Baaghi TV

Author: اعجاز الحق عثمانی

  • سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    چکوال میں ہلکی پھلکی بوندا باندی جارہی ہے۔ ہاسٹل کے قدرے روشن ایک کمرے میں بیٹھا ہوں۔ باہر صحن گیلا ہے۔ کبھی کبھار مٹی کی خوشبو نتھنوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔اور دل کسی پرانی کہانی کو لے کر بیٹھا جارہا ہے۔ بارش جیسے ہی تیز ہوتی ہے، تو کھڑکی کے شیشے پر لکیریں سی بن جاتی ہیں۔ یہ لکیریں کسی بد بخت آدم زاد کے نصیب سی لگتی ہیں، آڑی ترچھی، الجھی ہوئی۔
    آج دسمبر کی آخری تاریخ ہے۔ میرے حلقہ احباب کے ایک بزرگ ادیب اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ دسمبر کے آخری دن حساب مانگتے ہیں۔اور یہ حساب مجھے مشکلات میں ڈالے بیٹھا ہے ۔ نئی دیوار پر لگے پرانے کیلنڈر کا آخری ورق چند گھنٹوں بعد اپنا وجود کھو بیٹھے گا۔ 2025 کا واحد دسمبر ہے جو چکوال میں گزرا ہے۔ ابن آدم کی خود کو بے حد مصروف رکھنے کی کوشش کے باوجود بھی، خنک راتوں میں کلیجہ چیرتی یادوں کی ادھ بجھی آگ کی راکھ کریدتے ہوئے کئی بار دل بے قرار کو قرار دینے کی سر توڑ کوششیں کرتا رہا، مگر یہ ابن آدم ناکام رہا۔ مزاجا تو ہم آوارہ گرد ہیں، مگر جاڑے میں مجبورا۔۔۔۔۔ بقول شاعر

    ؎یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں
    کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

    دسمبر نہ جانے کب اور کیسے اداسی کی علامت بن گیا۔ حالانکہ اسی ماہ، کئی خوش نصیب نئے سال سے پہلے نئے سفر کی شروعات کرتے ہیں۔ ڈھول بجتے ہیں،خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ مگر یہ دسمبر ہم جیسوں کے لیے ہر دور میں بھری رہا۔ ہمارے محبوب شاعر امجد اسلام امجد نے بھی،دسمبر کے آخری دنوں کے بارے میں کچھ یونہی کہا تھا۔
    وہ آخری چند دن دسمبر کے
    ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
    خواہشوں کے نگار خانے سے
    کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
    رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
    ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
    فون کی ڈائری کے صفحوں سے
    کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
    جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
    اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
    کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
    رینگتی بدنُما لکیریں سی
    میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
    دوریاں دائرے بناتی ہیں
    نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
    ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
    حادثے کے مقام پر جیسے
    خون کے سوکھے نشانوں پر
    چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
    پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
    ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
    ڈائری ایک سوال کرتی ہے
    کیا خبر اس برس کے آخر تک
    میرے ان بے چراغ صفحوں سے
    کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
    کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
    گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
    خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
    کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
    ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
    اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
    رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
    اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
    ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
    اُن کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
    ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
    اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
    نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
    سائنسی بنیادوں پر بھی سردیوں اور اداسی کا گہرا تعلق ہے۔ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے والا کیمیائی مادہ (Neurotransmitter) سیروٹونن (Serotonin) بھی اس موسم میں کم پیدا ہوتا ہے، جو کہ اداسی کا سبب بنتا ہے۔ساتھ ہی، کم دھوپ کی وجہ سے دوسرا کیمیائی مادہ میلاٹونن (Melatonin) بھی متاثر ہوتا ہے، جو ہمارے موڈ اور نیند کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور اس اداسی کو ماہرین "سیزنل ایفکٹو ڈس آرڈر” کہتے ہیں۔ اور یہ موسمی اداسی حساس لوگوں کو قدرے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ خیر بارش جاری ہے، چپ ہے، 31 دسمبر ہے، رات کے 10 بج چکے ہیں،بقول سیماب سحر ، "سال کا اختتام اچھا ہے”-
    ؎سال کا اختتام اچھا ہے
    سرد موسم تمام اچھا ہے

    کہر میں چھپ چکی ہے باد سموم
    موسموں کا نظام اچھا ہے

  • مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ مگر زندگی کا محافظ یہ پانی، خیبر کے لوگوں کےلیے زندگی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ خوبصورت و دلنشیں گھاٹیاں اس وقت غم اور پانی دونوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بارش کا زور ایسا تھا کہ پہاڑ جیسے لرز کر مٹی مٹی ہوگئے۔ لمحوں میں بستیاں اجڑ گئیں۔ وہ گھر جو کسی مزدور نے کئی برسوں میں چاہت و محبت اور خون پسینے کی کمائی سے بنایا تھا۔ لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن گیا۔کہیں مائیں جگر گوشوں کو ڈھونڈ رہی ہیں، تو کہیں دُودھ پیتا بچہ ماں سے زیادہ بھوک سے تڑپ رہا ہے۔ کوئی پیٹ بھرنے کی تگ و دو میں پانی کے پیٹ میں جا گرا ہے، تو کوئی زخمی ماں کےلیے دوا دارو لینے گیا، لاش بن کر لوٹا ہوگا۔
    یہ قدرتی آفات ہمیشہ ہمارے ظرف کا امتحان لیتی ہیں۔ حکومتیں حرکت میں آئیں، فوج نے ہیلی کاپٹروں سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریسکیو 1122 کے جوانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر زندگیاں بچائیں، اور پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ اور سیکڑوں ٹن راشن عطیہ کیا، میڈیکل کیمپ لگے، مگر ایسے وقتوں می ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ درد دل والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی،جب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو اس کڑی آزمائش میں سرگرداں پایا۔ اس جماعت کا نام برسوں سے سن رکھا تھا، مگر چند ماہ قبل ایک نیوز چینل کے دفتر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے ایک ملاقات ہوئی، تو مرکزی مسلم لیگ کے بارے مزید جاننے کا تجسس ہوا۔ ڈیجیٹل ریسورسز سے معلومات نے اس جماعت کا ایک اور رخ میرے سامنے کھول دیا کہ یہ صرف سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فلاحی قافلہ ہے، جو مشکل وقت میں خاموش تماشائی نہیں بنتا۔ آج جب خیبر پختونخوا کے لوگ مشکل سے دو چار ہیں،تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ آن گراؤنڈ مدد کےلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔مینگورہ کا آدھا شہر جب پانی میں ڈوبا تو کئی کئی فٹ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ لوگ کھلے آسمان تلے یا چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور تھے۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیمیں وہاں لوگوں کو کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے جا پہنچیں۔ بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ تک امدادی کیمپ پھیل چکے ہیں۔ بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محمد عبداللہ کی فیس بک وال، کئی برسوں سے سامنے آرہی ہے۔ یہ نوجوان آج کل مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا کا ترجمان ہے، ان کی وال پر مرکزی مسلم لیگ کی خواتین اور بچیوں کو فلاحی کاموں میں مصروف دیکھ کر حیرت و خوشی ہوئی۔ سینکڑوں نوجوان دن رات ملبہ صاف کرتے، راشن بانٹتے، گھروں سے کیچڑ نکالتے دکھائی دیے۔ ان کے پاس سیاسی نعرے نہیں تھے، بلکہ آنکھوں میں خدمت کا جذبہ تھا۔حیرت زدہ ہوں کہ نوجوان کس طرح رب کی رضا کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ ہاتھ جو کل شاید موبائل پر سوشل میڈیا چلا رہے تھے، آج وہی ہاتھ آج ملبے صاف کر رہےہیں۔ وہ پاؤں جو کل کسی ریلی میں شریک تھے، آج سیلابی پانی میں گھٹنوں تک دھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ شکریہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، مگر اب ہمیں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا،ورنہ روز میرے ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ ڈوبتا، اور مرتا رہے گا۔

  • بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بادل پھٹا ہے… اب دل نہیں ٹوٹنے چاہییں!تحریر:اعجازالحق عثمانی

    (چکوال میں کلاؤڈ برسٹ اور ہماری اجتماعی ذمے داری)

    شام کے اس وقت جب معمول کے مطابق روز شہر کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑتی تھی، کل اس وقت آسمان کا ضبط ٹوٹا اور ایسا ٹوٹا کہ سب حدیں پار کر بیٹھا ہو۔
    بارش نہیں ہوئی… آسمان پھٹ پھٹ کر رو پڑا، اور پھر لوگ بھی سہم گئے۔ اور مسلسل 15 گھنٹوں سے یہی صورتحال ہے۔ اور ضلع بھر میں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    چکوال، جو کل تک سرسبز پہاڑیوں، دھیمے موسموں اور دھوپ چھاؤں کے قصے سناتا تھا، آج ایک نئے تجربے سے گزر رہا ہے۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ بارش، 423 ملی لیٹر، یہاں ابھی تک ریکارڈ ہوئی ہے۔ یہ محض بارش نہیں، قدرت کا ایک شدید مظہر ہے جسے سائنسی زبان میں "کلاؤڈ برسٹ” کہا جاتا ہے۔ یعنی بادلوں کا پھٹ پڑنا۔

    تصور کیجیے ایک پانی سے بھرا ہوا غبارہ، جو اچانک آپ کے سر پر پھٹ جائے۔ نہ پیشگی انتباہ، نہ تیاری کا موقع، بس ایک لمحہ، اور پھر سب کچھ بھیگتا، بہتا اور بکھرتا چلا جاتا ہے۔

    یہ مظہر تب جنم لیتا ہے جب نم ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر تیزی سے بلند ہوتی ہیں اور آسمان کی ٹھنڈک سے ٹکرا کر پانی کی بھاری بوندوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ جب بادل مزید بوجھ نہیں اٹھا پاتے، تو وہ غم کے مارے پھٹ پڑتے ہیں۔ اور پانی ایک قہر کی صورت نیچے اتر آتا ہے۔

    ایسی ہنگامی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

    1۔ اپنی جان بچانا اولین ترجیح:
    کسی بھی نشیبی علاقے سے فوراً بلند مقام پر منتقل ہو جائیں۔ بجلی کے کھمبوں، درختوں اور پانی سے بھرے گڑھوں سے دور رہیں۔

    2۔ معلومات سے باخبر رہیں:
    ریڈیو، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سنتے رہیں۔ افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف مصدقہ ذرائع پر اعتماد کریں۔

    3۔ دوسروں کا خیال رکھیں:
    یہ وقت صرف اپنے لیے جینے کا نہیں۔ اردگرد کے بزرگوں، بچوں اور پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیے۔ کسی کو تنہا نہ چھوڑیے۔ اگر کسی کا فون بند ہے، تو دروازہ کھٹکھٹا کر اس کی خیریت پوچھ لیجیے۔

    4۔غیر ضروری سفر سے گریز کریں:
    سڑکیں پانی سے لبریز ہیں۔ راستوں کی حالت غیر یقینی ہے۔ گھر میں رہیے، دعا کیجیے اور احتیاط برتیے۔

    5۔ذہنی سکون قائم رکھیے:
    یہ وقت حوصلے اور ہمت کا ہے۔ قدرت کا قہر جتنا اچانک آتا ہے، اتنی ہی تیزی سے تھم بھی جاتا ہے۔ بس ہمیں خود کو سنبھالے رکھنا ہے۔ ہم سب کو ایک دوسرے کا سائبان بننا ہے

    بادل تو پھٹ گیا، لیکن ہمیں اپنے دل اور رشتے محفوظ رکھنے ہیں۔ قدرت کا یہ پیغام صرف خوف کا نہیں، فکر اور اصلاح کا بھی ہے۔ ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اردگرد کے لوگوں کا بھی خیال رکھنا ہے۔
    ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ درخت لگانا ہوں گے، پانی کا صحیح استعمال سیکھنا ہوگا، اور قدرت کے ساتھ دوبارہ دوستی کرنی ہوگی۔

    یاد رکھیے، آزمائشوں کے وقت قومیں یا تو بکھر جاتی ہیں… یا ایک نیا جنم لیتی ہیں۔
    آیئے، ہم چکوال کو صرف اپنے نقشے کا ایک ضلع نہ سمجھیں، بلکہ دلوں کا ایک روشن چراغ بنائیں۔جو بارش میں بھیگے، مگر بجھے نہیں۔

  • "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بچپن کی ایک دھندلی یاد آج بھی میرے حافظے میں دھوئیں کی طرح اڑ رہی ہے۔ لاری اڈے کے باہر ایک بوڑھا فقیر اکثر دکھائی دیتا تھا۔مٹی سے اٹے کپڑے، جھریوں سے بھرا چہرہ، آنکھوں میں تھکن کی نمی، اور ہونٹوں میں دبی ہوئی ادھ جلی ایک سگریٹ۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا،”بابا جی، پیسے ملنے کے بعد سب سے پہلے کیا لیتے ہیں؟”۔ اس نے لمحہ بھر کو میری طرف دیکھا، پھر دھواں چھوڑتے ہوئے کہا،”سگریٹ۔۔۔۔کیونکہ ایک کش لگ جائے تو بھوکے پیٹ بھی نیند آسان ہو جاتی ہے”۔ یہ لمحہ میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔ اور آج جب میں ریاست کی انسدادِ تمباکو پالیسیوں کا جائزہ لیتا ہوں، تو وہی فقیر یاد آتا ہے۔کیونکہ ہمارا ریاستی رویہ بھی اسی بھکاری جیسا ہے۔ہاتھ میں کشکول، اور ہونٹوں پر سگریٹ کا دھواں۔

    ہر سال 31 مئی کو "یوم انسداد تمباکو” منا کر حکومت خود کو بری الذمہ سمجھ لیتی ہے۔ اشتہارات چلتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، اور تمباکو کے خلاف ایک دن کی جنگ لڑی جاتی ہے۔مگر اگلے دن سب کچھ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔مگر اس حکومتی آگاہی مہم سے زیادہ موثر تو "کرومیٹک” کی آگاہی مہم ہے، کرومیٹک وہ واحد غیر سرکاری تنظیم ہے جو ہر وقت آپ کو تمباکو نوشی کے خلاف جہاد کرتی نظر آئے گی۔ حکومت ایک دن جبکہ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان پورا سال اس لعنت کے خلاف جنگ کرتے نظر آتے ہیں۔

    معزز قارئین! تمباکو نوشی کوئی انفرادی مرض نہیں، یہ ایک اجتماعی لعنت ہے۔ یہ صرف پھیپھڑوں کو نہیں کھاتا، یہ پورے معاشرے کا جگر چاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کرتا ہے، اور بڑوں کو قبل از وقت قبر کی دہلیز پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہ دھواں ہے، جو صرف پھپھڑوں کو کالا نہیں کرتا، بلکہ نسلوں کو برباد کردیتا ہے۔
    پاکستان میں تمباکو نوشی کی صورت حال خاصی الم ناک ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہاں ہر سال ایک لاکھ سے زائد اموات تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت نے ان اموات کو روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟

    کیا سگریٹ کمپنیوں کی بے لگام تشہیر پر قدغن لگائی؟
    کیا نوجوانوں کو اس زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی؟۔حکومتیں بس اتنا کرتی ہیں کہ کچھ اشتہارات، چند تقریبات، اور چند دکھاوے کی مہمات چلا دیتی ہیں۔ جیسے کسی مریض سرطان کو پیناڈول کی گولی دے کر تسلی دی جاتی ہے۔ اس لعنت سے چھٹکارے کا واحد اور آخری حل یہی ہے کہ اس پر بھاری بھرکم ٹیکس لگایا جائے، اور اسے روٹی کو ترستی نوجوان نسل کی پہنچ سے دور کر دیا جائے۔

    یہ کہنا کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس لگے گا تو غریب متاثر ہوگا، دراصل ایک خودساختہ مفروضہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سگریٹ نوشی کی شرح نچلے طبقے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی روزی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے تو ترستا ہے، مگر روزانہ اوسطاً پچاس سے دو سو روپے تک سگریٹ پھونک ڈالتا ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت بڑھا دی جائے، اگر اس پر بھاری ٹیکس لگا دیا جائے، تو سب سے پہلے، فائدہ اسی غریب کو ہی ہوگا۔کیونکہ جب چیز مہنگی ہوتی ہے تو خواہشیں ماند پڑنے لگتی ہیں، لت کمزور پڑ جاتی ہے، اور آدمی اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جب وہاں سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کیا گیا تو تمباکو نوشی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ فلپائن، برطانیہ، جنوبی افریقہ، جیسے کئی ممالک اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ مگر ہمارے ہاں سگریٹ پر ٹیکس کی بات آتے ہی سیاسی و معاشی مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں۔

    ریاست کی یہ مجرمانہ خاموشی قاتل پولیسی دراصل ان قوتوں کے سامنے شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہے،جو تمباکو کو ایک منافع بخش صنعت سمجھتی ہیں۔ چند کمپنیاں، چند لابی گروپس، اور چند کرسیوں کے غلام جب مل کر پالیسی بناتے ہیں تو اس میں عوام کے حق کی بجائے سرمایہ دار کی تجوریاں ہی محفوظ کی جاتی ہیں۔سگریٹ بنانے والی کمپنیاں دن رات سوشل میڈیا اور روایتی اشتہارات کے ذریعے نئی نسل کو اپنی زنجیر میں جکڑنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔جبکہ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو اس قدر فنٹاسائز کیا جاتا ہے کہ نوجوان نسل اسے فیشن سمجھنے لگتی ہے۔ جبکہ حکومت ایسی سرگرمیوں کے خلاف کمر کسنے کی بجائے ان کے پر "18+، صحت کے لیے مضر” کی چھاپ لگا کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس محض مالیاتی پالیسی کا حصہ نہیں، بلکی یہ ایک اصلاحی اقدام ثابت ہوگا ہے۔ اس سے نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کو صحت عامہ کے شعبے میں ٹیکس کولیکشن کی مد میں بھاری سرمایہ بھی میسر آئے گا۔ اور اس سرمائے کو مختلف طریقوں سے خرچ کیا جاسکتا ہے،جیساکہ؛

    * سگریٹ نوشی ترک کرنے والوں کےلیے مفت کونسلنگ سنٹرز
    * نوجوانوں کے لیے انسداد تمباکو نصاب
    * سرکاری اسپتالوں میں تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کے مفت علاج کی سہولت
    * اور تمباکو ساز اداروں کے اشتہارات پر سخت پابندی۔

    اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو محض چند سالوں میں ہی تبدیلی ممکن ہے، مگر اس تبدیلی کےلیے اقدامات خان صاحب کی طرح جذبات سے نہیں، بلکہ عقل سے کرنے ہونگے۔

  • ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    زمینی جنگ شروع ہونے سے پہلے، ایک جنگ اندر شروع ہو جاتی ہے۔دل اور دماغ کی جنگ۔ دلیل اور جذبات کی جنگ۔ قلم اور تلوار کی جنگ۔ اور جب بیرونی سرحدوں پر توپوں کا شور گونجتا ہے، تب یہ اندرونی جنگ انجام تک پہنچتی ہے۔ ایک طرف حب الوطنی کے جذبات کا طوفان ہوتا ہے، اور دوسری طرف روشن خیالی کے نام پر شکوک و شبہات کی طغیانی۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب دشمن کی توپوں کا منہ ہماری دھرتی کی طرف ہوجائے ، جب وطن کی مٹی کی مہک بارود میں گم ہونے لگے، جب گھر سے دور، بیمار پڑی ماں کے دکھ، ہسپتال میں زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑتی بیوی کو چھوڑ کر سپاہی سرحد پر کھڑا ہو۔ تو اُس وقت ریاستی بیانیے پر تنقید کر کے کیا ہم سچ بول رہے ہوتے ہیں، یا دشمن کے جھوٹ کا ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں؟
    یہ وقت نہیں کہ ہم اپنی فوج کی کارکردگی پر سوالات اٹھائیں، یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مکار دشمن کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائے۔ گزشتہ رات ہونے والے حملوں کا مجھ سمیت 90 فی صد پاکستانیوں کو صبح جاگ کر پتہ چلا۔ اگر فوج نہ ہوتی تو ابھی تک ہمارا بھی شاید پتہ نہ ہوتا۔

    بھارت نے اس بار بھی اپنے روایتی چالاک اور بزدل طریقوں کو دوبارہ آزمایاہے۔ اور اس بار وہ ہماری سول سوسائٹی پر حملہ آور ہوا۔ رات کی تاریکی ہمارے مقدس مقامات، مساجد اور مدارس کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔کم ظرف دشمن نے ہمارے شہریوں، عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، اور ان معصوم جانوں کا خون ہماری سرزمین پر بہایا۔یاد رکھیں، ان حملوں کا مقصد سرحدی علاقوں کو متاثر کرنا نہیں تھا، بلکہ پوری قوم کی روح پر ضرب لگانا تھا۔ جب دشمن ہمارے ثقافتی ورثے، ہماری مساجد اور مدارس پر حملہ کرتا ہے، تو وہ صرف ہماری فوجی طاقت کو نہیں، ہماری روایات، ایمان اور تاریخ کو چیلنج کرتا ہے۔ہم اس وقت صرف بھارت سے نہیں لڑ رہے، اس لڑائی کے پیچھے وہی پرانا منصوبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر بیرونی حملے کو صرف ’ردعمل‘ کے طور پر پیش کرنا۔ اس بار بھی وہی پرانا منظرنامہ ہے، اداکار بھی وہی ہیں پرانے ہیں،مگر سکرپٹ رائٹر زیادہ چالاک ہے۔ اب میز پر بھارت کے ساتھ اسرائیل بھی بیٹھا ہے، اور ان کے سامنے صرف ایک ہدف ہے،پاکستان کو غیر مستحکم کرنا۔

    ایسے میں، اگر کوئی اندر سے اپنے ہی محافظ پر شک کرے، تو وہ شک نہیں، شراکت داری کہلائے گی۔ اس وقت میرا وہی بیانہ ہے، جو میری ریاست کا بیانیہ ہے۔
    ریاست کی بقا کسی ایک ادارے کی نہیں، پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اختلاف کا وقت امن ہوتا ہے، جنگ میں صرف اتحاد ہوتا ہے۔ جیسے محاذ پر ایک سپاہی اپنی جان کی پروا کیے بغیر مورچے میں بیٹھا ہے، ویسے ہی ہمیں اپنی رائے کی آزادی کو تھوڑی دیر کے لیے ملک کے وقار کے تابع کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب توپ کا منہ کھلتا ہے، تب بڑی سے بڑی دلیلوں کا منہ بند ہوجاتا ہے۔

  • کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج  اور تقسیم انعامات کی شاندار تقریب

    کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج اور تقسیم انعامات کی شاندار تقریب

    لاہور (باغی ٹی وی) کمال گرائمر سکول لاہور برانچ میں سالانہ نتائج کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو شیلڈز اور میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ والدین اور معزز مہمانوں نے طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسول مقبولﷺ پیش کی گئی۔ اس موقع پر پرنسپل کمال گرائمر سکول فیضان افتخار ہاشمی، ڈائریکٹر کمال گروپ آف انسٹیٹیوٹشنز رمضان علی، پرنسپل سلیم ماڈل سکول سلیم عالم، نوجوان ادیب و معلم اعجازالحق عثمانی، سمیت معزز اساتذہ، والدین اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران طلبہ نے مختلف ثقافتی و تربیتی ٹیبلوز اور خاکے پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔ مہمانان نے کامیاب طلباء کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مستقبل میں مزید محنت کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے ادارے کی تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کمال گرائمر سکول کا کردار قابلِ ستائش ہے۔

    تقریب میں مہمانانِ گرامی نے پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں شیلڈز اور میڈلز تقسیم کیے۔ والدین اور شرکاء نے تقریب کے بہترین انعقاد پر پرنسپل فیضان افتحار ہاشمی کو مبارکباد پیش کی۔ بہترین نتائج اور تقریب کے انعقاد کو بھی سراہا

  • "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں انصاف و قانون کی تعریف ذرا مختلف ہے۔ یہاں قانون طاقتور کے لیے سہولت، اور کمزور کے لیے سزا ہوتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، حکومت نے ایک اور کمال کاریگری دکھاتے ہوئے پیکا ایکٹ متعارف کرایا، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ حکومت جو کہے، وہی سچ ہے، اور جو عام عوام کہے، وہ جھوٹ، پروپیگنڈہ اور فتنہ پروری۔ یعنی اگر آپ کہیے کہ ملک میں سب اچھا نہیں، تو آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر کوئی سرکاری ترجمان کہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، تو اس پر چپ چاپ یقین کرلینا ہے۔ کیونکہ بولنا منع ہے۔

    دوسری طرف، حکومت نے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ پنجاب میں بھکاریوں پر پابندی لگا دی جائے۔ گویا ملک میں غربت ختم ہو چکی ہے، بس ایک مسئلہ باقی تھا کہ سڑکوں پر بیٹھے یہ لوگ جو بھوک سے مجبور ہو کر ہاتھ پھیلا رہے ہیں، انہیں جیل میں ڈال کر غربت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ یعنی مسئلہ غربت نہیں، بلکہ غربت کا نظر آنا ہے!

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ قوانین بناتے کون ہیں؟ یقیناً وہی لوگ جو خود عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں، ان کے ٹیکسوں سے چلنے والے ایوانوں میں بیٹھ کر ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دیتی ہیں۔ اگر بھکاریوں پر پابندی لگانی ہے، تو کیا ملک کے وہ "اعلیٰ درجے” کے بھکاری بھی اس میں شامل ہوں گے جو بیرون ملک سے قرضے مانگ کر ملک کو گروی رکھ دیتے ہیں؟ یا یہ قانون صرف عام عوام کے لیے ہے؟

    پیکا ایکٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اب صرف وہی خبر معتبر ہوگی جو حکومت کی نظر میں قابلِ قبول ہو۔ اگر آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا جو حکمرانوں کے مزاج کے خلاف ہوا، تو سیدھا جیل کی سیر کرنی ہوگی۔ اب اگر کوئی کہے کہ مہنگائی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے، تو یہ افواہ ہوگی۔ اگر کوئی کہے کہ لوگ فاقے کر رہے ہیں، تو یہ ریاست مخالف بیانیہ ہوگا۔ اور اگر کسی نے لکھ دیا کہ "حکومت نااہل ہے”، تو یہ یقیناً ریاست کے خلاف سازش تصور ہوگا۔یعنی اب عوام کی مرضی کی رائے نہیں چلے گی، صرف حکومت کی پسندیدہ رائے ہی سچ ہوگی۔ اگر سرکاری میڈیا کہے کہ ملک میں سب اچھا ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا۔ اگر حکومتی وزرا بیان دیں کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، تو آپ کو اپنے خالی ہاتھ اور خالی جیب کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی صحافی یا عام شہری حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے گا، تو وہ ریاست مخالف، ملک دشمن، یا کسی غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والا قرار پائے گا۔

    یہ قانون ایک طرح سے اس خیال کو عملی جامہ پہنا رہا ہے کہ "عوام کو وہی دیکھنا اور سننا چاہیے جو حکومت انہیں دکھانا اور سنوانا چاہتی ہے۔” گویا جمہوریت اب بس ایک دکھاوا ہے، اصل طاقت وہی ہے جو چند طاقتور افراد کے ہاتھ میں ہے۔

    بھکاریوں پر پابندی لگانے کا قانون بھی ایک انوکھا تماشا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر سڑکوں پر بیٹھے فقیر نظر نہیں آئیں گے، تو غربت خودبخود ختم ہو جائے گی۔ بھئی، کوئی ان عقل کے اندھوں کو سمجھائے کہ غربت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے معیشت کو بہتر بنانا پڑتا ہے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے پڑتے ہیں، نہ کہ ان غریبوں کو پولیس کے حوالے کر دینا ہوتا ہے۔

    اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی، تو سب سے پہلے وہ یہ دیکھتی کہ ملک میں لاکھوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے چوراہوں پر بھیک منگوانے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کے پاس تعلیم، صحت اور روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے وہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے کوئی پالیسی بنانے کے بجائے حکومت نے آسان راستہ اختیار کیا،بھیک مانگنے پر ہی پابندی لگا دو، مسئلہ خود حل ہو جائے گا!

    یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ قانون پیشہ ور بھکاریوں کے لیے ہے؟ یا پھر اس کے ذریعے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو حقیقتاً مجبور ہیں؟ پاکستان میں کئی ایسے گروہ موجود ہیں جو بھکاریوں کے نام پر مافیا چلا رہے ہیں، بچوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی بھیک منگوائی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ قانون ان مافیاز کے خلاف استعمال ہوگا؟ یا پھر صرف سڑک کنارے بیٹھے اس بوڑھے شخص کے خلاف، جو دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے؟
    اب اگر ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے حکمران عوام کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں، تو ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ جب بات اپنی تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کی ہو، تو حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ جاتی ہے۔ ان کے بل چند منٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں، کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ لیکن جب عوام کی فلاح کے لیے کوئی پالیسی بنانے کی بات آتی ہے، تو یہی سیاستدان ایک دوسرے کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، مگر عوام کو کہتے ہیں کہ صبر کرو، قربانی دو، اور حب الوطنی کا ثبوت دو۔ ان کے اپنے گھروں میں دنیا کی ہر سہولت موجود ہے، ان کے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی ادارے ہیں، ان کے علاج کے لیے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عوام کے لیے نہ صحت کی کوئی سہولت ہے، نہ تعلیم، نہ روزگار۔

    یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کتوں کے لیے بھی خصوصی خوراک درآمد کرواتے ہیں، لیکن عوام کو روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ جنہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں، انہیں یہ لوگ سمجھاتے ہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کم کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دے؟ حکمران اپنی عیاشیوں میں کمی کیوں نہیں کرتے؟ خیر بات کسی اور طرف چل نکلی ہے۔یہ دونوں قوانین پیکا ایکٹ اور بھکاریوں پر پابندی۔۔۔۔۔۔درحقیقت اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قوانین بنانے کا مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا نہیں، بلکہ ان پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے حکومت نے یہ واضح کر دیا کہ آزادیٔ اظہار صرف طاقتوروں کے لیے ہے، اور بھکاریوں پر پابندی کے قانون کے ذریعے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ غربت کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غریبوں کو جیل میں ڈال دیا جائے۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بھکاریوں پر پابندی لگانی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں غربت کی وجوہات ختم کیے بغیر صرف بھیک مانگنے پر پابندی لگانا سراسر ظلم ہے۔ اور یہی حال پیکا ایکٹ کا ہے۔ اگر حکومت واقعی صحافت اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کو روکنا چاہتی ہے، تو اسے شفاف نظام بنانا ہوگا، نہ کہ ایسا قانون جس سے سچ بولنے والوں کی زبان بندی کی جائے۔

    لیکن ہوگا تو وہی جو "وہ” چاہیں گے۔ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرنے میں لگے رہیں گے، تب تک یہی صورتحال رہے گی۔ جو سوال کرے گا، وہ مجرم ٹھہرے گا۔ جو بھوکا ہوگا، وہ قید میں جائے گا۔ اور جو حکمران ہوگا، وہ ہمیشہ دودھ اور شہد کی نہروں میں نہاتا رہے گا۔ یہی ہے پاکستان میں قوانین کا تلخ مگر اصل چہرہ ہے…

  • "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا کے سیاسی نقشے پر امریکہ کی اہمیت اور اس کے فیصلوں کی گونج کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت دوبارہ امریکی صدارت کی گدی پر بیٹھتی ہے، تو دنیا کے کئی ملکوں کے سیاسی و معاشی نظاموں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ 20 جنوری 2025 کو ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان کامیابی اور امن کی ہوگی یا تنازعات اور مشکلات کی؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کا بنیادی اصول ان کے معروف نعرے "امریکہ فرسٹ” میں مضمر ہے۔ وہ اپنی مہم میں ہمیشہ یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ امریکہ کو باقی دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں، بلکہ اسے اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی فلسفے کے تحت انہوں نے 2016 میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد کئی عالمی معاہدوں سے امریکہ کو نکال دیا، جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ شامل تھے۔ یہی فلسفہ ان کے دوسرے دور اقتدار میں بھی غالب نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ وہ امریکہ کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں، چاہے اس سے ماحولیات، انسانی حقوق، یا عالمی تعلقات پر کتنا ہی برا اثر پڑے۔ ان کی پالیسیوں کے مطابق امریکہ کا سب سے بڑا دشمن غیر ملکی مداخلت، امیگریشن، اور صنعتی معیشت پر لگائی گئی قدغنیں ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ان کی امیگریشن پالیسی نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان ان کی سب سے متنازع اور پہچانی جانے والی پالیسی تھی۔ یہ دیوار محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ ٹرمپ کی سیاست کا علامتی مظہر تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً دو ہزار میل طویل سرحد پر وہ محض ساڑھے چار سو میل کی دیوار بنا سکے۔ کانگرس اور عدلیہ کی مخالفت نے اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام کر دیا۔ اب دوسرے دور اقتدار میں ٹرمپ اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ساتھ ہی وہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی ماحولیاتی پالیسی کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صنعتی ترقی کو کسی بھی قیمت پر روکنا نہیں چاہتے۔ پیرس معاہدے سے نکلنے کا ان کا فیصلہ عالمی ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا تھا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے عائد کردہ قوانین امریکی معیشت پر غیر ضروری بوجھ ہیں۔ وہ گیس اور تیل کی پیداوار کو بڑھانے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ پالیسی طویل مدت میں امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ بڑھتا ہوا ماحولیاتی بحران اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال عالمی معیشت اور ماحول کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تعلقات کا انداز روایتی سفارت کاری سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور نیٹو جیسے اداروں کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں اور چین، روس، اور ایران جیسے ملکوں کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسی کا ایک بڑا امتحان مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ہوگا۔ ایران کے ساتھ تعلقات پہلے ہی خراب ہیں، اور ٹرمپ کی پالیسی انہیں مزید بگاڑ سکتی ہے۔ اسی طرح چین کے ساتھ تجارتی جنگ اور روس کے ساتھ تعلقات کی غیر یقینی صورتحال بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔

    ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی معیشت کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ ان کے دور میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھنے کو ملا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا طویل مدتی اثر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس میں کمی،غیر ضروری اخراجات، اور صنعتی قوانین میں نرمی امریکی معیشت کو عارضی طور پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھنے اور اقتصادی عدم توازن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست کا ایک تاریک پہلو ان کا انتقامی رویہ ہے۔ 6 جنوری 2021 کو کانگرس پر حملے کے بعد ان کے حامیوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب ٹرمپ نےان افراد کو معاف کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے نئے قوانین اور احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت امریکی جمہوریت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کی پالیسیاں نہ صرف داخلی بلکہ خارجی سطح پر بھی تنازعات کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اگرچہ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا طرز حکمرانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے چار سالوں میں ٹرمپ دنیا میں کتنی بڑی تبدیلی لا سکیں گے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کا دوسرا دور اقتدار امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گا

  • "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن’.تحریر اعجازالحق عثمانی

    پاکستانی سیاست میں جو نظر آتا ہے، وہ حقیقت نہیں ہوتی، اور جو حقیقت ہوتی ہے، وہ نظر نہیں آتی۔ آج کل ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بازی عشق کی بازی ہے، جو ہارے گا، وہ جیتے گا، اور جو جیتے گا، وہ ہارے گا۔
    عمران خان جیل میں ہیں، ان کی جماعت کٹی پھٹی حالت میں ہے، عدالتوں میں مقدمے، پارٹی میں بغاوتیں، اور مخالفین کا دباؤ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی وہ ملکی سیاست کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔ سیاسی میدان میں سب سے زیادہ اسکور اس وقت بھی ان کے بیانیے کا ہی ہے۔چاہے عدالتوں کے فیصلے ان کے خلاف آئیں، چاہے پارٹی پر پابندیاں لگیں، عوام کے دلوں میں ان کی جگہ اب بھی قائم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی اس مقبولیت کو بچا پائیں گے؟ یا پھر اس کہانی کا انجام وہی ہوگا، جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے؟
    دوسری طرف، وہی پرانا کھیل جاری ہے۔ مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے، کوئی درمیانی راستہ نکالا جا رہا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ حکومت محض ایک مہرہ ہے۔ اصل فیصلہ کہیں اور ہوگا۔ جنہیں مذاکرات کرنا ہیں، وہ ٹیبل پر نہیں بیٹھے، اور جو بیٹھے ہیں، وہ اصل فیصلے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سب کچھ طے شدہ ہے، بس اسکرپٹ پر عمل ہو رہا ہے۔ اور سنا ہے رائیٹر اب سکرپٹ بدلنے لگا ہے۔

    عمران خان جانتے ہیں کہ اگر وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو عوام یہ سمجھے گی، کہ یہ کسی معاہدے کا نتیجہ ہے، تو ان کا سارا بیانیہ برباد ہو جائے گا۔ وہ اب تک ایک مزاحمت کار، ایک نظریاتی لیڈر، اور "حقیقی آزادی” کی علامت بن چکے ہیں۔ لیکن اگر یہی شخص ایک دن خاموشی سے باہر آتا ہے، کیسز ختم ہو جاتے ہیں، اور سیاست میں نرمی آ جاتی ہے، تو کیا یہ سب اتفاق ہوگا؟ نہیں! یہ وہی سیاست ہوگی، جو سالہا سال سے چل رہی ہے۔

    لیکن کھیل صرف عمران خان کے گرد نہیں گھوم رہا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی ایک امتحان میں ہے۔ اگر عمران خان کو مکمل دیوار سے لگا دیا جاتا ہے، تو ملک میں بے چینی بڑھے گی۔ اگر انہیں کھلی آزادی دی جاتی ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھریں گے۔ اس صورتحال میں درمیانی راستہ نکالنا سب سے ضروری مگر ایک مشکل کام ہے۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان باہر بھی آ جائیں، لیکن یہ تاثر بھی نہ جائے کہ وہ جیت گئے ہیں۔ دوسری طرف، عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ وہ باہر آئیں، لیکن ایسا نہ لگے کہ وہ کسی ڈیل کے تحت آئے ہیں۔
    یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اور طاقت کا اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کچھ فیصلے پس پردہ کیے جاتے ہیں، اور عوام کو ایک اور کہانی سنا دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بار یہ کہانی کس کے حق میں لکھی جائے گی؟ کیا عمران خان ایک نئے انداز میں سیاست میں واپسی کریں گے؟ یا یہ ایک اور سبق ہوگا، جو پاکستانی سیاست کی کتاب میں شامل کر دیا جائے گا؟

    یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر واقعی ایک "سیاسی مفاہمت” ہونے جا رہی ہے، تو اس کے پیچھے محرکات کیا ہیں؟ کیا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے؟ یا پھر پس پردہ کوئی ایسا دباؤ ہے جو ان دونوں کو دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں اکٹھا کر رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کو دیوار سے لگانے کی حکمتِ عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوام کا ردعمل، عدالتی فیصلے، اور بین الاقوامی دباؤ، سب نے مل کر ایک ایسی فضا بنا دی ہے جہاں عمران خان کو سیاست سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ یہ بھی نہیں چاہتی کہ عمران خان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں۔

    عمران خان کی سیاست میں ایک چیز واضح ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں، لیکن ان کی مقبولیت ان کی حکمتِ عملی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنے حامیوں کو یہ یقین دلا پاتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے باہر آئے ہیں، تو ان کی سیاست مزید مضبوط ہو گی۔ لیکن اگر عوام کو ذرا سا بھی یہ تاثر گیا کہ عمران خان نے کسی ڈیل کے نتیجے میں اپنی مشکلات کم کی ہیں، تو ان کے لیے اپنی موجودہ مقبولیت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وہ توازن ہے جسے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی یہ ایک نازک موڑ ہے۔ اگر عمران خان بغیر کسی واضح سمجھوتے کے باہر آتے ہیں، تو ان کا بیانیہ مزید مضبوط ہو گا۔ لیکن اگر انہیں کسی شرط کے ساتھ ریلیف دیا جاتا ہے، تو عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ یہ بھی وہی پرانی سیاسی بساط ہے، جہاں سب آخر میں ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پس پردہ بہت کچھ چل رہا ہے، اور عوام کو صرف اتنا دکھایا جا رہا ہے جتنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر عمران خان واقعی باہر آ جاتے ہیں، تو کیا وہ دوبارہ اُسی انداز میں سیاست کر سکیں گے؟ یا پھر ان کے لیے ایسے حالات بنا دیے جائیں گے جہاں وہ محدود ہو کر رہ جائیں؟ کیا ان کی جماعت کو مکمل طور پر بحال ہونے دیا جائے گا؟ کیا انہیں الیکشن میں آزادانہ حصہ لینے دیا جائے گا؟ یا پھر وہ ایک کنٹرولڈ سیاست کا حصہ بننے پر مجبور ہو جائیں گے؟ یہ تمام سوالات اس وقت پاکستانی سیاست کے گرد گھوم رہے ہیں، لیکن ان کے جوابات آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔

    کھیل جاری ہے، اسکرپٹ پر کام ہو رہا ہے، کردار اپنے اپنے ڈائیلاگ یاد کر رہے ہیں۔ بس پردہ اٹھنے کی دیر ہے، دیکھتے ہیں کہ اس بار پردے پر کون ہیرو بن کر آتا ہے

  • او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی

    او سب دی ماں تے سرکاری میراثی
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    اقتدار کی کرسی ایک عجیب نشہ ہے جو حکمران کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ مگر اس نشے کو دوام دینے کا سہرا ان سرکاری میراثی نما خوشامدیوں کے سر جاتا ہے، جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے حکمرانوں کے گرد ایسے گھیرا ڈال لیتے ہیں جیسے مکھی شہد پر۔ آج پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے گرد یہی میراثیوں کا ٹولہ واردات ڈالنے میں مصروف ہے، اور عوامی مسائل سے ان کی توجہ ہٹانے اور اپنے مفاد کے لیے اوچھے حربے آزما رہا ہے۔

    مریم نواز کے اقتدار کا آغاز امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہوا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ان سرکاری میراثیوں کی گرفت میں آ چکی ہیں، جو صرف تعریفوں کے پل باندھنے میں ماہر ہیں۔ ان کے لیے حکومت کا مطلب عوامی خدمت نہیں بلکہ خوشامد کا ایسا کھیل ہے جس میں جیت صرف ان کی چاپلوسی کے ناپاک ہتھکنڈوں کی ہوتی ہے۔

    حال ہی میں پنجاب میں "کھیلتا پنجاب گیمز” کی تقریبات پر بھاری رقم خرچ کی گئی، جبکہ سپورٹس بورڈ کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ ایسے حالات میں خوشامدی ٹولے نے وزیر اعلیٰ کو ایک شاندار تقریب کے ذریعے عوامی ہیرو بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن ان "میراثیوں” کی منصوبہ بندی اتنی کمزور تھی کہ یہ تقریب مریم نواز کے لیے بدنامی کا سامان بن گئی۔

    انہیں لگتا ہے کہ خوشامدی شاعری اور تقریبات کے ذریعے عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں ایک تعلیمی دورے میں ایک طالبہ نے نظم پڑھی، جس میں مریم نواز کو "سب دی ماں” قرار دیا گیا۔ نظم کا انداز ایسا تھا کہ سننے والے ہنسنے پر مجبور ہو گئے، اور سوشل میڈیا پر خوب میمز بنی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ کس طرح سرکاری میراثی مریم نواز کی سیاست کو کھیل تماشا بنا رہے ہیں۔

    یہ میراثی وہی لوگ ہیں جو سابق حکمرانوں کے گن گاتے تھے، اور آج مریم نواز کی خوشامد میں مصروف ہیں۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ حکمران کو عوامی مسائل سے دور رکھیں اور جھوٹے خواب دکھائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، اور ناقص گورننس سے تنگ آ چکے ہیں، مگر وزیر اعلیٰ کے گرد موجود یہ میراثی انہیں بتاتے ہیں کہ سب کچھ "ٹھیک” ہے۔

    مریم نواز کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سرکاری میراثیوں کے گھیرے اور ٹک ٹاک کی دنیا سے باہر نکلنا ان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ خوشامدیوں کے فریب میں آ کر اگر وہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرتی رہیں، تو ان کی حکومت کے دن گنے جا سکتے ہیں۔ پنجاب کے عوام کو لیپ ٹاپ، کارڈ سکیم یا تقریبات نہیں چاہیے؛ انہیں روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات چاہیے۔

    اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کو تاریخ صرف اسی وقت یاد رکھتی ہے جب وہ عوامی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ ان سرکاری میراثیوں کو پہچانیں اور ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔ عوام کے مسائل حقیقی اقدامات کے ذریعے حل ہوں گے، نہ کہ خوشامدی نظموں اور مصنوعی تقریبات سے۔ ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ میراثی بھی کسی اور کی خوشامد میں مصروف ہوں گے، اور عوام مریم نواز کو تاریخ کے ایک اور ناکام کردار کے طور پر یاد کر رہی ہو گی۔