Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • بجلی چوری کا بڑا اسکینڈل ،مزاحمت کے باوجود متعدد گرفتاریاں

    بجلی چوری کا بڑا اسکینڈل ،مزاحمت کے باوجود متعدد گرفتاریاں

    قصور
    رورل ایریا سب ڈویژن میں بجلی چوری کا بڑا اسکینڈل بے نقاب
    قصور کے رورل ایریا سب ڈویژن کی حدود میں واقع گاؤں رسول نگر میں بجلی کی 90 فیصد چوری کا انکشاف ہوا ہے جہاں مزاحمت کے باوجود لیسکو ٹیموں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بجلی چوری کے خلاف بھرپور ایکشن لیا
    ترجمان لیسکو کے مطابق کارروائی چیف ایگزیکٹو لیسکو کی ہدایت پر ایس ای قصور سرکل راؤ کامران شوکت اور ایکسین رورل ایریا محمد جاوید کی سربراہی میں کی گئی
    کارروائی کے دوران 3 ٹرانسفارمرز ضبط کر لیے گئے جبکہ 5 انتہائی مطلوب بجلی چور موقع سے گرفتار کر لئے گئے
    ایس ڈی او نثار احمد خان نے آپریشن کے دوران 15 اسپین تاریں اور درجنوں سروس کیبلز تحویل میں لے لیں
    ترجمان کے مطابق ڈائریکٹ سپلائی پر چلنے والے 2 ٹیوب ویل بھی پکڑ لیے گئے جس کے بعد پوری آبادی کی بجلی منقطع کر دی گئی
    لیسکو ٹیموں پر تشدد کرنے والے مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے
    چیف ایگزیکٹو لیسکو نے ایس ای قصور سرکل، پولیس اور رینجرز کی بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بجلی چور قوم کے مجرم ہیں اور ان سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی

  • 9 سال بعد قتل کا راز کھل گیا،مرکزی ملزم جیل میں،مقتول کی نماز جنازہ بغیر میت ادا کر دی گئی

    9 سال بعد قتل کا راز کھل گیا،مرکزی ملزم جیل میں،مقتول کی نماز جنازہ بغیر میت ادا کر دی گئی

    قصور
    سچ ہے کہ قتل چھپائے بھی نہیں چھپا بلکہ انصاف ہو کر ہی رہتا ہے، 9 سال 3 ماہ بعد قتل کا راز فاش
    تفصیلات کے مطابق قصور کے علاقے چھانگا مانگا میں 9 سال 3 ماہ قبل لاپتہ ہونے والے نوجوان کے قتل کا راز بالآخر کھل گیا
    مقتول 5 بچوں کا باپ تھا، جسے اس کے اپنے رشتہ داروں نے عداوت کی بنا پر پہلے نشہ آور چائے پلا کر بے ہوش کیا پھر گلا دبا کر قتل کر دیا
    بعد ازاں لاش کے ٹکڑے کر کے ایک تھیلے میں بند کر کے روہی نالے میں پھینک دیے گئے
    واقعے کے 2 دن بعد مقتول کے بھائی اور والد نے تلاش شروع کی
    موبائل فون کی لوکیشن سے معلوم ہوا کہ فون آخری بار انہی رشتہ داروں کے گھر آن تھا مگر پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث معاملہ دب گیا
    ملزمان نے افواہ پھیلائی کہ نوجوان کسی لڑکی کے ساتھ چلا گیا ہے
    سالہا سال بعد تعینات ہونے والے ایک نئے پولیس افسر نے کیس دوبارہ سنا تو مشتبہ شخص کو شاملِ تفتیش کیا گیا تو مرکزی ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا اور شریک ملزمان کے نام بھی بتا دیے
    فی الحال مرکزی ملزم پولیس حراست میں ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے جاری ہیں
    مقتول کی میت نہ ملنے پر لواحقین نے میت کے بغیر نمازِ جنازہ ادا کی اور انصاف کا مطالبہ کیا

  • فائرنگ کرکے قتل کرنے والے کو عدالت سے سزا سنا دی گئی

    فائرنگ کرکے قتل کرنے والے کو عدالت سے سزا سنا دی گئی

    قصور
    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عظیم شیخ نے تھانہ گنڈا سنگھ والا کے علاقے میں صدام حسین کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والے باپ بیٹے کو سزا سنا دی۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر ہر ایک کو عمر قید، 5 لاکھ روپے جرمانہ اور گھر میں داخل ہونے پر 7 سال قید کی سزا سنائی
    تفتیش کے مطابق، سال 2021 میں ملزمان محمد الیاس ڈوگر اور اس کے بیٹے شاہ زیب عرف شیبی نے صرف اس وجہ سے صدام حسین کو قتل کیا کہ مقتول اور شاہ زیب کے درمیان ایک دن پہلے جھگڑا ہوا تھا، کیونکہ شاہ زیب اکثر مقتول کی بیوی پر برا نظر رکھتا اور فحش مذاق کرتا تھا۔
    پولیس تھانہ گنڈا سنگھ والا نے مقتول کی والدہ کوثر بی بی کی رپورٹ پر باپ بیٹے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا۔ کیس کی پیروی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ایم یٰسین فرخ کمبوہ نے کی، جنہوں نے عدالت میں بتایا کہ گواہوں کے بیانات، شواہد اور کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ میں ملزمان کی مجرمانہ کارروائی ثابت ہے۔
    عدالت نے دونوں ملزمان کے دلائل سننے کے بعد یہ سزا سنائی

  • بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    الحمدللہ اس ارض پاک پاکستان کے باشندوں کو میرے رب نے بہت کشادہ قلب عطاء کیا ہے جس میں امت کا درد موجود ہے،الحمدللہ اس ارض پاک نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر امت کے مفلسوں،مظلوموں اور مصیبت زدگان کی مدد کی ہے جس کاماضی بھی گواہ ہے اور حال بھی گواہ ہے،1990 کی دہائی انسانی تاریخ کے اُن المناک ادوار میں شمار ہوتی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، ظلم اور جبر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا،یورپ میں بوسنیا کے مسلمان نسل کشی کا شکار ہوئے تو خطے میں پہلے سے جاری افغان جنگ نے بھی کروڑوں افراد کو دربدر کر رکھا تھا،دوسری سمت چیچنیا میں بھی جنگ نے لاکھوں چیچن لوگوں کو سخت پریشان کر دیا تھا،ایسے حالات میں پاکستان وہ ملک بن کر سامنے آیا جس نے نسل، زبان اور جغرافیہ سے بالاتر ہو کر مظلوم انسانوں کو گلے لگایا،1994 کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں ظالم درندہ صفت سرب افواج کے ہاتھوں قتلِ عام، اجتماعی قبروں کی دریافت اور جبری ہجرت نے عالمی ضمیر کو ہلا دیا

    6 اپریل 1992 کو بوسنیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا تو سرب فورسز نے جنگ شروع کر دی جس سے بوسنیا کے مختلف شہروں پر حملے شروع ہوئے،1992 تا 1993 میں بوسنیا کے شہر سرایوو، موستار، برچکو میں شدید لڑائیاں جاری رہیں اور شہری علاقوں میں محاصرے اور تباہی جاری ہو گئی،1993 میں اقوام متحدہ نے بوسنیا میں امن زونز کا اعلان کیا لیکن بہت سے علاقے محصور اور غیر محفوظ ہو گئے تو 1994 میں بوسنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے،کچھ ممالک نے انہیں پناہ دی تھی جن میں پاکستان بھی شامل ہے جس نے مہاجرین کو عارضی پناہ دی تھی،یہ مہاجرین اسلام آباد اور گردونواح میں مقیم رہے تھے

    11 سے 31 جولائی 1995 کو سربرینیتسا نسل کشی میں تقریباً 8,000 بوسنیائی مسلمان مرد اور جوان لڑکے شہید ہوئے تھے
    نومبر 1995 کو امریکی ثالثی کے تحت ڈیتون امن معاہدہ پر مذاکرات شروع ہوئے،دسمبر 1995 کو Dayton Peace Accords پر دستخط ہوئے اور جنگ رسمی طور پر ختم ہو گئی اور بوسنیا کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا جس کے بعد
    1996 تا 1997 تک مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا ، اس نازک وقت میں پاکستان نے نہ صرف بوسنیا کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی تھی بلکہ ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو پاکستان لا کر عارضی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ دی جنہیں اسلام آباد اور دیگر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں میں عزت، تحفظ، خوراک، علاج اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں،جواب میں بوسنیائی باشندے آج بھی پاکستان کو خاص عزت دیتے ہیں

    یہی وہ پاکستان ہے جو اس سے قبل اور اس کے ساتھ ساتھ افغان پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان بھی بن چکا تھا
    سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان خاندان پاکستان آئے اور دہائیوں تک یہاں مقیم رہے،پاکستان کی عوام نے اپنی محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجرین کو اپنے شہروں، دیہات، بازاروں اور گھروں میں جگہ دی، افغان پناہ گزینوں نے بھی پاکستان کی معیشت، مزدوری، تعمیرات، تجارت اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بن کر رہے،وقت گزرتا گیا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گی جسکی بڑی حد تک اسلامی نظام سے مماثلت تھی تاہم اس کے باوجود بھی افغان باشندے اپنے وطن جانے کو تیار نا ہوئے کیونکہ ان کو علم تھا یہ امن بھی عارضی ہو گا،وقت گزرتا گیا اور افغان پناہ گزین جعلی طریقے سے شناختی کارڈ بنوا کر باقاعدہ پاکستان کے شہری بننا شروع ہو گئے،نیز ان افغان لوگ نے مختلف قسم کے جرائم کیساتھ ساتھ جنگی جرائم میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا جس سے پاکستان کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑانیز افغان گورنمنٹ نے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو کھلے عام پناہ دینا شروع کر دی جس کو پاکستان نے عالمی سطح پر درجنوں بار ثابت بھی کی مگر افعان اپنے میزبان پر بھاری ہوتا چلا گیا ہے مجبوراً پاکستان کو سختی سے ان کو نکالنا پڑا جو سلسلہ آج دن تک جاری ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب افغان باشندے موجود ہیں جس میں سے محض 20 فیصد سے بھی کم واپس گئے ہیں

    چیچنیا میں 1994 تا 1996 اور 1999 تا 2009 تک جنگی حالات،خانہ جنگی کے باعث کئی ہزار چیچن شہری جنگ اور تباہی سے بچنے کے لئے پاکستان آئے،یہ تعداد افغان یا بوسنیائی مہاجرین کے مقابلے میں بہت محدود تھی، ان مہاجرین کو بھی زیادہ تر اسلام آباد، راولپنڈی اور شمالی علاقوں میں عارضی رہائش اور امداد دی گئی،پاکستانی اسلامی تنظیموں اور خیراتی گروہوں نے انہیں خوراک، رہائش اور تعلیم کے مواقع فراہم کئے اور انہیں بلکل احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک غیر ملک میں ہیں بلکہ افغان و بوسنیائی پناہ گزینوں کی طرح انہیں بھی وہی ہسپتال ،سکول،کالجز و دیگر سہولیات مہیا کی گئیں جو ہر پاکستانی کے پاس تھیں مطلب ان کو ہر لحاظ سے ایک پاکستانی شہری کے برابر سہولیات حاصل تھیں، زیادہ تر چیچن مہاجرین نے جنگ کے بعد یا یورپ کے دیگر ممالک کی طرف واپس جانے یا منتقل ہونے کا راستہ اختیار کیا
    اور پاکستان کو بڑے باعزت طریقے سے خیر آباد کہا اور آج بھی وہ اس پاکستانی قربانی پر فطرت جذبات سے لبریز ہو کر پاکستان کو بڑی عزت و تکریم سے پکارتے ہیں

    ان تین ممالک کے مہاجرین کے علاوہ مملکت پاکستان نے پاک بھارت جنگ 1971 کے بعد بہت سے بنگلہ دیشیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی جن میں سے بیشتر آج بھی پاکستان بھر خاص کر کراچی میں آباد ہیں،اسی طرح ایران میں 1979 کے رجیم چینج کے بعد سیاسی مخالفین اور اقلیتی شورش کے بعد بہت سے ایرانیوں نے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں پناہ لی ،عراق کی خلیجی جنگ 1991 کے بعد بیشتر عراقیوں نے پناہ کیلئے پاکستان کا رخ کیا جنہیں پاکستان نے خوش آمدید کہا ،ارض انبیاء مملکت شام میں 2011 کی خانہ جنگی میں بہت سے شامی مہاجر پاکستان میں پوری آزادی اور عزت سے رہے،قبلہ اول فلسطین کے باسی بھی مختلف ادوار میں خاص کر 1967 کے بعد پاکستان میں پناہ لینے پہنچے جہاں ان کو شاندار پروٹوکول کیساتھ مرحبا کہا گیا،اسی بناء پر وہ آج بھی پاکستان کو خاص پیار اور محبت سے نوازتے ہیں

    تاجکستان میں 1992 تا 1997 کے دوران تاجک خانہ جنگی کے نتیجے میں،پاکستان نے مظلوموں کے لئے اپنی مملکت کے دروازے کھولے اور انہیں عارضی پناہ فراخ دلی سے دی گئی تھی،2012 میں برما میں خانہ جنگی اور مسلم کشی کے دوران میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے باعث بہت سے افراد پاکستان آئے تو انہیں عارضی رہائش، خوراک اور ابتدائی تعلیم فراہم کی گئی تھی، زیادہ تر یہ مہاجرین بعد میں دیگر ممالک منتقل ہو گئے تھے،جو کہ آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں پوری عزت کیساتھ قبول کیا گیا تھا،نیز آج بھی انڈین مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں خاندان ہجرت کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں مکمل آزادی اور پوری عزت کیساتھ سکونت پذیر ہیں

    دنیا بھر کے مہاجرین کو پناہ دینے کے یہ واقعات پاکستان کی انسانیت اور مہمان نوازی کی مثال ہیں جہاں محدود تعداد کے مہاجرین کو بھی محفوظ پناہ دی گئی اور افغانستان کے بے یارو مددگار اور بے سروساماں کی بہت بڑی تعداد کو بھی گلے سے لگائے رکھا،آج جب مہاجرین کے مسئلے کو محض بوجھ سمجھا جاتا ہے، تو بوسنیا،چیچنیا اور افغان و دنیا بھر کے مسلمان مہاجرین کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کے لئے دروازے کھولیں ہیں چاہے وہ یورپ کے مسلمان ہوں یا ہمسایہ افغان بھائی یاپھر روس کی ریاست چیچنیا کے مسلمان ،پاکستان ہمیشہ حاضر رہا ہے

  • قصور کی رہائشی بیوہ کے لاہور میں واقع پلاٹ پر قبضہ کی کوشش،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    قصور کی رہائشی بیوہ کے لاہور میں واقع پلاٹ پر قبضہ کی کوشش،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    قصور کی رہائشی بیوہ خاتون کے پلاٹ پر لاہور میں مبینہ قبضے کی کوشش پر قانونی کارروائی کا مطالبہ
    لاہور کے علاقے حمزہ ٹاؤن میں واقع سات مرلہ رہائشی پلاٹ پر مبینہ قبضے کی کوشش کا انکشاف سامنے آیا ہے
    متاثرہ خاتون کے بھائی محمد علی ولد محمد رفیق نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بیوہ ہمشیرہ نے یہ پلاٹ اپنے یتیم بچوں کے مستقبل کے لیے خریدا تھا جو رجسٹری اور انتقال شدہ ہے
    درخواست گزار کے مطابق سوسائٹی کے مالک کا کیش لیٹر بھی موجود ہے
    الزام ہے کہ پلاٹ کے مغرب میں رہائش پذیر اللہ میر، جو مبینہ طور پر کچھ رقبے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، نے اپنے ساتھیوں بشیر جٹ اور شاہد جٹ کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دیں اور پلاٹ کے ایک حصے میں رکاوٹیں بھی رکھ دی گئیں
    درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کسی بھی وقت بیوہ خاتون کے پلاٹ پر زبردستی قبضہ کیا جا سکتا ہے
    متاثرہ خاندان نے متعلقہ حکام اور وزیر اعلی پنجاب سے استدعا کی ہے کہ قبضہ کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور بیوہ خاتون و یتیم بچوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے
    درخواست گزار محمد علی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے

  • ایک قتل چھ زخمی،املاک جلا دی گئیں،مقدمہ درج

    ایک قتل چھ زخمی،املاک جلا دی گئیں،مقدمہ درج

    قصور
    گزشتہ دن موضع نوری والا میں معمولی تکرار پر فائرنگ، ایک جاں بحق، چھ زخمی،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا
    تفصیلات کے مطابق قصور کے تھانہ گنڈا سنگھ والا کے نواحی گاؤں موضع نوری والا میں گزشتہ دن ایک انتہائی افسوناک واقعہ پیش آیا جس میں معمولی تکرار کے بعد دوستوں کے درمیان جھگڑا ہوا جو اندھا دھند فائرنگ میں تبدیل ہو گیا
    اس واقعہ میں 55 سالہ مصطفیٰ ولد صادق جاں بحق اور 6 افراد زخمی ہوئے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا
    بعد ازاں مشتعل ورثاء نے مبینہ ملزمان کی حویلی اور ڈیرے کو آگ لگا دی جس سے ایک کار، ایک ٹریکٹر اور موٹر سائیکل جل گئے
    پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کیا
    پولیس نے دس نامزد اور چھ سے سات نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے

    #قصوریات

  • بسنت کی اجازت نہیں،پولیس نے ملزم بمعہ پتنگوں کے،گرفتار کر لیا

    بسنت کی اجازت نہیں،پولیس نے ملزم بمعہ پتنگوں کے،گرفتار کر لیا

    قصور
    تھانہ سٹی اے ڈویژن قصور پولیس نے ایس ایچ او مشتاق حیدر کی سربراہی میں تھانہ کی حدود میں کائیٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے پتنگ بازی کے سامان کی بڑی کھیپ برآمد کر لی

    تفصیلات کے ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن مشتاق حیدر کی سربراہی میں پولیس نے کائیٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کو ناکام بنا دیا
    تھانہ کی حدود نفیس کالونی کے قریب ایس آئی ظفر اقبال نے دورانِ گشت ایک مشکوک شخص کو روک کر تلاشی لی
    تلاشی کے دوران ملزم کے قبضے سے 100 عدد پتنگیں،گڈیاں برآمد ہوئیں
    ملزم نے ابتدائی پوچھ گچھ پر اپنا نام عدنان علی ولد جاوید قوم ملک، سکنہ محلہ کوٹ رکن دین قصور بتایا
    پولیس کے مطابق ملزم کی جانب سے کائیٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر اس کے خلاف کائیٹ ایکٹ 2025 کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی اور اس سے متعلقہ سامان کی فروخت و ترسیل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی، تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے
    قصور پولیس نے اس سے قبل کئی بار واضع کیا ہے کہ قصور میں بسنت کی کوئی اجازت نہیں لہذہ شہری خلاف ورزی سے باز رہیں

  • مارکیٹ کمیٹی سے جاری ریٹ لسٹوں پر تاریخ نا لکھنا معمول

    مارکیٹ کمیٹی سے جاری ریٹ لسٹوں پر تاریخ نا لکھنا معمول

    قصور
    مارکیٹ کمیٹی سے جاری کردہ ریٹ لسٹوں پر تاریخ کا اندارج نا ہونا معمول،خریدار پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور مارکیٹ کمیٹی کی طرف سے جاری کی جانے والی پھلوں اور سبزیوں کی ریٹ لسٹ پر تاریخ شامل نہ ہونے کی وجہ سے شہری پریشان ہیں
    کوئی پتہ نہیں چلتا کہ جو ریٹ لسٹ دکھائی جا رہی ہے یہ کتنی پرانی ہے
    دکانداروں کو 20 روپیہ کے عیوض فراہم کی جانے والی یہ ریٹ لسٹ نئی ہے یا پرانی اس کا تعین ممکن نہیں ہو پاتا جس سے خرید و فروخت میں مشکلات کا سامنا ہے
    شہریوں نے ڈی سی قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹ لسٹ پر واضح تاریخ درج کی جائے تاکہ عوام کو شفاف معلومات میسر ہوں اور مارکیٹ میں بے ضابطگیوں سے بچا جا سکے

  • تیز برسات ،موسم خوشگوار،ناقص نکاسی آب سے زندگی عذاب

    تیز برسات ،موسم خوشگوار،ناقص نکاسی آب سے زندگی عذاب

    قصور
    تیز برسات سے موسم خوشگوار،ناقص نکاسی آب سے شہریوں کی زندگیاں عذاب

    تفصیلات کے مطابق قصور میں شدید بارش سے نظامِ نکاسی ناکام۔ہو گیا جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
    قصور میں گزشتہ شام 7 بجے سے رات گئے تک تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے موسم تو خوشگوار ہو گیا مگر ناقص نکاسیٔ آب کے باعث شہر کی متعدد سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں ہیں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام، بجلی کی فراہمی متاثر اور معمولاتِ زندگی درہم برہم ہوگئی
    بارش کے بعد گلی محلوں میں پانی کھڑا ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بند ہوتی رہیں
    کئی علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہو گیا شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کی عدم توجہی کے باعث ہر بارش عذاب بن جاتی ہے
    شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے، نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظامات کرنے، نالوں کی صفائی یقینی بنانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ بارشوں میں عوام کو مشکلات سے بچایا جاسکے

  • جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سرچ آپریشن ،متعدد گرفتار ،اسلحہ برآمد

    جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سرچ آپریشن ،متعدد گرفتار ،اسلحہ برآمد

    قصور
    جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سرچ آپریشن، چھ ملزمان گرفتار، اسلحہ اور منشیات برآمد
    تفصیلات کے مطابق قصور کے تھانہ کھڈیاں پولیس نے ڈی ایس پی سٹی سیف اللہ بھٹی کی زیر نگرانی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا جس کے دوران چھ مشتبہ و جرائم پیشہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا
    سرچ آپریشن کے دوران سولہ گھروں کی تلاشی لی گئی جبکہ 22 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی
    کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 240 لیٹر زہریلی شراب، ایک رائفل اور ایک پسٹل برآمد کر لیا گیا
    پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے اسلحہ اور منشیات پر ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر کے مذید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے سرچ آپریشن کا مقصد علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرنا ہے
    ڈی ایس پی سٹی سیف اللہ بھٹی کے مطابق جرائم کے خاتمے کے لیے ایسے آپریشنز کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا اور قانون شکن عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی