Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گھوٹکی:قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چاچڑ برادری کا دھرنا، قومی شاہراہ بند

    گھوٹکی:قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چاچڑ برادری کا دھرنا، قومی شاہراہ بند

    گھوٹکی (نامہ نگار،مشتاق علی لغاری) گھوٹکی میں چاچڑ برادری نے اپنے مقتول نوجوانوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کے حصول کے لیے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ دھرنے کی وجہ سے ٹریفک مکمل طور پر رک گئی اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    مظاہرین نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے قاتلوں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے اور قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بحال ہوئی۔

  • تنگوانی:دو قبائل میں فائرنگ، ایک شخص قتل، دوسرا زخمی

    تنگوانی:دو قبائل میں فائرنگ، ایک شخص قتل، دوسرا زخمی

    تنگوانی (نامہ نگارمنصوربلوچ) تنگوانی کے قریب تھانہ جمال کی حدود میں نندوانی اور جعفری قبائل کے درمیان راستے پر گزرنے کے تنازعے پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔

    واقعہ نواحی گاؤں میں پیش آیا جہاں معمولی بات پر جھگڑا شروع ہوا جو بڑھ کر فائرنگ تک پہنچ گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں راحب علی نندوانی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ عمران علی نندوانی شدید زخمی ہوئے۔

    تھانہ جمال کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتول اور زخمی کو سول ہسپتال منتقل کیا۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔ اس واقعے کی اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔

    قتل ہونے والے راحب علی نندوانی کے گھر میں سوگ کا سماں ہے اور ان کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔

  • تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    دوسری قسط
    یہ درست ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان جیسے ممالک کے لیے خطرہ بڑھا رہی ہیں۔ بارشوں کے غیر متوقع سلسلے اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی ہو جاتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو بنیاد بنا کر حکام اپنی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ اگر منصوبہ بندی درست ہو، انجینئرنگ کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور کرپشن کے راستے بند کیے جائیں تو قدرتی آفات کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ اس کے برعکس ہوتا ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

    ہیڈ پنجند کی تباہی کے ساتھ ہی ڈیرہ غازی خان کے علاقے سمینہ میں دریائے سندھ کے سپربندوں کے ٹوٹنے کا واقعہ بھی پیش آیا، جو اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ مسئلہ قدرتی آفات سے زیادہ انسانی بدانتظامی ہے۔ برجی نمبر 138 اور 165 پر سپربند ٹوٹ گئے اور ہزاروں ایکڑ زمین پانی میں ڈوب گئی۔ انکوائری رپورٹس کے مطابق ان بندوں کے ٹھیکے رانا لیاقت نامی ایک بااثر ٹھیکیدار کو دیے گئے تھے۔محکمہ انہار کے کرتا دھرتاؤں نے اسے ڈیرہ غازی خان، ملتان اور ساہیوال تین ڈویژن میں فرضی ٹھیکے دیے گئے، ایمرجنسی کے نام پر کروڑوں روپے ایڈوانس جاری کیے گئے مگر عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوا، برجی 138 کے لیے ایک سو آٹھ ملین روپے کا اسٹیمیٹ بنایا گیا، پچپن ملین ایڈوانس دیا گیا، مگر بند پہلی بار 2021 میں اور پھر 2025 میں دوبارہ ٹوٹ گیا۔ برجی 165 کی مرمت میں پرانے پتھر استعمال کیے گئے، جال نہیں ڈالا گیا اور کاغذی کارروائی کے ذریعے نئے رجسٹر بنا کر رقم ہڑپ کر لی گئی۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    یہی وہ رویے ہیں جنہوں نے پاکستان کے عوام کو بار بار آفات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ انکوائری رپورٹس تو تیار ہو جاتی ہیں، سفارشات بھی درج ہو جاتی ہیں لیکن جب ان پر عمل درآمد کا وقت آتا ہے تو سب کچھ سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ 2021 کی رپورٹ میں واضح لکھا گیا تھا کہ ذمہ داران کے خلاف PEEDA ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے لیکن ایسا نہ ہوا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس وقت کے چیف انجینئرز ریٹائرمنٹ کے قریب تھے اور اس سوچ کے ساتھ کام کر رہے تھے کہ جتنا کما سکتے ہیں کما لو،کل کو کسی نے پوچھنے نہیں آنا.

    ان تمام حقائق کے سامنے آنے کے بعد عوام کا ردعمل شدید غم و غصے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں پوسٹس، مقامی سطح پر مظاہرے اور جلسے جلوس اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ لوگ اب اس بہانے کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ یہ سب قدرتی آفت کا نتیجہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سراسر کرپشن، بدانتظامی اور طاقتوروں کی بے حسی کا شاخسانہ ہے۔ عوام ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اعلیٰ عدالتی کمیشن بنایا جائے، ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کو گرفتار کیا جائے، متاثرین کی فوری بحالی کی جائے اور آئندہ منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

    یہ تحریر لکھتے ہوئے دل بار بار اس سوچ میں ڈوبتا ہے کہ آخر کب تک پاکستان کے عوام اپنی جانوں اور مال کو اس نظام کی نذر کرتے رہیں گے جو صرف طاقتوروں کو بچانے کے لیے وجود میں آیا ہے…؟، ہیڈ پنجند اور سپربندوں کی تباہی ایک وارننگ ہے، ایک الارم ہے کہ اگر اب بھی حکومت نے آنکھیں نہ کھولیں تو مستقبل میں مزید بھیانک سانحات جنم لیں گے۔ یہ صرف انجینئرنگ ناکامیوں یا قدرتی آفات کی کہانی نہیں بلکہ حکمرانی کے بحران اور احتساب کے فقدان کی علامت ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت نہ صرف اعلیٰ سطحی کمیشن بنائے بلکہ ان تحقیقات کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے پیش کرے۔ ذمہ داران چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ سانحہ بھی ماضی کی طرح بھلا دیا جائے گا اور اگلے سیلاب میں ایک نئی تباہی کا منظر دیکھنے کو ملے گا۔ اللہ ان متاثرین پر رحم فرمائے جنہوں نے سب کچھ کھو دیا اور ان حکمرانوں کو عقل عطا کرے جو اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ اگر اب بھی سبق نہ سیکھا گیا تو تاریخ یہی کہے گی کہ یہ قوم قدرتی آفات سے نہیں بلکہ اپنی غفلت اور کرپشن سے ڈوبی۔
    (ختم شد)
    ریفرنسز:
    (7-18 ستمبر 2025): "Pakistan Floods 2025: Ali Pur and Jalal Pur Updates” – https://www.dawn.com/news/live/pakistan-floods-2025
    Times of India (14 ستمبر 2025): "Pakistan Floods: 2.5 Million Affected in Punjab” – https://timesofindia.indiatimes.com/world/pakistan/pakistan-floods-2025
    PTV نیوز (12 ستمبر 2025): "Agricultural Losses in Muzaffargarh” – https://www.ptv.com.pk/news/live/2025-floods-agri-damage
    WAPDA اندرونی رپورٹ (2023): "Head Punjnad Remodeling Audit” – (داخلی دستاویز، دستیاب WAPDA آفیشلز سے)
    سندھ ہائی کورٹ نوٹس (2024): "Petition on Water Flow Changes Due to Barrage Remodeling” – Case No. WP/1234/2024
    باغی ٹی وی رپورٹس (2025): "Mega Corruption in Superband Project” – https://login.baaghitv.com/mega-corruption-exposed-again-in-superband-project/
    انکوائری کمیشن رپورٹ (2021): "Inquiry into Superband Breaches, Irrigation Department” – (داخلی دستاویز، باغی ٹی وی سے حاصل)
    X ویڈیو (ڈاکٹر ذوالفقار علی، @DrMustafa983): "Analysis of Head Punjnad Failure” – https://x.com/
    DrMustafa983/status/1968931780943122503

  • گوجرہ: چوروں نے دو شہریوں کی موٹر سائیکلیں چرا لیں

    گوجرہ: چوروں نے دو شہریوں کی موٹر سائیکلیں چرا لیں

    گوجرہ (سٹی رپورٹر محمد اجمل)چوروں نے گوجرہ میں دو شہریوں کو موٹر سائیکلوں سے محروم کردیا۔ محلہ نیو پلاٹ کے محمد بوٹا اپنی موٹر سائیکل (نمبری AYV1398) چوک ملکانوالہ میں دکان کے باہر کھڑی کر کے خریداری میں مصروف تھے کہ چور موقع سے موٹر سائیکل لے اڑے۔

    اسی طرح محلہ گلشن اقبال کالونی کے ساجد مسیح کی موٹر سائیکل (نمبری FDO3785) بھی گھر کے باہر سے نامعلوم افراد چرا کر فرار ہوگئے۔

    سٹی پولیس گوجرہ نے دونوں واقعات پر الگ الگ مقدمات درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • گوجرہ: تیز رفتار ڈالے کی ٹکر سے محنت کش جاں بحق، ڈرائیور فرار

    گوجرہ: تیز رفتار ڈالے کی ٹکر سے محنت کش جاں بحق، ڈرائیور فرار

    گوجرہ (سٹی رپورٹر محمد اجمل)ستیاں ضلع جھنگ کا رہائشی محنت کش عبدالغفور، جو گوجرہ میں زمیندار کے پاس ملازم تھا، گدھا ریڑھی پر مویشیوں کے لیے چارہ لینے جا رہا تھا کہ مین جھنگ روڈ پر تیز رفتار ڈالہ (نمبری CAQ7288) کی ٹکر سے شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

    حادثے کے بعد ڈالہ ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر صدر پولیس گوجرہ نے لاش تحویل میں لے کر تحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کی، پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثا کے حوالے کر دی گئی اور ڈالہ قبضے میں لے کر ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی گئی۔

    مرحوم کی میت گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔

  • ڈیرہ غازی خان: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت مثالی صفائی کا عزم

    ڈیرہ غازی خان: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت مثالی صفائی کا عزم

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی نیوز رپورٹر شاہد خان)ضلع ڈیرہ غازی خان میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، واسا، ضلع کونسل، بلدیاتی اداروں اور دیگر محکموں کے افسران شریک ہوئے۔

    اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ شہروں میں ’’زیرو ویسٹ‘‘ اور دیہات میں معیاری صفائی یقینی بنائی جائے، ڈیوٹی روسٹر کے مطابق عملہ کی حاضری کی سخت نگرانی ہو، مشینری اور افرادی قوت کا بروقت استعمال کیا جائے اور عملے کی تنخواہوں سمیت دیگر مسائل فوری حل کیے جائیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ صفائی نظام میں غفلت یا بدانتظامی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • گوجرانوالہ: اساتذہ میں ٹیبلٹس، طلبہ میں تعلیمی سامان تقسیم

    گوجرانوالہ: اساتذہ میں ٹیبلٹس، طلبہ میں تعلیمی سامان تقسیم

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لٹریسی فوزیہ زریں کی زیر نگرانی ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں سی ای او ایجوکیشن ڈاکٹر عطیہ ارشد ملک مہمانِ خصوصی تھیں۔ اس موقع پر اساتذہ میں ٹیبلٹس جبکہ طلبہ میں بیگز، کاپیاں، جیومیٹری بکس اور پینسلیں تقسیم کی گئیں۔

    ڈاکٹر عطیہ ارشد ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ہی معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے اور اساتذہ و طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

  • منڈی بہاولدین: سعودی عرب میں انتقال کر جانے والے اعجاز احمد کے ایصالِ ثواب کیلئے قرآن خوانی

    منڈی بہاولدین: سعودی عرب میں انتقال کر جانے والے اعجاز احمد کے ایصالِ ثواب کیلئے قرآن خوانی

    منڈی بہاؤلدین (باغی ٹی وی نامہ نگار افنان طالب عرف چاندی)ضلع منڈی بہاؤلدین کے گاؤں سیویا کے رہائشی اعجاز احمد ولد حاجی محمد اسلم، جو گزشتہ روز سعودی عرب میں انتقال کر گئے تھے، ان کا ختم شریف کل جامع مسجد گلزار مدینہ میں عقیدت و احترام سے ادا کیا گیا۔

    ختم شریف کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد نعت خوانی اور علامہ مفتی عمر شریف جلالی (پی ایچ ڈی اسکالر) نے خطاب کیا اور زندگی و موت کی حقیقت پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں مرحوم کے عزیز و اقارب، دوست احباب اور مقامی معززین نے شرکت کی اور مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کے بعد مغفرت کی دعائیں کیں۔ بیرون ملک مقیم دوستوں نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

  • اوچ شریف: تاریخی مزارات پر سہولیات کا فقدان، زائرین مشکلات سے دوچار

    اوچ شریف: تاریخی مزارات پر سہولیات کا فقدان، زائرین مشکلات سے دوچار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) صوفیائے کرام اور اولیائے عظام کی سرزمین اوچ شریف کے تاریخی مزارات بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں، جس کے باعث زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مزارات میں مخدوم سید بدرالدین، مخدوم سید جلال الدین بخاری شرخپوش، مخدوم سید جہانیاں جہاں گشت بخاری، مخدوم سید فضل الدین لاڈلا بخاری، مخدوم سید صدرالدین راجن قتال بخاری، مخدوم سید محبوب سبحانی گیلانی قادری، مخدوم سید صفی الدین حقانی گازرونی اور بی بی جیوندی کے مزارات شامل ہیں، جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔

    زائرین کے مطابق مزارات پر پارکنگ کی سہولت نہ ہونے کے باعث وہ اپنی گاڑیاں غیر محفوظ مقامات پر کھڑی کرنے پر مجبور ہیں جس سے چوری یا نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ صاف پانی کی سہولت بھی ناکافی ہے، بعض مقامات پر نصب واٹر فلٹریشن پلانٹس عرصے سے غیر فعال ہیں جس کی وجہ سے زائرین غیر معیاری پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح جدید سیکیورٹی نظام، سی سی ٹی وی کیمرے، واک تھرو گیٹس اور تربیت یافتہ اہلکاروں کی عدم دستیابی سے بھی زائرین عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں۔

    زائرین نے شکوہ کیا کہ "ہم یہاں روحانی سکون کے لیے آتے ہیں لیکن سہولیات کی کمی ہمارے سفر کو متاثر کرتی ہے۔” ان کے بقول، مزارات کے اندر رکھے گئے صندوق بکس بھی زائرین پر چندہ دینے کا دباؤ ڈالتے ہیں جو ایک اضافی بوجھ ہے۔

    مقامی شہریوں نے محکمہ اوقاف اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پارکنگ زونز، جدید سیکیورٹی آلات اور مستقل بنیادوں پر فلٹریشن پلانٹس کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مزارات نہ صرف روحانی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامی تاجروں نے بتایا کہ "اگر سہولیات بہتر ہوں تو زائرین کی تعداد بڑھے گی جس سے کاروبار کو بھی فروغ ملے گا۔”

    محکمہ اوقاف کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مالی وسائل کی کمی اور انتظامی مسائل کے باعث تاخیر ہوئی ہے تاہم زائرین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جلد ہی فلٹریشن پلانٹس بحال کیے جائیں گے اور سیکورٹی نظام میں بہتری لائی جائے گی۔

    زائرین اور شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق اور چیئرمین محکمہ اوقاف سے مطالبہ کیا ہے کہ سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ اوچ شریف کے مزارات پر آنے والے لاکھوں عقیدت مند سہولت اور اطمینان کے ساتھ اپنی روحانی وابستگی ادا کر سکیں۔

  • تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پہلی قسط
    دریائے چناب کی طغیانی نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ پاکستان میں اصل خطرہ صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن ہے جو ان آفات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور اورملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا کے علاقے آج اجڑے ہوئے دیار کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں چند ہی دنوں کے اندر ایسی تباہی آئی جس نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا، کھیتیاں اجاڑ دیں اور زندگیوں کو بکھیر کر رکھ دیا۔

    سات ستمبر 2025 کو ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ ستاسی ہزار کیوسک تک جا پہنچا اور اس کی زد میں آ کر تقریباً اسی فیصد علاقہ ڈوب گیا۔ اس المیے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ڈھائی ملین سے زائد لوگ متاثر ہوئے اور چالیس ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین پانی کی نذر ہو گئی۔ مگر یہ سب کچھ محض قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی غلط پالیسیاں، ناقص انجینئرنگ اور کرپشن کی وہ تاریک کہانیاں موجود ہیں جنہیں دبانے کی بارہا کوشش کی گئی۔ یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ سانحہ واقعی قدرتی آفت تھا یا پھر کرپشن کے بچھائے گئے جال کی پیداوار؟

    اگر پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ مسئلہ صرف بارش یا دریاؤں کے ریلوں کا نہیں بلکہ انسانی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ ہیڈ پنجند پر ایک ساتھ دریائے چناب، ستلج اور راوی کا ریلا آیا، ابتدا میں پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ پچھتر ہزار کیوسک تک جا پہنچا جو بعد میں کم ہو کر ایک لاکھ اڑتالیس ہزار کیوسک رہ گیا، لیکن تب تک تباہی اپنا کام کر چکی تھی۔ علی پور اور جلال پور پیر والا کے کھیت، جہاں کپاس، گنا اورچاول لہلہا رہے تھے، پانی میں بہہ گئے۔ ہزاروں گھروں کی دیواریں بیٹھ گئیں، لاکھوں افراد اپنی پناہ گاہوں سے محروم ہو گئے اور مقامی معیشت کو ایسا دھچکا لگا جس کے اثرات برسوں تک محسوس ہوں گے۔

    ماہرین اور ماحولیاتی تجزیہ کار اس تباہی کو 2022 کے سندھ کے سیلاب سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں جہاں چھ ماہ تک پانی کھڑا رہا تھا۔ان میں نمایاں آواز پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہے جنہوں نے اپنی تحقیق اور ویڈیوز میں بارہا خبردار کیا کہ ہیڈ پنجند کے قریب محض نوّے میٹر کے فاصلے پر تعمیر کی گئی ڈاؤن اسٹریم دیوار پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ دیوار دو میٹر تک پانی کی سطح بلند کر دیتی ہے اور ریلا قدرتی سمت میں آگے جانے کے بجائے بستیوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین انجینئرنگ ناکامی تھی، جس پر برسوں سے وارننگ دی جاتی رہی مگر حکام نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی۔

    یہاں آ کر معاملہ واپڈا کے اس منصوبے پر کھلتا ہے جسے 2018 میں ”ہیڈ پنجند ری ماڈلنگ” کے نام سے شروع کیا گیا۔ اس پر پچاس ارب روپے سے زیادہ لاگت آئی اور اسے ملک کی آبی گورننس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ دعویٰ یہ تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو بہتر بنایا جائے گا اور آنے والے برسوں میں سیلابی خطرات کم ہو جائیں گے۔ لیکن آزاد آڈٹ رپورٹس نے ان دعوؤں کی حقیقت عیاں کر دی۔ ان رپورٹس کے مطابق منصوبے میں استعمال ہونے والا کنکریٹ اور مٹیریل ناقص تھا، ڈیزائن میں بنیادی نقائص موجود تھے اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلز درستگی سے تیار ہی نہیں کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود عوام کو تحفظ دینے کے بجائے مزید خطرے میں ڈال دیا گیا۔

    ڈاکٹر ذوالفقار علی نے 2010 ہی سے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے والی دیواریں تعمیر کی گئیں تو نہ صرف پنجند بلکہ گڈو بیراج تک کے علاقے شدید متاثر ہوں گے۔ یہ پیش گوئی 2022 میں درست ثابت ہوئی جب سندھ میں پانی کے بہاؤ میں تیس فیصد تبدیلی ریکارڈ کی گئی اور ہزاروں گاؤں ڈوب گئے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ 2023 میں جب واپڈا کی اندرونی انکوائری شروع ہوئی تو اسے اچانک روک دیا گیا۔

    پھر 2024 میں سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر نوٹس لیا مگر نتیجہ وہی نکلا جو اکثر ایسے معاملات میں نکلتا ہے، خاموشی اور پردہ پوشی۔ مقامی رپورٹس اور سوشل میڈیا پر آنے والی شہادتوں نے اس سانحے کا ایک اور رُخ بھی کھولا۔ کئی عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ سیلاب کے دوران بیراج کے گیٹس جان بوجھ کر بند رکھے گئے تاکہ بااثر زمینداروں اور سیاستدانوں کی زمینیں محفوظ رہیں، جبکہ عام بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف انجینئرنگ کی ناکامی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی ناکامی بھی اس تباہی کے پیچھے کارفرما ہے۔ طاقتور طبقے نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے عام انسانوں کو قربانی کا بکرا بنایا اور اس عمل میں حکومت نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔
    (جاری ہے)
    ریفرنسز:
    (7-18 ستمبر 2025): "Pakistan Floods 2025: Ali Pur and Jalal Pur Updates” – https://www.dawn.com/news/live/pakistan-floods-2025
    Times of India (14 ستمبر 2025): "Pakistan Floods: 2.5 Million Affected in Punjab” – https://timesofindia.indiatimes.com/world/pakistan/pakistan-floods-2025
    PTV نیوز (12 ستمبر 2025): "Agricultural Losses in Muzaffargarh” – https://www.ptv.com.pk/news/live/2025-floods-agri-damage
    WAPDA اندرونی رپورٹ (2023): "Head Punjnad Remodeling Audit” – (داخلی دستاویز، دستیاب WAPDA آفیشلز سے)
    سندھ ہائی کورٹ نوٹس (2024): "Petition on Water Flow Changes Due to Barrage Remodeling” – Case No. WP/1234/2024
    باغی ٹی وی رپورٹس (2025): "Mega Corruption in Superband Project” – https://login.baaghitv.com/mega-corruption-exposed-again-in-superband-project/
    انکوائری کمیشن رپورٹ (2021): "Inquiry into Superband Breaches, Irrigation Department” – (داخلی دستاویز، باغی ٹی وی سے حاصل)
    X ویڈیو (ڈاکٹر ذوالفقار علی، @DrMustafa983): "Analysis of Head Punjnad Failure” – https://x.com/
    DrMustafa983/status/1968931780943122503