یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام نے انسان کو توہمات، جادو، نجوم اور غیب فروشی سے سختی سے روکا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی واضح اور دو ٹوک ہدایت ہے کہ نجومیوں، کاہنوں اور غیب بتانے والوں کے پاس نہ جایا کرو۔ احادیثِ مبارکہ میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے گویا اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے انحراف کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، جو ایک اسلامی نظریے پر قائم ہونے والی ریاست ہے، یہاں آج یہ مناظر عام ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں باقاعدہ نجومی بٹھائے جاتے ہیں، اینکر حضرات سنجیدہ چہروں کے ساتھ آنے والے سال، سیاسی مستقبل، حکومتوں کی عمر اور حتیٰ کہ قومی سلامتی تک کے سوالات ان سے پوچھتے ہیں۔ یہ سب کچھ براہِ راست اس عقیدے کی نفی ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآنِ کریم واضح اعلان کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم کسی کے پاس نہیں سوائے اللہ کے۔ اس کے باوجود ہم خود کو مسلمان کہلوانے کے باوجود ان لوگوں کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں جو ستاروں، تاریخِ پیدائش یا فرضی حساب کتاب کے ذریعے مستقبل کا سودا بیچتے ہیں۔ یہ صرف دینی گمراہی نہیں بلکہ فکری دیوالیہ پن بھی ہے۔ زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس روش کو عام آدمی نہیں بلکہ بڑے سیاستدان، نام نہاد دانشور اور میڈیا کے بااثر چہرے فروغ دے رہے ہیں۔ جب قوم کی رہنمائی کرنے والے خود اس قسم کی لغزشوں میں مبتلا ہوں تو عام آدمی سے کیا شکوہ کیا جائے؟
یوں لگتا ہے کہ ہم نے تدبر، محنت، منصوبہ بندی اور اللہ پر توکل کی جگہ قسمت کے فال ناموں اور نجومیوں کے تجزیوں کو اپنا لیا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مستقبل کی فکر اللہ پر چھوڑ کر حال کو بہتر بنایا جائے، اعمال درست کیے جائیں، انصاف، دیانت اور محنت کو شعار بنایا جائے۔ مگر ہم ایک ایسی سمت جا رہے ہیں جہاں ناکامی کا الزام کبھی ستاروں پر ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی کسی نجومی کے “کہے” پر قوم کی امیدیں باندھ دی جاتی ہیں۔ یہ روش نہ صرف گناہ ہے بلکہ قوموں کی تباہی کی علامت بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے، علما حق بات کہنے میں مصلحت کا شکار نہ ہوں، اور عوام خود بھی یہ طے کریں کہ وہ غیب کے سوداگر بنیں گے یا اللہ پر کامل یقین رکھنے والی قوم۔ سوال یہ نہیں کہ نجومی کیا کہتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو کب سنجیدگی سے لیں گے؟
