Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • اہم سڑک پر گندگی کا راج انتظامیہ کا صفائی سے انکار

    اہم سڑک پر گندگی کا راج انتظامیہ کا صفائی سے انکار

    قصور کی اہم شاہراہ پر گندگی کے ڈھیر ویسٹ بکس نا ہونے کی بدولت علاقہ مکین کوڑا کرکٹ سڑک پر پھینکنے پر مجبور انتظامیہ غافل بیماریاں پھیلنے کا خدشہ
    تفصیلات کے مطابق قصور کے پرانی لاڑی اڈہ اور حالیہ ماڈل بازار کے باہر گندگی ہی گندگی جس سے سخت تعفن اور بدبو اٹھ رہی ہے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے لوگوں نے بتایا یہاں پر کوئی ویسٹ بکس نہیں جس کی بدولت ہم کوڑا کرکٹ یہاں پھینکنے پر مجبور ہیں مگر افسوس کہ ٹی ایم اے کا عملہ ہر روز صفائی نہیں کرتا جس سے یہ کوڑا کرکٹ کئی کئی دن جمع ہوا رہتا ہے جس سے تعفن اٹھنا شروع ہو جاتا ہے پھر جب صفائی کے عملے کا دل کرے ٹرالی میں لاڈ کر اس کچرے کو لیجایا جاتا ہے اس کوڑے کرکٹ پر گائے بھینسے بھی چلتی پھرتی رہتی ہیں جس سے اس مصروف شاہراہ پر ہر وقت حادثے کا خطرہ رہتا ہے
    لوگوں نے ڈی سی قصور اور ٹی ایم او قصور سے نوٹس لے کر اس غفلت کے مرتکب صفائی کے عملہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • 27 فروری سرپرائز ڈے  تحریر: غنی محمود قصوری

    27 فروری سرپرائز ڈے تحریر: غنی محمود قصوری

    یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیا
    مگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا
    6 ستمبر 1965 کو ایک مرتبہ پھر ہندو کو اپنی درگت بنوا کر سرپرائز لینے کی سوجھی اور اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس پر امت محمدیہ کی پاک فوج نے ایسا سرپرائز دیا کہ 17 روزہ جنگ میں ہندو تو پریشان ہونا ہی تھا پورا عالم کفر اس سرپرائز پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہندو اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل میں پہنچا اور جنگ بندی کروائی
    دو مرتبہ سرپرائز لینے کے بعد ہندو نے اپنا طریقہ بدلا وہ جان چکا تھا مغربی پاکستان میں اسے دو مرتبہ سرپرائز بہت مہنگا پڑا ہے لہذہ اس مرتبہ اس نے مشرقی پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرکے کچھ غداران ملک و ملت کو اپنے ساتھ ملایا اور مکتی باہنی کے نام پر ایک مسلح لڑاکا تنظیم بنائی جس نے پاک فوج پر حملے شروع کر دیئے اور بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کی تحریک شروع کر دی اس مرتبہ ہندو کا وار کچھ کارگر ہوا مکتی باہنی و انڈین فوج نے بنگلہ دیش کی عوام میں پاکستان کے خلاف خوب زہر بھرا اور یوں مکتی باہنی کی پاک فوج سے باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کی کمان اینڈ کنٹرول انڈین فوج کے ہاتھ تھی آخر مکمل جنگ چھڑ گئی مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان تک گولہ بارود کی رسد ختم ہو کر رہ گئی مگر پھر بھی پاک فوج کے شیروں نے وسائل کی کمی اور اپنوں کی غداری کا غم سہہ کر بھی مردانہ وار مقابلہ کیا مگر فوجی افسران و جوان ہتھیار پھینکنے کو تیار نا تھے جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے بنگلہ دیش کے پاکستانی حامی لوگوں و مغربی پاکستان سے آئے سول اداروں کے اہلکاروں کے خاندان کے لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات تھی اس کے بعد بھارت نے ایک اور چال چلی اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور اپنی فوجیں ڈھاکہ میں لا کر ایسٹرن کمان کے امیر عبداللہ خان نیازی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس پر جوانوں و افسروں میں تشویش کی لہر ڈور گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے دوبارہ عام شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا اس پر مجبور ہوتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے بھی ہماری فوج کو اپنوں کی غداری کی بدولت 6 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور یوں 45000 فوجی اور 40000 سے کم سول محکموں کے اہلکار انڈین فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے مگر پاکستان کو فتح کرنے کا انڈین خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نا ہوسکا کیونکہ 1971 میں راجھستان کے محاذ لونگے والا میں انڈین فوج کو سخت جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انڈین فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے بھاگی جس کا اعتراف خود انڈین جرنیل بھی کرتے ہیں اسی طرح سلیمانکی کے محاذ پر میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کو بہت پیچھے تک دھکیل دیا اور ان کی کئی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا جبکہ قصور کے محاذ پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ کھیم کرن کا محاذ چھوڑ کر انڈین فوج پیچھے کو بھاگ نکلی اور اس طرح تاریخی شکست انڈیا کو 1971 میں قصور کے محاذ پر ہوئی زندہ دلان قصور نے اپنی پاک فوج کیساتھ مل کر کھیم کرن شہر پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرایا جس کی تصویریں آج بھی انڈین فوج اور عوام کے ذہنوں پر سوار ہیں غیور قصوریوں نے کھیم کرن سے خوب مال غنیمت حاصل کیا جس کے ثبوت کے طور پر آج بھی اہلیان قصور کے گھروں میں لگے انڈین شہر کھیم کرن سے لائے گئے دروازے ،کھڑکیاں،برتن و دیگر سامان ضرورت لوگوں کے پاس موجود ہے حتی کہ رائیونڈ قصور روڈ جو کہ کچہ راستہ تھا اسی کھیم کرن سے لائی گئی مال غنیمت کی اینٹوں سے بنا
    28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے ایک بار پھر انڈیا کو بہت بڑا سرپرائز دیا مگر شاید مار کھائے بغیر سرپرائز کو قبول کرنا انڈیا کی عادت نہیں سو اس نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستانی فوج اور مجاھدین کشمیر سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 مئی 1999 کو باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہوا جس میں انڈیا کے 30000 اور پاکستان کے 5000 فوجی آمنے سامنے ہوئے پہلے ہی ہلے میں انڈیا کے 1000 سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ 2000 کے قریب فوجی زخمی ہونے کیساتھ انڈین ائیر فورس کے 3 طیارے تباہ ہوگئے جس سے بھارتی فوج سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور دونوں ملکوں پر ایٹمی قوت ہونے کی بدولت عالمی دباؤ بڑھ گیا اور یوں دونوں ملکوں کو بغیر کسی نتیجے کے جنگ بندی کرنی پڑی مگر نقصان کے لحاظ سے ایک بار پھر شکست انڈیا کی ہوئی
    14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج پر کشمیری مجاھدین کی مسلح آزادی پسند تحریک جیش محمد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد انڈین فوجی مارے گئے جبکہ سرکاری طور پر انڈیا نے صرف 44 فوجیوں کی موت تسلیم کی پلوامہ حملے کے بعد اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے انڈیا نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی جس پر پاک فوج کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جھڑپیں بڑھتی گئیں اور 26 فروری 2019 کو انڈیا نے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے مگر ہمارے شاہینوں کی بروقت اڑان سے انڈین پائلٹ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اپنے جنگی جہاز کا پے لوڈ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بالا کوٹ کے مقام پر گرا کر بھاگ گئے اور دعوی کردیا کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں جاکر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپوں پر فضائی کاروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد جیش محمد کے کارکنان شہید کر دیئے ہیں جس کے چند گھنٹوں بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اس جھوٹ کو جلد بے نقاب کرینگے اور ایک سرپرائز بھی دینگے جنرل صاحب کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستانی ائیر فورس کے دو شاہینوں اسکورڈن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے انڈین علاقے میں گھس کر اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک طیارہ مقبوضہ وادی کشمیر جبکہ دوسرا آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو کشمیری عوام نے گھیر لیا اور اس کی تاریخی دھلائی کرکے ایک بہت بڑا سرپرائز دیا اس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بالاکوٹ کا دورہ بھی کروایا جس پر انٹرنیشنل میڈیا نے انڈین ائیرفورس کی ناکامی کا پول کھول کر اسے ایک اور ناکامی کا سرپرائز دیا
    ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا
    معرکہ 27 فروری پر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا تھا کہ انڈین اس سرپرائز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہے پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا

  • رفع حاجت کرنے آئے نوجوان پر تشدد اور پرچہ

    رفع حاجت کرنے آئے نوجوان پر تشدد اور پرچہ

    قصور
    چونیاں باباثر زمیندار کے بیٹوں کا قضائے حاجت پر آئے ہوئے سلیم مسیح پر بہیمانہ تشدد مار مار کر برا حال کر دیا
    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی گاؤں بگھیانہ خورد میں سلیم مسیح کھیتوں میں قضائے حاجت کے لیے گیا تو وہاں پر موجود بااثر کسان کے بیٹوں الطاف وغیرہ نے چوری کے الزام میں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور 15 پر کال کرکے پولیس کے حوالے کردیا
    ورثاء کے مطابق ہمارے بیٹے کا بازو بھی ٹوٹ چکا ہے بااثر کسان کے بیٹوں کے خلاف قانونی کارروائی پر متاثرین مسیح برادری نے قصور دیپالپور روڑ پر شدید احتجاج کیا اور ڈی پی او قصور وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتا رکرکے ہمیں انصاف دلوایا جائے

  • ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے انجیکشن لگانے سے شہری مفلوج

    ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے انجیکشن لگانے سے شہری مفلوج

    قصور
    الہ آباد میں ہومیو پیتھک کی آڑ میں ایلوپیتھک پریکٹس جاری شہری کو انجیکشن لگا کر بازو سے مفلوج کر دیا
    تفصیلات کے مطابق 13 فروری کو الہ آباد محلہ میاں ٹاءون کا رہائشہ محنت کش محمد اشرف بخار کی بدولت دوائی لینے شریف ہومیو پیتھک کلینک وارڈ نمبر 2 محلہ فیصل ٹاءون نزد میاں ٹاءون پر گیا جہاں ہومیوپیتھک ڈاکٹر محمد شریف نے اسے انجیکشن لگا دیا انجیکشن لگتے ہی اشرف کا بازو حرکت کرنا چھوڑ گیا جس پر اشرف نے ڈاکٹر کو کہا تو اس نے اشرف کیساتھ بدتمیزی شروع کر دی اور گالم گلوچ شروع کر دی اشرف نے اپنا معائنہ لاہور جنرل ہسپتال سے کروایا تو اسے بتایا گیا کہ انجیکشن غلط لگا ہے اشرف نے بتایا کہ چند روز قبل ہی اسی ڈاکٹر کے ہاتھوں محمد شفیع نامی بزرگ کی موت واقع ہوئی ہے اور ڈاکٹر ہومیوپیتھک کی آڑ میں ایلوپیتھک پریکٹس کر رہا ہے لہذہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈرگ انسپیکٹر چونیاں و ڈی ڈی ایچ او ہیلتھ و پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نوٹس لے اور مجھے انصاف دلوائے

  • رشتہ کے تنازع پر قتل

    رشتہ کے تنازع پر قتل

    قصو
    پتوکی میں رشتہ کے تنازع پر قتل فائرنگ کرکے تنویر نے اپنے کزن آصف کو قتل کردیا
    تصیلات کے مطابق پتوکی میں محمد آصف اپنے کزن تنویر کے گھر ناروکی ماہجہ پتوکی ملنے آ یا تھا مقتول محمد آصف پتوکی کے نواحی گاؤں ساکن شیخم کا رھائشی ہے مقتول کی عمر 25 سال ہے مقتول محمد آصف کو رشتہ کے تنازع پر قتل کیا گیا ہے مقتول کے سینے پر تین فائر لگے لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پتوکی منتقل کر دیا گیا ہے مقتول کے بھائی محمد رحمان کی تحریری درخواست پر پولیس نے کاروائی شروع کردی

  • دلہا سمیت کئی افراد زخمی

    دلہا سمیت کئی افراد زخمی

    قصور رائیونڈ روڈ پر واقع قصبے راجہ جنگ میں شادی کی تقریب کے دوران اچانک چھت گرنے سے دلہا سمیت کئی مہمان زخمی ہو گئے
    تفصیلات کے مطابق راجہ جنگ کے رہائشی محمد علی مرحوم کے گھر ان کی نواسی کی شادی کی تقریب جاری تھی کہ اسی دوران چھت پر عورتوں اور بچوں کا رش زیادہ ہونے کے باعث چھت کا ایک حصہ اچانک زمین بوس ہوگیا چھت گرنے کے باعث دلہا سمیت شادی میں شریک کئی مہمان جن میں خواتین و بچے بھی شامل تھے زخمی ہوگئے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے
    جبکہ زخمیوں کی حالت بھی تسلی بخش بتائی جاتی ہے

  • ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی متحرک

    ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی متحرک

    قصور پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ قصورکا غیر معیاری دودھ کیخلاف کریک ڈاؤن شروع
    تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ قصور نے سینکڑوں لیٹر مضر صحت کیمیکل ملا دودھ پکڑ لیا
    ڈائریکٹر لاہور ڈویژن پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مصطفی آباد ٹول پلازہ پر دودھ کی خود چیکنگ کی
    اسسٹنٹ کمشنر قصور انعم زاہد اور ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن پنجاب فوڈ اتھارٹی قصور نے ٹیم کے ہمراہ دودھ کے معیار کو چیک کیا جس پر ناقص اور ملاوٹ شدہ دودھ کو فوری ضائع کر دیا گیا اور سینکڑوں چالان بھی کئے

  • سپیشل تعمیر کا دعوی ایک بار پھر

    سپیشل تعمیر کا دعوی ایک بار پھر

    قصور پی ٹی آئی قیادت شہریوں کو تسلیاں دینے میں مصروف پچھلے سال کی طرح ایک مرتبہ پھر رائیونڈ قصور روڈ کی تعمیر کا دعوی کر دیا
    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی قصور کی قیادت عوام کو تسلیاں دینے میں مصروف پچھلے سال بھی راءو داور حیات خان ٹکٹ ہولڈر پی ٹی آئی کی طرف سے قصور رائیونڈ روڈ کو ڈبل کرنے کا دعوی کیا گیا تھا اور اب بھی پی ٹی آئی کارکنان نے سردار راشد طفیل خان اور راءو داور حیات خان کی طرف سے منسوب قصور رائیونڈ روڈ پر جگہ جگہ بینرز چھپوا کر لگائے گئے ہیں جس میں قصور رائیونڈ روڈ کی سپیشل تعمیر کیلئے 4 کروڑ 20 لاکھ روپیہ فنڈ منظور ہونے کا دعوی کیا گیا ہے مگر یہ بات وضع نہیں کی گئی کہ سپیشل تعمیر سے مراد سڑک مرمت ہے یاں پھر روڈ ڈبل کرنا ہے
    لوگوں نے کہا کہ بات وضع کی جائے کہ سڑک مرمت کی جائے گی یاں ڈبل روڈ بنایا جائے اور حتمی تاریخ بتائی جائے کہ کام کب شروع ہوگا ورنہ جب سے پی ٹی آئی گورنمنٹ بنی ہے تب سے دعوی تو سن رہے ہیں مگر کام ہوتا نہیں

  • شجر کاری مہم کا آغاز

    شجر کاری مہم کا آغاز

    قصور
    اسسٹنٹ کمشنر کوٹ رادہاکشن نے پودا لگا کر شجر کاری مہم کا آغاز کیا

    تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر میڈم نازیہ موہل نے کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے سلسلہ میں ریلوے ہاکی گراونڈ اور اے سی آفس کوٹ رادھاکشن میں پودا لگا کر شجر کاری کا آغاز کر دیا
    اور شہریوں سے بھی استدعا کی کہ وہ بھی پودے لگائیں تاکہ ہم صاف فضاء میں اپنی زندگی صحت مندانہ طریقے سے گزار سکیں

  • دوست ہی دوست کا قاتل نکلا

    دوست ہی دوست کا قاتل نکلا

    قصور چونیاں میں دوست ہی دوست کا قاتل نکلا دوست کی لاش برآمد
    تفصیلات کے مطابق پولیس سرکل چونیاں کےتھانہ کنگن پور میں دوست نے دوست کی زندگی کا سودہ کر لیا مقتول کے مخالفین سے پیسے لے کر اپنے ہی دوست کو مروا دیا
    ملزموں نے فاروق کو قتل کرکےلاش دریا میں پھینک دی جو کہ پندرہ روز بعد ملی
    لاش ملنے پر حقائق سامنے آگئے مقتول کے ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس نے اُن کے ملزم پکڑ کر چھوڑ دیئے
    متاثرہ خاندان نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت سے انصاف کی اپیل کی ہے