Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ

    واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ

    واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    زیرِ زمین پانی کا کڑوا اور کھارا پن ہونا ایک ایسا المیہ ہے جسے ہم سب آنکھیں بند کرکے دیکھ رہے ہیں۔ جی ہاں، میری مراد اُن سرکاری اداروں سے ہے جو اس کے ذمے دار ہیں لیکن ان کا کردار آٹے میں نمک کے برابر رہ گیا ہے۔ جہاں جہاں صنعتی علاقے (انڈسٹریل ایریاز) ہیں، وہاں زیرِ زمین پانی کڑوا اور آلودہ ہو چکا ہے اور مزید ہوتا جا رہا ہے۔ ادارے موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    سب سے بڑی وجہ سرکاری اداروں کی نااہلی اور کرپشن ہے، جنہوں نے اس پورے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ قومی مفاد کے بجائے انفرادی سوچ نے ہمیں ڈبو دیا ہے۔ پانی زندگی کی بنیاد ہے، مگر افسوس کہ پاکستان میں یہی زندگی کا سرچشمہ زہر بن چکا ہے۔

    ہمارے شہروں اور صنعتی علاقوں میں آلودہ پانی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ کے لیے بنائے گئے حکومتی منصوبے ناکامی کی داستان بن چکے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبے صرف کاغذوں میں کامیاب نظر آتے ہیں، مگر زمین پر ان کی حالت بدترین ناکامی کی مثال ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتوں کے پھیلاؤ کے ساتھ صاف پانی کی فراہمی ایک نازک مسئلہ بن چکی ہے۔

    حکومت نے مختلف شہروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، فلٹریشن پلانٹس اور سیوریج ٹریٹمنٹ یونٹس کے قیام کے منصوبے شروع کیے تاکہ شہریوں کو آلودگی سے پاک پانی فراہم کیا جا سکے۔ مگر عملی طور پر یہ پلانٹس یا تو بند پڑے ہیں، یا غیر فعال مشینری کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور بعض تو کبھی مکمل ہی نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہری نکاسی آب کے نالوں اور زہریلے مادوں سے ملا ہوا پانی پینے پر مجبور ہیں۔

    سرکاری و نجی شعبے میں اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں مگر نتیجہ صفر۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں پچھلے دس برسوں کے دوران واٹر ٹریٹمنٹ پر اربوں روپے خرچ کیے گئے مگر ان منصوبوں کا حال مایوس کن ہے۔ لاہور میں واسا (WASA) کے زیرِ انتظام کئی ٹریٹمنٹ پلانٹس مشینوں کے پرزے خراب ہونے کے باعث بند ہیں۔ کراچی میں کئی یونٹس مکمل ہونے کے باوجود کام نہیں کر رہے جبکہ جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ میں واٹر سپلائی اسکیمیں ناقص میٹریل کے باعث چند ماہ میں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی اور غیر تربیت یافتہ عملہ واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم کو مکمل طور پر ناکام بنا دیتا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ کا نظام واسا، ٹی ایم ایز، لوکل گورنمنٹ اور انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ ذمہ داری ہے مگر ان اداروں میں نہ کوآرڈینیشن ہے، نہ پلاننگ اور نہ ہی احتساب۔ واسا کے پاس جدید لیبارٹریز نہیں، انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود ہے، لوکل گورنمنٹ کے پاس فنڈز نہ ہونے کا بہانہ ہمیشہ تیار رہتا ہے، اور سیاست دان ان منصوبوں کو صرف فیتہ کاٹنے کی حد تک یاد رکھتے ہیں۔

    یوں صاف پانی کے منصوبے کاغذی فائلوں اور افتتاحی تختیوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور نتیجے میں عوام زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ناکامی نے عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جبکہ آبی حیات بھی شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ شہروں میں نلکوں سے بدبو دار، نمکین اور زنگ آلود پانی آ رہا ہے۔ دیہاتوں میں نکاسی آب کے جوہڑ ہی پینے کے پانی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

    ہسپتالوں میں گردے، جگر اور آنتوں کی بیماریوں کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ آلودہ پانی سے بچوں کی اموات اور حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کی شرح بڑھ چکی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی ریاست میں ہو رہا ہے جو خود کو اسلامی فلاحی ریاست کہتی ہے۔ ہر حکومت اپنے منشور میں صاف پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرتی ہے، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    “صاف پانی اسکیم” کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، مگر اکثر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں۔ اوور بلنگ، ناقص انتظام اور کرپشن نے نظام تباہ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں شہریوں نے اپنے خرچے پر فلٹریشن یونٹس لگائے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پینے کے پانی میں ٹوٹل ڈیزالو سالڈز (TDS) 500 ppm سے کم ہونے چاہئیں، مگر پاکستان کے بیشتر شہروں میں یہ 1500 سے 2500 ppm تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

    صاف پانی بنیادی انسانی حق ہے، مگر پاکستان میں یہ حق ایک عیاشی بنتا جا رہا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی نااہلی، بدعنوانی اور بے حسی کے باعث عوام کو زہر پینے پر مجبور کر چکے ہیں۔ اگر اب بھی اصلاحِ احوال نہ کی گئی تو آنے والے وقت میں صرف قحط نہیں، بلکہ آلودہ پانی سے ہونے والی اموات سب سے بڑا قومی المیہ بن جائیں گی۔

    سوال یہ ہے کہ آخر اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟

  • ڈیرہ غازی خان: مقررہ نرخ سے زائد فروخت پر 7 دکاندار گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: مقررہ نرخ سے زائد فروخت پر 7 دکاندار گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر پرائس کنٹرول ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی نے شہر کی مختلف مارکیٹوں کا دورہ کر کے نرخنامے چیک کیے۔

    کارروائی کے دوران قصاب سمیت سات سبزی و مرغی فروشوں کو سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ٹماٹر، پیاز، مرغی اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے، اور گرانفروشی میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: کمشنر اشفاق احمد چوہدری کا گرلز ہائی سکول ملا قائد شاہ جدید کا افتتاح

    ڈیرہ غازی خان: کمشنر اشفاق احمد چوہدری کا گرلز ہائی سکول ملا قائد شاہ جدید کا افتتاح

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر بھٹی)کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ملا قائد شاہ جدید کا دورہ کیا اور سکول کی نئی تعمیر شدہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اساتذہ اور طالبات سے ملاقات کی اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    افتتاحی تقریب میں سی ای او ایجوکیشن محمود الحسن شیخ، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ وسیم خان جتوئی، ڈپٹی ڈائریکٹر امیر مسلم، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وجاہت خان مستوئی، پرنسپل اسماء بتول، اساتذہ، طالبات اور مقامی معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور سہولیات کی فراہمی کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں۔ حکومت پنجاب کا مقصد یہ ہے کہ ہر بچے کو بہتر، محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی ترقی میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اساتذہ وہ معمار ہیں جو آنے والی نسلوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کے قول ’’ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر استاد اور ہر طالب علم قوم کے مستقبل کا روشن ستارہ ہے۔

    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے مزید کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور حکومت پنجاب اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات، سازگار ماحول اور بہترین تربیت فراہم کی جا سکے۔

    انہوں نے انتظامیہ اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اساتذہ علم کی روشنی پھیلانے والے مشعل بردار ہیں، جن کی محنت اور لگن قوم کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے۔ تقریب کے اختتام پر کمشنر نے قابل اور محنتی اساتذہ کو انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا، جب کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کو بھی سراہا گیا۔ بعد ازاں کمشنر نے نئی عمارت، کلاس رومز اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا اور انتظامیہ کو مزید بہتری کی ہدایات جاری کیں۔

  • اوکاڑہ: ٹیچرز ڈے پر قابل اساتذہ کے اعزاز میں ایوارڈز تقسیم

    اوکاڑہ: ٹیچرز ڈے پر قابل اساتذہ کے اعزاز میں ایوارڈز تقسیم

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک ظفر)محکمہ سکول ایجوکیشن کے زیر اہتمام ٹیچرز ڈے کے موقع پر گورنمنٹ ایم سی بوائز سکول اوکاڑہ میں ٹیچرز ایکسیلنس ایوارڈز کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علیزہ ریحان نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

    اس موقع پر سی ای او ایجوکیشن محمد یوسف کاہلوں، مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری فیاض ظفر، محکمہ ایجوکیشن کے افسران، سکول انتظامیہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب میں مقررین نے اساتذہ کے معاشرتی کردار، علم کی ترویج اور نوجوان نسل کی تربیت میں ان کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر علیزہ ریحان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استاد انسان کی زندگی کا وہ چراغ ہے جو جہالت کی تاریکی کو علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ استاد ہی وہ ہستی ہے جو ایک نادان بچے کو شعور، عقل، تمیز اور اخلاق کے زیور سے آراستہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں جو اپنے اس محسن کا احترام نہیں کرتیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ پنجاب تعلیم کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو جدید علوم سے روشناس کروایا جا سکے۔ اس موقع پر بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ میں سرٹیفکیٹس اور ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔

  • ننکانہ صاحب: یومِ اساتذہ پر 63 اساتذہ کو “ہیرو ایوارڈ” سے نوازا گیا

    ننکانہ صاحب: یومِ اساتذہ پر 63 اساتذہ کو “ہیرو ایوارڈ” سے نوازا گیا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ننکانہ صاحب کی جانب سے یومِ اساتذہ کے موقع پر اساتذہ کرام کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے “ہیرو ایوارڈ” تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی، جب کہ سی ای او ایجوکیشن شازیہ بانو، سی ای او ضلع کونسل عامر اختر سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے ضلع بھر کے 63 قابل و محنتی اساتذہ کو “ہیرو ایوارڈ” سے نوازا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں، انہیں عزت و توقیر دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اساتذہ کی محنت، لگن اور خلوص کی بدولت ہی پاکستان دنیا بھر میں تعلیمی میدان میں اپنا نام روشن کر رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم زندہ دل قوم ہے جو اپنے اساتذہ کو سلام پیش کرتی ہے۔ اساتذہ حقیقی والدین کی طرح اپنے شاگردوں کو ترقی کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی رہنمائی، تعلیم و تربیت اور کاوشوں کے باعث طلبہ اپنے مستقبل کو محفوظ اور روشن بنا رہے ہیں۔

  • لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی)لنڈی کوتل میں لین دین کے معاملات میں سودی نظام کے باعث تنازعات، دشمنیاں اور قتل و قتال کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ عدالتی تاخیر اور نئے نظام کی کمزوریوں نے عوامی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ فریقین کے درمیان لچک اور تحمل کے بغیر تنازعات کا حل ممکن نہیں، جب کہ پولیس صرف عوامی تعاون سے ہی امن و امان کے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکتی ہے۔

    یہ باتیں ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں منعقدہ “میٹ دی پریس” کے دوران صوبائی وزیر عدنان قادری کے پرسنل سیکرٹری مولانا شعیب قادری، پشاور ہائی کورٹ ضلع خیبر کے سابق ایگزیکٹو ممبر ایڈوکیٹ قبیس شینواری، جے یو آئی (فاٹا) کے سینئر نائب امیر مفتی اعجاز شینواری، ایس ایچ او عشرت شینواری، طورخم کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری اور سماجی رہنما حاجی الیاس شینواری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیں۔

    مقررین نے کہا کہ لنڈی کوتل میں سودی لین دین خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جب کہ قرآن کریم میں سود کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہے، اس لیے اس کے نتائج بھی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے جرگوں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض جرگہ ثالثان غیر جانبداری کے بجائے فریقین میں سے ایک کو سپورٹ کرتے ہیں اور پیسے لے کر فیصلے کرتے ہیں، جس سے تنازعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ نیا پٹوار سسٹم فسادات کی جڑ بن چکا ہے، اس نظام کے تحت زمینوں کے معاملات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، جب کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات نے عوام کو انصاف سے محروم کر رکھا ہے۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب تنازع خونریزی تک پہنچ جاتا ہے تو جرگہ یاد آتا ہے، حالانکہ اگر ابتداء ہی میں صلح جو رویہ اختیار کیا جائے تو بڑے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کے وقت مقامی مشران اکثریتی تنازعات جرگے کے ذریعے حل کرتے تھے، مگر مرجر کے بعد حکومت نے نیا نظام تو نافذ کر دیا لیکن اس کے لیے عوامی تربیت، عدالتی سہولیات اور ادارہ جاتی تیاری نہیں کی۔ مرجر کے بعد اگرچہ عدلیہ اور وکالت کا نظام آیا ہے، مگر لاء فیکلٹی اور تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے سے نظام کمزور ہے۔

    مقررین نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے کالجوں میں لاء فیکلٹی قائم کی جائے تاکہ نوجوان نئے نظام سے واقف ہوں، عدالتی عمل تیز ہو اور انصاف عام آدمی کی دہلیز تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو مل کر عوامی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ نیا نظام عوام کے حق میں مؤثر ثابت ہو۔

  • پسرور: واپڈا و ہائی وے کی غفلت، روڈ کے بیچوں بیچ بجلی کے پول خطرے کی علامت

    پسرور: واپڈا و ہائی وے کی غفلت، روڈ کے بیچوں بیچ بجلی کے پول خطرے کی علامت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد طلحہ)پسرور سیالکوٹ روڈ پر عوام کی جانیں خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔ واپڈا اور ہائی وے محکموں کی نااہلی اور لاپرواہی کے باعث پسرور سٹی سے قصبہ بڈیانہ تک مرکزی شاہراہ کے عین درمیان بجلی کے پول نصب ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، لنگے گاؤں کے قریب ایک بجلی کے پول پر متعدد میٹر اور تاریں لٹک رہی ہیں، جو نہ صرف ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ ذرا سی غفلت یا بارش کے دوران جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ شہریوں نے بتایا کہ ان پولز سے آئے روز ٹریفک حادثات پیش آ رہے ہیں جبکہ برسات یا تیز ہوا کے وقت کرنٹ لگنے کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سنگین مسئلے کی نشاندہی بارہا واپڈا اور ہائی وے حکام کو کی گئی، مگر تاحال کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اور محکمہ ہائی وے سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان پولز کو روڈ کے درمیان سے ہٹا کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے تاکہ کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔

  • ڈہرکی: ماڑی انرجی کے خلاف طلبہ کا احتجاج سترہویں روز بھی جاری

    ڈہرکی: ماڑی انرجی کے خلاف طلبہ کا احتجاج سترہویں روز بھی جاری

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی میں ماڑی انرجی کمپنی کی جانب سے مقامی نوجوانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دیگر صوبوں کے افراد کو بھرتی کرنے کے خلاف طلبہ کا احتجاج سترہویں روز بھی جاری ہے۔ کمپنی کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا بدستور جاری ہے، جب کہ سیاسی و سماجی تنظیموں اور قوم پرست جماعتوں کے رہنما طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ماڑی انرجی کمپنی مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے بجائے دیگر صوبوں کے افراد کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے ضلع گھوٹکی کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں شدید بے چینی پھیل چکی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کمپنی انتظامیہ میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق مقامی افراد کو روزگار نہیں دیتی، احتجاج جاری رہے گا۔

    دھرنے میں جیئے سندھ تحریک کے چیئرمین سورھیہ سندھی، مذہبی و قوم پرست رہنما مولانا ایاز قمی، ایس یو پی کے رہنما حاتم خان شر، جے ایس کیو (شہید بشیر خان گروپ) کے رہنما میر حسن لاشاری سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ رہنماؤں نے خطاب میں کہا کہ ضلع گھوٹکی ایک صنعتی زون ہے، مگر یہاں کے نوجوانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جب کہ کمپنی انتظامیہ بااثر طبقے کے دباؤ پر بیرونی افراد کو بھرتی کر رہی ہے، جو مقامی آبادی کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔

    مقررین نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر ماڑی انرجی انتظامیہ کے اشارے پر پولیس نے تشدد کیا، اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ جب تک مطالبات منظور نہیں کیے جاتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب طلبہ اور صحافیوں پر تشدد کے واقعے پر ایس ایچ او ڈہرکی مصور قریشی اور ایس ایچ او داد لغاری ذوالفقار مہر کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا ہے، جب کہ ڈی ایس پی اوباڑوعبدالقادر سومرو کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

  • لیبر ڈیپارٹمنٹ: مزدوروں کے حقوق کا محافظ یا سرمایہ داروں کا سہولت کار؟

    لیبر ڈیپارٹمنٹ: مزدوروں کے حقوق کا محافظ یا سرمایہ داروں کا سہولت کار؟

    لیبر ڈیپارٹمنٹ: مزدوروں کے حقوق کا محافظ یا سرمایہ داروں کا سہولت کار؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال

    سرکاری اداروں کی جانب سے جب مزدوروں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو مزدور کے دل میں خوشی کی ایک کرن جاگتی ہے، وہ بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے کہ شاید اب اس کی تنخواہ بڑھے گی، سہولتیں بہتر ہوں گی اور زندگی آسان ہو جائے گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سرکاری اداروں میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو حکومتی اعلانات کو کبھی عملی جامہ نہیں پہننے دیتے۔ یہ ایک منظم مافیا ہے جو ہر دفتر میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    آئیے آج لیبر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی اور کردار پر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں مزدور طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کارخانے، صنعتیں اور تعمیراتی منصوبے انہی مزدوروں کے خون پسینے سے رواں دواں ہیں۔ مگر افسوس کہ جن اداروں کو مزدوروں کے حقوق کا محافظ بننا تھا، وہی آج سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کے سہولت کار بن چکے ہیں، اور ان میں لیبر ڈیپارٹمنٹ سرفہرست ہے۔

    اگر لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داریوں پر نظر ڈالیں تو ان میں شامل ہیں:
    ×مزدوروں کی تنخواہوں اور اجرتوں کا تحفظ
    ×کام کے اوقات، حفاظتی اقدامات اور سہولیات کی نگرانی
    ×سوشل سکیورٹی اور EOBI جیسے اداروں کو فعال بنانا
    ×خواتین و بچوں کے حقوق کی حفاظت
    ×حادثات کی صورت میں معاوضہ اور سہولتوں کی فراہمی

    مگر افسوس کہ یہ سب کچھ کتابوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عملی طور پر مزدوروں کی آواز دبائی جاتی ہے اور مالکان کو قانون توڑنے کی کھلی اجازت دی جاتی ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ کرپشن کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ انسپکشن کے نام پر افسران فیکٹری مالکان سے رشوت وصول کرتے ہیں اور اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مزدوروں کی تعداد ریکارڈ میں کم ظاہر کی جاتی ہے تاکہ سوشل سکیورٹی اور ٹیکس ادائیگیوں سے بچا جا سکے۔ لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کے بجائے ’’سیٹلمنٹ‘‘ کا طریقہ اپنایا جاتا ہے جبکہ مزدور یونینز کو جان بوجھ کر کاغذی کارروائی میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ وہ غیر فعال رہیں۔

    نتیجہ یہ ہے کہ یہ محکمہ مزدوروں کے تحفظ کے بجائے سرمایہ داروں کا محافظ بن چکا ہے۔ اکثر فیکٹریوں میں آج بھی مزدور کم از کم اجرت سے محروم ہیں۔ حالیہ سرکاری اعلان کے مطابق 8 گھنٹے یومیہ مزدوری پر 40 ہزار روپے تنخواہ مقرر ہے مگر بیشتر مالکان یہ تنخواہ دینے سے انکاری ہیں۔ مزدور سوشل سکیورٹی اور پنشن کے حق سے لاعلم ہیں، حادثات کی صورت میں نہ معاوضہ ملتا ہے نہ علاج، جبکہ یونین سازی کی آزادی محض کاغذوں تک محدود ہے۔

    لیبر ڈیپارٹمنٹ کو ان سب معاملات کا علم ہونے کے باوجود آنکھیں بند رکھنا اس کی پالیسی بن چکی ہے۔ اس نااہلی اور کرپشن کے باعث مزدوروں کا اعتماد ریاستی اداروں سے ختم ہوتا جا رہا ہے، صنعتکار کھلے عام قوانین توڑ رہے ہیں، اور رشوت کا نظام مزدور کے استحصال کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ نتیجتاً سماجی انصاف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟
    سب سے پہلے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر کرپشن فری بنایا جائے۔ مزدور تنظیموں کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے، قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہو، انسپکشن سسٹم کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے، مزدوروں کو شکایات کے لیے آسان اور فوری پلیٹ فارم فراہم کیا جائے اور کرپٹ افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

    فی الوقت لیبر ڈیپارٹمنٹ مزدوروں کا سہارا نہیں بلکہ سرمایہ داروں کا سہولت کار بن چکا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو نہ صرف مزدور کا استحصال بڑھے گا بلکہ معیشت بھی غیر متوازن ہو جائے گی۔ ریاست کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ترقی کی بنیاد سرمایہ دار نہیں بلکہ مزدور ہے، اور مزدور کے حقوق کا تحفظ ہی حقیقی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو ادارے کرپشن ختم کرنے کے لیے بنائے گئے، وہ خود کرپشن کا گڑھ کیوں بن گئے؟ کیا یہ ناسور کبھی ختم ہوگا، یا قوم کو مزید 78 سال انتظار کرنا پڑے گا؟ بہرحال، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

  • اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز کا سیلاب زدہ علاقوں میں سروے ٹیموں کی چیکنگ، درست ڈیٹا کی ہدایت

    اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز کا سیلاب زدہ علاقوں میں سروے ٹیموں کی چیکنگ، درست ڈیٹا کی ہدایت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ چوہدری رب نواز نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جوائنٹ سروے ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ٹیموں کو تسلسل سے کام جاری رکھنے اور درست، حقائق پر مبنی ڈیٹا مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے موضع جھیڈو، جندراکہ، پیر علی اور ناوتہ کھچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سروے ٹیموں کی ورکنگ اور مرتب کیے جانے والے ڈیٹا کی تفصیلی چیکنگ کی۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے شفاف ڈیٹا کی تیاری نہایت اہم ہے، اس لیے سروے ٹیمیں باہمی کوآرڈینیشن کو برقرار رکھتے ہوئے ذمہ داری سے کام کریں اور جلد از جلد سروے مکمل کریں۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ سروے ٹیموں کی کارکردگی کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا، جبکہ عدم دلچسپی یا سستی دکھانے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی و امداد کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے تمام ٹیمیں اپنی بھرپور توانائیاں بروئے کار لائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔