Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: کم از کم اجرت قانون پر عملدرآمد کے لیے خصوصی مہم کا آغاز

    سیالکوٹ: کم از کم اجرت قانون پر عملدرآمد کے لیے خصوصی مہم کا آغاز

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض) کم از کم اجرت قانون پر عملدرآمد کے لیے خصوصی مہم کا آغاز

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ محنت و انسانی وسائل پنجاب نے صنعتی و تجارتی اداروں، دکانوں، کارخانوں، بھٹہ خشت، پرائیویٹ ہسپتالوں اورسکولوں میں کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد کے لیے خصوصی مہم شروع کی ہے۔

    یکم جولائی 2024 سے مقرر کردہ کم از کم یومیہ اجرت 1423 روپے اور 26 دنوں کی مجموعی اجرت 37000 روپے یقینی بنانے کے لیے یہ مہم جاری ہے۔ اس کی نگرانی سیکرٹری محکمہ محنت نعیم غوث اور ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر سیدہ کلثوم حئی کر رہی ہیں، جبکہ گوجرانوالہ ایسٹ ڈویژن میں ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر محمد نوید سرور قریشی تمام اضلاع میں دورے کر کے اس مہم کو کامیاب بنانے میں سرگرم ہیں۔

    ضلع سیالکوٹ میں خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے خلاف قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جنہیں نوٹسز جاری کرنے کے ساتھ عدالتوں میں چالان بھجوائے جا رہے ہیں۔ اس دوران مالکان اور ٹریڈ باڈیز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے انہیں قانون پر عملدرآمد کے لیے آمادہ کیا جا رہا ہے۔

    ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر محمد نوید سرور قریشی نے ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر محمد طیب ورک کے ہمراہ صدر سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت اکرام الحق سے ملاقات کی۔ صدر نے یقین دلایا کہ چیمبر کے تمام ممبران کو قانون کے مطابق اجرت ادا کرنے کے لیے تحریری ہدایات جاری کی جائیں گی۔

    ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر اور ڈپٹی ڈائریکٹر نے صدر اکرام الحق کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا مقصد مزدوروں کے حقوق کی حفاظت اور اجرت کے قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

  • سیالکوٹ: اقلیتی خاندانوں کے لیے مالی امداد، کرسمس پر فول پروف سیکیورٹی کا اعلان

    سیالکوٹ: اقلیتی خاندانوں کے لیے مالی امداد، کرسمس پر فول پروف سیکیورٹی کا اعلان

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض) اقلیتی خاندانوں کے لیے مالی امداد، کرسمس پر فول پروف سیکیورٹی کا اعلان

    تفصیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے ہزار مستحق اقلیتی خاندانوں کے لیے سہ ماہی مالی امداد کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لیے رجسٹریشن 5 جنوری تک آن لائن پورٹل mcard.punjab.gov.pk پر جاری ہے۔

    مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی مذاہب کے شناختی کارڈ رکھنے والے خاندان اس پروگرام میں درخواست دے سکتے ہیں۔ مزید رہنمائی کے لیے 1040 ہیلپ لائن پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    یہ بات انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر انعم بابر اور مسیحی عمائدین کے ہمراہ کرسمس کیک کاٹنے کی تقریب میں کہی۔ اس موقع پر محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کے عہدیداران اور کمیونٹی کے دیگر نمایاں افراد موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کرسمس کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کرسمس کے موقع پر اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے گی۔ ضلع بھر کے چرچز اور کرسمس تقریبات کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی تاکہ مسیحی برادری اپنے تہوار کو پرامن اور محفوظ ماحول میں منائے۔

  • سیالکوٹ:ڈسکہ میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا گیا ہے، میاں ذیشان رفیق

    سیالکوٹ:ڈسکہ میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا گیا ہے، میاں ذیشان رفیق

    سیالکوٹ،ڈسکہ،باغی ٹی وی (بیورورپورٹ+نامہ نگار)ڈسکہ میں ترقیاتی منصوبے آخری مراحل میں داخل،عوامی مسائل کے حل کا وعدہ پورا کریں گے – میاں ذیشان رفیق

    تفصیل کے مطابق ڈسکہ میں ترقیاتی کاموں کے جال بچھانے کا دعویٰ کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ شہر کی سڑکوں، گلیوں، سیوریج اور اسٹریٹ لائٹس کے درجنوں منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔ ان منصوبوں کی بدولت ڈسکہ کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔

    یہ بات انہوں نے گلہ تیلیاں والا، محلہ راجپوتاں، محلہ موتی مسجد اور محلہ حق پورہ میں ٹف ٹائلز اور اسٹریٹ لائٹس کے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما محمد عظیم بٹ، ندیم بٹ اور دیگر معززین سمیت کثیر تعداد میں عوام موجود تھے۔

    میاں ذیشان رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست ہمیشہ خدمت اور ترقی کی ضمانت رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ستھرا پنجاب پروگرام اور ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن جیسے منصوبے صوبے کی ترقی کی جانب اہم اقدامات ہیں، جن کا دائرہ کار جلد ڈسکہ تک بھی بڑھایا جائے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ نکاسی آب کے لیے 77 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ڈرین منصوبہ بھی تکمیل کے قریب ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ترقیاتی کاموں کے معیار پر عوام کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے منصوبوں کی کوالٹی چیک کی جا سکتی ہے۔

    مزید برآں انہوں نے مہنگائی میں کمی اور ملکی معیشت میں بہتری کے دعوے کرتے ہوئے سابق حکومت پر کرپشن اور انتشار کے الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن عوام کے مسائل حل کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

    تقریب کے اختتام پر ملک کی خوشحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے دعائیں کی گئیں۔

  • ڈیرہ غازیخان: انٹرنیشنل انٹی کرپشن ڈے پر ریلی اور سیمینار

    ڈیرہ غازیخان: انٹرنیشنل انٹی کرپشن ڈے پر ریلی اور سیمینار

    ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر) انٹرنیشنل انٹی کرپشن ڈے پر ریلی اور سیمینار

    ڈیرہ غازیخان میں عالمی یوم انسداد رشوت ستانی کے موقع پر ضلعی انتظامیہ نے سیمینارز اور ریلیوں کا اہتمام کیا۔ کمانڈنٹ اسد چانڈیہ نے قیادت کی، جبکہ ڈویژنل اور ضلعی افسران، چیمبر آف کامرس کے عہدیدار، تاجر برادری، اساتذہ، طلباء، اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر آفس سے کچہری چوک تک نکالی جانے والی مرکزی ریلی کی قیادت پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اسد چانڈیہ نے کی۔ ریلی میں شریک افراد نے کرپشن کے خلاف مختلف نعرے درج پینا فلیکس اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسد چانڈیہ نے کہا کہ کرپشن ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام افراد کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ انصاف اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

    مقررین نے کرپشن کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ملک کی خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔

  • عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ

    عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ

    عمران خان،معیشت و استحکام کیلئے خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    عمران خان کے حالیہ اقدامات اور بیانات نے ایک بار پھر سیاسی ماحول کو پیچیدہ اور تنازعات سے بھرپور بنا دیا ہے۔ ان کی اعلان کردہ سول نافرمانی کی تحریک جو ماضی میں ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے، اس بات کی غماز ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف عوامی اعتماد کو متزلزل کر رہا ہے بلکہ ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    عمران خان کا بیرون ملک پاکستانیوں سے یہ اپیل کہ وہ ترسیلات زر کو محدود کریں ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ان ہی ترسیلات زر پر انحصار کرتا ہے جو بیرون ملک پاکستانی اپنے خاندانوں کے لیے بھیجتے ہیں۔ اگر یہ رقم کم ہو جائے تو معیشت مزید بحران میں پھنس سکتی ہے اور اس کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں پر پڑیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی فیملیز کی ضروریات کو نظرانداز کرکے کسی سیاسی نعرے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    عمران خان کی سیاست اکثر جذباتی نعروں اور جھوٹے وعدوں پر مبنی رہی ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیمیں جھوٹ اور مبالغہ آرائی کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے میں ماہر ہیں۔ جس کی حالیہ مثال پی ٹی آئی کے ایک حامی کا یہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے 278 کارکنوں کی ہلاکت دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام تھا جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایسے بیانات کا مقصد صرف اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا اور عوام کو ایک نئے فریب میں مبتلا کرنا ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے اور اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے؟ یا وہ مسلسل جھوٹے وعدوں اور غیر حقیقت پسندانہ نعروں کے پیچھے عوام کو گمراہ کرتی رہے گی؟ عمران خان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے غیر دانشمندانہ فیصلے اور ناکام حکمت عملی نہ صرف ان کی جماعت بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ماضی میں بھی ان کی سول نافرمانی کی تحریک ناکام ہوئی تھی اور اب بھی ایسی کسی کوشش کا نتیجہ مختلف نہیں ہوگا۔

    پاکستان کو اس وقت ایک مضبوط اور مستحکم قیادت کی ضرورت ہے، جو ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفادات کو ترجیح دے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ملک کو مزید انتشار اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے بجائے مثبت کردار ادا کریں۔بصورت دیگر ان کی سیاست کا نتیجہ ملک کے لیے مزید مشکلات اور بداعتمادی کی صورت میں نکلے گا۔

  • اوچ شریف: لنڈا بازار میں مہنگائی کا طوفان، غریبوں کی خریداری مشکل

    اوچ شریف: لنڈا بازار میں مہنگائی کا طوفان، غریبوں کی خریداری مشکل

    اوچ شریف,باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) لنڈا بازار میں مہنگائی کا طوفان، غریبوں کی خریداری مشکل

    تفصیل کے مطابق غریبوں کا سستا شاپنگ مال ’’لنڈا بازار‘‘ اب سفید پوش افراد کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ سردی کی شدت بڑھتے ہی، مہنگائی نے متوسط طبقے کے افراد کو سستے گرم کپڑوں سے بھی محروم کر دیا ہے۔ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی لنڈا بازار کے مالکان نے کپڑوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ اپنی سفید پوشی کو چھپانے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔

    گزشتہ روز لنڈا بازار میں خریداری کے لیے آنے والے شہریوں ذیشان، عاقب، غفار اور انور نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب موسم سرد ہوا تو انہوں نے لنڈا بازار کا رخ کیا مگر دکانداروں نے قیمتوں میں اچانک اضافہ کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال قیمتوں میں 50 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

    محمد دین، محمد رفیق، کاشف اور محمد صغیر نے کہا کہ انہوں نے سردی سے پہلے ہی کپڑے خریدنے کا ارادہ کیا تھا تاکہ خریداری سستی ہو، مگر مارکیٹ کی حقیقت مختلف نکلی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب نئے اور لنڈے کے کپڑوں کی قیمتوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔ اگر ہمارے پاس اتنے پیسے ہوتے تو ہم لنڈا بازار آ کر خریداری کرتے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ لنڈے کے کپڑوں پر ٹیکس ختم کیا جائے۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ لنڈا بازار میں سویٹر کی قیمت 1300 سے 2000 روپے، جیکٹ کی قیمت 2500 سے 3500 روپے اور جوتے 1000 سے 3000 روپے تک پہنچ چکے ہیں جو ان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پہلے یہاں غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ خریداری کے لیے آتے تھے مگر اب امیر افراد کی بڑی تعداد بھی یہاں آ رہی ہے۔

    دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی وجہ سے انہیں لنڈے کے کپڑے مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ جتنا مال خریدیں، وہ بک جائے مگر قیمتیں سن کر گاہک چلے جاتے ہیں۔ دکانداروں نے حکومت سے درخواست کی کہ ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ قیمتیں کم ہو سکیں اور غریب افراد بھی مناسب قیمتوں پر خریداری کر سکیں۔

  • سکھر: کچہ میں ڈی آئی جی کا دورہ، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا حکم

    سکھر: کچہ میں ڈی آئی جی کا دورہ، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا حکم

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری)سکھر کے کچہ میں ڈی آئی جی کا دورہ، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا حکم

    تفصیلات کے مطابق سکھر ڈی آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ چاچڑ نے ایس ایس پی گھوٹکی سمیع اللہ سومرو کے ہمراہ سب ڈویژن رونتی کے کچہ ایریا کا دورہ کیا اور پولیس افسران و جوانوں کے ساتھ وقت گزارا۔ ایس ایس پی گھوٹکی نے کچہ ایریا میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر اے ایس پی میرپور ماتھیلو، ڈی ایس پی رونتی، ڈی ایس پی اباڑو، ڈی ایس پی کچو بنڈی، ایس ایچ او تھانہ شہید دین محمد لغاری اور کچہ ایریا میں اگلے مورچوں پر تعینات افسران و جوان بھی موجود تھے۔

    ڈی آئی جی اور ایس ایس پی نے تھانہ شہید دین محمد لغاری کے کچہ ایریا کی مختلف پولیس پیکٹس کا دورہ کیا، جن میں پولیس پکٹ بھیا 02، پولیس پکٹ بھیا 04، اور پولیس پکٹ فون لانڈھی شامل ہیں۔ انہوں نے پیکٹس کا معائنہ کرتے ہوئے تعینات افسران کو ہدایت دی کہ وہ دلیری اور حوصلے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور عوام کو ڈاکوؤں سے تحفظ فراہم کریں۔

    پولیس افسران کو ہدایت دی گئی کہ کچہ ایریا کی طرف آمدورفت کے تمام راستوں پر سخت نگرانی کرتے ہوئے سنیپ چیکنگ کی جائے اور مشکوک گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور افراد کو تلاش کیا جائے۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے مسائل کے فوری حل اور درکار وسائل کی فراہمی کے لیے احکامات جاری کیے گئے۔ پیکٹس کی مضبوطی اور مرمت کے لیے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے پولیس شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن قربانی دی جائے گی، اور علاقے میں بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

  • کوٹ چھٹہ:چوٹی زیریں میں منشیات فروش اور ناجائز اسلحہ رکھنے والے 3 ملزمان گرفتار

    کوٹ چھٹہ:چوٹی زیریں میں منشیات فروش اور ناجائز اسلحہ رکھنے والے 3 ملزمان گرفتار

    کوٹ چھٹہ،باغی ٹی وی (تحصیل رپورٹرمریدٹالپور)چوٹی زیریں میں منشیات فروش اور ناجائز اسلحہ رکھنے والے 3 ملزمان گرفتار

    چوٹی زیریں پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ دوران گشت مخبر کی اطلاع پر ایس ایچ او ملک حمید اللہ کھلنگ نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایک ملزم کو 110 لیٹر شراب سمیت گرفتار کیا گیا جبکہ دو افراد کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر حراست میں لیا گیا۔

    ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او ملک حمید اللہ کھلنگ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

    علاقے کے مکینوں نے پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں امن و امان کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جرائم کے خاتمے کے لیے تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر فراہم کریں۔

  • ڈیرہ غازی خان: تیزہوا سےسردی کی شدت میں اضافہ، غریب عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

    ڈیرہ غازی خان: تیزہوا سےسردی کی شدت میں اضافہ، غریب عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) اتوار کے روز چلنے والی تیز اور سرد ہوا کی وجہ سے سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ دن بھر سرد اور تیز ہوا کے ساتھ گرد و غبار نے شہر میں ماحول کو مزید سرد اور خشک کر دیا۔ اس اچانک تبدیلی نے خاص طور پر غریب عوام اور دیہاڑی دار مزدوروں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے جو سردی کے اس موسم میں گرم کپڑے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

    لنڈے بازار میں گرم کپڑوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے۔ جو غریب عوام پہلے ان کپڑوں کو مناسب قیمت پر خرید سکتے تھے، اب وہ بھی بلند قیمتوں کی وجہ سے انہیں خریدنے سے قاصر ہیں۔ لنڈا بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار اور کرایوں میں اضافہ کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت لنڈے کے سامان اور کپڑوں پر ٹیکس ختم کرے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور غریب عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہو۔

    اس کے علاوہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی صحت کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں اور بیماریوں کا پھیلاؤ شروع ہوگیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور غریب عوام کے لئے سستی اور معیاری گرم پوشاک فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے تاکہ وہ اس شدید سرد موسم میں اپنی صحت اور حفاظت کا خیال رکھ سکیں۔

    یہ صورتحال غریب طبقے کے لیے سنگین ہے جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کی زندگی کے لیے سرد موسم میں کام کرنا اور اضافی اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ہمدردانہ غور کرے جس سے غریب اور دیہاڑی دار طبقے کی مشکلات میں کمی واقع ہوسکے.

  • عائلی مشاورت

    عائلی مشاورت

    عائلی مشاورت
    تحریر:فرحانہ مختار
    بسا اوقات عائلی زندگی کی ہموار راہ گزر پہ کبھی کبھی بحث و تکرار یا اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا جاتا ہے۔ ازواج کے مابین ایسے معاملات کبھی کبھار پیش آتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں۔ احسن طریقہ تو یہ ہے کہ آپس میں معاملہ فہمی اور سمجھداری سے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

    مگرکیا کیجئےکہ شیطان کو سب سے زیادہ کوفت میاں بیوی کے مقدس رشتے میں قائم اُنسیت اور عزت و تکریم سے ہوتی ہے۔ اس لئے وہ وار کرتا رہتا ہے اور اسی لئے بسا اوقات ازواج کی آپس میں گفتگو معاملات کو مزید الجھا دیتی ہے۔ ایسے میں دونوں فریقین مسائل کے حل کے لیے اپنے علاوہ کسی غیر جانب دار شخص سے معاملات کو سلجھانے کے لئے کبھی کبھار مشاورت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ مشاورت دین میں پسندیدہ عمل ہے لیکن اس کے لئے شخص انتہائی سمجھداری سے منتخب کریں۔

    سورت النساء کے مطابق دونوں فریقین کے خاندان سے ایک ایک شخص صلح کے لئے منتخب کیا جائے۔ اگر اس سے بھی اختلافات دور نہ ہوں یا دونوں فریقین کے والدین یا بہن بھائیوں کے لئے غیر جانبدار ہونا قدرے مشکل ہو تو کوئی دیندار، سمجھدار اور معاملہ فہم رشتہ دار مشاورت یا صلح کے لئے منتخب کرنا بہتر ہے۔

    کہیں پڑھا تھا کہ لوگ رحمانی بھی ہو سکتے ہیں اور شیطانی بھی۔ اللہ کے نیک بندے دوسروں کو مثبت سوچ کے ساتھ بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کا مقصد معاملات کو سلجھانا اور فریقین کا گھر بچانا ہوتا ہے۔

    دوسری جانب کچھ منافقین صفت، منفی سوچ کے حامل افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ منفی بات کریں گے اور معاملات سلجھانے کی بجائے اُلجھا دیں گے۔ بعض اوقات رشتہ دار اور عزیز و اقارب میں سے جس شخص سے مشاورت کی جائے وہ بظاہر تو معاملہ فہم اور سمجھدار معلوم ہو لیکن غالب گماں ہے کہ اس کا مشورہ کسی بھی قسم کےبُغض، حسد یا منافقت پرمبنی ہو۔ وہ بظاہر معاملہ سلجھانے کی اداکاری کرے گا لیکن اس کا اصل مقصد معاملہ کو بگاڑنا ہو سکتا ہے۔ ایسے شخص سے احتیاط ضروری ہے۔

    میاں بیوی کا رشتہ انتہائی اہم ہے جن کے ذمے مسلمان نسل کی قرآن و سنت کے مطابق پرورش کرنا ہے۔ اس اہم تعلق میں اگر کبھی آپس کے معاملات بگڑ جائیں تو مشاورت کے لئے ہر دوست، عزیز، محلے دار یا رشتہ دار سے مشاورت نامناسب عمل ہے۔
    عائلی مشاورت کے لئے بہترین اشخاص علماء دین اور مفتیانِ کرام ہیں جو کسی بھی معاملے کا دین اور شریعت کے مطابق حل فراہم کریں گے۔ ان کا اولین مقصد شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے فریقین کی اصلاح اور صلح و صفائی ہو گا۔

    آخری بات!اللہ تعالی نے آپ دونوں کو اس مقدس رشتے میں باندھا ہے۔ ایک دوسرے کی شخصیت کو تمام اچھائیوں اور برائیوں سمیت قبول کرنا ہی عقلمندی ہے۔ معاملات کو آپس میں افہام و تفہیم سے حل کرنا بہتر ہے کیونکہ معاملات اگر بگڑ جائیں تو بات کمرے سے نکل کر گھر، گھر سے نکل کر زبان زدِ عام ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مزید تنازعات جنم لیتے ہیں اور فریقین کا صلح کرنا دشوار ہوتا چلا جاتا ہے۔

    انا کو پسِ پشت ڈال کر ایک دوسرے کو صبر وتحمل سے سننے کی عادت ڈالیں تو بہت سے معاملات میں بگاڑ پیدا ہی نہ ہو گا۔