Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سکھر: پولیس مقابلے میں ہلاک ڈاکوؤں کی شناخت، لوٹی گئی رقم برآمد

    سکھر: پولیس مقابلے میں ہلاک ڈاکوؤں کی شناخت، لوٹی گئی رقم برآمد

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق لغاری)سکھر پولیس مقابلے میں ہلاک ڈاکوؤں کی شناخت، لوٹی گئی رقم برآمد

    سکھر کے تھانہ ائیرپورٹ کی حدود میں جاگیر موڑ کے قریب پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے دونوں ڈاکوؤں کی شناخت عبدالخالق سولنگی اور مختیار سولنگی کے نام سے ہو گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق، یہ دونوں ملزمان ہفتے قبل تھانہ بی سیکشن کی حدود بندر روڈ پر ڈکیتی کی واردات میں ملوث تھے، جہاں ایک موبائل کمپنی کی گاڑی کو گن پوائنٹ پر لوٹ کر بھاری رقم لے کر فرار ہو گئے تھے۔ ہلاک ڈاکوؤں کے قبضے سے 11 لاکھ 25 ہزار روپے کی نقدی برآمد کی گئی ہے، جو ڈکیتی کے دوران چھینی گئی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کا مجرمانہ ریکارڈ مختلف تھانوں اور اضلاع سے حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے دیگر جرائم کا پتہ لگایا جا سکے۔

    ایس ایس پی سکھر امجد احمد شیخ نے پولیس پارٹی کی جواں مردی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے سی سی تھرڈ اور کیش انعام کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان سکھر پولیس نے واقعے کو قانون کی بالادستی کی مثال قرار دیا ہے۔

  • سندھ پولیس میں رشوت پر بھرتی 139 کلرکس دوبارہ ٹیسٹ کے لیے طلب

    سندھ پولیس میں رشوت پر بھرتی 139 کلرکس دوبارہ ٹیسٹ کے لیے طلب

    کراچی(باغی ٹی وی،نامہ نگار) سندھ پولیس میں 2010 سے 2016 کے دوران مبینہ رشوت اور سفارش پر بھرتی کیے گئے اسکیل 11 کے 139 جونیئر کلرکس کو دوبارہ تحریری امتحان کے لیے 28 نومبر کو سی پی او کراچی طلب کر لیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، ان جونیئر کلرکس میں زیادہ تر پولیس افسران کے رشتہ دار یا سفارشی افراد شامل ہیں، جنہیں بھرتی کے وقت قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعینات کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ افراد تحریری ٹیسٹ میں ناکام رہے تو انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سفارشی کلرکس کو سی پی او کی ٹھنڈی چھاؤں میں ٹیسٹ دینے کا موقع دیا جا رہا ہے، جبکہ غیر سفارشی کلرکس کو گھنٹوں دھوپ میں انتظار کروا کر امتحان کی اذیت سے گزارا جاتا ہے، جس نے پولیس اہلکاروں میں سخت مایوسی پیدا کر دی ہے۔

    حیدرآباد ڈویژن کے 40 سے زائد جونیئر کلرکس بھی ان افراد میں شامل ہیں، جنہیں مختلف اضلاع میں اہم پوسٹوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھرتیاں سفارش اور رشوت کے ذریعے کی گئی تھیں، اور اب ان کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی محکمہ پولیس میں رشوت کے ذریعے بھرتی ہونے والے متعدد اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے سینکڑوں غریب پولیس اہلکار نوکری سے فارغ کر دیے گئے تھے، لیکن ان کے لیے کسی بھی قسم کی بحالی یا شنوائی آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔

    پولیس کے دوہرے معیار اور سفارشی کلرکس کو سہولیات دینے کی یہ روش محکمہ پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں میں بددلی اور ناامیدی کا باعث بن رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدامات شفافیت لانے میں

  • احمد پور شرقیہ:شادی کا گھر ماتم میں بدل گیا، جنریٹر کے دھوئیں سے باپ بیٹا جاں بحق، خاتون  کی حالت نازک

    احمد پور شرقیہ:شادی کا گھر ماتم میں بدل گیا، جنریٹر کے دھوئیں سے باپ بیٹا جاں بحق، خاتون کی حالت نازک

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان )احمد پور شرقیہ میں شادی کا گھر ماتم میں بدل گیا، جنریٹر کے دھوئیں سے باپ بیٹا جاں بحق، خاتون کی حالت نازک

    تفصیل کے مطابق احمد پور شرقیہ کے علاقے علی کھاڑک میں شادی کی تقریب کے دوران افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں کمرے کے اندر جنریٹر کا دھواں بھرنے سے باپ اور بیٹا دم توڑ گئے جبکہ خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 24 سالہ محمد عامر اور 2 سالہ عمران شامل ہیں۔ متاثرہ خاتون 22 سالہ ثانیہ کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ریسکیو حکام نے لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ واقعہ شادی کی خوشیوں کو ماتم میں تبدیل کر گیا اور علاقے میں گہرا صدمہ پھیل گیا۔

  • جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور انتشار نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں عوام کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بھی براہ راست خطرے میں ہیں۔ حالیہ واقعات نے اس صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا ہے۔ اسلام آباد میں شرپسند عناصر کی جانب سے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کے نتیجے میں چار جوان شہید ہو گئے جبکہ دو پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کے تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ ان واقعات میں 100 سے زائد پولیس اور رینجرز کے جوان زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ خون خاک میں ملتا جا رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان بہادر جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟

    حکومت کی کمزور حکمت عملی اور ریاستی رٹ کی کمی کے باعث شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ سنگجانی ٹول پلازہ پر مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک پر قبضہ اور لوٹ مار، نسٹ یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ اور دیگر پرتشدد کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون کی بالادستی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز ان تمام واقعات کی گواہ ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت محض بیانات تک محدود ہے۔

    فارن فنڈنگ کیس جو کئی سالوں سے حکومتی میز پر دھرا ہوا ہے، ان موجودہ حالات کی ایک اہم وجہ ہے۔ اگر حکومت وقت پر اس کیس پر کارروائی کرتی اور ذمہ داروں کو سزا دیتی تو شاید آج ملک اس افراتفری کا شکار نہ ہوتا۔ لیکن پچھلے کئی سالوں سے تمام ثبوتوں کے باوجود اس کیس پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ کیا یہ حکومتی کمزوری نہیں؟

    شرپسندوں کے سری نگر ہائی وے تک پہنچنے، رکاوٹیں عبور کرنے اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات ریاست کی رٹ پر سوالیہ نشان ہیں۔ یہ مظاہرین نہ صرف قومی املاک کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ ان کے حملے ریاستی اداروں کے وقار کو بھی مجروح کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف مذمتی بیانات دینا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

    شہید ہونے والے رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔ زخمی اہلکاروں کے علاج کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنا حکومتی بے حسی کو عیاں کرتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معصوم جوانوں کے خون کا حساب لے اور ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اگر حکومت ان حالات کو قابو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی، تو اسے اپنی ناکامی قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

    آج کا پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ عوام، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریاستی مشینری سب اس سوال کے گرد گھوم رہے ہیں: "جوانوں کے بہنے والے خون کا حساب کون دے گا؟” کیا حکومت ان سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے یا محض خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ عوام کے دلوں میں اٹھنے والے یہ سوالات جواب کے منتظر ہیں اور یہ خاموشی مزید دیر تک برداشت نہیں کی جا سکتی۔

  • اسلام آباد : پی ٹی آئی شرپسندوں نے  رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی، 4 اہلکار شہید

    اسلام آباد : پی ٹی آئی شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی، 4 اہلکار شہید

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج، رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی گئی، 4 شہید، 100 سے زائد زخمی

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران شدید تشویشناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ نصف شب کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے سری نگر ہائی وے پر رینجرز کے اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں چار رینجرز اہلکار شہید ہوگئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حملے میں پانچ رینجرز اور پولیس کے جوان بھی شدید زخمی ہوئے ہیں، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کارکنوں نے 26 نمبر چونگی سے گزرتے ہوئے سری نگر ہائی وے کی جانب پیش قدمی کی، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی چوک کو صحافیوں سے خالی کروا کر سیل کر دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے شر پسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب تک رینجرز کے چار جوان شہید، پولیس کے دو جوان شہید ہو چکے ہیں اور سو سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت انتہائی نازک ہے۔

    احتجاجی مظاہروں کے دوران اشتعال انگیزی اور تشدد کی کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے نشانہ بنے ہیں بلکہ عوامی املاک اور سیکیورٹی کی صورت حال بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

  • گوجرہ: ٹریکٹر ڈرائیور گنا لوڈ ٹرالی کے حادثے میں جاں بحق

    گوجرہ: ٹریکٹر ڈرائیور گنا لوڈ ٹرالی کے حادثے میں جاں بحق

    گوجرہ(باغی ٹی وی،نامہ نگارعبدالرحمن جٹ) ٹریکٹر ڈرائیور گنا لوڈ ٹرالی کے حادثے میں جاں بحق

    تفصیل کے مطابق چک نمبر 46 گ ب سمندری کے رہائشی سلطان مسیح، جو گنا لوڈ کرکے کمالیہ شوگر مل کی طرف جا رہے تھے، افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئے۔ سمندری روڈ پر چک نمبر 367 ج ب سٹاپ کے قریب پیچھے سے آنے والے مزدا نمبر 1563 FDS کے نامعلوم ڈرائیور نے ٹرالی کو ٹکر ماری، جس کے باعث ٹریکٹر ٹرالی بے قابو ہو کر 10 فٹ گہرائی میں جا گری۔

    حادثے میں سلطان مسیح ٹریکٹر ٹرالی کے نیچے دب گئے۔ ریسکیو 1122 اور مقامی لوگوں نے کافی کوششوں کے بعد انہیں نکالا اور فوری طور پر گورنمنٹ آئی کام جنرل ہسپتال گوجرہ منتقل کیا۔ تاہم سلطان مسیح راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔

    حادثے کے بعد مقامی پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ نامعلوم مزدا ڈرائیور کی تلاش جاری

  • ننکانہ:ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے 5  یوپی ایس غائب، انکوائری رپورٹ تاخیر کا شکار

    ننکانہ:ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے 5 یوپی ایس غائب، انکوائری رپورٹ تاخیر کا شکار

    ننکانہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے پانچ یوپی ایس غائب، انکوائری رپورٹ تاخیر کا شکار

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں کرپشن کی سنگین کہانی سامنے آئی ہے، جہاں کمپیوٹرز کے استعمال کے لیے نصب لاکھوں روپے مالیت کے پانچ یوپی ایس پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کے سخت احکامات کے باوجود تحقیقات ایک ماہ بعد بھی مکمل نہ ہو سکیں، جس سے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے 28 اکتوبر کو دورہ ہسپتال کے دوران انکشاف ہوا کہ پرچی کاؤنٹرز پر موجود یوپی ایس غائب ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے فوری تحقیقات اور تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ضلعی محکمہ صحت نے اس سلسلے میں ڈاکٹر محمد افضل کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس میں ایڈمن آفیسر وقاص سرور اور ڈی این ایس ارشاد بیگم شامل تھے۔ تاہم یہ کمیٹی تاحال رپورٹ جمع کرانے میں ناکام رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ غائب یوپی ایس کو فائلوں میں ڈھونڈنے میں مصروف ہے لیکن اس پراسرار معاملے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین غفلت کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کریں تاکہ مریضوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور کرپشن کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • پرتشدد احتجاج، ہکلہ انٹرچینج پر پولیس کانسٹیبل شہید، 70 اہلکار زخمی

    پرتشدد احتجاج، ہکلہ انٹرچینج پر پولیس کانسٹیبل شہید، 70 اہلکار زخمی

    اسلام آباد(باغی ٹی وی رپورٹ)پرتشدد احتجاج، ہکلہ انٹرچینج پر پولیس کانسٹیبل شہید، 70 اہلکار زخمی،پی ٹی آئی کارکنان کے حملے میں کانسٹیبل مبشر شہید، وزیرداخلہ کا شرپسند عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم

    تفصیل کے مطابق احتجاج کی آڑ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنان نے ہکلہ انٹرچینج پر ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پنجاب پولیس کے کانسٹیبل مبشر شہید ہو گئے۔ 46 سالہ کانسٹیبل مبشر، جو مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے تھے، سر پر شدید چوٹ کے باعث تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے تھے جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ شہید کانسٹیبل مبشر کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔

    پرتشدد مظاہروں میں پولیس کے 70 اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں سر، بازو، اور ٹانگوں پر چوٹیں آئیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسند عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور شدت پسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کانسٹیبل مبشر کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہید کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانسٹیبل مبشر نے فرض کی ادائیگی میں شہادت کا بلند مرتبہ حاصل کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تشدد کرنے والے مظاہرین کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

  • لنڈی کوتل: پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    لنڈی کوتل: پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)لنڈی کوتل میں پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    تفصیل کے مطابق ضلع خیبر کی لنڈی کوتل پولیس نے آئس کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پاک افغان شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک موٹر کار سے 3 کلوگرام آئس برآمد کر لی۔ پولیس نے کارروائی کے دوران نور خان ولد محمد اشرف (سکنہ افغانستان) اور سلمان خان ولد آفتاب عالم (سکنہ ولی بیگ خیل) کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حوالات منتقل کر دیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کی قیادت میں منشیات کے خلاف مہم کامیابی سے جاری ہے۔ ایس ایچ او لنڈی کوتل کی ہدایت پر ایڈیشنل ایس ایچ او عظمت ولی شینواری اور ان کی ٹیم نے زیڑے پوسٹ پر یہ کامیاب کارروائی کی۔ مشکوک گاڑی (نمبر D2402) کے خفیہ خانوں سے آئس برآمد کی گئی۔

    پولیس نے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور منشیات کے خاتمے کے لیے یہ مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔

  • ننکانہ : حادثے میں زخمی ریسکیور فاطمہ بانو شہید، سپرد خاک

    ننکانہ : حادثے میں زخمی ریسکیور فاطمہ بانو شہید، سپرد خاک

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ریسکیور فاطمہ بانو کی شہادت، نماز جنازہ میں افسران و شہریوں کی شرکت

    گزشتہ روز کشمیر روڈ پر حادثے کا شکار ہونے والی ریسکیو 1122 کی "ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن” فاطمہ بانو فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔

    آج دھولر چوک قبرستان میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار، دیگر افسران، میڈیا نمائندگان، ریسکیورز، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریسکیو 1122 کے چاق و چوبند دستے نے مرحومہ کو سلامی پیش کی۔

    سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر اور دیگر افسران نے قبر پر پھول چڑھائے اور مرحومہ کی خدمات کو سراہا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کہا کہ فاطمہ بانو ایک پیشہ ور اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار ریسکیور تھیں، ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    سوگوار خاندان کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔