قصور
ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجو کیشن طارق حمید بھٹی کا میٹرک کے امتحانی مراکز کا اچانک دورہ انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
امتحانی عملہ انتہائی ذمہ داری اور جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے سخت نگرانی کریں‘کسی قسم کی بے ضابطگی یا بوٹی مافیا کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن طارق حمید بھٹی
قصوروزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب طارق حمید بھٹی کا میٹرک کے امتحانی مراکز کا اچانک دورہ‘انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن طارق حمید بھٹی نے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز قصور عبدالغفار ڈوگر کے ہمراہ گزشتہ روز گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور، گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول، گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول فار گرلز، اسلامیہ ہائی سکول فار گرلز، گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول فار بوائز اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج قصور میں قائم میٹرک کے امتحانی سینٹروں کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے تمام امتحانی مراکز میں سیکورٹی کے انتظامات، پینے کے پانی کی فراہمی، کمروں میں روشنی کے انتظام کو بھی چیک کیا اور طلباء و طالبات کی رول نمبر سلپیں بھی چیک کیں۔اس موقع پر انہوں نے تمام سینٹروں کے سپریٹنڈنٹس امتحان اور نگران عملے کو ہدایت کی کہ وہ انتہائی ذمہ داری اور جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے سخت نگرانی کریں۔ امتحانی عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بوٹی مافیا کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ نقل ایک ناسور ہے جس سے طلباء و طالبات کو ہر صورت بچنا ہو گااور محنت سے ڈگریاں حاصل کر کے اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہوگا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجو کیشن پنجاب نے گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں طلباء و طالبات کی صحت کے متعلق سٹوڈنٹ ہیلتھ پروفائلز، اساتذہ کی حاضری اور کالجز میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بھی چیک کیا
Author: غنی محمود قصوری
-

ہائیر ایجوکیشن کا اچانک چھاپہ
-

رکشہ سٹینڈ کی بدولت لوگ پریشان
قصور
پتوکی میں غیر قانونی رکشہ سٹینڈ کی بھر مار کم عمر رکشہ ڈرائیور بچوں کی وجہ سے حادثات معمول کا حصہ بن گئے
تفصیلات کے مطابق پتوکی میں غیر قانونی رکشہ سٹینڈ کی بدولت لوگوں کا پیدل چلنا مشکل ہوگیا ہے جبکہ ڈیوٹی پر موجود پولیس والے انکو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں میگاروڑ چوڑی مارکیٹ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول گورنمنٹ گرلز ہائی سکول امام بارگاہ لاہور والہ اڈا اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے سامنے رکشے کھڑے ہونے کیوجہ سے ایمرجنسی میں ایمبولینس کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے لوگوں نے اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل کی ہے -
بڑا گوشت بڑی قیمتوں پر فروخت
قصور اور گردونواح میں قصابوں کی من مانیاں اپنی مرضی کے داموں پر گوشت فروخت لوگ پریشان
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں قصابوں نے اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے بڑے گوشت کی قیمت 380 روپیہ فی کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ قصاب 400 روپیہ سے 450 روپیہ فی کلو گوشت اور قیمہ 500 روپیہ فی کلو فروخت کر رہے ہیں زیادہ قصابوں کے پاس ریٹ لسٹیں بھی نہیں اور نا ہی گوشت پر ویٹرنری ہیلتھ و سلاٹر ہاءوس کی مہر لگی ہوتی ہے اکثر قصاب بیمار جانور ذبح کرکے لوگوں کو گوشت فروخت کر رہے ہیں
شہریوں نے ڈی سی قصور،پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اور ویٹرنری ہیلتھ سے نوٹس لے کر کاروائی کی درخواست کی ہے -

عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق تحریر: غنی محمود قصوری
اسلام و پاکستان کو لبرل بے دین لوگ بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر ہر بار ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس سال عالمی یوم خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں چند حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی علمبردار عورتوں نے عورت مارچ کا اعلان کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی ہو چکا ہے اس عورت مارچ کو پہلے پاکستان کی عدالت نے روکا تھا پھر اچانک غیر مشروط طور پر یہ کہتے ہوئے اجازت دے دی گئی کہ ہر کسی کو تنظیم سازی کا حق ہے لہذہ عورتیں مارچ کریں مگر اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں حالانکہ اس سے قبل ہوئے عورت مارچ میں اہلیان پاکستان کیساتھ پوری دنیا نے بھی دیکھا کہ کسطرح عورت مارچ کے نام پر بد تہذیبی بد اخلاقی اور بے شرمی کی گئی ان 3 درجن سے زائد مطلقہ آزاد خیال اور دین سے بے زار عورتوں نے جن میں سے سرفہرست ماروی سرمد نامی تجزیہ کار ہے ،کے زیر سایہ عورت مارچ میں عورتوں نے ایسے گندے بے حیائی پر مبنی پوسٹرز پکڑ رکھے تھے جن پر عورتوں کے مخصوص ایام کی تشریح،عورتوں پر تشدد و تیزاب گردی کی روک تھام،اگر مجھے مارو گے تو مار کھاءو گے،میری شادی نہیں آزادی کی فکر کرو،میں ماں ،بہن ہوں گالی نہیں، ساڈا حق ایتھے رکھ اور میری نسبت میری والدہ سے ہونی چایئے جیسے نعرے درج تھے
پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے اور آئین پاکستان میں جہاں مردوں کو حقوق دیئے گئے ہیں وہاں عورتوں کو بھی حقوق فراہم کئے گئے ہیں جن کی واضع مثال ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کی نمائندگی بکثرت دیکھی جا سکتی ہے یہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی 3 بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک سفارتکاری میں بھی عورتیں ہیں ایک عام گھریلوں خاتون سے لے کر وزیراعظم تک کے حقوق عورتوں کو دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نام نہاد روشن خیال عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جو آئے دن اپنے حقوق کا رونا روتی ہیں حالانکہ سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلام نے رکھا ہے
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی ذیشان نے فرمایا
اور اگر وہ فرمانبرداری کریں تو ان پر (کسی قسم کی) زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں
مذید میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر تشدد روکتے ہوئے فرمایا
تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔ مسند احمد 7119
اس حدیث سے ثابت ہوا آقا کریم نے عورتوں پر بے جا تشدد کی ممانعت کی ہے اور ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا ہے یہی نہیں عورت کو حق خلع دیتے ہوئے مذید اس کی شان کو بلند کیا گیا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کی جعلی علمبردار بھول گئیں کہ اسلام سے قبل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے پھر میرے نبی رحمت تشریف لائے اور معصوم کلیوں کے محافظ بن گئے جس قدر اسلام نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا دنیا میں اتنا خیال کسی مذہب نے نہیں رکھا اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دلوایا اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ بچوں بوڑھوں کیساتھ عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ایک طرف قبل از اسلام عورت کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا تھا تو دوسری طرف نبی ذیشان نے دوران جنگ بھی عورت کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہم اگر اسلام کا مطالعہ کریں تو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو حقوق دیئے گئے عورت پر مرد کو حاکم مقرر کیا گیا اور اسی حاکم کے ذمے اسی عورت کی کفالت کا حکم دیا حالانکہ عام دستور یہ ہے جو حاکم ہوتا ہے وہ آرام کرتا ہے اور محکوم محنت مزدوری جبکہ اسلام نے مرد کو حاکم ہوتے ہوئے محنت مزدوری کا حکم دیا جبکہ عورت کو محکوم ہوتے ہوئے بھی شہزادی و ملکہ کا رتبہ دیا آئین پاکستان میں عورت کسی مرد کی طرف سے آنکھ مارنے کی سزا ایک سال قید رکھی گئی ہے 1988 ker.
دفعہ اے 498 کے تحت جو شحض کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرے گا اسے 5 سے 10 سال کی سزا اور 10 لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا مقرر ہے
دفعہ بی 371 کے تحت کسی بھی عورت کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدنا اور کرایے پر لینے کی سزا 25 سال مقرر ہے دفعہ 509 کے تحت کسی بھی عورت پر بہتاب بازی کی سزا ایک سال مقرر کی گئی ہے مگر پھر بھی یہ گندی عورتیں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خودساختہ حقوق کی بات کرتی ہیں دراصل ان کو تنگی آئین پاکستان و اسلام میں عورت کو دیئے گئے تحفظ سے ہیں یہ واہیات عورتیں چاہتی ہیں کہ ان قانین کو ختم کرکے ان کی مرضی کے مطابق ان کو بے لگام کر دیا جائے اور ایک بے لگام گھوڑی کی طرح جہاں دل کرے منہ مارتی پھریں
پاکستان میں سرکاری سکولوں میں عورتوں کی نا صرف تعلیم مفت ہے بلکہ ان کیلئے مخصوص رقم بھی گورنمنٹ دیتی ہے تاکہ ان کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نا آئے اس کے علاوہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز ایسی ہیں جو غریب اور بے سہارا عورتوں کیلئے رہائش و کھانے کے علاوہ ان کے نکاح تک کا خرچ برداشت کرتے ہیں
ماروی سرمد جیسی لبرل بے دین عورت یہ بھول گئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ہندو قوم رہتی ہے کہ جس میں عورت کے خاوند کو مرنے کے بعد یا تو اس کے مرنے والے خاوند کیساتھ دفن کر دیا جاتا ہے یا پھر باقی زندگی ایک ہی مخصوص لباس میں رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کی باندی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے اور لوگ اس کے سائے سے بھی ڈرتے ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ ہونے والی عورت کی کفالت اس کے بھائی،سسر،باپ،بیٹے کی ذمہ داری بن جاتی ہے مگر افسوس کہ اس گھٹیا عورت نے آج دن تک ہندوستان میں عورت پر ہوتے ظلم پر آواز بلند نہیں کی جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ مخصوص آزاد عورتیں درحقیقت عورت کے حقوق کی نہیں آزاد معاشرے کے گندے غلیظ حقوق کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اجاگر کر رہی ہیں اور یہ عورتیں مملکت پاکستان میں بے حیائی بے شرمی کو دوام دینا چاہتی ہیں جنہیں روکنا حکومت وقت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ معاملہ چند خواتین کا نہیں یہ معاملہ اسلام و پاکستان کی بقاء کا ہے اگر آج ان کو نا روکا گیا تو کل اس،گندے واہیات نعروں کے نتائج انتہائی غلط نکلیں گے -

عینک گھر سیل کر دیا گیا
قصور
الہ آباد میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر جاوید اقبال کی زبردست کارروائی
تفصیلات کے مطابق ڈی ڈی ایچ او چونیاں ڈاکٹر جاوید اقبال نے کاروائی کرتے ہوئے گلزار عینک گھر کو سیل کر دیا جبکہ متعدد میڈیکل سٹوروں کو چیکنگ کے بعد وارننگ دے دی
حمید نامی شخص کی ڈاکٹر جاوید اقبال کو دھمکی
گزشتہ روز ڈاکٹر جاوید اقبال نے الہ آباد میں کارروائی کرتے ہوئے گلزار عینک گھر اور غفور عینک گھر کو بغیر کوالیفائڈ پرسن کے آنکھیں چیک کرنے پر سیل کیا تھا -

نامعلوم لاش برآمد
قصور
چھانگا مانگا کےنواحی گاؤں چکوکی کے قریب بی ایس لنک نہر سے نامعلوم شخص کی لاش بر آمد
تفصیلات کے مطابق چھانگا مانگا کے قریبی علاقے چکوکی لنک نہر سے ایک نامعلوم شحض کی لاش برآمد ہوئی ہے مرحوم کی عمر ،35/40سال بتائی جا رہی ہے
تاحال موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے
تھانہ چھانگا مانگا پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر نعش کو تحویل میں لیکر ابتدائی کاروائی شروع کر دی ہے
لاش ملنے سے لوگوں میں خوف و ہراس کی فضاء قائم ہو گئی ہے -

ہائی وولٹیج تاریں لوگوں کی چھتوں پر،خاتون خانہ زخمی
قصور
لیسکو قصور نا اہلی میں سب سے آگے 11kv تاریں لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر کرنٹ لگنے سے عورت جھلس گئی
تفصیلات کے مطابق لیسکو قصور نا اہلی میں تمام محکموں سے سب پہلے نمبر پر ہے قصور اور گردونواح میں 11kv تاریں لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سے گزر رہی ہیں اور یہ ہائی وولٹیج تاریں انتہائی باریک اور بوسیدہ ہو چکی ہیں جس سے یہ تاریں آئے روز گرتی رہتی ہیں کل کھارا محلہ ملکاں والا میں نسیم خان کی والدہ اپنی چھت پر کھڑی تھی کہ تیز ہوا سے تاریں ہلنا شروع ہو گئیں اور تھوڑی دور کھڑی خاتون کے دوپٹے سے ٹکڑا گئیں جس سے خاتون کو شدید جھٹکا لگا اور اس کی کہنی جس میں چوڑیاں پہنی ہوئیں تھیں بری طرح جھلس گئی حالانکہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان ہائی وولٹیج تاروں کو لکڑی کی مدد سے اپنے گھر کی چھت سے دور کیا ہوا ہے مگر پھر بھی تاریں پرندوں کے بیٹھنے سے جھول کر ان کی چھت پر آ جاتی ہیں جس سے ہر وقت حادثے کا خدشہ رہتا ہے
اہلیان علاقہ نے ڈی سی قصور اور ایس سی قصور سے تاریں نئی اور اونچی کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور ایس ای قصور پر ہو گی -

کتے کے کاٹنے سے بچہ جانبحق
تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں مانا والا میں آوارہ کتوں کےکاٹنے سے بچہ جاں بحق
جاں بحق ہونے والے 5 سالہ بچے عثمان کی نعش گھر پہنچ گئی
پانچ سالہ بچے کو آوارہ کتوں نے نوچ ڈالا تھا
عثمان کی نعش گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا
گاؤں مان میں سوگ کی فضا۔
میونسپل کارپوریشن تاحال آوارہ کتے مار مہم نہ چلا سکی -

28 سال ملازمت کرنے والے مرحوم کے لواحقین سے رشوت کی طلبی
قصور محکمہ ایجوکیشن کے ملازمین کا پیسے مانگنے کا انکوکھا انداز 2016 تک کے غریبوں کےکیس رشوت کے لئے دبا رکھے
قصور محکمہ ایجوکیشن کے ملازمین نے عبدالخالق نائب قاصد جو کہ دوران ڈیوٹی ملازمت کرتا فوت ہوگیا تھا کے آٹھ ماہ سے تمام واجبات روک رکھے ہیں ملازمین نے سی او ایجوکیشن کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ملازمین اہل خانہ سے پیٹرول وغیرہ مانگتے ہیں
قصور محکمہ ایجوکیشن کی نااہلی آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود عبدالخالق نائب قاصد مرحوم جو کہ دوران ڈیوٹی وفات پا گیا تھا اور 28 سال تک محکمہ ایجوکیشن کی خدمت کر کے فوت ہوا اس مرحوم کا ایک بھی کیس پایا تکمیل کو نہ پہنچ سکا مرحوم نے ساری زندگی محکمہ ایجوکیشن کی خدمت کی ہے 3 کیسز کے نوٹیفکیشن ہونے کے باوجود مرحوم کے واجبات بل نہیں بنائے گئے اور نہ ہی اکاونٹ آفس سے مرحوم کا اکاؤنٹ اس کے بیوہ کے نا ہی ٹرانسفر کیا گیا اہل خانہ نے کئی چکر لگائے کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں مرحوم کا بیٹا محمد مبین جو کہ دسویں جماعت کا طالب علم ہے اپنی عرضی لے کر سی او ایجوکیشن کےپاس لےکر گیا
سی او ایجوکیشن کے حکم کے باوجود بھی ملازمین نے ایک بات بھی نہ سنی اور پیٹرول کے پیسے مانگنا شروع کر دیتے ہیں غریب کے اہل خانہ مایوس ہو چکے ہیں جہیز تکفین ۔گروپ انشورنس ۔گرانٹ آف ڈیتھ لیو انکیش منٹ۔ جی پی فنڈ ۔ پے منٹ آف سیلری کوئی بھی کیس آٹھ ماہ میں پایا تکمیل تک نہ پہنچا مرحوم کے اہل خانہ نے ڈپٹی کمشنر قصور اور سی او ایجوکیشن ناہید واصف اور اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل کی ہے کہ ہماری داد رسی کی جائے -

لیڈی پارک کی نیلامی کا فیصلہ لوگوں میں غم و غصہ
قصور
قیام پاکستان سے قبل عورتوں کیلئے مختص لیڈی پارک کو نیلام کرکے ریلوے کا خسارے پورا کرنے کا فیصلہ
تفصیلات کے مطابق قصور ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع لیڈی پارک جس کیلئے جگہ قیام پاکستان سے پہلے مختص کی گئی تھی مگر پارک پچھلے دور حکومت میں بنا اس واحد عورتوں کے پارک کو گورنمنٹ نے نیلام کرکے ریلوے کے خسارے کو پورا کرنے کا عزم کر لیا ہے ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ریلوے کی ملکیت ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل ہی یہ جگہ لیڈی پارک کیلئے وقف تھی جس پر شہریوں کے حکومت کو توجہ دلانے پر اس پارک کو پچھلے دور حکومت میں مکمل کیا ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس جگہ کی بولی 10 تاریخ کو کی جائے گی جبکہ شہری و سماجی حلقوں نے کہا ہے کہ اگر اس جگہ کی بولی لگائی گئی تو پورے شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی لہذہ گورنمنٹ اپنے عزائم سے باز رہے