Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں،نوٹس کی اپیل

    شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں،نوٹس کی اپیل

    قصور
    شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ نے قصور کے دیہی علاقوں میں عوام کی زندگی اجیرن بنا دی

    قصور میں شدید گرمی کی حالیہ لہر اور طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے ضلع قصور کے بیشتر علاقوں، خصوصاً دیہی علاقوں کے مکینوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باوجود کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھروں، کاروبار اور زرعی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے مطابق بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کے باعث پنکھے اور ٹیوب ویل بند رہنے سے نہ صرف پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے بلکہ بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی بجلی کی طویل بندش سے شہریوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شدید حبس اور گرمی میں بار بار بجلی کی بندش ناقابل برداشت ہو چکی ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ کسانوں نے شکایت کی ہے کہ بجلی نہ ہونے کے باعث زرعی ٹیوب ویل اور دیگر آلات کی بندش سے فصلوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    شہریوں نے متعلقہ حکام اور بجلی تقسیم کار کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور شدید گرمی کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مذید مشکلات سے بچایا جا سکے

  • ایل پی جی کی قیمت 650 روپیہ فی کلو،شہری سخت پریشان

    ایل پی جی کی قیمت 650 روپیہ فی کلو،شہری سخت پریشان

    قصور میں ایل پی جی گیس کا بحران برقرار، 308 روپے سرکاری ریٹ والی ایل پی جی 650 روپے فی کلو تک فروخت

    قصور اور گردونواح میں ایل پی جی گیس کا بحران تاحال ختم نہ ہو سکا، جس کے باعث شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اوگرا کی جانب سے جون 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308.76 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم قصور کے مختلف علاقوں میں یہ گیس 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس ڈیلرز اور دکاندار مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث گھریلو صارفین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے

    عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز منافع خوری کا فوری نوٹس لیا جائے اور سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

  • خطرناک ڈکیت گینگ گرفتار ،مال مسروقہ برآمد ،مذید تفتیش جاری

    خطرناک ڈکیت گینگ گرفتار ،مال مسروقہ برآمد ،مذید تفتیش جاری

    قصور
    خطرناک ڈکیت گینگ گرفتار، موٹر سائیکلیں، نقدی اور اسلحہ برآمد

    ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان اور ڈی ایس پی سرکل چونیاں کی خصوصی ہدایات پر تھانہ چونیاں کے ایس ایچ او افتخار جوئیہ اور ان کی ٹیم نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے خطرناک ڈکیت مدثر عرف مدثری اور اس کے گینگ کو گرفتار کر لیا

    پولیس کے مطابق ملزم سے دورانِ تفتیش دو موٹر سائیکلیں، ہزاروں روپے نقدی اور ایک پسٹل برآمد کر لیا گیا ہے
    ابتدائی تحقیقات میں ملزم کے مختلف وارداتوں میں ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مذید تفتیش جاری ہے جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں
    مذید انکشافات کی توقع ہے

    ڈی پی او قصور نے کامیاب کارروائی پر تھانہ چونیاں پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مذید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے

  • معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    یہ دنیا امید پر قائم ہے
    کسی کو امیر ہونے کی امید ہے تو کسی کو محض دو وقت کی روٹی کی امید ہی کافی ہوتی ہے اور کوئی بیچارا محض سانسیں بحال رکھنے کی امید پر ہی قائم ہوتا ہے کہ کسی تک زندگی کی ڈور چلتی رہے
    یعنی ہر بندہ Hope Line پر چل رہا ہے
    ویسے تو دنیا میں بیشمار خطرناک بیماریاں ہیں تاہم ایک خطرناک ترین بیماری تھیلیسیمیا بھی ہے جو بچوں کو پیدائش سے لے کر موت تک سانسوں کی بحالی کیلئے Hope Line کے راستے پر چلتے رہنے پر کاربند رکھتی ہے
    اس مرض کا بچہ پیدائش سے موت تک اس بیماری سے نکل ہی نہیں سکتا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موذی مرض تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچے موجود ہیں جن کی جینے کی امید یعنی Hope Line کیلئے ایک خدمت انسانیت کا ادارہ
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کے نام سے پاکستان ضلع قصور کے شہر کنگن پور میں بنا ہوا ہے جو تھیلیسیمیا کے سینکڑوں بچوں کا مفت علاج معالجہ کرتا ہے

    ویسے تو ہر ذی روح نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیا کے مریض یہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کی عمریں بہت کم یعنی 10 سے 14 سال تک ہوتی ہیں کیونکہ بار بار خون لگنے سے ان کے جسم کے اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں اور یہ بہت جلد وفات پا جاتے ہیں

    یہ مرض کیسے بنتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ کار ہے ان شاءاللہ پھر کبھی لکھوں گا ،مگر آج میں ہوپ لائن کی ایک مریضہ بچی خدیجہ کی خوشی کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ جسے اپنے جینے کی ہلکی سی Hope یعنی امید ہوئی تو وہ کیسے خوش ہوئی.اس ادارے کے سربراہ سردار منیر حسین اور پروفیسر عبدالستار سے بات ہو رہی تھی، تو انہوں نے بتایا کہ آج ایک تھیلیسیمیا کی مریض چھوٹی سی بیٹی خدیجہ نے اپنی ہیموگلوبن رپورٹ (HB) چیک کروانے کے بعد خوشی سے اپنے والد محترم کو پیغام بھیجا کہ الحمدللہ پاپا میری ہیموگلوبن پوری ہو گئی ہے
    اس بچے کے والد نے وہ پیغام ہمارے ساتھ شیئر کیا جو چند الفاظ پر مشتمل تھا جو دراصل برسوں کی آزمائش، تکلیف، انتظار اور امید کی ایک مکمل داستان تھے
    ننھی بیٹی خدیجہ نے لکھا تھا
    بابا الحمدللہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بغیر خون لگے میری ہیموگلوبن (HB) 11.4 ہے جو کہ پہلے 9.0 سے بھی کم ہو جایا کرتی تھی
    اللہ اللہ اتنی خوشی اس بچی کی صرف ایک ہیموگلوبن پوری ہونے پر ،ذرا تصور کریں اس بیٹی کی کیا حالت ہوتی ہو گی جب اس کی HB پوری نہیں ہوتی ہو گی اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہو گا
    وہ بیچاری دوسرے بچوں میں کھیلنے کی بجائے اپنے درد سے کھیل رہی ہو گی
    آپ تصور کریں کہ بے بسی سے اس کے ماں باپ کیا کرتے ہونگے؟
    سوچیں کہ کبھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے یا اس کے والدین کی ایسی خوشی کے بارے میں سنا تھا؟
    وہ والدین جو برسوں اپنے بچوں کو ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد خون لگوانے کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگواتے رہتے ہیں، جو ہر رپورٹ، ہر سوئی چبنے اور ہر نئی آزمائش کے ساتھ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں
    جنہیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ان کا بچہ بس چند برسوں کا مہمان ہے
    ان والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
    بعض والدین تو یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جینے کے بجائے روز مر رہے ہوتے ہیں اور ہر لمحہ یہ خوف ساتھ رہتا ہے کہ نہ جانے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟

    ایسے میں اگر کسی گھر میں امید کی ایک کرن روشن ہو جائے تو اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا ہو
    ہوپ لائن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ہماری پیاری بیٹی خدیجہ کی کہانی ہے جس کا خون کا گروپ او نیگیٹو ہے جو کہ ملتا بھی بہت کم ہے

    انہوں نے بتایا کہ جب اس کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو ہمارے سپرد کر گئے
    اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس کی دیکھ بھال اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کر سکیں
    انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہم خدیجہ کو پشاور لے گئے جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج سات ماہ گزر چکے ہیں اور اسے خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
    چند روز قبل خدیجہ اپنی والدہ کے ساتھ سندس فاؤنڈیشن میں ہیموگلوبن رپورٹ چیک کروانے گئی تو وہاں موجود عملہ اور ڈاکٹر صاحبان بھی اس کی کیفیت سن کر خوش ہوئے
    ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے مذید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچ سکے
    ہوپ لائن فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہم پشاور اس لئے جاتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی ایسا مؤثر علاج، طریقہ کار یا طبی رہنمائی موجود ہے جو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی زندگی میں آسانی لا سکتی ہے تو اس کی حقیقت کو سمجھنا ہم پر لازم ہے اور لازم ہے کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک پہنچایا جائے
    انہوں نے بتایا نیز کہ ہمارا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ بچوں اور والدین کے لئے امید، آسانی اور بہتری کے امکانات تلاش کرنا ہے اور ہم اپنے تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو مسلسل بچوں اور ان کے والدین کی مالی خدمت اور رہنمائی کیساتھ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ان بچوں کو خون اور ادویات بھی مہیا کرتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہوپ لائن کے تمام معاونین، محبین، مخیر حضرات اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار افراد کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام بیمار بچوں کو صحتِ کاملہ، لمبی زندگی اور خوشیوں بھرا مستقبل نصیب فرمائے
    آمین ثم آمین

    پاکستان میں بہت سے ادارے تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگیوں کی خاطر امید کی ایک کرن ہیں جو عوامی تعاون سے چل رہے ہیں اگر ایسا کوئی ادارہ آپ کے قریب ہے تو اس ادارے کی ہوپ بن کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی ہوپ بن کر جئیں کیونکہ ہو سکتا یہ مریض بچے ہم سے پہلے رب کے حضور پہنچ کر ہماری بخشش کی ہوپ بن جائیں
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کنگن پور ضلع قصور کیساتھ مالی تعاون کرنے کیلئے اس جاز کیش اکاؤنٹ نمبر
    03041472158
    بنام محمد زبیر پر تعاون کیا جا سکتا ہے نیز بلمشافہ ملنے اور بچوں کے تاثرات دیکھنے کیلئے ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن نزد گرڈ اسٹیشن کنگن پور تحصیل چونیاں ضلع قصور میں وزٹ کیا جا سکتا ہے
    مہنگائی کے اس دور میں خصوصاً موجودہ گورنمنٹ کی مہنگائی کی بدولت بھی ہمارے خیراتی اداروں کا پہلے کی طرح چلتے رہنا مملکت پاکستان کی عوام کو ایک عظیم قوم ظاہر کرتا ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جینے کی بھی،ہوپ، ہیں
    وگرنہ آج تو اپنے گھر کا نظام چلانا ہی بہت مشکل ہو گیا ہے
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی جان و مال اور اعمال میں برکت عطا فرمائے آمین

  • گڈی ڈور کی خرید و فروخت کرتے ملزمان گرفتار،مقدمہ درج

    گڈی ڈور کی خرید و فروخت کرتے ملزمان گرفتار،مقدمہ درج

    قصور: گڈی اور ڈور کی خرید و فروخت میں ملوث 3 افراد گرفتار

    قصور: تھانہ بی ڈویژن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گڈی اور ڈور کی خرید و فروخت میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق ایس ایچ او وحید عارف کی ہدایت پر TASI محمد ادریس اور ان کی ٹیم نے بھٹہ سوہن دین کے علاقے میں کارروائی کی، جہاں ملزمان گڈیوں کی خرید و فروخت کے معاملے پر آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

    گرفتار ملزمان کی شناخت انس، علی رضا اور ابرار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں پتنگیں اور ڈور کی چرخیاں بھی برآمد کر لیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف TASI محمد ادریس کی مدعیت میں کائیٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • تیز آندھی ،بارش،بجلی کی تاحال بندش،سڑکوں پر پانی ہی پانی

    تیز آندھی ،بارش،بجلی کی تاحال بندش،سڑکوں پر پانی ہی پانی

    قصور میں گزشتہ رات کی شدید آندھی اور بارش کے بعد بجلی کی فراہمی معطل، سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہری مشکلات کا شکار

    تفصیلات کے مطابق قصور و گردونواح میں گزشتہ رات آنے والی تیز آندھی اور موسلا دھار بارش کے باعث ضلع قصور کے مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا، جبکہ متعدد دیہاتی علاقوں میں کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بجلی بحال نہ ہو سکی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق رات گئے آنے والی تیز آندھی کے باعث متعدد مقامات پر بجلی کی تاروں اور کھمبوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں قصور اور گردونواح کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ پینے کے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
    دوسری جانب شدید بارش کے باعث شہر قصور کی متعدد اہم سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ مختلف شاہراہوں، بازاروں اور گلی محلوں میں بارش کا پانی کھڑا ہونے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر رہی۔ کئی مقامات پر گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں پانی میں پھنس گئیں جبکہ شہریوں کو آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
    شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور شہر سے بارش کے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے تاکہ معمولات زندگی جلد بحال ہو سکیں۔
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر بار بارش کے بعد نکاسی آب کا مسئلہ شدت اختیار کر لیتا ہے، جس سے شہریوں کو پریشانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، واسا اور واپڈا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں

  • ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،سخت پریشانی

    ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،سخت پریشانی

    قصور
    شہر و گردونواح میں میں ایل پی جی گیس کی قیمت میں بڑا اضافہ، دکاندار سرکاری نرخ نظر انداز کرنے لگے

    تفصیلات کے مطابق قصور و گردونواح میں مہنگائی کے ستائے شہریوں پر ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا
    ضلع بھر میں ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ متعدد دکاندار گیس 500 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے

    دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے جون 2026 کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308.76 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے جبکہ گھریلو 11.8 کلوگرام سلنڈر کی قیمت 3643.40 روپے بنتی ہے

    شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت میں تقریباً 190 روپے فی کلو کا فرق ناقابل برداشت ہے جبکہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث دکاندار کھلے عام منافع خوری کر رہے ہیں

    عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر قصور اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور زائد نرخ وصول کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کو مزید ریلیف مل سکے

  • تین گھنٹے کھیتوں میں سوئی رہنے والی بچے پولیس نے ڈھونڈ لی

    تین گھنٹے کھیتوں میں سوئی رہنے والی بچے پولیس نے ڈھونڈ لی

    قصور
    لاپتہ ہونے والی تین سالہ بچی کھیتوں سے بحفاظت مل گئی

    قصور کے تھانہ صدر قصور کے علاقے موضع کیسر گڑھ میں لاپتہ ہونے والی تین سالہ بچی فاطمہ کو پولیس نے تین گھنٹوں کی مسلسل تلاش کے بعد بحفاظت ڈھونڈ لیا

    پولیس کے مطابق کوٹ حلیم خان کے رہائشی رفاقت کی بیٹی فاطمہ اپنے ننھیال آئی ہوئی تھی جہاں کھیلتے ہوئے اچانک لاپتہ ہوگئی
    اطلاع ملتے ہی ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کی ہدایت پر ایس ایچ او صدر ذوالفقار بھٹی پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور بچی کی تلاش شروع کر دی

    پولیس نے گھر گھر تلاشی، زیر تعمیر عمارتوں کی چیکنگ، مساجد میں اعلانات، فصلوں میں سرچ آپریشن اور سوشل میڈیا پر بچی کی تصویر شیئر کرنے سمیت تمام ممکنہ اقدامات کیے۔ بعد ازاں ایس ایچ او ذوالفقار بھٹی نے پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیتوں میں دوبارہ سرچ کی تو بچی وہاں سوئی ہوئی حالت میں مل گئی۔

    بچی کے بحفاظت ملنے پر اہل خانہ نے پولیس کا شکریہ ادا کیا اور دعا دی۔ ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے ایس ایچ او ذوالفقار بھٹی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی

    پولیس نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ کھیل کود کے دوران اپنے بچوں پر خصوصی نظر رکھیں اور انہیں اکیلا نہ چھوڑیں

  • ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انتظامی بحران کا شکار،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انتظامی بحران کا شکار،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    قصور میں پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ادارے کی انتظامی بحران کی صورتحال، مستقل ڈائریکٹر کی تعیناتی نہ ہونے سے معاملات متاثر
    ضلع قصور میں گزشتہ سات ماہ سے ڈائریکٹر پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ادارے کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث انتظامی امور شدید متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
    ذرائع کے مطابق اہم آسامی پر مستقل افسر کی عدم تعیناتی کے باعث سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے اسٹنٹ ڈائریکٹر کو بیک وقت ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کا اضافی چارج دیا گیا ہے، جس کے باعث ادارے کی مجموعی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقل سربراہ کی عدم موجودگی کے باعث پالیسی فیصلوں، فیلڈ آپریشنز اور انتظامی منظوریوں میں تاخیر معمول بن چکی ہے، جس سے نہ صرف ادارہ جاتی کارکردگی متاثر ہوئی ہے بلکہ ملازمین اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    مقامی حلقوں کے مطابق ایک ہی افسر کو متعدد اہم ذمہ داریاں سونپنے سے انتظامی توازن بگڑ گیا ہے اور فائل ورک سمیت اہم امور تعطل کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کو بعض حلقے ادارے کی “زبو حالی” کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
    شہری و سماجی حلقوں نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے، اعلیٰ سطحی انکوائری کروانے اور ذمہ داران کا احتساب یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس مسلسل غفلت اور انتظامی خلا کے باعث ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
    شہریوں نے مزید کہا کہ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، لہٰذا فوری طور پر مستقل ڈائریکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی بہتر ہو سکے اور عوامی و ملازمتی مسائل کا ازالہ ممکن ہو۔
    دوسری جانب سرکاری سطح پر تاحال اس صورتحال پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا، تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ حکام جلد اس معاملے کا نوٹس لیں گے

  • خطرناک ڈکیت گینگ کے 5 کارندے مع اسلحہ،مال مسروقہ،گرفتار

    خطرناک ڈکیت گینگ کے 5 کارندے مع اسلحہ،مال مسروقہ،گرفتار

    قصور
    خطرناک ڈکیت گینگ کے پانچ ارکان گرفتار، لاکھوں روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد

    قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قصور آفتاب احمد پھلروان کی ہدایت پر تھانہ تھہ شیخم پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے راہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ظفر عرف ظفری ڈکیت گینگ کے پانچ ارکان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے لوٹی گئی 3 لاکھ روپے نقد رقم، 7 موبائل فونز، دیگر قیمتی سامان، ایک رائفل اور 5 پسٹل برآمد کر لیے گئے ہیں۔

    ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان موٹر سائیکلوں پر دو سے تین افراد کے گروپوں کی صورت میں مختلف علاقوں میں گھومتے اور راہگیروں کو اسلحہ کے زور پر لوٹتے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دورانِ تفتیش تھانہ تھہ شیخم اور راجہ جنگ کے علاقوں میں راہزنی اور چوری کی 20 سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔

    ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے کامیاب کارروائی پر تھانہ تھہ شیخم پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا