Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • پاکستان بیت المال میں بیوروکریسی کی نااہلی، سویٹ ہوم اور شیلٹر ہوم ملازمین تنخواہوں میں اضافے سے محروم

    پاکستان بیت المال میں بیوروکریسی کی نااہلی، سویٹ ہوم اور شیلٹر ہوم ملازمین تنخواہوں میں اضافے سے محروم

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر بھٹی) پاکستان بیت المال کے تحت چلنے والے پروجیکٹس سویٹ ہوم، شیلٹر ہوم اور کھانا سب کے لیے کے ایڈمن اور پروجیکٹ ملازمین گزشتہ کئی برسوں سے تنخواہوں میں اضافے سے محروم ہیں۔ 2021-22ء میں بھرتی ہونے والے پروجیکٹ اسٹاف کی تنخواہوں میں اب تک کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جس پر ملازمین میں شدید مایوسی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان بیت المال کی بیوروکریسی انتظامی امور کو مؤثر طور پر چلانے میں ناکام ہو چکی ہے، جس کے باعث ادارے میں تنخواہوں کے نظام میں واضح تضاد پیدا ہو گیا ہے۔ اعلیٰ افسران بھاری تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں، جبکہ فیلڈ اور پروجیکٹ اسٹاف کو ہر بار یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ بیت المال بورڈ کی میٹنگ میں طے کیا جائے گا۔ تاہم بورڈ میٹنگز طویل عرصے سے منعقد نہ ہونے کے باعث ملازمین کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔

    ملازمین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پاکستان بیت المال کے معاملات کا نوٹس لیں اور پروجیکٹ اسٹاف کی تنخواہوں میں فوری اضافہ یقینی بنائیں تاکہ غریب اور فلاحی منصوبوں سے وابستہ عملے کا استحصال بند کیا جا سکے۔

  • بابا گورو نانک یونیورسٹی سات ماہ سے سربراہ کے بغیر، تعلیمی و انتظامی نظام مفلوج

    بابا گورو نانک یونیورسٹی سات ماہ سے سربراہ کے بغیر، تعلیمی و انتظامی نظام مفلوج

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی ،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب گزشتہ سات ماہ سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے، جس کے باعث ادارے کے تدریسی، تحقیقی اور انتظامی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد افضل کی مدتِ ملازمت مارچ 2025ء میں مکمل ہونے کے بعد یونیورسٹی قیادت سے محروم ہو گئی تھی۔ بعد ازاں چار ماہ کے لیے یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کو اضافی چارج دیا گیا تھا، تاہم ان کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔

    مستقل وائس چانسلر کی عدم تعیناتی کے باعث یونیورسٹی میں کئی اہم تعلیمی و ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں، فیکلٹی تقرریاں رکی ہوئی ہیں، تحقیقی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں جبکہ بجٹ منظوری اور پالیسی سازی کے معاملات بھی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اساتذہ اور طلباء نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر معاملے کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو یونیورسٹی کا تعلیمی معیار اور طلباء کا مستقبل بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

    اساتذہ و طلباء نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن رانا سکندر حیات اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن غلام فرید سے مطالبہ کیا ہے کہ بابا گورو نانک یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی فوری تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ انتظامی و تدریسی امور میں تسلسل اور استحکام پیدا ہو سکے۔ تعلیمی حلقوں نے کہا ہے کہ سات ماہ گزرنے کے باوجود وائس چانسلر کا تقرر نہ ہونا متعلقہ محکمہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

  • اوکاڑہ: صوبائی سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن محمد خان رانجھا کا ادارہ گنج شکر اسپیشل ایجوکیشن کا دورہ

    اوکاڑہ: صوبائی سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن محمد خان رانجھا کا ادارہ گنج شکر اسپیشل ایجوکیشن کا دورہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) صوبائی سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن پنجاب محمد خان رانجھا نے ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کے ہمراہ ادارہ گنج شکر اسپیشل ایجوکیشن اوکاڑہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے ادارے کے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور تدریسی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی سیکرٹری نے اساتذہ سے خصوصی بچوں کی تعلیمی کارکردگی، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں اور سہولیات سے متعلق دریافت کیا۔

    محمد خان رانجھا نے خصوصی بچوں سے براہِ راست نصابی سوالات کیے اور کمپیوٹر لیب کا دورہ کر کے بچوں کی مہارت کا مشاہدہ کیا۔ وہ بچوں میں گھل مل گئے اور ان کے کھیل میں بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خصوصی افراد کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ خصوصی بچے صلاحیتوں میں کسی طور عام بچوں سے کم نہیں، انہیں خصوصی توجہ اور نگہداشت کے ذریعے معاشرے کا فعال اور کارآمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دیں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ صوبائی سیکرٹری نے ادارہ گنج شکر اسپیشل ایجوکیشن میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور بچوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

  • سیالکوٹ: دی رینوو بائے زہرہ ایس تھیٹک کلینک میں جلدی امراض کے لیے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    سیالکوٹ: دی رینوو بائے زہرہ ایس تھیٹک کلینک میں جلدی امراض کے لیے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    سیالکوٹ سے مدثر رتو کی رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ کینٹ میں واقع معروف کلینک "دی رینوو بائے زہرہ ایس تھیٹک” کی جانب سے جلدی امراض کے لیے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ کیمپ کی سربراہی ماہرِ امراضِ جلد ڈاکٹر سیدہ ثناہ زہرہ نے کی، جبکہ ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر رمشہ نے بدلتے موسم کے باعث جلد پر پڑنے والے اثرات کا معائنہ کیا، مریضوں کو مفت ادویات فراہم کیں اور اُن کے لیے متوازن ڈائٹ پلان بھی تجویز کیا۔

    کیمپ میں ہیئر ٹرانسپلانٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر جعفر نے گرتے بالوں اور گنج پن کے مریضوں کا معائنہ کیا، جبکہ میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر عثمان نے دل، جگر اور دیگر مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کا چیک اپ کیا۔

    فری میڈیکل کیمپ میں سینکڑوں مریضوں نے شرکت کی اور مفت علاج، مشوروں اور ادویات سے بھرپور استفادہ کیا۔



  • تنگوانی: مجرم نے جرم کی دنیا چھوڑ کرخود کو پولیس کے حوالے کردیا

    تنگوانی: مجرم نے جرم کی دنیا چھوڑ کرخود کو پولیس کے حوالے کردیا

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار: منصور بلوچ)تنگوانی میں ایک مجرم نے جرم کی دنیا کو خیرباد کہہ کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تنگوانی کے قریب گاؤں تھاغمان باجکانی کے رہائشی مرتضیٰ باجکانی نے تنگوانی پولیس کے سامنے پیش ہو کر جرم کی دنیا چھوڑنے کا اعلان کیا۔

    ملزم مرتضیٰ باجکانی کا کہنا تھا کہ اس کے خلاف پولیس میں تقریباً 14 مقدمات درج ہیں، تاہم وہ اب جرم سے توبہ کر کے ایک نیک اور پرامن زندگی گزارنا چاہتا ہے، اسی لیے اس نے اپنی مرضی سے پولیس کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔

    اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ تنگوانی اعجاز احمد کھوسہ نے کہا کہ جن ڈاکوؤں یا ملزمان نے جرم کی زندگی ترک کر کے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام ایس ایس پی کشمور مراد گانگرو کی ہدایت پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔

    ایس ایچ او کے مطابق مرتضیٰ باجکانی پہلا شخص ہے جس نے اس سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے آج خود کو پولیس کے حوالے کیا۔

  • ضلع ننکانہ صاحب میں چار روزہ قومی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح

    ضلع ننکانہ صاحب میں چار روزہ قومی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی ،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں چار روزہ قومی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور فنگر مارکنگ بھی کی۔ ڈپٹی کمشنر نے بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے۔

    انسدادِ پولیو مہم 13 تا 16 اکتوبر 2025 تک جاری رہے گی، جس کے دوران ضلع بھر میں دو لاکھ اٹھاسی ہزار آٹھ سو اٹھانوے (288,898) بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ مہم کے دوران 1198 ٹیمیں گھر گھر جا کر، داخلی و خارجی راستوں اور بس اسٹینڈز پر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے کہا کہ ہر بچے کو معذوری سے آزاد زندگی جینے کا حق حاصل ہے، اور حکومتِ پاکستان کے عزم، فرنٹ لائن ورکرز کی محنت اور عوام کے اعتماد سے ضلع ننکانہ کو پولیو فری رکھنا ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں۔

    مہم کے دوران بچوں کو وٹامن اے کیپسول بھی دیے جائیں گے۔ ویکسین کی کولڈ چین برقرار رکھنے کے لیے مکمل حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    اس موقع پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر روحیل اختر، ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر ذیشان شبیر، ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • تنگوانی: دھان کے کم نرخوں پر کاشتکاروں سے اظہارِ یکجہتی، راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی الگ الگ احتجاجی ریلیاں

    تنگوانی: دھان کے کم نرخوں پر کاشتکاروں سے اظہارِ یکجہتی، راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی الگ الگ احتجاجی ریلیاں

    تنگوانی(باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) دھان کے کم نرخوں پر کاشتکاروں سے اظہارِ یکجہتی، راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی الگ الگ احتجاجی ریلیاں

    تنگوانی شہر میں کاشتکاروں کو دھان (سری) کے مناسب نرخ نہ ملنے کے خلاف پاکستان راہِ حق پارٹی اور عوامی تحریک کی جانب سے دو الگ الگ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مقامی بیوپاری اپنی من مانی کرتے ہوئے دھان انتہائی کم داموں میں خرید رہے ہیں، جس سے ان کا بمشکل ہی کاشت کا خرچ پورا ہو رہا ہے۔

    راہِ حق پارٹی کی ریلی کی قیادت مولانا شاہ مور بلوچ، ڈاکٹر محمد قاسم فاروقی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما غلام حسین ڈاہانی، شہری ایکشن کمیٹی کے غلام حسین باجکانی، اعجاز ملک اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ مقررین نے خطاب میں کہا کہ رائس مل مالکان من مانی ریٹ مقرر کر کے آبادگاروں کا معاشی استحصال کر رہے ہیں، جس سے کسان طبقہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت اور ڈی سی کشمور سے مطالبہ کیا کہ دھان کی سرکاری قیمت مقرر کی جائے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کا جائز معاوضہ مل سکے۔

    دوسری جانب عوامی تحریک کی احتجاجی ریلی کی قیادت آصف کوسو، صدام حسین کوسو، اللہ بخش نندوانی اور دیگر مقامی رہنماؤں نے کی۔ ریلی بس اسٹینڈ سے جعفرآباد روڈ تک نکالی گئی۔ مقررین نے کہا کہ علاقے کے بیوپاری اور رائس مل مالکان کسانوں کو کم نرخ دے کر ان کا معاشی استحصال کر رہے ہیں، جسے فوراً روکا جائے۔

    رہنماؤں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ دھان کے نرخ فوری طور پر مقرر کر کے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ کاشتکاروں کی محنت ضائع نہ ہو اور ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

  • گوجرانوالہ: غریب محنت کش کی بیوی چار ماہ سے لاپتہ، پولیس کے عدم تعاون پر شہری سراپا احتجاج

    گوجرانوالہ: غریب محنت کش کی بیوی چار ماہ سے لاپتہ، پولیس کے عدم تعاون پر شہری سراپا احتجاج

    گوجرانوالہ(باغی ٹی وی نامہ نگار: محمد رمضان نوشاہی) غریب محنت کش کی بیوی چار ماہ سے لاپتہ، پولیس کے عدم تعاون پر شہری سراپا احتجاج
    تفصیل کے مطابق گوجرانوالہ کے علاقے تھانہ قلعہ دیدار سنگھ کی حدود میں واقع چک اگو کا رہائشی غریب محنت کش محمد نعیم گزشتہ چار ماہ سے اپنی گمشدہ بیوی کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہے۔ بیوی کی گمشدگی کے بعد اُس نے رشتہ داروں، دوستوں اور پولیس سے مدد کی اپیل کی، مگر تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    محمد نعیم کے مطابق اُس نے اپنی بیوی کی تلاش میں اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر دی، مگر پولیس کے عدم تعاون نے اُسے سخت مایوس کر دیا ہے۔ اُس نے بتایا کہ وہ روزانہ انصاف کی امید میں تھانے کے چکر لگاتا ہے، لیکن ہر بار خالی ہاتھ لوٹ آتا ہے۔

    متاثرہ شہری نے الزام لگایا کہ جب وہ پولیس کے پاس مدد کے لیے گیا تو بجائے سنجیدگی کے اُس کا مذاق اُڑایا گیا اور کوئی تعاون فراہم نہیں کیا گیا۔ پولیس کے اس رویے سے دل برداشتہ محنت کش اب سراپا احتجاج ہے اور انصاف کے لیے فریاد کر رہا ہے۔

    محمد نعیم نے اپنے کمسن بیٹے حبیب کے ہمراہ وزیرِاعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ متعلقہ پولیس حکام کو فوری طور پر ہدایات جاری کی جائیں تاکہ اُس کی بیوی کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے اور اسے انصاف مل سکے۔

  • اوچ شریف: کار میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا

    اوچ شریف: کار میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا

    اوچ شریف(باغی ٹی وی نامہ نگار: حبیب خان) کار میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا
    تفصیل کے مطابق اوچ شریف روڈ پر گرڈ اسٹیشن کے قریب ایک کار میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، تاہم ریسکیو 1122 کی فوری کارروائی نے بڑی تباہی سے بچا لیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک کلٹس کار نمبر ANB-271 جو روہی چولستان سے اوچ شریف کی جانب جا رہی تھی، جیسے ہی گرڈ اسٹیشن کے قریب پہنچی تو اچانک گاڑی میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور پندرہ منٹ کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل قابو پا لیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق گاڑی میں ایک ہی شخص سوار تھا جو آگ لگنے سے قبل ہی باہر نکل آیا، اس طرح وہ کسی جانی نقصان سے محفوظ رہا۔

    عینی شاہدین کے مطابق اگر ریسکیو ٹیم بروقت نہ پہنچتی تو قریبی بجلی کے گرڈ اسٹیشن اور سڑک پر گزرنے والی دیگر گاڑیاں بھی متاثر ہوسکتی تھیں۔ تاہم ریسکیو اہلکاروں کی تیز رفتار کارروائی کے باعث ایک ممکنہ بڑا سانحہ ٹل گیا، البتہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

  • اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم

    اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم

    اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    اس وقت پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں اسے اپنی قومی سلامتی اور داخلی امن کے تحفظ کے لیے سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ، اس کے فوراً بعد پاکستانی چیک پوسٹوں پر افغان فورسز کے حملےاور پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی نے سرحدی کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

    9 اکتوبر 2025 کو امیر خان متقی نے ہندوستانی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی، اور دونوں ممالک نے معاشی روابط مضبوط کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دوران پاکستان نے افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں افغان فورسز نے 11 اکتوبر کی رات پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا۔ پاکستان آرمی نے فوری جوابی کارروائی کی، جس میں متعدد افغان سرحدی پوسٹیں تباہ ہوئیں اور کئی افغان فوجی ہلاک ہوئے۔

    یہ حملے محض "جوابی” نہیں تھے بلکہ یہ بھارت کی سرپرستی میں افغان حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کا حصہ تھے، کیونکہ طالبان بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام واقعات ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر رہے ہیں کہ پاکستان نے 1979 سے لے کر آج تک افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین پر کیوں سہارا دیا؟ جب یہ "مہمان” پاکستان کی ازلی دشمن بھارت کے اشاروں پر دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث ہو چکے ہیں تو انہیں بغیر کسی رعایت کے پاکستان سے نکالنے کا وقت کیوں نہیں آ گیا؟

    پاکستان نے طویل عرصے سے لاکھوں نمک حرام افغانوں کی مہمان نوازی کی۔پاکستانی عوام نے اپنے وسائل میں سے ان کی کفالت کی، انہیں روزگار اور رہائش فراہم کی اور یہ امید کی کہ یہ لوگ امن قائم ہوتے ہی عزت کے ساتھ اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔ تاہم جب انہی مہمانوں کی میں سے ہمارے فوجیوں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی گئیں اور شواہد نے دکھا دیا کہ ان کارروائیوں میں افغانی نژاد عناصر ملوث پائے گئے ہیں، تو ریاست کا اولین فرض اپنے شہریوں کا تحفظ بن جاتا ہے۔

    اس پس منظر میں یہ حقیقت واضح کی جانی چاہیے کہ پاکستان نےکسی بھی بین الاقوامی کنونشن (Convention on Refugees, 1951) یا اس کے 1967 کے پروٹوکول پرآج تک دستخط نہیں کئے اور یہاں کے پناہ گزینوں کا معاملہ پاکستان کے اپنے قوانین، مثلاً Foreigners Act, 1946 کے مطابق طے ہوتا ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (UNHCR) کی معلومات میں بھی درج ہے۔

    پاکستان قانونی طور پر پابند نہیں کہ وہ افغان پناہ گزینوں کو ہمیشہ کے لیے رکھے۔ ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہوتاہے کہ وہ اپنے داخلے، قیام اور غیر ملکیوں کے اخراج کے معاملات خود طے کرے۔ مگر بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ملک کی قومی سلامتی اور عوامی مفادات سب سے پہلے مقدم ہوتے ہیں اور اگر کوئی فرد یا گروہ سیکیورٹی رسک ثابت ہوتا ہے تو اسے واپس بھیجنے کے لیے ریاست کا قانونی اختیار موجود ہے۔

    موجودہ تناظر میں صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت، سرحد پار سے دہشت گردی کی پشت پناہی اور ان واقعات کے پس منظر میں بھارت کے ساتھ افغان حکام کے بڑھتے تعلقات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر موجود یہ مہاجرین اب صرف "مہمان” نہیں رہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔

    1979 کے سوویت حملے سے لے کر آج تک پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان کی نسلوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کیں۔ بدلے میں کیا ملا؟ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، اسلحہ اور بدامنی! پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹس اور خبروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں افغانی ملوث ہیں۔

    سوشل میڈیا پر ان کی نفرت کھلے عام نظر آ رہی ہے ، پاک فوج اور پاکستان کے خلاف زہریلے پیغامات، جہاں وہ بھارتی پروپیگنڈے کی بازگشت کر رہے ہیں۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں میں بھی افغان حملوں کے پیچھے بھارتی ہتھیاروں اور را کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ پاکستان نے افغانیوں کو کھلایا، ان کی اولاد پالی، مگر اب یہی لوگ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) جیسے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے ہیں اور پاکستان میں خودکش حملے کرتے ہیں۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ برسوں سے شکایات موجود ہیں کہ افغان مہاجر کیمپ اور شہری آبادیوں میں رہائش پذیر رجسٹر اورغیر رجسٹرڈ افغانی پاکستان میں دہشت گردی، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ جیسے غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستانی حکام کی جانب سے بارہا یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں افغان سرزمین اور پاکستان میں مقیم بعض افغان باشندوں کا کردار شامل رہا ہے۔

    بعض افغان مہاجرین کا براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان گروہوں کی مدد کرنا جنہوں نے پاکستان پر حملہ کیا، کسی بھی میزبان ملک کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ مہاجرین اب "مہمان” نہیں رہے بلکہ اب یہ پاکستان کے کھلےدشمن بن چکے ہیں۔ بھارت جو ہمیشہ سے پاکستان کا ازلی دشمن ہے، اب افغان حکومت اور اس کے مہاجرین کو اپنا آلۂ کار بنا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ پاکستانی عوام اور پاک فوج کے خلاف افغان باشندوں کی جانب سے نفرت انگیز مواد شیئر کیا جاتا ہےاور کیا جارہا ہے۔ ایسے افراد جو پاکستان میں رہتے ہیں، اس کا کھاتے ہیں اور پھر اسی کے خلاف زہر اگلتے ہیں، کسی بھی صورت مہمان نوازی کے حقدار نہیں سمجھے جا سکتے۔ ان کا عمل واضح طور پر دشمن کے ایما پر قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

    ایک حالیہ ایکس (ٹویٹر)کی پوسٹوں میں دیکھا گیا کہ سرحدی تنازعات اور فوج کے خلاف نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے، جو تقسیم کی سازش کا حصہ ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی نے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کی نوجوان نسل بھی تباہ ہو رہی ہے۔

    یہ اسمگلنگ نہ صرف اقتصادی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ دہشت گردی کو فنڈنگ بھی فراہم کرتی ہے، جیسا کہ بین الاقوامی رپورٹس میں درج ہے کہ طالبان اور دہشت گرد گروہ منشیات کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ مہاجرین پاکستان کی کمر توڑنے والے "مہمان” بن چکے ہیں۔

    1979 سے اب تک ان افغان مہاجرین نے پاکستان کا کھایا اور اب پاکستان کی ازلی دشمن بھارت کے ایما پر پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اب اچھے برے کی تمیز کیے بغیر ان افغان باشندوں سے پاکستان کو پاک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ جب افغان نہیں ہوں گے تو دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔

    پاکستان اور پاکستانی قوم اب مزید ان افغانوں کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جب کسی مہمان کی وفاداری پر سوال اٹھ جائے اور اس کا عمل میزبان کے مفادات کو نقصان پہنچانے لگے، تو مہمان نوازی کا فلسفہ ختم ہو جاتا ہے۔ افغان باشندوں کی پاکستان سے واپسی کے بعد دہشت گردی، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس خود بخود کمزور پڑ جائیں گے۔

    داخلی سلامتی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی اور پاک فوج اپنی توجہ صرف سرحدوں کے دفاع پر مرکوز کر سکے گی۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ داخلی اور خارجی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور افغان مہاجرین کی موجودگی انہیں مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

    دہائیوں سے افغان مہاجرین پاکستان کے محدود وسائل پر بوجھ ہیں۔ ان کی واپسی سے ملکی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور پاکستانی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ نہ صرف مالی بوجھ کم کرے گا بلکہ سمگلنگ نیٹ ورکس کی کمر توڑ دے گا جو پاکستان کی معیشت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کے لیے اس کی قومی سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی۔ پاکستان نے جتنا بڑا دل دکھایا ہے، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ لیکن اگر یہ مہمان اپنے میزبان کے ازلی دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر اسی کے خلاف کارروائیاں کریں تو یہ عمل ناقابلِ معافی ہے۔ افغان عوام کی مدد اور ہمدردی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب وقت ہے "سب سے پہلے پاکستان” کے اصول پر عمل کیا جائے۔

    یہ ایک سخت لیکن قومی مفاد میں ناگزیر فیصلہ ہے جو پاکستان کو بحفاظت آگے لے جا سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر تمام افغان باشندوں کی رجسٹریشن ختم کر کے انہیں سرحد پار دھکیلنا چاہیے اور یہ افغانی کسی قسم کی مزید رعائت کے حقدار نہیں ہیں ۔ پاک فوج اور حکومت، پاکستان کو افغان باشندوں سے پاک کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں امن، عزت اور خوشحالی کے ساتھ جی سکیں!