Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    عوامی حقوق کی پامالی میں اشرافیہ کا کردار

    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    دو قومی نظریہ کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جن کا مذہب، ثقافت اور طرزِ زندگی ہندوؤں سے مختلف ہے۔ اسی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت تھی جہاں وہ اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں اور سماجی انصاف، مساوی مواقع اور عوامی فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد جو سیاسی، سماجی اور معاشی حالات سامنے آئے وہ اس نظریے کی روح سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔

    پاکستان میں ایلیٹ کلاس کی اجارہ داری نے تعلیم اور صحت جیسے عوامی حقوق کو محدود کرکے طبقاتی خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کا قیام صرف ایک خطہ زمین کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی ریاست کا خواب تھا جہاں تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع ہوں اور معاشرتی تفریق نہ ہو۔ مگر آج کے پاکستان میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں اشرافیہ کا غلبہ اس نظریے کی نفی کرتا ہے۔ وسائل اور مواقع پر صرف ایلیٹ طبقے کا اختیار ہے جب کہ غریب عوام کو ان سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ حکومت اور اشرافیہ کے ذاتی مفادات نے عوامی مسائل کو نظرانداز کر دیا ہے۔

    ریاستی وسائل اور پالیسیوں پر مسلسل قبضے کے باعث ریاستی اداروں کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ عوامی فلاح کے بجائے نجی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے عام شہری تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری تعلیمی نظام غریب طبقے کے لیے معیاری تعلیم کا ایک اہم ذریعہ تھا لیکن حالیہ برسوں میں پنجاب ایجوکیشن فانڈیشن (PEF) اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعلیمی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں تعلیمی معیار زوال کا شکار ہوا ہے۔ نجکاری کے بعد مڈل اور میٹرک پاس اساتذہ کو کم تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا، جس سے تعلیم کا معیار متاثر ہوا۔ مزید برآں پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسوں اور اضافی اخراجات نے غریب عوام کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا حصول ناممکن بنا دیا۔

    ایک حالیہ سروے کے مطابق نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد میں صرف 20% اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد میں 80% کمی ہوئی ہے۔ سرکاری اساتذہ کی نوکریاں بھی غیر محفوظ ہو گئی ہیں اور ان کی جگہ ناتجربہ کار عملے کو بھرتی کیا جانے لگا جس سے تعلیم کے معیار کو مزید کمزور کیا گیا۔

    تعلیم کے بعد صحت کا شعبہ بھی اشرافیہ کے ذاتی مفادات کا شکار ہو چکا ہے۔ دیہی اور بنیادی مراکز صحت (BHU) کو "آؤٹ سورس” کے نام پر نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کے لیے طبی سہولیات مزید محدود ہو گئی ہیں۔ نجکاری کے بعد علاج کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور مفت علاج کی سہولت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں پہلے ہی طبی سہولیات ناکافی تھیں، نجی انتظامیہ کی آمد نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی کے باعث صحت کے مراکز میں خدمات کا معیار متاثر ہوا ہے اور غریب مریضوں کے لیے علاج کی سہولتیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔

    پاکستان میں سماجی انصاف اور مساوی مواقع کا نظریہ اشرافیہ نے مسخ کر دیا ہے۔ وسائل اور مواقع کی غیر منصفانہ تقسیم نے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو اشرافیہ کے لیے سہل اور عوام کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ ریاستی اداروں کی نجکاری کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو منافع کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے، جس سے عوامی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت اور ایلیٹ طبقہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ذاتی مفادات اور منافع کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی نجکاری اور اشرافیہ کی اجارہ داری نے معاشرے میں سماجی ناانصافی کو فروغ دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی بدحالی کا سبب بن رہی ہے بلکہ پاکستان کے آئین میں دیئے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق کی نفی بھی کر رہی ہے۔ اشرافیہ کی خودغرضی اور عوامی حقوق کی پامالی نے ملک کی ترقی کو رکاوٹ بنایا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جا سکیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

    عوامی حقوق کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اصل مقصد کی طرف لوٹانے کی کوششیں شامل ہوں۔ اگر ہم واقعی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر ایک کو یکساں مواقع اور حقوق فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس نظریے کو صرف ایک سیاسی بیانیے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عملی زندگی میں لاگو کریں تاکہ پاکستان میں ہر شہری کو اس کے حقوق اور سہولیات مل سکیں۔

    اگر عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم نہ کیے گئے اور تعلیم اور صحت کے شعبے کو اشرافیہ کے قبضے سے آزاد نہ کیا گیا تو سماجی تقسیم اور بدامنی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ان مسائل کے حل پر توجہ دینا ہوگی اور عوامی حقوق کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنانا پڑے گی۔ اس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اصل مقصد کی طرف لانا ہوگا اور اشرافیہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

    پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ حکومت اور ایلیٹ کلاس اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی فلاح کے لیے کام کریں۔ بصورت دیگر ملک میں سماجی تقسیم اور ناانصافی کا سلسلہ بڑھتا جائے گا اور پاکستان کا مستقبل کبھی بھی روشن اور تابناک نہیں ہوسکے گا۔

  • ڈی پی او مہک ملک کو بلائے تو آرٹ اور کلچر، اور غریب آدمی بلا لے تو فحاشی۔سپیکر پنجاب

    ڈی پی او مہک ملک کو بلائے تو آرٹ اور کلچر، اور غریب آدمی بلا لے تو فحاشی۔سپیکر پنجاب

    لاہور (باغی ٹی وی) پنجاب اسمبلی میں شادی بیاہ کی تقریبات میں رقص و سرود کی محفلوں پر پابندی کے لیے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ کاردار نے کہا کہ ہماری ثقافت اور چھوٹی خوشیوں پر پابندیاں نہ لگائی جائیں۔

    عظمیٰ کاردار نے مزید کہا کہ "قرارداد پیش کرنے والی خاتون معلوم نہیں کس قسم کی شادیوں میں جاتی ہیں۔ ہم اپنی ثقافت کے مطابق اپنی خوشیوں کو منانے میں پابندی نہیں چاہتے۔” انہوں نے رقص و سرود کی محفلوں کو پنجاب کی ثقافت کا ایک اہم حصہ قرار دیا۔

    اجلاس کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اگر ڈی پی او مہک ملک کو بلائے تو آرٹ اور کلچر اور غریب آدمی بلا لے تو فحاشی کہا جاتا ہے۔

    سمیع اللہ خان نے کہا کہ سماجی برائیوں کو سماج کو ہی روکنا چاہیے اور بدقسمتی سے پاکستان میں کوئی سماجی پریشر گروپ موجود نہیں۔ انہوں نے قرارداد کو سماجی اور ثقافتی روایات کے مطابق ری ڈرافٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    حکومتی رکن حمیدہ میاں کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ شادی بیاہ جیسے تہوار معاشرتی، ثقافتی روایات اور مذہبی تعلیمات کی عکاسی کرتے ہیں۔ قرارداد میں بتایا گیا کہ پنجاب میں شادی بیاہ کی تقریبات میں رقص و سرود کی محفلوں کا انعقاد بڑھتا جا رہا ہے، جہاں انتہائی فحش اور غیر اخلاقی حرکات کی جاتی ہیں۔

    مزید برآں قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ ان محفلوں میں خواتین رقاصاؤں اور خواجہ سراؤں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ صوبائی اسمبلی نے وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں فحش محفلوں پر سخت پابندی عائد کی جائے اور ان کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے۔

    قرارداد میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 294 میں ترمیم کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ جرمانہ اور قید کی مدت کو بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس اور متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔

  • کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 80 روپے تک اضافہ، مرغی اور انڈے بھی مہنگے

    کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 80 روپے تک اضافہ، مرغی اور انڈے بھی مہنگے

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 80 روپے تک اضافہ، مرغی اور انڈے بھی مہنگے

    تفصیل کے مطابق ملک بھر میں عوام کو ایک اور مہنگائی کا جھٹکا لگا ہے، کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 20 سے 80 روپے فی کلو تک اضافہ ہوگیا ہے۔ نجی ٹی وی نے مارکیٹ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ برانڈڈ گھی کی قیمت 370 روپے فی کلو سے بڑھ کر 450 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مختلف اقسام کے کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی 50 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اب کوکنگ آئل 440 روپے سے بڑھ کر 530 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

    مارکیٹ میں صرف گھی اور آئل ہی نہیں بلکہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مرغی کا گوشت 533 روپے فی کلو مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ انڈوں کی قیمتیں بھی مزید بڑھ چکی ہیں، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمتوں میں 300 ڈالرز فی ٹن کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پام آئل کی فی ٹن قیمت 1200 ڈالرز تک جا پہنچی ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں کے اضافے کا براہِ راست اثر مقامی منڈیوں پر پڑا ہے، جس کی وجہ سے کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    مہنگائی کے اس نئے طوفان نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ گھی اور کوکنگ آئل جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف متوسط طبقے بلکہ کم آمدنی والے خاندانوں کا بجٹ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ عوام نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور مہنگائی کے بوجھ سے کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں اعلیٰ سطحی اجلاس، عوامی فلاحی منصوبوں کا جائزہ

    اوکاڑہ: ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں اعلیٰ سطحی اجلاس، عوامی فلاحی منصوبوں کا جائزہ

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک ظفر) چیئرپرسن وزیراعلیٰ سرویلنس ڈائریکٹوریٹ پنجاب بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین اور ڈپٹی کمشنر محمد عمیر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کمپلیکس اوکاڑہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حافظ عمر طیب، تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ صحت، تعلیم، میونسپل کمیٹی، ضلع کونسل، ہائی وے اور دیگر صوبائی و وفاقی اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حافظ عمر طیب نے اجلاس کو عوامی سہولت کے لیے پرائس کنٹرول میکانزم، ستھرا پنجاب پروگرام، سالانہ ترقیاتی منصوبے اور وزیراعلیٰ کے پی آئیز (کارکردگی اشاریوں) پر عمل درآمد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو حکومت پنجاب کے اہم اقدامات جیسے "اپنی چھت اپنا گھر”، "کلینک ان وہیلز”، کسان کارڈ اور پلس پراجیکٹ کی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مختصر عرصے میں عوامی خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ انہوں نے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر نیک نیتی سے کام کریں اور حکومت کے اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گڈ گورننس کے لیے افسران کو محنت اور دلجمعی سے کام کرنا ہوگا اور عوامی مسائل کو نچلی سطح پر حل کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ اجلاس میں تمام محکموں کو ہدایت دی گئی کہ وزیراعلیٰ کے اقدامات سے عوام کو مؤثر آگاہی فراہم کی جائے۔

  • ننکانہ: سی ای او ایجوکیشن کا سکولوں کادورہ،مختلف امور کاجائزہ لیا

    ننکانہ: سی ای او ایجوکیشن کا سکولوں کادورہ،مختلف امور کاجائزہ لیا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ڈاکٹر قیوم خاں نے مختلف اسکولوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ انہوں نے گورنمنٹ گورونانک ہائی اسکول، گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول کھڈانوالہ، گورنمنٹ ہائی اسکول کھیاڑے کلاں، گورنمنٹ پرائمری اسکول کرچ پور، اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کوٹ لہناداداس سمیت کئی اداروں کا جائزہ لیا۔

    ڈاکٹر قیوم خاں نے کلاس رومز میں جاکر تدریسی امور، طلباء اور اساتذہ کی حاضری، صفائی ستھرائی، انسداد ڈینگی سرگرمیوں اور اسموگ آگاہی مہم کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کمپیوٹر لیب کا بھی دورہ کیا اور طلباء سے گفتگو کے دوران تعلیمی ماحول کا جائزہ لیا۔

    اسکول سربراہان نے سی ای او کو دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔ ڈاکٹر قیوم خاں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ اخلاقیات پر بھی خصوصی لیکچر دیے جائیں۔ صفائی ستھرائی کے حوالے سے انہوں نے ملازمین کو ہدایت کی کہ پانی کہیں جمع نہ ہو اور صفائی پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    ڈاکٹر قیوم خاں نے اساتذہ کی کارکردگی اور نظم و ضبط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید دلجمعی سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق تعلیم کو ہر گھر تک پہنچانے کے لیے تمام افراد کو محنت سے کام کرنا ہوگا۔

  • ننکانہ صاحب: ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام کمیونٹی ریسپانس ٹیموں کے مقابلے

    ننکانہ صاحب: ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام کمیونٹی ریسپانس ٹیموں کے مقابلے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)سیکرٹری/ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارہ امتیاز) کی ہدایت پر ضلع ننکانہ صاحب میں کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کے انٹرا ڈسٹرکٹ مقابلے منعقد کیے گئے۔ یہ مقابلے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار کی نگرانی میں گورنمنٹ گورونانک ہائی اسکول میں منعقد ہوئے۔

    اس موقع پر ریسکیو سیفٹی آفیسرز علی عمران اعوان، عمران شہزاد، اسٹیشن کوآرڈینیٹرز محمد فہد امین اور محمد نواز سمیت دیگر ریسکیو افسران اور میڈیا کوآرڈینیٹر علی اکبر بھی موجود تھے۔

    ان مقابلوں میں ضلع کی تینوں تحصیلوں کی ٹیموں نے شرکت کی اور مختلف ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے عملی مظاہرے کیے۔ مظاہروں میں زخمی افراد کی درجہ بندی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے، پانی میں ڈوبنے والوں کی بچاؤ کارروائی، منہدم عمارتوں میں پھنسے افراد کی تلاش اور آگ بجھانے کی مہارتوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ بکٹ بریگیڈ جیسی مہارتوں کا بھی عملی مظاہرہ کیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے اعلان کیا کہ شاہ کوٹ کی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے میدان مار لیا ہے۔ یہ ٹیم اب لاہور میں ہونے والے پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کوارٹرز میں آٹھویں نیشنل کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم چیلنج میں شرکت کرے گی۔

    محمد اکرم پنوار نے مزید کہا کہ کمیونٹی سطح پر ایسی ٹیموں کی موجودگی حادثات کی روک تھام اور عوام میں تحفظ کا احساس اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • ڈاکٹر شازیہ بشیر گورنمنٹ ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر مقرر

    ڈاکٹر شازیہ بشیر گورنمنٹ ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر مقرر

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹرمدثر رتو)پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر کو گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی چھٹی مستقل وائس چانسلر تعینات کر دیا گیا۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن کے نوٹیفیکیشن کے بعد انہوں نے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔

    ڈاکٹر شازیہ کو اس سے قبل گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی پہلی خاتون وائس چانسلر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فزکس میں ماسٹرز، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) لاہور سے ایم فل اور ویانا (آسٹریا) کی ٹیکنیکل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کے 150 تحقیقی مقالے عالمی سطح کے معروف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔

    اس سے قبل، وہ جی سی یونیورسٹی لاہور میں فیکلٹی آف میتھمیٹیکل اینڈ فزیکل سائنسز کی ڈین کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں عہدہ سنبھالنے پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زرین فاطمہ رضوی نے ان کا استقبال کیا اور مبارکباد دی۔

    استقبالیہ تقریب میں رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر الیاس، ٹریژرر پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواز منج، کنٹرولر ملک گلشان اسلم، پروفیسر ڈاکٹر طارق، اور پروفیسر ڈاکٹر اشفاق بھی موجود تھے۔

  • سیالکوٹ: انسداد پولیو مہم جاری، لاکھوں بچوں کو قطرے پلائے گئے

    سیالکوٹ: انسداد پولیو مہم جاری، لاکھوں بچوں کو قطرے پلائے گئے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، شاہد ریاض)ضلع سیالکوٹ میں انسداد پولیو مہم دوسرے روز میں داخل ہو چکی ہے۔ مہم کے پہلے روز 2 لاکھ 60 ہزار 230 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے گئے، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے بتایا۔

    مہم میں 2676 موبائل ٹیموں نے 82 ہزار 132 گھروں کا دورہ کرتے ہوئے 1 لاکھ 78 ہزار 158 بچوں کو قطرے پلائے، جبکہ 47 ہزار 278 بچے اسکولوں میں قطرے پینے سے مستفید ہوئے۔
    ٹرانزٹ ٹیموں نے 6447 اور 133 فکسڈ ٹیموں نے 3511 بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے۔ دیگر اضلاع سے آئے 19 ہزار 943 بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

    مہم کی نگرانی چاروں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ڈی ایچ اوز، اور سپروائزرز کر رہے ہیں۔ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے پولیو مہم کے حوالے سے ایک اجلاس میں ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور تسلی بخش نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔

  • اوکاڑہ: ٹریفک ایجوکیشن یونٹ کی آگاہی مہم،پمفلٹ تقسیم

    اوکاڑہ: ٹریفک ایجوکیشن یونٹ کی آگاہی مہم،پمفلٹ تقسیم

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، ملک ظفر)اوکاڑہ میں ٹریفک ایجوکیشن یونٹ نے روڈ یوزرز میں پمفلٹ تقسیم کیے اور انہیں ہیلمٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر سموگ کے نقصانات اور اس سے بچاؤ کے طریقے بھی شہریوں کو سمجھائے گئے۔

    ڈی ایس پی ٹریفک خواجہ عابد صغیر کی ہدایت پر اس آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر عوام کو وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور، اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ٹریفک مرزا فاران بیگ کے احکامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    مہم کے دوران ٹریفک قوانین کی پابندی پر زور دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہر شہری کے لیے قوانین کی پیروی ضروری ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • سیالکوٹ:ڈی سی کادورہ سمبڑیال ، ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کا معائنہ اور طبی سہولیات کا جائزہ

    سیالکوٹ:ڈی سی کادورہ سمبڑیال ، ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کا معائنہ اور طبی سہولیات کا جائزہ

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہدریاض) ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین نے تحصیل سمبڑیال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹی ایچ کیو سمبڑیال اور آر ایچ سی بیگووالہ کی ری ویمپنگ کے جاری کام کا معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عیادت بھی کی اور طبی سہولیات اور مفت ادویات کی فراہمی کا جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے بلڈنگ ڈویژن کے مقامی حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی اسکیم کو جلد مکمل کیا جائے اور اس میں معیار کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ یہ منصوبے عوام کے لیے دیرپا ثابت ہوں۔

    انہوں نے آر ایچ سی بیگووالہ کی عارضی شفٹنگ کا بھی معائنہ کیا اور ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت سے بچا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے سمبڑیال گرہن بیلٹس کا بھی معائنہ کیا اور اس کی تزئین و آرائش کے لیے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ائیر پورٹ چوک میں سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیر پورٹ اور پاکستان سرجیکل ایسوسی ایشن کے تعاون سے زیر تعمیر مانومنٹ کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال غلام فاطمہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔