Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازیخان کے نامور استاد پروفیسر فیاض احمد ترین کو خراج تحسین

    ڈیرہ غازیخان کے نامور استاد پروفیسر فیاض احمد ترین کو خراج تحسین

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈیرہ غازیخان کے نامور استاد اور ریٹائرڈ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج پروفیسر فیاض احمد ترین کو ان کی وفات پر شہر بھر میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

    پروفیسر فیاض احمد ترین کو ڈیرہ غازیخان میں بابائے کیمسٹری کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تعلیم کے میدان میں وقف کیا اور ہزاروں طلبہ کو علم کی روشنی سے منور کیا۔ ان کے شاگرد آج دنیا کے مختلف ممالک میں ڈاکٹرز، انجینیئرز، وکلاء، پروفیسرز اور دیگر اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

    پروفیسر فیاض احمد ترین نہ صرف ایک عظیم استاد بلکہ ایک نیک انسان بھی تھے۔ وہ انتہائی اصول پسند اور ایماندار تھے۔ ان کی وفات سے تعلیمی اور سماجی حلقوں میں گہرا صدمہ ہوا ہے۔

    پروفیسر فیاض احمد ترین رشتے میں رپورٹر جواد اکبر کے پھوپھا اور صاحبزادہ رحیم آصف مجددی کے ماموں تھے۔

    اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

  • ٹھٹھہ: امن و امان کے قیام کے لیے ضلع بھر میں سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری

    ٹھٹھہ: امن و امان کے قیام کے لیے ضلع بھر میں سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار بلاول سموں)ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات کے تحت ٹھٹھہ پولیس کی جانب سے ضلع بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سنیپ چیکنگ کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں میں موٹرسائیکلوں، رکشوں، مسافر وینوں، بسوں، اور دیگر گاڑیوں کو تفصیلی طور پر چیک کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، چیکنگ کے دوران متعدد گاڑیوں سے ٹنٹڈ گلاسز اور فینسی نمبر پلیٹس بھی اتاری جا رہی ہیں۔

    ضلع بھر میں ایس ڈی پی اوز اپنی حدود میں ایس ایچ اوز کے ہمراہ سنیپ چیکنگ کر رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی مشکوک حرکت کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ اس دوران بغیر نمبر پلیٹ کی موٹرسائیکلز کو تحویل میں لے کر ویریفیکیشن کا عمل جاری ہے۔

    ٹھٹھہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چیکنگ کا بنیادی مقصد ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو بحال رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ مشکوک افراد کی شناخت اور گاڑیوں کی ویریفیکیشن کے ذریعے ٹھٹھہ میں قانون کی عملداری کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

    سنیپ چیکنگ کی یہ مہم ضلع بھر میں جرائم کی روک تھام اور عوام کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ پولیس کی جانب سے مسلسل نگرانی اور چیکنگ سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جا رہا ہے۔

  • میرپورخاص: ایس ایس پی کا مختلف تھانوں اور  سینٹرزکا دورہ

    میرپورخاص: ایس ایس پی کا مختلف تھانوں اور سینٹرزکا دورہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی ،نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) ایس ایس پی میرپورخاص جناب شبیر احمد سیٹھار نے سی آئی اے سینٹر، 15 مددگار سینٹر، پولیس فیسلیٹیشن سینٹر، تھانہ ٹاؤن، تھانہ غریب آباد، تھانہ وومین، اور تھانہ سٹلائٹ ٹاؤن کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پولیس اسٹیشنز اور متعلقہ سینٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور ان کے محکمانہ امور کی تفصیل سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔

    ایس ایس پی شبیر احمد سیٹھار نے اپنے دورے کے دوران تمام پولیس اسٹیشنز کے مختلف امور کا تفصیلی معائنہ کیا اور پولیس کی تعیناتی کے حوالے سے بریفنگ لی۔ انہوں نے روزنامچہ عام، ایف آئی آر رجسٹرز اور دیگر اہم دستاویزات کا بھی جائزہ لیا تاکہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کا صحیح اندازہ ہو سکے۔

    ایس ایس پی میرپورخاص نے اس موقع پر تمام افسران اور جوانوں کو ہدایت کی کہ منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائیاں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریاں انتہائی فرض شناسی کے ساتھ انجام دینی چاہیے۔ ایس ایس پی نے زور دیا کہ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال رہے۔

    ایس ایس پی نے تمام ایس ایچ اوز کو سخت ہدایات جاری کیں کہ شہر میں پیٹرولنگ اور پکٹنگ کے عمل کو مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے جرم کو روکا جا سکے۔ عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کو دن رات مستعد رہنے اور ہر مشتبہ حرکت پر فوری کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

    ایس ایس پی شبیر احمد سیٹھارنے پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے جامع ہدایات جاری کیں اور عوام کو یقین دلایا کہ ان کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • اوچ شریف :عباسیہ نہر ٹوٹنے سے پانی بستیوں میں داخل

    اوچ شریف :عباسیہ نہر ٹوٹنے سے پانی بستیوں میں داخل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) اُچ شریف کے موضع مغلاں بستی خدا بخش للو والی موری کے قریب عباسیہ نہر ٹوٹنے کا واقعہ پیش آیا جس سے بستی میں پانی داخل ہو گیا۔ اس ہنگامی صورتحال کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کنٹرول روم بہاولپور نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

    تفصیلات کے مطابق ریسکیو 1122 کنٹرول روم بہاولپور کو موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق عباسیہ نہر ٹوٹنے کی وجہ سے بستی خدا بخش للو والی موری کے آس پاس کے علاقے میں پانی داخل ہو رہا تھا جس سے مقامی آبادی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ اس صورتحال میں ممکنہ جانی نقصان اور مالی تباہی کو روکنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کو فوری طور پر روانہ کیا گیا۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق اُچ شریف سے فوری طور پر ایک ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی جبکہ احمد پور شرقیہ سے مزید ایک ایمبولینس، ریسکیو وہیکل اور فائر وہیکل روانہ کی گئی۔ احمد پور سے ریسکیو سیفٹی آفیسر کی قیادت میں ایک مکمل ٹیم موقع کی طرف روانہ کی گئی تاکہ بستی میں پانی کو کنٹرول کیا جا سکے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔

    اُچ شریف سے پہنچی ایمبولینس نے فوری طور پر امدادی کام شروع کر دیا اور مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ریسکیو وہیکل اور فائر وہیکل بھی موقع پر پہنچ کر پانی کی صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    ریسکیو سیفٹی آفیسر کی سربراہی میں آنے والی ٹیم بستی کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ممکنہ طور پر نہر کے پانی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متحرک ہے۔ ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو ممکن حد تک تیز کیا ہے تاکہ جانی و مالی نقصان کم سے کم ہو۔

    ریسکیو 1122 نے متاثرہ علاقے کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ مزید برآں عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن پر فوری رابطہ کریں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

  • علم کے چراغ جلانے والوں کو خراجِ تحسین

    علم کے چراغ جلانے والوں کو خراجِ تحسین

    علم کے چراغ جلانے والوں کو خراجِ تحسین
    تحریر:ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی

    اساتذہ صرف علم نہیں بلکہ اقدار، اخلاق اور شخصیت بھی سکھاتے ہیں۔ وہ بچوں کے ذہنوں کو ڈھالتے ہیں اور انہیں اچھے شہری بننے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک بہتر اور مضبوط معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی محنت اور لگن ہی قوموں کی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 5 اکتوبر کو یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے تاکہ اس عظیم پیشے سے وابستہ افراد کی خدمات کو سراہا جائے اور ان کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک اچھے استاد کا کردار معاشرے میں کس قدر اہم اور لازمی ہوتا ہے۔

    یومِ اساتذہ منانے کا بنیادی مقصد اساتذہ کی تعلیمی میدان میں بے لوث خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ اساتذہ وہ ستون ہیں جو علم کی بنیاد پر قوم کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ ایک استاد صرف نصاب پڑھانے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ طلباء کی شخصیت سازی، ان کی تربیت اور انہیں اخلاقی اقدار سکھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم بطور معاشرہ اساتذہ کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو سمجھیں اور ان کے حل کے لیے اقدامات کریں۔ ترقی یافتہ معاشرے اپنے اساتذہ کو عزت و احترام دیتے ہیں اور ان کی محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    اساتذہ کی اہمیت محض کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ بچوں کی زندگیوں میں دور رس اثرات چھوڑتے ہیں۔ ایک اچھا استاد طلباء کے اندر نہ صرف علم کی پیاس جگاتا ہے بلکہ ان کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ انہیں خود اعتمادی، تحقیق کرنے کی عادت اور دنیا کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کی تربیت دیتا ہے۔

    اسلام میں بھی اساتذہ کا مقام بہت بلند ہے۔ قرآن و سنت میں علم اور علم سکھانے والوں کی اہمیت کو کئی بار بیان کیا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے”، جس سے اس پیشے کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے لیکن انہیں مختلف چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں وسائل کی کمی، تنخواہوں کا مسئلہ، طلباء کے رویوں میں تبدیلی اور جدید تقاضوں کے مطابق تدریس کے نئے طریقوں کو اپنانا جیسے چیلنجز اساتذہ کو درپیش ہیں۔

    تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی، نصاب میں تبدیلی اور مسلسل بڑھتے ہوئے طلباء کی تعداد کے باعث اساتذہ کو اپنی تدریسی ذمہ داریوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان چیلنجز کے باوجود، اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو انتہائی خلوص اور لگن سے نبھاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ انہیں معاشرے کا معمار کہا جاتا ہے۔

    اساتذہ کی محنت کا بہترین صلہ ان کے طلباء کی کامیابیوں میں نظر آتا ہے۔ جب ایک استاد اپنے شاگرد کو معاشرے میں کامیاب اور ذمہ دار شہری کے طور پر دیکھتا ہے تو اسے اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ ایک شاگرد کی کامیابی دراصل استاد کی محنت اور لگن کا مظہر ہوتی ہے۔

    اساتذہ کی یہ محنت نہ صرف طلباء کو علم و ہنر سے آراستہ کرتی ہے بلکہ انہیں ان کے خوابوں کی تعبیر بھی دیتی ہے۔ اساتذہ کی تربیت سے ہی طلباء معاشرتی خدمت، قیادت اور تحقیق میں اپنا نام پیدا کرتے ہیں۔

    یومِ اساتذہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ اساتذہ کا احترام ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کی محنت کو سراہیں اور انہیں ان کی خدمات کے لیے خراج تحسین پیش کریں۔ حکومتوں اور معاشرتی اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اساتذہ کی فلاح و بہبود کے لیے مناسب اقدامات کریں اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں۔

    یومِ اساتذہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ان عظیم افراد کا شکریہ ادا کریں جو ہماری زندگیوں میں علم کا چراغ جلاتے ہیں۔ ایک اچھا استاد نہ صرف کتابی علم دیتا ہے بلکہ طلباء کی زندگیوں میں بصیرت اور رہنمائی کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان کی عزت و تکریم معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان:آرپی او آفس کے ملازم کی ایمانداری کی مثال، گمشدہ موبائل مالک کو واپس کر دیا

    ڈیرہ غازی خان:آرپی او آفس کے ملازم کی ایمانداری کی مثال، گمشدہ موبائل مالک کو واپس کر دیا

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) ریجنل پولیس آفس ڈیرہ غازی خان میں تعینات نائب قاصد سید تحسین اصغر نے ایمانداری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک گمشدہ موبائل فون اس کے اصل مالک کو واپس کر کے ایک اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف پولیس کے اس شعبے کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی بڑھایا ہے۔

    واقعہ کچھ یوں ہے کہ نائب قاصد سید تحسین اصغر کو بازار میں ایک گمشدہ موبائل فون ملا۔ یہ موبائل فون ایک شہری محمد یعقوب کا تھا جو کہ پیشے کے اعتبار سے ایک سکول ٹیچر ہیں۔ سید تحسین اصغر نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے موبائل فون کو اپنے پاس رکھنے یا اسے فروخت کرنے کے بجائے فوری طور پر فون کے مالک سے رابطہ کیا۔

    نائب قاصد نے محمد یعقوب کو کال کرکے اطلاع دی کہ ان کا گمشدہ موبائل فون مل گیا ہے اور انہیں ریجنل پولیس آفس میں بلا کر فون ان کے حوالے کر دیا۔ اس ایماندارانہ اقدام پر محمد یعقوب نے بے حد خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور سید تحسین اصغر کی ایمانداری اور فرض شناسی کی تعریف کی۔

    محمد یعقوب، جو کہ اپنی محنت کی کمائی سے خریدا گیا موبائل فون کھو بیٹھے تھے، نے موبائل فون واپس ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آج کے دور میں جب لوگ ذاتی مفاد کے لیے دوسروں کے نقصان کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ایسے ایماندار لوگوں کا ہونا ہمارے معاشرے کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ میں ریجنل پولیس آفس کے اس ملازم کی ایمانداری کو دل سے سراہتا ہوں۔”

    اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ڈیرہ غازی خان، کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے بھی سید تحسین اصغر کی ایمانداری کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ "ایمانداری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین ہمارے محکمے کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ ایسے ملازمین نہ صرف محکمہ پولیس کا وقار بڑھاتے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔”

    آر پی او نے مزید کہا کہ تحسین اصغر کا یہ اقدام محکمہ پولیس کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہر پولیس ملازم اسی جذبے کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے تاکہ عوام کا اعتماد پولیس پر برقرار رہے۔ انہوں نے تحسین اصغر کو انعام اور تعریفی سند سے نوازنے کا اعلان بھی کیا تاکہ دوسرے ملازمین بھی اس سے ترغیب حاصل کریں۔

    نائب قاصد سید تحسین اصغر، جنہوں نے یہ ایمانداری کا مظاہرہ کیا، نے کہا کہ "میری تربیت اور فرض کا تقاضا یہی تھا کہ میں اس گمشدہ چیز کو اس کے مالک تک پہنچاؤں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایمانداری انسان کی پہچان ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے فرض کو دیانت داری سے پورا کیا۔”

    یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے جہاں لوگوں نے سید تحسین اصغر کی ایمانداری کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بہت سے شہریوں نے یہ کہا کہ اگر ہر فرد اور سرکاری ملازم اسی جذبے کے ساتھ کام کرے تو معاشرے میں اخلاقی قدریں مزید مضبوط ہوں گی اور عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہوگا۔

  • پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر ممبر سازی مہم کا باقاعدہ آغاز

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر ممبر سازی مہم کا باقاعدہ آغاز

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے موجودہ ملکی سیاسی حالات اور عوام کی فلاح کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ممبر سازی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کا مقصد سیاسی میدان میں ذاتی مفادات کے بجائے عوامی خدمت کو فروغ دینا ہے تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ بات مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری انجینئر ثاقب مجید اور مرکزی فنانس سیکرٹری انجینئر حارث ڈار نے مرکز المدینہ ضلعی سیکرٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

    ملکی حالات اور سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر کڑی تنقید
    پریس کانفرنس کے دوران ثاقب مجید نے ملکی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "موجودہ سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات اور اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں۔ حالیہ آئینی ترامیم کے لیے جوڑ توڑ کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کی فلاح کے بجائے ذاتی ایجنڈے ترجیح ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے اور ملک کو مزید تین سال کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس گروی رکھوا دیا گیا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہا ہے۔

    ممبر سازی مہم، عوامی خدمت کے لیے نیا راستہ
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے عوام کی خدمت کو سیاست کی بنیاد بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انجینئر حارث ڈار نے کہا کہ بڑھتے ہوئے عوامی اعتماد کے پیش نظر مرکزی مسلم لیگ نے ملک بھر میں ممبر سازی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ہے کہ "یونین کونسل کی سطح پر مرد و خواتین کو مرکزی مسلم لیگ کا حصہ بنایا جائے تاکہ گراس روٹ لیول سے عوامی نمائندے سامنے آئیں اور عوامی مسائل کو حقیقی معنوں میں حل کیا جا سکے۔”

    اس مہم کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں یونین کونسل کی سطح پر بھرپور ممبر سازی کی جائے گی، اور پہلے مرحلے میں لاکھوں افراد کو جماعت میں شامل کیا جائے گا۔ اس مہم کے لیے ملک بھر کی اہم شاہراہوں پر پارٹی پرچم، اسٹینڈیز اور بینرز آویزاں کیے جائیں گے۔

    خواتین اور نوجوانوں کے لیے خصوصی اقدامات
    مرکزی مسلم لیگ نے خواتین کو سیاست میں شامل کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ خواتین کے لیے الگ سے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مخصوص علاقوں میں کام کریں گی جبکہ خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔ انجینئر حارث ڈار نے کہا کہ ہم خواتین کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کریں گے اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنائیں گے تاکہ ہر طبقہ اس ملک کی ترقی میں شامل ہو سکے۔”

    دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو بھی دعوت
    ثاقب مجید نے تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو بھی دعوت دی کہ وہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا حصہ بنیں اور ملک کو مذہبی منافرت، لسانی تعصب اور سیاسی عصبیت سے نجات دلانے میں تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو وہ مقام دلانا ہمارا مشن ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے عملی تعبیر دی۔”

    مہم کا آن لائن آغاز اور مانیٹرنگ کا خصوصی نظام
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اس ممبر سازی مہم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آن لائن بھی دستیاب کر دیا ہے جس سے شہری گھر بیٹھے ممبر شپ فارم بھر کر جماعت میں شامل ہو سکیں گے۔ اس کے علاوہ مرکزی قیادت اس مہم کی مانیٹرنگ کے لیے سنٹرل سیکرٹریٹ میں ایک خصوصی ڈیسک قائم کر چکی ہے جو ملک بھر میں ممبر سازی کی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔

    پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے عزم
    پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے موجودہ مسائل جیسے مہنگائی، آئی ایم ایف کے قرضے، لوڈ شیڈنگ، اور تعلیم و صحت کی ناقص صورتحال پر بھی بات کی گئی۔ ثاقب مجید نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ملک کو ان مسائل سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو سودی قرضوں سے نجات دلائی جائے، اشرافیہ کے تسلط کو ختم کیا جائے اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں ہر شہری کو برابری کے حقوق حاصل ہوں۔”

    ہم سب سے پہلے انسانیت کی خدمت کو فوقیت دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ہمارا مقصد ہے کہ پاکستان کو مستحکم، متحد اور محفوظ بنایا جائے تاکہ ہر شہری خوشحال زندگی گزار سکے۔”

    ملک بھر میں سرگرمیوں کا اعلان
    ممبر سازی مہم کے دوران مرکزی مسلم لیگ کی قیادت ملک بھر کے اہم شہروں کا دورہ کرے گی تاکہ عوامی رابطے کو فروغ دیا جا سکے اور لوگوں کو جماعت کے منشور سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس مہم کا مقصد ملک بھر میں ایک منظم اور ایماندار قیادت فراہم کرنا ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔

  • ٹھٹھہ : پی پی لیڈیز ونگ کا اجلاس،کارساز سانحے کے شہداء کی برسی منانے کا فیصلہ

    ٹھٹھہ : پی پی لیڈیز ونگ کا اجلاس،کارساز سانحے کے شہداء کی برسی منانے کا فیصلہ

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار بلاول سموں)پی پی لیڈیز ونگ کا اجلاس،کارساز سانحے کے شہداء کی برسی منانے کا فیصلہ

    تفصیل کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) لیڈیز ونگ ضلع ٹھٹھہ کا ایک اہم اجلاس سید ہاؤس مکلی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ایم پی اے رخسانہ شاہ نے کی۔ اس اجلاس میں پی پی پی لیڈیز ونگ کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کارساز سانحے کے شہداء کی برسی کی تقریب 18 اکتوبر کو حیدرآباد شہر میں منعقد کی جائے گی، جس میں پی پی پی لیڈیز ونگ کی خواتین بھرپور شرکت کریں گی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی لیڈیز ونگ ضلع ٹھٹھہ کی صدر ایم پی اے رخسانہ شاہ نے کہا کہ پی پی پی شہداء کی جماعت ہے، جس نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کارساز سانحے کے شہداء کی برسی کی تقریب اس بار حیدرآباد میں منعقد کی جا رہی ہے، جہاں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر پارٹی رہنما خطاب کریں گے۔

    رخسانہ شاہ نے مزید کہا کہ اس تقریب میں پورے سندھ کی طرح ضلع ٹھٹھہ سے بھی خواتین بڑی تعداد میں شرکت کریں گی تاکہ وہ کارساز سانحے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔

    اجلاس میں دیگر لیڈیز ونگ رہنما بھی موجود تھیں، جن میں پی پی پی لیڈیز ونگ تحصیل ٹھٹھہ کی صدر امینہ احسان بھٹی، تحصیل ساکرو کی صدر صفیہ کریم بخش جوکھیو، تحصیل کیٹی بندر کی صدر صغریٰ کرمون، اور تحصیل گھوڑاباری کی صدر گل بانو مگنہار شامل تھیں۔ اس موقع پر خواتین کارکنان کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی، جو پی پی پی کی سرگرمیوں میں اپنی بھرپور شرکت کی عزم کا اظہار کر رہی تھیں۔

    اجلاس کے اختتام پر، پی پی پی لیڈیز ونگ نے حیدرآباد میں ہونے والی تقریب کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، تاکہ کارساز سانحے کے شہداء کی یاد کو شاندار طریقے سے منایا جا سکے۔

  • ٹھٹھہ:مکلی میں الیکشن کمیشن کا سکول پر قبضہ، بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور

    ٹھٹھہ:مکلی میں الیکشن کمیشن کا سکول پر قبضہ، بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار بلاول سموں) گورنمنٹ پرائمری بوائز اسکول مکلی میں الیکشن کمیشن ضلع ٹھٹھہ کے افسران نے قبضہ کر لیا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ اسکول کے چھ کمروں پر الیکشن کمیشن نے اپنا سامان رکھ کر تالے لگا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ باہر کھلے میدان میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے جی پی ایس بوائز مکلی کو الیکشن کمیشن کے گودام کے طور پر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد طلبہ کو کلاس رومز کی عدم موجودگی کی وجہ سے کھلے میدان میں تعلیم حاصل کرنا پڑ رہا ہے جو کہ شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ طلبہ کے لیے یہ صورتحال نہ صرف غیر آرام دہ ہے بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔

    یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب حکومت سندھ اور وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی تشہیر کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود شہر مکلی کے مرکزی سکول پر ضلعی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن نے زبردستی قبضہ کر کے وہاں گودام قائم کر لیا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔

    مقامی سیاسی اور سماجی رہنماؤں، عوامی ہیومن رائٹس فورم کے اراکین، سکول کے اساتذہ اور پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس گودام کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قبضے میں لیے گئے کمرے فوراً خالی کرائے جائیں تاکہ تعلیمی عمل کو بحال کیا جا سکے۔

    طلبہ کے والدین نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ان کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور انہیں فوری طور پر مناسب تعلیم فراہم کی جانی چاہیے۔ یہ ایک بڑا ظلم ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تعلیم کی جگہ کو گودام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ طلبہ کو ایک مناسب تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

  • انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کے زیر اہتمام 113ویں سالانہ سیرت رحمت اللعالمین کانفرنس

    انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کے زیر اہتمام 113ویں سالانہ سیرت رحمت اللعالمین کانفرنس

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کے زیر اہتمام 113ویں سالانہ عظیم الشان سیرت رحمت اللعالمین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس فقیدالمثال کانفرنس کی سرپرستی حضرت مولانا حکیم محمد عبدالواحد نے کی۔ ناظم دعوت و تبلیغ مجلس احرار الاسلام پاکستان حضرت مولانا سید عطاءالمنان شاہ بخاری اور حضرت مولانا ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے بطور مہمان خصوصی کانفرنس میں شرکت کی۔

    حضرت مولانا حکیم محمد عبدالواحد نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے معزز مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت حضرت محمد ﷺ کی سیرت کو اپنانا اور آپ ﷺ کی عملاً اطباع کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جہانوں میں کامیابی صرف اطباع رسول ﷺ سے ممکن ہے۔

    حضرت مولانا سید عطاءالمنان شاہ بخاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی نعمت حضور نبی کریم ﷺ کی ذات ہے اور ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی آمد سے دنیا نور سے منور ہو گئی اور گمراہی کا خاتمہ ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اپنانے پر زور دیا اور کہا کہ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    حضرت مولانا ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے بھی کانفرنس میں خطاب کیا اور نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ تمام نبیوں کے سردار اور آخری نبی ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں جہانوں کے لیے رحمت اللعالمین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ذات و صفات کا تذکرہ ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی سیرت کو اپنانا بھی ناگزیر ہے تاکہ دنیا و آخرت سنور جائے۔

    اس موقع پر مولانا محمد عبدالباسط، مولانا حماد انذر قاسمی، ڈاکٹر شیخ عبدالخبیر، ناظم دارالشفقت انجمن اسلامیہ سیالکوٹ عثمان احمد خان، صدر انجمن اسلامیہ سیالکوٹ پروفیسر خواجہ راشد جاوید، آنریری جنرل سیکرٹری محمد افضل ڈیوڑا، اور آنریری جائنٹ سیکرٹری عبد الحمید نظامی بھی موجود تھے۔