Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور سے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی کی ملاقات

    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور سے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی کی ملاقات

    میرپورماتھیلو)باغی ٹی وی ،ںامہ نگارمشتاق لغاری): پیپلز پارٹی کے شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و ایم پی اے فریال تالپور سے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی نے ان کی رہائشگاہ زرداری ہاؤس کراچی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر پی پی پی ایم این اے علی گوہر خان مہر اور ایم پی اے علی نواز خان مہر نے فریال تالپور کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

    ملاقات میں ضلع گھوٹکی کی سیاسی و تنظیمی صورتحال اور ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس کے علاوہ، صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار اور ایم پی اے سہیل انور سیال نے بھی فریال تالپور سے ملاقات کی اور سندھ کے وزراء نے بھی عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر انہیں مبارکباد دی۔

    ملاقات کے دوران سندھ سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریال تالپور نے اس موقع پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء اور ارکان اسمبلی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ بارش متاثرہ علاقوں کو حکومتی امداد سے محروم نہ رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور جیالوں کا شعار عوامی خدمت اور جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے۔

  • گھوٹکی:جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑا آپریشن، گھر نذر آتش، متعدد گرفتار

    گھوٹکی:جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑا آپریشن، گھر نذر آتش، متعدد گرفتار

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی نامہ نگارمشتاق لغاری)گھوٹکی کے علاقے سہانجڑو بوزدار میں ڈکیتی کے دوران ایک شخص کے قتل کے واقعے کے بعد پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑا آپریشن شروع کردیا ہے۔

    ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو عبدالقادر سومرو کی سربراہی میں مختلف تھانوں کی پولیس نے سہانجڑو بوزدار، پیر بری اور دیگر علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے گھروں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ متعدد مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی سمیر نور چنہ کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو مکمل طور پر ختم کرنے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس کو تعاون کریں تاکہ علاقے میں امن و امان بحال کیا جا سکے۔

  • کشمور: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے حمید کریم اعوان کی عیادت کی

    کشمور: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے حمید کریم اعوان کی عیادت کی

    کندھ کوٹ،کشمور (نامہ نگار مختیار احمد اعوان): وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے اپنی مصروفیت کے باوجود کشمور آکر حمید کریم اعوان کی عیادت کی۔ حمید کریم اعوان کے گھر پہنچنے پر ان کے صاحبزادے فہد حمید اعوان نے وزیر کا استقبال کیا۔

    اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ نے حمید کریم اعوان کی صحت یابی کے لیے دعا کی اور انہیں جلد صحتیاب ہونے کی نیک تمنائیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ حمید کریم اعوان ایک مخلص اور باصلاحیت سیاستدان ہیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    عیادت کے موقع پر اندرون سندھ سے آئے ہوئے مہمانوں اور پارٹی کے دیگر عہدیداروں نے بھی حمید کریم اعوان کی صحت یابی کے لیے دعا کی۔

  • گوجرہ: وزیراعظم کی چوہدری خالد جاوید واڑائچ سے اہم ملاقات

    گوجرہ: وزیراعظم کی چوہدری خالد جاوید واڑائچ سے اہم ملاقات

    گوجرہ (باغی ٹی وی،نامہ نگارعبدالرحمن جٹ سے) گوجرہ کے سابق ایم این اے اور سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، چوہدری خالد جاوید واڑیچ نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں وزیراعظم پاکستان، میاں محمد شہباز شریف سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ملکی سیاسی، علاقائی اور انتظامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چوہدری خالد جاوید واڑیچ کی سیاسی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ان کی فیملی کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہے۔ وزیراعظم نے چوہدری خالد جاوید واڑیچ اور سابق ڈسٹرکٹ چیئر پرسن ٹوبہ ٹیک سنگھ، محترمہ فوزیہ خالد واڑیچ کی سیاسی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    سابق ایم این اے چوہدری خالد جاوید واڑیچ نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور ان کی مدد و تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

  • گوجرانوالہ: ڈاکوؤں کا پولیس  سے مقابلہ، دو ہلاک

    گوجرانوالہ: ڈاکوؤں کا پولیس سے مقابلہ، دو ہلاک

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی): شہر میں قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لیے پولیس کی کامیاب کارروائی میں دو خطرناک ڈاکو ہلاک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ فیروزوالہ کے علاقے دھیرووالی میں چند روز قبل دو ڈاکوؤں نے ایک شہری کو قتل کرکے اس کی کار چھین لی تھی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

    ملزمان کو میڈیکل چیک اپ کے لیے گوجرانوالہ میڈیکل کالج لے جایا جا رہا تھا کہ لوہیانوالہ نہر کے قریب نامعلوم افراد نے پولیس وین پر فائرنگ کرتے ہوئے ملزمان کو چھڑانے کی کوشش کی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو ڈاکو ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکو وہی ہیں جنہیں پولیس نے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔

    اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم نے کہا کہ پولیس نے شہر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ ڈاکوؤں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ انہوں نے پولیس ٹیم کو اس کامیاب کارروائی پر مبارکباد دی۔

    شہر کے شہریوں نے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس نے شہر کو خطرناک عناصر سے پاک کرنے کا بہترین کام کیا ہے۔

  • اتائیت کاعفریت، ذمہ دارکون؟

    اتائیت کاعفریت، ذمہ دارکون؟

    اتائیت کاعفریت، ذمہ دارکون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ڈاکٹرز ہمارے معاشرے کا وہ محسن طبقہ ہے جو صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن اس مقدس پیشہ کو کچھ ہوس زرمیں مبتلا ڈاکٹرزکے علاوہ نیم حکیم اور اتائی داغدار کررہے ہیں،لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اتائیت کے پھیلتے اس عفریت کے ذمہ دار کون ہیں اور یہ کیونکر اور کیسے خود روجھاڑیوں کی طرح ہر قصبے ،شہر اورگلیوں میں موجودہیں ،آئیے اس مضمون میں ہم اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اوریہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے اصل ذمہ دار کون ہیں ؟

    ہمارے ملک میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ عام شہریوں کو سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی کوئی سہولیات میسرہی نہیں ہیں،،سرکاری ہسپتالوں کے بیشترڈاکٹرہسپتالوں میں صرف بائیومیٹرک حاضری لگاکر اپنے پرائیویٹ کلینک یاہسپتالوں میں مریض چیک کرنے کیلئے چلے جاتے ہیں ،یہی ڈاکٹرزجنہیں مسیحا کہاجاتا ہے سرکارسے بھاری تنخواہیں اور نان پریکٹس الاؤنس تک لیتے ہیں لیکن سرکاری ہسپتال میں مریضوں کو چیک کرکے ان کاعلاج کرنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں،سفارش کلچراور اہل ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اتائیت کو فروغ دینے والا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب لوگوں کو سرکاری اداروں سے بنیادی طبی سہولیات بھی میسر نہ آئیں تو وہ مجبورا اتائی ڈاکٹروں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے نہ صرف فرد بلکہ پوری قوم کو نقصان پہنچتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی مہنگی فیسوں، غیر ضروری ٹیسٹوں اور کمیشن کی بنیاد پر لکھی جانے والی دواؤں نے عوام کو اتنا پریشان کر دیا ہے کہ ایک عام مریض کو ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری جانب اتائی ڈاکٹر دو تین سو روپے میں ہی علاج کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اتائی ڈاکٹروں کی طرف جاتے ہیں، اس صورتحال میں کوالیفائیڈ ڈاکٹرزبھی اتائیت پھیلانے میں براہ راست ملوث نظر آتے ہیں،کیونکہ بڑے اورکوالیفائیڈ ڈاکٹر بہت زیادہ فیس لیتے ہیں اور بہت سی دوائیاں لکھتے ہیں، اس لیے لوگ سستی دوائی کے لیے اتائی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اتائیت پھیل رہی ہے۔

    بڑے ڈاکٹر اکثر کم پڑھے لکھے افراد کو اپنے ہسپتالوں میں کام پر رکھتے ہیں اور انہیں کم تنخواہ دیتے ہیں، یہ لوگ ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے کچھ طبی علم حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اپنی کلینک کھول لیتے ہیں، بڑے ڈاکٹر ان کی افتتاحی تقریب میں شریک ہو کر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ان کے شاگرد ہیں اور ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اس طرح بڑے ڈاکٹر اپنے شاگردوں کا ایک نیٹ ورک بنا لیتے ہیں اور یہ شاگرد پھر لوگوں کو بڑے ڈاکٹروں کے پاس بھیجتے ہیں، اس طرح بڑے ڈاکٹر براہ راست طور پر اتائیت کو فروغ دیتے ہیں،کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کا یہ عمل انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ان کے شاگردوں کے پاس کافی طبی علم نہیں ہوتا اور وہ لوگوں کو غلط علاج دے سکتے ہیں، اس طرح بڑے ڈاکٹر نہ صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ لوگوں کی جانوں سے بھی کھیلتے ہیں۔

    حکومت کی جانب سے پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے کی مناسب جانچ پڑتال نہ ہونا، اتائیت کے پھیلا ؤمیں ایک بڑا سبب ہے۔ یہ حیران کن ہے کہ حکومت نے کبھی بھی اس بات کی فکر نہیں کی کہ شہروں کے ہسپتالوں میں جو لوگ مریضوں کا علاج کر رہے ہیں، وہ اس کے لیے اہل ہیں یا نہیں، نہ تو ان کی تعلیمی قابلیت کی جانچ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ یا ڈپلومہ ہونا ضروری ہے۔ اس طرح کی لاپروائی کی وجہ سے بہت سے نااہل لوگ ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں اور مریضوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، حکومت کی جانب سے پرائیویٹ ہسپتالوں پر کوئی مناسب نگرانی نہ ہونا، اتائیت کو فروغ دینے میں براہ راست مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

    اتائیت کے عفریت پر کیسے قابوپایا جاسکتا ہے

    حکومت کو چاہیے کہ اتائیت کے عفریت پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے سرکاری ہسپتالوں میں ہر شہری کو مفت اور بہتر صحت کی سہولتیں فراہم کرے، سفارش اور رشوت کے کلچر کو ختم کرے، سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو اپنی نجی پریکٹس کرنے سے روکنا چاہیے، جو ڈاکٹر نجی پریکٹس کرتے پکڑے جائیں انہیں نوکری سے برطرف کر دینا چاہیے۔ تمام ڈاکٹروں کے لیے فیس کا ایک مخصوص تعین کرنا چاہیے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرنا چاہیے،جو ڈاکٹر مریضوں سے زیادہ پیسے لیتے ہیں یا غیر ضروری ٹیسٹ کرواتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ دوائیوں کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مریضوں کو مہنگی دوائیاں لکھنے والے ڈاکٹروں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔ نجی ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے کی تعلیمی قابلیت کی بھی جانچ پڑتال ہونی چاہیے،

    اس کے علاوہ اتائیت کے مسئلے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ جو لوگ باقاعدہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جیسے کہ ڈسپنسر یا کلینیکل اسسٹنٹ، انہیں ان کی اہلیت کے مطابق دور دراز کے دیہی علاقوں میں لائسنس دے کر کلینکس کھولنے کی اجازت دی جائے۔ انہیں مناسب فیس لینے کی اجازت ہو، اس طرح ایک طرف تو لوگوں کو سستی اور آسان طبی سہولیات میسر آ جائیں گی اور دوسری طرف اتائیت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔بڑے ڈاکٹروں کے پیدا کردہ اتائی شاگردوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ان لوگوں کو شناخت کرکے ان کے خلاف قانون کا پورا اطلاق کیا جانا چاہیے، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو ان سے دور رہنے کے لیے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ عوام کو بھی اس بات کے لیے آگاہ کیا جائے کہ وہ نان کوالیفائڈ لوگوں سے علاج نہ کروائیں۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارز کے ذریعے لوگوں کو طبی تعلیم کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ خود بھی اس بات کو سمجھ سکیں کہ نان کوالیفائڈ لوگوں سے علاج کروانا کتنا خطرناک ہے

    اگر حکومت نے اتائیت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور ان پر عمل درآمد بھی کیا تو یہ مسئلہ ضرور حل ہو سکتا ہے۔ لیکن صرف بلند بانگ دعوؤں اور فوٹو سیشنز سے یہ حل نہیں ہوگا، حکومت کو شفافیت اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، عوام کو بھی اس مسئلے کے حل میں شریک بنایا جانا چاہیے۔ میڈیا کو بھی اتائیت کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اتائیت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اگر حکومت نے ان تمام اقدامات پرعمل کرلیا تو ہم اتائیت کے مسئلے سے جلد از جلد نجات پا سکتے ہیں اور اتائیت کے عفریت کو بھی جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے،اگرحکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو جس طرح پہلے اتائیت کاکوئی کچھ نہیں بگاڑسکا اب بھی اتائی اسی شان وشوکت سے اپنے کلینک چلاتے رہیں گے اور انسانیت سسکتی رہے گی.

  • ڈیرہ غازی خان: محکمہ جنگلات، افسران  کی غفلت،دھنگانہ رینج میں درختوں کا صفایا

    ڈیرہ غازی خان: محکمہ جنگلات، افسران کی غفلت،دھنگانہ رینج میں درختوں کا صفایا

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ)محکمہ جنگلات کی غفلت،دھنگانہ رینج میں درختوں کا صفایا ہونے لگا

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں جنگلات کی بے دردی سے کٹائی جاری ہے۔ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی مبینہ غفلت اور کرپشن کی وجہ سے دھینگانہ رینج لنک ون، شوریہ اور میرو کینال کی پٹڑیوں پر لگے ہوئے درختوں کا تیزی سے صفایا ہورہا ہے۔

    بلین ٹری منصوبے کے تحت دری میرو ہیڈ ورکس سے گیڈروالا پل اور لنک ون پر لگائے گئے درختوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک طرف تو حکومت ٹری فار پاکستان کا نعرہ لگا رہی ہے، لیکن دوسری طرف محکمہ جنگلات کے اہلکار اسے ناکام بنانے میں مصروف ہیں۔

    ایک فاریسٹ گارڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ افسران بالا کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہ درختوں کی چوری روکنے میں ناکام ہیں۔

    اس سلسلے میں جب محکمہ جنگلات کے اہلکاروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس مسئلے پر کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔

    اس واقعے نے ایک بار پھر ماحولیات کی تباہی اور جنگلات کی اہمیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ حکومت کو اس مسئلے پر فوری نوٹس لے کر سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

  • سیالکوٹ:چھت گرنے سے جان بحق ہونے والوں کے لواحقین کو مالی امداد کے چیک دیئے گئے

    سیالکوٹ:چھت گرنے سے جان بحق ہونے والوں کے لواحقین کو مالی امداد کے چیک دیئے گئے

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی رپورٹ)وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کا انسان دوست اقدام: رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء بٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے محمد فاروق اور عاقب مصطفیٰ کی بیوہ اور ماں کو 10 لاکھ روپے فی کس مالی امداد کے چیکس تقسیم کیے۔

    یہ واقعہ 24 مئی 2024 کو یونین کونسل بونکن میں پیش آیا تھا جب بارش کے باعث ایک مکان کی چھت اور دیوار گرنے سے محمد فاروق اور عاقب مصطفیٰ جاں بحق ہو گئے تھے۔

    محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف صوبے کی دکھی عوام کی خدمت کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے ہمت کارڈ اور اپنی چھت اپنا گھر جیسے پروگرامز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پروگراموں سے صوبے کے لوگوں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مالی امداد کی انسان کی قیمت ہرگز نہیں ہو سکتی لیکن وزیر اعلیٰ کی جانب سے یہ مالی امداد سوگوار خاندانوں کے لیے ایک بڑی تسلی کا باعث ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

  • سیالکوٹ: پلانٹ فار پاکستان مہم،اسسٹنٹ کمشنر نے بچوں کو پودے لگانے کی اہمیت بتائی

    سیالکوٹ: پلانٹ فار پاکستان مہم،اسسٹنٹ کمشنر نے بچوں کو پودے لگانے کی اہمیت بتائی

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی رپورٹ)سیالکوٹ کے نواحی قصبے کوٹ منڈیانوالہ کے گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول میں آج روز ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ایک پودے لگانے کا پروگرام منعقد ہوا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر نے بچوں کو پودے لگانے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ "پلانٹ فار پاکستان” ایک بہت اہم ماحولیاتی مہم ہے جس کا مقصد ملک میں درختوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے بچوں سے کہا کہ وہ پودے لگائیں اور ان کی حفاظت کریں کیونکہ پودے ہمارے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس موقع پر سکول کے طلبہ اور اساتذہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے ہاتھوں سے پودے لگائے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے سکول کا معائنہ بھی کیا اور پرنسپل کو ہدایت کی کہ وہ سکول میں ایک بک کارنر لائبریری قائم کریں تاکہ بچے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔

  • اوچ شریف:7 سالہ بچی کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف:7 سالہ بچی کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف(باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رتہرنہڑانوالی کی بستی عبداللہ خان میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں 7 سالہ بچی محمد فیاض کی بیٹی پیڈسٹل فین کے ساتھ کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔

    بتایا جاتا ہے کہ بچی گھر میں پیڈسٹل فین کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ اچانک اسے کرنٹ لگ گیا۔ اس حادثے سے گھر میں سنسناہٹ کی فضا قائم ہو گئی اور والدین کو شدید صدمہ پہنچا۔

    اس المناک واقعے نے ایک بار پھر بجلی کے خطرات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھروں میں بجلی کے آلات کے استعمال کے دوران احتیاطی تدابیر نہ برتنے سے ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں۔