Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • دن رات نان سٹاپ وارداتیں

    دن رات نان سٹاپ وارداتیں

    قصور شہر ڈاکوؤں کے نرغے میں,دن رات وارداتیں لوگ پریشان
    تفصیلات کے مطابق

    علی میڈیکل سٹور بالمقابل ڈی ایچ کیو ہسپتال چوک اسٹیل باغ پر رات ایک بجے کے قریب ڈکیتی کی واردات ہوئی جس میں
    دو ماسک ماسک پہنے ڈاکو ہنڈا سی جی 125 موٹر سائیکل پر آئے پر اور میڈیکل سٹور پر کام والے لڑکوں کو گن پوئنٹ پر یرغمال بنا لیا اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے 30 ہزار کے قریب نقدی لے اُڑے
    15 کال کرنے پر تھانہ اے ڈویژن پولیس نے موقعہ واردات پر شواہد اکھٹے کرتے ہوئے مصروفِ کاروائی ہے
    واضع رہے کہ قصور شہر و گرد و نواح میں عرصہ سے ڈکیتی کی وارداتوں کا تسلسل جاری ہے
    عوام الناس نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت صاحب سے لوٹ مار ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ڈاکوؤں کو فوری پابندِ سلاسل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے

  • گھی سے لوگ بیمار ہونے لگے،کاروائی کا مطالبہ

    گھی سے لوگ بیمار ہونے لگے،کاروائی کا مطالبہ

    قصور
    گھی کے پیکٹ سے بدبو ،ذائقہ خراب لوگوں کے گلے خراب اور مختلف بیماریاں جنم لینے لگیں، بلیک مارکیٹنگ مافیا نے گھی اپنے گوداموں میں بغیر گولنگ کے سٹاک کیا ہوا تھا
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں کرن نامی گھی نے لوگوں کے گلے خراب اور مختلف بیماریاں بنانا شروع کر دی ہیں حالانکہ کہ گھی کی ایکسپائری ڈیٹ ابھی باقی ہے مگر پھر بھی گھی کے پیکٹ سے انتہائی گندی بدبو آ رہی ہے جس کی وجہ بلیک مارکیٹنگ مافیا کہ جانب سے گھی کم ریٹس پر خرید کر ساری گرمیاں اپنے گوداموں میں بغیر کولنگ کے رکھنا ہے اب ان مگر مچھوں نے گھی چھوٹے دکانداروں کو مہنگا ہونے پر بیچنا شروع کیا ہے مگر گھی کی خرابی کے شکوے چھوٹے دکانداروں کو مل رہے ہیں قصور میں کئی دکانداروں اور خریداروں نے اس گھی کی کوالٹی کی شکایت کی ہے حالانکہ اس سے قبل یہ گھی بلکل معیاری تھا
    لوگوں نے فوڈ اتھارٹی سے گزارش کی ہے کہ اس گھی کو قصور کی دکانوں سے جمع کرکے تلف کیا جائے تاکہ لوگ بیماریوں سے بچ سکیں

  • پٹواری نے رشوت اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیئے

    پٹواری نے رشوت اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیئے

    قصور
    پٹواری منظور نے سرکاری حلقہ پٹوار خانہ مصطفے آباد میں پرائیویٹ افراد شہباز اور عثمان کو ٹھیکہ پر دے دیا مقرر کردہ ٹھیکیداروں اور ٹاوٹوں نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے عوام رل گئے حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ
    تفضیلات کے مطابق پٹواری منظور نے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے سرکاری پٹوار خانہ اپنے منظور نظر پرائیویٹ افراد شہباز اور عثمان وغیرہ کو ٹھیکہ پر دے دیا ہے اور خود ٹھیکیداروں کے ماتحت یومیہ ملازمت کرنے لگا ہے قانونی طور پر حکومت کیطرف سے مقرر کردہ سرکاری ریکارڈ صرف پٹواری کی تحویل میں ہوتا ہے کوئی پرائیوٹ فرد ریکارڈ کو استمال نہیں کر سکتا مگر متعلقہ پٹواری نے کار سرکار کے ریکارڈ کو پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے حوالے کیا ہوا ہے جو پٹواری کی غیر موجودگی اور موجودگی میں بھاری رشوت کے بغیر فردیں، انتقالات، گرداریاں اور وراثتی انتقالات نہیں کرتے من پسند رشوت نہ ملنے پر مختلف اعتراضات لگا کر عوام کو پریشان کیا جاتا ہے سائل بالاآخر چکر پے چکر لگا کر تنگ آکر رشوت دینے پر مجبور ہو جاتا ہے حکومت کیطرف سے مقرر تعینات کردی منظور پٹواری صرف دستخط کرنے آتا ہے اور تو اور اس کے پرائیویٹ منشی خود پٹواری کے دستخط کرنے کے بھی ماہر ہیں مذکورہ ٹھیکیداروں نے حاصل کردہ رشوت سے شاہانہ اخراجات سے قیمتی گاڑیاں اور بے نامی جائیدادیں بنا رکھیں ہیں متاثرین افراد اور سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کسی زمہ دار پٹواری کی تحویل میں دیا جائے جس میں کسی غیر سرکاری افراد کی مداخلت نہ ہو

  • شہر میں تجاوزات کی بھرمار

    شہر میں تجاوزات کی بھرمار

    قصور
    بابا بھلے شاہ کی نگری میں پورا شہر ناجائز تجاوزات اور ٹریفک کی بندش کی زد میں۔ ٹی ایم اے اور مقامی انتظامیہ خواب خرگوش، ہر روز ٹریفک کیوجہ سے عوام،خواتین سمیت سکول جانے والے طلباء و طالبات کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا
    تفصیلات کے مطابق بابا بھلے شاہ کی نگری میں ناجائز تجاوزات کے وجہ سے ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے دوکانداروں نے تھڑے بنانے کے بعد فرنٹ کے کچھ حصوں کو ٹھیلے، ریڑھیاں کھڑی کروا کر ان سے جزوی کرایہ وصول کرتے ہیں جسکی وجہ سے بازاروں کی کشادگی ختم ہو گئی ہے جبکہ عوام،خواتین، طلباء، طالبات، بچوں،بوڑھوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے اور ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا بھی ہے جو مقامی انتظامیہ کے لیے چیلنج بن چکا ہے کسی حادثے کی صورت میں 1122 متاثرین کو ریسکیو کرنا مشکل ہو گیا ہے عملہ میونسپل کمیٹی ،مقامی دیگر انتظامیہ کاروائی سے گریزاں ہے جہاں شہریوں کو گزرنے میں مشکلات کا سامنا ہے وہاں ٹریفک کی روانی بھی بہت بڑا مسلہ بن چکا ہے محدود بازاروں اور مین سڑک کے دونوں جانب ٹریفک کھڑی نظر آتی ہے ہیں زیادہ تر متاثرین علاقوں میں ریلوے روڈ، فوڈ سٹریٹ روڈ، ضلع کچہری، چوک مسجد نور، چوک ڈرائیور ہوٹل، نیابازار، چاندنی چوک، مین بازار کوٹ مراد خاں، موری گیٹ، حاجی فرید روڈ، ریلوے پھاٹک شامل ہیں۔عوامی،سماجی، فلاحی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا نے مقامی انتظامیہ اور شہریوں نے اعلٰی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

  • جعلی دودھ کی پیداوار اور سپلائی جاری

    جعلی دودھ کی پیداوار اور سپلائی جاری

    قصور
    مقامی انتظامیہ کی جعلی دودھ تلف کرنے کی کوشش کے باوجود مصنوعی جعلی زہریلے دودھ کی بدستور سرعام فروخت جاری جسکے استعمال سے بچوں اور بڑوں میں مہلک بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے خاموش زہر لاہور سمیت دیگر کئی شہروں میں بھی سرعام وافر سپلائی کیا جاتا ہے

    تفصیلات کے مطابق قصور اور مضافات میں مضر صحت مصنوعی زہریلا دودھ کا کاروبار عروج پر اس گھناونے کاروبار کو روکنے کے لئے مقامی انتظامیہ نے متعدد بار بھاری مقدار میں جعلی مصنوعی زہریلا دودھ تلف کیا اور موقع پر جرمانے بھی عائد کئے تاہم گوالوں کا مکرو دھندہ زور شور سے جاری ناجائز آمدن سے گوالے راتوں رات بے نامی جائیدادوں کے مالکان بن گئے ملزمان روپے کی خاطر مضر صحت جعلی مصنوعی زہریلا دودھ فروخت کر کے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں اس زہریلے دودھ کے استعمال سے کئی مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں یہ خاموش قاتل زہریلا دودھ قصور شہر سمیت دوسرے کئی شہروں میں بھی سپلائی کیا جا رہا ہے اس دودھ نامی زہر کو ٹھنڈا کر نے کے نام پر ایک چلر بنایا جاتا ہے جو صرف باہر دکھاوے کے لئے ہوتا ہے مگر اندر مضر صحت مصنوعی جعلی زہریلا دودھ تیا ر کیا جاتا ہے جس میں سرف ، یوریا کھاد ، میٹھا سوڈا ، اور کوکنگ آئل کے علاوہ کارومولین استعمال کی جاتی ہے جس کو مردہ جسم محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہ اس مصنوعی دودھ میں ڈال کر 5 کلو سے 40 کلو پیداوار میں اضافہ کیا جاتا ہے اس زہریلے دودھ کے استعمال سے بچوں کی صحت پر زیادہ اثر ہوتا ہے جس سے معدہ،ہیپاٹائٹس، دل،جگر،گردوں کی مختلف امراض جنم لیتی ہیں یہ مکرو دھندہ پورے ضلع میں پھیلا ہوا ہے مقامی شہریوں، فلاحی،اصلاحی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئرز وکلاء ایم یاسین فرخ ،یونس کیانی،چوہدری انور ہنجرا،ملک شفیق، ملک عمیر شوکت،حافظ رضوان، ملک بلال،میاں شہباز،ملک عبدالرشید، چوہدری سلیم ساجد ودیگر نے وزیر اعلی پنجاب، گورنر پنجاب، صوبائی وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر، اے سی،ڈی پی او،محکمہ فوڈ اور متعلقہ انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناونے کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاے اور اسکی روک تھام کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ضلع بھر میں مختلف مقامات پر چیک پوسٹوں پر خالص دودھ کی سپلائی اور فروخت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں

  • صحافی کا کوریج کرنا جرم بن گیا ،مقدمہ درج

    صحافی کا کوریج کرنا جرم بن گیا ،مقدمہ درج

    قصور
    پتوکی میڈیا کوریج کرنا صحافی کا جرم بن گیا،مقدمہ درج ،صحافی برادری سراپا احتجاج
    تفصیلات کے مطابق پتوکی کے سینئر صحافی، رپورٹر 24 نیوز رضوان میو پر کار سرکار مداخلت پر دفع 186 کے تحت تھانہ سٹی پتوکی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
    صحافی رضوان میو کے مطابق میں پرانی منڈی پتوکی میں میڈیا کوریج کر رہا تھا کہ پولیس چوکی انچارج سٹی پتوکی بلال عاشق ورک نے میڈیا کوریج کرنے پر مجھے روک دیا اور سنگین نتائج کی دهمكیاں دیں تاہم میں کوئی غیر قانونی و غیر اخلاقی کام نا کر رہا تھا
    پتوکی ،قصور ،چھانگا مانگا ،بھائی پھیرو ،چونیاں کے صحافیوں کی رضوان میو رپورٹر 24 نیوز پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صحافی پر ناجائز اور بے بنیاد پرچہ ختم کیا جائے

  • نااہل عملے کی بدولت لوگ قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے

    نااہل عملے کی بدولت لوگ قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے

    قصور شہر ڈمپنگ پوائنٹ نہ ہونے کیوجہ اور میونسپل کارپوریشن قصور کی عدم دلچسپی، لاپرواہی سے لوگ قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے پورا شہر گندگی کا گڑھ بن گیا تعفن پھیلنے لگا ، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر بدبو سے عوام میں سانس اور معدے کی مختلف بیماریاں پیدا ہونے لگیں، مقامی اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ خاموش تماشائی عوام سراپا احتجاج
    تفصیلات کے مطابق ایشیا میں صفائی ستھرائی رکھنے والہ قصور شہر میونسپل کارپوریشن کی لاپروائی، عدم دلچسپی کیوجہ سے لوگ شہر خاموشاں قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے ہیں علاوہ ازیں ہر سٹی حلقہ میں جابجا غلاظت اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کے تعفن اور بدبو سے مختلف بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جبکہ چوکوں اور شاہراہوں پر گندگی کے ڈھیر سر عام نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے لوگوں کو مجبوراً گندگی زدہ راستوں سے گزرنا پڑتا ہے
    گلی محلوں میں نمازیوں اور بوڑھے، چھوٹے بچوں کا گزرنا محال ہو گیا ہے
    لوگ گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے سانس اور معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اس کے علاوہ جہاں گندگی کے ڈھیر بدبو پیدا کر رہے ہیں وہی ڈینگی مچھروں کی افزائش کا بھی سبب بن رہے ہیں میونسپل کارپوریشن کے پاس کوئی ڈمپنگ پوائنٹ نہیں لاپرواہ عملہ کے کوڑا کرکٹ نہ اٹھانے کی وجہ سے سیوریج کی نالیاں بند پڑی ہیں اور غلاظت بھرا گندہ پانی جگہ جگہ کھڑا ہے اور پرانے اور کم اونچے گھروں میں داخل ہو رہا ہے
    جبکہ خاکروب صفائی کیلئے کبھی دیکھنے میں نہیں آتے
    خاکروب معقول رشوت لیئے بغیر صفائی کرنا گوارہ ہی نہیں سمجھتے سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء نے صوبائی وزیر صحت ، وزیر بلدیات ڈپٹی کمشنر قصور، ایڈشنل ڈپٹی کمشنر، اے سی، سی ای او میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ بلا امتیاز ہر سٹی یونین کی صفائی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں کرپٹ داروغوں اور خاکروبوں کے خلاف کاروائی کرکے ان کو نوکری سے برخاست کیا جا ئے اور کروڑوں کی مشینری کو روہی نالے کی صفائی کے لئے استعمال میں لایا جائے تاکہ شہر کے غلاظت بھرے پانی کی روانی ہو سکے

  • کچھ دو کچھ لو ورنہ گھر جاؤ،اراضی ریکارڈ سنٹر قصور

    کچھ دو کچھ لو ورنہ گھر جاؤ،اراضی ریکارڈ سنٹر قصور

    قصور
    اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کرپشن کا گڑھ بن گیا رشوت دو کام لو ورنہ گھر جاؤ ملازمین بھی ٹائوٹ مافیا بن گئے فرد اور پاس شدہ رجسڑیوں کے انتقالات کا حصول ناممکن دور دراز سے آنیوالی متاثرہ عوام شدید سراپا احتجاج حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کے ملازمین سائلین سے ایکسپریس فیس کے نام پر 2000 روپے وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری خزانے میں صرف 400 روپے جمع کرواتے ہیں
    شہریوں کے مطابق ہر ملازم نے آفس سے باہر اپنے اپنے ٹاؤٹ مقرر کر رکھے ہوئے ہیں جو مبینہ طور پرشہریوں سے مک مکا کرکے پیسے وصول کرتے ہیں اور ملازمین سے ملی بھگت کرکے جلدی فردیں لیکر دیتے ہیں  فردوں کے حصول کے لیے آنیوالے شہریوں کو ہیڈ آفس اندراج کے باوجود کئی کئی گھنٹے انتظار کروانے کے بعد یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ سسٹم میں خرابی ہے آپ کل آجانا جبکہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے ملازمین اندر سے دروازہ لاک کرکے رشوت دینے والے افراد کے کام کرنے میں مصروف عمل ہوتے ہیں مزید حکومت کیطرف سے عائد کردہ قانون کے مطابق بوقت تصدیق رجسٹری انتقالات کی سرکاری فیس بذریعہ رجسٹری برانچ وصول کی جاتی ہے مگر  عرصہ سے پاس شدہ رجسٹریوں کے بیشتر  انتقالات پینڈنگ چلے آرہے ہیں اس سلسلہ میں جب اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کے انچارج محمد صغیر احمد سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ہم ایس او پیز کے تحت افراد کو اندر آنے دیتے ہیں دروازہ لاک کرکے کام کرناہماری مجبوری ہے انہوں نے کہا کہ پیسے لینے والی بات میرے علم میں نہیں، متاثرہ عوام ، سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، بورڈ آف ریونیو، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری سمیت ڈی سی،اے ڈی سی آر،اے اے سی، دیگر اعلیٰ حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • قصور میں بچوں کے اغواء کا سلسلہ جاری،پولیس کے لئے چیلنج

    قصور میں بچوں کے اغواء کا سلسلہ جاری،پولیس کے لئے چیلنج

    قصور بچوں کے اغواء کا سلسلہ نا رک سکا ایک اور بچہ اغواء لوگوں میں خوف و ہراس
    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے علاقے الہ آباد میں دو روز میں نومولود بچی اور بچہ اغواء علاقہ ہو گیا جس سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا ہے تاہم پولیس تین روز بعد بھی ملزمان کا سراغ لگا کر بچوں کو بازیاب کروانے میں ناکام رہی ہے
    ڈی پی او قصور کی سربراہی میں دو ڈی ایس پی اور آٹھ انسپکٹرز پر مشتمل تین کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جو ملزمان کی گرفتاری کے لیئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مغوی بچوں کو بازیاب کروائیں گی

  • ریسکیو قصور کی کاوش نوجوان کی جان بچا لی

    ریسکیو قصور کی کاوش نوجوان کی جان بچا لی

    قصور
    چونیاں کے نواحی قصبے شام کوٹ نو میں نوجوان گہرے کنویں میں گر گیا،ریسکیو 1122 نے بڑی جدوجہد سے باہر نکالا
    تفصیلات کے مطابق شام کوٹ نو نزد چونیاں میں 40 سالہ نوجوان محمد طفیل ولد محمد بشیر ڈیرہ سردار جہانگیر پر 40 فٹ نیچے ٹیوب ویل کے کنویں میں گر گیا جس کی اطلاع لوگوں نے ریسکیو 1122 کو دی جنہوں نے بروقت پہنچ کر نوجوان کو کافی جدوجہد سے باہر نکالا اور ہسپتال منتقل کیا جہاں اس کی حالت بہتر ہے
    لوگوں نے نوجوان کی جان بچانے پر ریسکیو قصور کا شکریہ ادا کیا