Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!
    تحریر:ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب سے تورخم اور چمن بارڈر بند ہوئے ہیں، بازاروں میں انار کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ ایک کلو انار جو کابل میں دس روپے کا مل رہا ہے، لاہور، کراچی اور پشاور میں ڈیڑھ سے دو سو روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ مذاق اڑا رہے ہیں کہ "انار تو سونا ہو گیا”۔لیکن یہ مذاق نہیں، خون ہے۔ ہر وہ انار جو سرحد پار سے آتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک گولی بھی آتی ہے جو کسی پاکستانی سپاہی کے سینے میں لگتی ہے۔ ہر وہ سیب اور انگور کا ٹرک جو افغانستان سے گزرتا ہے، اس کے نیچے شاید کوئی دھماکہ خیز مواد چھپا ہو تاہےجو ہمارے شہروں میں پھٹتا ہے۔

    اس لیے واضح پیغام ہے کہ سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    رواں سال میں اب تک فتنہ الخوارج تحریکِ طالبان پاکستان نے 1300 سے زائد دہشت گرد حملے کیے ہیں۔ ان میں 1600 سے زیادہ پاکستانی شہید اور 2500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کوئی تھنک ٹینک کی رپورٹ نہیں، یہ ہمارے قبرستانوں کی حقیقت ہے۔ ہر حملے کے پیچھے افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہیں ہیں، جہاں TTP، القاعدہ اور داعش خراسان کے دہشت گرد آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں، تربیت لے رہے ہیں، ویڈیوز بنا رہے ہیں اور سرحد پار کر کے ہماری گردنوں پر چھری چلا رہے ہیں اور بم پھوڑ رہے ہیں۔

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے 2021 میں جب امریکی چلے گئے تو ہم نے سوچا تھا کہ شاید امن ہو جائے گا۔ ہوا کیا؟ دو سال کے اندر TTP نے دوبارہ سر اٹھایا اور آج ہم 2014 سے بھی بدتر صورتحال میں کھڑے ہیں۔

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر جو کنٹینرز آتے ہیں، ان میں سے کتنے واقعی سامان لے کر آتے ہیں اور کتنے اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور منشیات؟ 2024-25 میں پاکستانی کسٹمز نے متعدد کنٹینرز پکڑے جن میں ہیروئن، شیشہ، جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا۔ یہ سب "افغان ٹرانزٹ ٹریڈ” کے نام پر بھارت اور دیگر ممالک سے آ رہا تھا اور راستے میں ہماری سڑکوں، ہماری فوج اور ہمارے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    اب جب سرحد بند کی گئی تو افغان تاجر چیخ رہے ہیں کہ "ہمارا کاروبار تباہ ہو گیا”۔ اچھا۔ تو کیا ہم اپنے بچوں کی لاشیں گن کر کاروبار کریں؟

    افغانستان کے پاس ایران کا چاہ بہار پورٹ ہے، ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے راستے ہیں۔ رواں سال ہی افغانستان نے ایران کے راستے 1.6 بلین ڈالر کی تجارت کی جبکہ پاکستان کے راستے صرف 1.1 بلین ڈالر کی۔ یعنی متبادل موجود ہے، بس وہ تھوڑا مہنگا ہے۔

    کیا ہمارا خون سستا ہے..؟ ،کیا ہمارے اور ہمارے بچوں اور خاندانوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے ..؟،نہیں ہماراخون بہت قیمتی ہے،جس کی قیمت کوئی نہیں چکا سکتا،

    جب سے ہم نے سرحد بند کی تو کابل میں انار کی قیمت دس روپے کلو سے پانچ روپے کلو تک پہنچ گئی ،اس کے برعکس پشاور میں دو سو روپے تک چلی گئی۔ یہ فرق صرف پھل کی قیمت کا نہیں، یہ زندگی اور موت کا فرق ہے۔

    کابل میں بیٹھے طالبان حکمران کہتے ہیں کہ "TTP پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے”۔ اچھا۔ تو پھر ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ افغان انار، آلو، سیب، انگور، قالینیں اور لاجورد تو یہ سب افغانستان کا اندرونی مسئلہ ہے،ہمارا کیا ہے۔ ہمارے کسان، ہماری مارکیٹیں، ہمارے گودام بھرے پڑے ہیں۔ ہم بغیر افغان پھلوں کے بھی جی لیں گے، لیکن اپنے بچوں ،اپنے خاندانوں کے بغیر نہیں جی سکتے۔

    طالبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ 2021 سے پہلے پاکستان نے ان کی بہت مدد کی تھی۔ ان کے زخمیوں کا علاج ہمارے ہسپتالوں میں ہوا، ان کے رہنما ہماری سرزمین پر رہے، ان کی فیملیاں یہاں رہیں۔ اب جب وہ اقتدار میں ہیں تو وہی پرانی "اسٹریٹجک ڈیپتھ” والی پالیسی چلا رہے ہیں۔ یہ پالیسی نہیں چلے گی۔

    اب پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ یا تو TTP کو ختم کرو، یا ہم خود ختم کریں گے… چاہے سرحد پار جا کر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    آج پشاور کا بچہ، کوئٹہ کی ماں، کراچی کا تاجر، لاہور کا طالب علم ، سب ایک ہی زبان بول رہے ہیں کہ "ہم اپنے فوجیوں کی لاشوں کی قیمت پر انار نہیں کھائیں گے” "ہم اپنے بچوں کی شہادت کی قیمت پر سیب نہیں کھائیں گے” "ہم اپنوں کے خون کی قیمت پر کوئی تجارت نہیں کریں گے”

    یہ کوئی سیاسی بیان نہیں، یہ قومی ضمیر کا بیان ہے۔

    سرحد پر کھڑا پاکستانی سپاہی سردی میں کانپ رہا ہے، گرمی میں پسینے سے شرابور ہے، گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے۔ وہ اپنی جان دے رہا ہے تاکہ ہم اپنے گھروں میں چین سے سو سکیں، اپنے بچوں کو سکول بھیج سکیں، اپنی بیٹیوں کی شادیاں کر سکیں۔

    اس کی قربانی کی قیمت پر انار، انگور اور سیب کی کوئی تجارت قبول نہیں۔

    جب تک افغانستان میں TTP کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، جب تک سرحد پار سے ہماری گردنوں پر چھری چلتی رہے گی، جب تک ہماری ماؤں کے آنسو نہیں رکیں گے، تب تک سرحد بند رہے گی۔ تب تک ایک دانہ بھی اندر نہیں آئے گا۔

    پاکستانی خون کے بدلے انار؟ یہ سودا ہمیں منظور نہیں!
    سب سے پہلے پاک فوج اور عوام . پاکستان زندہ باد!

  • قصور: سرچ آپریشن میں منشیات فروش، موٹر سائیکل چور اور اشتہاری سمیت 10 ملزمان گرفتار

    قصور: سرچ آپریشن میں منشیات فروش، موٹر سائیکل چور اور اشتہاری سمیت 10 ملزمان گرفتار

    قصور (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نوید)ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں کی ہدایت پر تھانہ بی ڈویژن پولیس نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے منشیات فروشی، موٹر سائیکل چوری اور رابری جیسے سنگین جرائم میں ملوث 10 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 5 بدنام زمانہ منشیات فروشوں سےساڑھے 4 کلوگرام چرس،آدھا کلوگرام افیون اور 20 لیٹر زہریلی شراب
    برآمد کی گئی۔گرفتار منشیات فروشوں کی شناخت سرفراز عرف لاجی مسیح، اشفاق، افضل، اقبال اور عارف کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    اسی دوران ایک اور مقام پر کیے گئے سرچ آپریشن میں 3 موٹر سائیکل چور ملزمان شہزاد، عابد اور الیاس کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے ان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی 3 چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کیں۔

    علاوہ ازیں رابری کے سنگین مقدمات میں مطلوب 2 خطرناک اشتہاری مجرم سرفراز اور احسن کو بھی گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق تمام ملزمان سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔

  • قصور: دوسری شادی کیوں کی؟ بیٹے نے ماں کو کلہاڑیوں کے وار سے قتل کر دیا

    قصور: دوسری شادی کیوں کی؟ بیٹے نے ماں کو کلہاڑیوں کے وار سے قتل کر دیا

    قصور ( باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نویدسندھو)قصور کے علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بیٹے نے اپنی والدہ کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا کہ اس نے دوسری شادی کر لی تھی۔ پولیس کے مطابق مقتولہ صوبیہ بی بی نے حال ہی میں دوسری شادی کی تھی، جس پر اس کے بیٹے ذیشان کو شدید رنج اور غصہ تھا۔

    رنجش اس حد تک بڑھی کہ ذیشان نے اپنی ماں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ گزشتہ روز ملزم نے صوبیہ بی بی کو کیلوں کی فصل میں بلا کر کلہاڑی کے پے در پے وار کیے جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔

    واقعے کی اطلاع پر تھانہ صدر قصور پولیس فوری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کیا اور قانونی کارروائی شروع کر دی۔

    پولیس نے ملزم ذیشان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ قتل کے محرکات اور مزید پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔

  • گھوٹکی: 19 نومبر کو درگاہ انور حضور کے سالانہ عرس پر عام تعطیل کا اعلان

    گھوٹکی: 19 نومبر کو درگاہ انور حضور کے سالانہ عرس پر عام تعطیل کا اعلان

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے درگاہ انور حضور، جہانپور شریف میں شاہ سید انور حضور کے سالانہ عرسِ مبارک کے موقع پر 19 نومبر 2025 بروز بدھ ضلع بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق 19 نومبر کو تمام سرکاری و نیم سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور ضلعی محکمے بند رہیں گے، جبکہ صحت، ایمرجنسی، سیکیورٹی، صفائی اور دیگر ضروری خدمات معمول کے مطابق فراہم کی جائیں گی۔

    انتظامیہ کے مطابق درگاہ انور حضور، جہانپور شریف ضلع گھوٹکی کی ایک اہم روحانی اور تاریخی درگاہ ہے جہاں ہر سال ہزاروں زائرین شرکت کرتے ہیں۔ عرسِ مبارک کے موقع پر محفلِ سماع، صوفیانہ کلام، قرآن خوانی، اجتماعی دعا، لنگر اور تبرک سمیت مختلف روحانی و ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

    عرس کے سلسلے میں سیکیورٹی پلان، ٹریفک مینجمنٹ، پارکنگ ایریاز، میڈیکل کیمپس، روشنی، پینے کے پانی اور صفائی کے خصوصی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی درگاہ کے اطراف تعینات کردی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ درگاہ انور حضور، جہانپور شریف امن، محبت اور صوفیانہ روایت کی علامت ہے، جبکہ شاہ سید انور حضور کا سالانہ عرس گھوٹکی کی ثقافتی اور روحانی وراثت کا اہم حصہ ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عرس کی تقریبات میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔

  • اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر کی ضلعی افسران کو گڈ گورننس اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات

    اوکاڑہ: ڈپٹی کمشنر کی ضلعی افسران کو گڈ گورننس اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے مفادِ عامہ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کے افسران کو وزیراعلیٰ پنجاب کے گڈ گورننس پروگرام پر مکمل عملدرآمد کے واضح احکامات جاری کیے۔ اس سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علیزہ ریحان، اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ چوہدری رب نواز، اسسٹنٹ کمشنر ایچ آر نور محمد، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ مرغوب حسین ڈوگر، ایس ڈی ای او پیرا وسیم جاوید، ایس این اے افضال حسین بلوچ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس میں ستھرا پنجاب مہم، تجاوزات کے خلاف کارروائی، شہر کی خوبصورتی، پارکس کی تزئین و آرائش، ڈویلپمنٹ اسکیموں پر پیش رفت اور دیگر گڈ گورننس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر عملدرآمد میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    احمد عثمان جاوید نے موثر مانیٹرنگ کے جامع پلان پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ پوری نیک نیتی کے ساتھ عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور ان کے مسائل کے بہترین حل کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • اوکاڑہ: خسرہ و روبیلا انسداد مہم کا باقاعدہ آغاز، 9 ماہ سے 15 سال تک کے بچوں کو مفت ویکسین لگائی جائے گی

    اوکاڑہ: خسرہ و روبیلا انسداد مہم کا باقاعدہ آغاز، 9 ماہ سے 15 سال تک کے بچوں کو مفت ویکسین لگائی جائے گی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سٹی ہسپتال اوکاڑہ میں انسدادِ خسرہ و روبیلا مہم کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی، جہاں بچوں کو موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خسرہ اور روبیلا ویکسینیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو نے 17 نومبر سے شروع ہونے والی مہم کا افتتاح کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد شعجین وسطرو نے کہا کہ مہم کے دوران 9 ماہ سے 15 سال تک کے تمام بچوں کو مفت ویکسین لگائی جائے گی۔ یہ خصوصی مہم 17 تا 29 نومبر جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی بہترین صحت اور محفوظ مستقبل کے لیے خسرہ و روبیلا کے خلاف ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ویکسین بچوں میں قوتِ مدافعت بڑھاتی ہے اور انہیں متعدد خطرناک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم کا آغاز والدین کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فوری ویکسینیشن کروا کر ان کی صحت و سلامتی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • ننکانہ:ڈی ایچ کیوہسپتال کے 41 سیکیورٹی گارڈز ،3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، گھروں کے چولہے ٹھنڈے

    ننکانہ:ڈی ایچ کیوہسپتال کے 41 سیکیورٹی گارڈز ،3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، گھروں کے چولہے ٹھنڈے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ننکانہ صاحب میں تعینات 41 خواتین و مرد سیکیورٹی گارڈز گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جس کے باعث ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور ملازمین شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت کی مبینہ بے حسی اور مسلسل خاموشی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ ڈیوٹی پر مامور گارڈز کے مطابق بجلی کے بل، کرایہ، بچوں کی فیسیں اور گھریلو ضروریات پوری کرنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی گارڈز اگست، ستمبر اور اکتوبر کی تنخواہوں سے محروم ہیں اور تین تین شفٹوں میں مسلسل ڈیوٹی انجام دینے کے باوجود انہیں ان کا واجب حق نہیں مل رہا۔ ملازمین نے بتایا کہ متعدد بار انتظامیہ کو درخواستیں اور یاد دہانیاں کرائیں، مگر کسی نے ان کی حالتِ زار پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ضلعی محکمہ صحت میں بے حسی نے مستقل ڈیرے جما لیے ہیں اور انسانیت دم توڑتی جا رہی ہے۔

    تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث کئی اہلکاروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے جبکہ بچوں کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔ شدید ذہنی دباؤ کے شکار سیکیورٹی ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے اور واجبات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

    گارڈز نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری ہیلتھ نادیہ ثاقب سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور متعلقہ ملازمین کو ان کا حق دلوا کر انہیں معاشی تباہی سے بچائیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دے رہے ہیں، مگر تنخواہوں کی عدم فراہمی نے ان کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔

  • بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک

    بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک

    بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    تاریخ انسانی گواہ ہے کہ قومیں اپنی عسکری طاقت پر فخر کرتی ہیں، مگر جب یہ طاقت حقیقت کی کسوٹی پر پرکھی جاتی ہے تو بہت سے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ بھارت جو خود کو علاقائی طاقت اور عالمی سطح پر ابھرتا ہوا سپر پاور کہلوانے کا شوقین ہے، حالیہ مہینوں میں ایسی ہی ایک شرمناک صورتحال سے دوچار ہوا ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ بھارتی فضائیہ کے کئی اڑتے ہوئے جنگی طیارے گر کر تباہ ہوچکے ہیں (بھارتی جنگی جہازوں کو عام طور اڑتے ہوئے تابوت کہا جاتا ہے) جن میں جیگوار، ٹرینر جیٹس اور دیگر شامل تھے۔ یہ واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ بھارتی عسکری نظام کی گہری کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

    تاریخی طور پر دیکھا جائے تو بھارت کی فضائیہ کو ایسی ناکامیوں کا سامنا پہلے بھی ہوا ہے۔ 1962 کی چین کے ساتھ جنگ میں بھارتی فضائیہ نے اپنی ناکامی کا مظاہرہ کرچکی ہے ،جب اس کے طیارے چینی حملوں کے سامنے بے بس ثابت ہوگئے تھے۔ اسی طرح 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی بھارتی فضائیہ کو پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا، جہاں ایم ایم عالم جیسے پاکستانی پائلٹس نے بھارتی غرور خاک میں ملایا ،بھارتی جیٹس کو گرا کر تاریخ رقم کردی۔ حالیہ 2025 کی مختصر جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول پاکستانی شاہینوں نے آٹھ بھارتی طیارے تباہ کئے جن میں رفال ،مگ ودیگر شامل تھے، اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔ یہ ناکامیاں نہ صرف بھارتی عسکری طاقت کے دعوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں بلکہ ان کی ٹریننگ، مینٹیننس اور ٹیکنالوجی کی خامیوں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

    اس عسکری ناکامی کے بعد بھارتی قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم نریندرامودی ایک شدید ذہنی دباؤ اور انتقامی ذہنیت کا شکار نظر آیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ناکامی کے بعد قائدین اکثر جذباتی فیصلے کرتے ہیں جو مزید تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ 1971 کی جنگ کے بعد جب بھارت نے پاکستان کو تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کی، تو اس کی قیادت نے فتح کا نشہ چڑھایا، مگر اس سے پہلے 1962 میں چین کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد نہرو کی حکومت شدید پریشانی میں مبتلا ہوئی تھی۔

    آج کی صورتحال میں بالاکوٹ حملے کی ناکامی کے بعد سے بھارتی قیادت کی ذہنی حالت اسی طرح کی ہے۔ 2019 کے بالاکوٹ واقعے میں بھارتی جیٹس کو پاکستانی فضائیہ نے ناکام بنا دیا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ شکست اب تک بھارتی قیادت کے ذہنوں میں تازہ ہے، جو انہیں انتقامی کارروائیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مگر یہ ذہنی دباؤ انہیں منطقی فیصلوں سے دور کر رہا ہے اور نتیجتاً بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے خلاف براہ راست جنگ لڑ سکتا ہے؟ جس کا جواب واضح ہے کہ نہیں کیونکہ بھارت کی کمزور معیشت، داخلی تقسیم، عالمی رسوائی کا خوف اور سرمایہ کاروں کی مخالفت اسے ایسی مہم جوئی سے روکتی ہے۔ تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو بھارت کی معیشت ہمیشہ سے ہی اس کی عسکری مہم جوئیوں کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ 1999 کی کارگل جنگ میں، جب بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تھی تو بھارتی معیشت پر شدید دباؤ پڑا، اور عالمی دباؤ نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

    آج 2025 میں بھارت کی جی ڈی پی گروتھ کم ہو رہی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور داخلی سطح پر مذہبی اور علاقائی تقسیم عروج پر ہے۔ کشمیر، آسام،تری پورہ ،ناگالینڈ اور پنجاب میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ چکی ہیں جو 1947 کی تقسیم کے بعد سے چلی آ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کا سامنا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں درج ہے۔ سرمایہ کار خاص طور پر امریکی اور یورپی کمپنیاں، جنگ کی صورت میں بھارت سے نکل جائیں گی، جیسا کہ 2020 کی چین کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد دیکھا گیا۔ یہ سب عوامل مل کر بھارت کو براہ راست جنگ سے روکتے ہیں کیونکہ ایسی جنگ نہ صرف معاشی تباہی لائے گی بلکہ اس کی داخلی استحکام کو بھی ختم کر دے گی۔

    تو براہ راست جنگ نہ لڑ سکنے کی صورت میں بھارت نے متبادل راستہ اختیار کیا جو ہے افغان اور ایرانی سرزمین کا استعمال۔ بھارت نے افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کو مالی امداد دے کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا جبکہ ایران کی سرحدوں سے بھی جاسوسی اور سبورسیو ایکٹیویٹیز کو ہوا دی جارہی ہے۔ یہ حکمت عملی نئی نہیں بلکہ تاریخی طور پر بھارت نے پراکسی وارز کا سہارا لیا ہے۔

    1971 کی جنگ میں بھارت نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو تربیت اور اسلحہ دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جو بالآخر پاکستان کی تقسیم کا باعث بنی۔ اسی طرح 2001 کے بعد افغانستان میں، بھارت نے شمالی اتحاد اور دیگر گروہوں کو سپورٹ کیا جو پاکستان کی سرحدوں پر دہشت گردی کا ذریعہ بنے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را (RAW) نے افغان سرزمین سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ ایران کے چابہار اور سرباز علاقوں سے بھی سرگرمیاں چل رہی ہیں۔

    2016 میں پاکستان میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، اس کی ایک زندہ مثال ہے، جہاں ایک حاضر سروس بھارتی نیول افسر کو ایرانی سرزمین سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے جاسوسی اور دہشت گردی کے واضح ثبوتوں سمیت سمیت پکڑا گیا ،جس نے خود بھی اعتراف کیا کہ وہ دہشت گردی کا نیٹ ورک چلارہاتھا، پاکستانی حکام کے مطابق کلبھوشن یادیو ایران کے سرحدی علاقے سرباز سے پاکستان میں داخل ہوا، جہاں وہ بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلاتا رہا.

    افغان گروہوں کی مالی بنیاد ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔ یہ گروہ بنیادی طور پر منشیات، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت پر قائم ہیں۔ افغانستان کی افیون کی پیداوار دنیا کا تقریباً 90 فیصد ہے، جو 1980 کی دہائی میں سوویت جنگ کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ اس زمانے میں مجاہدین کی مالی معاونت کے لیے افیون کی تجارت کو ایک ذریعہ بنایا گیا تھا اور آج بھی طالبان سمیت مختلف گروہ اسی معیشت پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سو ملین ڈالر کے عوض یہ گروہ دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت، جو کئی ملین ڈالر تک جاتی ہے، انہی گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ انتہائی خطرناک کھیل ہے کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ پراکسی گروہ اکثر اپنے آقاؤں کے خلاف بھی پلٹ جاتے ہیں۔

    بھارت کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔ جو دہشت گرد آج پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، کل زیادہ رقم کے بدلے بھارت پر پلٹ سکتے ہیں۔ کرائے کے قاتل بے وفا ہوتے ہیں۔ امریکہ کی مثال سامنے ہے، جس نے 1980 کی دہائی میں مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا، مگر بعد میں یہ گروہ القاعدہ بن کر امریکہ کے خلاف ہو گئے۔ اسی طرح بھارت کی سپورٹ والے گروہ، جیسے ٹی ٹی پی یا بی ایل اے، اگر چین یا ایران سے زیادہ رقم ملی تو بھارت کی طرف مڑ سکتے ہیں۔ یہ بھارت کی اپنی سلامتی کے لیے ایک ٹائم بم ہے۔

    اس سب کے باوجود پاکستان کی عسکری دفاعی لائن انتہائی مضبوط ہے۔ پاکستان کی فوج ہر محاذ پر چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ تاریخی طور پر، 1948 کی کشمیر جنگ سے لے کر 1965 اور 1971 تک، پاکستان کی فوج نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کو روکا ہے۔ آج لائن آف کنٹرول ،مشرقی اور مغربی سرحدوں پر پاک فوج کی موجودگی بھارت اور اس کی پراکسیز کو کسی بھی مہم جوئی سے روکتی ہے۔

    دوسری طرف افغانستان کی صورتحال بگڑ چکی ہے کیونکہ یہ ایک "جنگل” بن چکا ہے جہاں دہشت گرد گروہ پیسے کے بل پر بدلتے ہیں۔ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد غیر مستحکم حالات نے یہ صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔ اس غیر یقینی ماحول میں بھارت کی پراکسی حکمت عملی مزید خطرناک ہو گئی ہے کیونکہ یہ گروہ کسی بھی وقت رخ بدل سکتے ہیں اور خطے کو مزید آگ میں دھکیل سکتے ہیں۔

    آخر میں ہم یہ بتاتے چلیں کہ پاکستان ہر طوفان اور مشکلات کے بعد مضبوط ہو کر نکلتا آیاہے۔ 1947 کی تقسیم سے لے کر آج تک، پاکستان نے ہر چیلنج کا سامنا کیا اور ابھرا۔ یہ ملک نہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے زندہ ہے بلکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بھی ہے جوترقی کی منازل طے کررہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایمان، قربانی اور اتحاد پر ہے۔ پاکستان کی فوج، عوام اور قیادت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مشکلات انہیں توڑ نہیں سکتیں بلکہ مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین ایک چٹان ہے، جو ہر حملے کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کی پراکسی جنگیں، عالمی دباؤ اور داخلی مسائل اسے کبھی بھی پاکستان کے خلاف براہ راست کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وقت گواہ ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی، عسکری اور نظریاتی طاقت کے بل پر ہمیشہ سرخرو رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔انشاءاللہ
    پاک فوج زندہ باد،پاکستان پائندہ باد

  • منڈی بہاؤالدین؛ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بہتری کا واحد حل میڈیکل کالج کا قیام ہے، ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ

    منڈی بہاؤالدین؛ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بہتری کا واحد حل میڈیکل کالج کا قیام ہے، ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ

    منڈی بہاءالدین (باغی ٹی وی نامہ نگار افنان طالب)سابق چیئرمین بلدیہ منڈی بہاءالدین ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال منڈی بہاءالدین کی کارکردگی بہتر بنانے کا واحد مؤثر راستہ یہاں میڈیکل کالج کے قیام اور موجودہ ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دینے میں ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ضلع کے عوام کو معیاری علاج کی سہولت ان کے اپنے شہر میں ہی مہیا ہو سکے گی، جس کی دیرینہ ضرورت ہے۔

    ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے سوشل میڈیا پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کے حوالے سے شکایات میں اضافہ ہوا ہے، عوام ڈاکٹرز کے رویے، سہولیات کی عدم دستیابی اور عملے کی کمی پر بجا اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق صرف تنقید کے ذریعے حالات نہیں بدلیں گے؛ اصل مسائل کو سمجھ کر ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کا سب سے بڑا مسئلہ افرادی قوت کی شدید کمی اور ناکافی بجٹ ہے، جو براہِ راست علاج کے معیار پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

    انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1993 میں جب منڈی بہاءالدین کو ضلع کا درجہ دیا گیا، تو اس وقت کے پرانے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو عارضی طور پر ڈی ایچ کیو کا درجہ دے دیا گیا، تاہم مستقل تبدیلی کے لیے آج تک کوئی بنیادی اصلاحات نہیں کی گئیں۔ نئی عمارت تو قائم کر دی گئی، مگر ہسپتال کی اسامیاں اور عملہ بدستور اسی تحصیل سطح کے مطابق ہے، جبکہ اب یہ ادارہ ساڑھے تین سو بیڈز کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا بوجھ اُسی پرانے عملے سے اٹھا رہا ہے۔

    ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ نے یہ بھی بتایا کہ سٹی ہسپتال اور چلڈرن ہسپتال کو بھی ڈی ایچ کیو انتظامیہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے، حالانکہ ان کے لیے کوئی علیحدہ بجٹ مختص نہیں، جس سے انتظامی مسائل مزید سنگین ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا مقصود ہے تو یونیورسٹی آف رسول میں میڈیکل کالج کے قیام کا فیصلہ فوری طور پر کیا جائے۔ حکومت کا حالیہ اعلان کہ سرکاری یونیورسٹیوں کی موجودہ عمارتوں میں نئے میڈیکل کالج قائم کیے جا سکتے ہیں، منڈی بہاءالدین کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالج کے قیام سے نہ صرف ماہر ڈاکٹرز، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی اور ہاؤس آفیسرز دستیاب ہوں گے بلکہ سینئر کنسلٹنٹس اور پروفیسرز کی نگرانی میں علاج کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس سے مریضوں کو لاہور، اسلام آباد یا گجرات جیسے شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا اور علاج ان کے اپنے ضلع میں میسر ہو سکے گا۔

    ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ نے چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر محترمہ حمیدہ وحیدالدین اور ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سے اپیل کی ہے کہ وہ منڈی بہاءالدین کے عوام کے اس دیرینہ مطالبے کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری پنجاب پہلے بھی ضلع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم اقدامات کر چکے ہیں، اور اگر سیاسی قیادت متحد ہو جائے تو منڈی بہاءالدین میں میڈیکل کالج کا قیام بالکل بھی مشکل نہیں۔

    آخر میں انہوں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز اور عملے سے اپیل کی کہ وہ اپنے رویے میں بہتری لائیں، کیونکہ ڈاکٹر کا نرم لہجہ اور مناسب رویہ مریض کا آدھا علاج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں وہ عوام آتے ہیں جو مہنگے نجی علاج کے متحمل نہیں ہوتے، لہٰذا ان کے ساتھ ہمدردی، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ پیش آنا فرض ہے۔ ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ڈی ایچ کیو میں خالی اسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں، بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ ادارہ حقیقی معنوں میں ضلع کے عوام کے لیے مثالی صحت گاہ ثابت ہو سکے۔

  • اوچ شریف : تیز رفتار یو ٹانگ ماسٹر بس کی ٹکر سے 3موٹروے اہلکار شہید

    اوچ شریف : تیز رفتار یو ٹانگ ماسٹر بس کی ٹکر سے 3موٹروے اہلکار شہید

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے قریب تیز رفتار یو ٹانگ ماسٹر بس کی ٹکر سے موٹروے پولیس کے تین اہلکار شہیدہوگئے۔ حادثہ بیٹ نمبر 25 کے مقام پر اوچ شریف انٹرچینج سے تقریباً چار کلومیٹر سکھر کی جانب پیش آیا، جہاں کراچی سے ملتان کی طرف جانے والی یو ٹانگ ماسٹر گاڑی نمبر CAL-1530 نے گشت کے دوران کھڑی موٹروے پولیس کی گاڑی کو پیچھے سے زور دار ٹکر ماری۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹروے گاڑی بری طرح تباہ ہوگئی اور اس میں سوار تینوں اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ گاڑی کی تیز رفتاری اور ڈرائیور کا عدم احتیاط بتایا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ بروقت بریک نہ لگا سکا اور موٹروے پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ حادثے کے بعد قریبی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں محمد ناصر شامل ہیں جو تقریباً 42 برس کے تھے اور موٹروے پولیس میں ASI کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں سر پر شدید چوٹ آئی جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جاں بحق ہونے والے دوسرے اہلکار اسامہ علی ولد لال محمد تھے، جن کی عمر تقریباً 23 برس تھی اور وہ کانسٹیبل تھے۔ انہیں بھی سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

    تیسرے زخمی اہلکار مشتاق احمد تھے جن کی عمر تقریباً 40 برس بتائی جاتی ہے اور وہ SI تھے۔ انہیں دائیں بازو کی ہڈی ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ سر پر بھی شدید چوٹیں آئیں۔ ریسکیو ٹیم نے انہیں موٹروے ایمبولینس کے ذریعے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کیا، جہاں دورانِ علاج وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

    حادثے کے بعد محمد ناصر اور اسامہ علی کو ساتھی اہلکاروں نے اپنی گاڑی سے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کیا، جبکہ مشتاق احمد کو موٹروے ایمبولینس کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق تینوں اہلکار حادثے کے وقت ہی شدید زخمی تھے اور ان کی حالت نازک تھی۔

    واقعے کے بعد موٹروے پولیس نے جائے حادثہ کا مکمل معائنہ کیا اور بس ڈرائیور کی ذمہ داری کے تعین کے لئے تفتیش شروع کردی ہے۔ افسوسناک حادثے نے ادارے سمیت عوام میں بھی گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ اعلیٰ حکام نے جاں بحق اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔