر اپنی دھرتی کے سفیر ہوتے ہیں۔سرائیکی روہی چولستانی احمدپورشرقیہ کے مزاحمتی مزاج شاعر جہانگیر مخلص روہی ریگستان اور سرائیکی تہذیب وتمدن،ثقافت اور شناخت کی بے بسی پر نوحہ خوانی اور عشق کرتے نظر آ رہے ہیں۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)
    سرسوتی تہذیب وتمدن سے محبت اور مزاحمت ان کے کلام کا خاصہ ہے۔سرائیکی دانشور عبدالباسط بھٹی اور شاعر جہانگیر مخلص کا سرائیکی روہی کے تمدنی،ثقافتی قلعہ ڈیراور چولستان کی جیپ ریلی مرکز پر ہر سال سالانہ سرائیکی خواجہ فرید امن میلہ منعقد کرانا دراصل سرائیکی وسیب کی محرومیوں کے اظہار کا سنہڑا ہے۔پرہ باکھ ان کی سرائیکی شاعری کا شاہکار نمونہ ہے۔ان کے کلام کا تخیل کمال حیرت کا سماں پیدا کرتاہے۔

    سرائیکی دھرتی روہی کے آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کا گہوارہ،دکھ درد ان کے جیون کی کتھا ہے۔اپنی سرائیکی ریاست بہاولپور کے نوابوں اور مقامی سیاسی نمائندوں کے نام اہم پیغام دیا ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    اساں مونجھاں تیڈیاں،اساں کونجاں تیڈیاں
    سدھ نی کیئں گول وچ گئے ہیں گاریئے اساں
    کیا ڈسوں جانیاں! تیڈی دھرتی اتے
    دم حیاتی دے کیویں گزاریئے اساں

    دم دلاسے اساں، صرف کاسے اساں
    تیڈے وسبے دے کھل ٹوک ہاسے اساں

    ساکوں کوئی یاد نی کون ہاسے اساں
    سنج دی مانڑی اساں،پنج دی ہاری اساں

    اسی طرح رحیم یار خان سسی دی ماڑی بھٹہ واہن کے مہان کلاسک شاعر سئیں ممتاز حیدر ڈاھر کی شاعری "کشکول وچ سمندر” سرائیکی خطے کی وادی سرسوتی تہذیبی ورثے کے محافظ گنویری والا شہر روہی چولستان سے محبت کو عید مبارک کہتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت ہر سرائیکی شاعر کے تخیل کا خوبصورت عکس ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    جو وی ساہ دا سانگا جوڑے
    سچی سانجھ دے سانگے
    جیئں دل وچ ماء دھرتی دا درد ہے
    رتی بھانویں شارک
    اونکوں عید مبارک

    حکومت وقت کو اپنے قومی ورثے گنویری والا کی فوری حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات ہڑپہ و موہنجوداڑو طرز جیسے اٹھانا ہوں گے۔گنویری والا میوزیم اور ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام سے ہی سرائیکی قدیم تہذیبی و تمدنی ثقافتی ورثے کا تحفظ ممکن ہوگا۔خبر خوش آئند ہے کہ ابتدائی مراحل میں قلعہ ڈیراور کو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کر لیا گیا ہے۔امید ہے کہ نئی نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی منفرد شناخت کے لیے ایمانداری سے عملی طور تحقیق کرے گی اور نئے چھپے خزانوں سے پردہ اٹھائے گی۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ کھدائی سے ملنے قیمتی نوادرات کو بہاولپور میوزیم میں نہیں رکھا گیا۔مقامی روہیلوں کی رپورٹ کے مطابق پرانی تہذیب و تمدن کے مرکزی شہر گنویری والا سے چور قیمتی اثاثہ سے نوادرات چوری کرکے اونے پونے بیچ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے آرکیالوجی اداروں کو پاکستان کے ساتھ مل کر چولستان روہی سرائیکی وسیب کے ورلڈ ہیریٹیج سٹی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے فوری قیام اور ساتھ ہی گنویری والا میوزیم کے قائم سے سرائیکی علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔علاقے میں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

    سرائیکی ثقافتی تمدنی سات سے آٹھ ہزار سال پرانے گمشدہ شہر گنویری والا کی کھدائی کے لیے مزید ارتقائی ہنگامی بنیادوں پر پراجیکٹس کی گرانٹس جاری کرنا ہوں گی۔تہذیب وتمدن ،رسوم،حکمت و دانش،ترقی یافتہ پالیسیوں کی تلاش،زبان،سرائیکی سماجیات، روایات،ثقافت،ادب اور فنون لطیفہ کے ورلڈ اثاثےکی آگاہی ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔گنویری والا شہر کی کھدائی سے قیمتی خزانوں سے پردہ چاک کرکے ملکی وقار و زر مبادلہ میں بھی بلند اضافہ ہوگا۔

    خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی مہان کلاسک شاعر نے 56 سالہ زندگی میں تقریبا 18 سال روہی چولستان جھوک فرید کنڈا فرید میں گزارے۔ان کو دفن قیمتی خزانوں کا علم تھا اور اپنے شاندار خوشحال مستقبل کا بھی پتہ تھا۔اس لئے خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ریاستی سرائیکی نواب صادق محمد خان عباسی چہارم کو کہا تھا کہ اپنی نگری آپ وسا توں پٹ انگریزی تھانے سے مراد روہی چولستان آپ نے خود آباد کرنا ہےاور پٹ انگریزی تھانے کی اصطلاح دراصل اعلی جدید علم و ٹیکنالوجی کی تحقیق،خود داری،دیانت داری اور محنت کا استعارہ بیان فرمایا۔روہی چولستان کی شادابی اور معاشی ترقی کا حسین خواب حقیقت کا اظہار ایک صدی پہلے کر چکے ہیں۔اب صرف ایمانداری سے عمل کی ضرورت ہے۔سرائیکی وسیب کی نوجوان نسل کو قلم،کتاب،لائیبریری اور ریسرچ لیبارٹری میں دن رات جدید علم و ہنر اور ٹیکنالوجی کے اوزاروں سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا۔سرائیکی مہان کلاسک صوفی شاعر سیئں خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل دیوان فرید سرائیکی سماجیات کی مضبوط دستاویزات ہیں۔ان کے کلام آفاقیت میں روہی سے عشق محبت،امید اور تصوفانہ فلسفے سے تقویت ملے گی۔

    اگر آج بھی حکمران، مقامی سیاستدان اور سرائیکی وسیب کے دعویدار خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔گنویری والا، جو ہڑپہ و موہنجوداڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے،محض داستان بن کر رہ جائے گا۔ اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں بے حسی اور غفلت کا مجرم ٹھہرائیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عظمت کو مٹی میں دفن ہونے سے بچائیں،ورنہ کل ہمیں اپنی شناخت کے ملبے پر کھڑے ہو کر صرف افسوس ہی کرنا پڑے گا!

    وقت کا پہیہ رکنے والا نہیں مگر تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔جو قومیں اپنی پہچان اور ورثے کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ ماضی کے کھنڈرات میں دفن ہو جاتی ہیں۔ گنویری والا ہماری شناخت، تہذیب اور تاریخی ورثے کا نشان ہے، جسے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ زمین کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی بے حسی کی گواہی دے گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، تاریخ میں سر اٹھا کر زندہ رہنا ہے یا مٹ جانے والوں میں شامل ہونا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: پولیس چوکی لاری اڈہ کی کارروائی، 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد

    ڈیرہ غازی خان: پولیس چوکی لاری اڈہ کی کارروائی، 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواد اکبر) پولیس چوکی لاری اڈہ کی کارروائی، 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان پولیس نے چوکی لاری اڈہ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد کر لی۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ایک شخص ممنوعہ اور چوری شدہ ادویات کی نقل و حمل میں ملوث ہے۔

    موقع پر پہنچ کر پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر اس کے قبضے سے پنجاب حکومت کی سرکاری ملکیتی ادویات کے کئی کارٹن برآمد کیے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ یہ چوری شدہ ادویات ایک سرکاری ملازم سے حاصل کرتا تھا۔

    پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی نے ڈی ایس پی سٹی عرفان اکبر، ایس ایچ او گدائی علی عمران اور انچارج چوکی لاری اڈہ عرفان حیدر کی کاوشوں کو سراہا۔

  • سندھ ہائی کورٹ میں اے ایس آئی ترقیوں میں کورس کی شرط چیلنج

    سندھ ہائی کورٹ میں اے ایس آئی ترقیوں میں کورس کی شرط چیلنج

    کراچی (باغی ٹی وی) سندھ پولیس کے چھ اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئی) نے ترقیوں کی پالیسی میں اچانک تبدیلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 2016 سے سندھ پولیس میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے ترقی کے عمل میں کورس کی لازمی شرط غیر منصفانہ ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ کراچی زون میں 3327 سب انسپکٹرز کی اسامیاں موجود ہیں، جن میں سے 2873 پر تعیناتیاں ہو چکی ہیں جبکہ 454 پوسٹیں خالی ہیں۔ اس کے باوجود، ترقی کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔

    درخواست گزاروں کے مطابق 3 جنوری 2024 کو آئی جی سندھ نے اے ایس آئیز کی ترقی کے لیے "اپر کورس” کو لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس رولز کی خلاف ورزی ہے اور کراچی زون کے اہلکاروں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

    درخواست میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ حیدرآباد زون میں بغیر کورس 9 اے ایس آئیز کو ترقی دی گئی جبکہ کراچی زون کے اہلکاروں کے لیے کورس کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو ترقیوں میں جانبداری اور دوہرا معیار قرار دیا گیا ہے۔

    درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آئی جی سندھ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور ترقیوں میں کورس کی شرط ختم کی جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

  • ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا "ہفتہ یکجہتی کشمیر” منانے کا اعلان

    ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا "ہفتہ یکجہتی کشمیر” منانے کا اعلان

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ 31 جنوری تا 5 فروری تک "شہ رگ ہر صورت چھڑائیں گے” کے عنوان سے ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع بھر میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ ننکانہ صاحب کے جنرل سیکرٹری ثاقب مجید نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت کی قیادت کے حکم پر مختلف عوامی مقامات، چوکوں اور چوراہوں میں یکجہتی کیمپ لگائے جائیں گے۔ مسلم لیگ کے ذیلی شعبہ جات پاک لائرز فورم، مسلم یوتھ لیگ، مسلم ویمن لیگ، مرکزی کسان اتحاد، رابطہ علماء و مشائخ پاکستان اور مسلم اسٹوڈنٹس لیگ کے زیر اہتمام سیمینار منعقد کیے جائیں گے، جن میں کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

    ہفتہ یکجہتی کشمیر کے دوران پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے "شہ رگ ہر صورت چھڑائیں گے” کے عنوان سے خصوصی ترانے اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر مبنی ڈاکومنٹری پیش کی جائے گی۔

    یوم یکجہتی کشمیر (5 فروری) کے دن ضلع بھر میں بڑی ریلیاں نکالی جائیں گی، جن میں سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنما شرکت کریں گے۔ ان ریلیوں کا مقصد کشمیر کاز کو اجاگر کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کی طرف مبذول کرانا ہے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

  • سیالکوٹ: فٹ پاتھوں اور شاہراہوں پر ناجائز تجاوزات، 12 افراد کے خلاف مقدمات درج

    سیالکوٹ: فٹ پاتھوں اور شاہراہوں پر ناجائز تجاوزات، 12 افراد کے خلاف مقدمات درج

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) پولیس نے فٹ پاتھوں اور شاہراہ عام پر ناجائز تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مزید 12 افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ حاجی پورہ کے علاقے میں پولیس نے عبدالرحمن، عثمان مغل اور محمد عارف کے خلاف فٹ پاتھوں پر غیر قانونی تجاوزات قائم کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا، جبکہ تھانہ صدر سیالکوٹ کے علاقے میں خرم شہزاد، عادل، نعمت خان، آفاق، خواجہ وقاص، ابوبکر، لقمان اور مبین کے خلاف بھی اسی نوعیت کے مقدمات درج کیے گئے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عوامی راستوں پر ناجائز تجاوزات قائم کرنا غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کرنے سے گریز کریں ورنہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • سیالکوٹ: سرکاری و نجی اداروں میں معذور افراد کے لیے 3 فیصد کوٹہ یقینی بنانے کی ہدایت

    سیالکوٹ: سرکاری و نجی اداروں میں معذور افراد کے لیے 3 فیصد کوٹہ یقینی بنانے کی ہدایت

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ مظفر مختار نے کہا ہے کہ سرکاری و نجی اداروں میں خصوصی افراد (معذور افراد) کے لیے 3 فیصد کوٹہ قانون کے مطابق لازمی ہے۔ سوشل ویلفیئر افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صنعتی و کمرشل یونٹس میں کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کریں اور مالکان کو باور کرائیں کہ خصوصی افراد معاشرے کا حصہ ہیں، ان کی فلاح و بہبود اور ضروریات کا خیال رکھنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔

    یہ ہدایات انہوں نے آج ضلعی بہبود و بحالی یونٹ برائے معاونت معذور افراد سیالکوٹ کے اجلاس میں دیں، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شریف گھمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدنان راٹھور، سدرہ سلطانہ، ڈی ایچ او احمد ناصر چودھری، اشفاق نذر گھمن، ڈی او انڈسٹریز تنویر احمد، ڈی ای او سیکنڈری ایجوکیشن محمد نواز، انجینئر وقاص لودھی، نمائندگان معذور افراد شاہ زیب، حافظ شاہد رضا اور نمائندہ زکوٰۃ ڈیپارٹمنٹ سلمان احمد شریک تھے۔

    اے ڈی سی نے کہا کہ ہمت کارڈ کے اجراء کے لیے "ناٹ فٹ ٹو ورک” سرٹیفکیٹ کے لیے باقاعدہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور معذوری جانچنے کے لیے درکار آلات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اس حوالے سے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کو سفارشات بھیجی جائیں گی۔

    سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معذور افراد کے لیے مفت سفری کارڈ کے اجراء کو یقینی بنائیں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں معذور افراد کے لیے مخصوص نشستیں مختص کریں۔

    ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ معذور افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ہنر مند بنانے کے مواقع فراہم کریں اور ان کے داخلے بڑھائیں۔

    اے ڈی سی نے کہا کہ نئے تعمیر ہونے والے کمرشل پلازوں اور مارکیٹوں کو معذور افراد کے لیے دوستانہ بنانے کی ہدایات دی جائیں گی۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہائی لیول ڈیزائن کمیٹی کو سفارشات بھیجی جائیں گی کہ وہ عمارتوں کے نقشے منظور کرتے وقت معذور افراد کے لیے ریمپس، خصوصی ٹائلٹس اور آسان رسائی یقینی بنائیں۔

    اجلاس میں شریک افسران نے معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات پر زور دیا اور عملدرآمد کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔