Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • دو ماہ سے گلیاں تالاب،اہلیان علاقہ کیلئے باعث عذاب

    دو ماہ سے گلیاں تالاب،اہلیان علاقہ کیلئے باعث عذاب

    قصور
    نواحی گاؤں موضع اوراڑہ نو میں ٹھیکیدار نے گزشتہ دو ماہ سے لوگوں کا جینا حرام کر دیا،گلیاں تالاب،لوگ گھروں میں محصور،ڈپٹی کمشنر قصور سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں موضع اوراڑہ نو حدود تھانہ راجہ جنگ میں ٹھیکیدار نے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں

    گاؤں میں گزشتہ دو ماہ قبل ترقیاتی کام شروع ہوا جس کے باعث گاؤں کی نالیاں بنائی گئیں تو ساتھ ہی سولنگ بھی اکھاڑ دیا گیا تاکہ پی سی سی ڈالی جائے تاہم آج دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نا تو پی سی سی ڈالی گئی ہے نا ہی اکھاڑی گئی اینٹوں کو دوبارہ لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے بارش کے پانی اور نالیوں کے پانی سے گاؤں کی تمام گلیوں میں پانی جوہڑوں کی طرح کھڑا ہے
    اس بابت گاؤں کے لوگوں کا جینا محال ہو چکا ہے اور تعفن و بدبو کا راج ہے
    لوگ پیدل نہیں گزر سکتے تو موٹر سائیکل و رکشہ وغیرہ کہاں سے گزرے گا
    لوگ محض اپنے گھروں تک محصور ہو چکے ہیں
    اہلیان علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور سے ازخود نوٹس کی اپیل کی ہے اور جلد سے جلد پی سی سی ڈالنے اور دیگر ترقیاتی کاموں کا مطالبہ کیا ہے

  • قصور اور پتوکی کے مختلف علاقوں میں چوری و اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں

    قصور اور پتوکی کے مختلف علاقوں میں چوری و اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں

    قصور اور پتوکی کے مختلف علاقوں میں چوری اور اسٹریٹ کرائم کی تین مختلف وارداتیں ،شہری لاکھوں روپے نقدی ، موبائل فونز و دیگر قیمتی سامان سے محروم ۔ پہلی واردات میں چک 27 ڈھولن کا رہائشی ندیم موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ چک 25 کھوکھر کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر اس سے 1 لاکھ 16 ہزار روپے چھین لیے اور فرار ہو گئے۔ دوسری واردات تھانہ کوٹ رادھا کشن کے علاقے الباز میرج ہال کے قریب پیش آئی، جہاں چھینہ اوتاڑ کا رہائشی اکبر علی مرغیوں والے ڈالے پر جا رہا تھا کہ کالی ہونڈا 125 پر سوار دو نامعلوم مسلح ملزمان نے گن پوائنٹ پر اس سے 40 ہزار روپے نقدی چھین لی۔ تیسری واردات تھانہ گنڈا سنگھ والا کے علاقے مہالم خورد کے قریب ہوئی، جہاں پیرو والا کا رہائشی علی احمد موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ چار نامعلوم مسلح افراد نے اسے روک کر 16 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔مقامی پولیس مصروف کاروائی ہے

  • عظیم ترین سپہ سالار اور ہمدرد حکمران،تحریر: غنی محمود قصوری

    عظیم ترین سپہ سالار اور ہمدرد حکمران،تحریر: غنی محمود قصوری

    اس نے خلافت کا جھنڈا تھاما تو اس کے 5 سالہ عہد میں جب عوام کے حالات بہتر ہو رہے تھے تو پھر اچانک سے برسات ہونا بند ہو گئی

    بہت دیر تک برسات نا ہوئی،جانور مرنے لگے اور خشک سالی نے ڈیرے جما لئے تھے حتی کہ تیز ہوائیں چلتیں جو راکھ کو اڑا کر ساتھ لے کر آتیں،ہر کوئی پریشان ہو گیا کہ الہی یہ کیا ماجرہ ہے ابھی تو ہم نے خوشحالی کی طرف قدم جمائے ہی تھے کہ شہر و گردونواح میں شدید قحط پڑ گیا جو لگ بھگ 9 ماہ تک رہا تھا،تب ہر کوئی پریشان تھا اب کیا ہو گا زندگیاں تو ختم ہو جائیں گیں ،ہر کوئی سوچ رہا تھا موجودہ کمانڈر انچیف جو وقت کا حاکم بھی تھا، خوب عیاشی کر رہا ہو گا مگر اس حاکم وقت اور کمانڈر انچیف نے یہ تاریخی الفاظ کہے جو آج تاریخ کا حصہ ہیں اور ہر گزرے اور آنے والے حاکم وقت کیلئے نصیحت ہیں،
    انہوں نے کہا تھا
    میں گھی، دودھ اور گوشت کا ذائقہ اس وقت تک نہیں چکھوں گا جب تک کہ عام مسلمان پہلی بارش سے فیض یاب نہ ہوں اور معمولات زندگی ٹھیک نا ہو جائیں

    وہ بہت نڈر،بےباک جرآت مند ہونے کیساتھ بہت زیادہ سخی اور ذہین بھی تھا

    لوگوں کی زندگیوں کی خاطر قحط سے نمٹنے کیلئے اس نے اپنی سلطنت کے تمام گورنروں کو حکم بھیجا کہ وہ متاثرین کی کھانے پینے کی اشیاء اور اموال کے ساتھ ہر ممکن مدد کریں،اس کے حکم کی تعمیل ہوئی اور ہر گورنر نے اپنی استطاعت کے مطابق مال بھیجا تو کمانڈر انچیف نے وہ مال لوگوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جس سے فکر و فاقہ کم ہوا اور آخرکار قحط بھی دور ہو گیا

    دوران قحط اس نے ایک بات کہی تھی جو قیامت تک آنے والی ہر آفت و مصیبت میں رول ماڈل رہے گی

    انہوں نے کہا تھا کہ خدا کی قسم اگر اللہ تعالیٰ اس قحط کو دور نہ فرماتا تو میں مسلمانوں کے گھروں میں سے کسی گھر کو نہ چھوڑتا جن کو اللہ تعالیٰ نے (مالی) وسعت دی ہے مگر یہ کہ ان کے ساتھ ان کے شمار کے مطابق فقراء میں سے بھی داخل کر دیتا
    اس طرح سے اس کھانے سے دو آدمی ہلاک نہ ہوتے جو کھانا ایک آدمی کے لئے کافی ہوتا ہے
    یعنی انہوں نے کفایت شعاری کی ایک اعلیٰ ترین مثال قائم کی اور تاریخ نے دیکھا کہ قحط میں ہر امیر نے ہر غریب کو کھانا کھلایا

    پھر جب قحط ختم ہوا اور پہلی برسات ہوئی تو لوگ بارش سے فیضاب ہونا شروع ہوئے
    نیز بازار میں غلہ آنا شروع ہوا تو ان کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ ان کے لئے 40 درہم میں خریدا
    بقول غلام آپ نے جو عہد کیا تھا قحط کے آغاز میں، وہ پورا ہوا تھا لہذہ اب نا کا حق بنتا تھا اچھا کھانا پینا
    اس غلام نے ان کو بتایا کہ ان کا عہد پورا ہو گیا ہے اسی لئے وہ آپ کے لئے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے تو اس پر انہوں نے غلام کو کہا کہ
    تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں
    مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہوگا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے؟
    پھر انہوں نے باوجود خوشحالی کے وہ اشیاء صدقہ کروا دیں اور خود سادہ خوراک سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرتے رہے
    میں جن کی بات کر رہا ہوں وہ خلیفتہ المسلیمین جناب حصرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں
    وہ عمر جو کہ 13 ہجری کو 25 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت اور کمانڈر انچیف بنے اور محض 24 ہجری کو اپنی شہادت کے وقت لگ بھگ 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت تھے اور ان کی عمر 63 سال تھی
    مگر ان کی سادگی کا یہ عالم تھا 16 ہجری کو بیت المقدس کی فتح پر عیسائیوں نے بیت المقدس کی چابیاں حوالے کرنے کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ مسلمانوں کو خلیفتہ المسلیمین خود تشریف لائے تو جناب عمر رضی اللہ تعالی نے اپنے غلام کیساتھ انتہائی عام سواری پر سفر کیا اور کبھی خود سواری پر سوار ہوتے تو کبھی اپنے غلام کو سواری کرواتے اور خود پیدل چلتے
    اور جب انہوں نے بیت المقدس کی چابیاں عیسائی پادری سوفرونیوس سے حاصل کیں تو ان کے کپڑوں پر 17 پیوند لگے ہوئے تھے
    آپ رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے دور خلافت میں 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر حکومت کی لیکن آپ کا عدل و انصاف اتنا بے باک تھا کہ ایک عام دیہاتی بھی آپ کو سرعام ٹوک سکتا تھا اور آپ اپنے فیصلوں میں کسی امیر، غریب، رشتے دار یا گورنر کی رعایت نہیں کرتے تھے

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موافقت میں قرآن نازل ہوا بہت سی آیات ان کی موافقت میں جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے
    اسی لئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہی کے بارے میں فرمایا تھا کہ لَوْکَانَ نَبِیٌ بَعْدِی لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یعنی میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ ہوتے
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دوران خواب جنت میں سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کا محل دیکھا تھا نیر
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے غیور ہونے کا تذکرہ فرمایا
    حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آداب کا بہت خیال رکھتے تھے جب قرآن مجید میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بلند آواز میں گفتگو کرنے سے روکا گیا تو اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی اتنی آہستگی سے گفتگو کرتے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دینا پڑتا تھا کہ ذرا اونچی آواز میں بولو تاکہ بات سمجھ آجائے

    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خواب میں دودھ پیا جس کی سیرابی آپ نے اپنے ناخنوں تک محسوس کی پھر وہ دودھ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی کو تھما دیا جس کی صحابہ کرام نے تعبیر پوچھی تو نبی رحمت ارشاد فرمایا تھا کہ اس سے مراد علم ہے اور وقت نے ثابت کیا وہ بہت بڑے عالم دین بھی تھے اور انہوں نے دین کو عام کرنے کیلئے جہاں پولیس،فوج،ڈاکخانہ آبپاشی،ٹیکس کا نظام متعارف کروایا،وہاں انہوں نے سب سے زیادہ نظام مدارس کیلئے متعارف کروایا تھا

    آج کا ہر انسان عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہے کیونکہ تاریخ میں اس سے قبل نا تو کوئی محکمانہ نظام موجود تھا نا ہی اس قدر عادلانہ نظام تھا
    26 ذی الحجہ 23 ہجری کو نماز فجر کی امامت کرواتے ہوئے ملعون و مردود ابولولو فیروز نامی مجوسی نے خنجر کے وار سے آپ کو شدید زخمی کیا اور تین دن تک زخمی رہتے ہوئے یکم محرم الحرام 24 ہجری کو آپ نے جام شہادت نوش کیا

  • قصور میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا نیٹ ورک پکڑا گیا

    قصور میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا نیٹ ورک پکڑا گیا

    قصور
    گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا مکروہ دھندہ بے نقاب، نجی ہسپتال سیل، نکالا گیا گردہ برآمد

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی قصور اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے مبینہ مکروہ دھندے کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ گزشتہ شب سٹیل باغ چوک قصور میں واقع علامہ اقبال ہسپتال پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر غیر قانونی ٹرانسپلانٹ میں ملوث افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ آپریشن کے دوران نکالا گیا گردہ بھی برآمد کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق 21 جون 2026 کی رات تقریباً ڈھائی بجے 27 سالہ سکینہ بی بی دختر ماجد کاظمی، رہائشی عزیز گارڈن نزد خیرا پل لاہور، اپنی والدہ نشین بی بی اور کزن سید عمار ولد سید خورشید احمد کے ہمراہ علاج کی غرض سے علامہ اقبال ہسپتال قصور پہنچی۔ بتایا گیا ہے کہ مریضہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھی اور اس کا پہلے بھی لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں ٹرانسپلانٹ ہو چکا تھا جو کامیاب نہیں ہوا تھا۔

    ذرائع کے مطابق مریضہ کے ساتھ موجود نوید ولد شوکت علی سکنہ نارووال اور شہباز ولد ارشد سکنہ کماہاں، لاہور کینٹ، ہسپتال کے نجی عملے کے ساتھ گردے کی انفیکشن کی سرجری کے بہانے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوئے۔ اسی دوران ہسپتال کے ایک ملازم نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی کہ ہسپتال میں گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کی جا رہی ہے۔

    اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر قصور کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نوید، شہباز اور سید عمار کو حراست میں لے لیا، جبکہ محکمہ صحت کے حکام کو بھی طلب کر لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قصور ڈاکٹر فیصل نے موقع پر پہنچ کر علامہ اقبال ہسپتال کو سیل کر دیا۔ مریضہ سکینہ بی بی کو ابتدائی طور پر ڈی ایچ کیو بابا بلھے شاہ ہسپتال قصور منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں مزید علاج کے لیے جنرل ہسپتال لاہور ریفر کر دیا گیا۔

    پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ غیر قانونی اعضا کی پیوندکاری میں ملوث نیٹ ورک کے دیگر کرداروں کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی

    قصور
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ کرایوں میں کمی کا مطالبہ، عوامی حلقوں کا اظہار تشویش

    تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل کے باعث عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، خصوصاً ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی مناسب کمی کی جائے تاکہ مہنگائی سے پریشان شہریوں کو کچھ ریلیف مل سکے

    شہریوں کا کہنا ہے کہ جب بھی پیٹرول یا ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز فوری طور پر کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، تاہم جب حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے تو کرایوں میں اسی تناسب سے کمی نہیں کی جاتی، جس کا سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے

    عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ٹرانسپورٹ کرایوں کی باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کریں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ریلوے اور دیگر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی فوری کمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو کچھ سکھ کا سانس میسر آ سکے

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یکطرفہ طور پر کرایوں میں اضافے کی پالیسی ناقابل قبول ہے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں

  • محکمہ سوشل سیکیورٹی قصور میں کرپشن کا انکشاف،نوٹس کی اپیل

    محکمہ سوشل سیکیورٹی قصور میں کرپشن کا انکشاف،نوٹس کی اپیل

    قصور میں محکمہ سوشل سکیورٹی کی مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں پر سوالات، سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے ماہانہ نقصان پہنچنے کا انکشاف
    ضلع قصور میں پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی ادارے کے بعض افسران اور اہلکاروں کی مبینہ کرپشن، بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سوشل سکیورٹی میں مبینہ طور پر بڑے صنعتی یونٹس، فیکٹریوں اور کاروباری اداروں کے مالکان سے ملی بھگت کے ذریعے ورکرز کی اصل تعداد کو کم ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق قانون کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے متعدد صنعتی اداروں میں سینکڑوں ورکرز کام کر رہے ہیں لیکن ریکارڈ میں ان کی تعداد کم درج کی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر اس عمل کے ذریعے فیکٹری مالکان کو سوشل سکیورٹی کنٹریبیوشن کی مد میں مالی فائدہ پہنچایا جاتا ہے جبکہ بعض متعلقہ اہلکار اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر تمام یونٹس کا غیر جانبدارانہ آڈٹ اور فزیکل انسپیکشن کروائی جائے تو بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آسکتی ہیں۔
    شہری، مزدور تنظیمیں اور سماجی حلقے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سوشل سکیورٹی فنڈ دراصل مزدوروں کی فلاح و بہبود، علاج معالجہ، مالی معاونت اور دیگر سہولیات کے لیے مختص ہے، لیکن اگر کنٹریبیوشن کی وصولی میں ہی مبینہ خردبرد اور بے قاعدگیاں ہوں تو محنت کش طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔
    متاثرہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ورکرز کی اصل تعداد چھپانے کے باعث نہ صرف ادارے کی آمدن متاثر ہو رہی ہے بلکہ ہزاروں مزدور سوشل سکیورٹی کی رجسٹریشن، علاج معالجہ اور دیگر سرکاری سہولیات سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر کی مبینہ ملی بھگت کے باعث قانون کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے جس کی فوری تحقیقات ناگزیر ہیں۔
    شہریوں اور مزدور نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری لیبر پنجاب اور کمشنر پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ قصور میں محکمہ سوشل سکیورٹی کے معاملات کا اعلیٰ سطحی اور شفاف انکوائری کے ذریعے جائزہ لیا جائے، تمام رجسٹرڈ صنعتی یونٹس کا خصوصی آڈٹ کروایا جائے اور اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف بے ضابطگی یا کرپشن ثابت ہو تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے حقوق اور سرکاری خزانے کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا احتساب ممکن ہو سکے اور سوشل سکیورٹی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو

  • شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں،نوٹس کی اپیل

    شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں،نوٹس کی اپیل

    قصور
    شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ نے قصور کے دیہی علاقوں میں عوام کی زندگی اجیرن بنا دی

    قصور میں شدید گرمی کی حالیہ لہر اور طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے ضلع قصور کے بیشتر علاقوں، خصوصاً دیہی علاقوں کے مکینوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باوجود کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھروں، کاروبار اور زرعی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے مطابق بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کے باعث پنکھے اور ٹیوب ویل بند رہنے سے نہ صرف پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے بلکہ بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی بجلی کی طویل بندش سے شہریوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شدید حبس اور گرمی میں بار بار بجلی کی بندش ناقابل برداشت ہو چکی ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ کسانوں نے شکایت کی ہے کہ بجلی نہ ہونے کے باعث زرعی ٹیوب ویل اور دیگر آلات کی بندش سے فصلوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    شہریوں نے متعلقہ حکام اور بجلی تقسیم کار کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور شدید گرمی کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مذید مشکلات سے بچایا جا سکے

  • ایل پی جی کی قیمت 650 روپیہ فی کلو،شہری سخت پریشان

    ایل پی جی کی قیمت 650 روپیہ فی کلو،شہری سخت پریشان

    قصور میں ایل پی جی گیس کا بحران برقرار، 308 روپے سرکاری ریٹ والی ایل پی جی 650 روپے فی کلو تک فروخت

    قصور اور گردونواح میں ایل پی جی گیس کا بحران تاحال ختم نہ ہو سکا، جس کے باعث شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اوگرا کی جانب سے جون 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308.76 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم قصور کے مختلف علاقوں میں یہ گیس 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس ڈیلرز اور دکاندار مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث گھریلو صارفین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے

    عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز منافع خوری کا فوری نوٹس لیا جائے اور سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

  • خطرناک ڈکیت گینگ گرفتار ،مال مسروقہ برآمد ،مذید تفتیش جاری

    خطرناک ڈکیت گینگ گرفتار ،مال مسروقہ برآمد ،مذید تفتیش جاری

    قصور
    خطرناک ڈکیت گینگ گرفتار، موٹر سائیکلیں، نقدی اور اسلحہ برآمد

    ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان اور ڈی ایس پی سرکل چونیاں کی خصوصی ہدایات پر تھانہ چونیاں کے ایس ایچ او افتخار جوئیہ اور ان کی ٹیم نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے خطرناک ڈکیت مدثر عرف مدثری اور اس کے گینگ کو گرفتار کر لیا

    پولیس کے مطابق ملزم سے دورانِ تفتیش دو موٹر سائیکلیں، ہزاروں روپے نقدی اور ایک پسٹل برآمد کر لیا گیا ہے
    ابتدائی تحقیقات میں ملزم کے مختلف وارداتوں میں ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مذید تفتیش جاری ہے جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں
    مذید انکشافات کی توقع ہے

    ڈی پی او قصور نے کامیاب کارروائی پر تھانہ چونیاں پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مذید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے

  • معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    یہ دنیا امید پر قائم ہے
    کسی کو امیر ہونے کی امید ہے تو کسی کو محض دو وقت کی روٹی کی امید ہی کافی ہوتی ہے اور کوئی بیچارا محض سانسیں بحال رکھنے کی امید پر ہی قائم ہوتا ہے کہ کسی تک زندگی کی ڈور چلتی رہے
    یعنی ہر بندہ Hope Line پر چل رہا ہے
    ویسے تو دنیا میں بیشمار خطرناک بیماریاں ہیں تاہم ایک خطرناک ترین بیماری تھیلیسیمیا بھی ہے جو بچوں کو پیدائش سے لے کر موت تک سانسوں کی بحالی کیلئے Hope Line کے راستے پر چلتے رہنے پر کاربند رکھتی ہے
    اس مرض کا بچہ پیدائش سے موت تک اس بیماری سے نکل ہی نہیں سکتا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موذی مرض تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچے موجود ہیں جن کی جینے کی امید یعنی Hope Line کیلئے ایک خدمت انسانیت کا ادارہ
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کے نام سے پاکستان ضلع قصور کے شہر کنگن پور میں بنا ہوا ہے جو تھیلیسیمیا کے سینکڑوں بچوں کا مفت علاج معالجہ کرتا ہے

    ویسے تو ہر ذی روح نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیا کے مریض یہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کی عمریں بہت کم یعنی 10 سے 14 سال تک ہوتی ہیں کیونکہ بار بار خون لگنے سے ان کے جسم کے اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں اور یہ بہت جلد وفات پا جاتے ہیں

    یہ مرض کیسے بنتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ کار ہے ان شاءاللہ پھر کبھی لکھوں گا ،مگر آج میں ہوپ لائن کی ایک مریضہ بچی خدیجہ کی خوشی کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ جسے اپنے جینے کی ہلکی سی Hope یعنی امید ہوئی تو وہ کیسے خوش ہوئی.اس ادارے کے سربراہ سردار منیر حسین اور پروفیسر عبدالستار سے بات ہو رہی تھی، تو انہوں نے بتایا کہ آج ایک تھیلیسیمیا کی مریض چھوٹی سی بیٹی خدیجہ نے اپنی ہیموگلوبن رپورٹ (HB) چیک کروانے کے بعد خوشی سے اپنے والد محترم کو پیغام بھیجا کہ الحمدللہ پاپا میری ہیموگلوبن پوری ہو گئی ہے
    اس بچے کے والد نے وہ پیغام ہمارے ساتھ شیئر کیا جو چند الفاظ پر مشتمل تھا جو دراصل برسوں کی آزمائش، تکلیف، انتظار اور امید کی ایک مکمل داستان تھے
    ننھی بیٹی خدیجہ نے لکھا تھا
    بابا الحمدللہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بغیر خون لگے میری ہیموگلوبن (HB) 11.4 ہے جو کہ پہلے 9.0 سے بھی کم ہو جایا کرتی تھی
    اللہ اللہ اتنی خوشی اس بچی کی صرف ایک ہیموگلوبن پوری ہونے پر ،ذرا تصور کریں اس بیٹی کی کیا حالت ہوتی ہو گی جب اس کی HB پوری نہیں ہوتی ہو گی اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہو گا
    وہ بیچاری دوسرے بچوں میں کھیلنے کی بجائے اپنے درد سے کھیل رہی ہو گی
    آپ تصور کریں کہ بے بسی سے اس کے ماں باپ کیا کرتے ہونگے؟
    سوچیں کہ کبھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے یا اس کے والدین کی ایسی خوشی کے بارے میں سنا تھا؟
    وہ والدین جو برسوں اپنے بچوں کو ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد خون لگوانے کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگواتے رہتے ہیں، جو ہر رپورٹ، ہر سوئی چبنے اور ہر نئی آزمائش کے ساتھ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں
    جنہیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ان کا بچہ بس چند برسوں کا مہمان ہے
    ان والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
    بعض والدین تو یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جینے کے بجائے روز مر رہے ہوتے ہیں اور ہر لمحہ یہ خوف ساتھ رہتا ہے کہ نہ جانے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟

    ایسے میں اگر کسی گھر میں امید کی ایک کرن روشن ہو جائے تو اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا ہو
    ہوپ لائن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ہماری پیاری بیٹی خدیجہ کی کہانی ہے جس کا خون کا گروپ او نیگیٹو ہے جو کہ ملتا بھی بہت کم ہے

    انہوں نے بتایا کہ جب اس کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو ہمارے سپرد کر گئے
    اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس کی دیکھ بھال اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کر سکیں
    انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہم خدیجہ کو پشاور لے گئے جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج سات ماہ گزر چکے ہیں اور اسے خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
    چند روز قبل خدیجہ اپنی والدہ کے ساتھ سندس فاؤنڈیشن میں ہیموگلوبن رپورٹ چیک کروانے گئی تو وہاں موجود عملہ اور ڈاکٹر صاحبان بھی اس کی کیفیت سن کر خوش ہوئے
    ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے مذید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچ سکے
    ہوپ لائن فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہم پشاور اس لئے جاتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی ایسا مؤثر علاج، طریقہ کار یا طبی رہنمائی موجود ہے جو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی زندگی میں آسانی لا سکتی ہے تو اس کی حقیقت کو سمجھنا ہم پر لازم ہے اور لازم ہے کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک پہنچایا جائے
    انہوں نے بتایا نیز کہ ہمارا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ بچوں اور والدین کے لئے امید، آسانی اور بہتری کے امکانات تلاش کرنا ہے اور ہم اپنے تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو مسلسل بچوں اور ان کے والدین کی مالی خدمت اور رہنمائی کیساتھ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ان بچوں کو خون اور ادویات بھی مہیا کرتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہوپ لائن کے تمام معاونین، محبین، مخیر حضرات اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار افراد کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام بیمار بچوں کو صحتِ کاملہ، لمبی زندگی اور خوشیوں بھرا مستقبل نصیب فرمائے
    آمین ثم آمین

    پاکستان میں بہت سے ادارے تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگیوں کی خاطر امید کی ایک کرن ہیں جو عوامی تعاون سے چل رہے ہیں اگر ایسا کوئی ادارہ آپ کے قریب ہے تو اس ادارے کی ہوپ بن کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی ہوپ بن کر جئیں کیونکہ ہو سکتا یہ مریض بچے ہم سے پہلے رب کے حضور پہنچ کر ہماری بخشش کی ہوپ بن جائیں
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کنگن پور ضلع قصور کیساتھ مالی تعاون کرنے کیلئے اس جاز کیش اکاؤنٹ نمبر
    03041472158
    بنام محمد زبیر پر تعاون کیا جا سکتا ہے نیز بلمشافہ ملنے اور بچوں کے تاثرات دیکھنے کیلئے ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن نزد گرڈ اسٹیشن کنگن پور تحصیل چونیاں ضلع قصور میں وزٹ کیا جا سکتا ہے
    مہنگائی کے اس دور میں خصوصاً موجودہ گورنمنٹ کی مہنگائی کی بدولت بھی ہمارے خیراتی اداروں کا پہلے کی طرح چلتے رہنا مملکت پاکستان کی عوام کو ایک عظیم قوم ظاہر کرتا ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جینے کی بھی،ہوپ، ہیں
    وگرنہ آج تو اپنے گھر کا نظام چلانا ہی بہت مشکل ہو گیا ہے
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی جان و مال اور اعمال میں برکت عطا فرمائے آمین