Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: کنگرہ روڈ پر موٹرسائیکل حادثہ، 32 سالہ نوجوان جاں بحق، تین زخمی

    سیالکوٹ: کنگرہ روڈ پر موٹرسائیکل حادثہ، 32 سالہ نوجوان جاں بحق، تین زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہد ریاض) کنگرہ روڈ پر موٹرسائیکل حادثہ، 32 سالہ نوجوان جاں بحق، تین زخمی

    تھانہ سبز پیر کے علاقہ کنگرہ روڈ پر دو موٹرسائیکلوں کے خوفناک تصادم میں 32 سالہ ذیشان عارف جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کے ساتھ 8 سالہ ازان اور دوسری موٹرسائیکل پر سوار 16 سالہ علی رضا اور 17 سالہ حسنین شدید زخمی ہو گئے۔

    موٹرسائیکل حادثات میں زیادہ تر زخمی ہونے والے نوجوانوں کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان ہوتی ہیں، جو زیادہ تر تیز رفتاری کا نتیجہ ہیں۔ والدین اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ احتیاط کریں اور اپنی زندگی کو محفوظ بنائیں۔

  • سیالکوٹ: ریجنل ایمرجنسی آفیسر کا دورہ، ریسکیو اسٹیشنز کا معائنہ

    سیالکوٹ: ریجنل ایمرجنسی آفیسر کا دورہ، ریسکیو اسٹیشنز کا معائنہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ریجنل ایمرجنسی آفیسر گوجرانوالہ سید کمال عابد نے سیالکوٹ کا دورہ کرتے ہوئے کشمیر روڈ اور سینٹرل ریسکیو اسٹیشنز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ریسکیو گاڑیوں، آلات، ریسکیورز کی جسمانی فٹنس، پریڈ اور دیگر انتظامات کا معائنہ کیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے انہیں کشمیر ریسکیو اسٹیشن کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔ معائنے کے دوران اسٹیشن کوآرڈینیٹر محمد رضا، شفٹ انچارج سلیمی اور ایمرجنسی آفیسر عرفان یعقوب بھی موجود تھے۔

    ریجنل ایمرجنسی آفیسر نے ریسکیو گاڑیوں اور موٹر سائیکل ایمبولینسز کے اندر موجود آلات، اسٹورز، اور اکاؤنٹ آفس کا معائنہ کیا اور آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ریسکیورز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ریکارڈ کو ہمیشہ اپڈیٹ رکھا جائے اور آپریشنل مشقوں کے ذریعے ریسکیورز کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ہر شفٹ میں ریسکیورز کو ایمرجنسی یا ڈزاسٹر کی صورت میں بروقت اور موثر امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 78 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد

    سیالکوٹ: ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 78 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کہا ہے کہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں میں گراں فروشی کے الزام میں 1,298 دکانداروں پر 78 لاکھ 6 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ 3 دکانداروں کے خلاف پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، 52 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 21 دکانوں اور گوداموں کو سیل کر دیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے یہ بات پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس میں کہی۔ اجلاس میں اے ڈی سی جنرل ایوب بخاری، اے سی سیالکوٹ انعم بابر، اور ڈی او انڈسٹریز عبد القدوس سمیت ڈسکہ، پسرور، اور سمبڑیال کے اسسٹنٹ کمشنرز نے بھی وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ ون ڈش اور شادی کے اوقات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور میرج ہالز کی مانیٹرنگ مزید سخت کی جائے۔ مزید برآں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والے اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی اور فصلوں کی باقیات کو جلانے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کے احکامات بھی دیے۔

  • تلہ گنگ:  محکمہ وائلڈلائف نےہر قسم کے شکار پر پابندی لگا دی

    تلہ گنگ: محکمہ وائلڈلائف نےہر قسم کے شکار پر پابندی لگا دی

    تلہ گنگ (باغی ٹی وی رپورٹر محمد مزمل اقبال)محکمہ وائلڈلائف نےہر قسم کے شکار پر پابندی لگا دی

    تفصیل کے مطابق ضلع چکوال کے تمام علاقوں بشمول تلہ گنگ، لاوہ، کلرکہار، چوآسیدن شاہ اور تھوہا محرم خان میں ہر قسم کے شکار پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف نے غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور وائلڈ لائف واچرز کو مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

    محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق غیر قانونی شکار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی بھی علاقے میں غیر قانونی شکار ہوتا دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

    یہ اقدام جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

  • تلہ گنگ: زنجیروں میں قید مبینہ طور پر ذہنی بیمار بنایا گیا سرکاری ملازم بازیاب

    تلہ گنگ: زنجیروں میں قید مبینہ طور پر ذہنی بیمار بنایا گیا سرکاری ملازم بازیاب

    تلہ گنگ(باغی ٹی وی ،مزمل اقبال کی رپورٹ) زنجیروں میں قید مبینہ طور پر ذہنی بیمار بنایا گیا سرکاری ملازم بازیاب

    تفصیلات کے مطابق تلہ گنگ کے علاقے ککڑاں والی میں تھانہ ٹمن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک 41 سالہ سرکاری ملازم عامر سلطان کو بازیاب کروا لیا ہے، جسے گھر والوں نے زنجیروں میں جکڑ کر مویشیوں کے باڑے میں قید کر رکھا تھا۔ عامر سلطان جو ماہانہ 40 ہزار روپے تنخواہ پاتا تھا، مبینہ طور پر گھر والوں کی جانب سے تشدد اور ذہنی ٹارچر کا شکار ہوا، جس سے اس کی ذہنی حالت خراب ہو گئی۔

    پولیس کے مطابق عامر کو گزشتہ دو ماہ سے قید میں رکھا گیا تھا جبکہ وہ پچھلے آٹھ ماہ سے ذہنی مسائل کا شکار تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عامر کی حالت مبینہ طور پر اہل خانہ کے غیر انسانی رویے کی وجہ سے بگڑی۔ متاثرہ شخص کی والدہ نے دوسری شادی کی تھی اور اس کے تین سوتیلے بھائی بھی اسی گھر میں رہتے ہیں۔

    عامر سلطان جو شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ ہے، گھریلو تنازعات کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا اور اس کی بیوی بھی ناراض ہو کر میکے جا چکی ہے۔ پولیس نے عامر کو بازیاب کرنے کے بعد طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے اور اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    یہ واقعہ ذہنی صحت کے مسائل اور سماجی بے حسی کے پہلوؤں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تشدد اور ذہنی ٹارچر کے شکار افراد کے لیے مناسب مدد اور انصاف کی فراہمی کتنی ضروری ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان اور تونسہ  سے پی ٹی آئی قیادت غائب، کارکن غیر فعال

    ڈیرہ غازی خان اور تونسہ سے پی ٹی آئی قیادت غائب، کارکن غیر فعال

    ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان احتجاجی مہم سے مکمل طور پر غیر فعال نظر آئے۔ اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے اور احتجاج میں شرکت کے لیے ان دونوں علاقوں سے کوئی قافلہ روانہ نہ ہوا۔ مقامی قیادت جن میں زرتاج گل اور خواجہ شیراز شامل ہیں، کارکنان کو متحرک کرنے یا احتجاج میں شامل کرنے میں ناکام رہی۔

    زرتاج گل نے خفیہ طور پر ملتان سے ایک قافلے کے ساتھ اسلام آباد روانگی کی، تاہم اپنے علاقے کے کارکنان کو ساتھ لے جانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ خواجہ شیراز سمیت دیگر رہنما بھی منظر عام سے غائب رہے، جس سے کارکنان میں مایوسی پھیل گئی۔

    ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں تمام اہم شاہراہیں معمول کے مطابق کھلی رہیں۔ غازی گھاٹ پل اور تونسہ بیراج پل پر بھی ٹریفک بلا تعطل جاری رہی۔ بین الصوبائی سڑکوں پر کسی قسم کی بندش یا رکاوٹ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بغیر کسی خلل کے چلتی رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ان علاقوں میں کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی۔

    کارکنان کی غیر فعالیت نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماضی میں احتجاجی مہمات میں سرگرم کارکنان اس بار مکمل طور پر غیر متحرک دکھائی دیے، جس کی بنیادی وجہ قیادت کی غیر موجودگی اور عدم دلچسپی بتائی جا رہی ہے۔

    یہ صورتحال مقامی سطح پر پارٹی کی تنظیمی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی اس کی سیاسی مقبولیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور کارکنان کے حوصلے مزید کمزور کر سکتی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: غیرقانونی ٹھیکیدار فدا حجانہ کی گڈز ٹرانسپورٹ سے بھتہ خوری جاری، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازی خان: غیرقانونی ٹھیکیدار فدا حجانہ کی گڈز ٹرانسپورٹ سے بھتہ خوری جاری، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر)غیرقانونی ٹھیکیدار فدا حجانہ کی گڈز ٹرانسپورٹ سے بھتہ خوری جاری، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازیخان میں انٹرسٹی ٹیکس کے نام پر بین الصوبائی گڈز ٹرانسپورٹ سے فداحجانہ کے غنڈوں کی بھتہ وصولی جاری،انتظامیہ حصہ لیکرخاموش، انتظامیہ کی گڈزٹرانسپورٹ کو چپ کرانے کیلئے غیرقانونی ٹیکس کے نام پر بھتہ وصولی کی نام نہادٹھیکیدارکے ملازمین پر لولی لنگڑی ایف آئی آر درج کرائی گئی،ایک قومی اخبارکے رپورٹر کے ذریعے گڈزٹرانسپورٹ کو چپ کرانے کیلئے ایک لاکھ روپے ماہانہ دینے کی پیش کش ۔روزانہ ڈیرہ غازیخان سے تقریباََ 2000سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں گزر کر پاکستان کے مختلف شہروں میں سامان کی ترسیل کرتی ہیں ،زیادہ تربلوچستان سے آنے والے ٹرک اور منی گڈزان کا نشانہ، 200روپے سے 400روپے فی گاڑی گن پوائنٹ پوائنٹ پر بھتہ لیا جاتا ہے ،گڈزٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بلال لغاری

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں بین الصوبائی گڈز ٹرانسپورٹ سے غیرقانونی بھتہ خوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انٹرسٹی ٹیکس کے نام پر روزانہ سینکڑوں گاڑیوں سے غیرقانونی طور پر رقم وصول کی جا رہی ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ بھتہ خوروں کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہے اور اس مسئلے کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بلال لغاری کے مطابق روزانہ ڈیرہ غازی خان سے تقریبا 2000 گاڑیاں سامان کی ترسیل کے لیے گزرتی ہیں، جن میں زیادہ تر بلوچستان سے آنے والے ٹرک اور منی گڈز شامل ہیں۔

    ان گاڑیوں سے گن پوائنٹ پر 200 سے 400 روپے فی گاڑی بھتہ لیا جا رہا ہے۔ بلال لغاری کا کہنا ہے کہ فداحجانہ نامی ٹھیکیدار نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے میونسپل کارپوریشن سے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ سے ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ اس ٹھیکے کی آڑ میں بین الصوبائی گڈز ٹرانسپورٹ سے روزانہ لاکھوں روپے کا غیرقانونی بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔

    مسلسل شکایات کے باوجود انتظامیہ نے محض رسمی کارروائی کرتے ہوئے تھانہ گدائی میں چند غنڈوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ مورخہ 28 اگست 2024 کو اسسٹنٹ کمشنر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی تیمور عثمان کی جانب سے تحریری درخواست پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ درخواست میں واضح کیا گیا کہ پل ڈاٹ اور گدائی چونگی پر شعیب ولد محمد اکبرقوم راناسکنہ چورہٹہ، محمد زبیر ولد محمد حسین قوم حجانہ سکنہ شاہ سکندر روڈ اور محمد اسلم ولد محمد اکرم قوم حجانہ سکنہ شاہ سکندر روڈ غیرقانونی طور پر اڈہ فیس کے نام پر بھتہ وصول کر رہے ہیں۔سیکرٹری آرٹی آئی نے خود موقع پر پہنچ کر بھتہ خوری کی تصدیق کی اور ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 384 اور 341 کے تحت مقدمہ درج کرایا۔

    تاہم گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بھتہ خوری کے اڈے بدستور فعال ہیں اور ملزمان کو روکنے کے لیے کوئی مئوثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔گڈز ٹرانسپورٹ کے صدر عبدالسلام ناصر اور جنرل سیکرٹری بلال لغاری نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ پر دباؤڈالنے کے لیے بارہا کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کو شکایات درج کرائی گئیں لیکن کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے گڈز ٹرانسپورٹ کو خاموش کرانے کے لیے ایک قومی اخبارکے رپورٹر کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ روپے دینے کی پیشکش کی جو کہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بھتہ خوری کے اس نظام کو ختم نہ کیا گیا تو وہ پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مقامی انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوری حل نکالا جائے، ورنہ یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل سکتا ہے، جس سے معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی۔

  • علی پور: شادی کی رات دولہا کا لرزہ خیز قتل، لاش جنگل سے برآمد

    علی پور: شادی کی رات دولہا کا لرزہ خیز قتل، لاش جنگل سے برآمد

    علی پور (باغی ٹی وی رپورٹ) ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں تھانہ خیر پور سادات کی حدود موضع ٹھل مینگراج میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں شادی کی رات دولہا محمد شاہد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ نامعلوم ملزمان نے گلہ گھونٹ کر دولہا کو موت کے گھاٹ اتارا اور اس کی لاش جنگل میں پھینک کر فرار ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او خیر پور سادات نور خان بھاری پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے۔ لاش کو ضروری کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او نور خان نے کہا کہ قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور بہت جلد ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    اس لرزہ خیز واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، جبکہ مقتول کے اہل خانہ شدید غم سے نڈھال ہیں۔ اہل علاقہ نے حکومت اور انتظامیہ سے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ مقتول دولہا محمد شاہد ولد مختیار قوم بھٹی تھانہ کندائی کی حدود کا رہائشی تھا جبکہ اس کی لاش تھانہ خیر پور سادات کی حدود میں برآمد ہوئی۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور جلد پیش رفت متوقع ہے۔

  • گوجرہ: نہر سے تیرتی ہوئی نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    گوجرہ: نہر سے تیرتی ہوئی نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    گوجرہ(باغی ٹی وی،نامہ نگار عبدالرحمن جٹ) نہر سے تیرتی ہوئی نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    تفصیل کے مطابق تھانہ صدر گوجرہ کے نواحی علاقے چک نمبر 283 ج ب کے قریب نہر جھنگ برانچ سے ایک مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ یہ نہر فیصل آباد سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف جاتی ہے۔ لاش نہر کے کنارے آ کر رک گئی، جس کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

    ریسکیو 1122 کی مدد سے لاش کو نہر سے نکال کر بیگ میں ڈال کر ضروری کارروائی کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرہ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے لاش کے ورثاء کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • قصور: پریس کلب کے آئین کی بحالی ، مشاورتی اجلاس، رابطہ کمیٹی تشکیل

    قصور: پریس کلب کے آئین کی بحالی ، مشاورتی اجلاس، رابطہ کمیٹی تشکیل

    قصور (باغی ٹی وی،بیورو رپورٹ) پریس کلب قصور کے بانی چیئرمین ڈاکٹر فضل رحیم نے مشاورتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سینئر اور جونئیر صحافیوں کی عزت کی جانی چاہیے اور سب کو مل کر پریس کلب اور آئین کی بحالی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو صحافی اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، انہیں بھی مشاورت میں شامل کیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تمام گروپوں کی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

    اجلاس میں صحافیوں کی مشاورت سے سینیئر ممبران پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں راجہ محمد یونس کیانی ایڈووکیٹ، چوہدری زاہد حسین، ڈاکٹر امتیاز بھٹی، شفیق سالک، ڈاکٹر یوسف ارائیں، ڈاکٹر آصف اقبال، رحمت علی طاہر، عمر مغل، اطہر قصوری اور شریف سوہڈل ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد پریس کلب قصور میں آئین کے مطابق انتخابات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    ڈاکٹر فضل رحیم نے کہا کہ پریس کلب قصور میں 30 دسمبر تک انتخابات ضروری ہیں تاکہ جمہوری عمل کی بحالی ہو اور پریس کلب کی رونقیں واپس آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے صحافیوں کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔ اجلاس میں بانی ممبر محمد رفیق نٹار، سینئر صحافیوں اور دیگر معززین نے شرکت کی اور پریس کلب کی بحالی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔