بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستان کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر نے اپنے مداحوں کو دیسی مرغی کی کڑاہی بنانا سِکھا دی۔
باغی ٹی وی :اپنی سُریلی آواز کے ذریعے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے معروف گلوکار علی ظفر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔
https://twitter.com/AliZafarsays/status/1350696622523617283
مذکورہ ویڈیو میں علی ظفر چھٹی کے دن اپنے مداحوں کو ’دیسی مرغی کی کڑاہی‘ بنانا سِکھا رہے ہیں۔
علی ظفر نے کہا کہ ’وہ آج چھٹی کے دن دیسی مرغی کی کڑاہی بنانے سِکھائیں گے جو کہ بڑی ہی مزیدار بنتی ہے۔‘
اداکار وگلوکار نے کہا کہ ’یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد آپ بھی اپنے گھر میں ضرور یہ کڑاہی بنائیں اور اس کے لذیذ ذائقے سے لطف اندوز ہوئیں۔
اُنہوں نے ایک منٹ 35 سیکنڈز پر مشتمل ویڈیو میں اسٹیپ با اسٹیپ کڑاہی بنانے کی ترکیب بتائی۔
علی ظفر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے بھیےّ کی کڑاہی تو کھائی ہو گی لیکن بھائی کی نہیں۔
گلوکار نے اپنے ٹوئٹ میں ہیش ٹیگ ’بھائی حاضر ہے‘ اور ’بھائی کڑاہی‘ کا بھی استعمال کیا۔
علی ظفر کی اس ویڈیو کو ٹوئٹر صارفین کی بڑی تعداد پسند کررہی ہے اور صارفین کا مزاحیہ انداز میں کہنا ہے کہ وہ بھی علی ظفر کے گھر دیسی مرغی کی کڑاہی کھانے جارہے ہیں اور کچھ صارفین نے مزاحیہ تبصرے کئے اور کچھ نے تو علی طفر کی کڑاہی کی ترکیب کو ناپسند کرتے ہوئے ان کو کڑاہی بنانے کی تراکیب بتائیں-
پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے یہ براڈ شیٹ کس بیماری اور کس وائرس کا نام ہے اس پر ہر شخص بات کر رہا ہے ہر کوئی تبصرہ کر رہا ہے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ اصل میں یہ ہے کیا؟ انہوں نے اس حوالے سے ایڈم برنارڈ نام کی ایک بہت بڑی لاء فرم ہے اس کے روح رواں بیرسٹر راشد اسلم جوچند دن کے لئے یوکے ،لندن سے لاہور آئے ہیں ان سے براڈ شیٹ کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا مسئلہ ہے؟
باغی ٹی وی : بیرسٹر راشد اسلم نے اس حوالے سے بتایا کہ براڈ شیٹ ایک پرائیویٹ کمپنی تھی جو کچھ انفرادی لوگوں نے سن 2000 میں یہ کمپنی تشکیل دی اس سے پہلے جب جنرل مشرف برسراقتدار تھے اس وقت اس کمپنی کی ان سے بات چیت ہوئی کہ ہم پاکستان کے تمام سیاسی لیڈرز بشمول میاں نواز شریف خاندان یا زرداری خاندان کے اثاثہ جات آپ کو ڈھونڈ کر دیں گے اور وہ آپ پاکستان میں واپس لے کر جا سکتے ہیں اس میں جو بات چیت ہوئی اس کے نتیجے میں ایک معاہدہ طے پایا کہ اس میں جو بھی اثاثہ جات ڈھونڈے جائیں گے اس جا 20 فیصد براڈ شیٹ کو ملے گا براڈ شیٹ صرف پاکستان کے لئے تھی براڈ شیٹ نے کسی اور ملک کے لئے خدمات نہیں دیں-
عالمی شہرت یافتہ بیرسٹر راشد اسلم نے بتایا کہ اب اسی مقصد کے لئے براڈ شیٹ کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی گئی اس وقت اس کو بنانے والے جیری جیمز تھے جن کی بعد میں پراسرار موت واقعی ہو گئی اور کچھ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے خود کشی کی اور کسی نے کہا انہیں قتل کیا گیا ہے-
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سن 2000 میں یہ معاہدہ ہوا اور سن 2003 تک یہ معاہدہ قائم رہا اور 2003 میں اس معاہدے کو ختم کر دیا گیا اب براڈ شیٹ کا اس وقت یہ موقف تھا کہ ہم نے بہت سارے ایسے ڈاکیومنٹس بہت سارے ایسے اثاثی جات بینک اکاؤنٹس حکومت پاکستان کو دیئے تھے اور براڈ شیٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارا ایک آفس پاکستان میں نیب کے آفس کی بلڈنگ میں ایک آفس بھی دیا گیا تھا جس کے ذریعے ہم نیب کے ساتھ سارے معاملات ساری دستاویزات دیکھ رہے تھے-
بیرسٹر راشد اسلم کے مطابق براڈ شیٹ کمپنی کا کہنا تھا کہ 2003 میں یہ معاہدہ ختم کیا گیا یا غلط ختم کیا گیا اس وقت تک ہم بہت سارے اثاثہ جات بہت سارے بینک اکاؤنٹس ڈھونڈ چکے تھے اور ہماری بہت ساری انویسٹمنٹ ہو چکی تھی تو پھر ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس موڑ پر آ کر آپ ہم سے معاہدہ ختم نہیں کر سکتے-
مبشر صاحب نے سوال کیا کہ ہمارے پاس اس سے باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا؟ اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ یہ بڑا پرابلم رہا ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی انٹرنیشنل لاء پر زیادہ توجہ نہیں دی-اگر آپ ہمارے ہمسایہ ممالک میں دیکھیں انڈیا میں یا باقی ممالک میں وہاں پوری ٹیم بیٹھی ہوتی ہے وکیل حضرات کی جواس پر کام کر رہی ہوتی ہے کہ اگر کوئی کانٹریکٹ آتا ہے ہمارے پاس تو ہم نے اس میں سے اپنے اپ کو سیکیور کیسے کرنا ہے ایگزٹ کراس کیسے رکھنی ہے؟ اس میں سے نکلنا کیسے ہے –
انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ براڈ شیٹ میں کوئی مضبوط ایگزٹ کراس رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ فیصلہ ہوا جب 2003 میں یہ ہوا تو اس کے بعد کاروائی شروع کی گئی اس کے بعد 2005 میں یہ کپمنی بند ہو گئی اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں یا کوئی پیمنٹس نہ ہوئی ہوں یا انہوں نے خود بند کر دی ہو پارٹنرز کی نہ بنی ہو-
انہوں نے بتایا کہ جب یہ بند ہو گئی تو مقدمہ چل رہا تھا کاروائی ہو رہی تھی جو خط و کتابت ہو رہی تھی اس وقت پاکستان کی حکومت نے اس کمپنی کے نمائندے جیری جیمز کے ساتھ بات چیت کی انہوں نے 2008 میں ایک شیل کپمنی بنائی بالکل اسی نام سے انہوں نے پاکستان سے معاہدہ کیا کہ اگر آپ ہمیں 5 ملین پاؤنڈ دیتے ہیں کہ ہم یہ تنازعہ ختم کر دیتے ہیں اور سیٹلمنٹ کر لیتے ہیں-
مبشر لقمان نے کہا کہ لیکن یہ شیل کپمنی اصل کمپنی کی طرح کام نہیں کر رہی تھی ا س پر بیرسٹرراشد اسلم نے کہا کہ یہ موقف بھی سامنے آیا جو اس وقت کیس لڑ رہے ہیں اس سے پہلے یہ اکٹھے تھے جیری جیمز جو براڈ شیٹ کے بانی تھے نے پاکستان کو یہ تاثر دیا کہ میں ہی ڈیل کر رہا ہوں تو پاکستان کے وکیل ان کے اُس تاثر میں آگئے اور ہم نے رقم ادا کر کے سیٹلمنٹ کر لی اور جب یہ معاہدہ ہو گیا تو اس کے بعد 2009 میں دوبارہ ایک ایک سی کے سربراہ مسٹر کاوے موسوی نے وہ کمپنی ری اسٹیٹ کرائی اس کی درخواست دی کمپنی ری اسٹیٹ ہو گئی تو انہوں نے دوبارہ کام شروع کیا-
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستان کا یہ موقف تھا کہ ہم نے تو آپ کے نمائندہ سے سیٹلمنٹ کر لی ہے ہمیں نہیں پتہ کہ اس نے دوسری کمپنی شروع کر کے کی ہم نے تو چیک دیا رقم ادا کرلی ہوئی ہے رقم باضابطہ طور پر ہائی کمیشن کے ذریعے ادا کی گئی تو کورٹ نے اس موقف کو نہیں مانا کورٹ نے کہا کہ اب یہ کمپنی ری اسٹیٹ ہوئی ہے اس کا رجسٹریشن نمبر اس جیری جیمز کی کمپنی کے رجسٹریشن نمبر سے مختلف ہے تو کورٹ اس موقف کو نہیں مانتی تو 2016 میں ایک پارشل ایوارڈ براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ کر تے ہوئے پاکستان سے کہتی ہے کہ اتنی رقم آپ ادا کریں تو پارشل ایوارڈ کا مطلب یہ تھا کہ فل ایوارڈ نہیں بلکہ لمیٹیڈ ایوارڈ ہوا-
بیرسٹر راشد اسلم کے مطابق اس کے بعد پھر بات چیت چلتی رہی اس میں بہت سارے لوگ گئے ہمارے جس طرح مسٹر موسوی نے کہا کہ بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں لیکن سیٹلمنٹ نہیں ہوپائی اس کے بعد جب یہ ایوارڈ ہوا تو پاکستان نے پھر اس کے اوپر اپیل کی تو پاکستان کی یہ اپیل بھی منظور نہیں ہوئی اس میں بہت سارے ایشوز تھے جب پارشل ایوارڈ کے بعد فائنل ایوارڈ ہوا اس پر بھی اپیل ہوئی لیکن بات یہ تھی کہ ہم جب آرمٹریشن میں گئے تھے تو ہم نے یہ مانا تھا کہ ان کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ فائنل ہو گا تو کورٹ کا موقف تھا کہ آپ نے پہلے یہ مانا ہوا ہے کہ فیصلہ فائنل ہو گا اس لئے ہم اس کو فیصلے کو رد نہیں کر سکتے ا س کی وجہ سے ہم پر یہ پیمنٹ پر ہمیں یہ رقم ادا کرنا پڑی –
بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شروع سے آخر تک اگر آپ اس کا پورا بائیو ڈیٹا دیکھیں اس میں جو بھی حالات پیدا ہوئے اس میں بہت حد تک ہمارا لاء ڈیپارٹمنٹ بہت کمزور رہا ہم نے اس کو کبھی بھی پوری طرح معاملات خط و کتابت میں جیسے اٹارنی جنرل ایگریسیو نہیں دیکھا-
مبشر لقمان نے کہا کہ اس میں پی آئی اے کے ہوٹلز کہاں سے آ گئے وہ اس کو بھی لینے کے چکروں میں ہیں -اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ در اصل جو چیز بھی پاکستان کے نام پر ہے اس کے اوپر انہوں نے یہ موقف لیا کہ اس کو ضبط کیا جائے جیسے ہائی کمیشن کا دفتر ، یو بی ایل کے بینکس میں حکومت پاکستان کے اکاؤنٹس تھے وغیرہ-حالانکہ پاکستان نے ڈپلومیٹک کمیونٹی اس پر کلیم تھی وہ بھی رفیوز کر دی گئی اور یہ بہت سخت فیصلہ ہے اور یہ معقول فیصلہ بھی نہیں ہے اس میں بہت ساری گراؤنڈز تھیں جس میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے حق میں تھیں اور یہ جج کا فیصلہ تھا –
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا کاؤنسل کمزور تھے ہمارے ؟ انہوں نے کہا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن مجھے جج کے فیصلے سے اختلاف ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جو فیصلہ تھا اس فیصلے کے حوالے سے بہت ساری چیزیں بہت ساری ایسی گراؤںڈز لی جا سکتی تھیں جن پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا ججمنٹ میں-
مبشر لقمان نے پوچھا کہ اب پھر اپیل کی گنجائش ہے ؟ اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ اب تو ہم بہت آگے اس سے چلے گئے ہیں اور رقم ادا کر دی ہے صرف یہی پیمنٹ نہیں ہے اس کے علاوہ لیگل چارجز بھی ہیں ابھی ہم نے اور پیمنٹس کرنی ہیں مسٹر موسوی کو- ایک اور اہم بات کہ جس طرح وہ آفر کر رہے ہیں کہ ابھی بھی ان کے پاس اکاؤنٹس کی تفصیل ابھی آفر کر رہے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ڈیل کریں کہ ہمارے ساتھ دوباری کانٹریکٹ کریں میں دوبارہ اکاؤنٹس دیکھتا ہوں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس کانٹریکٹ میں جانا چاہیئے-
پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ سجل علی کا شمار پاکستان کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے اور مداح سجل علی کی اداکاری اور خوبصورتی کے دیوانے ہیں-
باغی ٹی وی : ڈرامہ سیریل ‘الف’، ‘آنگن’ اور’یہ دل میرا’ جیسے ڈراموں میں اپنی بہترین اداکاری کی صلاحیتوں سے سجل علی نے مداحوں کی پذیرائی حاصل کی ہے۔
اور حال ہی میں سجل علی باضابطہ طور پر جمائما گولڈ اسمتھ کی رومانوی کامیڈی فلم ‘واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وڈ اٹ’ کی کاسٹ کا حصہ بھی بنی ہیں۔
سجل علی نے گزشتہ روز اپنی سالگرہ منائی اور دنیا بھر میں انہیں مداحوں کی جانب سے ان کی زندگی کے خاص دن کی مبارکباد دی جارہی ہے۔
نور العین نمی صارف نے سجل علی کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کا فخر قرار دیا جس پر اداکارہ نے بھی رد عمل دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا-
#HappyBirthdaySajal one of the finest actor of Pakistan and my most favorite actress of Pakistan, love you sajal, keep Shining, keep smiling,love from India… pic.twitter.com/5zl9qJ3QST
شرد میر نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان کی بہترین اداکاراؤں میں سے ایک اور میری سب سے پسندیدہ اداکارہ، سجل آپ ہمیشہ خوش رہیں اور مسکراتی رہیں۔
https://twitter.com/BingNorah/status/1350497575418281985?s=20
نورا بنگ نامی صارف نے لکھا کہ ایک بہترین اداکارہ۔
Dr Zubiya Khalil one the most inspirational female lead to exist in history of Television. for me Zubiya is more than just a TV character, she's a role model. I really learned so many things from from her. her Yakeen ka Safar will always remain inspirational#HappyBirthdaySajalpic.twitter.com/1hgbnNq3gW
ربیعہ نامی صارف نے لکھا کہ ٹیلیویژن کی تاریخ میں ایک سب سے متاثر کن کردار ڈاکٹر زوبیہ خلیل خاتون وجود میں آیا۔ میرے لئے زوبیہ صرف ایک ٹی وی کردار سے زیادہ ہے ، وہ ایک رول ماڈل ہے۔ میں نے واقعی اس سے بہت ساری چیزیں سیکھی ہیں۔ ان کا یوین کا سفر ہمیشہ متاثر کن رہے گا-
ڈی کروز فیملی کے نام سے مشہور ایک خاندان کا نام ایک طویل العمرخاندان کے طور پراب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوچکا ہے۔
باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ڈی کروز خاندان کے تمام 12اراکین کراچی میں پیدا ہوئے اور اب ان کی اکثریت مختلف ممالک میں آباد ہے۔ بہن بھائیوں کی اوسط عمر 75 سے 97 برس ہے اور اگر ان کی عمروں کو جمع کیا جائے تو وہ مجموعی طور پر 1042 برس اور 325 دن بنیں گی۔ اس لحاظ سے ان 12 افراد کو مجموعی طور پر سب سے زائد عمر والا خاندان کہا گیا ہے۔
2018 میں پورا خاندان ایک جگہ جمع ہوا تو سب سے چھوٹی بہن 75 سالہ جینیا نے اپنے ایک بھانجے کی بات د ہرائی جس میں اس نے گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت سب غیریقینی انداز میں ہنسے لیکن دو سال بعد 15 دسمبر 2020 کو خود گنیز نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ایک سند سے نوازا۔
جینیا کے مطابق یہ ایک خوشگوار لمحہ تھا اور تمام بہن بھائیوں کا شمار ملکر ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔ ڈی کروز خاندان کے بہن بھائی سوئزرلینڈ، امریکہ ، کینیڈا اور لندن میں رہتے ہیں۔ لیکن اب بھی وہ سال میں تین مرتبہ ضرور ملتے ہیں۔
تاہم 2020 میں عالمی وبا کے دوران انہوں نے زوم اورآن لائن ملاقاتیں ہی کیں۔ اب ہر روز وہ لند کے وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے زوم کانفرنس میں جمع ہوکر گفتگو کرتےہیں۔
جینیا جب ڈیڑھ سال کی تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اس طرح 22 برس میں 12 بچوں نے دنیا میں آنکھ کھولی جس کے بعد ان کی والدہ نے تمام بچوں کی پرورش کی اور انہیں پروان چڑھایا۔
پاکستانی اسُپراسٹار اداکارہ ماہرہ خان نے اعلان کیا ہے وہ رواں برس چھوٹی اسکرین پر واپس آئیں گی۔
باغی ٹی وی : نجی چینل ہم ٹی وی کے 16 برس مکمل ہونے کی تقریب میں بات چیت کرتے ہوئے ماہرہ خان نے ڈراموں میں واپسی کا بتایا انہوں نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باعث قرنطینہ میں گزارے وقت کا احوال سناتے ہوئے کہ میری علامات بہت زیادہ تھیں اور بہت مشکل وقت تھا، الحمداللہ اب میں ٹھیک ہو۔
قرنطینہ میں وقت گزارنے سے متعلق ماہرہ خان نے بتایا کہ انہوں نے اس دوران اسکرپٹس پڑھے اور ان میں سے ایک اسکرپٹ ایم ڈی(مومنہ درید) پروڈکشن کی تھی۔
ماہرہ خان نے کہا کہ انشااللہ رواں برس سال 2021 میں ڈراموں میں واپس آؤں گی۔
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ اس سال ستمبر میں ان کے سپر ہٹ ڈرامے ‘ہمسفر’ کو 10 برس ہوجائیں گے۔
تاہم ماہرہ خان نے اپنے ڈرامے کی کہانی اور کردار سے متعلق کوئی وضاحت نہیں دی نہ ہی یہ بتایا کہ ان کا متوقع ڈراما کب سے آئے گا۔
لیکن ان کی بات سے لگا کہ ماہرہ خان ممکنہ طور پر نجی چینل ہم ٹی وی کا ڈراما کرنے جارہی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ماہرہ خان نے ڈراما انڈسٹری میں واپسی کا عندیہ دیا ہو، انہوں نے گزشتہ برس بھی کہا تھا کہ وہ ڈراموں میں واپس آئیں گی۔
گزشتہ برس ایک صارف نے ماہرہ خان سے پوچھا کہ آپ ہمیشہ کہتی ہیں کہ آپ ڈراموں میں کام کریں گی کیا اس مرتبہ حقیقت میں آپ ڈراموں میں واپسی کریں گی یا یہ بھی ایک مذاق تھا۔
جس کا جواب دیتے ہوئے ماہرہ خان نے کہا تھا کہ اس مرتبہ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اپنی فلم مکمل کرنے کے فوراً بعد ڈراموں میں واپس آؤں گی۔
خیال رہے کہ ماہرہ خان یوں تو 2006 سے ٹی وی شوز کی میزبانی کررہی تھی اور ان کا پہلا ڈراما ‘نیت’ تھا جو 2011 میں نشر ہوا تھا لیکن انہیں ‘ہمسفر’ ڈرامے سے مقبولیت ملی جو اسی سال 2011 میں نشر ہوا تھا اس میں ان کی اور فواد خان کی جوڑی بہت زیادہ پسند کی گئی تھی۔
ماہرہ خان نے 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘بول’ میں بھی اداکاری کی تھی، علاوہ ازیں ‘بن روئے’، ‘منٹو’، ‘ہو من جہاں’، ‘ورنہ’، ‘7 دن محبت ان’، ‘پرے ہٹ لو’، ‘سپر اسٹار’ میں جلوہ گر ہوئی۔
اس کے علاوہ انہوں نے بالی وڈ میں فلم ‘رئیس’ سے ڈیبیو کیا تھا جس میں وہ شاہ رخ خان کے ساتھ نظر آئی تھیں، یہ فلم 2017 میں ریلیز ہوئی تھی۔
ان کی فلم ‘لیجنڈ آف مولا جٹ’ کو 2020 میں ریلیز کیا جانا تھا تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکا جبکہ گزشتہ برس دسمبر میں ان کی آنے والی فلم ‘نیلوفر’ کی شوٹنگ مکمل ہوئی تھی۔
ماہرہ خان فلم ‘نیلوفر’ میں اداکار فواد خان کے ساتھ نظر آئیں گئی جو اداکارہ کے مطابق جلد ہی ریلیز ہوگی۔
55 سالہ بالی وڈ سُپر اسٹار سلمان خان نے بالآخر شادی نہ کرنے کی وجہ بتا دی۔
باغی ٹی وی : بالی وڈ اداکار دبنگ خان بھارتی فلم انڈسٹری کے واحد سپر اسٹار ہیں جنہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی جب کہ اداکاروں سے لے کر مداحوں تک سب کو ہی بے صبری سے انتظار ہے کہ اداکار کب شادی کا اعلان کریں گے تاہم 55 سالہ اداکار ابھی بھی شادی کے موڈ میں نہیں اور وہ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے بالآخر خود انہوں نے وجہ بتادی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بگ باس سیزن 13 کے دوران سلمان خان نے شو میں اجے دیوگن اور ان کی اہلیہ کاجول کو مدعو کیا تھا شو میں ایک گیم کھیلتے ہوئے سلو میاں نے کہا کہ ایک لڑکی تھی جس کو میں پسند ضرور کرتا تھا تاہم کبھی اس لڑکی سے اظہار نہیں کیا۔
سلمان خان نے شو کے دوران اداکارہ کاجول اور اجے دیوگن سے کہا کہ وہ لڑکی بھی مجھے پسند کرتی تھی اور اس بات کا مجھے بعد میں علم ہوا تاہم انکار کے ڈر سے نہ تو میں اس لڑکی سے کبھی اظہار محبت کرسکا اور نہ ہی شادی کی بات۔
دبنگ خان نے مزید کہا کہ تقریباً 15،20 سال پہلے جب اس لڑکی سے ملا تو وہ دادی بن چکی تھی اور اس نے مجھ سے کہا کہ میرے پوتے تمہارے مداح ہیں اور تمہاری فلمیں بہت شوق سے دیکھتے ہیں-
سلمان خان نے کہا مجھے اس سے شادی نہ ہونے کا کوئی پچھتاوا نہیں کیوں کہ اگر میں اس سے شادی کرتا تو آج دادا بن چکا ہوتا۔
شوبز ستاروں کے لیے کہا جاتا ہے کہ ان کی دوستی اور محبتیں طویل عرصے تک قائم نہیں رہتی ہیں اور جس طرح یہ اچانک شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو ویسے ہی اچانک اپنے جیون ساتھی سے راہیں جُدا کر لیتے ہیں پھر علیحدگی کی خبریں ان کے مداحوں کو مایوس کردیتی ہیں۔
باغی ٹی وی : لیکن شوبز انڈسٹری میں کئی ایسی جوڑیاں بھی ہیں جن کی محبت بچپن یا پھر لڑکپن سے شروع ہوئی اور پھر یہ جوڑیاں شادی کے بندھن میں بندھ گئیں اور ان کےد رمیان محبت آج بھی قائم ہے۔
اگر ہم بالی وڈ ستاروں کی بات کریں تو اُن میں کئی اداکار ایسے ہیں جنہوں نے اپنے بچپن کی دوستوں کو جیون ساتھی چُنتے ہوئے ناصرف اپنی ازدواجی زندگی مضبوط بنائی ہے بلکہ اپنی دوستی کو بھی قائم رکھا ہے-
بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کی اپنی اہلیہ گوری سے پہلی ملاقات اسکول پارٹی کے دوران ہوئی تھی اور اسی ملاقات کے دوران اس جوڑی کی دوستی ہوئی، وقت گُزرنے کے ساتھ ہی یہ دوستی محبت میں تبدیل ہوئی اور پھر سال 1991 میں دونوں نے شادی کر لی۔
اداکار ہریتھیک روشن نے بھی اپنی بچپن کی دوست سوزان خان سے شادی کی تھی لیکن بدقسمتی سے اس جوڑی کے درمیان علیحدگی ہو گئی، تاہم علیحدگی کے باوجود یہ دونوں آج بھی ایک دوسرے کے بہترین دوست ہیں اور اکثر و بیشتر کئی مقامات پر ایک ساتھ بھی نظر آتے ہیں۔
بالی وڈ کے نئے اُبھرتے ہوئے اداکار و میزبان آیوشمان کھرانا اور ان کی اہلیہ طاہرہ کیشپ بھی بچپن کے دوست ہیں، دونوں ایک ہی کالج میں زیرِ تعلیم تھے، دونوں نے 2011ء میں شادی کی اور اس جوڑی کے 2 بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہے۔
بالی وڈ کے سینئر اداکار جیکی شیروف اور ان کی اہلیہ عائشہ شیروف بھی ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے اور دونوں اسکول کے زمانے سے ہی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے، 1987ء میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھے اور یہ شادی آج بھی قائم ہے۔
اداکار فردین خان اور اُن کی اہلیہ نتاشا بھی بچپن کے دوست ہیں اور ساتھ ہی بڑے ہوئے ہیں، فردین خان اور نتاشا 2005ء میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے اور آج بھی ان کی یہ خوبصورت جوڑی قائم ہے۔
بالی وڈ کے نوجوان اور کامیاب اداکار ورون دھوون ابھی تک رشتۂ ازدواج میں منسلک نہیں ہوئے ہیں لیکن بھارتی میڈیا پر یہ خبریں زیرِ گردش ہیں کہ اداکار رواں ماہ کے آخر میں اپنی اسکول کی دوست نتاشا دلال کے ساتھ شادی کرنے والے ہیں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار نعمان اعجاز کا کہنا ہے کہ ہمیں زندہ لوگوں کی تعریف کرنی چاہیے کیونکہ مرنے والے اپنی تعریف سُن نہیں سکتے ہیں۔
باغی ٹی وی :اداکار نعمان اعجاز سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں اور اکثر و بیشتر دلچسپ اور معنی خیز پوسٹس شیئر کرتے رہتے ہیں جن کو مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جاتا ہے –
حال ہی میں اداکار نعمان اعجاز نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے مداحوں کے لیے معنی خیز پیغام جاری کیا ہے۔
نعمان اعجاز نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی تصویر شیئر کی ہے جس میں اُن کی آنکھوں میں غصہ نظر آرہا ہے۔
اداکار نے اس تصویر کو ایک معنی خیز کیپشن دیتے ہوئے لکھا کہ یہ دُنیا ہے جناب، ماں نہیں جو ہر وقت آپ کو پیار دے۔
اُنہوں نے لکھا کہ انسان کی زندگی میں اُس کی تعریف کیجیے اور اُس کے کام کو سراہیئے کیونکہ مرنے کے بعد انسان اپنی تعریف نہیں سُن سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی نعمان اعجاز نے انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کی تھی جس کے کیپشن میں اُنہوں نے لکھا تھا کہ ’اب جب ہم نے پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا اور مچھلی کی طرح سمندر میں غوطہ خور ہونا سیکھ لیا ہے۔‘
نعمان اعجاز نے کہا تھا کہ ’اب صرف ایک چیز باقی ہے، وہ یہ ہے کہ ہمیں انسانوں کی طرح زمین پر رہنا سیکھنا ہے۔‘
اداکار کے ان دونوں معنی خیز پیغامات کو صارفین کی وجہ سے بے حد سراہا جاتا ہے-
پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ بشریٰ انصاری نے پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا-
باغی ٹی وی : بشریٰ انصاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پرلاہور موٹروے پر موجود پولیس اہلکاروں کے ساتھ ویڈیو شیئر کی ہے۔ جس میں وہ روڈ سیفٹی سے متعلق انتہائی اہم پیغام دیتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔
بشریٰ انصاری نے ویڈیو میں کہا کہ انہوں نے پہلی بار موٹر وے دیکھا ہے اور یہ بہت شرمندگی کی بات ہے کہ میں پاکستان میں رہتے ہوئے بھی کبھی موٹروے پر نہیں آئی۔
بشریٰ انصاری نے کہا آج میں موٹر وے پرآئی ہوں جہاں موجود پولیس اہلکاروں نے مجھے بہت محبت دی ہے۔
بشریٰ انصاری نے پولیس اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی بہت اچھی طرح کررہے ہیں اور میرے ذریعے یہ لوگوں کو روڈ سیفٹی کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔
اداکارہ بشریٰ انصاری نے روڈ سیفٹی سے متعلق انتہائی اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بنیادی چیز آپ کی جان بہت اہم ہے اور دوسروں کی جان بھی آپ کے لیے بہت اہم ہونی چاہئے لہذا سفر کرتے ہوئے ہمیشہ سیٹ بیلٹ لگائیں اور ہیڈ الائٹس زیادہ نہ جلائیں اس کے علاوہ اوورٹیک نہ کریں۔
اس ویڈیو کے ساتھ بشریٰ انصاری نے پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا اپنی پولیس کی عزت کریں اور ان کے ساتھ محبت اور تشکر کا اظہار کریں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ سجل علی کی جمائمہ گولڈ اسمتھ کی فلم سے ہالی وڈ میں انٹری پر ہمایوں سعید سمیت متعدد فنکاروں نے انہیں مبارکباد دی ہے۔
باغی ٹی وی : اداکارہ سجل علی وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’واٹس لو گوٹ ٹو ودھ اٹ‘‘ کے ذریعے ہالی وڈ میں انٹری دینے جارہی ہیں۔ دو روز قبل جمائمہ گولڈ اسمتھ نے خود اس خبر کی تصدیق کی تھی کہ سجل علی اور بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی ان کی فلم میں شامل ہیں۔
What a proud moment for Pakistan; many congratulations to you Sajal. Your tremendous hard work and passion has brought you here and will take you further insha Allah. May you continue to shine @Iamsajalalihttps://t.co/xUUJEzZUEt
یہ خبر منظر عام پر آتے ہی ماہرہ خان اور ہمایوں سعید سمیت متعدد فنکاروں کی جانب سے سجل علی کو مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمایوں سعید نے کہا یہ پاکستان کے لیے بہت ہی فخر کا لمحہ ہے۔ سجل تمہیں بہت مبارک ہو۔ تمہاری محنت اور لگن تمہیں یہاں تک لائی ہے اور انشااللہ اس سے بھی آگے لے جائے گی تم ہمیشہ ایسے ہی چمکتی رہو۔
ماہرہ خان نے سجل علی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا یہ بہت حیرت انگیز ہے مجھے تم پر فخر ہے۔
اداکارہ انوشے اشرف، زارانور عباس، علی رحمان خان، یاسر حسین، بلال اشرف، مرزا گوہر رشید سمیت متعدد فنکاروں نے انہیں مبارکباد دی۔ یاسر حسین نے کہا سجل تم بہت ہی بہترین اداکارہ ہو۔ یہی بات بہت جلد شبانہ جی بھی کہیں گی۔
جمائمہ گولڈ اسمتھ کی فلم ’واٹس لو گوٹ ٹو ودھ اٹ‘ کی دیگر کاسٹ میں بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی، ایما تھامپسن، للی جیمز اور شاہزاد لطیف شامل ہیں۔ جب کہ شیکھر کپور فلم کی ہدایات دیں گے۔ اس رومینٹک کامیڈی فلم کی کہانی خود جمائمہ گولڈ اسمتھ نے لکھی ہے اور فلم کی کہانی سے متعلق کہا جارہا ہے کہ یہ کہانی جمائمہ اور عمران خان کی زندگی سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔