Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گداگری ایک لعنت

    گداگری ایک لعنت

    گداگری ایک لعنت
    تحریر: ریحانہ صبغتہ
    گداگری کے لفظی معنی ہاتھ پھیلانا، منگتا، سوالی اور بھکاری کے ہیں،یوں تو ہمارے ملک میں بےشمار مسائل ہیں، لیکن جس طرح گداگری نے ملک کو بری طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، وہ ناقابلِ یقین ہے۔گداگری ایک ایسا سماجی رویہ ہے جس میں معاشرے کا کمزور اور پسا ہوا طبقہ اپنی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔

    گداگری ہمارے ملک میں باقاعدہ ایک پیشہ بن گیا ہے اور لوگ جوق در جوق اس میں شامل ہو رہے ہیں، بلکہ پاکستان میں گداگری ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے جو کہ معاشی، معاشرتی اور اقتصادی طور پر معاشرے کو پستی اور ذلت کا شکار کر رہی ہے، جس سے عزتِ نفس اور محنت کی عظمت کے تمام خیالات و نظریات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

    گلیوں، بازاروں، مزاروں، اسپتالوں، شاپنگ مالز، سگنلز، بس اسٹاپ، شادی ہال اور ہر جگہ گداگروں کی بڑھتی تعداد، جس میں بچے، بوڑھے، جوان، خواتین اور بچیاں سب ہی آپ کو ہاتھ پھیلاتے نظر آئیں گے۔یہ درست ہے کہ بعض لوگ بھوک اور افلاس سے مجبور ہو کر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن ایسے بھکاریوں کا کیا علاج ہے جو اپنے آپ کو مجبور ظاہر کر کے بھیک مانگتے ہیں؟ ان گداگروں نے بھیک مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں۔

    کچھ لوگ بھیک کی آڑ میں لوگوں کی جیبیں کاٹتے ہیں۔کچھ لوگ ملنگ اور فقیروں کا روپ دھار کر خواتین سے بڑی بڑی رقمیں بٹورتے ہیں۔اکثر لوگوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ اگر اس گداگر کو خالی ہاتھ واپس بھیجا تو ہو سکتا ہے آسمان گر پڑے۔بعض لوگ بھیک کو پیشہ بنا لیتے ہیں کیونکہ انہیں بغیر محنت کے بہت کچھ مل جاتا ہے۔بعض لوگ روزی کمانے کے لیے اپنے بچوں سے بھیک منگواتے ہیں، اس طرح یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے، اس لیے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔تقریباً آدھے سے زیادہ گداگر کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن انہوں نے گداگری کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔

    گلی کوچوں میں گداگروں کا صدا لگانا، سڑکوں پر بھیک مانگنا، ہر جلسے اور عبادت گاہ کے دروازے پر ان کا وجود قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
    گداگری نہ صرف ملک و قوم کے لیے بدنامی اور ذلت کا سبب ہے بلکہ یہ بہت سے جرائم کو بھی جنم دیتی ہے، جن میں ناجائز منافع خوری، ڈکیتی، لوٹ مار، قتل، انسانی اسمگلنگ، بھتہ خوری، چوری، فراڈ، دھوکہ دہی اور راہزنی قابلِ ذکر ہیں۔

    ملک میں بڑھتے ہوئے گداگری کے مسئلے نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے لیکن اشرافیہ خوابِ خرگوش کے مزے لے کر میٹھی نیند سو رہی ہے، اور اس مسئلے کی طرف ان کی کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔جوں جوں گداگروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ملک میں غربت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

    اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ گداگری کا خاتمہ ہو تو سب سے پہلے اس کی وجوہات جیسے غربت، افلاس، بھوک، بے راہ روی، بیماری، ذہنی توازن، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، منشیات، جسمانی کمزوری اور جہالت جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ کرنا ہوگا، لیکن افسوس کہ پاکستانی اعلیٰ حکام کی ابھی اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔
    غلط اور فرسودہ نظام کے ذریعے پیدا ہونے والی برائیوں کے مقابلے اور خاتمے کے لیے منظم جدوجہد کرنا ہوگی۔

    الغرض معاشرے میں گداگری کی وجوہات کچھ بھی ہوں، گداگری ایک لعنت ہے، جس کا مستقل حل یہ ہے کہ:

    بے روزگاری کو ختم کیا جائے۔
    بھکاریوں کو خیرات، عطیات یا کھانا دینے کی بجائے انہیں محنت کرنے کا درس دیا جائے کہ وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر سب کچھ کر سکتے ہیں۔
    حکومت معذور افراد کے لیے ایسی مہارتیں فراہم کرے تاکہ وہ معذور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ناکارہ نہ سمجھیں۔ضعیف اور نادار لوگوں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں اور شیلٹر ہومز بنائے جائیں جو حکومت کی زیرِ سرپرستی ہوں۔گداگری کو قانوناً جرم قرار دینا چاہیے تاکہ کوئی بھی مانگنے سے پہلے سو بار سوچے۔حکومتِ وقت کو گداگری کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں، اور عوام الناس بھی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

    اگر ان سخت اقدامات سے گداگری کی لعنت کو ختم کیا جا سکتا ہے تو ہمیں مل جل کر اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ملکِ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔اگر ہم نے وقت پر گداگروں کا سدِباب نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ زوال کا شکار ہو جائے، اور ہمارے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہ بچے۔

  • جمرود: گورنمنٹ ڈگری کالج میں ویلکم پارٹی، شاجہان آفریدی کا طلباء کے لیے 50 ہزار کا اعلان

    جمرود: گورنمنٹ ڈگری کالج میں ویلکم پارٹی، شاجہان آفریدی کا طلباء کے لیے 50 ہزار کا اعلان

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) گورنمنٹ ڈگری کالج جمرود میں نئے طلباء کے اعزاز میں ویلکم پارٹی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے یوتھ نائب صدر اور آفریدی میڈیکل کمپلیکس کے اونر شاجہان آفریدی تھے، جنہیں روایتی لونگی پہنائی گئی۔

    تقریب کے دوران سیکنڈ ائیر کے طلباء نے فرسٹ ائیر کے نئے آنے والے طلباء کو خوش آمدید کہا۔ مہمان خصوصی شاجہان آفریدی نے طلباء کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی معاونت کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاجہان آفریدی نے کہا کہ "طلباء کو اپنی صلاحیتوں کی قدر کرتے ہوئے مکمل طور پر تعلیم پر توجہ دینی چاہیے اور وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "نوجوانوں کو منشیات اور بری صحبت سے دور رہنا ہوگا تاکہ وہ ایک کامیاب اور روشن مستقبل حاصل کر سکیں۔”

    تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں طلباء نے اس موقع پر اپنی بھرپور شرکت پر مسرت کا اظہار کیا۔

  • سیالکوٹ: ٹپال چائے کے زیر اہتمام میگا لکی ڈرا، ٹریڈرز میں قیمتی انعامات تقسیم

    سیالکوٹ: ٹپال چائے کے زیر اہتمام میگا لکی ڈرا، ٹریڈرز میں قیمتی انعامات تقسیم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، نامہ نگار مہر مصطفیٰ)پاکستان کی معروف چائے برانڈ ٹپال کی جانب سے سیالکوٹ کے نجی ہوٹل میں ٹریڈرز کے لیے سالانہ میگا لکی ڈرا کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروقار تقریب میں کمپنی کے ریجنل منیجر عابد حسن، زونل منیجر ملک خاور ایوب، آر ٹی ایم ایم عامر سمیت دیگر افسران، ڈسٹری بیوٹرز اور کاروباری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    کمپنی کی جانب سے ٹریڈرز میں بذریعہ قرعہ اندازی عمرہ پیکجز، موٹر بائیکس، موبائل فونز اور دیگر قیمتی انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر شرکاء نے کمپنی کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کاروباری حلقوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ صارفین تک معیاری مصنوعات پہنچانے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے افسران کا کہنا تھا کہ ٹپال چائے ہمیشہ اپنے ٹریڈرز کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی مزید بہتر اسکیمیں متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ان کے کاروبار میں مزید اضافہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریڈرز ہمارے نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان کی ترقی ہی کمپنی کی کامیابی ہے۔

    تقریب میں شامل ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز نے اس سالانہ تقریب کو خوش آئند قرار دیا اور ٹپال چائے کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تقریبات سے نہ صرف کاروباری تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں بلکہ حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔

    تقریب کا اختتام دعائیہ کلمات اور جیتنے والے خوش نصیب ٹریڈرز کو مبارکباد کے ساتھ ہوا۔

  • لنڈی کوتل:شینواری ماڈل کالج کے زیر اہتمام منشیات کے خلاف آگاہی واک

    لنڈی کوتل:شینواری ماڈل کالج کے زیر اہتمام منشیات کے خلاف آگاہی واک

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) شینواری ماڈل کالج کے زیر اہتمام منشیات کے خلاف آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ، تحصیل کونسل کے نمائندوں، فلاحی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ واک کالج سے شروع ہو کر حمزہ بابا چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔

    واک کے شرکاء سے تحصیل چیئرمین شاہ خالد شینواری، جماعت اسلامی کے مقتدر شاہ آفریدی، بنارس شینواری، ضیاء الحق آفریدی، کلیم اللہ شینواری، منظور علی شینواری، معرف آفریدی اور ڈی آر سی انچارج اسلام الدین شینواری نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ نوجوان نسل کو سازش کے تحت منشیات میں دھکیلا جا رہا ہے، جس کے خلاف پوری قوم کو کھڑا ہونا ہوگا۔

    کالج کے پرنسپل عبید شینواری نے کہا کہ اس واک کا مقصد نوجوانوں میں منشیات کے نقصانات سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تعلیم پر توجہ مرکوز رکھنے اور نشہ سے دور رہنے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "منشیات سے پاک معاشرہ ہی ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے۔”

  • سکھر: میئر اور ڈپٹی کمشنر کے دوستانہ کرکٹ میچ کا انعقاد، میئر الیون کی فتح

    سکھر: میئر اور ڈپٹی کمشنر کے دوستانہ کرکٹ میچ کا انعقاد، میئر الیون کی فتح

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری) سکھر، میئر اور ڈپٹی کمشنر کے دوستانہ کرکٹ میچ کا انعقاد، میئر الیون کی فتح

    سکھر میں میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ اور ڈپٹی کمشنر سکھر ایم بی راجہ دھاریجو نے کرکٹ میچ منعقد کروا کر نوجوانوں کو کھیل کی طرف راغب کیا۔

    میونسپل جناح اسٹیڈیم میں ہونے والے T10 کرکٹ میچ میں میئر الیون نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 120 رنز کا ہدف دیا، جس کے تعاقب میں ڈی سی الیون 111 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ یوں سنسنی خیز مقابلے کے بعد میئر الیون نے کامیابی حاصل کرلی۔

    تقسیم انعامات کی تقریب میں مہمان خصوصی اور معروف تاجر ملک محمد رضوان الحق نے صحت مند معاشرے کے لیے کھیلوں کی اہمیت پر زور دیا۔ میئر سکھر اور ڈپٹی کمشنر نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے، جبکہ ونر اور رنر اپ ٹیموں کو ٹرافیاں دی گئیں۔

    میئر سکھر نے اس موقع پر کہا کہ "صحتمند دماغ کے لیے صحتمند جسم ضروری ہے، اور کھیل جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بہترین ذریعہ ہیں۔” انہوں نے شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے لیے جلد مزید صحت مند سرگرمیوں کی خوشخبری دینے کا اعلان کیا۔

  • تنگوانی: ڈاکوؤں کا بھتہ نہ دینے پر شوروم اور گھر پر فائرنگ، شہر میں خوف و ہراس

    تنگوانی: ڈاکوؤں کا بھتہ نہ دینے پر شوروم اور گھر پر فائرنگ، شہر میں خوف و ہراس

    تنگوانی (باغی ٹی وی) نامہ نگار منصور بلوچتنگوانی شہر میں رات دیر گئے ڈاکوؤں نے بھتہ نہ دینے پر ایک کار شوروم، دکان اور شوروم مالک کے گھر پر جدید اسلحے سے شدید فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان دو گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، تاہم تنگوانی پولیس کو کسی بھی ضلع فورس یا دیگر تھانوں سے مدد نہ مل سکی۔

    تفصیلات کے مطابق رات گئے مسلح ڈاکوؤں نے تنگوانی کے معروف تاجر برکت علی کھوسہ کے کار شوروم اور ان کے گھر کو نشانہ بنایا۔ ڈاکوؤں نے بھتہ نہ دینے پر جدید خودکار اسلحے سے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شوروم میں کھڑی کئی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

    فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی تنگوانی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ڈاکوؤں سے دو گھنٹے تک مقابلہ جاری رہا۔ دونوں جانب سے شدید فائرنگ کے باعث پورا علاقہ گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ شہری خوف کے باعث گھروں میں محصور ہو گئے، جبکہ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اس افسوسناک واقعے کے دوران تنگوانی پولیس کو ضلع کی کسی بھی فورس کی مدد نہ مل سکی۔ مقامی پولیس اہلکار بے یار و مددگار ہو کر ڈاکوؤں کا مقابلہ کرتے رہے، لیکن کوئی اضافی نفری یا کمک فراہم نہیں کی گئی۔ ضلع کے کسی دوسرے تھانے یا فورس نے بھی مدد کے لیے رسپانس نہیں دیا، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ آئے روز بڑھتی ہوئی وارداتوں اور پولیس کی بے بسی نے ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پولیس کو جدید اسلحہ اور مناسب نفری فراہم کی جائے تاکہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔

    ذرائع کے مطابق، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ تاہم، تاحال کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

  • آہ! مصور منیر مرحوم

    آہ! مصور منیر مرحوم

    آہ! مصور منیر مرحوم
    تحریر:فیصل رمضان اعوان
    ڈھرنال گاؤں ضلع تلہ گنگ کی مغربی سمت میں میانوالی روڈ کے جنوب میں میال اور ترحدہ کے قریب کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ تلہ گنگ اور لاوہ کی مضافاتی دیہی آبادیاں اپنے ماضی کی اعلیٰ اقدار اور شاندار روایات آج بھی زندہ و سلامت رکھے ہوئے ہیں، اور یہاں کے باسی اپنے شاندار ماضی کو آج تک نہیں بھولے۔ دلیری، ایمانداری اور غیرت مندی یہاں کے لوگوں میں بالکل اپنے آباؤ اجداد کی طرح آج بھی زندہ ہے۔ یہاں کئی طلسماتی کردار کی حامل کچھ شخصیات بھی گزری ہیں جن کی اولادیں انہی علاقوں میں مستقل رہائش پذیر ہیں۔

    ڈھرنال گاؤں کی اصل وجہ شہرت بھی ایک طلسماتی کردار کی حامل شخصیت ہے جن کا نام مرحوم محمد خان ڈھرنال ہے۔ محمد خان ڈھرنال قتل و غارت گری اور اپنی دشمنیوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ بہادری میں ان جیسا کردار شاید ہی ہمیں کہیں سننے کو ملا ہو۔ بچپن میں والد مرحوم جب ان کی بہادری کے قصے سناتے تو وہ بڑا پرلطف، بامزہ، پراسرار اور عجیب و غریب لگتا، لیکن خیر سے محمد خان ڈھرنال کا زمانہ غیرت اور دلیری کے واقعات کا تھا۔ بہرحال ہمیں بھی وہی سبق سکھایا جا رہا تھا۔ جو ان کے اردگرد ہوتا تھا، آنکھوں دیکھا حال بھی سنایا جاتا تھا۔ اس کا اثر میرے خیال میں لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا نہیں کرتا تھا بلکہ غیرت سے جینے کا ہنر اور وقار سے مرنے کا درس ملتا تھا۔ ڈھرنال کی اصل وجہ شہرت تو مرحوم محمد خان ڈھرنال کی وجہ سے تھی۔

    اسی سرزمین پر علم و ادب کا ایک بڑا نام مصور منیر مرحوم کا بھی ہے۔ انہوں نے فن مصوری میں وہ مقام پایا جو کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ یہاں چونکہ دو مختلف سوچوں کے لوگ پائے جاتے ہیں، جیسا کہ تحریر کے شروع میں میں نے محمد خان ڈھرنال کی وجہ شہرت کا ذکر کیا، ان کے کردار، بغاوت اور دلیری پر بات کی۔ یہ سوچ یہاں ایک بڑی تعداد میں موجود ہے۔ دوسری طرف ایک فن میں ماہر، ایک بڑا نام۔۔۔ ایک عظیم فنکار، مصور منیر مرحوم کا نام ہے۔ بدقسمتی سے یہ حلقہ یہاں کافی کم تعداد میں پایا جاتا ہے، لیکن الحمدللہ جو لوگ بھی علم و ادب کی خدمت کر رہے ہیں، بلاشبہ وہ قابلِ تحسین ہیں اور ان کا کردار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے۔ لیکن یہ عزت و شہرت وہ ہے جو رب تعالیٰ کسی کسی کے نصیب میں لکھتا ہے۔

    مصور منیر اپنے فن کے استاد تھے۔ دنیا بھر میں ان کے فن پاروں کی نمائشیں ہوتی تھیں اور ان کو ایوارڈز سے نوازا جاتا۔ کئی گولڈ میڈل بھی حاصل کیے۔ گزشتہ روز جب ان کے اچانک انتقال کی خبر ملی تو تادیر ان کے جانے کا غم رہا۔ ایک ایسے عظیم انسان کی جدائی نے مغموم کر دیا کہ اب ان جیسی شخصیت کا نعم البدل کہاں!

    تلہ گنگ شہر میں منعقدہ ایک ادبی تقریب میں تقریر کے فوراً بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور حرکت قلب بند ہونے سے وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام منازل آسان فرمائے اور ان کی کامل مغفرت فرمائے۔ مصور منیر مرحوم ایک ایسی نادر شخصیت تھے جن کی انتھک محنت نے ان کو اپنے فن کے عروج تک پہنچایا اور وہ دنیا میں وطن عزیز پاکستان کی ایک قومی شناخت بنے۔

    آج مصور منیر ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یہ باب اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ وہ ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان کی علمی، ادبی اور فنی خدمات نے ہمارے علاقے کو دنیا بھر میں اور پیارے وطن میں ایک منفرد پہچان دی۔ ان کے اچانک چلے جانے سے یہ خلا اب ہمیشہ خالی رہے گا۔

    بارگاہِ الٰہی میں ان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ان کی کامل بخشش فرما دے۔ آمین ثم آمین۔

  • لنڈی کوتل:شاہ خان کی شاندار کامیابی، 60ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں 4 گولڈ میڈلز

    لنڈی کوتل:شاہ خان کی شاندار کامیابی، 60ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں 4 گولڈ میڈلز

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)شاہ خان کی شاندار کامیابی، 60ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں 4 گولڈ میڈلز

    تفصیل کے مطابق لاہور میں ہونے والی 60ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں خیبر پختونخوا کے شاہ خان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار گولڈ میڈلز جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا۔ ان کی اس تاریخی کامیابی پر ضلع خیبر ٹیبل ٹینس ایسوسی ایشن کے صدر نصیب شاہ شنواری اور کابینہ ممبران نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

    ایسوسی ایشن کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاہ خان کی غیر معمولی کارکردگی پر قومی سطح پر انعام دیا جائے تاکہ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں ٹیبل ٹینس کو فروغ دینے کے لیے حکومتی سرپرستی ناگزیر ہے، تاکہ نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام مزید بلند کر سکیں۔

    نصیب شاہ شنواری نے نشاندہی کی کہ پشتون بیلٹ کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن مناسب سہولیات کی کمی کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ نہیں کر پاتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل میں انڈور جمنازیم اور جدید اسپورٹس فیسیلیٹی تعمیر کی جائے، تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع میسر آ سکیں اور وہ ملک و قوم کا نام مزید روشن کر سکیں۔

  • قصور:میڈم شازیہ رفیق ڈی ای او فیملی ایجوکیشن تعینات، بہتر تعلیمی نظام کے عزم کا اظہار

    قصور:میڈم شازیہ رفیق ڈی ای او فیملی ایجوکیشن تعینات، بہتر تعلیمی نظام کے عزم کا اظہار

    قصور،باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نوید سندھو) میڈم شازیہ رفیق ڈی ای او فیملی ایجوکیشن قصورتعینات، بہتر تعلیمی نظام کے عزم کا اظہار

    میڈم شازیہ رفیق نے بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیملی ایجوکیشن) قصور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس موقع پر انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنے ساتھیوں، میڈیا نمائندگان اور خصوصی طور پر باغی ٹی وی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    میڈم شازیہ رفیق کا کہنا تھا کہ انہوں نے 25 جنوری 2025 کو کمپیٹیٹو امتحان کے ذریعے ایڈمنسٹریٹو پوسٹ جوائن کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں ایجوکیشن ایڈمنسٹریٹو سیٹوں کو کمپیٹیٹو امتحانات کے ذریعے پُر کرنے کی پالیسی کے تحت انہیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا۔

    انہوں نے اپنے اہل خانہ، خاص طور پر اپنے بھائی کی حمایت کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی اور چاہا کہ وہ قصور میں خدمات انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر تعلیمی میدان میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں اور عوام کی توقعات پر پورا اتریں گی۔

    میڈم شازیہ رفیق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں گی، تاکہ قصور میں ایک مؤثر اور جدید تعلیمی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

  • گھوٹکی: پولیس کا کریک ڈاؤن، فائرنگ کا تبادلہ، ملزمان فرار، چوری شدہ دو ٹریکٹر برآمد

    گھوٹکی: پولیس کا کریک ڈاؤن، فائرنگ کا تبادلہ، ملزمان فرار، چوری شدہ دو ٹریکٹر برآمد

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری) گھوٹکی پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن کیا۔ ڈی ایس پی گھوٹکی رانا نصراللہ کی سربراہی میں متعدد تھانوں کی پولیس نے تھانہ بی کی حدود لعل پیر بیلہ میں چھاپے مارے، تاہم ملزمان پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزمان میں مصری ولد لعل بلو، نظام الدین ولد مصری بلو، پرویز ولد بنبھور بلو، قربان بلو، ظہور میرانی، شہزادو کلہوڑو، راحب عرف آصف ولد خدا بخش میرانی سمیت دیگر شامل تھے، جو قتل، اغواء برائے تاوان، رہزنی، چوری اور پولیس مقابلے جیسے سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔ پولیس پارٹی کے پہنچنے پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی، تاہم تمام ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    پولیس نے آپریشن کے دوران ملزمان کے ٹھکانوں سے چوری شدہ دو عدد ٹریکٹر برآمد کر لیے، جنہیں مالکان کی شناخت کے بعد ان کے حوالے کیا جائے گا۔ اس پولیس مقابلے کا مقدمہ تھانہ بی سیکشن میں کرائم نمبر 10/2025 کے تحت دفعہ 324، 353، 147، 148، 149 ت پ کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی گھوٹکی رانا نصراللہ کی قیادت میں کیے گئے اس آپریشن میں 03 اے پی سی چینز، 08 ایس ایچ اوز، اور 12 پولیس موبائلز حصہ لے رہی تھیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائیاں جاری رہیں گی اور جلد ہی قانون کی گرفت میں لے آئیں گے۔

    گھوٹکی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی میں مدد کریں تاکہ علاقے کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔