Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرہ:موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی، قیمتی جان بچ گئی

    گوجرہ:موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی، قیمتی جان بچ گئی

    گوجرہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار عبدالرحمن جٹ)نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس مسافروں کی حفاظت اور خدمت کو اپنا نصب العین سمجھتی ہے۔ ایک حالیہ واقعے میں موٹروے پولیس نے بروقت کارروائی کرکے ایک قیمتی انسانی جان بچائی ہے۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق موٹروے پولیس کو ہیلپ لائن 130 پر کال موصول ہوئی کہ گھوٹکی کے قریب لاہور سے کراچی جانے والی بس کے ڈرائیور کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے اور اسے فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

    اس اطلاع پر سیکٹر کمانڈر عبدالوحید ربانی نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے سپر وائزری گشت پر مامور ایڈمن آفیسر گھوٹکی محمد عثمان شبیر کو موقع پر بھیجا۔ محمد عثمان شبیر نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر ایف ڈبلیو او ایمبولینس کو بلایا۔ ایمبولینس کے طبی عملے نے مریض کو فوری طور پر ضروری طبی امداد فراہم کی۔

    موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں مریض کی جان بچ گئی۔ بعد ازاں بس کو دوسرے ڈرائیور کے ساتھ روانہ کیا گیا۔

    اس شاندار کارروائی پر سیکٹر کمانڈر ایم فایو عبد الوحید ربانی نے پولیس افسران کو سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا۔

  • میہڑ میں اسرائیل مخالف مظاہرہ

    میہڑ میں اسرائیل مخالف مظاہرہ

    میہڑ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ) شیعہ علماء کونسل کی کال پر شہید سید حسن نصراللہ اور شہید اسماعیل ہانیہ کی شہادت پر اسرائیل کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    مظاہرین نے اسرائیل کی مسلمانوں کے خلاف نسل کشی اور جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکیں۔

    مظاہرین نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی اور پوری دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کر دیں اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

  • ساگ

    ساگ

    ساگ
    تحریر:شاہدریاض
    ساگ ایک ایسی ڈش جو پنجاب کی مٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسی سبزی ہے جس کا نام سن کر ہی دیہاتی زندگی کی یادیں اور پکوانوں کی خوشبو تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ پودے کے پتوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو موسم سرما کے دوران خاص طور پر کھایا جاتا ہے اور دیہی علاقوں میں مکئی اور چاول کی روٹی کے ساتھ ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔ ساگ پنجابی ثقافت اور دیہاتی زندگی کا ایک اٹوٹ انگ ہے اور یہ نہ صرف غذائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ تہذیبی طور پر بھی گہری جڑیں رکھتا ہے۔

    ساگ کی جڑیں ایران تک پھیلی ہوئی ہیں جہاں اسے ابتدائی طور پر دریافت کیا گیا اور "سپناغ” کے نام سے جانا گیا۔ اسی "سپناغ” سے انگریزی میں "سپائنچ” (Spinach) کا لفظ نکلا، جو پالک کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ جب ساگ ایران سے نکل کر برصغیر پہنچا، تو یہاں کے موسم اور زمین نے اس کی مختلف اقسام کو فروغ دیا اور یوں یہ ہر دیہی گھر کا ایک لازمی جزو بن گیا۔

    ساگ کی کئی اقسام ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی منفرد ذائقہ اور غذائیت کے لحاظ سے مشہور ہے،سرسوں کا ساگ سب سے زیادہ مشہور ہے جو مکئی اورچاول کی روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے اور مکھن یا دیسی گھی کے ساتھ اس کا ذائقہ مزید دوبالا ہو جاتا ہے۔پالک کے ساگ میں وٹامن اے اور آئرن کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جو جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔بتھوے کا ساگ ذائقے میں تھوڑا تیکھا ہوتا ہے اور اکثر سرسوں کے ساگ کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ میتھی کے ساگ میں خوشبو دار پتے ہوتے ہیں جو کھانوں کو ایک خاص ذائقہ دیتے ہیں۔خرفے کا ساگ یہ کم مشہور لیکن غذائیت سے بھرپور ساگ ہے جو خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے۔

    ساگ صرف ذائقے میں لذیذ نہیں بلکہ غذائی لحاظ سے بھی نہایت اہم ہے۔ اس میں کیلشیم، آئرن، وٹامن اے، بی اور ای بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ساگ کا استعمال جسم میں خون کی صفائی کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرتا ہے۔ سرسوں کے ساگ میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ یہ گوشت کے برابر غذائیت فراہم کرتا ہے۔ اس کے پتے گندھک سے بھرپور ہوتے ہیں جو جلد اور جسمانی نظام کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

    پنجاب اور دیگر دیہی علاقوں میں ساگ کا استعمال صرف ایک کھانے تک محدود نہیں۔ یہ دیہاتی زندگی اور ثقافت کی علامت ہے۔ سردیوں کے آغاز سے ہی گھروں میں ساگ پکانے کا اہتمام ہوتا ہے اور مکئی اورچاول کی روٹی کے ساتھ اس کا ملاپ ہر گھر کی روایت ہوتی ہے۔ سردیوں کی سرد راتوں میں چولہے پر پکتا ہوا ساگ گھر میں گرمائش اور محبت کا احساس دلاتا ہے۔ ایک عام کہاوت ہے کہ "ساگ اور آگ جس گھر کو لگ جائے، وہ مشکل سے ہی بچتے ہیں”، یعنی ساگ دیہات کے لیے ایک لازمی جزو ہے۔

    ساگ پکانے میں کافی وقت اور محنت درکار ہوتی ہے کیونکہ اس کے پتوں کو پہلے اچھی طرح دھونا، کاٹنا اور پھر پکانے کے لیے تیاری کرنا ہوتا ہے۔ ساگ کو پکاتے ہوئے اکثر خواتین اسے گھنٹوں تک ہلکی آنچ پر پکاتی ہیں تاکہ اس کا ذائقہ اور غذائیت برقرار رہے۔ اسے پکانے کا ایک خاص طریقہ یہ بھی ہے کہ اس میں مختلف قسم کے ساگ ملا کر پکایا جاتا ہے جیسے سرسوں، بتھوا، پالک اور میتھی۔ جب ساگ مکمل پک جاتا ہے تو اس پر مکھن یا دیسی گھی کا تڑکا لگایا جاتا ہے جو اس کا ذائقہ دوبالا کر دیتا ہے۔

    بچپن میں ساگ کھانے کی یادیں بہت دلچسپ ہوتی ہیں، اکثر بچوں کو ساگ کا ذائقہ پسند نہیں ہوتا اور وہ اسے کھانے سے کتراتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ نہ صرف ان کی پسندیدہ ڈش بن جاتی ہے بلکہ ایک روایت کا حصہ بھی بن جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی ماؤں اور دادیوں کے ہاتھ کا پکا ہوا ساگ یاد کرتے ہیں اور یہ یادیں زندگی بھر ان کے ساتھ رہتی ہیں۔

    ساگ صرف ایک غذا نہیں بلکہ اس میں ایک فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ یہ دیہات کی سادگی، محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کی علامت ہے۔ ساگ کا موسم سردیوں میں آتا ہے، جب لوگ گھروں میں اکٹھے بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ یہ میل جول اور اپنائیت کی علامت ہے۔ ساگ دیہات کی جڑوں سے جڑا ہوا ہے اور یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سادگی میں ہی خوبصورتی ہے۔

    اگر ساگ کو بین الاقوامی سطح پر بھی اسی اہمیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے تو شاید یہ عالمی تعلقات میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک مزاحیہ تجویز کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر اسرائیل ساگ کو اپنی قومی ڈش قرار دے دے تو شاید مشرق وسطیٰ کے بہت سے جھگڑے ختم ہو جائیں۔

    ساگ کا ذکر محبت کے بغیر ادھورا ہے، ساگ کے رنگ سے جڑی محبتوں کی کہانیاں بھی مشہور ہیں، یہ دلوں کو جیتنے والی سبزی ہے، اور کبھی کبھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ یا محبت بھری یاد کے ساتھ ساگ کے رنگ میں رنگے دل کو پگھلا دیتی ہے۔

    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ساگ نہ صرف جسمانی طور پر مفید ہے بلکہ یہ ایک روحانی تجربہ بھی ہے۔ اس کی غذائیت، ذائقہ، اور دیہی زندگی سے جڑی کہانیاں اسے خاص بناتی ہیں۔ ساگ ایک ایسی ڈش ہے جو دیہات کی محبت، قربت اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کا مظہر ہے۔ ساگ اور مکئی کی روٹی کا نعرہ ہر گھر میں گونجتا ہے، اور یہ نعرہ ہمیشہ گونجتا رہے گا۔

    ساگ دے نعرے وجنے ای وجنے نے!

  • سیالکوٹ: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت دیہی یونین کونسلز میں صفائی مہم کا آغاز

    سیالکوٹ: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت دیہی یونین کونسلز میں صفائی مہم کا آغاز

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر مدثر رتو)ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت دیہی یونین کونسلز میں صفائی مہم کا آغاز

    تفصیل کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر نے بتایا ہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت تحصیل سیالکوٹ کی 43 دیہی یونین کونسلز میں صفائی کا کامیابی سے آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم میں 430 سینٹری ورکرز اور 129 لوڈر رکشوں کی مدد سے دیہات میں گھر گھر جا کر ویسٹ کلیکشن کی جا رہی ہے۔

    انعم بابر نے مزید بتایا کہ زیرو ویسٹ پروگرام کے تحت تحصیل سیالکوٹ کی 17 یونین کونسلز، جن میں ڈالوالی، رسولپور بھلیاں، وریو، ہندل، کھروٹہ سیداں، گوندل، موماں کلاں، بھگوال اعوان، جوڑیاں کلاں اور مچھرالہ شامل ہیں، سے 1859 میٹرک ٹن ویسٹ ہٹا کر انہیں زیرو ویسٹ کر دیا گیا ہے۔ ہیڈ مرالہ، کور پور، اور پڑتانوالی میں بھی زیرو ویسٹ کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ ہر ہفتے تین دیہی کونسلز کو زیرو ویسٹ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات یونین کونسل پڑتانوالی کے گاؤں بھانیوالی میں بلک ویسٹ لفٹنگ کے جائزے کے دوران کہی، جہاں اے ڈی ایل جی تحصیل سیالکوٹ، محمد جلیل بھٹی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ہر گاؤں سے بلک ویسٹ اٹھایا جا رہا ہے اور اس کے دوبارہ جمع ہونے سے بچنے کے لیے گاؤں کے باہر عارضی ویسٹ کلیکشن پوائنٹس بنائے جا رہے ہیں۔ ان پوائنٹس پر سینٹری ورکرز لوڈر رکشوں کی مدد سے گھر گھر سے ویسٹ اکٹھا کر رہے ہیں، جسے پھر ضلع کونسل کے ایکسیویٹرز اور ٹرالیوں کی مدد سے لینڈ فل سائٹ پر ڈمپ کیا جا رہا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر انعم بابر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دیہات کی صفائی کے لیے ستھرا پنجاب مہم میں بھرپور تعاون کریں اور صفائی کے عملے کا ساتھ دیں تاکہ دیہات صاف ستھرے رہ سکیں۔

  • تنگوانی:ڈاکوؤں کے حملے میں زخمی ہونے والا نوجوان کراچی ہسپتال میں دم توڑ گیا

    تنگوانی:ڈاکوؤں کے حملے میں زخمی ہونے والا نوجوان کراچی ہسپتال میں دم توڑ گیا

    تنگوانی (باغی ٹی وی ،نامہ نگار منصور بلوچ)ڈاکوؤں کے حملے میں زخمی ہونے والا نوجوان کراچی ہسپتال میں دم توڑ گیا

    تفصیل کے مطابق تنگوانی کے قریب ایک ہفتہ قبل ڈاکوؤں سے مزاحمت کے دوران زخمی ہونے والا نوجوان کراچی کےہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

    یاد رہےکہ فاروق احمد ڈاہانی جو اپنے گھر واپس آرہا تھا جس کو ڈاکوؤں نے راستے میں لوٹنے کی کوشش کی۔ فاروق احمد نے مزاحمت کی جس پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی اور اسے بری طرح زخمی کر دیا۔ اسے فوری طور پر علاج کے لیے کراچی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا اور ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

    نوجوان کی موت پر گھر میں کہرام مچ گیا ہے اور اہل خانہ شدید غم و صدمے میں مبتلا ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان:ریجنل پولیس آفیسرکا اردل روم کا انعقاد، 09 اپیلوں کی سماعت

    ڈیرہ غازی خان:ریجنل پولیس آفیسرکا اردل روم کا انعقاد، 09 اپیلوں کی سماعت

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی نیوز رپورٹر شاہد خان)ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے ریجنل پولیس آفس ڈیرہ غازیخان میں اردل روم کا انعقاد کیا، جہاں انہوں نے 09 اپیلوں اور شوکاز نوٹسز کی سماعت کی۔ اس اجلاس کا مقصد محکمہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور افسران و اہلکاران کو سزاء و جزاء کے اصولوں کے تحت کام کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے اردل روم میں پولیس افسران اور اہلکاران کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ ان اپیلوں میں پولیس اہلکاروں کو دی گئی مختلف سزاؤں کے خلاف 09 اپیلیں شامل تھیں۔ سماعت کے دوران آر پی او نے تسلی بخش جواب پیش کرنے پر 03 اپیلوں میں دی گئی سزاؤں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ 06 اپیلوں میں تسلی بخش جواب نہ ملنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سزاؤں کو برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

    شوکاز نوٹسز کی سماعت کے دوران آر پی او نے متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے احکامات بھی جاری کیے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

    کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ پولیس کے تمام افسران اور اہلکاران کو شہریوں کی حفاظت اور جرائم کے خاتمے کے لیے جانفشانی اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ میرٹ پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ آر پی او نے مزید کہا کہ محکمہ میں سزاء اور جزاء کا عمل ہر صورت جاری رکھا جائے گا تاکہ افسران کی کارکردگی بہتر ہو اور محکمہ پولیس میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔

    آر پی او نے یہ بھی واضح کیا کہ محکمہ پولیس کی بہتری کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں اور عوامی شکایات کا بروقت اور منصفانہ ازالہ کریں۔

  • ریسکیو 1122 کی ایمانداری، حادثے میں جاں بحق شخص کی اشیاء بحفاظت ورثاء کے حوالے

    ریسکیو 1122 کی ایمانداری، حادثے میں جاں بحق شخص کی اشیاء بحفاظت ورثاء کے حوالے

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) ریسکیو 1122 نے ایک بار پھر اپنی ایمانداری اور خدمت خلق کا لوہا منوایا ہے۔ ایک حالیہ روڈ ٹریفک حادثے میں ریسکیو سٹاف نے نہ صرف زخمی کو فوری طبی امداد فراہم کی بلکہ متوفی کے قیمتی سامان کو بھی بحفاظت اس کے ورثاء کے حوالے کیا۔

    تفصیلات کے مطابق ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم بہاولپور کو ایک روڈ ٹریفک حادثے کی اطلاع ملی۔ جس پر احمد پور شرقیہ سے فوری طور پر ایک ایمبولینس حادثہ کی جگہ پر روانہ کی گئی۔ ایمبولینس سٹاف میں ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن محمد طاہر اور ڈرائیور احسان الحق شامل تھے۔

    جب سٹاف موقع پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ایک موٹر سائیکل سوار نے ایک پیدل چلنے والے شخص کو ٹکر مار دی ہے۔ حادثے میں ایک شخص جاوید حسن ولد خواجہ زاہد موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرے زخمی کو فوری طبی امداد دے کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    اس کے علاوہ ریسکیو سٹاف نے متوفی کے پاس سے ملنے والی نقد رقم 12560 روپے اور دیگر اشیاء کو بھی محفوظ کر لیا اور بعد ازاں متوفی کے ورثاء کے حوالے کر دیا۔ متوفی کے ورثاء نے ریسکیو 1122 سٹاف کی ایمانداری اور خدمت خلق کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    یہ واقعہ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی محنت اور لگن کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیا بلکہ انسانی ہمدردی کا بھی مظاہرہ کیا۔

  • کوئٹہ: باراتیوں کی بس ٹائرپھٹنے سے کھائی میں جاگری، 7 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی

    کوئٹہ: باراتیوں کی بس ٹائرپھٹنے سے کھائی میں جاگری، 7 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی

    کوئٹہ ( باغی ٹی وی،نامہ نگار) کوئٹہ کے علاقے بروری بائی پاس پر ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں باراتیوں کی بس کھائی میں گر گئی، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔باراتیوں سے بھری بس ایک خراب سڑک پر بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق بروری بائی پاس پر جاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے سڑک کی حالت انتہائی خراب تھی۔ تعمیراتی عمل کے دوران حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کے کنارے پر کوئی رکاوٹ نہیں تھی، جس کے باعث بس کھائی میں گر گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری اور سڑک کی خراب حالت بھی حادثے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

    سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر کوئٹہ میں زیر علاج زخمیوں میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں بی بی نوریہ، حبیب، بی بی فاطمہ، بی بی خدیجہ، نجیبہ، بی بی طیبہ، پلوشہ، بی بی نادیہ، بی بی رقیہ، بی بی عابدہ اور دیگر افراد شامل ہیں۔ زیادہ تر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور ڈاکٹروں کی ایک بڑی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں کی فہرست میں زینت دختر حاجی رحمت اللہ (عمر 7 سال)، بی بی زینب دختر عبداللہ (عمر 3 سال)، بی بی صفیہ (عمر 11 سال)، نصیب اللہ (عمر 35 سال) اور حاجی نقیب اللہ شامل ہیں۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ اور ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور تعمیراتی کاموں کے دوران حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سڑک کی مرمت کے دوران حفاظتی اقدامات کیے گئے ہوتے تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں نجی پریکٹس کا قانون 21 سال بعد بھی التواء کا شکار

    پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں نجی پریکٹس کا قانون 21 سال بعد بھی التواء کا شکار

    لاہور(باغی ٹی وی رپورٹ)پنجاب میں21سال قبل بنایا گیا قانون ردی کی نظر، سرکاری ہسپتالوں میں نجی پریکٹس کا نظام نافذ نہ ہوسکا

    یکم اگست 2024کو جاری شدہ لیٹر NO. SO (RMC) 2-121/2024 کے مطابق حکومت پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ادارہ جاتی نجی پریکٹس کے نظام کے قیام کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    یہ احکامات اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک مراسلے کے ذریعے جاری کیے گئے، جس میں تمام میڈیکل یونیورسٹیوں، کالجز اور ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایات دی گئی ہیں۔حکومت نے 2003 کے میڈیکل اینڈ ہیلتھ انسٹیٹیوشنز ایکٹ کے تحت پنجاب کے بیشترہسپتالوں کو خودمختار بنایا تھا،

    جس کی شق 20 کے مطابق ایک سال کے اندر ادارہ جاتی نجی پریکٹس کے نظام کا قیام ضروری قرار دیا گیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے باوجود زیادہ ترہسپتال اس نظام کو قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ڈاکٹرز نےسرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس کی بجائے اپنے ذاتی کلینک کوترجیح دی،

    اس حوالے سے مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہسپتالوں کے بورڈ آف مینجمنٹ کو نجی مریضوں کے علاج کے لیے واضح طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔ مزید برآں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد ایک مئوثر ادارہ جاتی نجی پریکٹس کا نظام قائم کریں تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    اس مراسلے کی نقول وزیر صحت، سیکرٹری صحت، اور دیگر اعلی حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں تاکہ اس نظام کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سیالکوٹ:سیماپ کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری

    سیالکوٹ:سیماپ کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر مدثر رتو) دی سرجیکل انسٹرومنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (سیماپ) کے نومنتخب عہدیداروں کو اختیارات سونپنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    اس موقع پر ممبر پنجاب اسمبلی فیصل اکرام چودھری، سابق چیئرمین یوسف حسن باجوہ، سابق وائس چیئرمین محمد جمیل خان، جنرل سیکرٹری سیماپ محمد عثمان بٹ، اور دیگر اہم کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ آلات جراحی بنانے والے کاروباری افراد کی کثیر تعداد نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد سابق چیئرمین یوسف حسن باجوہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیماپ کا دنیا بھر میں ایک ممتاز مقام ہے اور اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے نومنتخب چیئرمین شیخ ذیشان طارق، سینئر وائس چیئرمین سلیمان علی مغل، اور وائس چیئرمین عبدالمومن کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔

    اپنے خطاب میں شیخ ذیشان طارق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سیالکوٹ کی تاجر برادری، خصوصاً آلات جراحی بنانے والے کاروباری افراد کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر سیماپ کے نام اور مقام میں اضافے کے لیے دن رات کام کریں گے اور اس صنعت کے فروغ اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

    شیخ ذیشان نے مزید کہامیں نے ہمیشہ اپنے بڑوں اور سینئرز سے سیکھا ہے اور انشاللہ ان کی رہنمائی میں سیماپ کے لیے بہترین کام کروں گا۔” انہوں نے آلات جراحی کے کاروباری افراد کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ ہر فورم پر ان کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

    تقریب کے آخر میں نومنتخب چیئرمین شیخ ذیشان طارق، سینئر وائس چیئرمین سلیمان علی مغل، اور وائس چیئرمین عبدالمومن کو باقاعدہ ہار پہنا کر ان کے اختیارات سونپے گئے اور انہیں مبارکباد دی گئی۔ تقریب کا ماحول انتہائی خوشگوار اور حوصلہ افزا رہا، جس میں تمام شرکاء نے نئے عہدیداروں کو نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔