Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرہ: فائرنگ سے جرمنی پلٹ شخص سمیت دو نوجوان شدید زخمی

    گوجرہ: فائرنگ سے جرمنی پلٹ شخص سمیت دو نوجوان شدید زخمی

    گوجرہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ) تھانہ سٹی گوجرہ کی حدود میں فائرنگ کے واقعے میں جرمنی پلٹ منظور احمد اور اس کا بھتیجا سہیل اختر شدید زخمی ہو گئے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق منظور احمد ولد اللہ رکھا اور اس کا بھتیجا سہیل اختر ولد مقبول احمد گوجرہ شہر سے اپنے گاؤں 300 ج ب موٹر سائیکل پر واپس جا رہے تھے۔ چک 297 ج ب لنک روڈ پر ایک نامعلوم ملزم نے، جو 125 موٹر سائیکل پر سوار تھا، ان پر 30 بور پستول سے فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں منظور احمد کی کمر اور پیٹ میں گولیاں لگیں جبکہ سہیل اختر کی کمر زخمی ہوئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال گوجرہ منتقل کیا گیا، جہاں منظور کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے الائیڈ اسپتال فیصل آباد ریفر کر دیا گیا۔

    منظور احمد حال ہی میں جرمنی سے چھٹی پر آیا تھا، اور آج اس کی واپسی کی فلائٹ تھی۔ ملزم موقع سے فرار ہو گیا، اور مقامی پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • میرپورخاص، سانگھڑ اور دیگر شہروں میں بارش، سردی کی شدت میں اضافہ

    میرپورخاص، سانگھڑ اور دیگر شہروں میں بارش، سردی کی شدت میں اضافہ

    میرپورخاص(باغی ٹی وی رپورٹ)میرپورخاص اور سانگھڑ سمیت سندھ کے بعض شہروں میں بارش سے سردی کی شدت بڑھ گئی۔

    جمعہ کی رات میرپورخاص اور سانگھڑ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بارش سے سردی میں اضافہ ہوگیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور، قصور، سیالکوٹ، ناروال،بہاولپور میں آج بارش کا امکان ہے۔پاکپتن،بہاولنگر،شیخوپورہ،ساہیوال اور اوکاڑہ میں بھی بارش متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اورخشک رہنے کی توقع ہے،غیر معمولی شدت یا تاریخی سردی کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

  • لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل

    لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل

    لنڈی کوتل،باغی ٹی وی (نامہ نگارمہد شاہ شینواری) ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں فلاحی کارکن ثواب نور شینواری پر پولیس تشدد کے معاملے پر ایس ایچ او عدنان آفریدی کو معطل کر دیا گیا۔

    ثواب نور شینواری کے مطابق انہوں نے مچنی چیک پوسٹ پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹرانسپورٹرز سے غیر قانونی رقم لینے کی ویڈیو فیس بک پر اپلوڈ کی تھی۔ ویڈیو کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر انہیں پک اپ میں ڈال کر تھانے لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

    پولیس کا دعویٰ تھا کہ ثواب نور کا ایک اہلکار سے جھگڑا ہوا تھا، تاہم واقعے نے مقامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ پاک افغان شاہراہ احتجاجاً بند کر دی گئی تھی۔

    آج ایس پی انویسٹیگیشن روح الامین کے ساتھ تحصیل کونسل کے چیئرمین شاہ خالد شینواری، حاجی ماصل شینواری اور دیگر مشران کے کامیاب مذاکرات کے بعد ایس ایچ او عدنان آفریدی کو 10 دن کے لیے معطل کر دیا گیا۔ اس دوران انکوائری کمیٹی معاملے کی شفاف تحقیقات کرے گی۔

    مذاکرات اور ایس ایچ او کی معطلی کے بعد پاک افغان شاہراہ کو دو روز بعد کھول دیا گیا، جس سے عوام کو ریلیف ملا۔

  • ننکانہ : ڈپٹی کمشنر کا شاہکوٹ ہسپتال کا دورہ، طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار

    ننکانہ : ڈپٹی کمشنر کا شاہکوٹ ہسپتال کا دورہ، طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر کا شاہکوٹ ہسپتال کا دورہ، طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار
    تفصیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاب محمد تسلیم اختر راؤ نے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال شاہکوٹ کا رات گئے اچانک دورہ کیا اور اسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور مریضوں سے سہولیات کے حوالے سے دریافت کیا۔ مریضوں نے اسپتال میں طبی سہولیات کی بہترین فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے سخت سردی کے باوجود ڈیوٹی سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اور عملے کی مکمل حاضری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی، معیاری سہولیات کی فراہمی اور عملے کی حاضری یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پنجاب عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔

  • گوجرہ: موٹر سائیکل حادثے میں باپ بیٹا جاں بحق

    گوجرہ: موٹر سائیکل حادثے میں باپ بیٹا جاں بحق

    گوجرہ،باغی ٹی وی (نامپ نگارعبدالرحمن جٹ) موٹر سائیکل حادثے میں باپ بیٹا جاں بحق

    تفصیل کے مطابق تھانہ صدر گوجرہ کے علاقے جھنگ روڈ پر ایک المناک ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار باپ بیٹا جان کی بازی ہار گئے۔

    الحبیب ٹاؤن جھنگ کے رہائشی محمد اشرف اور اس کا بیٹا فہیم اشرف موٹر سائیکل پر گوجرہ کی جانب آ رہے تھے کہ چک نمبر 430 ج ب کے قریب ان کی موٹر سائیکل ایک دوسری موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے بعد ان کی موٹر سائیکل ایک گزرتی ہوئی کار سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    ریسکیو 1122 نے نعشوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال گوجرہ منتقل کیا۔ تھانہ صدر پولیس نے لاشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیں اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • لنڈی کوتل: پولیس کی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو ملزمان گرفتار

    لنڈی کوتل: پولیس کی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو ملزمان گرفتار

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی) خیبر کی تحصیل جمرود میں پولیس نے غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا اور دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کی ہدایات پر علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ناکہ بندی کی گئی۔ ایس ایچ او جمرود شاہ خالد کی خفیہ اطلاع پر انچارج بھگیاری گلاب شیر اور دیگر پولیس نفری نے دورانِ چیکنگ مشتبہ موٹر سائیکل سواروں کی تلاشی لی۔

    تلاشی کے دوران 8 کلاشنکوف، ان کے میگزین، ایک پستول اور اس کا میگزین برآمد کیا گیا۔ ملزمان کی شناخت سید خان ساکن اکاخیل اور شاکر ساکن شاکش کے طور پر ہوئی ہے، جنہیں گرفتار کرکے حوالات منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور فروغ میں علماء دیوبند کا کردار

    ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور فروغ میں علماء دیوبند کا کردار

    ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور فروغ میں علماء دیوبند کا کردار
    تحریر: عبدالجبار سلہری

    ہندوستان کی تاریخ میں مختلف روحانی سلسلے اور صوفی تصوف کی متعدد شاخیں موجود ہیں، جنہوں نے نہ صرف مذہبی تشکیلات کو متاثر کیا بلکہ سماجی اور ثقافتی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان میں ایک اہم اور ممتاز سلسلہ چشتیہ سلسلہ ہے، جس نے ہندوستان کی روحانیت، تصوف، اور اسلامی تعلیمات میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ اگرچہ چشتیہ سلسلے کی ابتدا ابتدائی اسلامی ادوار میں ہوئی، لیکن اس کے فروغ اور ترقی میں علماء دیوبند کا کردار نہایت اہم اور منفرد رہا۔

    علماء دیوبند کی علمی، دینی، اور تصوف کی تعلیمات نے ہندوستان میں اسلامی فکری و ثقافتی میدان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ دیوبند کی تحریک نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی و دینی بنیادوں کو مستحکم کیا بلکہ چشتیہ سلسلے کے روحانی پیغام کو بھی فروغ دیا۔ یہ مضمون ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا کہ کس طرح چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور اس کے فروغ میں علماء دیوبند نے اہم کردار ادا کیا اور اس کے اثرات کا تذکرہ عالمی تاریخ کے تناظر میں کیا جائے گا۔
    چشتیہ سلسلہ تصوف کا ایک عظیم سلسلہ ہے، جس کی بنیاد حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے رکھی تھی۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ کا ہندوستان میں تشریف لانا اور ان کی تعلیمات کا پھیلاؤ ہندوستانی معاشرت میں ایک نئی روح پھونکنے کے مترادف تھا۔ چشتیہ سلسلے کا بنیادی مقصد اللہ کی محبت اور انسانیت کی خدمت تھا، جس میں تصوف کے اہم اصول، جیسے خود شناسی، تزکیہ نفس، اور اللہ کی رضا کی کوشش، پر زور دیا گیا۔

    "جس طرح خواجہ معین الدین چشتیؒ ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے مؤسس و بانی ہیں، فرید الدینؒ گنج شکر اس کے بعد اس سلسلے کے آدمِ ثانی ہیں۔ آپ ہی کے دو خلفاء، سلطان المشائخ حضرت نظام الدین دہلویؒ اور شیخ علاؤالدین علی صابر کلیریؒ کے ذریعے یہ سلسلہ ہندوستان میں پھیلا اور ان کے خلفاء و اہلِ سلسلہ کے ذریعے اب بھی زندہ و قائم ہے۔”

    علماء دیوبند کا تعلق ایک ایسی دینی تحریک سے ہے جو 1866ء میں دیوبند شہر میں قائم ہوئی۔ اس تحریک کا مقصد مسلمانوں میں اسلامی تعلیمات کی صحیح تفہیم کو فروغ دینا تھا۔ دیوبند کی تحریک نے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی روایات کے مطابق اسلامی تعلیمات اور عقائد کی طرف متوجہ کیا، جس میں تصوف کے بھی اہم پہلو شامل تھے۔ دیوبند کا فلسفہ دین کی صحیح تفہیم، شریعت کی پاسداری، اور اسلام کی اصولی تعلیمات پر مبنی تھا۔

    علماء دیوبند نے تصوف اور چشتیہ سلسلے کے اصولوں کو اپنے دینی اور علمی کاموں میں شامل کیا۔ اگرچہ دیوبند کی تحریک بنیادی طور پر علمی و دینی اصلاحات پر زور دیتی تھی، لیکن اس میں تصوف کے روحانی پہلو کو بھی اپنانے کی گنجائش تھی۔ دیوبند کے علماء نے نہ صرف اسلامی فقیہت اور حدیث پر مہارت حاصل کی بلکہ تصوف کے روحانی پہلو کو بھی اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا۔

    چشتیہ سلسلے اور دیوبند کی تحریک میں ایک غیر معمولی ہم آہنگی تھی جو بعد ازاں ان دونوں کے تعلقات میں گہرے اثرات کا سبب بنی۔ چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور اس کے پھیلاؤ میں علماء دیوبند کا کردار اس وقت واضح ہوتا ہے جب ہم ان دونوں کے مشترکہ اصولوں کو دیکھتے ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی تعلیمات میں انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا کی جستجو پر زور دیا گیا تھا، اور دیوبند کے علماء نے اس کا اصولی احاطہ کیا۔

    حضرت تھانویؒ نے اپنی تصنیفات اور خطبات میں چشتیہ سلسلے کے روحانی پیغام کی تائید کی اور اس کے فوائد کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق، چشتیہ سلسلے کی تعلیمات انسان کو اللہ کے قریب لاتی ہیں اور اس کی روحانیت کو بیدار کرتی ہیں۔

    حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بھی تصوف اور چشتیہ سلسلے کے اصولوں کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کی روحانی ترقی اور تزکیہ نفس کے لیے چشتیہ سلسلے کی تعلیمات کو اپنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، اللہ کی محبت اور انسانیت کی خدمت کے اصول کسی بھی معاشرتی یا دینی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

    ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی ابتدا اور اس کے فروغ میں علماء دیوبند کا کردار انتہائی اہم تھا۔ دیوبند کے علماء نے نہ صرف چشتیہ سلسلے کی تعلیمات کو اپنایا بلکہ ان کے پیغام کو مزید تقویت بخشی۔ انہوں نے چشتیہ سلسلے کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور اس کے روحانی فوائد کو عوام تک پہنچایا۔

    یہ بات واضح ہے کہ علماء دیوبند نے چشتیہ سلسلے کے پیغام کو اس انداز میں پیش کیا کہ وہ نہ صرف روحانی سکون کا ذریعہ بنے بلکہ ایک کامیاب معاشرتی ترقی کے لیے بھی راہ ہموار کی۔ ان دونوں کا اشتراک ایک مثالی نمونہ ہے، جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ روحانیت اور دنیاوی ترقی کے درمیان ہم آہنگی ممکن ہے، اور اس میں علماء دیوبند کا کردار ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فرحت عباس شاہ ایک ممتاز شاعر ہیں جن کی شخصیت اور خیالات ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ان کے طرزِ تکلم اور خیالات کے بارے میں مجھ سے گلہ کیا، جو وہ علی زریون اور تہذیب حافی کے حوالے سے رکھتے ہیں، لیکن میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ میرا اصول ہے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کروں۔ میں نے دوست سے صاف کہا کہ وہ بڑے شاعر ہیں، آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ آپ غلط کہہ رہے ہیں، کیونکہ میرے نزدیک بغیر ثبوت کے کسی کی رائے کو قبول کرنا مناسب نہیں۔

    تاہم، حالیہ دنوں میں فرحت عباس شاہ کے ایک انٹرویو نے میرے خیالات کو جھٹلا دیا۔ ان کے بیانات نے وہی کچھ ظاہر کیا جو میرے دوست نے کہا تھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اکثر تعصبات یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ اس واقعے نے مجھے سکھایا کہ کبھی کبھار دوسروں کی باتوں پر کان دھرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

    مشہور شاعر فرحت عباس شاہ کے اس انٹرویو میں، نوجوان اور مقبول شاعر تہذیب حافی کے حوالے سے تلخ اور غیر شائستہ گفتگو کی گئی۔ فرحت عباس شاہ جیسے بڑے نام سے ایسی باتوں کی توقع نہیں تھی، کیونکہ وہ خود ایک وسیع تجربے اور ادب کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے تہذیب حافی کو "بیوقوف” کہا اور ان کی شاعری کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بیان مجھ سمیت کئی ادبی دوستوں کے لیے حیرت اور دکھ کا باعث بنا۔

    ادب اور شاعری انسانی جذبات، خیالات، اور فطرت کے احساسات کو بیان کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ صرف الفاظ کی جنبش نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے جذبات کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی مختلف خیالات اور نظریات کے ٹکراؤ نے ادب کو وسعت دی ہے۔ مگر کبھی کبھار، ہم دیکھتے ہیں کہ تخلیقی دنیا میں شخصی تنقید اور ذاتی حملے ادبی اقدار کو مجروح کرتے ہیں۔

    ادب کے دائرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، مگر اس کی حدود کو پار کرنا، کسی کی تخلیقی صلاحیت کو کمتر ثابت کرنا، یا ذاتی حملے کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہے۔ ہر تخلیق کار اپنی طرز کا منفرد ہوتا ہے اور اس کا کام اس کی شخصیت، ماحول، اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ تہذیب حافی کی شاعری نے نئی نسل کے دلوں میں جگہ بنائی ہے، ان کے اشعار میں سادگی، جذبات، اور گہرائی نمایاں ہیں۔

    فرحت عباس شاہ کا بیان نہ صرف تہذیب حافی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی ایک تلخ تجربہ ثابت ہوا۔ ادب کے بڑے ناموں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ ان کی صلاحیتوں پر حملہ کریں۔ ادب کی دنیا میں بڑے نام وہی بنتے ہیں جو دوسروں کے لیے راستہ ہموار کریں، نہ کہ ان کی راہ میں کانٹے بچھائیں۔

    ادب میں وسعت اور برداشت ہونی چاہیے۔ ادب کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ مختلف خیالات اور نظریات کو جگہ دیتا ہے۔ ہر شاعر اور ادیب کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ اقبال کی فلسفیانہ شاعری، غالب کی گہرائی، اور فیض کی انقلابی شاعری سب اپنے اپنے دائرے میں مقبول ہیں۔ اسی طرح، تہذیب حافی نے بھی اپنے انداز میں اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شاعری صرف مشکل الفاظ اور پیچیدہ خیالات کا نام نہیں بلکہ سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کا فن بھی شاعری ہے۔ تہذیب حافی کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نئی نسل کے دلوں کی بات کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک ایسی گہرائی ہے جو نوجوانوں کی زندگی کے مسائل، محبت، اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

    عزت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر انسان کی عزت اور شہرت اللہ کی دین ہے۔ کوئی کسی کو عزت نہیں دے سکتا اور نہ چھین سکتا ہے۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کس کو کس مقام پر فائز کرتا ہے۔ فرحت عباس شاہ کی گفتگو نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ بڑا نام ہونا ضروری نہیں کہ آپ بڑا دل بھی رکھتے ہوں۔ تہذیب حافی جیسے شاعروں کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو دل پر نہ لیں اور اپنی تخلیقی دنیا میں مصروف رہیں۔

    ادب میں مثبت رویوں کی ضرورت ہے، اور خاص طور پر ایک بڑے شاعر کو اس طرح کی باتیں کر کے اپنا قد چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔ ادب کو ذاتی اختلافات اور انا کی قربانیوں سے پاک رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے ادیبوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف تخلیقی میدان میں آگے بڑھیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی احترام اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ فرحت عباس شاہ جیسے ادیبوں کو اپنی تنقید کے انداز پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ وہ ادب کی دنیا میں اپنی عظمت کو اسی وقت برقرار رکھ سکتے ہیں جب وہ دوسروں کو بھی عزت دینا سیکھیں گے۔

    ادب صرف خیالات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے اور ذہنوں کو وسعت دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں ان تلخ واقعات سے سیکھنا چاہیے اور ادب کے میدان میں مثبت رویوں کو فروغ دینا چاہیے۔ شخصی تنقید سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تخلیقی آزادی، برداشت، اور ادب کے احترام کی روایت کو زندہ رکھیں۔ یاد رکھیں، عزت اور شہرت صرف اللہ کی عطا ہے، اور اس کا صحیح استعمال ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ ادب کی دنیا میں اصل عظمت نہ الفاظ کی گہرائی میں ہوتی ہے اور نہ ہی شہرت کی بلندی میں، بلکہ رویوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

    مارکیٹ میں یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ فرحت عباس شاہ جیسے سینئر شاعر کا یہ کہنا کہ وہ علی زریون یا تہذیب حافی جیسے شاعروں کے ساتھ کسی پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے، ان کے دل کی "بڑائی” کو خوب واضح کرتا ہے۔ دوسری طرف، علی زریون کا یہ کہنا کہ اگر فرحت عباس شاہ میرے پروگرام میں ہوں تو وہ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگائیں گے، ایک حقیقی بڑے انسان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ رویوں کا فرق ہے جو بتاتا ہے کہ عزت کیسے کمائی جاتی ہے اور کیسے کھوئی جاتی ہے۔ ایک طرف انا، حسد، اور تکبر کا بوجھ ہے، تو دوسری طرف عاجزی، احترام، اور وقار کا مظاہرہ۔ فرحت عباس شاہ جیسے لوگوں کو شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بڑائی لفظوں کی نہیں، بلکہ کردار کی ہوتی ہے۔ علی زریون کا جواب ادب کے اُس اصل سبق کی یاد دہانی ہے جسے شاید کچھ "بڑے” شاعر بھول چکے ہیں۔ ہمیں ادب کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ عزت وہی پاتا ہے جو دوسروں کو عزت دینا جانتا ہے۔

    بلاشبہ، فرحت عباس شاہ شاعری میں بڑا نام رکھتے ہیں، لیکن جونیئر شاعروں کے بارے میں ان کا طرزِ تکلم اور خیالات اچھے نہیں۔

  • ٹھٹھہ: قومی شاہراہ پر حادثات، 6 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    ٹھٹھہ: قومی شاہراہ پر حادثات، 6 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگاربلاول سموں) قومی شاہراہ پر حادثات، 6 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    تفصیل کے مطابق دھابیجی کے قریب ٹھٹھہ-کراچی قومی شاہراہ پر دو کاروں کے خوفناک تصادم میں چار افراد جان بحق اور چار زخمی ہو گئے۔ حادثے میں معروف ٹھیکیدار کاکا شبیر میمن کی بہن، ان کے بیٹے شاہ زین ہنگورو، اور شاہ زین کی والدہ جاں بحق ہو گئیں۔ شاہ زین چند روز قبل شادی کے بعد اپنی دلہن کو لینے جا رہے تھے۔

    حادثے میں دیگر افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ایس ایچ او دھابیجی مبین پرہیاڑ نے حادثے کی وجہ شاہراہ کی مرمت کے دوران ٹریفک کی یک طرفہ بندش کو قرار دیا۔

    ٹھٹھہ شوگر مل کے قریب ایک اور حادثے میں کار اور ڈمپر کے تصادم سے بٹھورو کے رہائشی دو افراد زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں، دھابیجی کے قریب تیز رفتار کار کے موٹر سائیکل سے ٹکرانے پر دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔

    گزشتہ ہفتے میں شاہراہ پر حادثات کے نتیجے میں 9 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جو متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

  • ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا 2025 کو ‘خدمت کا سال’ قرار دینے کا اعلان

    ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا 2025 کو ‘خدمت کا سال’ قرار دینے کا اعلان

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا 2025 کو ‘خدمت کا سال’ قرار دینے کا اعلان

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ثاقب مجید نے کہا ہے کہ پاکستان کو قائد اعظم کے اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کے قریب لے جانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2025 کو "خدمت کا سال” قرار دیتے ہوئے ضلع بھر میں خدمت خلق کے نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں میں فری میڈیکل کیمپس، سستے تندور اور دستر خوان کا قیام شامل ہوگا تاکہ کم آمدنی والے افراد اور محنت کشوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

    ثاقب مجید نے کہا کہ حقیقی سیاست کا مقصد عوام کی بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب خدمت کرنا ہے اور ان منصوبوں کے ذریعے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا مقصد عوامی خدمت کے کاموں کو پھیلانا ہے تاکہ پاکستان کو قائد اعظم کے اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کے مطابق ایک مضبوط اور خوشحال ملک بنایا جا سکے۔