Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    اس بات میں کافی سچائی ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور خاص کر پنجاب میں جرائم میں واضع کمی آئی ہے،پنجاب میں اس وقت 90 فیصد جرائم میں کمی واقع ہو چکی ہے جس کا کریڈٹ سی سی ڈی کو پنجاب کو جاتا ہے،تاہم یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان بھی آیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،معاشرے میں جرائم تب ہی بڑھتے ہیں جب قانون کمزور پڑ جائے اور سزا کا خوف ختم ہو جائے، بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیم کی کمی لوگوں کو غلط راستوں پر دھکیل دیتی ہے، اوپر سے رشوت، سفارش اور پولیس و عدالتوں کی کمزور گرفت مجرموں کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے،منشیات، گینگ کلچر، اور سوشل میڈیا فراڈ نئی نسل کو تیزی سے جرم کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا سدباب بہت ضروری ہے
    جب زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور نکل جائیں جیسے کہ آٹا مہنگا ہو جائے گیس غائب رہے بجلی کے بل پہنچ سے دور ہو جائیں اور بجلی کا بلب گھر میں روشنی دینے کی بجائے ایک لمبے چوڑے بل کی مد میں گھر میں قبر جیسی وحشت بپا کر جائے،
    نوجوانوں کیلئے روزگار کا کوئی سیدھا راستہ نا ہو تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ سلگنے لگتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں سے سکون اُڑ جاتا ہے گھروں میں جھنجھلاہٹ اور بے چینی ڈیرے جما لیتی ہے
    جب پیٹ خالی ہو اور جیب میں چند روپئے بھی نہ ہو تو انسان کا صبر بھی جواب دے دیتا ہے
    پھر وہی ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے

    ایسے عالم میں چھوٹے موٹے جھگڑے بڑے فساد بن جاتے ہیں اور چوری چکاری بڑھتی ہے تب نوجوانوں کا اعتماد، خواب اور حوصلہ سب کمزور پڑنے لگتے ہیں
    جب وڈیرے اور امیر سرعام قانون کی دھجیاں اڑائیں اور جب دل چاہے غریب کو چیونٹی کی طرح روند دیا جائے اور اوپر سے جب کہیں سے انصاف نہ ملے، ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو لوگوں کا نظام پر سے یقین اٹھ جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک ایسا خلا بنتا ہے جس میں غصہ، مایوسی اور جرائم پلتے ہیں اور پھر چند افراد،اداروں کی نااہلی سے جنت جیسا قطعہ ارض جہنم جیسا روپ دھار لیتا ہے

    سو باتیں کر لو، لکھ لو مگر سچ یہی ہے کہ بنیادی ضرورتیں جب مشکل ہو جائیں تو معاشرہ خاموشی سے بیمار ہونے لگتا ہےاور اس کا اثر ہر گھر، ہر گلی، ہر بندے پر پڑتا ہے اور یوں جرائم بڑھنے لگتے ہیں
    گورنمنٹ نے سی سی ڈی جیسا ادارہ بنا کر بہت اچھا کیا جس نے فوری رزلٹ دیا تاہم گورنمنٹ کو چائیے کہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بنے اداروں سے بھی ایسے ہی رزلٹ لیا جائے جیسے سی سی ڈی سے لیا ہے
    واضع رہے کہ پنجاب پولیس کی تعداد 2 لاکھ 22 ہزار کے قریب ہے تاہم محض 4300 سی سی ڈی اہلکاروں نے وہ کام کیا جو لاکھوں پنجاب پولیس کے اہلکار نا کر سکے تھے
    موجودہ حالات میں غریب کو ریلیف دینا اور شاہی پروٹوکول اور افسری،مراعات کو محدود کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے،گورنمنٹ تھوڑا سا طریقہ بدلے اور سوتیلی ماں کی بجائے سگی ماں جیسا کردار ادا کرے،ہیلمٹ چالان پر 2 ہزار لینے کی بجائے موٹرسائیکل کے پہلے چالان پر اس موٹرسائیکل کو ایک ہیلمٹ دیا جائے اور اگر پھر بھی اس کے باوجود اسی موٹر سائیکل سے ہیلمٹ نا پہننے کی غلطی ہو تو جرمانہ کیا جائے،گورنمنٹ بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ سے اوپر کے استعمال ہونے والے جن لوگوں کو اگلے 6 ماہ کیلئے پھانسی لگاتی ہے اسے ختم کیا جائے،سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں ایک نصاب کیا جائے اور چھوٹے چھوٹے دکانداروں کی بجائے بڑے بڑے ان ڈیلروں کو سرعام چوکوں میں ٹھڈے مارے جائیں جو بلیک مارکیٹنگ کرکے لوگوں کو ضروریات زندگی سے محروم کرتے ہیں،سرکاری ہسپتالوں کو فعال کیا جائے اور عدالتی نظام بہتر کیا جائے،محکمہ عشر و زکوٰۃ کو فعال کرکے ایسا پابند کیا جائے کہ وہ لوگوں کو ان کا حق دیں تاکہ لوگوں این جی اوز سے 500 روپیہ کی ملنے والی امداد کے عیوض اخبارات میں اپنے چہروں کی نمائش نا کروائیں
    ایسے کام جب تک نہیں کئے جائنگے جرائم بڑھتے رہیں گے اس لئے گورنمنٹ فوری اقدامات کرے

  • ضلع بھر کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک راج،ایک اور جان چلی گئی

    قصور
    ضلع بھر کی سڑکوں پر اوور لوڈنگ،اوور سپیڈ گاڑیاں بے لگام،لوگوں کو کچلنا گاڑیوں کا کام،شہری سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن میں تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی کی ٹکر سے 30 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا
    ضلع بھر کی مین شاہراہوں پر ٹریکٹر ٹرالیوں، ڈمپروں اور بڑی گاڑیوں کی بے قابو رفتار کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روز کا معمول بنتا جا رہا ہے
    کوٹ رادھا کشن کے نواحی علاقے گھنیکی کے قریب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں تیس سالہ نوجوان موٹر سائیکل پر سوار ہو کر رائے ونڈ جا رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والی تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی نے اسے کچل ڈالا
    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اس قدر شدید تھا کہ نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا
    واقعہ کے بعد علاقہ میں سوگ کی فضا چھا گئی جبکہ شہریوں نے مین شاہراہوں پر بھاری گاڑیوں کی بے لگام رفتار کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے
    شہریوں کا کہنا ہے اکیلے موٹر سائیکل سواروں کے چالانوں پر کچھ نظر ثانی کرکے بڑی گاڑیوں پر بھی نظر ڈالی جائے تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے

  • ادویات کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ ،شہری چیخ اٹھے،گورنمنٹ محض دعؤں تک محدود

    قصور
    سردی کی آمد کے ساتھ بیماریوں میں تیزی، ادویات مافیا دوبارہ سرگرم ، قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، گورنمنٹ خاموش

    تفصیلات کے مطابق قصور میں ٹھنڈ نے زور پکڑا تو ساتھ ہی نزلہ، زکام، کھانسی، الرجی اور بخار جیسی موسمی بیماریوں میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے شہری پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اوپر سے ادویات کی بڑھتی ڈیمانڈ نے صورتحال مذید خراب کر دی ہے

    بلیک مارکیٹنگ مافیا نے حسبِ روایت سرگرم ہو کر مارکیٹ سے عام استعمال کی بیشتر ادویات غائب کر دیں ہیں اور جو دستیاب ہیں اُن کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں مہنگائی کے ستائے لوگوں کے لیے علاج کروانا مذید مشکل ہو گیا ہے

    ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے من مانی قیمتوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ڈریپ، پرائس کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی صرف دعووں تک محدود ہے جبکہ عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے
    ہر روز نیا وعدہ، اور ہر وعدہ ریت کا گھر ثابت ہو رہا ہے

    قصور کے میڈیکل سٹور مالکان بھی شدید دباؤ میں ہیں، کیونکہ ادویات کی سپلائی کم اور قیمتیں بڑی تیزی سے بڑھ چکی ہیں
    عوام نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سردی کے موسم میں بیماریاں بڑھے تو علاج کم از کم عام آدمی کی پہنچ میں رہے

  • بی آئی ایس پی پروگرام کیلئے سم کارڈز کیلئے عورتیں سخت اذیت میں

    بی آئی ایس پی پروگرام کیلئے سم کارڈز کیلئے عورتیں سخت اذیت میں

    قصور
    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت خواتین سِم کے حصول کے لیے ضلع کونسل ہال میں شدید پریشانی کا شکار, انتظامیہ سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی جانب سے خواتین کو سِم کی تصدیق اور بائیومیٹرک کے لیے ضلع کونسل ہال بلایا گیا مگر بنیادی سہولیات کے فقدان نے سارا عمل انتہائی تکلیف دہ بنا دیا

    ضلع کونسل ہال میں نہ مناسب بیٹھنے کی جگہ فراہم کی گئی اور نہ ہی پینے کے پانی کا کوئی انتظام موجود تھا
    سخت سردی کے موسم میں خواتین کو زمین پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا جب کہ عملے کی کم تعداد کے باعث گھنٹوں تک لائنوں میں کھڑے رہنا پڑا

    متاثرہ خواتین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مناسب شیلٹر
    ،کرسیاں یا کم از کم چٹائیاں اور پینے کے پانی کے انتظام کیساتھ علیحدہ خواتین کا کاؤنٹر فراہم کیے جائیں تاکہ انہیں عزت اور سہولت کے ساتھ یہ سرکاری عمل مکمل کرنے کا موقع مل سکے

    شہریوں اور سماجی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • قصور، بابا بلھے شاہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پارکنگ مافیا کی من مانی

    قصور، بابا بلھے شاہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پارکنگ مافیا کی من مانی

    قصور کے سب سے بڑے سرکاری ادارے ڈی ایچ کیو ہسپتال المعروف بابا بلھے شاہ ہسپتال میں عوام کے ساتھ سخت ناانصافی روز کا معمول بن چکی ہے

    ہسپتال کی سرکاری ٹھیکے پر دی گئی پارکنگ میں شہریوں سے مقررہ نرخوں کے برعکس بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہے، پارکنگ ٹھیکیدار کی جانب سے فی موٹر سائیکل فی پھیرا تیس روپے جبکہ ہیلمٹ کے الگ سے بیس روپے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ پارکنگ پرچی پر نہ تو رقم پرنٹ ہوتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سرکاری رسید دی جا رہی ہے،واضع رہے کہ گورنمنٹ کی جانب سے موٹر سائیکل پارکنگ کی فیس دس روپے مقرر ہے مگر اس کے باوجود ٹھیکیدار مبینہ غنڈہ گردی کے ذریعے شہریوں سے تین گنا زائد رقم وصول کر رہا ہے

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اس غیر قانونی وصولی کے خلاف شدید احتجاج کیا جا چکا ہے جس پر سابقہ ڈپٹی کمشنر قصور نے ٹھیکیدار کے خلاف پرچہ بھی درج کروایا تھا تاہم چند دن کی وقتی کارروائی کے بعد معاملہ پھر وہیں آ کھڑا ہوا ہے اور لوٹ مار دوبارہ سے جاری ہے،عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر لاہور اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے بابا بلھے شاہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں جاری اس کھلی لوٹ مار کو فوری طور پر بند کروائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے

  • مشترکہ موک ایکسر سائز ،دہشت گردی کے خلاف فرضی کاروائی


    قصور
    قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ موک ایکسرسائز، پال میموریل چرچ میں فرضی دہشت گردی کی کوشش ناکام

    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس کی جانب سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت جانچنے کے لیے شہر میں ایک ہمہ گیر موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا جس میں پولیس، سی ٹی ڈی، ٹریفک پولیس، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر اداروں نے بھرپور حصہ لیا

    فرضی مشق کے دوران پال میموریل چرچ قصور میں دہشت گردی کی ایک مذموم کارروائی کو بروقت ردعمل دے کر ناکام بنایا گیا
    مشق میں دہشت گردوں کے داخلے، شہریوں کے انخلاء، سرچ آپریشن اور کلیئرنس کی کارروائیوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا

    پولیس حکام کے مطابق تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، جبکہ اس مشق کا مقصد ریئل ٹائم رسپانس کو مزید مؤثر بنانا تھا

    اداروں کے باہمی رابطے، رفتار اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی مشقیں سکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرتی ہیں اور شہریوں کے احساسِ تحفظ کو بھی مضبوط بناتی ہیں

  • پہیہ جام ہڑتال سے سخت کوفت،شہریوں کی گورنمنٹ سے استدعا

    پہیہ جام ہڑتال سے سخت کوفت،شہریوں کی گورنمنٹ سے استدعا

    قصور
    پہیہ جام ہڑتال، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح قصور میں بھی آج پہیہ جام ہڑتال ہوئی، جس کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہیں
    بسیں، ویگنیں اور کوسٹر نہ چلنے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث لوگ مجبوری میں اپنی ذاتی سواریوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور رہے جس کے سبب شہر بھر میں رش اور کوفت کی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ روزمرہ زندگی معمول پر آ سکے

  • ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار ،لاکھوں کا مال مسروقہ برآمد

    ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار ،لاکھوں کا مال مسروقہ برآمد

    قصور
    ڈکیت گینگ کا سرغنہ ساتھی سمیت گرفتار، لاکھوں کا مال مسروقہ برآمد

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل پتوکی میں تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے ایس ایچ او عامر ذوالفقار کی سربراہی میں اہم کارروائی کرتے ہوئے رمضان عرف جانی گینگ کے سرغنہ کو ایک ساتھی سمیت گرفتار کر لیا

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان راہزنی اور نقب زنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے اور گھروں کے تالے توڑ کر لوٹ مار کرنا ان کا معمول تھا
    کارروائی کے دوران 3 لاکھ روپے نقدی، ایک اے سی اور موٹر سائیکل سمیت مجموعی طور پر 6 لاکھ 65 ہزار روپے مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کر لیا گیا ہے

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دورانِ تفتیش پتوکی اور گردونواح میں 8 سے زائد سنگین وارداتوں کا اعتراف کیا ہے جبکہ مزید انکشافات کی روشنی میں تفتیش جاری ہے

    ڈی ایس پی پتوکی سجاد اکبر کی نگرانی میں علاقہ بھر میں مجرمان کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں جن کا مقصد شہریوں میں امن و امان کے احساس کو مضبوط کرنا ہے

  • ایک دہائی سے زیادہ پرانے بائی پاس پر حالات تاحال خراب،نوٹس کی اپیل

    ایک دہائی سے زیادہ پرانے بائی پاس پر حالات تاحال خراب،نوٹس کی اپیل

    قصور
    ایک دہائی سے زیادہ پرانے بائی پاس پر حالات تاحال خراب،نا سائن بورڈ نا سٹریٹ لائٹ،حکام سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور بائی پاس پر حالات دن بہ دن خراب ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے شہری شدید پریشان ہیں
    بائی پاس پر رات کے وقت نہ سٹریٹ لائٹس کی سہولت ہے نہ ہی یوٹرن پر کسی قسم کا سائن بورڈ جس کی وجہ سے اندھیرا اور بے ترتیبی مل کر حادثات کا باعث بن رہی ہیں
    بائی پاس کو بنے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے مگر رات کے وقت سٹریٹ لائٹس صرف چند دنوں کے لیے چلائی گئیں تھیں باقی اب سالوں اے اندھیرا ہی اندھیرا ہے
    شہریوں کے مطابق اندھیرے میں ٹریفک کا بہاؤ مذید خطرناک ہو جاتا ہے خاص طور پر یوٹرن پر نشاندہی نہ ہونے سے حادثات معمول بن چکے ہیں
    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور سٹریٹ لائٹس کو باقاعدگی سے فعال کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • ایک ماہ سے گمشدہ صحافی کی گمشدگی کا معمہ حل نا ہوا،وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    ایک ماہ سے گمشدہ صحافی کی گمشدگی کا معمہ حل نا ہوا،وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    ایک ماہ سے صحافی کی گمشدگی کا معمہ حل نا ہو سکا،لواحقین سخت پریشان،وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی قصبہ کھڈیاں خاص کے مقامی صحافی حسنین علی بھٹی ایک ماہ سے لاپتہ ہیں جبکہ اہلِ خانہ کی فریاد حکام تک نہ پہنچی

    کھڈیاں خاص کے نوجوان صحافی حسنین علی بھٹی کو لاپتہ ہوئے ایک ماہ سے زائد گزر گیا ہے
    مگر ان کی تلاش میں اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس پر گھر والے سخت پریشانی اور بے بسی میں مبتلا ہیں

    حسنین کے بھائی نے بتایا کہ
    میرے چھوٹے بھائی کو ایک ماہ سے اوپر ہو گیا ہے
    کوئی رابطہ نہیں ہوا اور کوئی پتہ بھی نہیں چل رہا
    میری وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ ہماری آواز سنی جائے اور فوری مدد کی جائے

    اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ معاملہ حساس ہے اس لیے تحقیقات میں تیزی لائی جائے تاکہ جلد کوئی سراغ مل سکے
    دوسری جانب مقامی صحافتی حلقوں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک صحافی کا یوں لاپتہ ہونا انتہائی سنگین معاملہ ہے اور حکام کو فوری ایکشن لینا چاہیے