Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ:پتنگ بازی کی روک تھام،پولیس نے کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی مدد مانگ لی

    سیالکوٹ:پتنگ بازی کی روک تھام،پولیس نے کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی مدد مانگ لی

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی ( بیوروچیف شاہد ریاض سے)پتنگ بازی کی روک تھام،پولیس نے کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی مدد مانگ لی

    پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کو روکنے کے لئے سیالکوٹ پولیس نے کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں سے مدد بھی مانگ لی پولیس اور سول سوسائٹی کی پتنگ بازی کے لئے واک کا اہتمام کیا گیا

    سیالکوٹ پولیس نے پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کو روکنے کے لئے قانونی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی اس قاتل کھیل کو روکنے کے لئے مدد مانگ لی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن اقبال کی ہدایات پر مراد پور پولیس نے ایس ایچ او انسپکٹر میاں عبدالرزاق کی سربراہی میں سول سوسائٹی کے ہمراہ پتنگ بازی کے خلاف واک کا اہتمام کیا

    واک میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی مراد پور پولیس کی پتنگ بازی کے خلاف واک کے دوران شہریوں نے پولیس کے اقدام کو سراہتے ہوئے پولیس پر پھول نچھاور کئے اور تعاون کی یقین دہانی کرائی

  • سیالکوٹ:سبز پیر سٹاپ پر 2 موٹرسائیکلوں میں تصادم  ایک ہلاک 4 زخمی

    سیالکوٹ:سبز پیر سٹاپ پر 2 موٹرسائیکلوں میں تصادم ایک ہلاک 4 زخمی

    سیالکوٹ ، باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے)سبز پیر سٹاپ پر 2 موٹرسائیکلوں میں تصادم ایک ہلاک 4 زخمی

    تفصیل کے مطابق تھانہ سبز پیر کے علاقہ کنگرہ روڈ سبز پیر سٹاپ پر دو موٹرسائیکلوں کے درمیان تصادم ہواجس میں ایک آدمی ہلاک چار افراد زخمی ہوگئے

    ریسکیورز نے 22سالہ سفیر، دو بھائی 7سالہ ذولقرنین اور 5سالہ فخر ولد عظیم ، 23سالہ کبیر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا۔
    جبکہ 16سالہ علی شدید زخمی ہونے کہ باعث موقع پر ہی جانبحق ہو گیا۔

    حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا

  • گھوٹکی:بس کی موٹرسائیکل کوٹکر2جاں بحق، دکان کی چھت گرنے متعدد زخمی

    گھوٹکی:بس کی موٹرسائیکل کوٹکر2جاں بحق، دکان کی چھت گرنے متعدد زخمی

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی(مشتاق علی لغاری کی رپورٹ)بس کی موٹرسائیکل کوٹکر2جاں بحق، دکان کی چھت گرنے متعدد زخمی

    تفصیل کے مطابق چنا پمپ سٹاپ کے قریب ٹریفک حادثہ ہواہے جس میں مسافر بس نے موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد کو ٹکر مار دی، وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    موٹر سائیکل سوار اعجاز لغاری اور آسیہ لغاری اپنے گاؤں گلن لغاری سے پنوعاقل جا رہے تھے کہ سڑک عبور کرتے ہوئے حادثہ پیش آیا۔

    پولیس نےشہریوں ن کی مددسے لاشیں تعلقہ اسپتال گھوٹکی پہنچائیں، اسپتال انتظامیہ نے ضروری کارروائی کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کردی۔

    دوسرے واقعہ میں سیٹھ منچھورام پیڑو والوں کی دکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجہ میں محمد اقبال سیال،میر حسن لغاری گاؤں گلن لغاری،حاجی ایاز احمد سولنگی قادر پور،عبدالجبار شیخ انورآباد،عبدالرحمان سومرو، صادق لکھن،علی نواز ولد گلزار احمد کوری انور آبادسمیت 6 افراد شدید زخمی، زخمیوں کو تعلقہ ہسپتال گھوٹکی کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

  • اوچ شریف: سب انسپکٹر سجاد خان لغاری ایس ایچ او تھانہ اوچشریف تعینات

    اوچ شریف: سب انسپکٹر سجاد خان لغاری ایس ایچ او تھانہ اوچشریف تعینات

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) محنتی اور قابل پولیس آفیسر سب انسپکٹر سجاد خان لغاری کو تھانہ اوچشریف میں انچارج تھانہ لگا دیا گیا ہے جنہوں نے بطور ایس ایچ او چارج سنبھال کر اپنے فرائض سر انجام دینا شروع کر دیے ہیں

    کرائم فائیٹر پولیس آفیسر کی تھانہ اوچشریف میں بطور انچارج تعیناتی سے شہریوں نےاطمینان کااظہارکیا اور انہوں نے اس امیدظاہرکیاکہ سجاد خان لغاری کی اوچشریف شہر کے تھانہ میں بطور انچارج تعیناتی سے جرائم کاخاتمہ ہوگا اور وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر نہ صرف شہر میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے

    یاد رہے کہ سجاد خان لغاری کچھ عرصہ پہلے تھانہ اوچشریف میں اپنے فرائض سر انجام دے چکے ہیں جن کی سابقہ اچھی کارکردگی پر شہریوں نے ان کی اب تھانہ دوبارہ ایس ایچ اوتعیناتی سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں

  • گوجرہ: نواں لاہور کے نواحی گاؤں شاہ پور میں مسمار کئے گئے مکان کو سیاسی رنگ میں رنگ دیا گیا

    گوجرہ: نواں لاہور کے نواحی گاؤں شاہ پور میں مسمار کئے گئے مکان کو سیاسی رنگ میں رنگ دیا گیا

    گوجرہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگار عبدالرحمن جٹ سے) گوجرہ نواں لاہور کے نواحی گاؤں شاہ پور میں گزشتہ روز آرڈر32/34 کے تحت گرائے گئے مکان کو سیاسی رنگ میں رنگ دیا گیا

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نواں لاہور کے نواحی علاقہ چک 344ج۔ب شاہ پور کے رہائشی عبدالرحمان عرف مانا کے مکان کو آرڈر 32/34 کے تحت مسمار کر دیا گیا تھا جسے مخالفین نے سیاسی رنگ دے کر الیکشن پر ووٹنگ سے جوڑ دیا۔

    اس موقع پر گاؤں کے نمبردار گروپ کے اکابرین چوہدری محمد آصف نے چوہدری محمد طارق، چوہدری اکبر علی، چوہدری غلام عباس، چوہدری عنصر علی، سیٹھ مسکین،میاں خالد، میاں اویس، میاں شعیب، مہر حق نواز اور میاں اشفاق کی موجودگی میں گاؤں کے ماحول کو انتشار سے بچانے کیلئے فوری نوٹس لیا

    انھوں نے کہا کہ متاثرین فریقین نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کر کے گاؤں میں صلح کی روش اختیار کرنے کا اعلان کیا ،چوہدری محمد آصف نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں انتشار پھیلانے والے گروپ کو میسج دینا چاہتا ہوں کہ خدارا کچھ تو خدا کا خوف کھاؤ اس گاؤں میں ہم نے اتنے کام کروائے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح کام کرواتے رہیں گے تمھاری بیان بازی سے کچھ فرق نہیں پڑے گا

    آخر میں سب لوگوں نے گاؤں کی ترقی اور بہتری کیلئے دعا کی اور ایک ساتھ چلنے کا اعلان کیا

  • ریاست کے اندد ریاست کی وجوہات

    ریاست کے اندد ریاست کی وجوہات

    ریاست کے اندد ریاست کی وجوہات
    از قلم غنی محمود قصوری
    آئے روز سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں نے اتنے بندوں کو اغواء کرنے کے بعد تاوان نا ملنے پر مار دیا ،آجکل بہت زیادہ ویڈیوز آ رہی ہیں جس میں کچے کے ڈاکو مغویوں کو درندوں کی طرح مار پیٹ کرتے ہوئے ان کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں جس سے ملک کے اندر عدم اعتمادی اور خوف کی فضاء بڑھ رہی ہے

    یہ کچے کے ڈاکو کوئی نئے نہیں ہیں یہ بہت پرانے ہیں اتنے پرانے کے 1991 میں انہوں نے سندھ سے 3 چینی انجینئرز کو اغواء کیا تھا،یہ پرانے ڈاکو اب اس قدر جدت پسند ہوگئے ہیں کہ اب ان کی جانب سے لوگوں کو اغواء کرنے کی 90 فیصد وارداتیں سوشل میڈیا پرسرانجام دی جاتی ہیں

    سندھ پولیس کے پاس جب سیمی آٹو میٹک کاربن سیمونوف جیسی پرانی گنیں تھیں تب ان ڈاکوؤں کے پاس جدید ترین کلاشنکوفیں تھیں اور آج ان ڈاکوؤں کے پاس ایم فور سے لے کر جدید سنائپر گنز،طیارہ شکن گنز،اینٹی ٹینک راکٹ لانچرز،ہینڈ گرنیڈز اور مائنز تک موجود ہیں، نیز یہ لوگ جدید ترین کمیونیکیشن کا نظام بھی رکھتے ہیں

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ کچے کے علاقے میں فور جی انٹرنیٹ سروس بلا تعطل چلتی ہے اور یہ ڈاکو بڑے آرام سے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے پاکستان بھر سے لوگوں کو سستی چیزیں بیچنے کا لالچ دے کر اپنے علاقوں میں بلاتے ہیں اور پھر انہیں ہنی ٹریپ کرتے ہیں،یعنی پہلے یہ ڈاکو خود جا کر لوگوں کو شاہراہوں،دفتروں، بازاروں،گھروں سے اغواء کیا کرتے تھے اب اس کے برعکس لوگ خود چل کر ان کے پاس اغوا ہونے جاتے ہیں

    بہت سی ایسی وارداتیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں جس میں یہ لوگ سستی چیزیں بیچنے کی لوکیشن کسی اور شہر کی ڈالتے ہیں اور پھر وہاں سے لوگوں کو اغواء کر لیتے ہیں جیسے کہ دو ماہ قبل قصور سے دو نوجوان اغواء ہوئے جو کہ مری سے سستی گاڑی کا اشتہار دیکھ کر قصور پہنچے اور پھر وہاں سے اغواء ہو کر کچے کے ڈاکوؤں تک پہنچائے گئے جس سے لگتا ہے کہ کچے کے ڈاکو کچے کے علاقے تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے پاکستان میں اپنا نیٹ ورک بنا چکے ہیں

    کچے کا علاقہ تین صوبوں کے بارڈرز کیساتھ ہے،پنجاب کا ضلع صادق آباد و ذیلی علاقے،سندھ کا ضلع کشمور و ذیلی علاقے اور سندھ سے بلوچستان کی جانب منگھو پیر،نادرن بائی پاس ،گڈاپ کے علاقے ان ڈاکوؤں کی آماجگاہ ہیں

    ماضی میں بھی کبھی سندھ کے علاقے میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ہوئے تو کبھی پنجاب میں مگر کوئی خاطر خواہ نتائج نا نکلے جس کی وجہ ان ڈاکوؤں کی پناہگاہیں ہزاروں ایکڑ جنگلات میں ہونا،اعلی سول و پولیس افسران کیساتھ سیاستدانوں کی پشت پناہی اور کمزور ترین عدالتی نظام کا ہونا ہے

    اب ایک بار پھر سے ان ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے جو کہ بہت اچھی اور خوش آئند بات ہے ،جہاں ان ڈاکوؤں کو ختم کرنا بہت ضروری ہے وہاں وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ ان ڈاکوؤں کو بننے سے روکا جائے،جی بالکل عام انسانوں کو ڈاکو بننے سے روکا جائے

    ہمارے معاشرے میں ظلم وجبرکرکے ڈاکو بنائے جاتے ہیں،جب وڈیرے جاگیردار سرعام عزتوں کو تار تار کریں،سرعام زمینوں پر قبضے کریں اور لوگوں کو کمتر جان کر سرعام رسوا کریں وہ مظلوم اپنی شنوائی کی خاطر تھانے کا رخ کریں جہاں اس وڈیرے جاگیر دار ،سیاست دان ،چوہدری کا حمایتی تھانے دار مزید رسوا کرکے تھانے سے نکال دے،بفرض کوئی تھانے سے انصاف لے بھی لے تو سالوں تک عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر ذلیل و رسوا ہو کربالآخر انصاف بک جائے اورفیصلہ اسی کے خلاف آئے تو وہاں ڈاکو بننا بعض اوقات ضروری ہوتا ہے

    ایک بار کچے کے ایک ڈاکو نے پاکستان کے مشہور صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں انصاف کی امید ہو تو ہم کیوں جنگلوں میں مارے مارے پھریں؟ ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہمارے بچے سکولوں،کالجوں میں پڑھیں،اچھا کمائیں،اچھا کھائیں اور ایک باوقار شہری بنیں،اس ڈاکو نے صحافی سے سوال کیا تھا کہ آپ قسم اٹھا کر بتلائیں کیا یہ سب کچھ معاشرے میں رہتے ہوئے ہم عام آدمیوں کیساتھ ہونے نہیں دیا جاتا قانون کی پشت پناہی میں؟

    یہ ڈاکو بڑے ظالم ہوتے ہیں لوگوں کا مال ناجائز کھاتے ہیں اور ان کی جانوں کو ختم کرتے ہیں جس کی شرعی و قانونی سخت ترین سزا ہے مگر یہ بھی سوچئے کہ جب انہی ڈاکوؤں سے عام آدمی کی صورت میں دوسروں کی جانب سے سخت زیادتی کی جاتی ہے اگر تب ہی کنٹرول کر لیا ہوتا تو آج یقیناً ہر عام انسان کبھی ڈاکو نا بنتا

    جہاں اس معاشرے کا ناسور یہ ڈاکو ہیں وہاں ذات پات کی اونچ نیچ،جاگیرداری کے نشے میں مست ظالم لوگ اور اندھا قانون بھی ڈاکو بناتا ہے
    جہاں ان ڈاکو ؤں کا قلع قمع ضروری ہے وہاں اس نظام کا خاتمہ بھی ضروری ہے،اکثر و بیشتر ظالم کا ظلم سہہ کر اس راہ پر چلنے والے لوگ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا بدلہ لینے کی خاطر کمزور لوگوں سے بدلہ لیتے ہیں اور پھر دہشت و شہرت حاصل کرکے انہی لوگوں کی پشت پناہی حاصل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جنہوں نے ماضی میں ان پر ظلم کرکے انہیں مظلوم سے ظالم بنایا ہوتا ہے

    اس وقت گورنمنٹ کو چائیے کہ آپریشن کیساتھ ان سے مذکرات بھی کئے جائیں تاکہ ان کو احساس ہو کہ قانون مارنا ہی نہیں پالنا بھی جانتا ہے
    تاکہ آئندہ کبھی بھی ریاست کوئی چیلنج نہ کرسکے اور "ریاست کے اندد ریاست” بنانے کی کسی کوجراََت نہ ہو اور وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی ہو اورشہری امن وسکون سے بلاخوف اپنی زندگی گذارسکیں.

  • اوچ شریف: نواحی علاقے ہتھیجی میں یوم پاکستان ریلی نکالی گئی

    اوچ شریف: نواحی علاقے ہتھیجی میں یوم پاکستان ریلی نکالی گئی

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے ہتھیجی میں یوم پاکستان منایا گیا ریلی کی قیادت راؤ محمد جاوید اقبال نے قیادت کی

    23 مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے ہتھیجی میں راؤ محمد جاوید اقبال کی قیادت میں ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی کے شرکاء نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے، ریلی میں پریس کلب ہتھیجی کے صدر نصیر احمد سیٹھار, مولانا محمد احمد, انجمن تاجران کے صدر عابد ڈھول معروف سماجی شخصیت ملک فدا حسین لانگ, ماسٹر محمد قاسم وینس کے علاوہ شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پریس کلب ہتھیجی کے صدر نصیر احمد سیٹھار کا کہنا تھا کہ 23 مارچ وہ تاریخی دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک قرارداد کے ذریعے آزاد ملک پاکستان کا مطالبہ کیا، انکا مزید کہنا تھا کہ یوم پاکستان تحریک آزادی کا روشن باب ہے 23 مارچ 1940 کو آزاد وطن کے خواب کو عملی تعبیر دینے کی بنیاد رکھی گئی۔

    ملک فدا حسن لانگ کا کہنا تھا کہ 23 مارچ کی قرارداد کے بعد برصغیر نے کے مسلمانوں نے لاکھوں قربانیوں کے بعد وطن عزیز پاکستان حاصل کیا, انجمن تاجران کے صدر عابد ڈھول کا کہنا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہئے اور پاکستان کی محافظ فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہئے,

    ریلی کی قیادت کرتے ہوئے چوک ہتھیجی پر خطاب کرتے ہوئے راؤ محمد جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ 23 مارچ کی قرارداد پاس ہونے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے عملی طور پر پاکستان کو اپنی منزل قرار دیتے ہوئے آزاد وطن کے حصول کی باقاعدہ کوششیں تیز کی جس کے نتیجے میں پاکستان 14 اگست کو معرض وجود میں آیا,

    راؤ محمد جاوید اقبال کا مذید کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج پاکستان کے ادارے پاکستان کے محافظ ہیں ہمیں پاک فوج اور اداروں پر کسی صورت تنقید نہیں کرنی چاہئے پاک فوج اور ادارے ہیں تو وطن عزیز ہے جس ملک کی فوج مضبوط ہوتی ہے اسکے عوام سکون کی نیند سوتے ہیں.

    ریلی کے اختتام پر ملک و قوم کی ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی, ریلی میں محمد طارق سیٹھار, حافظ سیف الرحمن آرائیں, عمر شہزاد سیٹھار, ملک علی گھلو, ملک عثمان آرائیں, ڈاکٹر نواز نائچ, ملک نعیم نائچ, ملک طارق ڈھول, ساجد سیٹھار اور دیگر نے شرکت کی

  • پسرور: فائرنگ اور چھریوں کے وار سے تین افراد زخمی

    پسرور: فائرنگ اور چھریوں کے وار سے تین افراد زخمی

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے)پسرور فائرنگ اور چھریوں کے وار سے تین افراد زخمی

    پرانی کاروباری رنجش پر دو افراد نے فائرنگ اور چھریوں کے وار کرکے تین افراد کو زخمی کردیا،زخمی ہونے والوں میں عثمان ایڈووکیٹ ممبر پسرور بار ولد حاجی یعقوب عمر 28 سال ، ابوبکر عمر 31 سال اور طیب عمر 33 سال شامل ہیں

    فائرنگ اور چھریوں کے وار سے زخمی ہونے والے تینوں سگے بھائی ہیں اور کلاسوالہ کے رہائشی ہیں، فائرنگ کا یہ واقع حبیب بنک کے قریب پیش آیا

    ریسکیو ٹیم نے تینوں زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پسرور شفٹ کردیا

  • ٹھٹھہ:ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو  کی زیر صدارت غذائی قلت کے خاتمے کے متعلق اہم اجلاس

    ٹھٹھہ:ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو کی زیر صدارت غذائی قلت کے خاتمے کے متعلق اہم اجلاس

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی(نامہ نگاربلاول سموں)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو کاشف علی قریشی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے غذائی قلت میں کمی لانے کیلئے ایکسیلریشن ایکشن پلان کے تحت ضلعی سطح پر کام شروع کیا گیا ہے تاکہ غریب لوگوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے سمیت ان کی معاشی حالت کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع ٹھٹھہ میں غذائی قلت میں کمی کے لیے تیز رفتار ایکشن پلان کے تحت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے غذائیت کے متعلق دربار ہال مکلی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صحتمند اور توانا قوم ہی ترقی و خوشحالی کی منازل حاصل کر سکتی ہیں، غذائی قلت کے باعث بچوں کی نشونماء صحیح نہیں ہوتی، قوم کے نونہالوں کی بہتر پرورش اور نشونماء کیلئے منصوبے پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    انہوں نے غذائیت پر کام کرنے والے تمام اداروں اور این جی اوز کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ مؤثر عمل درآمد کے لیے ایک دوسرے کے درمیان قریبی ہم آہنگی پیدا کریں اور اپنی سرگرمی کی پیش رفت رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو ارسال کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی او آرز پر عمل درآمد سمیت اپنی ماہانہ سرگرمیوں کو ضلعی انتظامیہ اور ڈویژنل کوآرڈینیشن آفیسر کے ساتھ شیئر کریں۔

    انہوں نے پی پی ایچ آئی اور محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ فیملی ہیلتھ میلے کی سرگرمیوں کے لیے محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کو ادویات اور دیگر سپلیمیٹنس فراہم کریں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے تمام اے پی پی سیکٹرز اور آئی این جی اوز/این جی اوز کو ہدایت کی کہ وہ ضلع سے غذائیت کی کمی کو کم کرنے کے لیے کثیر شعبہ جاتی نقطہ نظر کی حامل کمیونٹیز کے ساتھ آگاہی سیشنز کے ذریعے معلومات کے مناسب اور موثر اشتراک کو یقینی بنائیں۔

    انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ ڈویژنل کوآرڈینیشن آفیسر ایکسیلریشن ایکشن پلان کے ساتھ مربوط رابطے میں رہیں اور آئندہ اجلاس سے قبل اہداف اور کامیابیوں کی عکاسی کے متعلق ایک جامع رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے غذائی قلت کو کم کرنے کے اس عظیم مقصد کے لیے کام کرنے پر کوآرڈینیشن آفیسر و دیگر شعبوں اور تنظیموں کی کوششوں کو سراہا۔

    اس موقع پر ضلع میں این او سی اور سرگرمیوں کے شیڈول کی اطلاع کے بغیر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مجموعی طور پر ضلع ٹھٹھہ میں غذائی قلت کو کم کرنے کے لیے تازہ ترین پیش رفت اور مقاصد کے موثر نفاذ کے لیے ضلعی انتظامیہ کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم کرنے اور پروگرام کے نفاذ اور تخفیف کے اقدامات کے دوران درپیش کلیدی چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    قبل ازیں ایکسیلریشن ایکشن پلان ٹاسک فورس سیکرٹریٹ اور اس کے پس منظر کے بارے میں ڈویژنل کوآرڈینیشن آفیسر (حیدرآباد) کی جانب سے پریزنٹیشن پیش کی گئی جبکہ تمام متعلقہ محکموں کے افسران اور این جی اوز کے نمائندوں نے سرگرمیوں کی پیشرفت کے متعلق تفصیلی آگاہی بھی دی۔ اجلاس میں اے اے پی کے ڈویژنل کوآرڈینیشن آفیسر (حیدرآباد)، ڈی این سی – پی پی ایچ آئی، مرف، محکمہ پاپولیشن ویلفیئر، تعلیم، لائیواسٹاک، زراعت، صحت ، ہیومن رائٹس و دیگر متعلقہ محکموں کے فوکل پرسنز کے علاوہ آغا خان یونیورسٹی، سرسو، این آر ایس پی سمیت ديگر ملکی و غیر ملکی سماجی تظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • سیالکوٹ :رکن صوبائی اسمبلی منشاء اللہ بٹ نے شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔

    سیالکوٹ :رکن صوبائی اسمبلی منشاء اللہ بٹ نے شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہد ریاض سے)رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے شہاب الدین پارک میں پودے لگا کر حکومت پنجاب کی "درخت لگائیں،پاکستان کے لئے” کی شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ غلام سرور، سی ای او سیالکوٹ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کاشف نواز رندھاوا، سابق ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالحمید قاسم، چودھری سیف اللہ، شیخ ناصر، شہزاد کویتی، سپرنٹینڈنٹ پی ایچ اے باؤ شوکت، سپروائزر نوید اقبال اور کوآرڈینیٹر پی پی 47 محسن عباس بھی موجود تھے۔

    رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ درخت لگانا ہم سب کا دینی، مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ اور موسمی تبدیلیوں کو روکنے کیلئے جس قدر ممکن ہو درخت لگانے ہونگے اور جو درخت اور پودے لگائے جارہے ہیں ان کی نگہداشت بھی انتہائی ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ذمہ داری سنبھالتے ہی اپنی ترجیحات میں شجر کاری اور میونسپل سروسز کے معیار کے بہترین بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ درخت قدرت کا انمول تحفہ ہے اور انسانی زندگی پر اس کے گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اسلام میں درخت لگانا کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماہ صیام میں شجر کاری بہترین کار خیر ہے۔ محمد منشاء اللہ بٹ نے پارک اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ پارک اور گرین بیلٹس میں لگائے جانے والے پودوں کو سیراب اور حفاظت کرنے کیلئے اپنے فرائض منصبی پوری ایمانداری اور تندہی سے انجام دیں۔
    ۔۔۔۔۔۔