Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: بار ایسوسی ایشنز کے سالانہ انتخابات، مختلف شہروں میں اتحاد اور مقابلے کا مظاہرہ

    سیالکوٹ: بار ایسوسی ایشنز کے سالانہ انتخابات، مختلف شہروں میں اتحاد اور مقابلے کا مظاہرہ

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ بار ایسوسی ایشنز کے سالانہ انتخابات 2025-26 کے نتائج، مختلف شہروں میں اتحاد اور مقابلے کا مظاہرہ

    سیالکوٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن:
    عرفان اللہ وڑائچ 846 ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے، جبکہ بلال اکبر گھمن 678 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ سیکرٹری کی نشست پر افضال اسلم چوہدری نے 984 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ نائب صدر چوہدری حسن اکرم 992 ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔ جوائنٹ سیکرٹری کے لیے رانا عادل خالد نے 952 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ پولنگ صبح 9 بجے شروع ہو کر شام 5 بجے تک جاری رہی۔ پرامن انتخابات کروانے پر الیکشن بورڈ کے چیئرمین میاں شکیل احمد اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

    سمبڑیال بار ایسوسی ایشن:
    رانا سمیع اللہ اختر ایڈووکیٹ 292 ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے۔ جنرل سیکرٹری کے لیے یاسر عرفان ڈھلوں ایڈووکیٹ نے 266 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

    ڈسکہ بار ایسوسی ایشن:
    چوہدری اظہر نذیر دھاریووال ایڈووکیٹ نے 697 ووٹ حاصل کرکے صدر کی نشست جیت لی، جبکہ جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر رانا عبدالرحیم ایڈووکیٹ 525 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

    پسرور بار ایسوسی ایشن:
    پسرور بار کے انتخابات میں غلام غوث باجوہ 315 ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے۔ جنرل سیکرٹری کی نشست پر حسان یوسف 314 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ نائب صدر کے لیے میاں الیاس نے 372 ووٹ حاصل کرکے میدان مار لیا۔

    تمام بار ایسوسی ایشنز میں وکلا نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کامیاب امیدواروں نے جشن منایا۔

  • گوجرہ: بارایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 2025-2026، اتحاد گروپ کی کامیابی

    گوجرہ: بارایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 2025-2026، اتحاد گروپ کی کامیابی

    گوجرہ,باغی ٹی وی(نامہ نگارعبدالرحمن جٹ) بارایسوسی ایشن گوجرہ کے سالانہ انتخابات 2025-2026 اتحاد گروپ اور الائیڈ گروپ کے امیدواروں کے درمیان بار روم میں منعقد ہوئے۔ جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر اتحاد گروپ کے ملک محمد اکرم اور الائیڈ گروپ کے فرقان محمود وڑائچ کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں اتحاد گروپ کے ملک محمد اکرم نے 189 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ جوائنٹ سیکرٹری کی سیٹ پر اتحاد گروپ کے طارق محمود اور الائیڈ گروپ کے رانا عمیر کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں اتحاد گروپ کے طارق محمود نے 180 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

    فنانس سیکرٹری کی سیٹ پر اتحاد گروپ کے شہزاد سلطان اور الائیڈ گروپ کے یاسر چھینہ کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں الائیڈ گروپ کے یاسر عباس چھینہ نے 167 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ ایڈیٹر کی سیٹ پر الائیڈ گروپ کی رفعت ارشاد اور اتحاد گروپ کے ثاقب اقبال خان کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں الائیڈ گروپ کی رفعت ارشاد نے 170 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

    اتحاد گروپ کے صدر مرزا طارق حسین بلامقابلہ کامیاب ہو گئے، جبکہ نائب صدر کی سیٹ پر الائیڈ گروپ کی سیدہ بسمہ شاہ بلا مقابلہ کامیاب ہو گئیں۔ جیتنے والے امیدواروں نے بار روم کے باہر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور مٹھائی تقسیم کی۔

  • اوچ شریف: شدید سردی کی لہر نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

    اوچ شریف: شدید سردی کی لہر نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) گزشتہ روز سے جاری شدید سردی کی لہر نے شہریوں کے معمولات زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جس کی وجہ سے کھانسی، نزلہ، زکام اور بخار کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سرد ہواؤں نے دیہاڑی دار، ریڑھی بان اور ٹھیلے لگانے والوں کے کام کو ٹھپ کر دیا ہے، جبکہ گرم مشروبات، خشک میوہ جات اور سوپ کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے اور محکمہ صحت نے سردی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر جاری کی ہیں، خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے ایس او پیز کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہریوں نے سردی سے بچنے کے لیے گرم ملبوسات، ہیٹر اور مختلف قسم کے گرم مشروبات کا استعمال بڑھا دیا ہے، جس سے بازاروں میں گرم دودھ، چائے، سوپ اور خشک میوہ جات کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سردی سے بچنے کے لیے جسم کو گرم رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ موسمی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ محکمہ صحت نے شہریوں کو ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفلر اور دستانے پہننا، گرم مشروبات پینا اور سرد ہواؤں سے بچنا ضروری ہے تاکہ سیزنل بیماریوں سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: خستہ حال سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی پر اہل علاقہ کا شدید احتجاج

    اوچ شریف: خستہ حال سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی پر اہل علاقہ کا شدید احتجاج

    اوچ شریف َ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) محلہ بخاری مڈل سکول والی سڑک کی خستہ حالی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، سڑک کا ابتر حال بچوں اور راہگیروں کے لیے اذیت کا باعث بن رہا ہے۔ مریضوں کو ہسپتال تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ علاقہ مکین مقامی سیاست دانوں اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت پر شدید ناراض ہیں اور سڑک کی فوری تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ بخاری کے شہریوں نے پریس کلب اوچ شریف میں میڈیا ٹیم سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی علاقے کی اہم رابطہ سڑک کی خستہ حالی، سیوریج مسائل اور صفائی کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ رہائشیوں نے بتایا کہ سات سال سے ان کے مسائل نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے ٹال مٹول کی جا رہی ہے۔

    مقامی رہائشیوں مخدوم سید راحت حسین بخاری، محمد طارق بلوچ اور دیگر نے حکام سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ پریس کلب اوچ شریف کی میڈیا ٹیم نے یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا اور جلد ہی حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سیالکوٹ:صوبائی وزیرکا بہتر گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے نئے اقدامات کا اعلان

    سیالکوٹ:صوبائی وزیرکا بہتر گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے نئے اقدامات کا اعلان

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) صوبائی وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ پنجاب بلال یاسین نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے دن رات محنت کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر نیچے تک تمام افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی کے اشارئیے دیے گئے ہیں، جن کے تحت افسران کی روزانہ کی بنیاد پر اسکورنگ کی جاتی ہے اور یہ نظام ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

    بلال یاسین نے مزید کہا کہ گورننس ماڈل کو بہتر بنانے اور عوام تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے ہر ڈویژن میں صوبائی وزیروں کو ڈیوٹی اسائن کی گئی ہے۔ وہ ڈی سی آفس کمیٹی روم میں سیالکوٹ اور نارووال کی ضلعی انتظامیہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت دیگر مقامی حکام موجود تھے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور اراکین اسمبلی کو فیلڈ میں متحرک کرنے کا مقصد تعلیم، صحت، صفائی اور دیگر میونسپل سروسز میں نمایاں تبدیلی لانا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات عوام تک پہنچانے کی بنیادی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کی ہے، جس میں اراکین اسمبلی معاونت فراہم کریں گے۔

    وزیر بلال یاسین نے یہ بھی کہا کہ "اپنا گھر، اپنی چھت” اسکیم کے ذریعے غریبوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا رہا ہے، اور اضلاع کی داخلی و خارجی راستوں کو دلکش بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مانیٹرنگ کا مقصد سسٹم کی خامیوں کو درست کرنا اور عوامی نمائندے اور ریاستی مشینری مشترکہ حکمت عملی کے تحت شہریوں کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔

  • اوکاڑہ: فیصل آباد روڈ اور ستگھرہ موڑ پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن

    اوکاڑہ: فیصل آباد روڈ اور ستگھرہ موڑ پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگارملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد ابراہیم ارباب کی زیر نگرانی فیصل آباد روڈ اور ستگھرہ موڑ پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی اینٹی انکروچمنٹ ٹیموں کی قیادت ملک مدثر نزیر نے کی، جس میں بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے روڈ کے اطراف عارضی اور پختہ تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے کہا کہ تجاوزات شہر کی خوبصورتی پر بد نما داغ ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ کر کے عوام کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی شہر بھر میں تسلسل سے جاری رہے گی اور یہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

  • گوجرہ: پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، ملزمان فرار

    گوجرہ: پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، ملزمان فرار

    گوجرہ ،باغی ٹی وی(نامہ نگارعبد الرحمن جٹ) گوجرہ کی سٹی پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مونگی روڈ پر گشت کے دوران آمنا سامنا ہوا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی ٹیم ڈاکوؤں کا پیچھا کرتی ہوئی ان تک پہنچی، لیکن ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور مزید نفری طلب کی۔

    دھند اور تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکوؤں نے زیر استعمال موٹر سائیکل پھینک کر پیدل فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ پولیس نے موٹر سائیکل قبضے میں لے کر اس کی چھان بین کی، جس دوران معلوم ہوا کہ یہ موٹر سائیکل 22 نومبر کو چک نمبر 99 ج ب کے رہائشی عاطف منظور سے گن پوائنٹ پر چھینی گئی تھی۔

    پولیس نے ڈاکوؤں کی تلاش شروع کر دی ہے اور اس واردات کا مقدمہ تھانہ سٹی میں درج ہے۔

  • لنڈی کوتل:فاٹا انضمام نامنظور، آئینی حیثیت کی بحالی اور 25ویں ترمیم کی واپسی کا مطالبہ

    لنڈی کوتل:فاٹا انضمام نامنظور، آئینی حیثیت کی بحالی اور 25ویں ترمیم کی واپسی کا مطالبہ

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) خیبر پختونخوا میں فاٹا کے جبری انضمام کے خلاف مشران و کشران کا اہم اجلاس ابراہیم خیل شاکس جمرود خیبر ایجنسی میں ملک بسم اللہ خان کے حجرے میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف ایجنسیوں اور ایف آرز کے مشران و نمائندوں نے شرکت کی۔

    میزبان ملک بسم اللہ خان کوکی خیل کے علاوہ شمالی و جنوبی وزیرستان، مہمند، کرم ایجنسی، باجوڑ، اورکزئی، ایف آر کوہاٹ، ایف آر پشاور، اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مشران نے انضمام مخالف تحریک میں مزید تیزی لانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں باہمی اتحاد و اتفاق پر زور دیا گیا اور انضمام مخالف جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک 48 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

    کمیٹی میں ہر ایجنسی سے تین تین، ایف آرز سے ایک ایک، اور انضمام مخالف تحریکوں سے بھی تین تین اراکین شامل کیے گئے۔ یہ کمیٹی مستقبل کے لائحہ عمل کی منصوبہ بندی کرے گی۔ اس کمیٹی کا پہلا اجلاس 18 جنوری 2025 کو کارخانو پشاور میں حاجی رحیم منیا خیل کی میزبانی میں منعقد ہوگا۔

    اجلاس کے آخر میں مشران نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی کہ فاٹا انضمام مخالف کیس کی جلد سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی جائے اور فاٹا کے ڈیڑھ کروڑ عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    جرگہ نے اپنے بنیادی مطالبات اعلیٰ حکام اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے:

    فاٹا کا خیبر پختونخوا میں جبری انضمام نامنظور۔
    ماورائے آئین 25ویں آئینی ترمیم کو واپس لیا جائے۔
    فاٹا کی خصوصی آئینی حیثیت کو بحال کیا جائے۔
    اجلاس میں مشران نے ایک بار پھر قبائلی عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    لاہور(باغی ٹی وی رپورٹ)پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکرپرسن اور باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ کی تقریب 365 نیوز کھرا سچ کے دفتر میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر ٹیم کھرا سچ، باغی ٹی وی کے ارکان اور 365 نیوز کے ساتھیوں کی موجودگی میں مبشر لقمان نے کیک کاٹا۔ تقریب میں شریک تمام عملے نے انہیں مبارکباد دی اور ان کی صحت مند اور خوشحال زندگی کے لیے دعا کی۔

    تقریب میں متعدد نمایاں شخصیات نے شرکت کی جن میں محمد عثمان ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز 365 نیوز، نوید شیخ ایگزیکٹو پروڈیوسرکھراسچ، ارسا سہیل پروڈیوسر، عبدالرؤف پروڈیوسر، علی رضا ایسوسی ایٹ پروڈیوسر، اسد ملک ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز حیدر اعوان شامل تھے۔

    شرکاء نے مبشر لقمان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق گوئی اور جرات مندانہ انداز کو سراہا۔ یاد رہے کہ مبشر لقمان اپنی بے باک صحافت، جرات مندانہ تجزیوں اور سچائی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ دیانت داری اور اصولوں پر مبنی صحافت کے ذریعے پاکستانی میڈیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔

    مبشر لقمان باغی ٹی وی کے سی ای او اور کھرا سچ پروگرام کے میزبان ہیں۔ باغی ٹی وی اور کھراسچ کی ٹیم نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستانی صحافت کا ایک چمکتا ستارہ قرار دیا، جو عوام کو حقائق سے روشناس کرانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔

    تقریب کے دوران شرکاء نے مبشر لقمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی سالگرہ کو ایک یادگار موقع قرار دیا۔ ان کی جرات مند اور بے خوف صحافت پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک قابل تقلید مثال ہے، جس نے ہمیشہ عوام کے لیے سچائی کا راستہ روشن کیا ہے۔

  • اور مکالمہ یتیم ہو گیا

    اور مکالمہ یتیم ہو گیا

    اور مکالمہ یتیم ہو گیا
    تحریر:ریاض احمد احسان
    یتیمی کا دُکھ جھیلنے والے حرف،لفظ،خیال اور شاعری کے سفیر پیر نصیر الدین نصیر کے اس کلام سے خاص محبت کرتے ہیں-

    سنےکون قصہء دردِ دل میرا غمگسار چلا گیا
    جسے آشناؤں کا پاس تھا ،وہ وفا شعار چلا گیا،

    وہی بزم ہے وہی دھوم ہے ،وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
    ہے کمی تو بس میرے چاند کی ،جو تہہ مزار چلا گیا

    وہ سخن شناس وہ دور بیں، وہ گدا نواز وہ مہ جبیں
    وہ حسیں وہ بحر ِعلوم دیں، میرا تاجدار چلا گیا

    کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدرداں
    کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا

    جسے میں سناتا تھا دردِ دل وہ جو پوچھتا تھا غمِ دٙروں
    وہ گدا نواز بچھڑ گیا ،وہ عطا شعار چلا گیا

    بہیں کیوں نصیر نہ اشکِ غم ،رہے کیوں نہ لب پر میرے فغاں
    ہمیں بےقرار وہ چھوڑ کر سر راہ گزار چلا گیا

    وہ عہدِ نبوی ؐ کی کوئی روح تھی جسے جسم اِس مادیت پرست اور نفسانفسی کے دورِ قحط الرجال میں عطا ہوا بلاشبہ! وہ ایسی ہی بزرگ ہستی تھے جن کو قرآنِ حمید میں اللہ رب العزت نے اپنا دوست لکھوایا ہے۔ اس عہدِ کم نظر میں رسالت مآب ﷺ کا اسوۂ حسنہ کسی اُمتی کا زندگی کے سفر پر زاد راہ ہونا ریاضت نہیں عطا ہے کہ وہ جسے چاہے منتخب کر لے۔ ہمارے عہد کی یہی چلتی پھرتی حقیقی کرامتیں ہیں۔گفتگو ایسی کے توحید کی حدت سے سینوں میں آگ بھڑک اٹھے اور محمد عربی ﷺ کی محبت کا بحر بیکراں دل ودماغ کیلئے راحت کا سامان ہو۔ اُن کی تقریر طارق بن زیاد کی طرح گھروں کو دور اورجنت کو نزدیک کردیتی تھی اور اپنے موقف پر استدلال انہیں غزالی ء وقت بنا دیتا تھا۔ استاذ ایسے کہ علم و ابلاغ اُن کے ہاں پانی بھرتے دکھائی دیتے تھے اور سب سے بڑھ کر کردار وہ کہ دامن نچوڑتے توواقعی فرشتے بھی وضو کرتے ہوں۔اُن کی زندگی اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی شریعت کی مجسم تصویر تھی۔ ایک ایسا باکمال ولی کامل جس پر اللہ کی توحید اور ختم نبوتﷺ پر کبھی کسی مصلحت یا مصالحت کا گمان بھی نہ گزرا ہو۔گفتار کی گھن گرج ایسے کہ جُز وقتی سورماؤں کی اوقات ہی کیا، کل وقتی سُپر پاوروں کی غلام گردشوں میں بھی غلام مشعلیں لئے بھاگتے دکھائی دیتے تھے کہ اِن محلات پر کوئی قہر نازل ہونے والا ہے۔ عمر بھر کلیجہ ء کفار میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے۔دنیا بھر کےشیاطین اُن کے خلاف سازشیں کرتے رہے لیکن جو جان کے بدلے آخرت کا سودا کرچکے ہوں وہ بھلا نرغہ ء ابلیسں میں کب آتے ہیں؟ وہ پاکستان کی دفاعی اور نظریاتی سرحدوں کے زبانی دعویدار نہیں تھے بلکہ انہیں نے اس راہ میں آنے والی ہر صعوبت کو خندہ پیشانی سے عطیہ ء خداوندی سمجھ کر قبول و منظور کیا۔وہ ایٹمی پاکستان کو مزید طاقتور ور دیکھنے کے تمنائی تھے۔وہ خدمت نفس کی بجائے خدمت انسانیت پر یقین رکھنے والے تھے-جہاں بازوں کی دنیا میں اُن کا کردار جانبازوں کا سا تھا-اُن کا عظیم احسان دائرہ انانیت میں رہنے والے سخت مزاج لوگوں کو دائرہ انسانیت میں داخل ہونے کی مسلسل دعوت دینا تھا-

    میرے لیے اُنکی وفات کے غم سے نکلنا دشوار ہوتا جا رہا ہے- میری کیاحیثیت؟ کیا بساط بلکہ میری تو سوچی سمجھی رائے ہے کہ یہ ایام دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں سے تعزیت کے دن ہیں کہ اُن کے غم خوار کو لینے والے زمین و آسمان کے خالق کے حکم پر لینے آئے تھے اور لے گئے ۔ وہ لمحہ آن پہنچا تھا جس کے سامنے انکار کی جرات کسی کو کبھی نہیں ہوئی کہ یہی حقیقی خالقِ کائنات کا زمین پر چلتے پھرتے انسانوں کو آخری حکم ہوتا ہے اور جنہوں نے عمر ہی حصولِ رضائے الہی میں گزاری ہو وہ تو ایسی گھڑیوں کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایسا ہی استاذِ محترم پروفیسر ڈاکٹرعبد الرحمان مکی رحمہ اللہ کے ساتھ ہوا کہ انہوں نے دوستوں کو بتا دیا کہ ”لینے والے آن پہنچے ہیں۔“ آج مظلوم کشمیریوں سے ہی نہیں بلکہ کشمیر سے بھی تعزیت کا دن ہے کہ وہ بزرگ ہستی اپنے رب کے حضور پیش ہو گئی جس کا دل کشمیریوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتا تھا ٗجو غزہ کے مسلمانوں کے معاون و مددگار تھے ٗ وہ میانمارمیں بھارتی فوج کی پشت پناہی کے بعدبدھشوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کے نتیجہ میں ہونے والی ہجرت کے بعد بنگلہ دیش کے بارڈر پر ہزاروں بے گھر افراد کی کفالت کرنا قومی فریضہ سمجھتے تھے۔

    اُن کی جہادی آواز ٗبرستے بارود اور مسمار ہوتی عمارتوں میں بھی اللہ کے دشمنوں کو للکار کراپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند کر رہی ہوتی تھی۔ پروفیسر عبد الرحمان مکی ایک شخصیت نہیں ایک عہد اور سوچ کا نام ہے۔اُنہوں نے جہاد پر مصلحت کا شکار ہونے کے بجائے نئی نسل کو جہاد کی فضیلت ٗاہمیت ضرورت اور اللہ کے ہاں اُس کی مقبولیت کے روشن پہلو سے آشنا کروایا۔ وہ جہاد کو اقوام مخالف اور ظلم کاواحد علاج اورحل سمجھتے تھے اور اِس کیلئے اُن کی آواز پاکستان نہیں دنیا بھر میں سب سے طاقتور اورتوانا تھی۔ انہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت میں درویشانہ زندگی بسر کی اور اُن کی تدفین بادشاہوں کی طرح ہوئی کہ اُس رستے پر چلنے والوں کی دنیا اور آخرت جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہی ہوتا ہے۔ آج میں سوچ رہاہوں کہ کسی ایک شخص میں اتنی خوبیاں صرف اُس کی عطا ہی ہو سکتی ہیں-و ہ کبھی بنگلہ دیش نا منظورکی تحریک میں نطر آ رہے تھے تو کبھی مرزائیوں کے خلاف چلنے والی ختم نبوت کی تحریک میں پیش پیش تھے۔

    انہوں نے 1977ء میں چلنے والی نظام مصظفیٰ کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔وہ جہاں عالمی سامراج کو عمر بھر للکارتے رہے وہیں پاکستان کے جغرافیے سے جڑے دشمنوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ مجھے آج لکھنا ہو گا کہ ہمت ٗ محنت ٗجرات ٗ انتھک جدو جہد اور حوصلوں کو یکجا کردیا جائے تو میرے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہے جو جنابِ پروفیسرڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی صاحب کا ہے ۔ وطنِ عزیز پاکستان میں اسلامیت، انسانیت،پاکستانیت،ادبیت اور قائد و اقبالیت کے ساتھ ساتھ نظریہ پاکستان،دو قومی نظریہ،حرمت قرآن،حرمت رسول ﷺ ،سود سے پاک پاکستان،معاشی ترقی کرتا پاکستان،خود مختیار اور مستحکم پاکستان،ایٹمی پاکستان،مزائل ٹیکنالوجی اور فزکس کے میدان میں آگے بڑھتا پاکستان،امن دشمنوں کو شکست دیتا پاکستان،فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرتا اور مسلم امہ کی قیادت کرتا پاکستان انکے موضاعات ہوا کرتے-

    1857ء کے بعد تاجدار برطانیہ کے تھنک ٹینک سے شروع ہو نے والی جہاد کے خلاف کمپین جب ہمارے عہد میں داخل ہوئی تو اسے عبد الرحمان مکی جیسی بزرگ ہستی کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے نئی نسل کو از سر نو اُن کے اجداد کا بھولا ہوا جہادی درس یاد دلایا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اُسی جہاد کی بدولت کبھی بے رحم قابض بھارت چیخ رہا تھا تو کبھی مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث عالمی طاقتیں اور اُن کے گماشتے۔شریعیت محمدی ﷺ کا پرچم اٹھا کر چلنے والوں کو راستوں کی صعوبتوں کو خاطر میں لائے بغیر مسلسل آگے بڑھنا ہوتا ہے،دکھوں کے کوہ ہمالیہ اپنی ٹھوکر سے دونیم کرنے پڑتے ہیں۔ یہ سالاری کوئی جُز وقتی انقلاب کی امامت کیلئے نہیں ہوتی بلکہ اس قافلہ نے اُس عظیم پیغام کو قیامت کی صبح تک دشت و صحرا میں صفتِ جام لے کر پھرنا ہوتا ہے- دوستوں کا خیال ہے کہ وہ مکہ چھوڑ کر آئے تھے لیکن میرا یقینِ کامل ہے کہ وہ مکہ سے بھیجے گئے تھے اور ازاں بعد اُن کی دینی خدمات نے ثابت کیا وہ آئے نہیں بھجوائے گئے تھے۔

    پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمان مکی دوقومی نظریہ کے حمایتی نہیں بلکہ ان جید علماء میں سے تھے جنہوں نے اپنے وجود سے ثابت کیا کہ محمد ﷺ کے امتی کبھی مشرکوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔وہ اُسی علم حقیقی کے بحر بیکراں کے شناور تھے جو پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ آج میں سالارِ ملت سے تعزیت کرنا چاہتا ہوں کہ اُن کے دست راست ٗ یارانے دیرینہ ٗبرادرِ نسبتی اور اُن کی علمی و ادبی و جہادی اور شریعت محمدیﷺ کے نفاذ کے لیے انتھک جدوجہد کرنے والے عظیم قائد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    آج تجدید عہد کا دن ہے کہ ہم سب محسن شہ رگ پاکستان کے دست و بازو ہیں اور ہمارا رستہ عبد الرحمان مکی کا رستہ ہے جو اپنے عظیم موقف،تنظیم، قیادت اور سب سے بڑھ کر اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے وفا کا رستہ ہے۔ عمر میں وہ محسن شہ رگ پاکستان سے ساڑھے پانچ سال چھوٹے تھے لیکن ساری زندگی انہوں نے جس انداز سے محسن پاکستان کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہ ہم سب کے لیے لائق رشک اور قابل تقلید ہے- میں سمجھتا ہوں کہ آج ہم ہی نہیں حرف،لفظ،خیال،اظہار و بیان ،موقف،بیانیہ،مباحثہ اور مکالمہ بھی یتیم ہوگیا- اللہ اگلی منزلوں میں دنیا سے زیادہ سرخرو فرمائے۔آمین