Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • 50 ہزار پاکستانی زائرین،عراق میں غائب،بیشتر زیارت گاہوں پربھیک مانگنے  لگے

    50 ہزار پاکستانی زائرین،عراق میں غائب،بیشتر زیارت گاہوں پربھیک مانگنے لگے

    باغی ٹی وی :عراق میں زیارت کے نام پر جانے والے پاکستانیوں کے غائب ہونے کا سلسلہ جاری ہے، جس پر پاکستانی سفارت خانے نے وزارت داخلہ کو ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کیا ہے۔ اس مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں 50 ہزار سے زائد پاکستانی عراق میں "سلپ” ہو چکے ہیں جو کہ عراقی حکام اور پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کے علاقائی دفاتر کو متحرک کیا ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق عراقی پولیس نے کئی پاکستانیوں کو غیر قانونی قیام کے جرم میں گرفتار کیا، جن میں سینکڑوں خواتین اور مرد شامل ہیں۔ ان افراد کو بعد میں ایمرجنسی پاسپورٹ جاری کر کے واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔ پاکستانی سفارت خانے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے ٹریول ایجنٹ لوگوں کو ملازمت کے جھانسے دے کر 5 سے 6 لاکھ روپے وصول کرتے ہیں لیکن انہیں زیارت کے قافلوں میں شامل کر کے بھیج دیا جاتا ہے۔

    زیارت کے لیے جانے والے ہر شخص پر 70 ہزار سے 1 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے جبکہ باقی رقم ایجنٹ اور ان کے عراق میں موجود سرغنے بٹور لیتے ہیں۔ ایک بار عراق پہنچنے کے بعد ان افراد کو دور دراز صنعتی علاقوں اور گوداموں میں رکھا جاتا ہے، جہاں انہیں کم تنخواہ پر مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے۔ کئی خواتین کو بیوٹی پارلرز میں کام کرنے کا جھانسہ دے کر لایا گیا اور بعد میں غیر قانونی قیام کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا۔

    عراقی سفارت خانے کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 50 ہزار پاکستانی زیارتوں کے لیے عراق آئے لیکن وہ واپس نہیں گئے اور مختلف مقامات پر غائب ہو چکے ہیں۔ ان افراد کی زیادہ تر تعداد زیارتوں کے ارد گرد بھیک مانگنے میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی میں اضافہ ہوا ہے۔

    یہ صورت حال عراقی حکام کی جانب سے پاکستانی زائرین پر سخت پابندیوں کا باعث بنی ہے۔ ان کے پاسپورٹ سرحد عبور کرنے پر ضبط کیے جانے لگے ہیں تاکہ ان کی واپسی ممکن بنائی جا سکے جبکہ دیگر ممالک کے زائرین کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جا رہا۔

    پاکستانی سفارت خانے نے وزارت داخلہ کو متعدد مراسلے ارسال کیے ہیں تاکہ انسانی اسمگلنگ کے ان واقعات پر قابو پایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ٹریول ایجنٹوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور بے شمار غیر قانونی گروہ بغیر کسی حکومتی لائسنس کے لوگوں کو عراق بھیجنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں ان کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہو رہا ہے خاص طور پر جب وہ غیر لائسنس یافتہ ہیں۔

    حالیہ عرصے میں انسانی اسمگلروں نے ایجوکیشن ویزوں کی آڑ میں نوجوانوں کو عراق بھیجنا شروع کر دیا ہے، جس میں عراقی تعلیمی اداروں کے داخلہ لیٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال پاکستانی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس کا فوری حل ناگزیر ہے۔

  • علی پور: سیت پور میں قوت سماعت سے محروم لڑکی سے زیادتی،ایک ملزم گرفتار

    علی پور: سیت پور میں قوت سماعت سے محروم لڑکی سے زیادتی،ایک ملزم گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان )مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور تھانہ سیت پور کے علاقہ میں قریبی رشتہ داروں کی جانب سے 21 سالہ گونگی بہری لڑکی کو کئی ماہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا، جس کا انکشاف اس وقت ہوا جب لڑکی کی طبیعت خراب ہونے پر اسپتال لے جایا گیا اور الٹراساونڈ کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ چھ ماہ کی حاملہ ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا جبکہ دوسرا فرار ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق موضع گھری کے رہائشی منور کلاچی کی بیٹی آمنہ بی بی جو گونگی اور بہری ہے پر اس کے قریبی رشتہ دار قادر کلاچی اور عابد کلاچی نے ظلم ڈھایا۔ دونوں ملزمان نہ صرف لڑکی کے ساتھ بارہا زیادتی کرتے رہے بلکہ اس کی برہنہ ویڈیوز بھی بناتے رہے تاکہ اسے بلیک میل کر سکیں۔

    آمنہ بی بی نے اشاروں کے ذریعے ان ملزمان کی نشاندہی کی، جو ہمسائے ہونے کے ناطے ان کے گھر آتے جاتے تھے۔ لڑکی کے والدین کے مطابق ویڈیوز کی موجودگی کی وجہ سے ملزمان بلاخوف زیادتی کرتے رہے۔

    ایس ایچ او تھانہ سیت پور نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور چوبیس گھنٹوں کے اندر ایک ملزم کو گرفتار کر لیا، جبکہ دوسرے کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور متاثرہ خاندان نے انصاف کے حصول کے لیے احتجاج کیا ہے۔

    متاثرہ خاندان نے حکام سے اپیل کی ہے کہ فرار ملزم کو جلد گرفتار کیا جائے اور ملزمان کو سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

  • مظفرگڑھ: نرس سے زیادتی کی کوشش ناکام، مرکزی ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ: نرس سے زیادتی کی کوشش ناکام، مرکزی ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ(باغی ٹی وی رپورٹ)نرس سے زیادتی کی کوشش ناکام، مرکزی ملزم گرفتار

    تفصیلات کے مطابق مظفرگڑھ میں نرس سے زیادتی کی کوشش کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ 2 روز قبل رات کواس وقت پیش آیا جب نرس نجی اسپتال سے گھر جانے کے لیے کچہری چوک پر رکشے میں سوار ہوئی۔

    نرس کو رکشہ ڈرائیور کی جانب سے راستہ بدلنے پر شک ہوا، جس پر اس نے فوری طور پر اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر کو اپنی لوکیشن بھیج دی۔ لیڈی ڈاکٹر نے فوری طور پر پولیس اہلکار سے رابطہ کیا اور ملزمان کا تعاقب شروع کر دیا۔

    پولیس نے بتایا کہ مونڈکا بائی پاس کے قریب ملزمان نے نرس کو باندھ کر زیادتی کی کوشش کی، تاہم پولیس کی بروقت مداخلت اور ہوائی فائرنگ سے ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

    بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے زیادتی کی کوشش میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا اور اس کے قبضے سے نرس کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا۔ دوسرے ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    پولیس کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ دو ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے اور رکشہ تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • میرپور ماتھیلو: سومرا کالونی میں محکمہ انہار کی زمین پر بااثر مافیا کا قبضہ،مکین پریشان

    میرپور ماتھیلو: سومرا کالونی میں محکمہ انہار کی زمین پر بااثر مافیا کا قبضہ،مکین پریشان

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق لغاری) سومرا کالونی میں محکمہ انہار کی زمین پر بااثر مافیا کا قبضہ،مکین مشکلات کا شکار

    تفصیل کے مطابق میرپور ماتھیلو کے علاقے سومرا کالونی میں ایریگیشن کی زمین پر بااثر افراد نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں غیر قانونی آبادی قائم کی جا رہی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق جب اس زمین میں فصل اگانے کے لیے نالیوں کا گندا پانی چھوڑا جاتا ہے تو پورے علاقے میں بدبو پھیل جاتی ہے، جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس آلودگی کے باعث مختلف بیماریوں نے بھی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے مقامی مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے ان مسائل کے خلاف مشترکہ طور پر اسسٹنٹ کمشنر میرپور ماتھیلو سے شکایت کی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ایریگیشن کے انجینئر کو احکامات جاری کیے اور علاقے کے رہائشیوں کو یقین دلایا کہ اس مسئلے پر جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جو افراد غیر قانونی طور پر زمین پر قبضہ کر کے آبادکاری کر رہے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • گھوٹکی: رحموالی فیڈر پر بدترین لوڈشیڈنگ، عوام مشکلات کا شکار

    گھوٹکی: رحموالی فیڈر پر بدترین لوڈشیڈنگ، عوام مشکلات کا شکار

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق لغاری)گھوٹکی کے علاقے رحموالی فیڈر پر سیپکو کی جانب سے بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ 12 سے 14 گھنٹے طویل غیر اعلانیہ بجلی کی بندش نے علاقے کے رہائشیوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

    مسلسل بجلی کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو زندگی، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔بزرگوں، مریضوں اور بچوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کاروباری افراد کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    علاقے کے شہریوں نے سیپکو کے چیف آپریٹنگ آفیسر، ایگزیکٹو انجینئر، اور سب ڈویژنل آفیسر سے مؤدبانہ درخواست کی ہے کہ اس غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو وہ احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔

    رہائشیوں نے زور دیا ہے کہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی ان کا بنیادی حق ہے اور سیپکو انتظامیہ کو اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ افسران اس مسئلے کا فوری نوٹس لے کر اسے حل کریں گے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا گیا تو وہ سیپکو کے شکر گزار ہوں گے۔

  • ڈیرہ غازیخان: کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والا ویکسینیٹر برطرف، کیا یہ انصاف ہے؟

    ڈیرہ غازیخان: کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والا ویکسینیٹر برطرف، کیا یہ انصاف ہے؟

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) محکمہ صحت کے ویکسینیٹر چوہدری محمد نعیم کو ادویات کی خریداری اور کروڑوں روپے کی مالی کرپشن کی نشاندہی کرنے کے بعد نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ اس اقدام کے خلاف ویکسینیٹرز نے سی ای او ہیلتھ آفس کا گھیراؤ کیا اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    چوہدری محمد نعیم نے ادویات کی خریداری، فرضی بلوں، اور پٹرول کے بلوں میں مبینہ کرپشن کے خلاف ڈی جی انٹی کرپشن کو درخواست دی تھی، جس پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد ادریس لغاری نے انہیں نوکری سے برخاست کر دیا۔ اس فیصلے کے خلاف ضلع بھر سے ویکسینیٹرز نے سی ای او آفس کے باہر دھرنا دیا اور مظاہرین نے اعلان کیا کہ چوہدری محمد نعیم کی بحالی اور انکوائری مکمل ہونے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

    ای پی آئی فیڈریشن کے رہنماؤں محمد عابد اور عطااللہ ساجد نے کہا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ مظاہرین نے دفتر کے امور اور پولیو مہم کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کر دیا ہے، مطالبہ کیا کہ انصاف پر مبنی انکوائری کی جائے اور چوہدری نعیم کو فوری بحال کیا جائے۔

  • مرکزی کرم کی کمیونٹی نے ووکیشنل سنٹر کے لیے ہلال احمر سے مدد طلب کر لی

    مرکزی کرم کی کمیونٹی نے ووکیشنل سنٹر کے لیے ہلال احمر سے مدد طلب کر لی

    کرم (باغی ٹی وی رپورٹ) سینٹرل کرم کی کمیونٹی نے ہلال احمر سے فوری اپیل کی ہے کہ وہ ایک نئے ووکیشنل سنٹر کو فعال بنانے کے لیے سلائی مشینوں اور دیگر ضروری آلات کے عطیات فراہم کرے۔ اس مرکز کا مقصد علاقے کے لوگوں، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کو پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت فراہم کر کے انہیں بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے معاشی حالات بہتر بنا سکیں۔

    یہ ووکیشنل سنٹر حکمت عملی کے تحت ایک ایسے علاقے میں قائم کیا گیا ہے جہاں پچاس ہزار سے زائد آبادی رہائش پذیر ہے۔ لیکن آلات کی کمی کے باعث سنٹر غیر فعال ہے اور کمیونٹی کو درپیش معاشی مشکلات کے حل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

    مقامی رہنماؤں نے مرکز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تربیتی پروگرام نہ صرف افراد کو ہنر مند بنائے گا بلکہ کمیونٹی میں معاشی خودمختاری کو بھی فروغ دے گا۔ وہ پُرامید ہیں کہ ہلال احمر کے تعاون سے سنٹر جلد ہی کام شروع کرے گا، جس سے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔

    کمیونٹی ہلال احمر کے چیئرمین جناب ملک حبیب اورکزئی کی جانب سے تعاون کی منتظر ہے تاکہ اس ووکیشنل سنٹر کو جلد از جلد فعال بنایا جا سکے اور علاقے کے لوگوں کے لیے ترقی اور بااختیار بنانے کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

  • کوٹ چھٹہ :صحافی کو ناانصافی کا سامنا، پولیس چوری شدہ موبائل برآمد کرنے میں ناکام

    کوٹ چھٹہ :صحافی کو ناانصافی کا سامنا، پولیس چوری شدہ موبائل برآمد کرنے میں ناکام

    کوٹ چھٹہ(باغی ٹی وی ،تحصیل رپورٹرمریدحسین ٹالپور)چوٹی زیرین کے صحافی کا موبائل چوری کا مقدمہ، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات لگ گئے

    چوٹی زیرین کے معروف صحافی شوکت عباس سانگھی کا موبائل فون چوری ہونے کا مقدمہ تھانہ چوٹی زیرین میں ایک سال دو ماہ سے زائد عرصے سےدرج ہے لیکن اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔صحافی کو پولیس کی نااہلی اور ناانصافی کا سامنا ہے کیونکہ پولیس عرصہ گزرنے کے باوجود ان کا چوری شدہ موبائل فون برآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    شوکت عباس سانگھی کا کہنا ہے کہ جب سے ان کا موبائل چوری ہوا ہے وہ متعدد بار پولیس سے رابطہ کر چکے ہیں لیکن پولیس اہلکاروں کا رویہ بہت ہی غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک پولیس کاتفتیشی اے ایس آئی نہ صرف موبائل فون برآمد کرنے میں ناکام رہا بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دیتا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں صحافی برادری نے آر پی او کپٹن ر سجاد اور ڈی پی او سید علی ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر نوٹس لیں اور شوکت عباس سانگھی کا موبائل فون جلد از جلد برآمد کرایا جائے۔

  • اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر نے 5 روزہ پولیو مہم کا افتتاح کر دیا

    اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر نے 5 روزہ پولیو مہم کا افتتاح کر دیا

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر محمد عمیر نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر اوکاڑہ میں 5 روزہ پولیو مہم کا افتتاح کیا۔ اس مہم کے دوران 6 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 2700 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو نہ صرف گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی بلکہ سکولوں، لاری اڈوں، ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹاپس پر بھی اپنی خدمات فراہم کریں گی۔

    ضلعی انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ان کی صحت کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

  • ننکانہ صاحب: ڈپٹی کمشنر نے پولیو مہم کا افتتاح کر دیا

    ننکانہ صاحب: ڈپٹی کمشنر نے پولیو مہم کا افتتاح کر دیا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر 5 روزہ پولیو مہم کا افتتاح کیا۔ مہم 3 نومبر تک جاری رہے گی، جس کا مقصد ضلع کے تمام پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانا ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور سی ای او ہیلتھ نے بتایا کہ اس مہم کے دوران 2 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو وٹامن اے کے کیپسول بھی فراہم کیے جائیں گے۔

    انسداد پولیو مہم کے لیے 1198 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔ افسران نے زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    افتتاحی تقریب میں سی ای او ہیلتھ، سی او ایجوکیشن، ڈی ڈی ڈویلپمنٹ، ایم ایس اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔