Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کا اجلاس، 22 جائیدادی تنازعات کی سماعت اور فوری انصاف کی ہدایات

    اوکاڑہ: ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کا اجلاس، 22 جائیدادی تنازعات کی سماعت اور فوری انصاف کی ہدایات

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی ریلیف اقدامات پر عمل درآمد کے سلسلے میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید اور ڈی پی او محمد راشد ہدایت کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو، تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس ڈی پی اوز نے شرکت کی۔ کمیٹی نے تحفظِ ملکیتی جائیداد ایکٹ کے تحت 22 کیسز کی سماعت کی۔

    ضلعی سربراہان نے ریونیو ریکارڈ کی روشنی میں سائلین کی شکایات کے فوری ازالے کے احکامات جاری کیے اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ میرٹ، شفافیت اور حقائق پر مبنی رپورٹس پیش کریں۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ شہریوں کی ملکیتی جائیداد کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، کیونکہ عوام کو ان کے حقوق اور فوری انصاف کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جائیدادی تنازعات کے خاتمے کے لیے جامع چھان بین اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

    ڈی پی او محمد راشد ہدایت نے اپنے خطاب میں کہا کہ باہمی تنازعات کے حل کے لیے پولیس مکمل طور پر ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحفظِ ملکیتی جائیداد ایکٹ پر عمل درآمد کے ذریعے قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • گوجرانوالہ: مہنگائی میں نمایاں کمی، رمضان بازار پہلے سے زیادہ سستے ہوں گے . سلمیٰ بٹ

    گوجرانوالہ: مہنگائی میں نمایاں کمی، رمضان بازار پہلے سے زیادہ سستے ہوں گے . سلمیٰ بٹ

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی سلمی بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سال 2024 کی نسبت اب مہنگائی میں واضح کمی آئی ہے، خصوصاً دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران کالے چنے کی قیمت میں 38 روپے اور بیسن کی قیمت میں 34 روپے فی کلو تک کمی ہوئی ہے، جبکہ مختلف سبزیوں کی قیمتیں بھی 100 سے 150 روپے تک کم ہو چکی ہیں۔

    سلمی بٹ نے کہا کہ رمضان بازاروں کی بھرپور تیاری کی جا رہی ہے اور اس بار گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ سستے بازار قائم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ افغانستان کا بارڈر بند ہونا تھا، تاہم اب ٹماٹر دیگر علاقوں سے آرہے ہیں اور ریٹ میں واضح کمی ہو چکی ہے۔

    سلمی بٹ کے مطابق پیاز اور ٹماٹر سیزنل آئٹمز ہیں جن کی قیمتیں آف سیزن میں بڑھ جاتی ہیں، مگر حکومت فارمنگ کے فروغ کے ذریعے ان اشیاء کی مقامی پیداوار میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے اشیائے خوردونوش کے ٹرکوں کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کو روکا جا سکے۔

    سلمی بٹ نے واضح کیا کہ سبزی منڈی میں آنے والے تمام ٹرکوں کی نیلامی شفاف طریقے سے ہوگی، اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ان کے مطابق، پنجاب بھر میں انتظامیہ پرائس کنٹرول کے لیے متحرک ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔

  • بہاولنگر: کمشنر مسرت جبیں کا ضلع کا تفصیلی دورہ، سیلاب متاثرین اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    بہاولنگر: کمشنر مسرت جبیں کا ضلع کا تفصیلی دورہ، سیلاب متاثرین اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    بہاولنگر (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد عرفان) کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں نے ضلع بہاولنگر کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہیں ڈپٹی کمشنر ذوالفقار احمد بھون کی جانب سے وزیراعلیٰ انیشیٹیوز اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں ریونیو ریکوری، ڈینگی کی صورتحال، ترقیاتی کاموں اور سیلاب متاثرین کے امدادی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    کمشنر کو بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور متاثرین میں امدادی چیکس کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔

    بعد ازاں کمشنر مسرت جبیں نے ٹیکنیکل کالج میں قائم سیلاب ریلیف کیمپ کا دورہ کیا، متاثرہ شہریوں سے ملاقات کی اور امدادی عمل کا خود جائزہ لیا۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرین کی بحالی اور امداد کی فراہمی کے لیے مزید مؤثر اور تیز اقدامات کیے جائیں۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو جام آفتاب احمد، اے ڈی سی جی ظہور حسین اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔

    کمشنر نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو حکومتی پیکجز کے تحت ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے کام کی رفتار مزید تیز کی جا رہی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ماحولیاتی کمیٹی کا اجلاس، 21 صنعتی کیسز کا جائزہ اور خلاف ورزیوں پر کارروائی کا فیصلہ

    ڈیرہ غازی خان: ماحولیاتی کمیٹی کا اجلاس، 21 صنعتی کیسز کا جائزہ اور خلاف ورزیوں پر کارروائی کا فیصلہ

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انوائرنمنٹل اپروول کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف صنعتی یونٹس کے قیام اور لائسنس کی تجدید سے متعلق کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر تحفظِ ماحولیات سید اشفاق حسین بخاری، ڈاکٹر اسحاق کرمانی اور دیگر متعلقہ اراکین نے شرکت کی۔

    کمیٹی نے مجموعی طور پر 21 کیسز کا جائزہ لیا جن میں رائس ملز، سٹون کریشرز یونٹس، جپسم فیکٹریاں اور دیگر صنعتی اداروں کے معاملات شامل تھے۔ اجلاس کے دوران قواعد و ضوابط اور مطلوبہ دستاویزات مکمل کرنے والے اداروں کے کیسز کی تجدید اور این او سی (NOC) کے اجراء کی منظوری دی گئی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ حکومتِ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    اجلاس میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ ماحول دوست صنعتی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ درخواستوں کی وصولی کے دوران تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور خامیوں کے ازالے کے لیے درخواست گزاروں سے بروقت رابطہ رکھا جائے۔

    محمد عثمان خالد نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، مگر این او سی کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی صنعتوں کے قیام کے لیے بھی مواقع پیدا کیے جائیں گے تاکہ مقامی معیشت میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر تحفظِ ماحولیات سید اشفاق حسین بخاری اور ڈاکٹر اسحاق کرمانی نے بھی کہا کہ صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں توازن برقرار رکھنا لازم ہے اور اس مقصد کے لیے سخت مانیٹرنگ اور شفاف طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

    اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ این او سی کے عمل کو تیز، شفاف اور مؤثر بنائیں اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔

  • سکھر: بدنام ڈاکو سلطان شاہ اپنے بیٹے سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک

    سکھر: بدنام ڈاکو سلطان شاہ اپنے بیٹے سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک

    سکھر (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سکھر میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والا بدنام زمانہ ڈاکو سلطان شاہ اپنے بیٹے حبدار شاہ سمیت دوران واردات پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق روہڑی کے علاقے میں ڈکیتی کے دوران ملزمان کی فائرنگ سے ایک بچہ فیضان شیخ زخمی ہوگیا، جس کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا تعاقب کیا۔ فرار ہوتے ہوئے ملزمان کی گاڑی پرانا سکھر تھانہ سی سیکشن کی حدود میں پولیس کے محاصرے میں آگئی، جہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں سلطان شاہ اور اس کا بیٹا حبدار شاہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔مقابلے کے دوران پولیس کانسٹیبل فضل بھٹو بھی زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے زخمی اہلکار کے علاج معالجے کے لیے فوری احکامات جاری کیے ہیں، جبکہ ایس ایس پی سکھر اظہر مغل اور پوری پولیس ٹیم کو کامیاب کارروائی پر شاباش اور مبارکباد دی ہے۔


  • اب نہیں تو کب؟

    اب نہیں تو کب؟

    اب نہیں تو کب؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں خودکش دھماکہ اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں واقع کیڈٹ کالج پر خوارج کا وحشیانہ حملہ، یہ دو الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی سازش کا حصہ ہیں جو ہمارے ملک کی سلامتی کو چیلنج کر رہے ہیں۔کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج پر حملہ آور ایک خودکش کے علاوہ چار خوارج کامیاب آپریشن کرکے جہنم واصل کیے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وقت کالج کی بلڈنگ کو بارودی سرنگوں کے خطرے کی وجہ سے کلیئر کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کامیاب آپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالب علم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ سکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن نہایت احتیاط اور حکمت عملی سے کیا گیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان فتنہ الخوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سے کالج کا مرکزی گیٹ گرگیا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے اور حملہ آور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے، خوارج ایک عمارت میں چھپے تھے جو کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور تھی۔

    علاوہ ازیں سکیورٹی فورسز نے 8 اور 9 نومبر کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیاں کیں جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 20 دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں آٹھ بھارتی سپانسرڈ خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل میں دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سپانسرڈ مزید 12 خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز کا علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ بھارت کے حمایت یافتہ خارجیوں کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔

    کل ہی کا دن یعنی 11 نومبر، جب اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے باہر ایک خودکش دھماکہ ہوا تو 12 معصوم شہری شہید ہوگئے اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ صرف ایک دہشت گردی کی کارروائی نہیں تھا بلکہ ریاست پاکستان کے اداروں پر براہ راست حملہ تھا جو دہشت گردوں کی طرف سے جاری اس جنگ کا تسلسل ہے جس کا آغاز افغان سرحد پار سے ہو رہا ہے۔ یہ حملے جو ایک دوسرے کے فوراً بعد ہوئے، پاکستان کی معاشی و انتظامی مسائل اور سرحدی علاقوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منصوبہ بندی کیے گئے تھے۔

    اب سوال یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کہاں سے آ رہے ہیں؟ جس کاجواب واضح ہے کہ افغانستان۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر افغان دہشت گرد گروہوں کی جڑیں کابل کی موجودہ حکومت کی سرپرستی اور پناہ میں مضبوط ہو رہی ہیں۔ پاکستانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ یہ حملے افغان سرزمین سے منصوبہ بندی کیے جاتے ہیں اور کابل کی طالبان حکومت ان دہشت گردوں کو نہ صرف پناہ دیتی ہے بلکہ انہیں ہتھیار اور تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ وانا کے حملے میں بھی، جہاں خوارج نے کیڈٹس کو نشانہ بنایا، ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور افغان سرحد پار سے داخل ہوئے تھے اور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے۔ اسلام آباد کے دھماکے میں استعمال ہونے والا گاڑی بم بھی اسی طرح کی سازش کا حصہ ہے جو سرحد پار سے کنٹرول ہو رہا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں بلکہ یہ ایک منظم مہم ہے جو پاکستان کو کمزور کرنے اور اسے اپنے گھٹنوں پر لانے کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔ دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگنے سے شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ سی این جی سلنڈر پھٹنے سے ہوا لیکن بھارتی گودی میڈیا نے پولیس مؤقف کے برعکس ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے دھماکے میں پاکستانی کو ملوث قرار دے دیا۔ بھارت کی حکومت اور ذرائع ابلاغ مسلسل جھوٹ بول کر اپنے عوام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے جھوٹ کا پول کئی بار کھل چکا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت براہ راست ملوث ہے جس کا اعتراف بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوول بھی کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان بھی کئی بار بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت مہیا کر چکا ہے۔ خطے اور دنیا کے امن کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اور عالمی ادارے بھارت کی دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

    لیکن مسئلہ صرف سرحد پار کے افغان دہشت گردوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین، جو برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں، ان حملوں کی اخلاقی اور عملی مددگار بن چکے ہیں۔ 1979 کی سوویت حملے کے بعد سے لے کر اب تک، پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی، انہیں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ مگر بدقسمتی سے، ان میں سے بہت سے عناصر نے ہماری مہمان نوازی کا بدلہ دہشت گردی اور غداری سے دیا ہے۔ آج پاکستان میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ لاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں اور ان میں سے کئی ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ہمدرد یا فعال ارکان ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف دہشت گردوں کو خفیہ جگہیں فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کی مالی مدد، انٹیلی جنس اور حتیٰ کہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور یہ غیر ملکی جو ہماری سرزمین پر بیٹھ کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

    اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے جب کسی بھی افغان کو رجسٹر کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، کیونکہ یہ ہمارے کھلے اور ننگے دشمن ہیں جن پر ذرہ برابر اعتبار نہیں کیا جا سکتا،دہشت گرد کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہوتے اور یہ وہی خونخوار درندے ہیں جو ہمارے بچوں کے جنازوں پر ناچتے ہیں! یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان کے دل کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں افغان دہشت گردوں کے مکروہ نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں بلکہ انہی افغان بستیوں کے گھروں میں بم بنتے ہیں، انہی کی دکانوں پر ہتھیار چھپتے ہیں اور انہی کی مساجد سے جہاد کے فتوے نکلتے ہیں جو بعد میں اسلام آباد کی کچہریوں اور وانا کیڈٹ کالج پر گرتے ہیں! سرحدی علاقوں میں تو افغان مہاجرین کے کیمپ کھلے عام دہشت گردوں کی یونیورسٹیاں بن چکے ہیں جہاں بم بنانے کی ٹریننگ ہوتی ہے، خودکش جیکٹیں تیار کی جاتی ہیں اور نوجوانوں کو موت کا سوداگر بنایا جاتا ہے۔

    اور سب سے بڑا المیہ یہ کہ ان خونخواروں کے مددگار اور ہمدرد ہمارے اپنے ہی پاکستانی ہیں،یہ وہ غدار ہیں جو جھوٹی ہمدردی کا لبادہ اوڑھے انہیں چھپاتے ہیں، ان کی مالی امداد کرتے ہیں، ان کیلئے جاسوسی کرتے ہیں بلکہ وہ جو مذہبی، قبائلی یا سیاسی بنیادوں پر "افغان بھائی” کا راگ الاپتے ہیں، دراصل پاکستان کے دل میں خنجر گھونپ رہے ہیں! یہ غدار جانتے ہیں کہ یہ افغان دہشت گرد ہمارے بچوں کو کاٹ رہے ہیں، ہمارے فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں، ہمارے مدرسوں اور عدالتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،مگر اپنے ذاتی مفادات، کرپٹ سیاست یا غلط فکری جنون کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ یہ ہمدرد نہیں بلکہ پاکستان کے کھلے دشمن ہیں اور ان کا انجام بھی وہی ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کا ہوتا ہے!

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اس مہلک خطرے کا سامنا کرے اور بھرپور طاقت سے جواب دے۔ افغانی دہشت گردوں کے خلاف ایکشن تو ناگزیر اور فوری ہے، مگر یہ صرف سرحد پار بمباری تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان میں مقیم تمام افغانوں خواہ وہ رجسٹرڈ ہو یا غیر رجسٹرڈ سب کے خلاف فوری اور بے رحم کارروائی کی جائے۔ تمام افغان مہاجرین کو فوراً ملک بدر کیا جائے کیونکہ یہ غیر ملکی ہیں اور اب ہر حال میں سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں پاکستان سے بے دخل کرنا قومی سلامتی کا اولین تقاضا ہے۔ یہ کھلے دشمن ہیں اور اب رجسٹریشن جیسی کوئی رسمی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، لہٰذا انہیں ایک ہی نظر سے دیکھا جائے۔
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 2023 میں شروع ہونے والی مہاجرین کی واپسی کی مہم نے ہزاروں افغانوں کو واپس بھیجا، مگر اب یہ عمل تیز تر، منظم اور بے مثال شدت سے جاری رکھنا ہوگا۔ تمام سرحدی چوکیوں پر افغانوں کی سخت ترین چیکنگ ہو، ان کے کیمپوں میں اپریشن کیا جائے ان کی مسلسل تلاشیاں لی جائیں اور کسی بھی مشتبہ عنصر کو فوری گرفتار یا ملک بدر کیا جائے۔ کوئی رعایت، کوئی ہمدردی، کوئی تاخیر،اب برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ان افغان خونخواروں کے ہمدردوں اور پناہ دہندگان کے خلاف بغیر کسی رعایت یا رحم کے قانون کا سب سے بھاری ڈنڈہ اٹھنا چاہیے، جو پاکستانی بھی ان دہشت گردوں کو چھپاتا ہے، انہیں پیسے دیتا ہے، یا ان کی حمایت کرتا ہے، وہ پاکستان کا غدار ہے اور دہشت گردی روک تھام ایکٹ کے تحت فوری مقدمات درج ہوں،کوئی سیاسی دباؤ، کوئی سفارش، کوئی معافی قبول نہ کی جائے!
    ان غدار سہولت کاروں کو سزائے موت تک پہنچایا جائے اور جو بھی ان کے ہمدرد ہیں، انہیں کھلے عام پاکستان کا دشمن ڈکلیئر کیا جائے۔ یہ "افغان بھائی” کا جھوٹا نعرہ لگانے والے دراصل پاکستان کے دل میں چھپا ناسور ہیں جو ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں!
    انٹیلی جنس ایجنسیاں فوراً متحرک ہوں، ہر گھر، ہر دکان، ہر مسجد کی تلاشی لی جائے اور عوام کو کھل کر بتایا جائے کہ غداری کی سزا صرف موت ہے،کوئی دوسرا آپشن نہیں!

    کیا ہم مزید خون بہنے دیں گے؟ کیا اسلام آباد کی کچہریوں، وانا کیڈٹ کالج اور ہمارے بچوں کے سکولوں کو مزید دہشت گردوں کی قربان گاہ بننے دیں گے؟جس کا جواب ہے ہرگز نہیں!
    اب عمل کا وقت ہے،اب یا کبھی نہیں! ہم اپنے بیگناہ شہریوں، بہادر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور معصوم بچوں کے مزید جنازے نہیں اٹھائیں گے۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ، بغیر کسی رعایت کےحکومت، فوج اور عوام ایک آواز بن کر اس دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں،کابل کو واضح اور آخری پیغام دیں کہ اگر تم نے دہشت گردوں کو پناہ دینا جاری رکھا تو پاکستان کا جواب تباہ کن ہوگا،سرجیکل سٹرائیکس، سرحدی بندش، یا سفارتی تنہائی جو بھی ضروری ہو!.اس کے علاوہ پاکستان میں ہر افغان عنصر، ہر ہمدرد، ہر سہولت کار کو ختم کریں،کوئی چھوٹا، کوئی بڑا، کوئی رجسٹرڈ، کوئی غیر رجسٹرڈ نہیں بچنا چاہئے،یہ ایکشن اب نہیں تو پھر کب؟ ہر گھنٹہ، ہر دن کا انتظار ہمارے خون سے لکھا جائے گا۔
    پاکستان زندہ باد!
    پاک سرزمین کی حفاظت،ہم سب کی ذمہ داری ہے

  • میرپورماتھیلو: ڈپٹی کمشنر نے سائلین کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت دی

    میرپورماتھیلو: ڈپٹی کمشنر نے سائلین کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت دی

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے اچانک مختیارکار آفس میرپورماتھیلو کا دورہ کیا اور شہریوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایات دی کہ تمام شکایات فوری اور مؤثر انداز میں حل کی جائیں اور ہر سائل عزت و احترام کے ساتھ پیش آئے۔

    ڈپٹی کمشنر نے عملے کو وقت کی پابندی، حاضری یقینی بنانے اور عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی غفلت یا غیر حاضری برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔

    منظور احمد کنرانی نے کہا کہ ضلع گھوٹکی میں اچھی حکمرانی، شفافیت اور عوامی خدمت حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے، اور غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

  • گھوٹکی: جواریوں کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن، 9 گرفتار

    گھوٹکی: جواریوں کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن، 9 گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس نے محمد انور کھیتران کی ہدایت پر جواریوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ تھانہ ریتی پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تاش کے پتوں پر جواء کھیلنے والے 9 افراد جمیل ملک، سچے ڈنو شر، اویس شر، علی دوست شر، کبوتر مینگھواڑ، محمد عثمان ابڑو، تاج چانڈیو، سونو چانڈیو اور فیروز چانڈیو کو گرفتار کرلیا۔

    کارروائی کے دوران پولیس نے 2 تاشوں، 9 موٹر سائیکلیں اور 12,000 روپے نقد بھی ضبط کیے۔ گرفتار ملزمان کے 6 ساتھی فرار ہوگئے۔ پولیس نے گرفتار افراد کے خلاف کرائم نمبر 37/2025 دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا ہے۔

  • میرپورخاص: ٹائیگرز کی وہیل چیئر کرکٹ لیگ میں فتح

    میرپورخاص: ٹائیگرز کی وہیل چیئر کرکٹ لیگ میں فتح

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) آل میرپورخاص شاعر مشرق علامہ اقبال وہیل چیئر ڈبل وکٹ کرکٹ لیگ میں میرپورخاص ٹائیگرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد فائنل میں میرپورخاص ہیروز کو شکست دے کر ٹرافی اور کیش پرائز جیت لی۔

    مسابقے کا انعقاد میرپورخاص اسپیشل اسپورٹس اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن اور گلستان معذورین کے زیر اہتمام SMBBS گاما اسٹیڈیم میں ہوا، جس میں شہر کی آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ سیمی فائنل تک میرپورخاص ہیروز، گولڈ، ٹائیگرز اور ڈائمنڈ نے رسائی حاصل کی۔

    فائنل میچ میں ڈی ایس پی اسلم جاگیرانی نے فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کو ٹرافی اور کیش پرائز دیے جبکہ ڈپٹی گورنر روٹری انٹرنیشنل نعمان ایس اے خان نے رنر اپ ٹیم کے کھلاڑیوں کو انعامات پیش کیے۔

    اختتامی تقریب میں وہیل چیئرز تقسیم کی گئیں اور تقریب میں مختلف کھیلوں اور فلاحی تنظیموں کے سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔

  • اوکاڑہ: آر یو جے ٹرین مارچ کا شاندار استقبال، صحافیوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر دیں

    اوکاڑہ: آر یو جے ٹرین مارچ کا شاندار استقبال، صحافیوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر دیں

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ ریجنل یونین آف جرنلسٹس (پاکستان) کا پشاور سے شروع ہونے والا ٹرین مارچ اوکاڑہ ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر والہانہ انداز میں استقبال کیا گیا۔ اوکاڑہ اور گردونواح کے صحافیوں نے مارچ کے قائدین پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور نعرے لگا کر ان کا بھرپور خیر مقدم کیا۔

    اس موقع پر چیئرمین عبدالوحید انصاری اور صدر سٹی پریس کلب اوکاڑہ عباس جٹ کی زیر قیادت پریس کلب ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    ٹرین مارچ کی قیادت آر یو جے پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر طاہر احمد شاہ، سیکرٹری جنرل عابد مغل، اور سیکرٹری اطلاعات شہزاد نقوی کر رہے تھے۔
    ترجمان کے مطابق یہ ٹرین مارچ آر یو جے کے 10 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    اس پرامن ٹرین مارچ کا مقصد علاقائی صحافیوں کے حقوق، مسائل اور ان کے سماجی و پیشہ ورانہ تشخص کو اجاگر کرنا ہے تاکہ ان کے مطالبات وفاقی و صوبائی حکومتوں تک مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکیں۔

    مارچ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا 13 نومبر کو کراچی پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔