Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت 189 کاشتکاروں میں ٹریکٹرز تقسیم

    سیالکوٹ: گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت 189 کاشتکاروں میں ٹریکٹرز تقسیم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض) وزیر اعلیٰ پنجاب کی گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت ضلع سیالکوٹ کے 189 کاشتکاروں کو 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی پر ٹریکٹرز فراہم کیے گئے۔

    رکن صوبائی اسمبلی چودھری فیصل اکرام اور ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کاشتکاروں کو ٹریکٹرز کی حوالگی کی تقریب میں شرکت کی اور مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت توسیع گوجرانوالہ شکیل احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر رانا قربان علی خان اور ٹریکٹر حاصل کرنے والے خوش نصیب کاشتکار بھی موجود تھے۔

    چودھری فیصل اکرام نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے 300 ارب روپے کے کسان دوست پروگرام کے ذریعے زرعی انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو کسان کارڈ، جدید آلات، سولر ٹیوب ویلز اور دیگر سہولیات سبسڈی پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع سیالکوٹ میں 16,410 درخواستیں موصول ہوئیں، جن کی قرعہ اندازی لاہور میں کی گئی۔ کامیاب امیدواروں کو آج سے ٹریکٹرز کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔

  • واہ کینٹ کتاب میلہ، اٹک کے ادیبوں کی نمایاں شرکت

    واہ کینٹ کتاب میلہ، اٹک کے ادیبوں کی نمایاں شرکت

    اٹک (باغی ٹی وی رپورٹ)واہ کینٹ کتاب میلہ، اٹک کے ادیبوں کی نمایاں شرکت

    تفصیل کے مطابق واہ کینٹ کے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے دو روزہ کتاب میلہ میں اٹک کے معروف ادیبوں اور شاعروں نے خصوصی شرکت کی۔ وفد میں سید مونس رضا، پروفیسر سید نصرت بخاری، طاہر اسیر، ڈاکٹر شجاع اختر اعوان، راجہ زاہد حسین اور محمد طاہر شامل تھے۔

    کتاب میلہ میں این بی ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر مراد علی مہمند اور راجہ نور محمد نظامی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ شعراء اور لکھاریوں نے اس موقع پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں کتاب بینی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

    وفد نے بک اسٹالز کا تفصیلی دورہ کیا اور منتخب کتب کی خریداری بھی کی، جبکہ راجہ نور محمد نظامی کے اسٹال پر قدیم مخطوطات اور نادر مطبوعات میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔

    اٹک کے ادیبوں نے کتاب میلہ کے شاندار انعقاد پر منتظمین کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات علم و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ

    کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ

    کزن میرج، موروثی بیماریاں، اسلام کی روشنی میں جائزہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    برطانیہ میں فرسٹ کزنز کی شادی پر پابندی کا مجوزہ بل آج دارالعوام میں پیش کیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ میں فرسٹ کزنز کے درمیان شادی پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس بل کا مقصد ان شادیوں سے جینیاتی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنا ہے، کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق کزن میرجز میں جینیاتی خرابی، جینومک ڈس آرڈر اور جینیاتی میوٹیشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان بیماریوں کی وجہ سے تھیلیسیمیا، مرگی، گونگا پن اور بہرہ پن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی کزن میرجز کا رجحان بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں کزن میرجز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے جینیاتی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی شادیوں میں جینیاتی ہم آہنگی زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث بیماریوں کے منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اسلام میں کزن میرج کو جائز سمجھا گیا ہے بشرطیکہ دونوں افراد کی رضا مندی ہو اور شریعت کے دیگر اصولوں کی پیروی کی جائے۔ تاہم اسلام میں صحت کے حوالے سے بھی اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ "تم میں سے کسی بھی شخص کو بیماری کے بارے میں کسی دوسرے شخص کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی” (بخاری)۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی خاندان میں جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہو تو ایسی شادیوں سے بچنا ضروری ہو سکتا ہے تاکہ بیماریوں کا پھیلاؤ نہ ہو۔

    اسلام میں صحت کو بڑی نعمت سمجھا گیا ہے اور اس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کسی شادی میں جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہو تو ایسی شادیوں سے بچنا بہتر ہو سکتا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کی صحت پر منفی اثرات نہ ہوں۔ شریعت میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو اپنے جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور اگر کسی شادی کے نتیجے میں بیماریوں کا خطرہ ہو تو اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔

    پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں جہاں کزن میرجز ایک عام بات ہے،ہم مسلمان ہیں اور ہماری زندگی کے تمام معاملات میں ہمیں کتاب و سنت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مغربی معاشرتی نظریات کو بغیر سوچے سمجھے اپنالیں اور ان کی مخالفت بھی اس طرح کریں جیسے وہ کسی نہ کسی بات کے خلاف ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مغربی ممالک میں کزن میرج پر قانونی پابندی ہے اور ان کے مطابق اس سے بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ تاہم ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتیں اور جو چیزیں حرام کی گئی ہیں وہ ہمارے لیے ہر حال میں نقصان دہ ہوتی ہیں۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اے نبی! ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کئے ہیں اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں ہیں اور تمہاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ (الاحزاب: ۵۰)

    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کزن میرج کی زد میں جتنے بھی رشتے آتے ہیں ان کا ذکر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ اگر ان شادیوں میں طبی طور پر کوئی خرابی ہوتی تو اللہ اپنے نبی ﷺ کو اس سے منع کر دیتے اور امت پر بھی پابندی عائد کر دیتے۔ لیکن اسلام نے ان رشتہ داریوں کو حلال قرار دیا ہے اور جن میں اخلاقی یا روحانی مسائل ہیں ان پر پابندی عائد کی ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام قرار دیا ہے۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: "اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع نہ کرو” (النساء: 23)

    اسی طرح بیوی اور اس کی پھوپھی یا پھر بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے۔ اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم عورت اور اس کی پھوپھو کے مابین جمع نہ کرو اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرو” (متفق علیہ)

    کزن میرج کی وجہ سے جو خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں ان کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض موروثی امراض والدین سے اولاد میں منتقل ہو جائیں لیکن یہ ضروری نہیں۔ اگر ایک نسل کسی مرض میں مبتلا رہی ہے تو اسی خاندان کی کئی نسلیں اس مرض سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

  • سپریم کورٹ نے سویلینز کو عام جیلوں میں منتقل کرنےکی استدعا مسترد کردی

    سپریم کورٹ نے سویلینز کو عام جیلوں میں منتقل کرنےکی استدعا مسترد کردی

    اسلام آباد(باغی ٹی وی رپورٹ) سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے مقدمے میں زیر حراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

    سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ زیر حراست افراد کو جیلوں میں ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ ملاقات کے حوالے سے اٹارنی جنرل پہلے ہی یقین دہانی کروا چکے ہیں۔ تاہم عدالت نے زیر حراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کی طبیعت ناساز ہے اور وہ معدے کی تکلیف کے باعث پیش نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

    یہ مقدمہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے آئینی اور قانونی پہلوؤں پر اہمیت رکھتا ہے اور آئندہ سماعت میں اس سے متعلق مزید وضاحت متوقع ہے۔

  • قلعہ عبداللہ: موٹر سائیکل دھماکہ، 2 دہشتگرد ہلاک

    قلعہ عبداللہ: موٹر سائیکل دھماکہ، 2 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ(باغی ٹی وی رپورٹ)قلعہ عبداللہ میں قومی شاہراہ پر ایک چلتی ہوئی موٹر سائیکل میں زور دار دھماکے سے دو مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک مصروف سڑک پر اس وقت پیش آیا جب مبینہ دہشتگرد موٹر سائیکل پر ممکنہ ہدف کی جانب جا رہے تھے۔

    ڈی پی او کے مطابق دھماکہ راستے میں ہی ہوگیا، جس کے نتیجے میں دونوں مشتبہ افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشتگرد اپنے ہدف کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق دھماکے کے مقام سے ایک پستول برآمد ہوا ہے جو ان کے ممکنہ ارادوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ علاقے کو فوری طور پر سیل کرکے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ دھماکے کی نوعیت اور دیگر ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

    پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ہلاک ہونے والے مشتبہ افراد کی شناخت اور ان کے ممکنہ نیٹ ورک کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی ادارے علاقے میں سرچ آپریشنز کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی مزید خطرے کو روکا جا سکے۔

  • عوام ہوجائیں تیار، سردی کی شدت میں اضافہ اور بارشوں میں کمی کا خدشہ

    عوام ہوجائیں تیار، سردی کی شدت میں اضافہ اور بارشوں میں کمی کا خدشہ

    ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹرجواداکبر)ملک بھر میں سرد موسم کا راج ہے اور آنے والے دنوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج منگل کو ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا جبکہ پہاڑی علاقوں میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔

    اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور بالائی پنجاب کے میدانی علاقوں میں صبح کے اوقات میں کُہرا پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جبکہ جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں بعض مقامات پر صبح اور رات کے اوقات میں ہلکی دُھند چھائے رہنے کی توقع ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے رواں موسم سرما میں معمول سے کم بارشیں ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں رواں موسم سرما کے دوران مجموعی طور پر معمول سے کم بارشیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماہ دسمبر کے دوران خشک سردی رہے گی اور صوبے میں رواں ماہ بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ جنوری کے اوائل میں بارش کا سسٹم بنے گا جس سے صوبے کے شمالی علاقوں میں بارش اور برف ہوسکتی ہے تاہم جنوری میں بھی معمول سے کم بارشوں ہوں گی۔

    محکمہ موسمیات نے شہریوں کو سرد موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • ڈی جی سیمنٹ، کروڑوں کی آمدنی، سڑک خستہ حالی کا شکار

    ڈی جی سیمنٹ، کروڑوں کی آمدنی، سڑک خستہ حالی کا شکار

    کوٹ مبارک،باغی ٹی وی (نامہ نگارامداد اللہ تھہیم)کوہِ سلیمان سے روزانہ کروڑوں کمانے والی ڈی جی سیمنٹ فیکٹری اپنی سڑک کی پختہ بحالی میں ناکام رہی ہے۔ 25 کلومیٹر طویل سڑک جو ڈی جی سیمنٹ فیکٹری سے انڈس ہائی وے تک جاتی ہے، شدید خستہ حالی کا شکار ہے اور گزشتہ 23 سالوں سے مرمت اور بحالی کی منتظر ہے۔ سڑک کی خستہ حالت کی وجہ سے گہرے گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ روزمرہ حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔

    فیکٹری سے لے کر کوٹ مبارک تک سڑک کے مختلف حصوں پر مرمت کی بجائے صرف ریت اور بجری ڈال کر مسئلہ عارضی طور پر حل کیا گیا، جبکہ ریلوے سٹیشن سے انڈس ہائی وے تک کام روک دیا گیا۔ روزانہ ہزاروں ٹن مال کی نقل و حمل کے باوجود سڑک پر آنے والی گاڑیاں اور فیکٹری کی مشینری مسلسل گرد و غبار اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے مقامی شہریوں کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    ڈی جی سیمنٹ فیکٹری سے حاصل ہونے والی بھاری آمدنی کے باوجود نہ سڑک کی پختہ تعمیر کی گئی ہے نہ ہی مقامی آبادی کو صحت، تعلیم یا صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ علاقے میں فضائی آلودگی، زہریلے دھوئیں، اور غیرمعیاری فضلے کو جلانے کی وجہ سے سانس اور کینسر جیسی موذی امراض کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی جی سیمنٹ فیکٹری فوری طور پر سڑک کی مکمل بحالی کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ بصورت دیگر فیکٹری انتظامیہ کے خلاف احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔

  • ڈی جی کینال کی صفائی میں غفلت ، زراعت اور نہر کا وجود خطرے میں پڑگیا

    ڈی جی کینال کی صفائی میں غفلت ، زراعت اور نہر کا وجود خطرے میں پڑگیا

    کوٹ مبارک،باغی ٹی وی(نامہ نگار امداداللہ تھہیم)ڈی جی کینال جو جنوبی پنجاب کی ایک بڑی نہر ہے اور لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرتی ہے، کئی سالوں سے مکمل بھل صفائی سے محروم ہے، جس کی وجہ سے یہ نہر جنگلات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نہر کی چوڑائی اور گہرائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے پانی کے بہاؤ کی گنجائش کم ہو چکی ہے اور نہر مختلف مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

    ڈی جی کینال کے کناروں پر بارشوں کی وجہ سے مغربی پٹڑی سے مٹی اور ریت مسلسل نہر میں گرتی رہتی ہے، جس سے نہر کے بہاؤ کا رخ تبدیل ہو کر مشرقی پٹڑی اور سڑکوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے کئی جگہوں پر عارضی مرمت کرتے ہوئے پتھر ڈال کر کٹاؤ کو روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں، اور نہر کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

    یہ نہر جو اصل میں دس ہزار کیوسک پانی کے بہاؤ کے لیے بنائی گئی تھی، اب بمشکل چھ ہزار کیوسک پانی فراہم کر پا رہی ہے۔ صفائی کی عدم موجودگی اور گہرائی و چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے اضافی پانی کے بہاؤ پر نہر اکثر ٹوٹ جاتی ہے۔ کسانوں کو پانی کی کمی کی وجہ سے اپنی فصلوں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر ضلع راجن پور کے کسان ہر سال پانی کی ناکافی فراہمی پر احتجاج کرتے ہیں۔

    محکمہ آبپاشی نے بارہا سروے کیے، لیکن ان کی کارروائیاں صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود رہیں۔ مرمت کے نام پر معمولی خانہ پری کی جاتی ہے، اور بھل صفائی کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً، نہر کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے، اور اس کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    کسانوں کا مطالبہ ہے کہ نہر کی مکمل بھل صفائی کی جائے تاکہ پانی کی مکمل فراہمی ممکن ہو سکے اور زرعی زمین کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جنوبی پنجاب کے لاکھوں کسانوں کی معیشت مزید متاثر ہو سکتی ہے، اور یہ نہر اپنے وجود کو مکمل طور پر کھو سکتی ہے۔

  • جمرود: سرکاری سکول ٹیچر کے قتل پر احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند

    جمرود: سرکاری سکول ٹیچر کے قتل پر احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند

    جمرود (باغی ٹی وی رپورٹ)جمرود میں مقتول سرکاری سکول ٹیچر روح الامین کو انصاف دلانے کے لیے شاہ کس لیوی سنٹر اور ڈی پی او خیبر کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سیاسی و غیر سیاسی افراد، اساتذہ، اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مقتول کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کے مطالبات کیے۔

    مقتول ٹیچر روح الامین، جو کوکی خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، کو چند دن قبل تحصیل باڑہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ مظاہرین نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی عدم فعالیت پر شدید تنقید کی، اور سوال اٹھایا کہ عوام کی حفاظت کون کرے گا، اگر پولیس اور سیکیورٹی اہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے۔

    ڈی پی او خیبر نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد ان کے مطالبات تسلیم کیے، جن میں 20 دن کے اندر قاتلوں کی گرفتاری، مقتول کے لواحقین کو شہداء پیکج کی فراہمی، ایک سرکاری نوکری، اور ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنا شامل ہیں۔ مظاہرین نے ان مطالبات کی منظوری کو زبانی قرار دیتے ہوئے عملی اقدامات پر زور دیا۔

    جمرود سیاسی اتحاد کے صدر ملک واحد شاہ نے مظاہرے میں جمرود کے مشران اور دیگر جماعتوں کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے مقتول کے خاندان کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ مظاہرین نے انصاف کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

  • گوجرانوالہ: ڈی سی نوید احمد کا شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے گرینڈ آپریشن

    گوجرانوالہ: ڈی سی نوید احمد کا شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے گرینڈ آپریشن

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد نے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن حیدر علی چٹھہ، سی ٹی او عائشہ بٹ، اور اے سی سٹی اقرا مبین گوندل کے ہمراہ حیدری انڈر پاس، جی ٹی روڈ شیرانوالہ باغ، سیالکوٹی انڈر پاس، اور ریل بازار کا دورہ کیا۔

    ڈی سی نے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کو حیدری انڈر پاس پر ماڈل ریڑھی بازار لگانے کی ہدایت دی، جبکہ جی ٹی روڈ کے فٹ پاتھ پر تجاوزات کے مکمل خاتمے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ریل بازار اور دیگر بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔

    ڈی سی کے وزٹ کے بعد میونسپل کارپوریشن کے انکروچمنٹ لینڈ سپرنٹنڈنٹ رحمت علی انصاری اور انسپکٹر عرفان نسیم بٹ نے اپنے عملے کے ہمراہ ریل بازار میں گرینڈ کلین اپ آپریشن کیا۔ بازار کے دونوں اطراف قائم تمام تجاوزات کو ختم کر دیا گیا اور اندرون شہر کے دیگر بازاروں میں بھی تجاوزات کے خاتمے کی مہم شروع کر دی گئی۔

    تجاوزات ختم نہ کرنے والے دکانداروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آئندہ تجاوزات برقرار رکھنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ اقدامات شہریوں کی سہولت اور بازاروں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔