Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر

    خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر

    خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا حالیہ بیان ایک طویل عرصے سے جاری دیرینہ تکلیف کو کھول کر سامنے لے آتا ہے۔ اُنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ افغان مہاجرین کی ستر سالہ مہمان نوازی کی قیمت ہم اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس جائیں۔ یہ صرف جذبات نہیں بلکہ ایک سادہ اور سخت پیغام ہے کہ برداشت کی حد پار ہو چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں اُن کی تنبیہ تھی کہ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ ناقابلِ قبول ہوگا اور پناہ دینے والوں کو حساب دینا پڑے گا۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری "اپنے شہریوں کا تحفظ سب سے اوّل ہے”۔

    2021 کے بعد ٹی ٹی پی نے اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں کیونکہ انہیں افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے میسر آئے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کو بھائی سمجھتی ہے، انہیں ہتھیار، تربیت اور پناہ گاہیں فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی روکی جائے، مگر عملی نتائج ناکافی رہے۔ اس تناظر میں بھارتی عنصر کا ذکر بھی سامنے آتا ہے کیونکہ پاکستانی انٹیلی جنس اور حکام بعض کارروائیوں کے پیچھے بھارتی مداخلت یا پراکسی وار کی نشاندہی کرتے ہیں، دعویٰ کرتے ہوئے کہ بھارت "را” کے ذریعے مالی امداد، ہتھیار اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے تاکہ اندرونی کمزوری پیدا کی جا سکے۔

    2025 میں حملوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان نے یہ محسوس کیا کہ بھارت اور افغانستان "انسانی حقوق” کے پردے تلے اپنی حکمتِ عملی چلاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ جو 9 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی پہنچ کر چھ روزہ قیام پر ہیں اور جہاں وہ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملے ،جو دہشت گردی اور گٹھ جوڑ کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔ 2021 کے بعد یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے اور اس کا پیغام پاکستان کے لیے کوئی اچھا نہیں، خصوصاً جب اسی عرصے میں پاکستان نے افغان مہاجرین کے خلاف "بڑی کارروائی” کا عندیہ دیا۔ متقی کا روس کے بعد پاکستان آنے کے بجائے بھارت جانا پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف کا پیغام کال ٹو ایکشن بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بیانات، گذشتہ دورِ حکومتوں کی پالیسیاں اور مباحث بھی اس بحث کا حصہ ہیں کہ عمران خان کے دور میں ہونے والے اقدامات، پی ٹی آئی کی بعض پالیسیوں پر تنقید اور مذاکراتی رویے کے تضاد نے ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

    اس دوران ایک اور خطرناک پہلو سامنے آتا ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے کاروبار، جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، اصل میں دہشت گردوں کے رابطے یا مالیاتی راستے ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک بھر میں کئی شہروں میں ایسے چائے خانے ہیں جو عام لوگوں کے لیے "کوئٹہ ہوٹل” کے نام سے معروف ہیں۔ بظاہر معمولی کاروبار دکھائی دیتے ہیں، مگر سیکیورٹی ذرائع اور مقامی رپورٹس کے مطابق یہ بہت سی صورتوں میں سلیپر سیلز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی چائے خانے اور لنڈا کے کاروباروں کی آڑ میں منشیات، اسلحہ، دہشت گردی اور اسمگلنگ کے سلسلے چلتے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں نظرانداز شدہ رابطے، رقم کی ترسیل اور چھوٹے چھوٹے سامان کے ذریعے غیرقانونی نقل و حمل کا جال بنتا ہے۔

    ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان چھوٹے کاروباروں پر فوکس کریں، ان کا ڈیٹا اکٹھا کریں، کاروباری لائسنس اور شناختی کارڈ چیک کریں، کرایہ داروں اور مالکان کا پس منظر دیکھیں اور اگر ضرورت ہو تو مقامی سطح پر ڈیٹا بیس بنائیں تاکہ شناختی روابط سامنے آ سکیں۔ جب ان چائے خانوں اور لنڈا کے ٹھیکوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے گا تو اکثر صورتوں میں افغان شہریوں اور ان سے جُڑے عناصر کی کڑیاں ملنا مشکل نہیں رہے گی۔اس وقت اہم کام یہ ہے کہ ادارے مل کر ایک واضح لائحہ عمل بنائیں، مقامی سطح پر کوئٹہ ہوٹل جیسے مشکوک تجارتوں کا نقشہ تیار کیا جائے، ریڈ کے مطابق کارروائیاں ہوں.

    اس کے علاوہ سفارتی محاذ پر بھی متحرک ہونا پڑے گا ، افغان حکومت سے واضح مطالبات، سرحدی نگرانی میں اضافہ اور بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ لازمی ہے۔بھارت اور کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت کے الزامات کو سنجیدہ لینا چاہیے اور مناسب ثبوت کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر پوری توانائی کے ساتھ آواز اٹھانا چاہیے،

    دوسری طرف اگر مہمان نوازی قومی جان و مال پر بجلی کی ننگی تار بن جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ مہمان نوازی آخر کس قیمت پر جاری رکھی جائے؟ وزیرِ دفاع کا بیان دراصل بیداری کا پیغام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم اور ریاست مل کر یہ فیصلہ کریں کہ وہ اپنے گھر، اپنی سرحد اور اپنی عوام کا تحفظ کس طرح یقینی بنائیں۔ میزبان کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی حفاظت کرے، لیکن خون کی قیمت پر مزید مہمان نوازی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

    جنہوں نے 1979 سے اب تک پاکستان کا کھایا، یہاں پناہ لی اور پھر اسی ملک کے ازلی دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا کر ہمارے ہی خون سے زمین سرخ کی، وہ اب کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انسانی حقوق کا راگ بہت الاپا جا چکا مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانیوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں؟ کیا انسانی حقوق صرف ان افغان دہشت گردوں کے لیے ہیں جو بھارت کے ایماء پر پاکستان میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں؟ اب خون کی قیمت پر مہمان نوازی ناقابلِ برداشت ہے اور افغانوں کی واپسی ناگزیر ہو چکی ہے۔

  • سیلاب 2025 میں خدمات کا اعتراف، مدثر رتو کو خراجِ تحسین

    سیلاب 2025 میں خدمات کا اعتراف، مدثر رتو کو خراجِ تحسین

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان میں 2025 کے تباہ کن سیلاب کے دوران متاثرہ علاقوں میں بے مثال خدمات انجام دینے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب پاک ویلفیئر آرگنائزیشن نے شہید بھٹو فاؤنڈیشن اور پاکستان ہیومن ریسورس نیٹ ورک کے اشتراک سے شہید ذوالفقار علی بھٹو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد کی۔

    تقریب میں مسٹر مدثر رتو (سی ای او سیالکوٹ انفارمیشن چینل اور ڈسٹرکٹ رپورٹرباغی ٹی وی) کو خیبر پختونخوا، سیالکوٹ، گجرات اور جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین (خاص طور پر علی پور کے علاقے سیت پور اور خیرپورسادات )کے لیے ان کی بے لوث خدمات پر خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ مدثر رتو نے نہ صرف متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا بلکہ میڈیا کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    تقریب کے انتظام و اہتمام میں محترمہ مغیزہ امتیاز نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مدثر رتو کو سیالکوٹ سے اسلام آباد مدعو کیا اور پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر معاونت فراہم کی۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور سماجی وابستگی کو بھی تقریب میں سراہا گیا۔

    مدثر رتو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش قدرتی آفات کے وقت ہر فرد کو انسانیت کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا:

    "ہم سب کو مل کر مضبوط پاکستان کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے اور جب بھی اس قوم پر آفات آئیں تو سب مل کر انسانوں کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھیں۔”

    ان کا خطاب حاضرین کے لیے جذبۂ خدمت، قومی یکجہتی اور عوامی فلاح کا پیغام تھا، جسے شرکاء نے بھرپور پذیرائی دی۔

    تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور میڈیا شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیلاب متاثرین کی خدمات پر مبنی ویڈیو پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی، جس میں مدثر رتو کی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔ اختتام پر اعزازی شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔

    یہ تقریب نہ صرف ایک فرد کی خدمات کا اعتراف تھی بلکہ پورے معاشرے کو یہ پیغام دینے کا ذریعہ بھی بنی کہ جب قوم پر مشکل وقت آئے، تو ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مدثر رتو کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ میڈیا صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ایک مؤثر ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: این اے-185 ضمنی انتخاب، 21 امیدواروں نے کاغذات حاصل کیے، بڑے سیاسی خاندان آمنے سامنے

    ڈیرہ غازی خان: این اے-185 ضمنی انتخاب، 21 امیدواروں نے کاغذات حاصل کیے، بڑے سیاسی خاندان آمنے سامنے

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-185 ڈیرہ غازی خان کے ضمنی الیکشن کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق پہلے روز ریٹرننگ افسر وسیم جتوئی کے دفتر سے 34 فارم جاری کیے گئے، جو 21 مختلف متوقع امیدواروں نے حاصل کیے۔

    اہم سیاسی شخصیات جنہوں نے کاغذات حاصل کیے، ان میں اسامہ عبد الکریم، سردار محمد خان لغاری، حذیفہ رحمان، سردار دوست محمد خان کھوسہ، ڈاکٹر شفیق پتافی، لطیف پتافی، سردار محمد جمال خان لغاری اور محمود قادر لغاری شامل ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی 11 اکتوبر تک حاصل اور جمع کروائے جا سکتے ہیں، جبکہ ابتدائی امیدواروں کی فہرست 13 اکتوبر کو جاری کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ یہ نشست پی ٹی آئی کی زرتاج گل وزیر کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کیا۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق این اے-185 کا یہ انتخاب جنوبی پنجاب کی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس میدان میں سینیٹر حافظ عبدالکریم کے صاحبزادے اسامہ عبد الکریم، سردار محمد خان لغاری، وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ساتھی حذیفہ رحمان، سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ، موجودہ ایم پی اے حنیف پتافی کے بڑے بھائی ڈاکٹر شفیق پتافی، ان کے بھائی لطیف پتافی،چیف لغاری سردار محمد جمال خان لغاری اور محمود قادر لغاری جیسے نمایاں امیدوار میدان میں ہیں۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لغاری اور کھوسہ خاندانوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے، تاہم بعض حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر شفیق پتافی اور محمود قادر لغاری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے پاس سرمایہ اور اثرورسوخ دونوں ہیں، جو انتخابی نتیجے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

    اصل سیاسی معرکہ 23 نومبر کو ہوگا، جب عوام فیصلہ کریں گے کہ کامیابی کا ہما کس کے سر بیٹھتا ہے۔

  • میرپور ماتھیلو: شہید صحافی طفیل رند اور بھتیجی کے قتل کا مقدمہ 8 ملزمان کے خلاف درج

    میرپور ماتھیلو: شہید صحافی طفیل رند اور بھتیجی کے قتل کا مقدمہ 8 ملزمان کے خلاف درج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)شہید صحافی طفیل رند حیدرانی اور ان کی بھتیجی کے بہیمانہ قتل کا مقدمہ پولیس تھانہ میرپور ماتھیلو میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ مقتول صحافی کے بھائی عبدالغفار رند کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں آٹھ نامزد ملزمان کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نمبر 315 تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 302، 114 اور 34 کے تحت درج کی گئی۔

    ایف آئی آر کے مطابق 8 اکتوبر کی صبح طفیل رند اپنی بھتیجی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے۔

    مدعی کے مطابق قتل کی یہ واردات پرانی رنجش اور مقتول صحافی کی حق گوئی و صحافتی سرگرمیوں کے باعث پیش آئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے جبکہ صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اسے آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مقتولین کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: مدنی نوری جامع مسجد میں 14 حفاظ کرام کی دستار بندی،میلاد النبی ﷺ عقیدت و احترام سے منایا گیا

    ڈیرہ غازی خان: مدنی نوری جامع مسجد میں 14 حفاظ کرام کی دستار بندی،میلاد النبی ﷺ عقیدت و احترام سے منایا گیا

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر بھٹی)مدنی نوری جامع مسجد بلاک 18 میں ایک روح پرور محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کے ساتھ ساتھ 14 طلباء کی دستارِ بندی کی گئی جنہوں نے قرآنِ پاک حفظ کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ تقریب زیر صدارت پیر بابا نسیم اللہ جان سیفی سرپرستِ اعلیٰ اتحادِ اہلِ سنت منعقد ہوئی۔ اس موقع پر حضرت علامہ مولانا صوفی محمد عبدالروف سعیدی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سے پوری کائنات منور ہوئی، آپ ﷺ کی آمد سے انسانیت کو ایمان، اسلام اور قرآن کا تحفہ ملا۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے، یہی وجہ ہے کہ جو طلبہ دینِ حق کی طلب میں نکلتے ہیں، ان کے قدموں کے نیچے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔

    تقریب میں صدر میلاد مصطفیٰ کمیٹی سردار محمد اسلم خان چانڈیہ، صاحبزادہ عاصم نسیم سیفی، حضرت علامہ خبیب احمد نقشبندی، قاری حضور بخش کریمی، قاری ارشاد حسین چشتی، قاری فیاض احمد ساجد، قاری سراج چشتی سمیت دیگر علمائے کرام، وکلاء، ڈاکٹرز، صحافیوں اور عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کا اہتمام قاری محمد خالد حسین سلطانی اور حاجی محمد اشرف نے کیا۔ آخر میں ملک و ملت کی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کرائی گئی جبکہ محفل درود و سلام کی گونج میں اختتام پذیر ہوئی۔

  • ڈیرہ غازیخان: ڈویژن بھر میں ترقیاتی منصوبوں میں تیزی، معیار اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

    ڈیرہ غازیخان: ڈویژن بھر میں ترقیاتی منصوبوں میں تیزی، معیار اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

    ڈیرہ غازی خان(نیوزرپورٹرشاہدخان) کمشنر ڈیرہ غازی خان، اشفاق احمد چوہدری، کی زیرِ صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خصوصی اقدامات کے تحت جاری سکیموں اور نئے مالی سال کی ترجیحی سکیموں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ وسیم خان جتوئی نے اس موقع پر سالانہ ترقیاتی پروگرام کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان عثمان خالد سمیت مختلف محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ جبکہ ڈپٹی کمشنرز راجن پور، مظفرگڑھ اور کوٹ ادو نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، جن کا شفاف اور مؤثر استعمال حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ نئے مالی سال میں ڈویژن بھر میں تعلیم، صحت، میونسپل سروسز، پینے کے صاف پانی، انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی بحالی سمیت متعدد شعبوں میں ترقیاتی سکیموں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

    کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور محکموں کے سربراہان کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کی بروقت منظوری، فنڈز کی فراہمی اور تکمیل کے مراحل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہونے دیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔

    کمشنر چوہدری نے زور دیا کہ جاری تمام ترقیاتی پراجیکٹس کی بروقت تکمیل حکومت پنجاب کی ترجیح ہے، اور یہ منصوبے خطے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں اور ترقیاتی عمل میں شفافیت اور معیار کو برقرار رکھیں۔

  • منڈی بہاؤالدین: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، بیمار و مردار جانوروں کا 500 کلوگرام گوشت برآمد

    منڈی بہاؤالدین: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، بیمار و مردار جانوروں کا 500 کلوگرام گوشت برآمد

    منڈی بہاؤالدین (باغی ٹی وی، نامہ نگار افنان طالب عرف چاندی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز عدیل احمد کی زیر نگرانی فوڈ سیفٹی ٹیم نے تحصیل ملکوال کے نواحی علاقے موج دین کالونی میں بیمار اور مردار جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔

    کارروائی کے دوران 500 کلوگرام خراب اور ناقص گوشت برآمد کیا گیا، جسے ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک کی جانچ پڑتال کے بعد موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ پولیس نے مجرمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جبکہ موقع سے دو گاڑیاں، ایک موٹر سائیکل، فریزر اور ذبح کے تمام آلات ضبط کر لیے گئے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز عدیل احمد نے کہا کہ غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کی فروخت سنگین جرم ہے، جس کی روک تھام کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی بھرپور ایکشن میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت مند اور معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، تاکہ عوام کو محفوظ خوراک میسر آ سکے۔

  • اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر محکمہ سول ڈیفنس کی جانب سے غیر قانونی ایل پی جی شاپس اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کی نگرانی میں ٹیموں نے ایل پی جی ریفلنگ کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے مالکان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 4 ایل پی جی ریفلنگ شاپس کو سربمہر کردیا جبکہ ایک دکاندار کا ریفلنگ سامان قبضے میں لے لیا گیا۔

    مزید برآں غیر قانونی طور پر پٹرول فروخت کرنے والے 9 منی پٹرول ڈبہ اسٹیشنز کو ختم کر دیا گیا جبکہ ایک کے خلاف مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کروا دیا گیا۔ سول ڈیفنس کے انسٹرکشنل اسٹاف نے انڈسٹریل اور کمرشل یونٹس میں فائر سیفٹی کے نامکمل انتظامات پر 4 مالکان کے خلاف چالان تیار کر کے سول جج/مجسٹریٹ سیکشن 30 ڈسٹرکٹ کورٹس میں جمع کروائے اور 4 دیگر مالکان کو نوٹسز جاری کیے۔

    اسی سلسلے میں گورنمنٹ نیو کیمپس اسکول میں پنجاب سول ڈیفنس ریزیلینس کور کا کیمپ بھی لگایا گیا جس میں 310 طلبا کو آن لائن رجسٹرڈ کیا گیا۔ سول ڈیفنس حکام کے مطابق یہ اقدامات عوامی سلامتی اور حادثات کی روک تھام کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • ننکانہ صاحب: بابا گورونانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات کی تیاریوں کا جائزہ، کمشنر لاہور کی زیر صدارت اجلاس

    ننکانہ صاحب: بابا گورونانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات کی تیاریوں کا جائزہ، کمشنر لاہور کی زیر صدارت اجلاس

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) بابا گورونانک دیو جی کے 556ویں جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں کمشنر لاہور مریم خان کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تقریبات کا آغاز 3 نومبر سے ہوگا جو 5 نومبر تک جاری رہیں گی۔ دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری اس مذہبی تقریب میں شرکت کے لیے ننکانہ صاحب پہنچیں گے، جن کی خدمت و سیکیورٹی کے لیے 5 ہزار سے زائد افسران و ملازمین ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ گوردوارہ جنم استھان، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او دفاتر میں کنٹرول رومز قائم کیے جائیں گے تاکہ تمام امور کی نگرانی مؤثر طریقے سے کی جا سکے۔ کمشنر لاہور نے ہدایت کی کہ تقریبات کے دوران سوئی گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور کسی بھی قسم کی مذہبی منافرت یا اشتعال انگیزی کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    کمشنر مریم خان نے کہا کہ دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتری ہمارے معزز مہمان ہیں، ان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا۔ سکھ رہنماؤں اور دربار انتظامیہ نے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ننکانہ صاحب امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کا گہوارہ ہے۔

    کمشنر لاہور مریم خان نے جنم استھان گوردوارہ کا دورہ بھی کیا، حاضری دی اور تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں دربار منتظمین، سکھ رہنما، ڈپٹی کمشنر ننکانہ محمد تسلیم اختر، ڈی پی او فراز احمد سمیت متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

  • ننکانہ صاحب: کمشنر لاہور کی کھلی کچہری، غلط ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر یو سی سیکرٹری معطل

    ننکانہ صاحب: کمشنر لاہور کی کھلی کچہری، غلط ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر یو سی سیکرٹری معطل

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر ہفت مدر ننکانہ میں کھلی کچہری منعقد ہوئی، جس میں کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان نے سروے ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمشنر نے غلط ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء پر یونین کونسل سیکرٹری کو فوری طور پر معطل کردیا۔ اس موقع پر مریم خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی میں معمولی کوتاہی بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تحصیلدار ہفت مدر کو ہدایت دی کہ دو دن کے اندر تمام وراثتی کیسز نمٹا کر رپورٹ جمع کرائی جائے۔

    کمشنر لاہور نے ہدایت دی کہ نادرا اور ریونیو کے خصوصی کاونٹرز آج ہی قائم کیے جائیں، جو ہفتہ اور اتوار کو بھی فعال رہیں گے تاکہ عوام کو فوری سہولت فراہم ہو۔ مریم خان نے فلڈ نقصانات کے تخمینے کے لیے فیلڈ میں مصروف سروے ٹیموں کا خود آن فیلڈ معائنہ کیا اور سیلاب متاثرہ علاقوں جگداچک اور ننکانہ میں گھروں پر جا کر متاثرین سے ان کے نقصانات اور سروے ٹیموں کی کارکردگی کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک اور غیر مالک دونوں طرح کے زمین داروں کو نقصان کے ازالے کا حق دیا جائے گا تاکہ کسی متاثرہ خاندان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔