Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ:ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت 1,485 دیہات میں صفائی،5واں فیز 12 نومبر کو مکمل ہوگا

    سیالکوٹ:ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت 1,485 دیہات میں صفائی،5واں فیز 12 نومبر کو مکمل ہوگا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، چودھری طارق سبحانی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت "ستھرا پنجاب پروگرام” کے تحت ضلع سیالکوٹ کے 1,485 دیہات میں باقاعدگی سے صفائی کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کا فیز فائیو کامیابی سے جاری ہے اور اب تک مجموعی طور پر 3 لاکھ 45 ہزار 476 صفائی، ویسٹ لفٹنگ اور ڈمپنگ کی سرگرمیاں انجام دی جا چکی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال کے ہمراہ ضلع میں پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔

    اجلاس میں ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عمر امجد بیگ، ایکسئین سروسز ضلع کونسل محمد ریاض، سینئر آپریشن مینیجر ایس ڈبلیو ایم سی مجاہد رسول، اور ایڈمن آفیسر فہد جاوید بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے بتایا کہ ایس ڈبلیو ایم سی کی زیر نگرانی ضلع کی 119 دیہی یونین کونسلز میں صفائی کا فیز فائیو جاری ہے، جس میں 357 سینٹری ورکرز اور 119 لوڈر رکشہ جات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ہر گاؤں میں عارضی سالڈ ویسٹ کلیکشن پوائنٹ سے کوڑا کرکٹ ہیوی مشینری کے ذریعے لینڈ فل سائیٹ پر منتقل کیا جاتا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ فیز فائیو 12 نومبر رات 12 بجے مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد 13 نومبر کو سیالکوٹ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ضلع کی چاروں تحصیلوں میں صفائی کی ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔ یکم ستمبر سے شروع ہونے والے اس پروگرام کے تحت 58 دیہی یونین کونسلز میں تقریباً 1,400 رورڑیوں (بلک ویسٹ) کو اٹھایا گیا ہے اور 23 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کو لفٹ کیا گیا۔

    چودھری طارق سبحانی نے ایس ڈبلیو ایم سی حکام کو ہدایت کی کہ 13 نومبر کو ورکس فورس کے ساتھ فلڈ آپریشن شروع کریں اور صفائی کے مربوط نظام کو سائنٹیفک بنیادوں پر مزید بہتر بنائیں۔

  • سیالکوٹ سمیت پنجاب کے چار ڈویژنز میں سموگ کے باعث مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم

    سیالکوٹ سمیت پنجاب کے چار ڈویژنز میں سموگ کے باعث مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) حکومت پنجاب نے سموگ کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان ڈویژنز کے تمام اضلاع میں آج سے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈی جی ادارہ تحفظ ماحول، ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ پابندی 11 نومبر سے 17 نومبر تک نافذ رہے گی۔

    فیصلے کے تحت تمام شاپنگ مالز، دکانیں اور ریسٹورینٹس رات 8 بجے بند ہوں گے جبکہ آؤٹ ڈور ڈائننگ پر بھی پابندی ہوگی۔ چاروں ڈویژنز میں آؤٹ ڈور فیسٹیولز اور کنسرٹس پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم، فارمیسز، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، اور بیکریوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا اور بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کے گروسری ایریاز کو کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی۔ یہ اقدامات سموگ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 (6) پنجاب ترمیمی ایکٹ 2024ء کے تحت ضلع سیالکوٹ میں فصلوں کی باقیات اور کوڑے کے جلانے، آتش بازی اور صنعتی آلودگی پھیلانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو کر آئندہ 7 روز تک مؤثر رہے گا۔ ان اقدامات کا مقصد سموگ کی شدت کو کم کرنا اور عوام کو اس کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔

  • سیالکوٹ: مغربی سمبڑیال میں واٹرسپلائی پائپ لائن پھٹ گئی،عملہ غائب، شہری پریشان

    سیالکوٹ: مغربی سمبڑیال میں واٹرسپلائی پائپ لائن پھٹ گئی،عملہ غائب، شہری پریشان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) سیالکوٹ کے علاقے پلی دربارستارشاہ ولی محلہ مغربی سمبڑیال میں سرکاری واٹرسپلائی کی مین پائپ لائن تین دن سے پھٹی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں پانی کا ضیاع جاری ہے اور گھروں میں پانی کی سپلائی کا پریشر انتہائی کم ہوگیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، شہریوں کا کہنا ہے کہ تین دن قبل واٹرسپلائی کی مین پائپ لائن میں فنی خرابی کے باعث پھٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس سے پانی کا ضیاع مسلسل جاری ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ اس مسئلے کی وجہ سے نہ صرف گھروں میں پانی کی سپلائی کا پریشر کم ہوگیا ہے بلکہ کئی گھریلو صارفین پانی کی کمی کا شکار ہیں، جس سے ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس پائپ لائن کی خرابی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دی گئی ہے، لیکن تاحال اس کی مرمت یا پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ شہریوں نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر واٹرسپلائی کی مین پائپ لائن کی مرمت کی جائے تاکہ پانی کا ضیاع روکا جا سکے اور گھریلو صارفین کو پانی کی مکمل سپلائی فراہم کی جا سکے۔

    علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار شکایات درج کروا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ پانی کی سپلائی میں ہونے والی کمی کو دور کیا جا سکے اور عوام کی پریشانی ختم ہو۔

  • جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    تفصیلات کے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں حالیہ دنوں میں پاکستانی شہریوں کو ویزا کے اجرا میں مشکلات اور سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ پابندیاں ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، بھکر اور میانوالی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر خاص طور پر لاگو کی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، کچھ پاکستانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اماراتی قوانین پر طنزیہ تبصرے اور بعض افراد کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شاپنگ مالز اور شاہراہوں پر ہنگامہ آرائی، ذاتی دشمنیوں کے نتیجے میں لڑائی جھگڑے اور قتل کے واقعات شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت متعدد پاکستانیوں کو قید اور کچھ کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے مجرمانہ سرگرمیوں پر سخت کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزے معطل کیے گئے ہیں۔ سلطنت عمان اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں نے بھی پاکستانیوں کی گرفتاری اور ملک بدری کے اقدامات کیے ہیں۔ خلیجی ممالک نے حال ہی میں ایک مشترکہ سافٹ ویئر سسٹم متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے بلیک لسٹ کیے گئے افراد کا ڈیٹا تمام ریاستوں میں شیئر کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ریاست میں ممنوع قرار دیا گیا شخص دیگر ریاستوں میں بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔

    اس صورتحال نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے، جو روزگار کے مواقع کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ویزے کی معطلی اور پابندیاں ان کے لیے روزگار کے مواقع مزید محدود کر رہی ہیں۔ عوامی حلقے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ چند افراد کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو سزا نہ دی جائے۔ حکومت پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کرے اور اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرے تاکہ ویزوں کی بحالی اور وہاں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ و اوورسیز کو چاہئے کہ وہ تمام خلیجی ممالک سے اس مسئلے کے حل کے لیے بامقصد مذاکرات کریں اور پاکستانی نوجوانوں کے اجتماعی مسائل کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں۔ کسی ایک فرد کے انفرادی جرم کی سزا پوری کمیونٹی پر نہ دی جائے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے قوانین کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے وہاں قیام اور روزگار کے مواقع بہتر بنائے جائیں۔ مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو فروغ دیا جائے اور ایسی متفقہ پالیسیاں بنائی جائیں جن سے دونوں فریقین کے مفادات محفوظ رہ سکیں۔

  • ننکانہ : انسداد سموگ مہم جاری، عملی اقدامات  سے انتظامیہ کوسوں دور

    ننکانہ : انسداد سموگ مہم جاری، عملی اقدامات سے انتظامیہ کوسوں دور

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) انسداد سموگ آگاہی مہم جاری، عملی اقدامات سے انتظامیہ کی دوری پر عوام کا شکوہ

    تفصیل کے مطابق ضلع ننکانہ صاحب میں انسداد سموگ کے حوالے سے آگاہی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے ضلعی افسران کے ہمراہ شہر کے مختلف بازاروں کا دورہ کیا اور شہریوں اور تاجران میں فیس ماسک تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مریضوں اور ان کے لواحقین کو بھی ماسک فراہم کیے اور سموگ کے نقصانات سے آگاہ کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع کی تمام تحصیلوں میں شہریوں میں ماسک تقسیم کیے جا رہے ہیں اور انہیں سموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ سموگ کے خاتمے کے لیے 30 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور اس حوالے سے سموگ پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

    تاہم دوسری جانب عوام اور سماجی حلقوں نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سموگ روکنے کے عملی اقدامات میں انتظامیہ کوتاہی برت رہی ہے۔ دھان کی فصل کے باقیات کو جلانا، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں، بھٹے اور فیکٹریاں سموگ کے بڑے عوامل ہیں مگر ان کے خلاف ابھی تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ شہریوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور سموگ پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • سیالکوٹ: 9 سالہ بچہ منشیات کی اسمگلنگ میں گرفتار

    سیالکوٹ: 9 سالہ بچہ منشیات کی اسمگلنگ میں گرفتار

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر مدثر رتو کی رپورٹ) پنجاب پٹرولنگ پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے 9 سالہ کمسن بچے سلمان گل خان کو گرفتار کر لیا۔

    اطلاعات کے مطابق بچے کو پشاور سے مختلف گاڑیاں بدل کر ڈسکہ پہنچنے کی کوشش میں روکا گیا۔ انچارج پٹرولنگ پولیس گلوٹیاں موڑ یاسر محمود نے بتایا کہ انہیں مخبر خاص کی جانب سے اطلاع ملی تھی کہ منشیات کا ایک بڑی کھیپ کمسن ملزم کے ذریعے سپلائی کی جارہی ہے۔

    آپریشن کے دوران گوجرانوالہ میں ایک بلا نمبری رکشے کو روکا گیا جس میں سلمان موجود تھا۔ تلاشی کے دوران 2400 گرام منشیات برآمد ہوئی۔ یہ معاملہ اس لحاظ سے توجہ طلب ہے کہ اتنی کم عمر میں بچے کو منشیات کی نقل و حمل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا اور خطرناک رجحان ہے جس میں بچے کو منشیات اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور کمیونٹی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ انہیں جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس کے نمائندے کے مطابق اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے پیچھے موجود افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جا سکے۔ فی الحال گرفتار بچہ حفاظتی تحویل میں ہے اور اس کے پس منظر کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔

  • اوچ شریف: حسینی چوک کے قریب 14 سالہ لڑکی نہر میں ڈوب گئی

    اوچ شریف: حسینی چوک کے قریب 14 سالہ لڑکی نہر میں ڈوب گئی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے علاقے حسینی چوک کے قریب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں 14 سالہ لڑکی کپڑے دھوتے ہوئے نہر میں گر کر ڈوب گئی۔ لڑکی کا نام نہیں بتایا گیالیکن وہ محمد ریاض کی بیٹی تھی۔ اس واقعے کے بعد اس کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔

    یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لڑکی نہر کے کنارے کپڑے دھورہی تھی اور اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا۔ نہر کی گہرائی تقریباً 15 فٹ اور چوڑائی 45 فٹ ہے، جس کی وجہ سے تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ غوطہ خور اور کشتی کے ذریعے لڑکی کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور یہ آپریشن ابھی جاری ہے۔

  • گوجرہ: دھند کے باعث حادثہ، نوجوان جاں بحق، بچی زخمی

    گوجرہ: دھند کے باعث حادثہ، نوجوان جاں بحق، بچی زخمی

    گوجرہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار عبد الرحمن جٹ) گوجرہ مونگی بنگلہ روڈ پر جمعرات کی صبح دھند کے باعث ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں ایک نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ ایک کم عمر بچی شدید زخمی ہوگئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب چک 158 گ ب اضافی آبادی اوڈوں والی کے رہائشی عامر ولد عبد الغفار اپنی موٹر سائیکل پر چھوٹی بچی کے ہمراہ گاؤں جا رہے تھے۔

    ذرائع کے مطابق شدید دھند کے باعث عامر کو آگے چلتی ہوئی ٹریکٹر ٹرالی نظر نہ آئی اور ان کی موٹر سائیکل ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ عامر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ ان کے ساتھ موجود بچی شدید زخمی ہوئی جسے فوری طور پر ریسکیو 1122 کے عملے نے طبی امداد فراہم کرتے ہوئے گورنمنٹ آئی کام جنرل ہسپتال گوجرہ منتقل کر دیا۔

    حادثے کے فوراً بعد ٹریکٹر ٹرالی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔

  • مہنگا گھی، بے حس حکمران، عوام کہاں جائیں؟

    مہنگا گھی، بے حس حکمران، عوام کہاں جائیں؟

    مہنگا گھی، بے حس حکمران، عوام کہاں جائیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے مگر پاکستان ایساملک جہاں ان مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس تضاد کی کئی وجوہات ہیں جن میں پالیسی سازوں کی ناکام حکومتی پالیسیاں اور اقتصادی فیصلے شامل ہیں جو عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔

    سب سے پہلے حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے اضافی ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹی کو دیکھا جائے تو یہ صاف طور پر عوام کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ حکومت نے خام مال پر اضافی ٹیکس لگایا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ملکی پیداوار بلکہ درآمد شدہ مال کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ یہ اضافہ بالآخر عوام پرمہنگائی بم بن کر پھٹا اور نتیجتاََ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں۔ پالیسی سازوں کی اس کمزور اقتصادی حکمت عملی سے نہ صرف کاروبار کو نقصان پہنچا بلکہ عوام کے لیے بھی زندگی گزارنا مشکل بنا دیاہے۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں پروسیسنگ اور پیکیجنگ کی قیمتوں میں اضافے کا بھی ایک بڑا ہاتھ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے پر نظرثانی اور اصلاحات کی کمی نے ان اخراجات کو بڑھایا ہے جس کا بوجھ بھی عوام پر آ پڑا۔ مارکیٹنگ اور تقسیم کے اخراجات میں بھی اضافے کی وجہ سے قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں کیونکہ کمپنیاں اپنے برانڈز کی تشہیر اور فروغ کے لیے زیادہ خرچ کر رہی ہیں اور ان اضافی اخراجات کا بوجھ بھی عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے کمپنیوں کی ناجائز منافع خوری کی پالیسیاں بھی ہیں جنہیں حکومت کی کمزور نگرانی اور عدم مداخلت کا فائدہ حاصل ہے۔ یہ کمپنیاں عالمی سطح پر پام آئل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دے رہی ہیں بلکہ اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے قیمتیں مزید اضافہ کردیا ہے۔ حکومت نے ان کمپنیوں پر مناسب چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا جس کے نتیجے میں عوام کو مہنگے داموں گھی اور تیل خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کی موجودہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ع،لی طور مارکیٹوں میں مہنگائی کے سونامی میں پس کر رہ گئی ہے۔ حکومتی دعوے صرف اعداد و شمار تک محدود ہیں جبکہ عوام کے روزمرہ کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ حکومت نے عوامی مشکلات کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے اور گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے مئوثر پالیسی نہیں بنائی۔ حکومت رٹ نہ ہونے اور غلط فیصلوں کی وجہ سے قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، جس کابرا اثر عوام کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔

    اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے تو اسے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔بے جا ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی کرنا ضروری ہے تاکہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں کم کی جا سکیں۔ حکومت کو کمپنیوں کی منافع خوری کی پالیسیوں پر قابو پانے کے لیے سخت
    اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاء آسانی سے مل سکیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو قیمتوں کے کنٹرول کے لیے فوری طور پر ئومئوثر اقدامات کرتے ہوئے آفیسران کی فوج ظفرموج کو بند کمروں سے باہر نکالنا ہوگا تاکہ عوام کی مشکلات میںخاطرخواہ کمی لائی جا سکے۔

    اگر حکومتی پالیسیوں میں فوری طور پر تبدیلیاں نہ کی گئیں تو عوام کو اس مہنگائی کے طوفان سے نجات ملنا مشکل ہو جائے گا۔جب تک حکومت اس بحران کے حل کے لیے سنجیدہ اور مئوثر اقدامات نہیں کرے گی تو اس وقت تک عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری ممکن نہیںپائے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ پالیسی سازوں کی ناقص حکومتی پالیسیاں اور منافع خوری کے مسائل عوام کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں اور اگر فوری طور پر ان پر قابو نہ پایا گیا تو مہنگائی کا یہ بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔

  • وزیراعلیٰ کے سموسے کس نے کھائے؟ تحقیقات اور سیاسی ہنگامہ

    وزیراعلیٰ کے سموسے کس نے کھائے؟ تحقیقات اور سیاسی ہنگامہ

    باغی ٹی وی:بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں حالیہ دنوں "سموسہ سیاست” خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، جہاں وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو کے سموسے غائب ہونے پر سی آئی ڈی تحقیقات کر رہی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ کانگریس کے وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے شملہ میں سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کی میزبانی کے لیے سموسے منگوائے گئے تھے، مگر غلطی سے یہ سموسے ان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو پیش کر دیے گئے۔ جیسے ہی یہ بات سامنے آئی، سی آئی ڈی کے سینئر افسر نے پروٹوکول کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت کی۔

    یہ معاملہ اس وقت زیادہ طول پکڑ گیا جب سی آئی ڈی کی جانب سے سموسے کی تحقیقات شروع ہونے کی خبر منظر عام پر آئی۔ اپوزیشن میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس معاملے کو سیاسی مسئلہ بنا لیا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ کئی بی جے پی رہنماؤں نے طنزیہ طور پر وزیراعلیٰ کو سموسے بھیجنے کی پیشکش کی۔

    وزیراعلیٰ سکھو نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے پر اپوزیشن اور میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور وضاحت کی کہ اصل میں یہ انکوائری پولیس اہلکاروں کے رویے سے متعلق ہے، نہ کہ سموسوں کے متعلق۔ سی آئی ڈی کے ڈائریکٹر رانجھن اوجھا نے کہا کہ انکوائری کا مقصد حقیقت جاننا اور معلومات کے لیک ہونے کی وجہ تلاش کرنا ہے، نہ کہ کسی اہلکار کے خلاف کارروائی کرنا۔