Baaghi TV

Author: اعجاز الحق عثمانی

  • "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جس کا قلم، حق کے اظہار کا ہتھیار بنا اور لفظوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا۔ آج اس باغی کی 13ویں سالگرہ ہے۔باغی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جو تیرہ سال قبل حق اور صداقت کی شمع تھامے میدانِ صحافت میں اترا۔ مبشر لقمان جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی میں یہ ادارہ ایک ایسے شجر کی مانند پروان چڑھا جو اپنی جڑیں حق و انصاف کی مٹی میں گاڑ چکا ہے۔ آج، تیرہ برس کی شب و روز محنت اور کاوشوں کے بعد، باغی ٹی وی اپنی13ویں سالگرہ منا رہا ہے اور یہ جشن صرف ایک ادارہ کے 13 برسوں کی تکمیل کا نہیں، بلکہ یہ ان تمام جدوجہد اور کاوشوں کا اعتراف ہے جو حق کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف کی گئیں۔

    سن 2021 میں جب میرا قلم باغی ٹی وی کے لیے چلنا شروع ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق تھا، لیکن ممتاز اعوان صاحب جیسے مخلص ایڈیٹر کی سرپرستی نے اس سفر کو میری زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ میری پہلی تحریر جب باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، تو وہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کی جیت تھی۔ اس کے بعد، باغی ٹی وی نے میرے ہر مضمون، ہر تحریر کو جگہ دی، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف۔ یہ آزادی اور غیر جانبداری اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

    باغی سے 4 سالہ رفاقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ باغی ٹی وی فقط ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ وہ خبر پہنچانا تھا جو دبائی جا رہی ہو، وہ حقائق اجاگر کرنا جو چھپائے جا رہے ہوں، اور ان مظالم کو بے نقاب کرنا جو خاموشی کی چادر میں لپٹے ہوں۔ جہاں مین اسٹریم میڈیا نے مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں، وہیں باغی ٹی وی نے بغاوت کا علم تھام لیا اور ظلم و جبر کے خلاف بے خوف و خطر آواز اٹھائی۔ اور اس بے باکی کا سہرا بانی "باغی” مبشر لقمان کے سر کو جاتا ہے۔باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے مثبت صحافت کا وہ معیار قائم کیا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خبریں صرف تفریح یا خوف کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور انہیں تعلیم دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ باغی ٹی وی نے اس بات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنی خبروں کو ہمیشہ حقائق پر مبنی اور مثبت انداز میں پیش کیا۔

    باغی ٹی وی نے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے میں ہمیشہ اولیت حاصل کی۔ ظلم، جہالت، اور ناانصافی جیسے موضوعات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ چاہے وہ کرونا کی وبا ہو، زلزلے کی تباہی، یا سیلاب کی تباہ کاری، باغی ٹی وی نے نہ صرف نا صرف قارئین کو باخبر رکھا،بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کیا۔ایک ایسی دنیا میں جہاں خبر کا مطلب صرف پروپیگنڈا ہو، وہاں باغی ٹی وی نے مثبت خبروں کا رجحان متعارف کروایا۔ اس نے عوام کو دکھایا کہ پاکستان میں کئی مثبت ڈیولپمنٹز بھی ہو رہی ہیں اور ان پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مثبت خبریں نہ صرف لوگوں کو امید دیتی ہیں بلکہ انہیں بہتر مستقبل کی کوشش کےلیے بھی مائل کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے تیرہ سالہ سفر کی کہانی صرف ایک ادارے کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک تحریک کی گواہی ہے جس نے ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔ اس تیرہ سالہ سفر پر باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی سمیت دیگر ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی حق اور سچائی کی راہ پر چلتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا رہےگا

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں

    خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں

    خدارا!اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔جس کے نتیجے میں اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس یعنی مزاحمت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 51 فی صد افراد اینٹی بائیوٹکس از خود استعمال کرتے ہیں۔ بغیر کسی ڈاکٹر کی تجویز کے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کس طرح ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے، اینٹی بائیوٹکس ادویات کیا ہوتی ہیں؟ یہ جاننا ضروری ہے۔
    اینٹی بائیوٹکس وہ دوائیں ہیں جو بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے یا انہیں مکمل طور پر ختم کرنے یعنی مارنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن ان کا بے جا اور غیر ضروری استعمال آپ کےلیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کیا ہے؟
    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت ایک ایسی کنڈیشن ہے کہ جس میں بیکٹیریا اپنی ساخت میں تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس ان تبدیل شدہ بیکٹیریا کی ساخت پر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ تبدیل شدہ ساخت والے بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا ہونے کے بعد بیکٹیریا پر اینٹی بائیوٹکس کا اثر نہیں ہوتا ہے۔

    اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کی وجوہات:
    ڈاکٹری نسخے کے بغیر استعمال:
    ہمارے ہاں اکثر لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرتے ہیں۔ گھر میں کسی اور مریض کی پڑی ادویات یا (انھیں جس بھی اینٹی بائیوٹک دوائی کا نام یاد ہوتا ہے) بغیر کسی کوالیفائیڈ ڈاکٹر کی ہدایت کے خود میڈیکل سٹور سے خرید کر استعمال کرلیتے ہیں، یہ عمل صحت کے لیے نقصان دہ ہو ثابت ہو سکتا ہے۔
    ادھورا علاج:
    مریض اکثر دوائی کا کورس مکمل نہیں کرتے جس سے بیکٹیریا مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اور اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔
    غلط تشخیص:
    اتائی ڈاکٹر اور نان کوالیفائیڈ طبیبوں سے بچیں، ورنہ بلا ضرورت اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے کی وجہ سے آپ کا جسم اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کا شکار ہو سکتا ہے۔

    اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس یا مزاحمت کے نتائج:
    پاکستان میں سالانہ 3 لاکھ افراد اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس رکھنے والے بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے انفکشنز سے براہ راست موت کا شکار ہوتے ہیں۔ جبکہ 7 لاکھ کے قریب اسی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    مگر حل کیا ہے؟:
    ذمہ دارانہ استعمال:

    اینٹی بائیوٹکس صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر لیں۔ سلف میڈیکیشن سے گریز کریں۔
    عوامی آگاہی:
    اینٹی بائیوٹکس کے بے جا اور غلط استعمال کے نتائج اور نقصانات سے حکومتی سطح پر عوامی آگاہی مہم کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا چینلز کو بھی چاہیے کہ وقتاً فوقتاً آگاہی پروگرام نشر کیے جائیں۔
    قانون سازی:
    بغیر نسخے کے ہر قسم کی دوائیوں کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ اور خلاف ورزی پر سخت سزا اور جرمانے عائد کیے جانے چاہیے۔

    "اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو” (القرآن)
    اپنی جانوں پر ظلم نہ کیجیے ۔اور خدارا! اینٹی بائیوٹکس ٹافیاں نہیں ہیں۔ سو ان کو دوائی سمجھ کر ہی استعمال کیجیے۔ اینٹی بائیوٹکس بلاشبہ نعمت خداوندی ہیں ،احتیاط سے استعمال کریں،ان سے بیماری کو بھگائیں نہ کہ بڑھائیں۔

  • کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی موٹر وے اور پنڈی و اسلام آباد اور مری کے تعلیمی ادارے بوجہ مرمت بند رہیں گے۔ یہ اعلان تو سنا دیا گیا۔ مگر بتایا نہیں گیا کہ مرمت کس کی ہورہی ہے۔ سکول اور موٹر ویز پر تو مرمتی ٹھیکے داروں نے گندگی نگاہ تک نہیں ڈالی۔ خیر چھوڑیے۔۔۔۔۔
    سنا ہے کہ قیدی آزاد ہے،اور بادشاہ فیصلے کرنے میں مفلوج۔ جسے سیاہ ست نہیں آتی تھی، اس نے ڈنگی لگا کر آنے والوں کو وخطہ ڈالا ہوا ہے۔ آزاد قیدی نے جمہوریت کے چیمپئنز کے منہ سے نہ صرف نقاب اتار ڈالا ہے۔بلکہ میدان چال میں اپنا خیمہ اتنا مضبوط کر ڈالا ہے کہ اس کے مخالفین کا سانس خود اپنی چالوں سے گھٹ رہا ہے۔
    پہلے حکومتوں کے سیاسی مخالفین اپنے مطالبات کے لیے ملک کی شاہراؤں کو بند کرتے تھے۔مگر اس بار آزاد قیدی نے تاریخ بدل ڈالی۔ جیل کے سلاخوں کے پیچھے بیٹھا وہ شخص اس قدر مقبول ہوگیا ہے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر دھرنوں اور جلسوں کا اعلان کرتا ہے۔ اور اس کے مخالفین کو ایک روز پہلے ہی نہ صرف کچھ اہم شاہرائیں بلکہ ملک کو عملی صورت میں بند کرنا پڑ جاتا ہے۔
    24 نومبر کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اڈیالہ جیل سے فائنل کال کا اعلان کیا۔ اور کارکنان کو اسلام آباد اپنی رہائی کی غرض سے ہر حال میں پہنچنے کا کہا۔ تاکہ احتجاج کرکے شہر اقتدار کو بند کیا جائے۔ اور حکومت سے مذکرات اور مطالبات منوائے جائیں۔ مگر حکومت نے اپنے سیاسی مخالف کی خواہش خود ہی پوری کر دی۔ 23 نومبر کو ملک کی اہم ترین موٹر ویز اور شاہراؤں کو حکومت نے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا۔ اور ملک کی تقریباً 60 فی صد آبادی کو گھروں اور اپنی گلیوں میں محصور کر دیا گیا۔ دوسری جانب علی امین گنڈا پور کے پی کے کے تمام تر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کےلیے روانہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کے قافلے میں سرکاری ملازم، سرکاری مشینری اور بعض اطلاعات کے مطابق پولیس فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں۔ جو تاحال 25 نومبر شام 7 بجے اسلام آباد نہیں پہنچے۔

    کیا یہ کچھوے کی چال، آزاد قیدی کی چال تو نہیں؟۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق احتجاج کی صورت میں ملک کی معیشت کو 190 ارب کا روزانہ نقصان ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی تو احتجاج ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ حکومت معاشی دباؤ میں آکر ان کے مطالبات مانے۔ مگر حکومت نے 23 نومبر کو خود ہی ملک کو بند کردیا۔ اور قیدی کی چال کو مزید کامیاب بنانے کےلیے راہ ہموار کی۔ علی امین گنڈاپور جس رفتار سے چل رہے ہیں لگتا یہی ہے کہ یہ کچھوے کی چال 27٫26 نومبر کو بھی چلے گی۔ اور یوں حکومتی حلقوں میں ٹینشن بڑھے گی۔”علی امین گنڈاپور جب لیٹ آئے گا تو ٹینشن بڑھے گا، جب علی امین گنڈاپور زیادہ لیٹ آئے گا تو زیادہ ٹینشن بڑھے گا”۔
    یوں 24 نومبر کو شروع ہونے والا احتجاج 26 نومبر کو شروع ہوگا،لیکن ختم ہونے کا وقت نہیں مقرر۔ مگر تاحال ڈوبتی معیشت کو 580 ارب کا مزید غوطہ دیا جا چکا ہے۔ اور کئی ارب کا مزید خسارہ ہوگیا،مگر قیدی کو معیشت نہیں رہائی چاہیے

  • "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بل کھاتا ڈھلوانی راستہ،اور راستے میں اداس چرواہوں،بے چین و مغموم پرندوں،شدید سوگوار ایستادہ درختوں کے سنگ چلنے کے بعد اچانک ایک موڑ پر منظر کھلتا ہے۔نیلے،سفید گنبد اور ایک آبادی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اداس راستے کی افسردگی اور پژمردگی ختم کرنے کےلیے کافی تھا۔انھی گنبدوں کے قریب مندر اور گوردوارے بھی موجود تھے۔ چاروں طرف ہی مذہبی رواداری کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔ جب بارہویں کی کھیر کسی ہندو کے گھر کھائی جاتی،اور جب ہندو بہن،مرکزی بازار میں واقع سردار جی کی دکان سے خرید کر مسلمان بھائی کو راکھی باندھتی،تو پاس بہتا خاموش سندھو (دریائے سندھ) پُرجوش ہو کر اچھل پڑتا۔صد افسوس! آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔یہ شہر تو وہیں ہے،مگر یہ مناظر وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔یہاں کے ملاحوں کی بستی کے بوڑھے ملاح نے اپنی بیڑی کے چھید تو بھر لیے،مگر بستی کی تاریخ و تہذیب کے پیراہن میں لگے چھید کون رفو کرے گا؟

    گزشتہ برس عید پر آبائی گاؤں خوشحال گڑھ جانا ہوا۔مکھڈی حلوہ تو کھانے کو نہ ملا،مگر مکھڈ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوگیا۔میں پہاڑوں کا مرید ہوں،اور وادیاں میری مرشد،جبکہ سفر،نہ راضی ہونے والی محبوبہ۔اسی کو راضی کرنے کےلیے مکھڈ شریف کےلیے رخت سفر باندھا۔بل کھاتے پہاڑی راستوں پر اس قدر اداسی و افسردگی تھی کہ سر سبز و شاداب درخت بھی غمکین معلوم پڑتے۔پورے راستے میں پہاڑوں کے علاؤہ چند چرواہے،ریوڑ اور طویل ویرانیاں۔۔۔۔۔۔ یہ سفر مجھے کسی ناپسندیدہ لیکچر سے بھی کہیں زیادہ بورنگ لگنے لگا۔مگر اچانک ہم ایک موڑ مڑتے ہیں،تو آنکھیں ٹھنڈی اور تھکان و اداسی زائل ہونے لگ پڑتی ہے۔نیلے نیلے گنبد اور ان کے قریب چھوٹی سی بستی دیکھ کر لگا کہ ویرانیاں اور اداسیاں ختم ہوئیں،اور آغاز بہار ہو گیا ہے۔مناظر آنکھوں میں قید کرتے آگے بڑھتے گئے،کیونکہ ہماری اصل منزل دریائے سندھ تھا۔اپنے وقتوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز سے آج گزرے تو یوں لگا کہ جیسے کسی شہر خموشاں سے گزر ہو رہا ہو۔یوں ہماری بہار و رونق کی امید دریائے سندھ پہنچنے سے پہلے ہی دریا برد ہوگئی۔

    تاریخ کے اوراق کہتے ہیں کہ سی پیک تراپ انٹرچینج کے قریب دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ مکھڈ، تاریخی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔جب پٹڑیاں اور سڑکیں نہ تھیں،تب دریائی راستے استعمال کیے جاتے۔مکھڈ کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ دریائے سندھ میں چلنے والے بحری بیڑوں کی آخری بندرگاہ تھی۔اور دوسری بڑی وجہ کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کےلیے یہی سب سے موزوں ترین آبی بندرگاہ تھی۔کالا باغ کا نمک بھی اسی راستے سے افغانستان سے ہوتا ہوا دوسرے ممالک جاتا۔اس لیے اس دور میں یہ علاقہ بڑی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔یہاں کے بازاروں میں قدیمی پتھروں اور لکڑی کے تختوں سے بنی موجود دکانیں آج بھی عظمت رفتہ کی قصہ خواں ہیں۔

    بند بازار کو دیکھتے ہوئے،چلتے گئے۔اب راستہ قدرے مشکل شروع ہورہا تھا۔کیونکہ ہمیں نیچے دریا کی طرف جانا تھا۔چند قدم چلنے کے بعد ایک دیو مالائی خستہ حال مندر نظر آیا۔اسی عمارت کے قریب خاموش بہتا اداس دریائے سندھ اور دریا میں تیرتی چند کشتیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ علاقہ نہ صرف تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا،بلکہ تہذیب و ثقافت کے بھیدوں کا مہاکھڈ بھی تھا۔ کئی گرودوارے، منادر اور ان پر بنے نقش نگار اپنی جانب متوجہ کراتے ہوئے،نوحہ کناں ہیں۔اس کی تہذیبی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ قبل از مسیح سے آباد ہے۔اور یہ بدھ مت،سکھ ازم،ہندومت اور اسلام چار تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔1650 میں ایک صوفی بزرگ نوری بادشاہ یہاں آئے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔جن کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے۔

    سندھو دریا کے کنارے ہم نے مچھلی پلا تو نہ کھایا،مگر مچھلیوں کے قریب جانے کےلیے کشتی میں بیٹھ گئے۔لکڑی کے بھاری بھرکم تختوں کے اوپر لگا انجن اسٹارٹ ہونے سے سندھو کا سکوت ٹوٹا،تو برا بھی لگا۔مگر سورج کی شعاعوں سے سنہری لہریں دل کو بھانے لگی۔سندھو کی اٹھتی موجوں کو چھونے کا لمس۔۔۔۔۔اور سہنری لہریں،ہمیں کشتی سے اترنے ہی نہیں دے رہی تھی۔جب سورج نے غروب ہونے کی تیاری کی،تو ہم بھی گھر طلوع ہونے کے لیے نکل پڑے

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

  • "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

    قارئین کرام! جب پانچ ہزار طلب علموں کو ڈیجیٹل ہنر سکھانے والے اور لاکھوں ڈالرز کا زرمبادلہ پاکستان لانے والے استاد پر اپنے ہی ملک کی زمین تنگ کر دی جائیں۔ اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ "ہم اپنا ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں”۔ تو پھر لگتا ہے کہ جالب نے ٹھیک کہا تھا کہ

    یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
    اے چاند یہاں نہ نکلا کر

    تنویر نانڈلہ نامی نوجوان جو ملتان کے ایک گاؤں میں انتہائی متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔مگر مالی وسائل کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا۔ مگر ہمت نہ ہاری۔ دیکھتے دیکھتے اس نوجوان نے آئی ٹی کی دنیا میں دھوم مچا دی۔ اپنی انتھک محنت کے باعث پاکستان کا نمبر ون بلاگر بنا، اور پھر اسے حکومت پاکستان نے "پرائڈ آف پاکستان” سے بھی نوازا۔ مگر مٹی سے محبت کرنے والے اس نوجوان کو، اب اپنے ہی ملک میں رہنے نہیں دیا جارہا۔ ملتان کے ایک مقامی ایم پی اے کی پشت پناہی رکھنے والا ایک قبضہ مافیا گروپ پچھلے کئے برسوں سے تنویر نانڈلہ اور ان کے خاندان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کررہا ہے۔ کچھ برس پہلے بھی تنویر نانڈلہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،مگر خوش قسمتی سے پاکستان کا یہ قیمتی آساثہ بچ نکلا۔ گزشتہ روز تنویر نانڈلہ نے فیس بک پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی۔ جس میں انکا کہنا تھا کہ میرے بھائی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔مگر جب گولی انھیں نہ لگی تو تشدد کرکے ان کا سر پھاڑ دیا گیا۔اس ویڈیو میں تنویر نانڈلہ نے مزید کہا کہ پولیس بھی انہیں قانونی مدد فراہم نہیں کر رہی۔اور نہ ہی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تنویر جیسے ذہین نوجوان کی اس ملک میں حالت دیکھیے اور ماتم کیجیے کہ یہ وہ نوجوان ہے، جسے اس ملک کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال نے شاہین کہا تھا۔ اقبال نے ایسے ہی نوجوانوں کے لیے کہا تھا کہ:

    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

    یہ نوجوان تنویر نانڈلہ بھی اقبال کے شاہین کی طرح اپنی منزل کےلیے محنت کرتا رہا۔اور اس نے نہ صرف اپنی منزل پر پہنچ کر اپنا نام روشن کیا، بلکہ دنیا بھر میں ملک پاکستان کے نام کے جھنڈے بھی گاڑے۔ مگر افسوس۔۔۔۔۔

    گزشتہ برس بھی ان پر قاتلانہ حملہ ہوا،مگر ایک طالب علم کی وجہ سے تنویر نانڈلہ اس حملے سے بچ گئے۔ ان کے خاندان کے لوگوں پر کئی جھوٹے مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں۔ادارے تو اس نوجوان کو انصاف دینے میں تاحال ناکام ہیں۔مگر پاکستانی عوام نے اپنا حق ادا کر دیا۔ تنویر نانڈلہ کے سوشل میڈیا پر ویڈیو اپلوڈ کرنے کے بعد چند گھنٹوں میں ٹوئٹر پر JusticeForTanveerNandla ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگا۔ ورلڈ بینک سے نمبر ون بلاگر کا ایوارڈ لینے کے ساتھ ساتھ 23 مارچ کو آئی ٹی کے شعبے میں بے شمار خدمات پر حکومت پاکستان اور پاکستان آرمی کی جانب سے اسی تنویر نانڈلہ کو "پرائڈ آف پاکستان” کا اعزاز بھی دیا گیا۔ تنویر نانڈلہ پانچ ہزار سے زائد نوجوان کو ڈیجیٹل روزگار فراہم کرچکے ہیں۔اور یہ نوجوان اب تک ایک سو پانچ ملین ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ پاکستان میں لا چکے ہیں۔ مگر اس نوجوان کے ساتھ سیاسی طاقتوں کی زیادتیاں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہمیں اپنے ہیروں کی قدر ہی نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے والا نوجوان انصاف مان رہا ہے۔مگر اسی کی محافظ پولیس اس کو تحفظ فراہم نہیں کرپارہی۔ جھوٹے مقدمات اور قاتلانہ حملوں کے باوجود یہ نوجوان آج بھی پاکستان میں ہے۔کیونکہ اسے پاکستان سے محبت ہے۔ "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے”۔ پلیز ان کی قدر کیجیے۔

  • "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    ناجانے اس بوڑھی عورت کا اصل نام کیا تھا۔ مگر پورا گاؤں اسے "نانی سلطی” کے نام سے پکارتا تھا۔ نانی سلطی ہمارے گاؤں میں جس چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی، گاؤں کے لوگ اس کمرے کو نانی کی کوٹھی کہا کرتے تھے۔ نانی کی کوٹھی کے باہر بندھے چند چھوٹے چھوٹے کتے اور مرغیاں "نانی سلطی” کی شاید بہترین ساتھی تھے۔ ایک چارپائی، چھوٹا سا کمرہ ، باہر بندھے کتے اور چند ضرورت کے برتن "نانی سلطی” کی کل کائنات تھے۔ نانی سلطی دماغی طور پر سوچنے کی صلاحیت سے محروم تھی۔ میرے خیال میں تو یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پورا گاؤں اس کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ اور اسی وجہ سے گاؤں کے بگڑے لڑکے نانی سلطی کو تنگ کرتے تھکتے نہ تھے۔ صرف بگڑے لڑکے ہی نہیں بلکہ گاؤں کے زیادہ تر لوگوں بشمول پنج (پانچ) وقتی نمازوں کے لیے نانی سلطی انٹرنینمنٹ کا واحد ذریعہ تھی۔ لوگوں کے گھروں سے کھانا لے کر گزرا کرنے والی نانی سلطی اب گزر گئی ہے۔ لوگ اس کو پاگل سمجھتے تھے۔مگر وہ اللہ کے اس قدر قریب تھی۔کہ دین کا علم نہ تھا۔مگر پھر بھی نانی سلطی ہمیشہ روزہ رکھتی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب گاؤں میں، میں نے پہلی بار روزہ رکھا تو نانی سلطی اس دن بھی سہری کے وقت ہمارے گھر سہری کےلیے آئی تھی۔ اماں کے بتانے پر کہ اس کا آج پہلا روزہ ہے، نانی نے میرے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔

    "نانی سلطی” پانی سے بہت گھبراتی تھی۔ گاؤں کے لڑکے جب نانی پر پانی پھینکتے تو روتے روتے پانی پھینکنے والوں کو دو چار گالیوں سے نوازتے ہوئے اپنے مکان کی طرف چل پڑتی تھی۔سوائے اس کے وہ بیچاری اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ میں نے اکثر” نانی سلطی” کو اپنے چھوٹے سے مکان کے باہر آنے والی مرغیوں کو دانہ ڈالتے دیکھا تھا۔ مگر کل شب خواب میں مجھے” نانی سلطی” جنت کے پرندوں کو دانہ کھلاتے دیکھائی دی۔

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    پرویز الہی کی مبینہ آڈیو لیک جس میں وہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کو گندی گالیاں دے رہے ہیں

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    ‏عمران خان دی بندہ کی عزت کرسکدا اے….فواد چودھری کی آڈیو لیک

  • "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    جس ملک میں سگریٹ سستا اور روٹی مہنگی ہو۔ اس ملک میں آپ تمباکو نوشی کے خلاف جتنی مہمیں چلا لیں۔ کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ جہاں ایک روٹی 12 روپے کی جبکہ ایک سگریٹ 02 روپے میں بھی مل جاتا ہو، وہاں اس لت سے کون رکے گا۔۔ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں اگر کامیاب ہونا ہے تو ایک ہی ہتھیار ہے، "ہیلتھ لیوی”۔ ہیلتھ لیوی بڑھا کر نا صرف تمباکو نوشی میں کمی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ سالانہ 40 ارب سے زائد کا ریونیو بھی بچایا جا سکے گا۔ 2018 میں تمباکو نوشی کے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق تمباکو میں 7 ہزار سے زائد کیمیکلز ہوتے ہیں۔جن میں سے 70 کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں۔تمباکو نوشی سے جہاں دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں، وہیں سر کے بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بالوں کی جڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ جس سے گنج پن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کم مقدار میں سگریٹ نوشی، صحت کے لیے نقصان دے نہیں ہے۔مگر روازنہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی جان لیوا امراض کے جنم لینے کے لیے کافی ہے۔ لندن کالج یونیورسٹی نے ایک تحقیق کی۔ جس کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ بھی جان لیوا امراض مرتب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایک سگریٹ کچھ عرصہ تک امراض قلب اور فالج جیسے امراض کا خدشہ بڑھا دیتا ہے۔

    نوجوان نشہ شروع کیوں کرتے ہیں؟:

    ؎ پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہو

    آج کل کی نوجوان نسل محبت میں ناکامی پر سگریٹ نوشی کو اولین فریضہ تصور کیے بیٹھی ہے۔ ادھر محبوب نے بے رخی دیکھائی اور ادھر مجنوں نے ریلوے کے انجن کی طرح فضا میں دھواں بکھیرنا شروع کردیا۔ جبکہ بعض نوجوان گھریلو ناچاکی اور سماجی دباؤ کے سبب بھی سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔
    ؎ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ہم سگریٹ کو نہیں پی رہے ہوتے دراصل سگریٹ ہمیں پی رہا ہوتا ہے۔ وقتی غم اگرچہ کم کر بھی دیتا ہو۔مگر اس سے جو امراض لاحق ہوتے ہیں۔۔ان کا کیا؟

    تمباکو نوشی اور اسلام:
    اسلام بلاشبہ دین کامل ہے۔ اور دنیا کے تمام شعبوں میں بہترین رہنما بھی۔ عبادات و معاملات سے لے کر کھانے پینے تک، ہر پہلو زندگی پر کامل اصول و ضوابط بتانے والا یہ دین ہمیں تمباکو نوشی سے پرہیز کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛
    "(نبی مکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم) ان (اہلِ ایمان) کے لیے پاکیزہ صاف ستھری چیزیں حلال بتاتے ہيں اورخبائث کو حرام کرتے ہيں”۔
    الأعراف: 157

    تمباکو نوشی مال کے ساتھ ساتھ جان کی بھی دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے فرمایا ہے؛
    "وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ”
    (اپنے آپ کوقتل نہ کرو)۔
    النساء: 29
    جبک نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛

    "ہر نشہ آور چیز ‘خمر’ (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا”۔

    تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے طریقے:
    1. تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مراقبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق تمباکو نوشی کے عادی افراد کو اس سے چھٹکارا پانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
    2. ورزش بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنا میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ کیونکہ ورزش سے جسم میں نیکوٹین کی طلب میں کمی ہوجاتی ہے۔
    3. بفیلو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے زیادہ استعمال سے بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مدد ملتی ہے۔
    4. فارغ اوقات میں نئے نئے مشاغل بھی اس بری لت سے نکلنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
    5. آکو پینکچر تھراپی
    6. یونیورسٹی آف میامی کے سکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق کان میں چند سیکنڈز کجھلی کرنے سے بھی سگریٹ نوشی کی خواہش دم توڑ سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف واحد ہتھیار "ہیلتھ لیوی”:
    دنیا میں کئی ممالک تمباکو نوشی جیسی بری لت پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مگر آج بھی پاکستان بدقسمتی سے اس لت میں مبتلا ہے۔ یہاں 20 فی صد آبادی تمباکو نوشی کی لت کا شکار ہے۔ کیونکہ یہاں سگریٹ روٹی سے زیادہ سستا ہے۔ یہاں لوکل کمپنی کا ایک سگریٹ 2سے 3 روپے میں جبکہ کسی برائنڈ کا ایک سگریٹ 8 سے 10 روپے میں بآسانی مل جاتا ہے۔ جبکہ ایک روٹی کی قیمت آج کل 12 سے 15 روپے ہے۔

    تمباکو نوشی کے باعث امراض کے سبب صحت کی لاگت تقریباً 615 ارب روپے ہے۔ اور یہ لاگت پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فی صد بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک بلین تمباکو کا استعمال کرنے والے افراد میں سے تقریبا 6 ملین افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ شہری اس بری لت کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر حکومت ہیلتھ لیوی میں اضافے کر کے اس لت پر قابو پا سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے معاشی اور جانی نقصان کو کم کرنے کا واحد حل "ہیلتھ لیوی” میں اضافہ ہے۔ ہیلتھ لیوی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پبلک مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہونی چاہیے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی اور سزائیں ہونی چاہئیں۔ پبلک مقامات ، ٹرانسپورٹ، پارکس اور سکول و کالجز میں تمباکو نوشی پہ عائد پابندی پر عملدرآمد تو آج تک نہ ہوسکا۔ اگر ہو بھی جائے اس سے نجات کے لیے قانون سازی اور یہ معمولی سزائیں ناکافی ہیں۔اس کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں اعجاز الحق عثمانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ماما پھلا دھوپ میں بیٹھا مالٹوں پر حملہ کرنے میں مصروف تھا کہ آواز آئی۔ "کوٹ لے لو، بنیان لے لو، جرابیں لو”۔ پنچابی زبان والا”ماما”، ضروری نہیں کہ آپ کی اماں کا بھائی ہو۔ گاؤں میں ہر وہ شخص آپکا ماما ہے کہ جس کے ساتھ آپ گھنٹوں گپیں ہانک سکیں۔
    دروازے سے ہی ماما جی نے پھیری والے خان کو رکنے کا کہا۔ "یہ کوٹ کتنے کا ہے خان صاب”، مامے پھلے نے کوٹ پہنتے ہوئے خان سے پوچھا۔ "ساڑھے تین ہزار کا صرف تمہاری خاطر”۔

    خان نے کلائی میں بڑی عمدہ گھڑی پہن رکھی تھی۔ جسکا سنہری رنگ اسے بار بار دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔مامے پھلے نے خان کی کلائی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا، ” خان فار سیل ہے”۔

    قہقہ لگاتے ہوئے خان بولا۔

    "ہم قادر خان ہے، عمران خان نہیں”۔ خیر پندرہ سو میں کوٹ لے کر میں اور ماما پھلا گھر کی طرف چل پڑے۔ماما جی کیا خان نے واقعی گھڑی بیچی ہوگئی؟ ماما پھلا بولا "پتہ نہیں۔۔۔۔۔(چند منٹ کی گہری خاموشی کے بعد قدرے غصے میں)مان لیا بیچی بھی ہے تو کیا باقی صادق و امین ہیں سارے؟۔۔۔۔۔۔۔ خیر مامے پھلے نے اور کیا کہا اسے چھوڑیے "خان فار سیل ہے” سے منصور آفاق صاحب کے کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔ وہ دیکھیے

    گرہ میں مال ہے جس کے، خرید سکتا ہے

    کہیں عمامہ کہیں ہے ردا برائے فروحت

    وفا کی، ان سے توقع کریں تو کیسے کریں

    جنہوں نے اپنی جبیں پر لکھا برائے فروخت

    یہ لوگ کیا ہیں ؟حمیت کامول مانگتے ہیں

    یہ ننگ ِ ملک، یہ اہل ِ قبا برائے فروخت

    دعائیں دے ہمیں ، تجھ کوخرید لائے تھے

    کسی زمانے میں تُو بھی تو تھا برائے فروخت

    یہ خوش خطوں کا ہنر ہے یہ دلبروں کا طریق

    جفا برائے محبت، وفا برائے فروخت

    رُکے تھے کنج گلستاں میں ہم بھی کل منصورؔ

    کہیں تھے گل کہیں بادصبا برائے فروخت

    چند دن پہلے خان کی گھڑی سے متعلق ایک آڈیو لیک سامنے آئی۔ جس میں زلفی بخاری کو بشریٰ بی بی سے سلام کرنے کے بعد ان کی خیریت دریافت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔اس کے بعد بشریٰ بی بی زلفی بخاری سے یہ کہتی ہیں کہ "خان صاحب کی کچھ گھڑیاں ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو بھیج دوں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زلفی بخاری نے بشریٰ بی بی کی یہ بات سننے کے بعد جواب میں کہا کہ”ضرور مرشد میں کردوں گا، میں کر دوں گا جی”۔

    اس آڈیو لیک بعد یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ قصور مرشد کا ہے، مرید کو ہم ویسے ہی قصوروار ٹھہرا رہے تھے۔

  • ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    دنیا میں ہر جنس پر ظلم ہوتا ہے ۔ مگر سوائے بچےکے ہر عمر ، ہر طبقہ اور ہر جنس اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے ۔ مگر بچہ یہ سب نہیں کر سکتا ۔ وہ بہت کمزور ہے ۔اتنا کمزور کہ وہ اپنے حق کے لیے بول بھی نہیں سکتا۔ خواجہ سراؤں پر ظلم ہوا تو انھوں نے احتجاج کیے، خواتین نے اپنی تنظیمیں بنائی ۔ یہاں تک کہ رکشے والوں کی یونینز ہیں۔ مگر کوئی تنظیم نہیں ہے تو بچوں کی نہیں ہے ۔

    نفسیات دانوں کا شکر ہو جنھوں نے ہمیں علم نفسیات کے ذریعے بتایا کہ بھئی بچے بھی کوئی الگ شے ہیں۔ تم سے مختلف اور کمزور ہیں، جسمانی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی۔ انکا عقل درجہ بہ درجہ وقت کے ساتھ ترقی کی منازل طے پاتا ہے۔اگر کسی بچے کو میوزک کی آواز آرہی ہے ۔مگر آپ دور بیٹھے اسکو والیم اونچا کرنے کا کہتے ہیں تو وہ والیم تو بڑھا دے گا مگر یہ ضرور سوچتا رہے گا کہ جب اسے سننے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی تو آپکو کیوں ہو رہی ہے۔ اگر بچہ مٹی سے کھیلتے ہوئے ہم سے پوچھ لے کہ مٹی کا رنگ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ہم یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے ایسا بنایا ہے یا کچھ اور کہہ کر بس جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر لوگ تو بچوں کو سوال پر ہی ڈانٹ دیتے ہیں ۔ جواب تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی بچہ کم بولتا ہے تو اس مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نکما ہے۔علم نفسیات میں ایسے بچوں کو انٹروورٹ کہا جاتا ہے ۔ ایسے بچے کچھ بڑا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو شرمیلا اور کمزور سمجھا جاتا ہے ۔گو کہ انٹروورٹ ہونا کوئی بری بات نہیں، یہ صرف ایک پرسنلٹی ٹریڈ ہے ۔ 90 فی صد سائنسدان، شاعر ، ادیب یا موجد انٹروورٹ ہی ہوتے ہیں ۔

    آپکا خاندان یا معاشرہ تو انٹروورٹ ہونے پر آپ کے بچے کی کبھی تعریف نہیں کرے گا۔مگر یہی انٹروورٹ بچہ زندگی میں کبھی ایسا کام ضرور کرے گا جس سے آپکا سر فخر سے بلند ہو جائے گا ۔ سو ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کبھی نہ کریں ۔آپ شدید حیران ہونگے یہ سن کر کہ دنیا کا ہر دوسرا امیر ترین آدمی انٹروورٹ ہے۔ٹیسلا کے ارب پتی مالک نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "میں بنیادی طور پر ایک انٹروورٹڈ انجینئر کی طرح ہوں، اس لیے اسٹیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    ہم بچوں کا ہر موڈ برداشت نہیں کرتے ۔ چاہتے ہیں کہ بچے ہر وقت خوش رہیں۔ ان کے بھی اپنے جذبات ہوتے ہیں ، انھیں بھی خوشی اور غمی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر ہم اس بات کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں ۔ صرف اسی بات کو نہیں، بلکہ بچوں کو بچہ سمجھنے میں بھی ابھی ہمیں صدیاں درکار ہیں ۔

    جیسے بچوں کو پیدائش کے بعد سیکھنے کے لیے سکول بھیجا جاتا ہے ۔کاش بچہ پیدا کرنے سے پہلے والدین کےلیے بھی بچے کو سمجھنے اور تربیت کی خاطر کسی ڈگری کی شرط ہوتی ۔

  • کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام  — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق یعنی کلاس فیلوز کی بہت ساری اقسام ہو سکتی ہیں۔ جن کی مستند تعداد بتانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔ کیونکہ انکی اقسام اتنی ہی جلدی بدلتی ہیں جتنی جلدی پنجاب میں وزیراعلی۔۔ مگر کلاس فیلوز کی چند اقسام پیش خدمت ہیں ۔

    نمبر ایک:
    پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کبھی وقت پر نہیں آتے مگر عموماً وقت سے پہلے چلے ضرور جاتے ہیں۔ اسی قسم کے کچھ باشندے تو چھٹی کے ٹائم سے دس منٹ پہلے ہی کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ میم "ٹیم”(ٹائم) ہوگیا ہے۔

    نمبر دو:
    کلاس روم میں ایک اور مخلوق پائی جاتی ہے جو ہفتے کے چھ دن بیمار رہتی ہے اور ساتویں دن یعنی اتوار کو بیماری کو چھٹی دیتی ہے۔ ان پر بیماریاں بھی بڑی ترتیب سے آتی ہیں۔ سوموار کو انکا گلا خراب ہوتا ہے ۔ اگلے دن نزلہ اور پھر بخار اور اگلے دن یعنی اتوار کو بیماری کی چھٹی ۔ بیماری کا یہ سائیکل ہر دو ماہ بعد ضرور آتا ہے ۔ اگر کبھی یہ سائیکل پنکچر ہوجائے تو پھر انکے دور کے رشتہ داروں میں سے کوئی خدا کو پیارا ہو جاتا ہے۔

    نمبر تین:
    اگلی قسم کا نام ہے ” فٹا فٹ” ۔ کلاس رومز میں پائی جانے والی یہ مخلوق ہر وقت فٹا فٹ کے چکروں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگر ٹیچر کلاس میں 5 منٹ تک نہ آئے تو یہ مخلوق فٹا فٹ سٹاف روم کو دوڑے گی۔ پھر پوری کلاس انکو خوب صلواتیں بھی سناتی ہے ۔جن کا اس مخلوق پر اتنا ہی اثر پڑتا ہے ۔جتنا ہم سب پر قاسم علی شاہ کا۔

    نمبر چار:
    اس قسم کا نام Attention Beggars ہے۔
    یہ ہر وقت اٹنشن کے چکر میں بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔ اٹنشن کے چکر میں یہ تمام تر چھچھورے پن کر مظاہرہ کرنے کے باوجود تھوڑی سی بھی توجہ نہ ملنے کے بعد بھی زرا شرمندہ نہیں ہوتے،
    بلکہ بھکاریوں کی طرح اگلے بندے کے پاس چلے جاتے ہیں۔

    نمبر پانچ:
    ایک وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو کبھی چھٹی ہی نہیں کرتی ۔ نہ جانے یہ مخلوق اتوار کو گھر کیسے بیٹھتی ہوگی۔ انکو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے خاندان میں نہ تو کوئی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بابا مرتا ہے ۔ بیماری تو ان کے گھر ایسے ہی آتی ہوگی جیسے ہندؤں کو کلمہ

    نمبر چھ:
    ایک مخلوق ہر وقت اپنے ہی اشتہار چلاتی رہتی ہے ۔ یعنی

    میں نے یہ کر دیا
    میں نے وہ نے وہ کر دیا

    وقت آنے پر جب پتہ چلتا ہے تو اس مخلوق نے صرف وہ ہی کیا ہوتا ہے ۔ جو میں آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ اس مخلوق کو آپ "بول نیوز” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہر کام سب سے پہلے ، سب سے اچھا یہی مخلوق کرتی ہے، صرف باتوں میں ۔

    شکائتو! ٹولے کا تو نہ ہی پوچھیے۔ اس مخلوق کی پہچان انتہائی آسان کام ہے ۔ ٹیچرز کی خوش آمدیں تو ان پر بس ہیں۔ یہی لوگ "آئی ایس آئی” کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ کلاس کی خفیہ باتیں، ٹیچرز اور ایڈمن آفس تک پہنچانا انکا اولین فرض ہوتا ہے۔ اگر کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام لکھنے بیٹھا جائے تو کئی اک دن درکار ہونگے ۔ سو انھی چند اقسام پر گزارا کرتے ہیں ۔