Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرہ: حادثے میں ماں بیٹا جاں بحق، خاتون شدید زخمی

    گوجرہ: حادثے میں ماں بیٹا جاں بحق، خاتون شدید زخمی

    گوجرہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار عبد الرحمن جٹ)حادثے میں ماں بیٹا جاں بحق، خاتون شدید زخمی

    تفصیلات کے مطابق گوجرہ موچی والا روڈ پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں ماں اور بیٹا جاں بحق جبکہ ایک عورت شدید زخمی ہوگئی۔ ایک مرد اور دو خواتین موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گوجرہ شہر کی طرف آرہے تھے کہ قارد آباد کے قریب دھند کی وجہ سے سڑک کنارے کھڑے ٹریکٹر سے جا ٹکرائے۔

    حادثے کے نتیجے میں عشرت بی بی زوجہ ارشد علی اور ان کے بیٹے طیب ولد ارشد علی دونوں کا تعلق گاؤں 348 ج ب سے تھا، موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جبکہ انعم بی بی دختر شفاقت جو مقبول پورہ 348 ج ب کی رہائشی ہیں، شدید زخمی ہوگئیں۔ جاں بحق اور زخمیوں کو ریسکیو 1122 کے ذریعے گورنمنٹ آئی کام جنرل اسپتال گوجرہ منتقل کیا گیا۔

    مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی شروع کردی ہے۔ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، جس کی تلاش جاری ہے۔

  • تنگوانی:  دریا ئے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف جسقم کا احتجاجی دھرنا

    تنگوانی: دریا ئے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف جسقم کا احتجاجی دھرنا

    تنگوانی (باغی ٹی وی،نامہ نگارمنصوربلوچ) تنگوانی میں بدامنی اور سندھوں دریا سے نئی کینال نکالنے کے خلاف جسقم کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا۔

    احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جسقم کے چیئرمین صنعان قریشی نے کہا کہ سندھوں دریا سے نئے کینال نکالنا نامنظور ہے اور ہم سندھ حکومت کی ایسی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں۔

    صنعان قریشی نے مزید کہا کہ سندھ کے چار اضلاع، کشمور، گھوٹکی، شکارپور، اور سکھر میں امن و امان کی صورتحال انتہا درجے تک خراب ہے۔ ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور اس صورتحال کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان اضلاع میں امن و امان بحال کیا جائے، ورنہ مزید سخت احتجاج کیا جائے گا۔

    جسقم جساف کے چیئرمین نے اقلیتی ہندو برادری پر ہونے والے ظلم و ستم کو بھی روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان مظالم کو فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔

  • مظفرآباد :کنگراں لنک روڈ 5 ماہ  میں بھی نہ بن سکا، علاقہ مکین پریشان

    مظفرآباد :کنگراں لنک روڈ 5 ماہ میں بھی نہ بن سکا، علاقہ مکین پریشان

    مظفرآباد (باغی ٹی وی رپورٹ) حلقہ 2 لچھراٹ کنگراں روڈ کی تعمیر کا کام پانچ ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پانچ ماہ قبل کنگراں لنک روڈ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہ روڈ آدھ کلومیٹر لمبا ہے اور اس کی تعمیر کا ٹینڈر ٹھیکیدار وسیم شاہ کو دیا گیا تھا۔ ٹھیکیدار نے ابتدائی طور پر کام ایمانداری سے شروع کیا اور سولنگ بھی جلد مکمل کی لیکن اس کے بعد کام میں مسلسل تاخیر کا شکار ہو گیا۔

    پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود روڈ کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی۔ ٹھیکیدار وسیم شاہ کام چھوڑ کر فرار ہو گیا، جس کے بعد اس نے سارا ملبہ محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے متعلقہ آفیسرز پر ڈال دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ جب تک فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے، وہ کام مکمل نہیں کر سکتا۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ روڈ کی تکمیل نہ ہونے کے باعث ان کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس روڈ پر گاڑیوں کا سفر تو دور، پیدل چلنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ٹھیکیدار کو فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ کنگراں لنک روڈ کی تعمیر مکمل ہو سکے اور عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • قاتل سموگ، ذمہ دار کون؟

    قاتل سموگ، ذمہ دار کون؟

    قاتل سموگ، ذمہ دار کون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پاکستان میں سموگ کا مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جو ہر سال شہریوں کی صحت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ سموگ کے پھیلاؤ میں کئی عوامل شامل ہیں، جن میں کسانوں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ کسانوں کی جانب سے دھان کی پرالی جلانا، صنعتی فضلہ، بھٹوں سے نکلنے والی آلودگی اور شہروں میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں سموگ کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے باعث فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

    گذشتہ کچھ سالوں میں کسانوں نے دھان کی فصل کی کٹائی کے دوران تھریشر مشینوں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ اس سے فصل کی گہائی کا عمل تیز ہو گیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی پرالی جلانے کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ زیادہ تر کسان پرالی کو آگ لگا کر ختم کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کو ٹھکانے لگانے کے دوسرے سستے اور آسان طریقے نہیں ہیں۔ پرالی جلانے سے زہریلی گیسیں اور دھواں فضا میں پھیلتا ہے، جو سموگ کی شدت کو بڑھاتا ہے۔ اسی طرح کھیتوں میں مڈھوں کو جلانے کا عمل بھی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔کسانوں کا یہ عمل اس وجہ سے ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کا مکمل علم نہیں ہوتا کہ پرالی جلانے سے فضائی آلودگی بڑھتی ہے اور سموگ کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب کسانوں کے پاس وہ وسائل نہیں ہیں جو انہیں پرالی کو بامقصد استعمال میں لانے کے لیے درکار ہیں۔ جدید مشینری اور کھاد بنانے کے طریقے مہنگے ہیں اور چھوٹے کسان ان اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے وہ پرالی کو جلانے کو ہی آسان اور سستا طریقہ سمجھتے ہیں۔

    سموگ کے پھیلاؤ میں انڈسٹریوں کا بھی اہم کردار ہے۔ بہت سی صنعتوں سے فضائی آلودگی کے اخراج کی روک تھام کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا۔ انڈسٹریوں سے نکلنے والا دھواں اور زہریلی گیسیں فضا کو آلودہ کرتی ہیں جس سے سموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ انڈسٹریل یونٹس میں فضلے کو مئوثر طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، جو اکثر غیرمئوثریا مہنگی ہوتی ہے۔

    سموگ پھیلانے میں اینٹوں کے بھٹوں کو نظربھی انداز نہیں کیا جاسکتا ، جدیدٹیکنالوجی پر منتقل نہ ہونے والے اور خاص طور پر اینٹیں بنانے والے وہ بھٹے جو عام طور پر لکڑی یا کوئلے کی بجائے ربڑ، گندے کپڑے اور کچرا جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، فضا میں انتہائی خطرناک آلودگی چھوڑتے ہیں۔ یہ بھٹے فضائی آلودگی کے لیے اہم ذرائع بنتے ہیں کیونکہ ان میں جلنے والا فضلہ زہریلی گیسوں کے اخراج کا باعث بنتا ہے، جس سے سموگ میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فضا میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسیں شامل ہو جاتی ہیں جو نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتی ہیں بلکہ انسانوں کی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔

    شہری علاقوں میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی سموگ کا ایک بڑا سبب ہے۔ غیر معیاری ایندھن کا استعمال اور پرانی گاڑیاں سموگ کی شدت میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا دبا ؤبھی گاڑیوں سے نکلنے والی گیسوں کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جو آلودگی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، سموگ کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے سانس کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے مسائل، دمہ، آنکھوں میں جلن اور دل کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور وہ لوگ جو پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہیں، سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    سموگ کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو پرالی کے بہتر استعمال کی تربیت دے اور انہیں مالی معاونت فراہم کرے تاکہ وہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کر سکیں۔ اس کے علاوہ انڈسٹریز میں فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بھٹوں پر نگرانی بڑھا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ صرف معیاری ایندھن کا استعمال کریں تاکہ فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔ شہروں میں گاڑیوں کے معائنہ اور دیکھ بھال کے نظام کو مئوثر بنانا ضروری ہے تاکہ گاڑیوں سے نکلنے والی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔

    اگر حکومتی سطح پر سموگ پیدا کرنے والے عوامل پر کنٹرول کرنے کے لیے کوئی واضح پالیسی یا حکمت عملی نہ بنائی گئی تو شہری یونہی سموگ کے زہر سے متاثر ہو کر خطرناک بیماریوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔ سموگ کا یہ عفریت بڑھتا جائے گا اور اس کا اثر عوام کی زندگیوں پر مزید منفی پڑے گا۔ ان تمام مسائل کے پھیلا ؤکی واحد اور بنیادی ذمہ دار حکومت ہی ہے، جس کی غفلت اور کمزورپالیسیوں کے باعث یہ سنگین بحران جنم لے چکا ہے۔ اگر حکومت نے اس مسئلے کی طرف فوری توجہ نہ دی اور عملی اقدامات نہ اٹھائے تو یہ بحران پورے ملک کی صحت اور ماحول کو اپنی لپیٹ لے کر ایک بہت بڑا خطرہ بن جائے گا۔

  • ملتان آلودہ ترین شہر پہلے نمبرپرآگیا، ایئر کوالٹی خطرناک سطح پر پہنچ گئی

    ملتان آلودہ ترین شہر پہلے نمبرپرآگیا، ایئر کوالٹی خطرناک سطح پر پہنچ گئی

    ملتان، جو پاکستان کے جنوبی پنجاب کا اہم ترین شہر ہے، حالیہ دنوں میں شدید فضائی آلودگی کا شکار ہو گیا ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) نے 1900 کی خطرناک سطح کو پار کر لیا ہے، جس نے اسے پاکستان کا سب سے آلودہ شہر بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودگی شہریوں کی صحت پر نہایت مہلک اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر سانس، پھیپھڑوں، دل کی بیماریوں اور آنکھوں کی حساسیت کا شکار افراد کے لئے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

    فضائی آلودگی کی صورتحال صرف ملتان تک محدود نہیں ہے۔ لاہور جو پہلے ہی آلودگی کے مسائل سے جوجھ رہا ہے، پاکستان کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار پایا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں بھی دھند اور اسموگ نے ڈیرے ڈال لیے ہیں، جس سے روز مرہ کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    دھند اور اسموگ کے باعث موٹروے پر کئی اہم مقامات کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے ایم 1 چارسدہ سے اکبرپورہ تک، موٹروے ایم 2 لاہور سے کوٹ سرور تک، موٹروے ایم 3 سمندری سے درخانہ اور ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم تک بند کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح، موٹروے ایم فائیو پر شیر شاہ سے جھانگڑہ تک اور لاہور سیالکوٹ موٹروے کو بھی ٹریفک کیلئے بند کیا گیا ہے۔

    اسموگ سے نمٹنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں رات 8 بجے تمام بازار بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں، اتوار کے روز پنجاب بھر میں تمام بازار مکمل طور پر بند رہیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد اسموگ کے اثرات کو کم کرنا اور شہریوں کی صحت کو محفوظ بنانا ہے۔

    حکومتی اقدامات کے تحت پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ سے متاثرہ چار ڈویژنز کے 18 اضلاع میں کھیلوں کے میدان، عجائب گھر اور چڑیا گھر سمیت تمام تفریحی مقامات 17 نومبر تک بند کر دیے گئے ہیں۔ لاہور والڈ سٹی اتھارٹی نے بھی 17 نومبر تک تمام سیاحتی اور تفریحی پروگرام اور تقریبات معطل کر دی ہیں۔

    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسموگ کے مسئلے کے مستقل حل کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ صنعتوں، گاڑیوں اور دھان کی فصل کے باقیات جلانے سے ہونے والی آلودگی کو روکنے کے لئے سخت قوانین اور ان کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق آلودگی پر قابو پانے کے لئے درختوں کی شجر کاری، متبادل ایندھن کا استعمال اور صنعتوں میں جدید آلات کی تنصیب جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • گوجرانوالہ:شہر سموگ کی زد میں، عوام پریشان، انتظامیہ کی غفلت وکرپشن بے نقاب

    گوجرانوالہ:شہر سموگ کی زد میں، عوام پریشان، انتظامیہ کی غفلت وکرپشن بے نقاب

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تحفظ ماحولیات عوام کو سموگ اور فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات سے بچانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ علاقے میں قائم کینن انٹرپرائزز اینڈ میٹل ورکس کی بھٹیاں مسلسل زہریلا دھواں چھوڑ رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف تعلیمی ادارے بند ہیں۔

    اہلِ علاقہ اور قرب و جوار کے رہائشی سانس کی بیماریوں، دمہ، پھیپھڑوں کے امراض، آنکھوں میں چبھن، الرجی اور دل کے امراض جیسے شدید مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تحفظ ماحولیات شہر کو سموگ اور آلودگی سے پاک کرنے اور صنعتی یونٹس کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ کینن انٹرپرائزز اینڈ میٹل ورکس اور شیخوپورہ روڈ پر قائم دیگر فیکٹریاں زہریلا دھواں چھوڑ کر عوام کی صحت کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔

    عوامی شکایات کے مطابق متعدد فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کو سیل کیے جانے کے بعد کچھ ہی دیر میں دوبارہ کھول دیا جاتا ہے۔ بااثر فیکٹری مالکان ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تحفظ ماحولیات کے افسران کو مبینہ طور پر رشوت دے کر کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔

    عوام نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، ڈی جی ماحولیات اور سیکرٹری ہیلتھ سے فوری نوٹس لے کر غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سموگ اور فضائی آلودگی کے اس عذاب سے نجات حاصل کی جا سکے۔

  • راجن پور: پولیس مقابلے میں اشتہاری ڈاکو شاہد لُنڈ ہلاک

    راجن پور: پولیس مقابلے میں اشتہاری ڈاکو شاہد لُنڈ ہلاک

    راجن پور(باغی ٹی وی ) پولیس مقابلے میں اشتہاری ڈاکو شاہد لُنڈ ہلاک

    راجن پور کے علاقے کچہ بنگلہ اچھا میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں خطرناک اشتہاری مجرم شاہد لُنڈ مارا گیا۔ ضلعی پولیس افسر کے مطابق شاہد لُنڈ کی گرفتاری پر حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر تھا۔ وہ پولیس اہلکاروں کے قتل، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ڈاکو نے سوشل میڈیا پر متعدد بار پولیس کو براہِ راست دھمکیاں دی تھیں۔ اگست میں شاہد لُنڈ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ محکمہ داخلہ کے نمبر پر کال کر کے اپنی بات چیت ریکارڈ کروا رہا تھا۔ اس ویڈیو میں شاہد لُنڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ انعامی فہرست میں اس کا نام غلط طور پر سب سے اوپر رکھا گیا ہے اور اصل مجرموں کے نام شامل نہیں کیے گئے۔ اس نے فہرست کو دوبارہ ترتیب دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

    پولیس حکام کے مطابق شاہد لُنڈ کی ہلاکت سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔

  • اوچ شریف: دھان کی باقیات جلانے سے اسموگ میں اضافہ، شہری پریشان، متعلقہ ادارے خاموش

    اوچ شریف: دھان کی باقیات جلانے سے اسموگ میں اضافہ، شہری پریشان، متعلقہ ادارے خاموش

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے اسموگ میں اضافہ، شہری پریشان، متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ

    اوچ شریف اور تحصیل بھر میں دھان کی باقیات کو جلانے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری شدید تشویش کا شکار ہیں جبکہ متعلقہ ادارے اس صورتحال پر خاموش ہیں۔ عوام نے ڈپٹی کمشنر بہاول پور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، کسانوں کی جانب سے دھان کی باقیات کو جگہ جگہ جلایا جا رہا ہے، جو کالے دھویں کے ذریعے فضائی آلودگی کو بڑھا رہا ہے۔ یاد رہے کہ عدالت عالیہ نے فصلوں کی باقیات کو جلانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس آلودگی سے اسموگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عوامی و سماجی حلقے پریشان ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ زراعت اوچ شریف کے عملے کی مبینہ ملی بھگت اور نااہلی کے باعث کسان کھلے عام ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوچ شریف: ملت ایکسپریس کی زد میں آ کر ذہنی معذور شخص جاں بحق

    اوچ شریف: ملت ایکسپریس کی زد میں آ کر ذہنی معذور شخص جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان): کراچی سے ملتان جانے والی ملت ایکسپریس ٹرین کی زد میں آ کر ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو سٹاف نے موقع پر پہنچ کر متوفی کی نعش کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملت ایکسپریس ٹرین احمد پور شرقیہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پہنچی اور دوسری جانب سے ذہنی توازن سے مفلوج شخص اللہ دتہ ریلوے لائن کراس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ٹرین کی زد میں آنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔

    اطلاع پر ریسکیو ٹیم اور مقامی پولیس فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔ متوفی اللہ دتہ مدنی کالونی احمد پور شرقیہ کا رہائشی تھا۔

  • میرپورخاص: چوری شدہ موبائلز کی روک تھام کے لیے ایس او پی نافذ، خلاف ورزی پر کارروائی

    میرپورخاص: چوری شدہ موبائلز کی روک تھام کے لیے ایس او پی نافذ، خلاف ورزی پر کارروائی

    میرپورخاص(باغی ٹی وی،نامہ نگارسیدشاہزیب شاہ) چوری شدہ موبائل کی خرید و فروخت روکنے کے لیے ایس او پی نافذ، خلاف ورزی پر کارروائی کا آغاز

    تفصیل کے مطابق ایس ایس پی میرپورخاص شبیر سیٹھار نے موبائل مارکیٹ میں چوری شدہ موبائل فونز کی خرید و فروخت روکنے کے لیے ایس او پی تیار کرلی ہے، جس پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے جمعہ کے روز بند مارکیٹ میں موبائل فون کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، جس میں 15 مددگار پولیس نے 20 افراد کو حراست میں لے کر 30 سے زائد موبائل فونز برآمد کر لیے۔

    ایس ایس پی شبیر سیٹھار نے کہا کہ دکانداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہر موبائل فروخت کرنے والے سے قومی شناختی کارڈ کی کاپی جمع کریں، بصورت دیگر استعمال شدہ موبائل فون نہ خریدیں۔ جمعہ کے روز مارکیٹ بند ہونے پر چوری شدہ موبائل فونز کی فروخت روکنے کے لیے کارروائیاں کی جائیں گی، جو دوکانداروں اور عوام کی سہولت کے لیے ضروری ہے۔