مری آہ و فُغاں سن کر خفا دربار ہیں مُجھ پر
یہ لکھتے اُن کی جانب سے کئی اخبار ہیں مُجھ پر
میں باغی ہوں مگر پہلے بغاوت کا سبب جانو
وگرنہ ہتھکنڈے اوچھے سبھی بے کار ہیں مجھ پر (ڈاکٹرالیاس عاجز)
وقت بتاتا ہے کہ کونسا ادارہ محض حالات کی پیداوار تھا یا مخصوص لوگوں کا فرمائشی اور کون اپنے حصے کی شمع جلانےآیا تھا۔یہاں وقت اور حالات کے ساتھ رخ بدلنے کا رواج عام ہے۔ اپنے لفظوں کو ایوانوں کی دہلیز پہ گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ مگر کچھ سر پھرے، اپنے کام اور ملک سے محبت کرنے والے، حالات سے بغاوت کرکے، "کھرے سچ” کا دیا جلائے رکھتے ہیں۔ میرے قلم نے 2021 میں پہلی دفعہ "باغی ٹی وی” نامی ایک ڈیجٹیل پلیٹ فارم کےلیے لکھنا شروع کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ بھی ایک ویب سائٹس کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ مگر بعد میں یہ عقدہ وا ہوا کہ میاں یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل اور پروفیشنل ادارہ ہے۔ باغی ٹی وی نے آج سے 14 برس قبل جب سئینر اینکر و کالم نگار مبشر لقمان کی سربراہی میں ڈیجیٹل افق پر قدم رکھا تو تب سے باغی ظلم کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ یہ سماج کیونکہ سچ سننے کا عادی نہیں ہے، سچ بولنے والوں کا جو حال اس پاک سرزمین پر سبھی کا ہوتا ہے، "باغی” کو بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کی کوریج ہو یا لانگ مارچ یا جلسے، باغی ٹی وی نے مین سٹریم میڈیا کی طرح ہر ایونٹ کو کوریج دی۔ بلکہ اپنا کیمرہ موڑنے کی بجائے وہاں رکھا، جس کو دکھانا ممنوع تھا۔ دباؤ، دھمکیاں، حتی کہ باغی ٹی وی کی آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کا بلیو ٹک تک ختم کروا دیا گیا۔ یہاں تک کہ پاکستان دشمن مودی سرکار بھی باغی کی بغاوت سے خائف نظر آئی۔ اور کئی مرتبہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بند اور ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر باغی نے اجمل صدیقی صاحب کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے کام جارہی رکھا۔
؎یہ ہی ہیں دن، باغی اگر بننا ہے بن
تجھ پر ستم کس کو پتا پھر ہو نہ ہو
باغی ٹی وی اس وقت پانچ مختلف زبانوں میں اپنے قارئین کو باخبر رکھے ہوئے ہے۔ اردو، انگریزی، پشتو اور چینی وغیرہ جیسی زبانوں میں صرف باغی ٹی وی کی ہی ویب سائٹس ہیں۔ زبانیں پانچ ہیں،مگر موقف ایک ہی ہے۔ یہی وجہ کا آج باغی ٹی وی دنیا بھر میں دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 برس سے باغی ٹی وی یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔ جہاں 2200 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ویڈیوز کی موجودگی محض تعداد نہیں، سنسرشب کے دور میں سچ کی داستان ہے۔ یہ صرف ویڈیوز نہیں، بلکہ خبروں ، انفارمیشن اور حقائق کا منبع ہیں۔ پروگرام "باغی بریسیٹر” ہو ،یا ” باغی کا پاکستان” اور معروف انوسٹیگئٹو جرنلسٹ محسن بھٹی کا حقائق کا پردہ چاک کرنے والا پروگرام "موت کا دھندا” ہو، جس کی صرف ایک ایپی سوڈ کو 1.8 ملین سے زائد افراد نے دیکھا، یہ سب باغی کے سچ کی جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پروگرام ” باغی ستارے” ہو یا ” خوابوں کی تعبیر ” باغی نے عوام کو باخبر رکھنے کےلیے کسی ڈومین کو نہ چھوڑا۔ حتی کہ جن چھوٹے علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، ان کےلیے "علاقائی” اور "ریجنل ہیڈ لائنز” بھی نشر کی جاتی رہی ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں باغی ٹی وی نے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح کی لائیو کوریج کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔
باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ” ممتاز اعوان” صاحب ہمارے مہربان ہیں۔ گزشتہ برس انھوں نے باغی ٹی وی کی سالگرہ پر مدعو کیا۔ تو ہم بھی باغی ٹی وی کی 13 وی سالگرہ کا کیک کھانے 365 نیوز کی بلڈنگ میں مبشر لقمان صاحب کے دفتر پہنچے۔ مبشر لقمان صاحب کسی مصروفیت کی وجہ سے اسلام آباد چلے گئے تو 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز سینئر صحافی محمد عثمان صاحب کے ہمراہ کیک کاٹا گیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس تقریب میں 2 چکوالی اور بھی آئیں گے۔ فیصل رمضان صاحب کا تعارف ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے،مگر وہ بھی تشریف نہ لا سکے۔جبکہ دوسرے چکوالی ایم ایم علی صاحب کو گزشتہ 5،6 برسوں سے سوشل میڈیا پر دیکھ اور پڑھ رکھا تھا۔ ایم ایم علی صاحب معروف ادبی تنظیم ” آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن” کے بانی ہیں۔ لیکن ان سے بھی کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن ان سے بھی ملاقات ہوئی، اور یہ بھی حیران کن انکشاف ہوا کہ مبشر لقمان صاحب بھی چکوالی ہیں۔ اس تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ اور خاکسار نے انھیں اپنی کتاب "عثمانی نامہ ” پیش کی۔تقریب میں دیگر شرکاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اعزازی سرٹیفکیٹ 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز کے ہاتھوں ملا۔
میں نے پہلی دفعہ 2021 میں باغی میں لکھنا شروع کیا۔ اب تک باغی کےلیے 60 سے زائد آرٹیکلز لکھ چکا ہوں۔ شاید اس لیے کہ یہاں کبھی قلم پابند نہیں کیا گیا۔ جو چاہا لکھا اور چھپ گیا۔ ماضی قریب کے زلزلے اور سیلاب میں باغی ٹی وی کی رپورٹنگ کو بہت قریب سے دیکھا۔ کئی ایک بڑے مین سٹریم سے بہتر رپورٹنگ اور معلومات دیکھنے کو ملی۔ باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا پلیٹ فارم پر چند مگرمچھوں کے قبضے کے برعکس ہمیشہ نئے لکھاریوں کو نہ صرف موقع دیا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ ادارہ نہ صرف ملک بھر کے مظلوموں کی آواز بنتا ہے۔ بلکہ چند برس قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر ڈاکا ڈالا تو مجھے اس وقت صرف باغی ٹی وی ہی واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم نظر آیا جو کہ بڑھ چڑھ کر بھارتی مظالم کو دھمکیوں کے باوجود بے نقاب کرتا رہا۔
؎کہتے ہیں باغی مجھ کو زمانے والے
کہ یہ طور نہیں زندگی نبھانے والے
ٹوٹا بھی تو بکھرنے نہیں دیا خود کو
پچھتائے ہر بار مجھے آزمانے والے
یقینا 14 برس مکمل ہونے پر سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان صاحب اور ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب سمیت دیگر ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ سفر جاری رہے گا۔ اور پندرہ برس مکمل ہونے تک ہم بھی اپنے آرٹیکلز کی سینچری مکمل کر لیں گے۔












