Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • تھانیدار کے نجی کمرے سے نوجوان کی پھندہ لگی لاش برآمد ،معاملہ نیا رخ

    تھانیدار کے نجی کمرے سے نوجوان کی پھندہ لگی لاش برآمد ،معاملہ نیا رخ

    قصور
    چند روز قبل تھانیدار کے نجی کمرے سے نوجوان کی پھندا لگی لاش برآمد ہونے کا وقوعہ نیا رخ اختیار کر گیا

    تفصیلات کے مطابق چند روز قبل قصور کے تھانہ گنڈا سنگھ والا میں تھانیدار کے نجی کمرے میں نوجوان کی پھندا لگی نعش ملنے کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا ہے
    جانبحق ہونے والے نوجوان کے بھائی نے علاقہ مجسٹریٹ عدالت سے پوسٹمارٹم کروانے کے آرڈر لیکر میڈیکل کروا لیا ہے جس میں مقتول کے بھائی نے بتایا کہ میرے بھائی حمید کو پولیس نے تشدد کر کے مارا ہے متوفی حمید کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے اور گردن کی ہڈی بھی ٹوٹ چکی تھی میرے بھائی کو پولیس نے نجی سیل میں ٹارچر کے بعد قتل کیا اور پھر پھانسی دیکر خود کشی کا ڈرامہ رچایا
    اگر میرے بھائی پر کوئی ایف ائی ار درج نہیں تو اسے کیوں گرفتار کیا اور حوالات میں بند کیا
    مقتول کے بھائی نے کہا کہ سوچنے والی بات ہے کہ وہ خودکشی کیوں کرے گا
    سارے ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پولیس نے تشدد کرکے مارا ہے جو کہ ظلم ہے اور میں اس ظلم کے خلاف چپ نہیں رہوں گا
    متاثرہ شحض نے آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کی استدعا کی ہے

  • دریائے ستلج قصور میں سیلابی صورتحال پر میسج

    قصور دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے پیش پھیلی جعلی افواہوں پر رپورٹ میں بتایا گیا کہ

    قصور انٹرنیشنل بارڈر گنڈا سنگھ کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ صرف 33 کیوسک ہے جبکہ پانی کی سطح 7 فٹ ہے
    پانی کی سطح 6 فٹ ہو تو ڈیڈ لیول تصور کیا جاتا ہے جبکہ اس وقت ڈیڈ لیول سے صرف ایک فٹ پانی کی سطح بلند ہے
    دریائے ستلج گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 19.50 فٹ اور پانی کا بہاؤ ستر ہزار کیوسک ہو تو نچلے درجے کا سیلاب ہوتا ہے
    اگر پانی کی سطح 21.50 فٹ ہو اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ پچاس ہزار کیوسک ہو تو درمیانے درجے کا سیلاب ہو گا
    اور اسی طرح جب 23.50 فٹ بلند ہو گی اور پانی کا بہاؤ 3 لاکھ کیوسک تک پہنچ جائے تو اونچے درجے کا سیلاب کہلائے گا
    نیز بارشوں کے پانی سے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال نہیں پیدا ہوتی تاہم دریائے ستلج میں بھارتی آبی جارحیت سے ہی سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے جب انڈیا کی طرف سے پانی چھوڑا جاتا ہے
    انڈیا نے جن ڈیم سے پانی چھوڑا ہے ون ڈیمز میں بھی ابھی پانی کی سطح انتہائی کم ہے اور اسی باعث صورتحال کے مطابق قصور گنڈا سنگھ کے مقام پر فالحال سیلاب کی امید نہیں ہے

  • لاکھوں روپیہ مالیت کی ڈور اور پینگیں آگ لگا کر جلا دی گئیں

    لاکھوں روپیہ مالیت کی ڈور اور پینگیں آگ لگا کر جلا دی گئیں

    قصور
    لاکھوں روپے مالیت کی ہزاروں پتنگیں اور ڈور کی 100 سے زائد چرخیاں آگ لگا کر تلف کر دی گئیں
    ایس ایچ او بی ڈویژن محمد اسلم بھٹی نے لاکھوں روپے مالیت کی پتنگیں اور ڈور کی چرخیاں تلف کر دیں
    پتنگ بازی کے مختلف مقدمات میں ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں اور 100 سے زائد ڈور کی چرخیاں برآمد کی گئی تھیں
    20 لاکھ روپے مالیت کی ڈور کی چرخیاں اور ہزاروں پتنگوں کو آگ لگا کر تلف کر دیا گیا
    تھانہ بی ڈویژن نے گزشتہ 06 ماہ کے دوران 133 مقدمات درج کر کے 34 ہزار سے زائد پتنگیں، 2400 ڈور کی چرخیاں برآمد کر کے 11 فیکٹریاں سیل کی ہیں۔
    ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں کی ہدایت پر پتنگ بازوں سے سختی سے نمٹا جا رہا ہے
    قصور۔ پتنگ بازی خونی کھیل ہے شہری اپنوں بچوں کو جیل کی سلاخوں سے بچائیں

  • سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا راج،دو بچے جانبحق،دس افراد زخمی

    سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا راج،دو بچے جانبحق،دس افراد زخمی

    قصور
    شہر و گردونواح میں سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا راج،آئے روز کے حادثات میں لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے لگے،حادثہ میں دو بچے جانبحق،دس افراد زخمی

    تفصیلات کے مطابق شہر قصور و گردونواح کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا راج ہے جس کے باعث آئے روز حادثات میں لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں گزشتہ رات بھی ایک ڈمپر کی رکشہ کو ٹکر سے دو بچے جانبحق اور دس افراد زخمی ہوئے
    گزشتہ شام سے پہلے بھگیانہ سٹاپ دیپالپور روڈ قصور کے نزدیک ایک رکشہ کو بورنگ مشین کے ڈمپر نے ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی اور دو بچوں کی موقع پر موت واقع ہو گئی
    زخمیوں اور ڈیڈ باڈیز کو ریسکیو 1122 نے ہسپتال منتقل کیا

  • تھانہ کوٹ رادھا کشن میں پولیس مقابلہ ،دو ڈاکو گرفتار

    تھانہ کوٹ رادھا کشن میں پولیس مقابلہ ،دو ڈاکو گرفتار

    قصور
    تحصیل کوٹ رادھا کشن میں پولیس مقابلہ،دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    تفصیلات کے مطابق تھانہ کوٹ رادھاکشن کے علاقہ بھمبہ روہی نالہ کے قریب پولیس مقابلہ میں دو ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے پر گرفتار ہوئے جبکہ باقی ساتھی ملزمان فرار ہونے میں کامیاب رہے
    زخمی ڈاکوؤں کی شناخت کاشف اور علی احمد سکنہ رائیونڈ لاہور کے ناموں سے ہوئی ہے
    گرفتار ہونے والے دونوں ڈاکو کاشف اور علی احمد متعدد سنگین وارداتوں میں ریکارڈ یافتہ نکلے
    واضع رہے کہ ڈاکوؤں کے اسی گروہ نے گزشتہ روز دو شہریوں کیساتھ کوٹ رادھا کرشن کے علاقہ میں وارداتیں کی تھیں
    تھانہ کوٹ رادھاکشن پولیس نے 15 کی اطلاع پر فوری کاروائی کرتے ہوئے ناکہ بندی کی
    ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی کو دیکھ کر مختلف اطراف سے سیدھی فائرنگ شروع کر دی
    ڈاکوؤں کی اپنی فائرنگ سے دو ساتھی زخمی ہو گئے جبکہ دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے
    پولیس نے ڈاکوؤں سے گزشتہ روز دو وارداتوں سے چھینی جانیوالے موٹر سائیکل، طلائی زیورات، موبائل فونز، گھڑی اور اسلحہ برآمد کر لیا
    تھانہ کوٹ رادھا کشن پولیس نے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں

  • 8 دنوں سے خراب ٹرانسفارمر ٹھیک نا کرنے پر احتجاج

    8 دنوں سے خراب ٹرانسفارمر ٹھیک نا کرنے پر احتجاج

    قصور
    8 دن سے ٹرانسفارمر خراب،سخت گرمی،جینا عذاب،لوگوں کا سخت احتجاج

    تفصیلات کے مطابق قصور کے گاؤں نظام پورہ کے لوگوں نے قصور دیپال پور روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے
    واپڈا کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج میں شرکاء نے بتایا کہ پچھلے اٹھ دن سے ان کا ٹرانسفارمر خراب ہے جس کا واپڈا کی جانب سے کوئی حل نہیں نکالا جا رہا
    شدید گرمی کے باعث بچے بوڑھے لوگ سخت متاثر ہوئے ہیں اور بیشتر لوگ بیمار ہو چکے ہیں
    گرمی اور بجلی نا ہونے کے باعث اہل محلہ نے واپڈا کی غفلت پر پریشانی کی حالت میں دیپال پور روڈ کو بلاک کر کے احتجاج کیا

  • دوران واردات شہری ڈاکو کی گولی سے محفوظ ،پکڑ کر درگت بنا ڈالی

    دوران واردات شہری ڈاکو کی گولی سے محفوظ ،پکڑ کر درگت بنا ڈالی

    قصور
    قصبہ الہ آباد میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہری قدرتی طور پر محفوظ رہا،عوام نے ڈاکو پکڑ کر درگت بنا ڈالی

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے قصبہ الہ آباد میں رات گئے تھانہ الہ آباد کی حدود مولا پور روڈ پر واقع فیکٹری کے پاس ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں نے شہری پر فائرنگ کی تاہم شہری قدرتی طور پر محفوظ رہا
    شہری نے شور ڈال کر دیگر شہریوں کی مدد سے جرآت کرکے ایک ڈاکو کو پکڑ لیا تاہم دوسرا ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب رہا
    عوام نے ڈاکو کی درگت بنا کر پولیس کے حوالے کر دیا اور مطالبہ کیا کہ جلد سے جلد دوسرے ڈاکو کو گرفتار کیا جائے

  • نوجوان کی لاش برآمد،علاقے میں خوف و ہراس

    پتوکی تھا نہ سرائے مغل کے نواحی علاقہ ہنجرائے کلاں میں نامعلوم افراد نے نوجوان کو تیز دھار آلے سے قتل کر دیا لاش کھیتوں میں ملی
    تھانہ سرائے مغل پولیس نے موقع پر پہنچ کر کاروائی کا آغاز کردیا ۔جبکہ لاش ضروری کارروائی کے لیے ھسپتال منتقل کر دی ۔۔نوجوان کو کس نے اور کیوں قتل کیا تفتیش کے بعد پتہ چلے گا,
    اس واردات سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے
    لوگوں نے جلد سے جلد قاتلوں کو پکڑنے کا مطالبہ کیا ہے

  • غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    ویسے تو ارض پاکستان ایک انتہائی اعلیٰ اور متبرک نظریہ کے تحت بنایا گیا تھا اور الحمدللہ شروع میں یہ نظریہ چلتا بھی رہا اور پھر رفتہ رفتہ انگریز کی باقیات نے اپنا اثر بڑھانا شروع کیا اور اس نظریہ کو دبانا شروع کر دیا
    الحمدللہ میں مایوس نہیں نا ہی کبھی مایوسی کی باتیں کیں بلکہ جس قدر میں پاکستان سے باامید ہوں واللہ دنیا میں کسی ملک سے اتنا نہیں ہوں
    الحمدللہ قیام پاکستان کے بعد سے ابتک ترقی ہوئی ہے ضرور ہوئی ہے مگر رفتار بہت سست ہے جس کی وجہ دو قومی نظریہ اور اسلامی تعلیمات سے منہ موڑنا ہے
    ایک دو قومی نظریہ اقبال نے دیا تھا جسے قائد اعظم نے ان کی وفات کے بعد پیش کیا تھا جس کے تحت پاکستان معرض وجود میں آیا اور وہ دو قومی نظریہ قرآن و حدیث اور اسلام کے نظریہ کے تحت تھا
    مگر یہ والا دو قومی نظریہ جو آج ہم پر ہمارے حکمرانوں نے مسلط کیا ہوا ہے یہ غریب اور امیر والا ہے
    جو ہمارے حکمرانوں نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم یعنی وہ اشرافیہ الگ قوم ہے اور تم یعنی ان کے نزدیک ہم عوام ایک الگ قوم ہیں
    وہ صاحب عزت ہیں اور ہم اچھوت اور نیچ لوگ نہیں یقین تو ان کی مراعات اور تنخواہیں دیکھ لیں اور پھر ہماری تنخواہیں اور ہم پر لگا ٹیکس دیکھ لیں
    وہ خود ایک تو ایک اعلی و ارفع قوم ہے جسے ہر مراعات حاصل ہیں جبکہ عوام اچھوت ذات جسے کوئی مراعات میسر نہیں بلکہ سانسیں بھی پیسوں سے اپنے پلے سے خریدنی پڑتی ہیں

    ہمارے ہاں ترقی کی رفتار اس لئے سست ہے کہ غریب کا جہاں اور جبکہ امیر کا جہاں اور ہے
    ہم مسلمان ہیں الحمدللہ اسی بناء پر دو قومی نظریہ پیش کرکے آزادی حاصل کی گئی تھی
    اور پاکستان ایک ایسا ملک تھا کہ شاید بہت لمبے عرصے تک ماضی میں کسی ریاست کے قیام کیلئے اتنی قربانیاں نا پیش کی گئی ہونگی جتنی قیام پاکستان کیلئے پیش کی گئیں
    ویسے تو ہمارے ہاں ہر ادارہ موجود ہے جو کہنے کو بغیر غریب امیر کی تمیز کئے کام کرتا ہے مگر یہ بات بہت مشکل ہو چکی ہے

    ارشار باری تعالی ہے

    فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی

    لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا
    یہ آیت ہماری عدالتوں میں لکھی ہوتی ہے مگر آپ اور میں بخوبی جانتے ہیں انصاف سستا اور فوری امیر کیلئے ہے جبکہ غریب کیلئے اللہ کسی جج کے دل میں رحم ڈال دے تو ٹھیک وگرنہ 50 سال تک عدالتوں کے چکر لگائے بھی نہیں ملتا

    اگر بات بنیادی سہولیات کی تو ملک چلانے والوں کیلئے تعلیم ،صحت، سیکیورٹی جیسی سہولیات سب مفت ہیں جبکہ عوام کو یہ سب پیسے سے لینا پڑتا ہے
    آپ بجلی کو ہی دیکھ لیں جو پہلے سے کئی لاکھ ماہانہ لیتے ہیں ان کو بجلی مفت دی جاتی ہے جبکہ ایک مزدور کو بجلی کی قیمت اس کی ماہانہ انکم سے بھی زیادہ قیمت کی لگائی جاتی ہے جس کے باعث وہ بیچارہ چوری ڈاکہ ڈالنے پر مجبور ہوتا ہے تو پھر وہی بات عدالتوں کی ،قانون فوری حرکت میں آتا ہے اور اسے پکڑ کر اندر کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بڑے بڑے مقدموں میں نامزد لوگ ہم پر حکومت کر رہے ہوتے ہیں
    غریب عوام کو گورنمنٹ سے قرض لینے کے لئے لاکھوں جتن کرنے پڑتے ہیں جبکہ اشرفیہ کو گورنمنٹ نت نئے طریقوں سے قرض دیتی ہے اور اگر گورنمنٹ بدل جائے تو پھر وارے نیارے وہ قرض معاف بھی ہو جاتا ہے
    الغرض جتنا بھی لکھوں کم ہو گا غریب کیلئے صرف تسلیاں ہی ہیں جبکہ اشرافیہ کو اس قدر نوازہ جا رہا ہے کہ وہ پہلے سے پھلتا پھولتا جا رہا ہے
    آپ حالیہ بجٹ دیکھ لیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا
    مگر اس سب کے باوجود میں مایوس نہیں اگر یہ حکمران انصاف نہیں کر رہے تو وہ عرش والا رب کریم تو ہے نا وہ ان شاءاللہ خوب انصاف کرنے والا ہے ہماری ساری امیدیں اسی رب تعالی سے ہیں ان شاءاللہ وہ اس دنیا میں بھی انصاف کرتا ہے اور اگلے جہاں میں بھی شاید ہماری عوام کی کچھ کمیاں کوتاہیاں ضرور ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے
    اللہ رب العزت ہماری کمیاں کوتاہیاں معاف کرکے ہمیں ایک اچھی قوم بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے نقصان،گورنمنٹ مانیٹرنگ ڈیسک قائم کرے،عوامی مطالبہ

    قصور
    ایک اور غریب کی چھت گرنے سے نقصان،گورنمنٹ فوری طور پر مانیٹرنگ ڈیسک بنا کر خستہ حال مکان مالکان و کرایہ داروں کو نعم البدل عطا کرے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے،عوامی مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن ریسکیو 1122 قصور کو اطلاع ملی کی کوٹ فتح باز خاں قصور سٹی میں ایک چھت گر گئی ہے جس سے گھر کے افراد ملبے کی زد میں آ گئے ہیں ریسکیو عملہ کے موقع پر پہنچنے پر عینی شاہدین نے بتایا کہ سنگل سٹوری خستہ حال مکان گرا ہے جس کی چھت ٹی آر اور بالوں سے بنی ہوئی تھی وہ بارش کے باعث منہدم ہو گئی ہے جس میں ایک فیملی کے تین افراد جمیلہ بی بی، لیاقت، بشریٰ بی بی زخمی ہو گئے
    ریسکیو ٹیم نے تمام مریضوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی اور ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور میں منتقل کر دیا
    عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ آئے روز خستہ حال مکان گرنے سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ فوری طور پر ایک مانیٹرنگ ڈیسک بنائے اور خستہ حال مکان
    مالکان و کرایہ داروں کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرکے مکانوں کی تعمیر کیلئے آسان تر قرضے دے کر خستہ حال مکانات کو تعمیر کروایا جائے تاکہ آئے روز قیمتی جانوں کے نقصان پر کنٹرول ہو سکے