قصور
غریب لوگ خشک میوہ جات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان خشک میوہ جات کینسر اور امراض قلب کی بیماریوں کیلئے ویکسین کا کام کرتے ہیں
اخروٹ میں اومیگا تھری وافر مقدار میں ہوتا ہے جو امراض جلد کیلئے اکسیر ہے
تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح قصور میں بھی سردی آتے ہی خشک میوہ جات کی مانگ میں اضافے کیساتھ قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے جس سے غریب لوگوں کیلئے خشک میوہ جات ایک خواب بن کر رہ گئے ہیں ماہرین طب کے مطابق خشک میوہ جات خطرناک بیماریوں جیسے کینسر اور امراض قلب کے لئے بطور ویکسین کام کرتے ہیں روزانہ 20 گرام خشک میوہ جات کا استعمال ان خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث جلد کی بیماریوں میں اخروٹ کا استعمال انتہائی اہم ہے اخروٹ میں موجود اومیگا تھری امراض جلد کیلئے انتہائی اہم ہے اس کے علاوہ خشک میوہ جات کے استعمال سے بھوک کچھ حد تک کم ہو جاتی ہے جس سے موٹاپے کی بیماری میں کمی واقع ہوتی ہے تمام خشک میوہ جات میں کولیسٹرول کو کم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے
Author: غنی محمود قصوری
خشک میوہ جات کینسر اور امراض قلب کیلئے مفید
الہ آباد میں حالات خراب
قصور
الہ آباد میں ڈاکو راج قائم چور ڈاکو بے خوف ہو کر لوگوں کو لوٹنے میں مصروف پولیس بے بستفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے قصبے الہ آبا میں بے لگام ڈاکووں کا راج قائم ہو گیا ہے جو کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے لئے سوالیہ نشان بن گیا
الہ آباد کے نواحی گاوں مستووال روڑ پر ڈاکووں نے گن پوائنٹ پر منت کش بہن بھائی کو لوٹ لیا جس پر بہن بھائی نے مزاحمت کی تو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں ڈاکوؤں نے نقدی 6000 روپیہ ،ایک عدد موٹر سائیکل اور ایک تولہ طلائی زیورات لوٹ لئے اور فرار ہو گئے 15 پر کال کرنے سے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی
پولیس نے موقع پر پہنچ کر کاروائی شروع کر دیمرد و خاتون کو لوٹ کر گولی مار دی
قصور
کھڈیاں خاص میں واردات مزاحمت پر گولی مار دی
تفصیلات کے مطابق کھڈیاں خاص میں ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر سوزی بولان روک کر نقدی 40 ہزار 1 تولہ طلائی زیورات لوٹ لئے جس پر متاثرہ شحض نے مزاحمت کی تو مزاحمت کرنے پر گولی مار
لاہور کا رہائشی غلام مصطفی اہل خانہ کے ساتھ پاکپتن جا رہا تھا کہ مین دیپال پور روڈ ڈھنگ شاہ کے قریب نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے سوزوکی بولان نمبری ایل ای سی 3686 کو اسلحہ کے زور پر زبردستی روک لیا
غلام مصطفی کو علاج معالجے کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا واضع رہے کہ شہر اور گردونواح میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں کو کنٹرول اور سراغ لگانے میں پولیس بری طرح ناکام ہو گئی ہے گزشتہ روز جامع مسجد راجپوتاں میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی سربراہی اے ایس پی عبدالحنان نے کی تھی کھلی کچہری میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگا یئے تھے متاثرین نےالزام عائد کرتے ہوئے کہا پولیس ملزمان کا سراغ لگانے کی بجائے درخواست دہندہ کو دڑایا جاتا ہے
کھلی کچہری میں موجود تاجر برادری سیادی اور صحافی شخصیات نے پولیس کے رویہ کے خلاف وزیر اعلی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہےدربار بابا بلہے شاہ کی سیکیورٹی سخت
قصور
مزار بابا بلہے شاہ کی سیکیورٹی انتہائی سخت نجی سکیورٹی کمپنی کے ساتھ ہر وقت قصور پولیس بھی چوکس
تفصیلات کے مطابق دربار بابا بلہے شاہ کی سیکیورٹی جو کہ پہلے ہی کافی سخت تھی اب اور بھی سخت کر دی گئی ہے انسپیکٹر محمد ایوب انچارچ سیکیورٹی دربار بابا بلہے شاہ نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ دربار کی سیکیورٹی تھانی سٹی اے ڈویژن قصور کے ذمہ ہے
دربار کی سیکیورٹی اے جے ایس ایس نامی نجی کمپنی کے پاس ہے مگر پھر بھی پولیس کے مسلح جوان ہر وقت دربار پر چوکس رہتے ہیں انہوں نے بتایا کہ مردوں اور عورتوں کیلئے علیحدہ علیحدہ داخلی و خارجی راستے بنائے گئے ہیں داخلی داروازے پر ہر آنے والے کو پہلے واک تھرو گیٹ سے گزرنا پڑتا ہے پھر اس کے بعد ہاتھ سے تلاشی لی جاتی ہے اور اس دوران پولیس کے مسلح جوان ہر وقت چوکس رہتے ہیں عورتوں کے داخلی و خارجی راستے پر نجی کمپنی کی لیڈی سیکیورٹی گارڈ کیساتھ پنجاب پولیس کی مسلح لیڈیز پولیس اہلکار بھی تعینات ہوتی ہے اس کے علاوہ دربار کے اندر و باہر موجود پرایئیویٹ سیکیورٹی گارڈز کیساتھ پولیس بھی گشت کرتی ہے دربار کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے جگہ جگہ کیمرے نصب کئے گئے ہیں جس سے اندر زائرین پر نظر رکھی جاتی ہےحملے سے فاریسٹ گارڈ زخمی
قصور
چھانگا مانگا جنگل میں لکڑی چور نے فاریسٹ گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا
تفصیلات کے مطابق چھانگا مانگا جنگل سے لکڑیاں چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑنے جانے پر فاریسٹ گارڈ پر حملہ کر دیا ملزم عامر ولد نذیر احمد، زین ولد برکت علی چھانگا مانگا جنگل کے اندرونی بیٹ بلاک 5 سے لکڑیاں چوری کر رہے تھے جنہیں نذیر احمد فاریسٹ گارڈ انچارج بلاک نمبر 5 نے موقع پر پہنچ کر قابو کر لیا مگر ملزمان دو تھے اور فاریسٹ گارڈ اکیلا
ملزمان نے نذیر احمد پر حملہ کر دیا جس سے نذیر احمد شدید زخمی ہوگیا اور ملزمان موقع سے فرار ہوگئے جنگل کے باقی عملے نے زخمی نذیر احمد کو سرکاری ہسپتال چھانگامانگا منتقل کیا جہاں اسکا علاج جاری ہے
اہلیان علاقہ اور انچارج چھانگا مانگا فاریسٹ نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکےتالے توڑ گینگ بے قابو پولیس بھی بے بس
قصور
کھڈیاں خاص میں چوری ڈکیتی عروج پر پولیس بے بس
تفصیلات کے مطابق کھڈیاں خاص میں تالہ توڑ گینگ سرگرم 3 دکانوں کا صفایا کر گئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو با آسانی پہچانا جا سکتا ہے تھانہ کھڈیاں کے سامنے بڑی آسانی اور بلا خوف کے دکان کے تالے توڑ کر نقدی وغیرہ لوٹ کر لے گئے صبح سویرے نامعلوم چور سعید ہسپتال روڈ اسامہ فارمیسی جبکہ پرانا امام بارگاہ اویس الیکٹریک سٹور اور اسی طرح تھانہ کھڈیاں کے سامنے السید ویٹرنری فارمیسی کے تالے توڑ کر نقدی وغیرہ لوٹ کر فرار ہوگئے
لوگوں نے کھڈیاں خاص میں چوری ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہےلاہور قصور روڈ پر ایک اور حادثہ
قصور
ایک اور ٹریفک حادثہ موٹر سائیکل سوار جانبحق
تفصیلات کے مطابق قصور مین فیروز پور روڈ پر وڈانہ سٹاپ کے قریب دو موٹرسائیکل سواروں کی ریس کی بدولت موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکڑا گئیں اور موٹر سائیکل سوار نیچے گر پڑے جن میں سے ایک موٹرسائیکل سوار کے اوپر سے پیچھے سے آنے والی تیز رفتار ٹرالی گزر گئی جس کی بدولت موٹر سائیکل سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی ہے
ریسکیو 1122 نے دوسرے زخمی موٹر سائیکل سوار کو ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور پہنچایا جس اس کا علاج جاری ہے
ٹرالی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا ہےجگہ جگہ جعلی زچہ بچہ سینٹرز قائم
قصور
الہ آباد شہر اور گردنواح میں جعلی زچہ بچہ سینٹرز کی بھرمار محکمہ صحت کے افسران کیلئے کھلا چیلنج بن گئیتفصیلات کے مطابق شہر میں جگہ جگہ مڈل پاس میٹرک فیل اور ناتجربہ کار اتائی خود کو گائناکالوجسٹ ظاہر کرتے ہوئے حاملہ خواتین اور نومولود معصوم بچوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے میں مصروف ہیں اس اہم ترین مسئلہ پر انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران کی مبینہ طور پر خاموشی سوالیہ نشان بن گئی ہے
علاقہ بھر میں موت کے سوداگروں نے ایک سال کے دوران زچگی سینکڑوں قیمتی جانوں کو نگل لیا
معصوم بچے بھی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ گئے مگر ان جعلی زچہ بچہ سینٹرز والے پوری آب و تاب کیساتھ آج بھی اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ڈی ڈی ایچ او ہیلتھ ماہانہ منتھلیاں اکھٹی کرنے میں مصروف ہے اہل علاقہ کے سیاسی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیر صحت پنجاب ڈاکڑ یاسمین راشدہ،سیکریڑی صحت پنجاب،سے مطالبہ کیا ہے اس کرپٹ ڈی ڈی ایچ او کے خلاف غیر جانب دار انکوائری کا حکم صادر فرمایا جائےمنڈی قصور لوگوں کو ڈرانے لگی
قصور
مہنگائی کم کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے پھلوں اور سبزیوں کے ریٹ آسمان پر عوام فاقوں پر مجبور
تفصیلات کے مطابق آج بھی سبزی منڈی قصور میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ حکومتی عہدیرار صرف فوٹو سیشن کے لئے منڈیوں اور بازاروں کا وزٹ کر رہے ہیں جس سے عوام کو کوئی بھی ریلیف نہیں مل رہا آج ٹماٹر 300 روپے فی کلو فروخت ہوئے ہیں جبکہ دوسری تمام اشیاء کے ریٹ بھی سرکاری ریٹوں سے زیادہ ہیں
شہریوں نے ڈی سی قصور محکمہ فوڈ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہےڈاکخانہ خسارے میں ہے پورا عوام کرے
قصور
ڈاکخانہ راءو خان والا میں بل بجلی ادا کرنے والوں سے فی بل 5 روپیہ زائد وصولی
تفصیلات کے مطابق قصور کی یونین کونسل راءو خان والا میں ڈاکخانہ ملازمین فی بل 5 روپیہ زائد لے رہے ہیں جبکہ ادا شدہ بل پر وصولی مہر کیساتھ اصل بل کی وصول کردہ رقم ہی تحریر کر رہے ہیں نمائندہ باغی ٹی وی کو رفیق ولد نظام دین ،آصف ولد عبداللہ رحمانی نے بتایا کہ ہم اپنے گھروں کے 7 بل لے کر ڈاکخانہ راءو خان والا میں گئے اور 7 بلوں کیساتھ کل رقم ڈاکخانہ ملازم کو دی تو اس نے کہا کہ اصل رقم کے علاوہ فی بل 5 روپیہ الگ سے دینے ہونگے کیونکہ ڈاکخانہ خسارے میں جا رہا ہے جس پر ہم نے عملہ کو کہا کے خسارے میں ہمارا کونسا کردار ہے آپ بل کی اصل رقم لیں جس پر ڈاکخانہ راءو خان والا کے عملہ نے کہا اگر فی بل 5 روپیہ زائد دینگے تو ہی بل ادا ہوگا ورنہ بازار میں قائم ایزی پیسہ اور موبی کیش شاپ پر بل ادا کر لیں کیونکہ وہ 10 روپیہ فی بل زائد لیتے ہیں لہذہ ہم نے 7 بلوں کی اصل رقم سے 5 روپیہ فی بل زائد ادا کئے ہیں
لوگوں نے انچارچ جی پی او قصور اور ڈی سی قصور سے واقعہ کی تحقیقات کرکے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ڈاکخانہ میں نزدیکی دیہاتوں سے روزانہ سینکڑوں بل وصول کئے جاتے ہیں جس کی مد میں عملہ ڈاکخانہ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں روپیہ لوگوں سے زائد وصول کر رہا ہے جو کہ سرا سر زیادتی ہے