Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈسکہ: کرین حادثہ، 18 سالہ نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    ڈسکہ: کرین حادثہ، 18 سالہ نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    ڈسکہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک عمران) گھوئینکی اڈہ کے قریب ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں کرین اور موٹرسائیکل کے تصادم کے نتیجے میں 18 سالہ نوجوان عمر جاں بحق ہوگیا، جبکہ اس کا دوست علی حیدر شدید زخمی ہوگیا۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب دونوں نوجوان سیالکوٹ سے ڈسکہ کی طرف سفر کر رہے تھے۔ ایک کرین غلط سمت سے آتے ہوئے ان کی موٹرسائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں عمر موقع پر ہی دم توڑ گیا اور علی حیدر کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا۔

    حادثے کے بعد کرین کا ڈرائیور جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ جاں بحق ہونے والے نوجوان کا تعلق چونگ ہیڈمرالہ روڈ سے تھا۔

  • مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے

    مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے

    مساجد میں سفید پوشوں کی عزت نفس کا تحفظ ضروری ہے
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    مساجد کا تقدس اور ان کا مقام مسلم معاشرے میں انتہائی اہم ہے۔ یہ وہ مقدس جگہیں ہیں جہاں لوگ اللہ کے حضور جھکنے، سکون حاصل کرنے اور روحانیت وعبادات کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ یہاں کی فضا کا تقدس اور نمازیوں کی عزت نفس برقرار رکھنا علمائے کرام اور دینی قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم کچھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو نہ صرف مساجد کی حرمت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں علمائے کرام کے بارے میں مایوسی بھی پیدا کرتے ہیں۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ایک نوجوان عالم دین قاری یاسین حیدر نے خطبے کے دوران ایک شخص کو ٹوکا جو ان پر نوٹ نچھاور کر رہا تھا۔ قاری صاحب نے نہایت صاف گوئی سے اس عمل کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ عمل ناچنے والیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور علما پر ایسا کرنا ان کی عزت اور مقام کو گرا دیتا ہے۔ ان کے اس رویے کو عوام کی طرف سے خوب سراہا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ علمائے کرام میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے کردار معاشرے کے لیے مشعل راہ ہیں۔

    مگر چند دن بعد ایک اور واقعہ نے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس مثبت احساس کو دھچکا پہنچایا۔ ایک مقامی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک نوجوان قاری نے خطبہ روک کر نمازیوں سے چندہ مانگنے کا عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے نمازیوں کو مالی استطاعت کے مطابق تقسیم کیا اور کہا کہ پہلے وہ لوگ آئیں جو پانچ ہزار روپے دے سکتے ہیں پھر وہ جو ایک ہزار اور پانچ سو روپے دینے والے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف مسجد میں موجود نمازیوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنا بلکہ ان کی عزت نفس کو بھی مجروح کیا۔

    یہ رویہ نہایت افسوس ناک ہے کیونکہ مساجد وہ جگہ ہیں جہاں لوگوں کو سکون اور روحانیت کی تلاش ہوتی ہے نہ کہ معاشرتی دبا ئویا مالی تقاضوں کا سامنا۔ نمازی اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دینے کو تیار ہوتے ہیں جو ایک خوش آئند روایت ہے لیکن اس طرح کے اعلانات اور دبا ئونمازیوں کو بدظن کر سکتے ہیں اور مسجد کی آبادی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    اسلامی تعلیمات میں صدقہ اور خیرات کو پوشیدہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔ ایک حدیث میں سات ایسے افراد کا ذکر ہے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا اور ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو اس قدر پوشیدہ طریقے سے صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

    مساجد اور ان کی ضروریات کے لیے چندہ جمع کرنا بلاشبہ ایک اہم عمل ہے، لیکن اس کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو سکون دے اور ان کی عزت نفس کا تحفظ کرے۔ مساجد کے لیے چندہ جمع کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق خود پیش ہوں نہ کہ ان پر مالی دبائو ڈالا جائے یا ان کی استطاعت کو عوام کے سامنے ظاہر کیا جائے۔

    علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ مساجد کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جو نمازیوں کی دل آزاری کا باعث بنے۔ دینی قیادت کا کردار صرف عبادات کی امامت تک محدود نہیں بلکہ ان کے اعمال اور کردار سے لوگوں کے دلوں میں محبت، احترام، اور اعتماد پیدا ہونا چاہیے۔ مساجد کے تقدس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چندہ جمع کرنے کے ایسے طریقے اپنائے جائیں جو نمازیوں کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں اور انہیں عبادات کے لیے مساجد میں آنے سے بدظن نہ کریں۔

    یہ مسئلہ نہ صرف دینی قیادت بلکہ پوری مسلم کمیونٹی کے لیے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اگر مساجد کے ماحول کو محفوظ اور پر سکون بنایا جائے تو یہ جگہیں لوگوں کے دلوں کو سکون اور روحانی سکون فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ علمائے کرام کے لیے لازم ہے کہ وہ مساجد کے تقدس کو برقرار رکھیں اور نمازیوں کی عزت نفس کا مکمل تحفظ کریں تاکہ لوگوں کا اللہ کے گھر پر اعتماد بحال رہے۔

  • میرپور خاص: پاگل کتے کو مارنے  پر منتخب کونسلر اور کارکن گرفتار، شدید عوامی ردعمل

    میرپور خاص: پاگل کتے کو مارنے پر منتخب کونسلر اور کارکن گرفتار، شدید عوامی ردعمل

    میرپور خاص (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ) سٹیلائٹ ٹاؤن یونین کونسل 4 میں پاگل کتوں کے کاٹنے کی شکایات پر کارروائی کرنے والے منتخب کونسلر لیاقت علی شاہ، کاشف اقبال، اور جماعت اسلامی کے کارکن آصف صدیق کو پاگل کتے کو مارنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری پر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عوامی شکایات پر یونین کونسل کے منتخب نمائندوں نے متعلقہ محکمے کو اطلاع دی، جس کے بعد 1122 کے عملے نے پاگل کتوں کے خلاف کارروائی کی۔ تاہم ایک کتیا کے مالک نے اپنے”اثرو رسوخ” کا استعمال کرتے ہوئے مذکورہ نمائندوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔

    پولیس نے کونسلر لیاقت علی شاہ، کاشف اقبال، اور جماعت اسلامی کے کارکن آصف صدیق کو گرفتار کرکے 8 گھنٹے سے زائد حبسِ بےجا میں رکھا۔ گرفتاری کے دوران ان کی تصاویر بھی بنائی گئیں، جس پر عوامی حلقوں نے سخت اعتراض کیا ہے۔

    آج فرسٹ ایڈیشنل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہو کر گرفتار شدگان نے اپنی ضمانت حاصل کی، جس کی ذمہ داری یونین کونسل 4 کے چیئرمین حاجی فاروق ملک نے دی۔

    اس واقعہ پر علاقے کے عوام اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ پاگل کتے علاقے کے لیے خطرہ تھے اور ان کے خاتمے کے لیے کی گئی کارروائی عوامی مفاد میں تھی۔ 1122 کے اہلکاروں نے بھی بتایا کہ کتیا کے جسم پر کیڑے تھےاور وہ واقعی خطرناک تھی۔

    یونین کونسل 4 کے چیئرمین فاروق ملک اور وائس چیئرمین جاوید احمد خان نے کہا کہ عوام کی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور اس قسم کے واقعات ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ گرفتار شدگان نے بھی عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ خدمت جاری رکھیں گے۔

    عوامی مفاد میں کیے جانے والے کاموں کو جرم قرار دینا کس حد تک جائز ہے؟کیا منتخب نمائندوں کو عوامی خدمت سے روکنے کی کوشش علاقے کے مسائل کو مزید پیچیدہ نہیں کرے گی؟ایسے واقعات عوام کے منتخب نمائندوں کے اعتماد پر کیسے اثر ڈال سکتے ہیں؟
    یہ واقعہ عوامی نمائندوں کی خدمت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے اور اس پر مزید غور و فکر

  • غلام اللہ: 13 سالہ مزدور بچے پربہیمانہ تشدد،گرم چائے انڈیل دی، 40 فیصد جسم جھلس گیا

    غلام اللہ: 13 سالہ مزدور بچے پربہیمانہ تشدد،گرم چائے انڈیل دی، 40 فیصد جسم جھلس گیا

    ٹھٹھہ (نامہ نگار بلاول سموں کی رپورٹ) غلام اللہ کے ایک ہوٹل میں کام کرنے والے 13 سالہ مولا بخش درس پر ہوٹل مالک اور عملے کا ظالمانہ تشدد سامنے آیا ہے، جس نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہوٹل مالک ابراہیم چانڈیو کے حکم پر بیرے ابلی چانڈیو نے معصوم لڑکے پر ابلتی ہوئی گرم چائے ڈال دی، جس کے نتیجے میں بچے کا 40 فیصد جسم بری طرح جھلس گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لڑکے کو معمولی غلطی پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    زخمی بچے کے والد اللہ بخش درس نے بتایا کہ ان کا بیٹا شدید تکلیف میں ہے اور اسے فوری طور پر شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    لواحقین نے ہوٹل مالک ابراہیم چانڈیو اور بیرے ابلی چانڈیو کے خلاف تھانہ غلام اللہ میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ غلام اللہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ابلی چانڈیو کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش شروع کر دی ہے۔جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے نذرانہ لیکر ہوٹل مالک کو گرفتار نہیں کیا اور اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے بھی گریزاں ہے

    علاقے کے شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے واقعے پر سخت احتجاج کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سزا دی جائے اور معصوم بچے کے لیے انصاف یقینی بنایا جائے۔

  • اوچ شریف: ڈی پی او کی کھلی کچہری، مسائل کے حل کی یقین دہانی

    اوچ شریف: ڈی پی او کی کھلی کچہری، مسائل کے حل کی یقین دہانی

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) ڈی پی او بہاولپور اسد سرفراز احمد خان نے تھانہ اوچ شریف میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جہاں شہریوں نے اپنے مسائل پیش کیے۔ ڈی پی او نے تمام شکایات کو سنجیدگی سے سنا اور فوری حل کے احکامات جاری کیے۔

    شہریوں کی جانب سے مقدمات میں تاخیر، پولیس رویے اور دیگر مسائل پر شکایات پیش کی گئیں۔ ڈی پی او نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد میرٹ پر انصاف کی فراہمی اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ انہوں نے پولیس افسران کو دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی اور شہریوں سے تعاون کی درخواست کی۔

    ڈی پی او اسد سرفراز احمد نے یقین دلایا کہ عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور پولیس اپنی تمام تر صلاحیتیں عوامی خدمت کے لیے بروئے کار لائے گی۔ شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے پولیس کے ساتھ بہتر تعلقات کی امید ظاہر کی۔

  • اوچ شریف: غیر معیاری دودھ کی فروخت پر کارروائی، دکان سیل

    اوچ شریف: غیر معیاری دودھ کی فروخت پر کارروائی، دکان سیل

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) حسینی چوک اور حکیم محمد قاسم کی گلی میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ عمران حیدر سیال نے غیر معیاری دودھ کی فروخت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سرفراز اور ہاشم لودھرا کی دودھ کی دکان پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران دودھ سے کریم نکالنے کا عمل جاری تھا، جسے فوری طور پر روک کر دکان سیل کر دی گئی جبکہ غیر معیاری دودھ ضائع کر دیا گیا۔

    عمران حیدر سیال نے کہا کہ عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے غیر قانونی سرگرمیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی صحت کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ انتظامیہ نے دودھ کے معیار کی سخت نگرانی کا یقین دلایا اور دکانداروں کو تنبیہ کی کہ دودھ میں کسی قسم کی ملاوٹ سے باز رہیں۔

  • اوچ شریف: کم وزن روٹی پر جرمانہ، متعدد ہوٹلز کو وارننگ

    اوچ شریف: کم وزن روٹی پر جرمانہ، متعدد ہوٹلز کو وارننگ

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) ایڈمنسٹریٹر نوید حیدر نے عوامی شکایات پر مختلف ہوٹلز کا دورہ کیا، کم وزن روٹی اور غیر معیاری کھانے فروخت کرنے پر دو پوائنٹس کو جرمانہ عائد کیا جبکہ صفائی کے ناقص انتظامات پر متعدد ہوٹلز کو وارننگ دی۔

    ایڈمنسٹریٹر نے ہوٹل مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ عوامی سہولت اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں اور جائز طریقے سے کاروبار کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی شکایات پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

    مزید برآں میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو الشمس چوک سمیت دیگر علاقوں کی صفائی پر شاباش دیتے ہوئے صفائی کے عمل کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت دی۔

  • اوچ شریف: تاریخی مقبروں اور مزارات کی بحالی کے لیے 31 ملین روپے منظور

    اوچ شریف: تاریخی مقبروں اور مزارات کی بحالی کے لیے 31 ملین روپے منظور

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) محکمہ آثار قدیمہ نے مذہبی سیاحت کے فروغ اور عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے اوچ شریف کے تاریخی مقبروں اور مزارات کی تزئین و آرائش کے لیے 31 ملین روپے سے زائد فنڈز کی منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق ان فنڈز کے تحت مقبرہ بی بی جیوندیؒ کی بحالی کے لیے ایک کروڑ روپے، مقبرہ حضرت ابوحنیفہؒ کے لیے 62 لاکھ 82 ہزار روپے، جب کہ حضرت سید جلال الدین سرخپوش بخاریؒ اور حضرت سید غوث بندگیؒ کے مزارات کے لیے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    یہ منصوبہ نہ صرف ان عالمی شہرت یافتہ مقامات کی حفاظت میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مذہبی سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کو بھی تقویت دے گا۔ عوامی حلقوں نے اس اقدام کو ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

  • اوچ شریف:بنک آف پنجاب کی برانچ نہ ہونے سے شہری مشکلات کا شکار

    اوچ شریف:بنک آف پنجاب کی برانچ نہ ہونے سے شہری مشکلات کا شکار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) سب تحصیل اوچ شریف میں بینک آف پنجاب کی برانچ نہ ہونے کے باعث سرکاری ملازمین، اراضی مالکان اور کاروباری طبقے کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ فیسوں کی ادائیگی اور دیگر معاملات کے لیے شہریوں کو 22 کلومیٹر دور احمد پور شرقیہ جانا پڑتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق 45 سے زائد مواضعات اور دو قانون گوئی پر مشتمل اس علاقے میں بینک آف پنجاب کی عدم موجودگی سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے لیے خاص طور پر پریشان کن ہے، جنہیں نان سیلری بجٹ اور دیگر فنڈز کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے تعلیمی امور متاثر ہو رہے ہیں۔

    اسی طرح اسٹامپ پیپرز کے اجرا کے لیے بھی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لینڈ ریکارڈ سینٹر کی موجودگی کے باوجود رجسٹریوں اور انتقالات کے سلسلے میں سرکاری فیسوں کی ادائیگی کے لیے احمد پور شرقیہ جانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کا وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ اضافی اخراجات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف میں فوری طور پر بینک آف پنجاب کی برانچ قائم کی جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو اور نیشنل بینک پر موجود دباؤ کم ہو سکے۔

  • میہڑ: غیر قانونی پٹرول پمپوں کے خلاف کارروائی، دو پٹرول پمپ سیل

    میہڑ: غیر قانونی پٹرول پمپوں کے خلاف کارروائی، دو پٹرول پمپ سیل

    میہڑ (باغی ٹی وی،نامہ نگار منظورعلی جوئیہ) ڈی سی دادو کے حکم پر اسسٹنٹ کمشنر میہڑ غلام فاطمہ گھلو اور مختیار کار اسلم مگسی نے گاؤں سندھی بٹڑا میں کارروائی کرتے ہوئے دو غیر قانونی پٹرول پمپ سیل کر دیے۔

    کارروائی کے دوران صدورو گوگانی اور سید مدد علی شاہ کے زیرِ انتظام چلنے والے پٹرول پمپ بند کیے گئے۔ یہ پٹرول پمپ مالکان کئی سالوں سے غیر معیاری پٹرول اور ڈیزل غیر قانونی طور پر فروخت کر رہے تھے۔ عوام کی جانب سے مسلسل شکایات کے بعد انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیر معیاری ایندھن کی فروخت عوام کی صحت اور گاڑیوں کے لیے خطرہ ہے، اور غیر قانونی کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔