Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سارہ خان  کو روزانہ گلاب کے پھول دینے پر تنقید، فلک شبیر نے ناقدین کو کھری کھری سنا دیں

    سارہ خان کو روزانہ گلاب کے پھول دینے پر تنقید، فلک شبیر نے ناقدین کو کھری کھری سنا دیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی مقبول ترین جوڑی اداکارہ سارہ خان اور گلوکار فلک شبیر سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے محبت کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں جس پر ان کے مداحوں بھی محفوظ ہوتے ہیں اور اپنی پسندیدہ جوڑی کو خوش دیکھ کر خوشی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی: گلوکار فلک شبیر آئے روز اپنی اہلیہ سارہ خان کے لیے پھول لے کر آتے ہیں اور وہ سارہ کا ردِ عمل ریکارڈ کرنے کے لیے ویڈیوز بھی بناتے ہیں۔

    فلک شبیر سارہ کو پھول دیتے وقت کی ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر آئے روز شیئر کر تے ہیں۔

    حال ہی میں فلک شبیر کو روزانہ سارہ کو پھول دینے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں خاموش رہنے کے بجائے صارف کو کھری کھری سنا دی۔

    فلک کی حالیہ ویڈیو میں ایک صارف نے کمنٹ کیا کہ انہیں اپنے روزانہ کے اس ڈرامے کو بند کرنے کی ضرورت ہے، توبہ۔

    فلک شبیر بھی اس تنقید کو برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تو پھر آپ یہاں سے تشریف لے جاسکتی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں اداکارہ سارہ خان نے اچانک گلوکار فلک شبیر کے ساتھ شادی کرکے اپنے چاہنے والوں کو حیران کر دیا تھا۔

  • مہوش حیات لا پتہ کوہ پیماؤں کی سلامتی سے واپسی کے لئے دعاگو

    مہوش حیات لا پتہ کوہ پیماؤں کی سلامتی سے واپسی کے لئے دعاگو

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور تمغہ امتیاز اداکارہ مہوش حیات کے ٹو پر پاکستان کے لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کی سلامتی سے واپسی کے لیے دعا گو ہیں-

    باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں پاکستان کے کوہ پیما علی سدپارہ اور 2 غیر ملکی کوہ پیما موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہوگئے اور دو دن سے جاری ریسکیو آپریشن میں بھی ان کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

    علی سدپارہ کے ساتھ مہم جوئی میں ان کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی شامل تھے لیکن ساجد سدپارہ کو آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونےکے باعث واپس آنا پڑا تھا۔

    اس حوالے سے جہاں دوسرے لوگ کوہ پیماؤں کے لئے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی خیریت سے واپسی کے لئے دعا گو ہیں وہیں اداکارہ مہوش حیات نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی ہے-


    اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ آج ہمارے خیالات کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ سے جان اسنوری اور چلی کے رکن پارلیمنٹ موہر کے ساتھ ہیں جو کے ٹو پر لاپتا ہیں۔

    مہوش حیات نے کہا کہ آئیے سب ان بہادر جوانوں کی سلامتی سے واپسی کے لیے دعا کریں-

    دوسری جانب گزشتہ روز علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کا کہناتھا کہ والد کی میت کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن ہو تو ٹھیک ہے، باقی 8 ہزار میٹر کی بلندی پر سردی میں 2 تین دن سے غائب ہیں تو ان کے زندہ بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں-

    لا پتہ کوہ پیما کی تلاش آج پھر ہوگی

    پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ ساتھیوں سمیت لاپتہ،رابطہ منقطع:وزیراعظم اورآرمی چیف کا تلاش تیزکرنے کاحکم

  • بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار   تحریر:ملیحہ زیبہ خان

    بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار تحریر:ملیحہ زیبہ خان

    بحرِ ہند کا جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ اور مشق امن 21 کے تناظر میں پاکستان کا کردار
    ملیحہ زیبہ خان

    سبز ہلالی پرچم تلے امن کی خواہش لیے 2007 سے ہر دو سال بعد منعقد ہونے والی کثیرالملکی بحری مشق امن خطے میں بین الاقوامی باہمی تعاون اورمشترکہ مفادات کی سمت اہم پیش رفت ہے۔ یہ امن کی خاطر اٹھایا گیا پاکستان کا وہ قدم ہے جس کے تحت سمندروں کو کسی بھی قسم کے خطرات سے آزاد اور بلا روک ٹوک بین الاقوامی آمدو رفت کے لیے محفوظ بنایا جا سکے گا۔ یہ مشق عالمی بحری قوتوں کوموثر انداز میں تحفظ کے ذرائع ،پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو پرکھنے،نقل و حرکت کی مہارت،مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف سمندروں میں روایتی اور غیرروایتی سیکورٹی کے خطرات سے نبرد آزما ہونے اور باہمی خیالات کے تبادلے جیسے مواقع فراہم کرتی ہے۔

    سیکورٹی کا لفظ پوری دنیا میں مختلف مطالب اور نقطہ ہائے نظر کے حوالے سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے۔ریاستوں کے لیے سلامتی کا نظریہ علاقائی حدود اربعہ کی بنا پرانتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ تاہم سلامتی کا تصور عام طور پر وسیع زمینی حقائق کے حوالے سے زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ ریاستیں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ باہمی تعاون جیسے اقدامات کا قیام عمل میں لاتی ہیں. یہاں تک کہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی متعدد مقاصد کی تکمیل کے لئے ریاستوں کی باہمی افہام و تفہیم سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات ایسے انتظامات اور مشقوں کو علاقائی اور غیرعلاقائی ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بھی سمجھ لیتی ہیں۔ خطرے کا یہ تاثر جغرافیائی وسیاسی ماحول میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا کر دیتا ہے اور ریاستیں داخلی طور پر عدم تحفظ کی بنا پر اختلافات اور تنازعات کا شکار ہو جاتی ہیں۔

    سمندری تحفظ کثیر الجہت مقاصد کا امتزاج ہوتا ہے جسے لا متناہی خطرات اور خدشات کا سامنا ہے۔ عام طور پر مختلف ریاستیں قومی سلامتی کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی دفاعی ضروریات اور ترجیحات کو مقدم رکھتی ہیں اور مسلسل ان میں بہتری لانے کی تدابیر کو عملی شکل دیتی رہتی ہیں تا کہ وسیع تر حدود میں اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ سمندری حدود میں مشترکہ مشقیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔اس طرح خطرے کا تاثر یا پیغام دوسری قوتوں تک مو¿ثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے جس کے نتیجے کے طور پر جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔اس کی ایک مثال امریکہ ، جاپان ، ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان 2007 میں ہونے والے سلامتی کے چہار جہتی مذاکرات کی ناکامی ہے جو خلیج بنگال میں ہونے والی دوسری مالا باربحری مشق کے انعقاد کے فوراً بعد چائنہ اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کی بنا پر ناکامی سے دوچار ہو گئی۔ اسے چین اور اس کے اتحادیوں نے چین کی ایشیاءبحرا لکاہل حکمتِ عملی اور خطے میں اس کی عملداری سے تعبیر کیا جس نے طویل عرصے تک اس کے مقاصدکے حصول کو یقینی بنائے رکھا۔

    بحر ہند کا خطہ زمانہ قدیم سے ہی اپنی تجارت ، مہمات اورآبی گزرگاہوں کی وجہ سے بہت اہم رہا ہے۔سازگارموسموں، گرم مرطوب آب و ہوا، غلاموں کی دستیابی، کثیر وسائل اور دوسرے علاقائی عوامل نے خطے کو مزید پر کشش بنا دیا،جس کے باعث اس وقت کی عظیم طاقتوں اور سلطنتوں کی خطے سے متعلق دلچسپی نے اسے مطلوبہ حدف بنائے رکھا۔ بحرِ ہند دنیا کا تیسرا بڑا سمندر ہے جو تین اطراف سے آسٹریلیا ،ایشیاءاور افریقہ کی زمینی حدود میں گھرا ہوا ہے جبکہ چوتھی سمت میں بحرِ منجمد جنوبی واقع ہے۔ پاکستان مغربی بحرِ ہند میں تزویراتی طور پر مقامات کے انتہائی امتزاج اور دو اہم آبناو¿ں ہرمز اور باب المندب کی دہلیز پر واقع ہے۔بڑے تجارتی راستے جنہیں بین الاقوامی تجارت میں شہ رگ کی سی حیثیت حاصل ہے اسی خطے سے ہو کر گزرتے ہیں۔

    نئی صدی کے آغاز سے خطے میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نائن الیون کے بعد متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے مختلف ممالک کے قومی مفادات کو زمین سے سمندر کی طرف منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یوں حلیفوں اور حریفوں کے درمیان نئے اتحاد کاظہور ہوا۔جب دنیا نے کچھ معاملات میں اپنے نظریات سے آگے بڑھ کر سوچنا شروع کیا تو ان کا نقطہ نظر تیزی سے تبدیل ہونے لگا،تب سے یہ خطہ جغرافیائی سیاست کے مراحل سے گزر رہا ہے جس میں ریاستوں کے مابین ہر طرح کا تبادلہ خیال شامل ہے۔

    یہ وہ خطہ ہے جس میں کثیر الملکی قوتیں اپنے فوجی اور بحری انتظامات کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں جیسا کہ ڈیاگو گارسیا میں امریکہ کی موجودگی ،جہاں سے وہ خطے میں ہونے والی تجارتی ومواصلاتی نقل و حرکت اور مشرقی بحرِ ہند میں پیپلز لیبریشن آرمی ، نیوی کا بغور جائزہ لے رہا ہے جبکہ بحرین میں امریکہ کی موجودگی مغربی بحرِ ہند میں ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسی طرح کی سرگرمیوں اور حکمتِ عملی کی چالوں نے بحر ہند کے پانیوں پر تسلط کے نئے سانچے تشکیل دیے۔

    اس کے مطابق امریکہ کی ہند بحرالکاہل (Indo-pacific) سے متعلق حکمتِ عملی مشرقی بحرا لکاہل سے لے کر مغربی بحرہند تک دونوں سمندروں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ ساگرمالا جیسے منصوبوں کی شکل میں بھارتی سمندری تعمیرات اور ہندوستان کی ہند بحر الکاہل کی حکمتِ عملی جس میں مغربی بحر الکاہل سے مغربی بحر ہند تک کے خطے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چین کادو سمندروں سے متعلق نظریہ جو اسے بحر الکاہل اور بحرِ ہند کے پاردوسرے سمندروں تک بھی اپنے نقطہ نظر کو وسعت دینے کا جواز فراہم کرتا ہے۔اس کا اہم بیلٹ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی ) منصوبہ جس میں متعدد ریاستوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، معاشی و توانائی کے روابط اور دیگر امداد کے ذریعے اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنا شامل ہے۔

    ستمبر 2019 میں جرمنی، یورپی یونین کے صدر اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت نے بھارت کی طرف واضح جھکاو¿ کے ساتھ ہند بحر الکاہل میں چائنہ کی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں اپنی حکمتِ عملی کے خدوخال واضح کیے۔ جسے ہند بحرالکاہل میں برلن کی رسائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور یہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

    ایسے ماحول میں ایسی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے جو ریاستوں کے مابین ہم آہنگی، اعتماد اور خوشحالی کو فروغ دیتے ہوئے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر پائیدار امن کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔ پاک بحریہ کی جانب سے بحری مشق امن 21 کا اہتمام اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔ جس حفاظتی طریقہ کار کے تحت اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے وہ باہمی تعاون سے ملنے والی سیکیورٹی ہے جو بین الاقوامی امن کے سلسلے میں مدد گار ثابت ہو گی۔اس مشق میں40 سے زائد ممالک قزاقی مخالف آپریشنز ، انسداد دہشت گردی کی مشقوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں، سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی ،معلومات کے تبادلے اور دیگر متعلقہ روایتی اور غیر روایتی سمندری خطرات کا جواب دینے جیسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔

    اس مشق میں حصہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت اوربالخصوص روسی کی نمائندگی نے سلامتی سے متعلق باہمی تعاون کے خدو خال کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مفادات کے تصادم کے باوجود روس نیٹو ممالک کے ساتھ پاکستان کے پرچم تلے اس مشق میں حصہ لے رہا ہے جو مغربی بحرِ ہند میں سلامتی ، امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ایک اور یادگار اور بے مثال کارنامے کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس مشق سے عالمی سطح پر اقوام عالم کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے ، پاکستان کے سمندری علاقوں میں سیکورٹی کو یقینی بنانے اور پر امن مستحکم سمندری ماحول کو فروغ دینے کے پختہ عزم کا اظہار ہوتا ہے۔ پاکستان بحریہ مشق کا انعقاد انتہائی منظم طریقے سے کر رہی ہے جو خطے میں اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے کے لیے ایک مو¿ثرقدم ہے۔اس طرح کے اقدامات ریاستوں کو ایک نقطہ نظر پر متفق کر کے مطلوبہ سطح تک صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرنے اورمشترکہ اعتماد سازی سے فائدہ اٹھانے کے مواقعے بھی فراہم کرتے ہیں۔

    پاکستان نے بارہا ٹاسک فورس 150 ، ٹاسک فورس151 اور دوسرے علاقائی میری ٹائم سکیورٹی گشت جیسی مہمات کی قیادت کرتے ہوئے اپنی بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کاثبوت دیا ہے جو خطے کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی حکمتِ عملی اور پاک بحریہ کی عمدہ کارکردگی کا منہ بولتاثبوت ہے۔ بحری دائرہ اختیار میں بہترین حکمت عملی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی توسیع میں مدد فراہم کر رہی ہے۔پاکستان ملتِ اسلامیہ کامضبوط حصار اور مشق امن 21 کا علمبردار ہونے کی حیثیت سے بین الاقوامی امن اور باہمی اتحاد کا شدت سے خواہاں ہے۔

  • مرزا پور شہرکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ہدایت کار اور پروڈیوسر کو نوٹس جاری

    مرزا پور شہرکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ہدایت کار اور پروڈیوسر کو نوٹس جاری

    بھارتی سپریم کورٹ نے معروف ویب سیریز ’مرزا پور‘ کے ہدایت کار اور پروڈیوسر کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اترپردیش کے شہر مرزا پور کے رہائشی ایک شہری نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہےکہ ویب سیریز میں مرزا پور کو غنڈوں اور بدمعاشوں کا علاقہ دکھا کر اسے بدنام کیا گیا ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق مرزا پور ایک ثقافتی تنوع سے بھرپور علاقہ ہے لیکن فلم میں اس کی غلط عکاسی کی گئی ہے جس کی وجہ سے شہر کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے ویب سیریز کے ہدایت کار اور پروڈیوسرکو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 مارچ کو طلب کیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ویب سیریز کے پروڈیوسرز رتیش سدھوانی اور فرحان اختر سمیت دیگر کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور بھارتی ریاست اترپردیش کی غلط شبیہ دکھانے کے الزام پر مقدمہ درج کیا گیا پروڈیوسرز کے خلاف مقدمہ ریاست اتر پردیش کے شہر مرزا پور میں ہی درج کیا گیا ہے۔

    ویب سیریز ’مرزا پور‘ میں اداکار پنکج تریپاٹھی ، علی فضل اور دیگر نے مرکزی کردار ادا کیا ہے جب کہ پہلا سیزن نومبر 2018 میں ریلز ہوا تھا جسے مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا گیا اور اب اس ویب سیریز کا دوسرا سیزن بھی آن ائیر ہوا ہے۔

    بھارتیو اپنا برداشت کا لیول بڑھاؤ ، عدنان صدیقی کا بھارتیوں کو پیغام

    بھارتی عدالت نےمسلمان کامیڈین منور فاروقی کی درخواست ضمانت مسترد کردی

    سیف علی خان کی فلم کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر خوفناک آگ بھڑک اٹھی

    سپریم کورٹ نے بالی ووڈ شہنشاہ سیف علی کی گرفتاری پراپنا ردعمل کیسے دیا؟اہم خبرآگئی

    ہندو انتہا پسندتنظیم کا’تانڈو‘کے فلمسازوں کی زبان کاٹنے والے کیلئے ایک کروڑ روپے…

  • پی ایس ایل ترانے پر تنقید ایک رسم بن گئی ہے ، مہوش حیات اور گوہر رشید ناقدین پر برہم

    پی ایس ایل ترانے پر تنقید ایک رسم بن گئی ہے ، مہوش حیات اور گوہر رشید ناقدین پر برہم

    پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے آفیشل ترانے کو ریلیز ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا تھا تاہم اب پاکستان کی معروف اداکارہ مہوش حیات نے ترانے پر اپنا موقف پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تمغہ امتیاز اداکارہ مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے نہیں پتا کیا پریشانی ہے، مجھے پی ایس ایل کا نیا ترانہ پسند آیا، یہ بولڈ اور تازہ تھا۔

    مہوش حیات نے تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے ملک میں تخلیقی صلاحیتوں کو دباتی ہے، ہم ہمیشہ پہلے سے موجود چیزیں اور یہی کچھ چاہتے ہیں اور کچھ بھی مختلف قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پی ایس ایل کے نئے ترانے پر تنقید کو رکنا چاہیے۔

    اپنے پیغام کے آخر میں مہوش حیات نے لکھا کہ ہمیں مختلف آوازوں اور آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب اداکار گوہر رشید نے ابھی ترانے کے حوالے سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی لکھا کہ ہمیں ہمیشہ پی ایس ایل ترانہ کو کیوں ضائع کرنا پڑتا ہے؟ کیا یہ رسم بن گئی ہے؟ گروو میرا ایک اچھا اسٹیڈیم ترانہ ہے۔

    انہوں نے ترانے کے لئے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے یہ پسند ہے ! یاد رکھیں اس وقت یعنی جہاں کورونا جیسی وبا نے پوری دنیا کو ہلا لر رکھ دیا یے میں # PSL6 شو لگانا آسان نہیں ہے تو آئیے کچھ احترام اور تعاون کا مظاہرہ کریں دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے !!

    واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ سکس کے آفیشل سانگ ’گروو میرا‘ منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر شائقین کے دلچسپ تبصروں کا موضوع بن گیا تھا۔ جبکہ اس گانے پر میمز بھی بنائے جارہے تھے۔

    پی ایس ایل 6 ترانے کی ریلیز کے بعد علی ظفر سے متعلق ٹوئٹر پر ٹرینڈز

  • ٹک ٹاک کا جنون: سیر کیلئے جانیوالے 5دوست رکشے پر ٹک ٹاک بناتے حادثے کا شکار

    ٹک ٹاک کا جنون: سیر کیلئے جانیوالے 5دوست رکشے پر ٹک ٹاک بناتے حادثے کا شکار

    سیر کیلئے جانیوالے 5دوست رکشے پر ٹک ٹاک بناتے حادثے کا شکار ہو گئے –

    باغی ٹی وی : سیر کیلئے جانیوالے 5دوست رکشے پر ٹک ٹاک بناتے حادثے کا شکار ہو گئے بیوہ کے اکلوتے بیٹے سمیت 3 لڑکے جاں بحق ،2زخمی ہو گئے ۔

    تفصیلات کے مطابق شمالی چھاؤنی کے علاقے میں 5لڑکے ایک ہی رکشے میں سوار ہو کر سیر کیلئے جا رہے تھے کہ راستے میں16سالہ مصطفی نے ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانا شروع کر دی،اس دورا ن لڑکوں نے رکشے پر ویلنگ کی جس سے رکشہ بے قابو ہو کر ایک پلر سے ٹکرانے کے بعد کار سے جاٹکرایا-

    حادثے میں پانچوں دوست شدید زخمی ہوگئے جنہیں ریسکیو اہلکار وں نے مناواں ہسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے 16سالہ احمد ، 16سالہ سلمان اوربیوہ خاتون کے اکلوتے لخت جگر15سالہ مصطفی کی موت کی تصدیق کر دی ، 13سالہ طیب اور 15سالہ خورشید ہسپتال میں زیر علاج ہیں-

    جہاں طیب کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے ۔ مرحوم مصطفی کے کز ن امجد نے بتایا کہ پانچوں دوست سیر کے لئے نکلے تھے اور ٹاک ٹاک ویڈیو بناتے حادثے کا شکار ہوگئے ،حادثے کے بعد کار ڈرائیورفرار ہو گیا ۔

    سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے نوٹس لیتے ہوئے سی ٹی او لاہور سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ۔سی سی پی اونے کہا کہ واقعہ کی پوری قانونی کارروائی کی جائے گی ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ شیخوپورہ کے علاقے بھکھی میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران 2 نوجوان نہر میں ڈوب گئے تھے لاہور کے علاقے رائیونڈ کے رہائشی دو نوجوان ذیشان رشید اور ساجد اپنے کزن کی دعوت پر اس سے ملنے شیخوپورہ کے گاؤں بھکھی گئے تھے جہاں انہوں نے نہر کے قریب کھڑے ہوکر ٹاک ویڈیو بنانا شروع کی اور اس دوران توازن برقرار نہ رکھ سکے اور نہر میں ڈوب گئے-

    جبکہ اس سے قبل ایک نوجوان کراچی کے علاقے کلفٹن میں سی ویو پر ویڈیو بناتے ہوئے پتھر لگنے سے جاں بحق ہوا تھا۔ جبکہ چند روز قبل راولپنڈی کے علاقے شاہ خالد کالونی میں 18 سالہ نوجوان ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے ٹرین کی ٹکر سے ہلاک ہوگیا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق حمزہ نامی نوجوان راولپنڈی کے نورانی محلے کا رہائشی تھا اور وہ ویڈیو بنانے کے لیے شاہ خالد کالونی پہنچا تھا۔ پٹری کے پاس پہنچنے کے بعد نوجوان نے جب ہزارہ ایکسپریس نامی ٹرین کو دور سے آتا ہوا دیکھا ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کی اور اسی دوران حادثہ پیش آگیا۔

    یاد رہے کہ ٹک ٹاک ویڈیو کے چکر میں نوجوان کی جان جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی پاکستان سمیت دنیا بھر سے متعدد افراد ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے ہوئے خطر ناک اسٹنٹ کرتے ہوئے مختلف حادثات کا شکار ہو کر جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    110 سالہ بوڑھی خاتون کی ٹک ٹاک ویڈیو کے چرچے

    ٹک ٹاک کے جنون نے مزید دو نوجوانوں کی جان لے لی، نہر میں ڈوب گئے

    پی ٹی اے نے ہائی کورٹ میں نیٹ فلکس فلم کے گستاخانہ مواد کے حوالے سے رپورٹ پیش کر…

  • علی انصاری کی بہن اداکارہ مریم انصاری نے خاموشی سے نکاح کرلیا

    علی انصاری کی بہن اداکارہ مریم انصاری نے خاموشی سے نکاح کرلیا

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے نوجوان اداکار علی انصاری کی بہن اور اداکارہ مریم انصاری نے خاموشی سے نکاح کرلیا۔

    باغی ٹی وی : مریم انصاری کے نکاح کی تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔

    وائرل ہونے والی تصویروں اور ویڈیوزمیں دیکھا جاسکتا ہے کہ مریم انصاری نے اپنے نکاح کے دن گولڈن رنگ کا خوبصورت عروسی لباس زیب تن کیا جبکہ اُن کے شوہر اویس نے بھی اہلیہ کے لباس سے ملتی جلتی شیروانی پہنی۔

    گزشتہ روز رشتۂ ازدواج میں بندھنے والا یہ جوڑا اپنی زندگی کے سب سے خاص موقع پر بےحد دلکش لگ رہا تھا۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر اداکارہ کے نکاح کی تقریب کی ایک فیملی فوٹو بھی خوب مقبول ہو رہی ہے جس میں علی انصاری اپنی بہن اور بہنوئی کے ہمراہ اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔

    نکاح کی تقریب سے ایک روز قبل مریم انصاری اور اویس کی منگنی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔

    مریم انصاری کے نکاح کی تقریب میں ہانیہ سمیت دیگر شوبز ستاروں نے بھی شرکت کی تھی۔

  • اہل کشمیر کا آتش دان

    اہل کشمیر کا آتش دان

    آتش دان

    اگر آپ کے گھر کے آتش دان میں آگ جلانے کے لیے کوئی اور آئے تو یہ آگ آپ کے گھر اور آتش دان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے. گھر سے باہر کا کوئی دوست یا بھائی آپ کو ایندھن تو فراہم کر سکتا ہے لیکن آگ جلانے کے لیے اور مسلسل جلا کر رکھنے کے لیے آپ کو خود ہی کچھ کرنا ہو گا…! آپ کے آتش دان میں کسی اور کے ہاتھوں لگائی ہوئی آگ بجھ کر ٹھنڈی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھڑک کر آپ کا گھر بھی جلا سکتی ہے.

    اس لیے آگ جلا کر ماحول گرم کرنا اور ماحول گرم رکھنا آپ کا اپنا کام ہے. البتہ ایندھن فراہم کرنے والے آپ کو ایندھن فراہم کرتے رہیں گے اور یہی آپ کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے.

    وہ ایندھن جو ہماری طرف سے پچھلی دو دہائیوں میں اہل کشمیر کو بھیجا گیا وہ ایک مظلوم و محکوم قوم کے برفیلے ٹھنڈے گھر میں آتش دان جلانے کے لیے تھا. اور الحمد للہ اس ایندھن کے انگاروں سے آتش دان میں آگ اب بھڑک اٹھی ہے اور بر ہان و سبزوار جیسے انگارے مزید ایندھن کو انگارہ بنا رہے ہیں. اور یہ آگ پورے گھر کو گرم کر رہی ہے…. گرم کر چکی ہے. اب یہ آتش دان والوں کی مرضی ہے چاہے تو آگ بجھا دیں… چاہے تو پٹرول ڈال ڈال کر پورا گھر جلا دیں یا پھر ایک تسلسل اور وقفے وقفے سے آتشدان میں ایندھن ڈال کر انگارے بناتے رہیں اور سرد موسم میں گھر کا ماحول گرم رکھیں.

  • میرےبچوں کو 10 سال قبل اغوا کرنے والی ملزم خاتون گرفتار  صوفیا مرزا کا دعویٰ

    میرےبچوں کو 10 سال قبل اغوا کرنے والی ملزم خاتون گرفتار صوفیا مرزا کا دعویٰ

    پاکستانی ماڈل و اداکارہ صوفیا مرزا کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو 10 سال قبل اغوا کرنے والی ملزم خاتون کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گرفتار کرلیا ہے-

    باغی ٹی وی : صوفیا مرزا نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 2 منٹ سے زائد دورانیے کی ویڈیو میں اس بات پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی بعد بلآخر ان کے بچوں کو اغوا کرنے والے گروہ میں شامل مرکزی خاتون ملزم گرفتار ہوگئیں۔

    اداکارہ نے ویڈیو میں بتایا کہ ایف آئی اے نے مرکزی ملزمہ صدف ناز کو پاکستان سے دبئی منتقل ہوتے وقت ایئرپورٹ پر گرفتار کیا، جو کہ ان کے بچوں کی جعلی ماں بنی ہوئی تھیں۔

    اداکارہ نے اپنے بچوں کے اغوا سے متعلق بتایا کہ ان کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور نے خاتون صدف ناز اور ان کے دیگر دو ساتھیوں سے مل کر ان کے بچوں کو پاکستان سے اغوا کرکے دبئی اسمگل کیا۔

    اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے سابق شوہر اور صدف ناز نے ان کے بچوں کے ‘ب فارم’ اور ‘برتھ سرٹیفکیٹ’ سمیت دیگر دستاویزات تبدیل کیے اور صدف ناز ایک دہائی سے ہی ان کے بچوں کی ماں بنی ہوئی تھیں۔

    انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ ان کے سابق شوہر اور صدف ناز کا گروہ بااثر ہے اور اس گروہ کے باقی تمام افراد تاحال مفرور ہیں اور ان کے بچے بھی تاحال دبئی میں ہیں۔

    اداکارہ نے وزیر اعظم عمران خان سے مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کو بازیاب کروایا جائے اور ساتھ ہی انہوں نے مداحوں کو بھی بچوں کی بازیابی کے لیے ساتھ دینے کی اپیل کی۔

    اداکارہ نے صدف ناز کی گرفتاری کو حالیہ دور حکومت کا اچھا کام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کی جعلی ماں بننے والی خاتون کو ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔

    اگرچہ اداکارہ نے صدف ناز نامی خاتون کو گرفتار کرنے سے متعلق بتایا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایف آئی اے نے حراست میں لی گئی خاتون کو عدالت میں پیش کیا یا نہیں اور انہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟

    خیا ل رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ جنوری میں ماڈل و اداکارہ نے لاہور ہائی کورٹ میں بچوں کی بازیابی کے لیے درخواست بھی دائر کی تھی، جس پر عدالت نے اداکارہ کے بچوں کی اغوا سے متعلق وزارت داخلہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی۔

    دوسری جانب ستمبر 2019 میں ایف آئی اے نے تصدیق کی تھی کہ اداکارہ و ماڈل صوفیا مرزا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

    ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے انہیں کیس منتقل کیے جانے کے بعد اداکارہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تفتیش شروع کی گئی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے تفتیش شروع کیے جانے سے قبل اداکارہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے بتایا تھا کہ ان کے خلاف سابق شوہر ہی جھوٹی مہم چلا رہے ہیں۔

    اداکارہ کے حوالے سے اگست 2019 میں خبریں آنا شروع ہوئی تھیں کہ وہ بھی ماڈل ایان علی کی طرح منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں تاہم اداکارہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں ان الزامات کی تردید کی تھی تاہم ستمبر 2019 میں ایف آئی اے نے تصدیق کی تھی کہ اداکارہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تفتیش شروع کردی گئی-

    ماں کے علاج کیلئے ادھار پیسے مانگنے پر دوست نے جنسی ہراساں کیا راکھی ساونت

    لاہور میں پلازہ پر قبضہ واگزار کروانے پر حمیرا ارشد سمیت دیگر فنکار لاہور پولیس کے شکرگزار

  • سامعہ کے کردار نے مجھے کافی تبدیل کیا ہے  رمشا خان

    سامعہ کے کردار نے مجھے کافی تبدیل کیا ہے رمشا خان

    ڈرمہ سیریل’گھسی پٹی محبت’ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ رمشہ خان کا کہنا ہے کہ سامعہ کے کردار نے مجھے کافی تبدیل بھی کیا اور اب کسی کو منع کرتے ہوئے یا اپنے دل کی بات کہتے ہوئے اتنا ڈر نہیں لگتا۔

    باغی ٹی وی : ڈراما ‘گھسی پٹی محبت’ گزشتہ ماہ جنوری میں اختتام کو پہنچا تھا جس میں ایک ایسی خاتون کو دکھایا گیا ہے جو کئی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد اپنی زندگی میں کامیاب ہوتی ہے جبکہ اس کی 3 شادیاں ناکام ہوچکی ہوتی ہیں اس ڈرامے میں ٹرانس جینڈرز، ہراسانی اور لڑکیوں کی شادی سے جڑے دیگر سماجی مسائل کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

    انڈیپنڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈرامے میں’سامعہ’ کا مرکزی کردار ادا کرنے والی رمشہ خان نے کہا کہ انہیں کردار کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی خدشہ نہیں تھا اور کہا گیا تھا کہ معاشرے میں اس طرح کے معاملات کے بارے میں بات کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ مجھے کہا گیا تھا کہ یہ ایک تجربہ ہے تو آپ دیکھ لیں جب پہلی مرتبہ میں نے سامعہ کا کردار پڑھا تو اچھا محسوس ہوا اور میں نے کم از کم اتنا اچھا ڈراما ٹی وی پر نہیں دیکھا اس لیے میرے ذہن میں صرف یہ تھا کہ اس ڈرامے کا حصہ بننا ہے-

    رمشہ خان نے کہا کہ جب معلوم ہوا کہ یہ ڈراما حقیقی زندگی کی کہانی ہے تو میرے دل میں اس خاتون کے لیے عزت بڑھی کہ اتنا کچھ جھیلنے کے بعد میرے لیے تو وہ ایک شیرنی ہیں اور میں ڈرامے کے لکھاری سے کہوں گی کہ اس خاتون سے ملوائیں’۔

    رمشہ خان نے کہا کہ سامعہ کے کردار نے مجھے کافی تبدیل بھی کیا اور اب کسی کو منع کرتے ہوئے یا اپنے دل کی بات کہتے ہوئے اتنا ڈر نہیں لگتا۔

    اداکارہ نے مزید کہا کہ ‘پہلے میں کچھ ڈپلومیٹک ہوتی تھی اور اب کافی منہ پھٹ ہوگئی ہوں بلکہ میں اپنے گھر والوں کو بدتمیز لگنے لگی ہوں لیکن سب سے بڑھ کر اب مجھے کوئی قدم اٹھانے سے کچھ کہنے سے ڈر نہیں لگتا۔

    سامعہ کے کردار کے لیے لکھاری کی جانب سے اداکارہ سجل علی کو بھی ذہن میں رکھنے سے متعلق رمشہ خان کا کہنا تھا کہ اگر سجل علی یہ کردار کرتیں تو مجھ سے بہتر کرتیں اور اگر وہ کرتیں تو یہ ڈراما بہت بڑا ہو جاتا، میں سجل سے خود کا موازنہ نہیں کرسکتی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ڈرامے میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں کیونکہ سامعہ کا کردار صرف ادا نہیں کیا بلکہ اسے خود جیا ہے۔

    گھسی پٹی محبت‘ آخری قسط کے بعد ٹوئٹر پر نمبر ون ٹرینڈ رہا اس پذیرائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا مقبول ہوگا اس کے لیے وہ عوام کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔

    ڈراما ‘کیسا ہے نصیباں’ میں تشدد کی شکار عورت اور ‘گھسی پٹی محبت’ میں ایک مضبوط کردار سے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کردار اپنی اپنی جگہ سماجی پیغام دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ‘کیسا ہے نصیباں’ میں تشدد ہے لیکن میرا مقصد لوگوں کو گھریلو تشدد کے بارے میں آگاہ کرنا تھا اور اس کی کڑی سے کڑی سزا ہونی چاہیے۔

    رمشہ خان نے کہا کہ اپنے کیریئر کی ابتدا میں منفی کردار بھی ادا کیے اور وہ اب بھی اب بھی ایسے کردار کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    اداکارہ نے بتایا کہ ان کا اگلا ڈراما کچھ فلمی طرز کا ہے اور تھوڑا رومانوی اور مزاحیہ ہے، خیال رہے کہ وہ اس ڈرامے میں عفان وحید کے ساتھ اداکاری کریں گی-

    ارطغرل غازی ڈرامے سے متاثر ہو کر 60 سالہ امریکی خاتون نے اسلام قبول کر لیا

    براک اوباما اور ان کی اہلیہ کی کمپنی کا پاکستانی ناول نگار کے ناول پر فلم بنانے کا…