Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • میہڑ:گھریلوجھگڑا،خاوند کی فائرنگ سے خاتون زخمی

    میہڑ:گھریلوجھگڑا،خاوند کی فائرنگ سے خاتون زخمی

    میہڑ(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ)گھریلوجھگڑا،خاوند کی فائرنگ سے خاتون زخمی

    تفصیل کے مطابق میہڑ کے نواحی علاقے فرید آباد تھانے کی حدود میں واقع گاؤں چھٹو میروانی میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گھریلو ناچاقی کے دوران ایک نوجوان خاتون سائرہ کو اس کے شوہر اللہ یار چانڈیو نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا۔

    واقعہ کے فورا بعد ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کو واقعے کی اطلاع ملنے پر وہ موقع پر پہنچی تاہم اس وقت تک ملزم فرار ہوچکا تھا۔ پولیس نے قانونی کارروائی کاآغازکردیا ہے

  • اہلیت کا دوہرا  معیار

    اہلیت کا دوہرا معیار

    اہلیت کا دوہرا معیار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ معاشرتی نظام میں اعلی عہدوں پر فائز افراد کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ قابل اور اہل سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ صرف ایک فریب ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا سبب بھی پوشیدہ ہے؟ عام طور پرکسی وزیر،مشیر، ایم این اے، ایم پی اے یا ان کے قریبی ساتھیوں کو زیادہ قابل اور اہل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر، ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور دیگر اعلیٰ حکام بھی عمدہ اخلاق اور قابلیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ عام لوگوں یا متوسط طبقے میں یہ خوبیاں کیوں کم دکھائی دیتی ہیں؟ کیا یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے یا تعلیم اور تربیت کی کمی کا؟ آئیے اس مسئلے کو تھوڑا سا دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے ؟ ۔

    ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو مشکل حالات میں بھی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں اور دوسروں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرت کی اصل بنیاد ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کی خدمات کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف عہدے کی وجہ سے کوئی شخص قابلِ تحسین ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص اہم عہدے پر فائز ہو اور پھر بدعنوان اور کرپٹ بھی ہو،کیا وہ قابل رشک کردار کاحامل ہوگا؟ اس دوغلے پن سے ہمیں باہرنکلنا ہوگا.

    ہمارے معاشرتی نظام میں ایک ایسی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جہاں ہر فرد کو اس کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کی بنیاد پر سراہا جائے۔ عہدوں اور پوزیشنز کی بنیاد پر لوگوں کا اندازہ لگانا غلط فہمی ہے۔ یہ کہنا کہ صرف حکومتی ملازم ہی قابلِ ہوتے ہیں یہ ایک سطحی اورغلامانہ ذہنیت والی سوچ کا نتیجہ ہے، ہمیں معاشرے میں ہر فرد کو اس کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کی بنیاد پر قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

    یہاں تک تو یہ بات ٹھیک ہو سکتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو اعلیٰ تعلیم اور تربیت حاصل ہوتی ہےجہاں انہوں نے مختلف مہارتیں سیکھی ہوتی ہیں۔ انہیں مختلف لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے جو ان کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ یہ سب عوامل انہیں زیادہ قابل اور اہل بنا دیتے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے عام لوگ بھی انتہائی قابل اور اہل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس بھی متعدد مہارتیں اور معاشرتی علم ہوتاہے اور وہ بھی بہت کچھ سمجھتے اور کرسکتے ہیں مگر انہیں وہ مواقع نہیں دیئے جاتے یا نہیں ملتے جو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو حاصل ہوتے ہیں۔ انہیں اعلیٰ تعلیم یا مختلف لوگوں سے بات کرنے کا موقع کم ملتا ہے، جو ان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

    علاوہ ازیں معاشرتی تعصب اور امتیاز بھی ایک بڑا مسئلہ ہے عام آدمی کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو مناسب سراہا نہیں جاتااورانہیں حقیرجانا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں آتی ہیں۔

    اس کا ایک حل یہ ہے کہ ہمیں معاشرے میں موجود تعصب اور امتیاز کو ختم کرنے کیلئے افسرشاہی اور پاکستان کی آزادی کے وقت گوروں کے چھوڑے ہوئے غلام ابن غلام جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ان کی آنکھوں پر چڑھی نفرت اوررعونت کی عینک اتارنا پڑےگی اور کوشش کرنا ہوگی اور ہر فرد کو برابر کے مواقع فراہم ہوں ،تعلیم کے مواقعوں کو بڑھانا ہوگا اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دینا ہوگا۔ اس طرح ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کر سکتے ہیں جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کے مواقع مل سکیں۔

    ہمیں اس سلگتے ہوئے اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک ایسا معاشرہ بنا سکیں جہاں اہلیت کاایک ہی معیار ہو،کیا ہم ایک ایسا معاشرہ نہیں بنا سکتے جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق پروان چڑھنے کا موقع ملے؟ یہ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔آخرکب تک یہ دوہرامعیارچلتا رہے گا؟

  • سیالکوٹ :ایف آئی اے کی ائیرپورٹ پر کارروائی، جعلی دستاویزات بنانے والے پولیس ملازم سمیت 5 گرفتار

    سیالکوٹ :ایف آئی اے کی ائیرپورٹ پر کارروائی، جعلی دستاویزات بنانے والے پولیس ملازم سمیت 5 گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض)ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی دستاویزات بنانے والے پولیس ملازم سمیت 5 ملزمان گرفتار

    تفصیل کے مطابق سیالکوٹ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے پنجاب پولیس کومطلوب ملزم اورجعلی دستاویزات بنانے والے پولیس ملازم سمیت 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    گرفتار ملزمان میں خرم سجاد، آصف علی، اویس علی، حمزہ فاروق اور انور حیدر شامل ہیں۔ ملزم خرم سجاد فلائٹ نمبر FZ338 کے ذریعے دبئی فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے خلاف دہشتگردی اور دیگر دفعات کے تحت تھانہ پھلورہ میں مقدمہ درج ہے۔ ملزم سال 2023 سے پنجاب پولیس کو مطلوب تھا اور اس کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل ہے۔

    ایک اور کارروائی میں باکو جانے والے 3 مسافروں آصف علی، اویس علی اور حمزہ فاروق کو اسٹڈی ویزے پر جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر باکو کے اسٹڈی ویزے حاصل کیے تھے۔

    ملزمان کی نشاندہی پر جعلی دستاویزات بنانے میں ملوث ایجنٹ انور حیدر کو بھی ائرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انور حیدر پنجاب پولیس کا ملازم ہے اور اس نے بیرون ملک جانے والے ملزمان کو جعلی تعلیمی ڈگریاں بنوا کر دی تھی۔ ملزم نے بیرون ملک ملازمت کے نام پر فی کس 8 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔

  • گوجرہ : بجلی چوری سیکنڈل،جماعت اسلامی نے احتجاج کا اعلان

    گوجرہ : بجلی چوری سیکنڈل،جماعت اسلامی نے احتجاج کا اعلان

    گوجرہ (باغی ٹی وی،نامہ نگارعبدالرحمن جٹ سے) بجلی چوری سیکنڈل،جماعت اسلامی نے احتجاج کا اعلان

    تفصیل کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر عطاء اللہ حمید نے گوجرہ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی چوری کے ایک بڑے اسکینڈل کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں بجلی کی تاروں پر کنڈے لگا کر واپڈا اور عوام کو لاکھوں روپے کا چونا لگایا جا رہا تھا۔

    ڈاکٹر عطاء اللہ حمید کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر اور چیف آفیسر موقع سے فرار ہو گئے ہیں جبکہ بجلی چوری میں ملوث افراد کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عام عوام بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکسز سے پہلے ہی تنگ آ چکی ہیں اور اس کے باوجود افسر شاہی بجلی چوری میں ملوث ہو گئی ہے۔

    ڈاکٹر عطاء اللہ حمید نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی چوروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور انہیں کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران کو کٹہرے میں نہ لایا گیا تو جماعت اسلامی احتجاج کا اعلان کرے گی۔

  • اوچ شریف:مقامی تھانہ کی عمارت کی چھت جھولنے لگے،گرنے کاخطرہ

    اوچ شریف:مقامی تھانہ کی عمارت کی چھت جھولنے لگے،گرنے کاخطرہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی,نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف تھانے کی عمارت کی خستہ حالی نے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ تھانے کی چھت سے پلستر گرنے کے واقعے کے بعد یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانے کی عمارت کی مرمت کے باوجود کوئی قابل ذکر بہتری نظر نہیں آئی اور یہ عمارت اب مزید نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانے کی نئی عمارت کی تعمیر کی جائے تاکہ عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    محمد ساجد نامی ایک مقامی شہری نے کہا کہ یہ عمارت عوام کی حفاظت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ تھانے کی نئی عمارت کی ضرورت ہے اب اس کی مزید لیپا پوتی کی گنجائش نہیں رہی، حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔”

    سیکیورٹی اہلکار بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عمارت کی موجودہ حالت ان کی کام کرنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال رہی ہے اورخطرہ رہتا ہے کسی بھی وقت اوپر سے کچھ گرسکتا ہے.

  • اوچ شریف: مسائل کا شہر، امیدوں کا قبرستان

    اوچ شریف: مسائل کا شہر، امیدوں کا قبرستان

    اوچ شریف: مسائل کا شہر، امیدوں کا قبرستان
    اوچ شریف کی ڈائری حبیب اللہ خان کے قلم سے
    آج جب میں اپنی گلی سے گزر رہا تھا، میری نظر گندے پانی کے گڑھوں پر ٹک گئی۔ یہ منظر میرے ذہن میں ہمیشہ محفوظ ہے، جب ہم بچے تھے تو اس گلی میں کھیلتے اور سائیکل چلایا کرتے تھے۔ آج یہ گلی گندے نالے میں تبدیل ہو چکی ہے ہمارے بچے صاف پانی نہیں پی سکتے اور نہ ہی صاف ہوا میں سانس لے سکتے ہیں۔ وہ اکثر بیمار رہتے ہیں سڑکوں پر چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ گڑھے اتنے بڑے ہیں کہ گزرنا ناممکن ہو چکا ہے

    اوچ شریف جنوبی پنجاب کا ایک تاریخی اور قدیم شہر ہے شہر کی آبادی اب ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ یہاں موجود واحد تھانہ تمام قانونی اور انتظامی بوجھ اٹھا رہا ہے۔ اس تھانے میں عملے کی کمی اور محدود وسائل کی وجہ سے مقدمات کی تفتیش میں نمایاں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے جرائم کی روک تھام اور دیگر قانونی مسائل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور سیکیورٹی کی صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بگڑ رہی ہے۔

    اوچ شریف میں قائم پولیس چوکیاں، جو کبھی سیکیورٹی کا اہم حصہ تھیں، اب غیر فعال ہو چکی ہیں۔ ان چوکیوں کی بندش اور دیگر سیکیورٹی مسائل نے شہریوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی عدم فعالیت اور وسائل کی کمی نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ شہریوں اور سماجی کارکنوں نے فوری طور پر مناسب انتظامی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے، جیسے نئے تھانوں اور پولیس چوکیاں قائم کرنا، وسائل میں اضافہ کرنا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا۔ ان اقدامات سے شہریوں کو بہتر سیکیورٹی فراہم کرنے اور قانونی مسائل کے حل میں مدد مل سکے گی۔

    اوچ شریف کی سڑکوں کی خستہ حالی اور بنیادی ڈھانچے کی بربادی نے شہر کو غیر مستحکم صورت حال میں ڈال دیا ہے۔ مخدوش سڑکوں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ اور گڑھوں کی موجودگی نے سفر کو مشکل بنا دیا ہے، جس سے تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، کیونکہ کاروباری افراد کو اپنے کاروبار میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    سیوریج نظام کی خرابی نے شہر میں صحت کی صورت حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ گندگی اور پانی کی نکاسی کے مسائل نے شہر کی صفائی کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں اور شہریوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی اس بحران سے محفوظ نہیں ہیں۔ طلباء کو اسکولوں اور کالجوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور تعلیمی سہولتوں کی کمی نے تعلیمی معیار پر بھی اثر ڈالا ہے۔ والدین اور اساتذہ نے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اوچ شریف کی حالت بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو شہر کے بنیادی ڈھانچے کی مزید خرابی اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صورت حال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور طویل مدتی منصوبہ تیار کرے تاکہ اوچ شریف کی ترقی اور شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    شہر میں سیوریج سسٹم کی خرابی کے بارے میں ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے ہیضہ، ڈینگی، ملیریا اور دیگر متعدی بیماریوں کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی اسپتالوں میں ان بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافے نے صحت کے نظام پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر صحت کی سہولتوں میں اضافہ کیا جائے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

    اقتصادی نقطہ نظر سے بھی یہ صورتحال شہر کی معیشت پر برا اثر ڈال رہی ہے۔ تاجروں اور دکانداروں نے شکایت کی ہے کہ سیوریج کے مسائل کی وجہ سے خریداروں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بعض دکانداروں نے تو اپنی دکانیں بند کرنے کا بھی سوچا ہے، جس سے مقامی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن ہم سب مل کر یہ کوشش کرسکتے ہیں کہ اوچ شریف کو صاف ستھرا اور امن کا گہوارہ بنائیں کیونکہ ہمارے بچوں کا مستقبل اسی پر منحصر ہے۔ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں جرائم کا کوئی تصور نہ ہو اور ہمارے بچے صاف ستھرے ماحول میں سکون سے اپنی زندگی گزار سکیں اور ان کا مستقبل تابناک اور روشن ہو

  • اوچ شریف: سوئی گیس ناردرن بائی پاس،غلط منصوبہ بندی اور ناقص تعمیر نے جانوں کو خطرے میں ڈال دیا

    اوچ شریف: سوئی گیس ناردرن بائی پاس،غلط منصوبہ بندی اور ناقص تعمیر نے جانوں کو خطرے میں ڈال دیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان)سوئی گیس ناردرن بائی پاس،عباسیہ کینال ایکسپریس روڈ،غلط منصوبہ بندی،ناقص تعمیر،قیمتی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف میں سوئی گیس ناردرن قومی شاہراہ بائی پاس عباسیہ کینال جلال پور پیر والا ایکسپریس روڈ پر غلط منصوبہ بندی اور ناقص تعمیراتی معیار کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں تشویش ناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    گزشتہ روز ایک ٹریلر ڈھلوان پر قابو نہ رکھتے ہوئے الٹ گیا جس کے نتیجے میں سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مقامی شہریوں نے اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے دوران حفاظتی معیار کی پاسداری نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کی ڈھلوانوں کی تعمیر میں بے ضابطگیوں نے سڑک کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام فوری طور پر سڑک کی مرمت کریں، حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں اور بہتر ڈیزائن کی منصوبہ بندی کریں تاکہ مستقبل میں مزید انسانی نقصانات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف  :الشمس چوک پر تجاوزات کا خاتمہ نہ ہوسکا، حادثات معمول بن گئے،شہری پریشان

    اوچ شریف :الشمس چوک پر تجاوزات کا خاتمہ نہ ہوسکا، حادثات معمول بن گئے،شہری پریشان

    اوچ شریف: باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) شہر کے اہم راستے الشمس چوک پر تجاوزات کا خاتمہ نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے حادثات معمول بن گئے ہیں اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ الشمس چوک جو کہ ایک مصروف راستہ ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں گاڑیاں گزرتی ہیں اور بچے سکول جاتے ہیں اس چوک پر ریڑھی بانوں کا قبضہ برقرار ہے۔

    ذرائع کے مطابق میونسپل کمیٹی اوچ شریف کے ملازمین نے مخصوص ریڑھی بانوں کو غیر ضروری رعایت دے رکھی ہے، جبکہ دیگر ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ملازمین کو ہر گھنٹے بعد الشمس چوک کی تصاویر بھیجنے کی ہدایت دی گئی ہے، مگر تصویر بھیجنے کے فوراً بعد ہی یہ ریڑھی بان دوبارہ چوک پر قبضہ کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل آ رہا ہے اورشہری حادثات کا شکارہونے لگے ہیں ۔

    شہریوں نے میونسپل کمیٹی کی کارکردگی پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ منظور نظر افراد کو دی جانے والی رعایت کی وجہ سے الشمس چوک پر ٹریفک کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کی مشکلات کا حل نکل سکے اور چوک کی حالت میں بہتری لائی جا سکے۔ شہریوں نے مزید کہا کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو شہر کی دیگر اہم شاہراہوں پر بھی اسی نوعیت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

  • اوچ شریف:عباسیہ لنک کینال پل زبوں حالی کا شکار، عوام کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں

    اوچ شریف:عباسیہ لنک کینال پل زبوں حالی کا شکار، عوام کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے میں واقع عباسیہ لنک کینال پل رئیساں کی زبوں حالی نے مقامی عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پل کی حفاظتی دیواروں کے غائب ہونے کے باعث متعدد حادثات رونما ہو چکے ہیں، جن میں انسانی جانوں کا نقصان بھی شامل ہے۔

    مقامی باشندے محمد اکمل، محمد عمران، محمد رفیق، جام نور محمد، محمد اجمل اور دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ پل اب ان کے لیے موت کی علامت بن چکا ہے۔ پل کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں روزمرہ کی زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی تنظیموں نے بارہا انتظامیہ سے پل کی مرمت اور حفاظتی تدابیر پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے عوام میں مایوسی اور عدم اعتماد کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر پل کی مرمت کے لیے اقدامات کریں تاکہ انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • احمد پور شرقیہ: پولیو ٹیم پر حملہ، ہیلتھ ورکرز کو مَحبُوس کرنے والا گرفتار

    احمد پور شرقیہ: پولیو ٹیم پر حملہ، ہیلتھ ورکرز کو مَحبُوس کرنے والا گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان )احمد پور شرقیہ شہر میں پولیو مہم کے دوران ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جب یو سی اربن سی کی پولیو ٹیم پر محلہ فتانی میں حملہ کر دیا گیا۔ ملزمان محمد کامران، محمد ارسلان اور دیگر نے پولیو کے قطرے پلانے والی ہیلتھ ورکرز کو اپنے گھر میں قید کر لیا اور ان کے ساتھ مذاق اور مارپیٹ کی۔

    ایس ایچ او سٹی تھانہ کے مطابق، ایل ایچ ڈبلیو فرحینہ شاہین نے شکایت درج کروائی ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ قطرے پلانے کے لیے جب خالق سجاد کے گھر گئی تو اس کی بیوی اور بیٹوں نے ان پر حملہ کر دیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے گھر سے ہیلتھ ورکرز کو آزاد کروایا اور ایک ملزم کامران کو گرفتار کر لیا ہے۔

    دوسری جانب اربن سی کی ہیلتھ ورکرز نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں پولیس سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تو مستقبل میں بھی ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں اور پولیو مہم متاثر ہوسکتی ہے۔