Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ :ڈپٹی کمشنر کا رمضان نگہبان پیکیج کی گھرکی دہلیز پر فراہمی کا جائزہ لینے کے لئے قصبہ سیدوالہ کا دورہ

    ننکانہ :ڈپٹی کمشنر کا رمضان نگہبان پیکیج کی گھرکی دہلیز پر فراہمی کا جائزہ لینے کے لئے قصبہ سیدوالہ کا دورہ

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز ) وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی ہدایات کے مطابق مستحقین کو رمضان نگہبان پیکیج ڈورسٹیپ پر فراہم کیا جا رہا ہے اسی حوالے سے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد ارشد نے نگہبان رمضان پیکج کی ترسیل کا جائزہ لینے کے لیے سیدوالہ کا اچانک دورہ کیااور ڈپٹی کمشنر نے وئیر ہاوس میں اشیاء کے معیار اور پیکنگ کے عمل کا بھی جائزہ لیا

    ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد ارشد نے فیلڈ میں راشن تقسیم کرنےوالی ٹیموں کی حاضری کو بھی چیک کیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوۓ چوہدری محمد ارشد کا کہنا تھا کہ رمضان پیکج کی گھر تک فراہمی لوگوں کی عزت نفس کی پاسداری ہے

    چوہدری محمد ارشد نے بتایا کہ ضلع ننکانہ کے 91500 مستحق گھرانے رمضان نگہبان ریلیف پیکج سے مستفید ہونگے اور اب تک ضلع بھر میں 36 ہزار 94 رمضان نگہبان پیکج بیگز مستحقین کی دہلیز پر ان کے حوالے کیے جا چکے ہیں

    رمضان نگہبان پیکیج کو مکمل تصدیق کے بعد گھر کی دہلیز پر وصول کراکے ڈیٹا اپلوڈ کیا جارہا ہے رمضان نگہبان پیکیج کے عمل کو 10 رمضان المبارک تک مکمل کر لیا جائے گا.

  • تنگوانی: دو پولیس مقابلے،3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    تنگوانی: دو پولیس مقابلے،3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    تنگوانی ،باغی ٹی وی (نامہ نگار منصوربلوچ) کشمور کے تھانہ تنگوانی کی حدود میں دو پولیس مقابلے،3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    تھانہ تنگوانی کی حدود بگٹی ہوٹل کے قریب، ڈاکو ڈکیتی کے ارادے سے کھڑے تھے ۔ پولیس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار اور کچھ ڈاکو فرار ہوگئے

    زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کی شناخت ظفراللہ ولد مراد علی جعفری اور رحمت اللہ ولد غلام نبی نندوانی کے نام سے ہوئی ہے.گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو عدد ٹی ٹی پسٹل برآمد بھی برآمد ہوئے ہیں ،ملزمان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال روانہ کیا گیا.

    اسی طرح ایک اورکارروائی میں تھانہ تنگوانی کی حدود بگٹی ہوٹل کے قریب، ڈاکو ڈکیتی کے ارادے سے کھڑے تھے ۔ پولیس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا۔ دوران پولیس سرچنگ ایک اور ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کی تعداد تین ہوگئی۔

    زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد حسن عرف نور حسن نندوانی ولد وزیر نندوانی کے نام سے ہوئی ہے.گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک عدد ٹی ٹی پسٹل برآمد، ملزم کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال روانہ کیا گیا.

    ابتدائی معلومات کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ملزمان سنگین نوعیت کے جرائم کی متعدد وارداتوں , ڈکیتی،اغوا کاری میں ملوث ہیں. مزید تفتیش جاری ہے ،ملزمان کا کریمنل ریکارڈ پورے ضلع سے چیک کیا جا رہا ہے۔

    مزید تفتیش جاری ہے ،ملزم کا کریمنل ریکارڈ پورے ضلع سے چیک کیا جا رہا ہے۔

    ایس ایس پی کشمور بشیر احمد بروہی نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا کشمور پولیس کی اولین ترجیح ہے .

  • میہڑ:مچھلی کے تالاب سے نامعلوم شخص کی نعش برآمد

    میہڑ:مچھلی کے تالاب سے نامعلوم شخص کی نعش برآمد

    میہڑ،باغی ٹی وی (نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ)مچھلی کے تالاب سے نامعلوم شخص کی نعش برآمد

    تھانہ بی سیکشن کی حدودگاؤں امیدیرو میں مچھلی کے تالاب سے نامعلوم شخص کی نعش برآمد ہوئی ہے

    دیہاتیوں نے مچھلی کے تالاب میں نعش کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی ،تھانہ بی سیکشن پولیس نے نعش کو تحویل میں لیکر شناخت کہ لئے تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کردیا ہے

    تاحال نعش کی شناخت نہیں ہوسکی ہے.

  • سرگودھا: رمضان نگہبان پیکج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف،اعلیٰ افسران خاموش

    سرگودھا: رمضان نگہبان پیکج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف،اعلیٰ افسران خاموش

    سرگودھا،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر ادریس نواز چدھڑ)رمضان نگہبان پیکج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف،اعلیٰ افسران خاموش

    سرگودھا سمیت پنجاب بھر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا رمضان نگہبان پروگرام بری طرح ناکام رہا ۔ نگہبان پروگرام کے نتائج انتظامیہ سمیت سرکاری محکموں کی نااہلی ، غلطیوں اور بدعنوانی کے باعث برآمد نہیں ہو سکے جس کی امید کی جا رہی تھی ۔

    مستحقین کو گھر تک راشن کی فراہمی کا ایک مقصد ان کی عزت نفس کو برقرار رکھنا اور حکومت کی غریب عوام کےلئے گھر کی دہلیز پر خدمت کے جذبہ کو بھی اجاگر کرنا تھا ۔ تمام تر کوششوں کے باوجود مستحقین پروگرام سے اس طرح مستفید نہیں ہو سکے جس کے وہ حقدار تھے ۔

    سب سے بڑی کوتاہی تو یہی ہے کہ مستحقین کو صرف 10 کلو آٹا، 2 کلو چینی ، 2 کلو چاول ، 2 کلو بیسن اور 2 کلو گھی فراہم کیا گیا ۔ کم سے کم 4 سے 6 افراد کی فیملی کےلئے یہ سامان ایک ماہ کےلئے بالکل ناکافی ہے ۔ اور پیکج میں مذکورہ 5 اشیاء کے علاؤہ دالیں ، چائے کی پتی، مرچ مصالحے ، صابن وغیرہ سمیت دیگر کوئی اشیائے خوردونوش یا اشیائے صرف شامل نہیں تھیں ۔ جو ایک گھر کی عام ضرورت ہوتی ہے ۔

    نگہبان رمضان پیکج میں صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل مستحقین کو شامل کیا گیا حالانکہ اس بے نظیر پروگرام میں شامل مستحقین کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔ اور بڑی تعداد میں غیر مستحق خواتین بھی اس پروگرام میں شامل ہیں ۔ پروگرام کو وسیع بنانے کےلئے زکوٰۃ ، بیت المال سے امداد اور براہ راست درخواست دینے والوں کو بھی رمضان نگہبان پروگرام میں شامل کرنا ضروری تھا ۔

    اب وہ خاندان جنہیں امداد نہیں ملی وہ مایوس اور حکومت کو نااہلی پر بد دعائیں دے رہے ہیں ۔ بلاشبہ حکومت نے مستحقین کو گھر گھر راشن پہنچانے کی بھرپور کوشش کی مگر سامان کو مختلف علاقوں میں لے جاکر بااثر سیاسی شخصیات کے ڈیروں پر رکھا گیا اور وہاں مستحقین کو بلا کر نہ صرف سیاسی مجمع لگایا گیا بلکہ ان کا تماشہ بھی بنایا گیا ۔ جس سے مستحقین کا وقار اور عزت نفس مجروح ہوئی ۔

    بہت سے ایسے مستحقین ہیں جو سامان کی فراہمی کے وقت گھروں پر موجود نہیں تھے یا ان سے موبائل پر رابطہ نہ ہو سکا ۔ ایسے افراد کو ابھی تک امداد نہیں ملی اور وہ دربدر ہیں ۔ پیکج میں شامل کئی مستحقین رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں ۔ اور ان کے نام فہرستوں میں شامل ہیں

    ذرائع کے مطابق مستحقین کی فہرستوں میں شامل کئی افراد نے یہ مدد لینے سے انکار کر دیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ رمضان نگہبان کا یہ سامان واپس کس جگہ جمع ہوا یا کس نے وصول کیا اور اگر یہ واپس حکومت تک نہیں آیا ۔ تو کس کس کی جیبوں میں گیا ہے اور اس بدعنوانی نااہلی اور کرپشن کے ذمہ دار کون لوگ ہیں ?

    حکومت نے رمضان نگہبان پروگرام کے تحت کشمیر یا ڈالڈا گھی، اعلیٰ کوالٹی کا بیسن ، سٹیم کوالٹی کے معیاری چاول ، اعلیٰ کوالٹی کا آٹا اور چینی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی مگر سرگودھا میں ناقص اور مضر صحت آٹا، کم کوالٹی کے چاول، بالکل غیر معیاری بیسن اور سویابین اور دیگر کم کوالٹی کے گھی کے پیکٹ پیکج میں شامل کرکے کروڑوں روپے کا ہیر پھیر کیا گیا ۔

    محکمہ فوڈ اتھارٹی کی ٹھیکیدار کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور پوری انتظامیہ اور سرکاری محکمے اس کی معاونت کر رہے ہیں ، فوڈ اتھارٹی نے کسی بھی سیپمل کی رپورٹ جاری نہیں کی اور رابطہ کرنے پر کہا ہمیں اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے ، جو بھی رپورٹ لینی ہے ڈپٹی کمشنر دیں گے ۔ سب رپورٹیں ان کے پاس ہیں ۔

    ذرائع کے مطابق فوڈ اتھارٹی نے کوئی ایک رپورٹ ایسی نہیں دی جس میں کہا گیا ہو کہ آٹا ، گھی ، بیسن وغیرہ میں سے کوئی ایک بھی چیز کم کوالٹی یا مضر صحت ہے ۔ ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار کی دیدہ دلیری یہ تھی کہ ویٹر ہاؤس کے اندر لائے گئے ٹرکوں پر بیسن اور دیگر سامان کا سرکاری ملازمین اور دیگر ٹاؤٹ حضرات سرعام سودا اور ایجنٹوں کو لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کی پیشکش کر کے خریداری کر رہے تھے ۔

    ضلع سرگودھا کے لئے 92 کروڑ 23 لاکھ 11 ہزار 409 روپے 95 پیسے سے مستحقین کےلئے 2 لاکھ 8 ہزار 557 تھیلوں کی تیاری کا کام کیا گیا ۔ حکومت نے نواز شریف کی تصویر والے تھیلے خود فراہم کیئے جبکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی حکومت کے ذمہ تھے ۔ اس طرح اس پروگرام پر لاگت کا تخمینہ تقریبا” 92 کروڑ روپے سے بہت زیادہ ہو گیا ہے ۔ اگر حکومت مستحقین کو کم سے کم ایک ماہ کا راشن فراہم کرتی اور انھیں باعزت مقامات پر بلوا کر راشن تقسیم کرتی تو راستے میں سامان کی خورد برد کا امکان کم اور ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی کم پڑتا ۔

    بتایا گیا ہے کہ لاہور کے ایک بڑے آفیسر کی سفارش پر رات کے وقت ایک کاروباری شخصیت کو بلوا کر 92 کروڑ روپے سے زائد خطیر رقم کے نگہبان رمضان پروگرام کا ٹھیکہ دیا گیا اور ٹھیکیدار کھلے عام یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ 5 کروڑ اوپر اور 5 کروڑ نیچے رشوت دی ہے ۔ سرگودھا میں نگہبان پروگرام میں وسیع پیمانے پر بدنظمی اور لوٹ مار کی گئی کھلے عام رشوت کا بازار گرم اور مک مکا ہوتا رہا ۔

    افسران نے اس حوالہ سے کسی شکایت کا نوٹس نہیں لیا ۔ آخری دنوں میں حکومت پنجاب نے ہر ضلع میں ارکان صوبائی اسمبلی پر مشتمل نگہبان کمیٹیاں بھی قائم کی ہیں ۔ سرگودھا میں رانا منور غوث، عاصم شیر میکن اور صفدر حسین ساہی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے ۔ مگر یہ کمیٹیاں اس وقت بنی ہیں جب سارا کھیل ختم ہو چکا ہے ۔

    اب یہ کمیٹیاں پروگرام کو بہتر بنانے کےلئے کیا منصوبہ بندی کریں گی یا کیا رائے دیں گی ؟ انہیں کھیل ختم اور پیسہ ہضم ہونے پر صرف بریفنگ ملے گی اور کچھ نہیں ۔

    افسوس تو اس بات کا ہے کہ حکومت نے غریب مستحقین کےلئے رمضان نگہبان پروگرام جاری کیا تھا مگر غریبوں کے پیسہ کی بھی لوٹ مار کی گئی اور افسران نے روایتی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیا ۔

  • محکمہ ہائی وے مظفر گڑھ میں 1ارب 30کروڑوں سے زیادہ کے 14اسکیمں کے ٹینڈرز میں مقابلہ تاریخ رقم

    محکمہ ہائی وے مظفر گڑھ میں 1ارب 30کروڑوں سے زیادہ کے 14اسکیمں کے ٹینڈرز میں مقابلہ تاریخ رقم

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی(نامہ نگار شہزادخان)محکمہ ہائی وے مظفر گڑھ ایکسئن شاہد ریاض ٹینڈروں میں میرٹ کروانے پر چھا گئے۔1ارب 30کروڑوں سے زیادہ کے 14اسکیمں کے ٹینڈروں مقابلہ کروا کر تاریخ رقم کر دی۔

    ایکسئن ہائی وے مظفر گڑھ نے ٹینڈروں کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ الحَمْد اللہ ہماری بہترین حکمت عملی کی وجہ سے اسکیموں پر اپلائی کرنے والے ٹھیکیداروں کی 400 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جس سے درخواست فیسیوں کی مد میں 6کروڑ روپے قومی خزانے کو فائدہ حاصل ہوا۔

    اسکے علاوہ ہونے والے ٹینڈروں میں 30فیصد سے لیکر 35فیصد تک کم ریٹ بھرنے سے بھی قومی خزانے کو 25کروڑ سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا۔
    ایکسئن شاہد ریاض نے مزید کہا کہ میری اولین ترجیح ہمیشہ میرٹ ہوتی ہے اور تاریخ گواہ ہے میری حکمت عملی سے ہمیشہ قومی خزانے کو فائدہ حاصل ہوا ہے۔

    اب میری اگلی کوشش ہوگی کہ ٹینڈروں میں مقابلے کے بعد ٹھیکیدار کاموں میں ایک نمبر میٹریل استعمال کریں۔کمی کوتاہی اور ڈنڈی مارنے والے ٹھیکیدار کسی صورت قابل قبول نہیں ہونگے۔

    کوشش ہوگی کہ میٹریل کو روزانہ کی بنیاد پر خود موقع پر جا کر چیک کرتا رہوں گا۔امید کروں گا کہ ٹھیکیدار کاموں کو بہتر انداز میں کرنے پر پابند ہوگے۔

    اس موقع پر ایکسئن ہائی وے شاہد ریاض کو میرٹ پر ٹینڈر زکروانے مبارکبادیں بھی دی گئیں۔

  • سیالکوٹ:تنظیم الااخوان کا ماہانہ اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں منعقد ہوا

    سیالکوٹ:تنظیم الااخوان کا ماہانہ اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں منعقد ہوا

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے )سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الااخوان ضلع سیالکوٹ کا ماہانہ اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں منعقد ہوا۔

    سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الا اخوان ضلع سیالکوٹ کا ماہانہ اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے سالکین نے بھرپور شرکت کی.

    شیخ مکرم امیر عبدالقدیر اعوان نے سالکین سے ویڈیو لنک خطاب کیا، ذکر قلبی و مختصر خطاب اور دعاۓ خیر صاحب مجاز عبدالحمید چھینہ ایڈووکیٹ نے کروائی۔

    اس موقع پر ضلعی جنرل سیکرٹری عارف رفیق نے بھی سالکین سے مختصر خطاب کیا اور ذمہ داران کی ماہانہ میٹنگ منعقد ہوئی ۔ کتب سلسلہ سٹال پر ماسٹر افضل اور سوشل میڈیا ڈیسک کی ذمہ داری صہیب ریحان نے نبھائی۔ آخر پر سالکین کی لنگر سے تواضع کی گئی۔

  • ناجائز اوور بلنگ اور مہنگی بجلی, حکومت عملی اقدامات کرے

    ناجائز اوور بلنگ اور مہنگی بجلی, حکومت عملی اقدامات کرے

    ناجائز اوور بلنگ اور مہنگی بجلی, حکومت عملی اقدامات کرے
    تحریر:میاں عدیل اشرف
    پوری دنیا میں جہاں بھی، جس ملک میں بھی ترقی ہو رہی وہاں لوگوں کی زندگیاں آسان ہو رہی ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان واحد ملک ہے جہاں ظاہری طور پر ترقی تو ہو رہی ہے لیکن لوگوں کی زندگیاں مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہیں۔

    ہر ملک بجلی پیدا کرکے عوام کو سستی بجلی مہیا کر رہا ہے لیکن پاکستان میں آئے روز بجلی مہنگی ہو رہی، ایک طرف لوگوں کو مہنگی بجلی نے پریشان کر رکھا ہے تو دوسری جانب واپڈا ملازمین کی ناجائز اوور بلنگ کی وجہ سے نہ صرف عوام پریشان ہے بلکہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے کسان بھی بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔

    واپڈا ملازمین جان بوجھ کر لوگوں کے بجلی بلوں میں ناجائز طور پر زائد یونٹ ڈال کر لاکھوں روپے کا بل بھیج دیتے ہیں، جو کسان اور عام عوام بالکل بھی ادا نہیں کر سکتے۔ عام مزدور جس کی یومیہ اجرت اتنی کم ہے کہ وہ گھر کے افراد کا کھانا پورا نہیں کر سکتا ،جب اسے مہینے کا ہزاروں روپے بل آتا تو وہ فاقے کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    اسی طرح کسان جو اپنی بوئی ہوئی فصل کو چار یا پانچ ماہ بعد برداشت کرتے ہیں تو اس کی بچت اتنی زیادہ نہیں ہوتی بلکہ بجلی کے بل اس کی بچت سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسان زرعی زمینوں میں لگے بجلی کے کنیکشن منقطع کروانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    غریب مزدور لوگ اپنے گھروں کے کنیکشن منقطع کروا رہے ہیں لیکن محکمہ واپڈا کے ملازمین کی عیاشیاں عروج پر ہیں، ملک میں بجلی مہنگی ہونے اور پیداوار کم ہونے کے باوجود واپڈا ملازمین کی فری بجلی بند نہیں ہو سکی، انہیں ہر مہینے اربوں روپے کی فری بجلی دی جا رہی جس سے نہ صرف وہ اپنے گھروں میں ہیٹر، گیزر، اور اے سی چلاتے بلکہ دیگر گھروں کو ناجائز طور پر بجلی چوری کر کے فراہم کرتے ہیں اور بدلے میں پیسے وصول کرتے ہیں۔

    بجلی چوری کروانے میں بھی محکمہ واپڈا ملازمین ہی ملوث ہیں ان کے بغیر بجلی چوری ہو ہی نہیں سکتی لیکن حکومت ان ملازمین کی فری بجلی بند کرنے کی بجائے آئے روز عام عوام پر بوجھ ڈال رہی، واپڈا ملازمین چوری کی بجلی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بجائے وقتی طور پر ان کا کنیکشن کاٹتے ہیں اور دوسرے روز ہی چوروں کا کنیکشن لگا دیتے اور رشوت وصول کرتے ہیں۔ ہر طرف سے عوام کو ہی لوٹا جا رہا ہے اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا جو کہ عام عوام کے ساتھ سخت زیادتی ہے۔

    محکمہ واپڈا کو اگر پرائیویٹ کر دیا جائے اور ملازمین کی فری بجلی ختم کر دی جائے تو ملک میں بجلی چوری بھی کم ہو جائے گی اور پیداوار بھی پوری ہو جائے گی۔ کیونکہ بجلی چوری کروانے میں خود محکمہ واپڈا کےملازمین ہی ملوث ہیں۔

    پاکستان میں سب سے اہم شعبہ جس پر ملک کا دارومدار ہے وہ زراعت ہے، حکومت کو چاہیے کسانوں کو سستی بجلی اور دیگر زرعی اشیاء سستے داموں فراہم کریں لیکن حکومت پاکستان آئے روز اپنی بری پالیسیوں کے ذریعے کسانوں کے لیے مشکلات ہی بڑھا رہی ہے، اس طرح نہ صرف کسانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں، بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔

    سستی بجلی کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سولر لگاوانا شروع کر رہے ہیں جو کہ موجودہ دور میں تو فائدہ مند نظر آتے ہیں لیکن مستقبل میں اس سولر کی وجہ سے موسمیاتی طور پر نقصان ہو گا،اس لیے گورنمنٹ کو چاہیے کہ محکمہ واپڈا کی نج کاری کر کے ملازمین کی فری بجلی بند کریں۔ جہاں باقی سارے محکموں کے ملازمین بجلی بل ادا کرتے ہیں واپڈا ملازمین بل کیوں نہیں ادا کر سکتے۔

    عام عوام اور کسانوں نے کئی بار ملک گیر احتجاج کیا لیکن ناجائز لاکھوں روپے کی اوور بلنگ کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ حکومت پاکستان اس حوالے سے عملی اقدامات کرے اوور بلنگ کا خاتمہ کر کے صرف استعمال شدہ یونٹ کا ہی بل عوام کو بھجیں۔ تاکہ ہر فرد آسانی سے بجلی کا بل ادا کر سکے۔

    ریاست پاکستان عام مزدوروں کے حالات پر رحم کرے ان کی اجرت سے زیادہ بجلی مہنگی نہ کرے۔

    اور کسانوں کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ وہ زرعی اجناس کی زیادہ پیداوار حاصل کریں اور ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے اپنا بہتر کردار ادا کر سکیں۔ سستی بجلی کی فراہمی اور ناجائز اوور بلنگ کا خاتمہ حکومت پاکستان کا عوام پر بہت بڑا احسان ہو گا۔

  • چترال :وادی آرکاری میں سڑک سے برف  ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق

    چترال :وادی آرکاری میں سڑک سے برف ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)وادی آرکاری میں سڑک سے برف ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق، جاں بحق ہونے والا اپریٹر بوڑھے والدین سمیت پورے خاندان کا واحد کفیل تھا، متاثرہ خاندان نے حکومت سے امداد کی اپیل کی ہے۔

    امیر ولد غلام شاہ جو ایک نجی ایکسکیویٹر کا آپریٹر تھا آرکاری کی سڑک سے برف ہٹانے کی غرض سے سڑک پر جارہا تھا ،دوران کام ایکسکیویٹرکے اچانک پھسل جانے سے بمقام شور آرکاری وہ مشین الٹ گئی،جس کے نیچے آکرآپریٹر امیر موقع پر جاں بحق ہو گیا۔جاں بحق ہونے والا اپریٹر بوڑھے والدین سمیت پورے خاندان کا واحد کفیل تھا، اسکے فوت ہونے کی وجہ سے خاندان شدید متاثر ہو چکا ہے۔

    سابق ناظم یونین کونسل شغور عبدالمجید نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایا کہ اس کی درخواست پر ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے کہا تھا کہ وادی آرکاری کی سڑک سے برف ہٹائی جائے تاکہ لوگوں کو آنے جانے میں آسانی ہو۔ اس دوران ایکسکیویٹر مشین اچانک الٹ گئی اور نوجوان آپریٹرامیر اس کے نیچے آکر جاں بحق ہوگیا۔

    عبدالمجید کا کہنا ہے کہ امیر کا والد غلام شاہ جو ایک بیمار آدمی ہے اب اس کیلئے دوائی لانے والا بھی کوئی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور شدید برف باری کے باعث وادی آرکاری بری طرح متاثر ہوئی تھی ،وہاں جانے والے تمام راستے بند تھے۔ خواتین، بچوں، بوڑھوں اور طلباء و طالبات کو سکول، کالج جانے یا لوگوں کو ہسپتال جانے میں نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وادی میں راستے بند ہونے کی وجہ سے اشیائے خوردنوش کی بھی شدید قلت پیدا ہوئی ہے اور وہاں کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں جو حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    عبدالمجید نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرحوم امیر کے خاندان کے ساتھ مالی مددکریں اور وادی آرکاری کا راستہ جلد سے جلد کھولنے کے ساتھ ساتھ وہاں امدادی سامان بھی پہنچایا جائے تاکہ لوگ فاقہ کشی بچ سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ وادی میں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریض چترال ہسپتال آنے کی کوشش کرتے ہیں مگر راستے بند ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ان برفانی تودوں کے اوپر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں جوبہت ہی خطرناک ہے.

  • گوجرانوالہ:ایم پی اے محمد نواز چوہان کا ڈپٹی کمشنر ہمراہ رمضان بازار پیپلز کالونی کا دورہ

    گوجرانوالہ:ایم پی اے محمد نواز چوہان کا ڈپٹی کمشنر ہمراہ رمضان بازار پیپلز کالونی کا دورہ

    گوجرانوالہ،باغی ٹی وی ( نامہ نگارمحمدرمضان)ایم پی اے محمد نواز چوہان کا ڈپٹی کمشنر ہمراہ رمضان بازار پیپلز کالونی کا دورہ

    وزیر اعلی پنجاب مریم نوازشریف کے ویژن اور احکامات پر ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے رمضان المبارک میں عوام الناس کو ریلیف فراہمی یقینی بنانے کیلئے متحرک ہوچکے ہیں

    ڈپٹی کمشنر محمد طارق قریشی نے کہا کہ سبزی و پھلوں کے نرخوں کے تعین، بولی کی نگرانی، ڈیمانڈ اور سپلائی کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے، رمضان بازار فیئر پرائس شاپس پیپلز کالونی ماڈل بازار اور فوڈ کورٹ وزیرآباد میں قائم کئی ہیں،

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ناجائز منافع خوری کیخلاف پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سارا دن فیلڈ میں متحرک رہے ہیں

  • اوچ شریف:شہر میں چوروں  کا راج، شہری گھروں میں قید

    اوچ شریف:شہر میں چوروں کا راج، شہری گھروں میں قید

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف شہر میں چوروں کا راج، شہری گھروں میں قید،اوچ شریف چوروں لٹیروں ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن گیا امیر،غریب، شہری، دیہی علاقہ جات کے شہری کوئی بھی محفوظ نہ رہ،اقانون کے رکھوالے خواب غفلت سے بیدار نہ ہو سکے۔

    پولیس کی جانب سے ہر چورکو کھل کر کھیلنے کی اجازت دیدی غریبوں کی آہیں فریاد بھی تھانہ اوچ شریف کی بے حس پولیس افسران کو نہ جگا سکی علاقہ بھر میں روزانہ کی بنیادوں پرہونیوالی وارداتیں کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔

    روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والی پے در پے وارداتوں کی وجہ سے شہری عدم تحفظ کا شکار ہو کر خوف و ہراس کی کیفیت میں رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف مسلم ضیاء کی ناقص کارکردگی ک پر شہر ی سراپا احتجاج بن گئے۔تھانہ اوچ شریف شہر و نواحی علاقوں میں چوریوں اور چھیناجھپٹی کی مسلسل ہونے والی وارداتوں نے علاقہ بھر کے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے اورعلاقہ بھر کے شہری اپنی دکانوں گھروں و دیگر املاک کی حفاظت کیلئے شدید فکر مند نظر آنے لگے۔

    ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف مسلم ضیاء خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور علاقہ بھر کو چوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کر م پرچھوڑ دیا گیا ہے۔ قانون کے رکھوالوں نے عوام کو تحفظ دینے کی بجائے آنکھیں بند کرلی ہیں پولیس کارکردگی صفرہو چکی ہے،پولیس کی جانب سے گشت کا انتظام انتہائی ناقص ہے۔

    گذشتہ پانچ دنوں میں چوری کی لا تعداد وارداتیں ہو گئی ہیں۔ ان پانچ دنوں میں اوچ شریف عباسیہ روڈ السادات پیٹرولیم کے نزدیک خواجہ زاہد کریانہ مرچنٹ کی دکان میں چوری کی واردات لاکھوں روپے سمیت سامان چوری

    گذشتہ شب چور عرفان الیکٹرک شاپ پر چوری کی واردات بجلی کی موٹریں سمیت دیگر الیکٹرانک اشیاء چور کلے اڑے ،شہریوں عبدالحمید،محمد نواز،مرید حسین،عطا محمد،محمد شہزاد،عبدالشکور،نبی بخش،اللہ وسایا نے علاقہ بھر میں چوری و نقب زنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہری بلا خوف و خطر زندگی گزار رہے تھے لیکن تھانہ اوچ شریف پولیس کی کام چوری و عدم دلچسپی کی وجہ سے پچھلے کچھ دنوں میں بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتوں نے ہمارا سکون برباد کر دیا ہے۔

    چوروں نے ہماری نیندیں حرام کر دی ہیں۔کوئی رات خالی نہیں جب چوروں نے عوام کو نہ لوٹا ہو،انہوں نے کہا کہ پولیس گشت نہ ہونے سے چوروں اور ڈاکوؤں میں اضافہ ہوا ہے اور ان چوروں ڈاکوؤں نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔

    شہریوں نے ڈی پی او بہاول پور ،آر پی او بہاول پور ،آئی جی پنجاب، ،وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف ،وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے فوری نوٹس لیتےہوئےنااہل،نکمے،کام چور پولیس آفیسران کے فوری تبادلہ جات کرتے ہوئے ذمہ دار،قابل،دیانت دار پولیس آفیسران،اہلکاران تعینات کرنے اور شہریوں کے فوری جان و مال کے تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے

    دوسری جانب تھانہ اوچ شریف مسلم ضیاء نے اپنے موقف میں کہا کہ میرے پاس پولیس نفری بہت کم ہے شہر میں مزارات سمیت انٹر چینج اور وی آئی پی شخصیات کے پروٹوکول کے لئے بھی پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں ان وارداتوں کو روکنے کے لیے مزید نفری تعینات کی جائے تاکہ ان بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکا جا سکے.