Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • کراچی: شوہرنے بیوی کو دیگ میں ڈال کر کیوں پکایا؟ کہانی سامنے آ گئی،مقدمہ درج

    کراچی: شوہرنے بیوی کو دیگ میں ڈال کر کیوں پکایا؟ کہانی سامنے آ گئی،مقدمہ درج

    کراچی:کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 4 کے بنگلہ نمبر ای 2 میں قائم نجی اسکول کے کچن میں پڑی دیگ سے خاتون کی لاش برآمد ہوئی تھی-

    کچن میں پڑی دیگ سے خاتون کی لاش برآمد

    باغی ٹی وی: تاہم اب گلشن اقبال کے نجی اسکول میں اہلیہ کو قتل کرکے لاش دیگ میں ڈال کر چولہے پر پکانے کا مقدمہ انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقتولہ کے شوہر عاشق حسین کے خلاف درج کرلیا گیا ہے تاہم مقدمے میں اسکول کا تذکرہ نہیں۔

    ایس ایس پی ایسٹ عبدالرحیم شیرازی کے مطابق مقتولہ نرگس کے بھائی سید مشتاق حسین کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہےمدعی کے مطابق وہ خیبر پختونخوا کے ضلع قرم پاراچنار کے گاؤں بلندخیل کے رہائشی ہیں، ان کے والد سید اسحاق نے مدعی کی بہن نرگس کی شادی 22 سال قبل رضامندی سے ان کے پھوپھی زاد عاشق حسین سے کراچی میں کی تھی جن کے 6 بچے ہیں۔

    مدعی کے مطابق وہ گزشتہ روز کام پر موجود تھا کہ ان کےبھائی ناصر نےفون پر اطلاع دی کہ نرگس کو عاشق حسین نے قتل کر دیا ہے، وہ اپنی فیملی کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچا تو دیکھا کہ کچن کے ایک جانب چولہے پر دیگ میں میری بہن نیم برہنہ حالت میں مردہ پڑی تھی اور چولہا جل رہا تھا، ٹانگ اور جسم کے دیگر اعضاء بھی کچن میں پڑے تھے۔

    جامعہ کراچی خودکش دھماکہ کیس میں اہم پیش رفت

    مدعی نے کہا کہ اس کی بھانجی رابعہ نےبتایا کہ رات تقریباً 3 بجےان کے والد اور والدہ کا مکان کی تبدیلی کے سلسلے میں جھگڑا ہوا تھا جس پر والد نے والدہ کو قتل کردیا اور دیگر تین بچوں عارف، مہران اور آمنہ کو لے کر فرار ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد لاش اعضاء کی شکل میں لواحقین کے حوالے کر دی گئی جب کہ مقدمے کی تحقیقات شروع کرکے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

    قبل ازیں اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ افغان فیملی اسکول میں رہائش پذیر تھی۔ لاش اسے فیملی کی خاتون کی بتائی جاتی ہے شوہر اور تین بچے غائب ہیں پولیس شوہر کا نام سید عاشق حسین ولد سید علی حسین ہے مفرور ہو گیا ، دیگ سے لاش ملنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا –

    بہن کو بجلی کا کرنٹ لگا کرہلاک کردیا:آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد جاں بحق

  • رواں سال کا دوسرا ائیربس 320 طیارہ شارجہ سے پاکستان پہنچ گیا

    رواں سال کا دوسرا ائیربس 320 طیارہ شارجہ سے پاکستان پہنچ گیا

    پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں نئے طیاروں کی شمولیت کا عمل جاری –

    باغی ٹی وی : رواں سال کا دوسرا ائیربس 320 طیارہ شارجہ سے پاکستان پہنچ گیا ہے پہلا جہاز 29 اپریل کو پاکستان آیا تھا اور اب آپریشنل خدمات سرانجام دے رہا ہے

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے نے گزشتہ برس طیاروں کی حصول کا ٹینڈر کیا تھا جس میں سے دو طیارہ رواں سال پاکستان پہنچ گئے ہیں اور مزید دو طیارہ اگلے چند دنوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے-

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق ان طیاروں کے بیڑے میں شمولیت سے پی آئی اے میں ائیربس 320 ساختہ طیاروں کی تعداد 14 ہوجائے گی

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق یہ طیارہ نئی نشستوں، جدید اور آرام دہ کیبن سےلیس ہے جس کی وجہ سے سفری سہولیات اور پی آئی اے کے پروڈکٹ کا معیار بہتر ہوگا یہ طیارہ اندرون ملک، ریجنل اور گلف کے روٹس پر چلایا جائے گا-

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ طیارہ 6 سالہ ڈرائی لیز پر حاصل کیا گیا ہے جس کی مدت کے اختتام پر باہمی رضامندی کے ساتھ پی آئی اے اس طیارہ کو اپنی ملکیت میں لے سکتا ہے-

    دوسری جانب وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا نیا ہوائی جہاز جلد آ رہا ہے ڈرائی لیزکے تحت حاصل کئے جانیوالےائیرکرافٹس میں سے یہ دوسرا طیارہ ہے-

  • بائیڈن کا ایران کوجوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنےکاعندیہ

    بائیڈن کا ایران کوجوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنےکاعندیہ

    تل ابیب : امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ایران کوجوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری اورحصول سے روکنے کے لئے طاقت کا استعمال خارج از امکان نہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بڑے واضح انداز میں کہا ہے کہ وہ اب بھی پوری طرح کمٹمنٹ کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بحال ہو جانا چاہیے ایک چیز جو سب سے بری ہے وہ ایران کا جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ہو جانا ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے انقلابی گارڈز کو بدستور دہشتگردوں کی فہرست میں رکھا جائے گا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہد ہ ختم کرکے غلطی کی جس نے ایران کو مزید خطرناک بنا دیا۔ایران ماضی کے مقابلے میں اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بہت قریب ہے۔

    امریکی صدر نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں کیا امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کرے گا۔

    واضح رہےایران کادنیا چھ بڑی طاقتوں کےساتھ 2015 میں ممکن ہوا تھا تاہم صدرٹرمپ کی حکومت نے ایرانی معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا تھا اسرائیل نے اس معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کی پزیرائی کی تھی جبکہ جو بائیڈن نے امریکہ نے امریکی فیصلے کی مخالفت کی تھی جوبائیڈن کے نزدیک امریکہ کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران بلا روک ٹوک جوہری ہتھیاروں کے قریب چلا گیا ہے ۔

    دوسری جانب سرائیلی چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران ایک علاقائی اور عالمی خطرہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے سامنے جس میزائل نظام کو پیش کیا گیا وہ ایران اور اس کی کٹھ پتلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم عنصر ہے واشنگٹن کے ساتھ تل ابیب کا رشتہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک ریس کے مقابلہ میں ایک لازمی ستون ہے۔

    خیال رہے کہ صدر بائیڈن نے بدھ کے روز اسرائیل پہنچنے کے بعد دفاعی نمائش کا دورہ کیا جہاں انہیں ایئر ڈیفنس سسٹمز "آئرن ڈوم اور’لیزر سسٹم‘ کے بارے میں بریفنگ دی گئی بائیڈن نے اسرائیل کے دورے کا آغاز اسرائیل کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں کا معائنہ کرکے کیا۔

    اسرائیل نے اپنے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس شو کو تیار کیا کیونکہ اس نے ایک ملٹی کلاس سسٹم کی پیش کش کی تھی جو خلا میں لمبی رینج بیلسٹک میزائلوں سے لےکر مختصر رینج میزائلوں تک ہر چیز کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل سسٹم امریکا کی شراکت سے تیار کیا گیا تھا۔

    آئرن ڈوم سسٹم ایک میزائل دفاعی نظام ہے جو اب تک فعال ہے جب کہ "آئرن بیم” نامی ایک نیا لیزر سسٹم ابھی تک فعال نہیں ہوا ہے۔

    بائیڈن کو یروشلم جانے سے پہلے اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کی طرف سے بھی خفیہ سیکیورٹی فراہم کی گئی اسرائیلی وزیر اعظم یایر لپیڈ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ واشنگٹن اسرائیل کے لیے دنیا کا سب سے بڑا حلیف ہے۔

  • پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا 18 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا 18 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 18 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق لاہور کے پٹرول پمپس پر ہڑتال اور مطالبات کے حوالے سے بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کےجنرل سیکریٹری کےمطابق بجلی بھی مہنگی ہو گئی، لوڈشیڈنگ سے جنریٹرز کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جبکہ کم سے کم اجرت 25 ہزار ہوگئی ہے لہذا حکومت وعدے کے مطابق ڈیلرز کا کمیشن ڈیلرز کا کمیشن بڑھا کر 6 فیصد کرے-

    دوسری طرف چیئرمین آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی میر شمس شاہوانی کے مطابق کیماڑی آئل انسٹالیشن ایریاز میں بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کے سبب آئل ٹینکرز کی نقل وحرکت رک گئی ہے کیماڑی کے علاوہ کورنگی اور پورٹ قاسم کے آئل انسٹالیشن ایریاز میں بھی بارش کا پانی تاحال جمع ہے-

    6 ہزار کے لگ بھگ آئل ٹینکرز فلنگ کے منتظر ہیں، کیماڑی کے متاثرہ انسٹالیشن ایریا میں قائم21 آئل درآمد کرنیوالی کمپنیوں کے آئل ٹرمینلز کے سامنے بارش کا پانی موجود ہے، اتوار سے اب تک کسی بھی آئل ٹینکر کی فلنگ نہیں کی جا سکی جس کے سبب ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل رک گئی، ان حالات کے سبب ملک بھر میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، وفاقی و صوبائی حکومتیں پانی کی نکاسی کیلیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کریں۔

    واضح رہے کہ ایک بیان میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ کوشش ہے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہی کردیں یٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری تیار ہوگئی، وقت اور قیمت کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے تاہم کوشش ہے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہی کردیں۔

    انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر 5 اور 10 روپے کی جو لیوی لگائی وہ برقرار رہے گی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کی خبروں کی وجہ سے ڈیلروں نے خریداری کم کردی ہے سری لنکا میں حالات اس لیے خراب ہوئے کہ انہوں نے مشکل وقت پر مشکل فیصلے نہیں کیے، اب پاکستان ایک نارمل ملک کی طرح چل رہا ہے۔

  • عدالت نے اینٹی کرپشن کو حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا

    عدالت نے اینٹی کرپشن کو حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن کو زیر التوا انکوائریوں میں حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اینٹی کرپشن انکوائریز اور حراساں کرنے سے متعلق حلیم عادل شیخ کی درخواست کی سماعت کی، پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ رات کے اندھیرے میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں، کتنی انکوائریاں زیر التوا ہیں، سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ مجھے اینٹی کرپشن سے معلومات اکٹھی کرنے کی مہلت دیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیر التوا انکوائریز میں کارروائی سے روک دیتے ہیں سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ایسے تو حلیم عادل شیخ کو مکمل استثنیٰ حاصل ہو جائے گا-

    عدالت نے حلیم عادل کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کیخلاف کتنی انکوائریاں ہیں؟ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کیخلاف 2 انکوائریز زیر التوا ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ بتائیں، یہ انکوائریاں کب سے زیر التوا ہیں؟

    وکیل نے موقف دیا کہ یہ انکوائریاں 2019 سے زیر التوا ہیں-

    جس پر عدالت نے ریمارکس دیئےکہ 3 اگست تک حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی نہ کی جائےاور یہ فیصلہ صرف زیر التوا انکوائریز پر لاگو ہوگا جبکہ دیگر کیسز میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    عدالت نے 3 اگست تک اینٹی کریشن حکام دسےجواب طلب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ کیخلاف انکوائریز کی تفصیلات طلب کرلیں اور عدالت نے زیر التوا انکوائریز میں اینٹی کرپشن کو حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا۔

  • سپین اور یونان میں سال 2022  کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    سپین اور یونان میں سال 2022 کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    یونانی دارالحکومت ایتھنز کے ساحل پر سال 2022 کا سب سے بڑا ‘سپر مون’ آج طلوع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : چاند کو زمین سے بے حد قریب اورمعمول سے زیادہ روشن دیکھ کر سب حیران رہ گئے، حیران کردینے والے اس منظر میں چاند کو زمین سے قریب اور مختلف رنگ میں دیکھا گیا۔

    جولائی میں طلوع ہونے والے اس ‘سپر مون’ کو کسانوں کی زبان میں BUCK MOON بھی کہا جاتا ہے۔ اس سپر مون کو اسپین کے Canary Islands پر بھی دیکھا گیا ہے۔

    سپر مون اس وقت طلوع ہوتا ہے جب چاند زمین کے مدار سے بہت قریب آتا ہے جس کے باعث وہ عام چاند سے زیادہ روشن اور زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔

    سپر مون SuperMoon کیا ہے ؟؟

    چاند بیضوی مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتا ہے اس بیضوی مدار میں وہ کبھی زمین کے قریب آجاتا ہے اور کبھی بہت دور چلا جاتا ہے ۔ جب وہ زمین کے قریب ترین مقام پر آجاتا ہے تو اس کو حضیض قمر اور انگریزی میں Perigee کہتے ہیں اور جب وہ زمین سے بعید ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کو اوج مدار قمر اور انگریزی میں Apogee کہتے ہیں ۔

    اسی وجہ سے بعض دفعہ ہمیں چودھویں کا چاند کافی بڑا اور بعض دفعہ کافی چھوٹا دکھائی دیتا ہے ہر قمری ماہ میں یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں وجہ ظاہر ہے کہ ایک قمری ماہ میں چاند اپنے مدار میں زمین کے قریب بھی آجاتا ہے اور دور بھی چلاجاتا ہے اس بڑے چاند کو Super Moon یا بڑا چاند کہتے ہیں ۔

  • سری لنکا: یمرجنسی نفاذ کیخلاف مظاہرین کا پھر وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج

    سری لنکا: یمرجنسی نفاذ کیخلاف مظاہرین کا پھر وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج

    سری لنکا میں بدترین معاشی بحران کے بعد سری لنکن صدر کے ملک سے فرار ہونے اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف مظاہرین نے ایک بار پھر وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔

    باغی ٹی وی : دوران احتجاج مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین میں خوف پیدا کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی نچلی پروازیں بھی کی گئیں۔

    یاد رہے کہ سری لنکا کے صدر گوتابیا راجاپاکسے فوجی طیارے میں ملک سے فرار ہوگئے تھے جس کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

    سری لنکن صدرکومودی نے فرار ہونے میں‌ مدد دی:حالات بدستورکشیدہ

    راجا پاکسے استعفیٰ دیے بغیر فوجی طیارے میں مالدیپ فرار ہوگئے تھے جس کے بعد وزیراعظم وکرما سنگھے کو سری لنکا کا قائم مقام صدر مقرر کیا گیا۔

    دوسری جانب سری لنکا کے آرمی چیف نے عوام سے پُرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے آئین کے احترام کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سال سری لنکا ایک سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں مظاہروں کا طویل سلسلہ رہا ہے جو آخر میں حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپا ابے وردھنے نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے ذریعے نئے صدر کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ادھر سری لنکا میں صدر گوتابایا راجا پکشے کے ملک سے فرار ہونے کے بعد دارالحکومت کولمبو میں ایک بار پھر زبردست احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ گوٹابایا نے بدھ کو استعفیٰ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ استعفیٰ دیے بغیر ہی ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ مشتعل مظاہرین گوٹابایا کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ گوٹا بایا کے مقرر کردہ وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے گوٹا بایا کی جگہ قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں لیکن مظاہرین اس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

    جدہ میں قائم دنیا کا سب سے بڑا الحرمین ٹرین ٹرمینل

    ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم وکرما سنگھے کی نجی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا جسے 9 جولائی کو مظاہرین نے پہلے ہی نذر آتش کر دیا تھا۔ تاہم، وکرما سنگھےپہلے ہی پیشکش کر چکے ہیں کہ اگر آل پارٹی حکومت بنتی ہے تو وہ عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ لیکن مشتعل مظاہرین کوئی دلیل ماننے کو تیار نہیں۔

    مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین کی سیکورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن مظاہرین پر اس کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

    طوطوں کی سب سے بڑی کالونی دریافت

    گوٹابایا کی جانب سے راجا پکشے کے ملک سے فرار کے حوالے سے یہ خبریں تقویت پکڑرہی ہیں کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے سری لنکن صدر کوفرار کروانے میں مدد فراہم کی ہے ، دوسری طرف سری لنکن عوام کی طرف سے ان اطلاعات پرسخت ردعمل کے بعد بھارت نے اپنی جان چھڑانے کےلیے ایک تردیدی بیان دیا ہے کہ ہندوستان نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکشے کی سری لنکا سے حالیہ روانگی میں سہولت فراہم کی۔ بتادیں کہ ہندوستانی سفارت خانے نے کہا کہ وہ سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

    یوکرینی مسلمانوں کی نمازِعید کےاجتماعات میں روس کا قبضہ ختم ہونےکی دعائیں

    اس طرح کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کولمبو میں ہندوستانی سفارت خانے نے دو ٹویٹس کیں۔ ایک میں انہوں نے کہا کہ وہ سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا، ’’ہم عوام کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ جمہوری ذرائع اور اقدار، قائم کردہ جمہوری اداروں اور آئینی ڈھانچے کے ذریعے خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔

    گیارہ ذی الحج ایام تشریق کا آغاز ،ایام تشریق کیا ہیں؟

  • منی لانڈرنگ کیس: مونس الٰہی کے خلاف سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی

    منی لانڈرنگ کیس: مونس الٰہی کے خلاف سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی

    لاہور: مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے لیے مونس الہٰی بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے تاہم بینکنگ عدالت کے جج کے رخصت پر ہونے کے باعث کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی ہو گئی۔

    عدالتی عملے نے ڈیوٹی جج کی اجازت سے مونس الٰہی سمیت تمام ملزمان کی ضمانت میں 22 جولائی تک توسیع کر دی۔

    بعد ازاں لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے مونس الٰہی سے سوال کیا کہ کہا جارہا ہے آپ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی امیدواروں کی انتخابی مہم نہیں چلا رہے ؟ اس پرمونس الہی نے کہا کہ یہ بات پی ٹی آئی سے پوچھیں کہ ہم مہم چلارہے ہیں کہ نہیں، بالکل چلارہے ہیں 17جولائی کا الیکشن ہم جیتیں گے اور اس روز الیکشن ٹھیک ہوگا تو 22 کا الیکشن بھی ٹھیک ہوگا۔

    عدالت نے گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے کو مونس الٰہی کے خلاف تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ مونس الہٰی کی ضمانت میں بھی آج تک توسیع کی گئی تھی۔

    سماعت میں ایف آئی اے نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ ملزم کیس میں شامل تفتیش ہوگئے ہیں اور کیس کا 47 فیصد ریکارڈ آچکا ہے، ہم واؤچرزدیکھ رہے ہیں، تفتیش مکمل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

    ایف آئی اے کے بیان پر عدالت نے کہا تھا کہ عبوری ضمانت کو غیر معینہ مدت تک التوا میں نہیں رکھ سکتے، اگلی تاریخ تک تفتیش مکمل ہونی چاہیے، ملزمان کے وکیل تیاری کرکےآئیں۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اےذرائع کے مطابق مونس الٰہی پر 24 ارب روپےکی منی لانڈرنگ کا الزام ہے-

  • پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

    واشنگٹن: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت ساتویں اور آٹھویں جائزے کے معاملات طے پا گئے ہیں تاہم آئی ایم ایف بورڈ معاہدے کی حتمی منظوری دے گا۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام نے پاکستان کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے مشترکہ 7ویں اور 8ویں جائزے کو مکمل کرنے کے لیے پالیسیوں پر عملے کی سطح پر معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

    بلند بین الاقوامی قیمتیں، اور تاخیری پالیسی کارروائی نے مالی سال 22 میں پاکستان کی مالی اور بیرونی پوزیشن کو خراب کیا، شرح مبادلہ میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اور غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہوئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوری ترجیح مالی سال 23 کے لیے حال ہی میں منظور کیے گئے بجٹ کے مستقل نفاذ، مارکیٹ سے طے شدہ شرح مبادلہ کی مسلسل پابندی، اور ایک فعال اور محتاط مالیاتی پالیسی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کے لیے سماجی تحفظ کو بڑھانا، اور ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) اور گورننس کی کارکردگی کو بہتر بنانے سمیت ساختی اصلاحات کو تیز کرنا ضروری ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی مہنگائی اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، زائد طلب کے سبب معیشت اتنی تیز تر ہوئی کہ بیرونی ادائیگیوں میں بڑا خسارہ ہوا۔

    عالمی مالیاتی فنڈ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 1 ارب 17 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے تاہم پاکستان کو حالیہ بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا، صوبوں نے بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کیلیے یقین دہانی کرائی ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیمیں شرح سود سے منسلک رہیں گی۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق بورڈ کی منظوری سے مشروط، تقریباً 1,177 ملین ڈالر (SDR 894 ملین) دستیاب ہوں گے، جس سے پروگرام کے تحت کل ادائیگی تقریباً 4.2 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ مزید برآں، پروگرام کے نفاذ میں مدد کرنے اور مالی سال 23 میں اعلیٰ فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی فنانسنگ کو متحرک کرنے کے لیے-

    آئی ایم ایف بورڈ جون 2023 کے آخر تک EFF کی توسیع اور SDR 720 ملین تک رسائی میں اضافے پر غور کرے گا۔ EFF کے تحت کل رسائی کو تقریباً 7 بلین امریکی ڈالر تک لے آئیں۔

    پاکستان ایک مشکل معاشی موڑ پر ہے۔ ایک مشکل بیرونی ماحول جو کہ گھریلو پالیسیوں کے ساتھ مل کر گھریلو مانگ کو غیر پائیدار سطح تک پہنچاتا ہے۔ نتیجتاً معاشی حد سے زیادہ گرمی نے مالی سال 22 میں بڑے مالی اور بیرونی خسارے کو جنم دیا، افراط زر میں اضافہ ہوا، اور ریزرو بفرز کو ختم کیا۔

    "معیشت کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے مطابق پالیسی اقدامات لانے کے لیے، کمزوروں کی حفاظت کرتے ہوئے، پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہیں:

    مالی سال 2023 کے بجٹ کا مستقل نفاذ۔ بجٹ کا مقصد جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے بنیادی سرپلس کو ہدف بنا کر حکومت کی بڑی قرض لینے کی ضروریات کو کم کرنا ہے، جو کہ موجودہ اخراجات پر پابندی اور وسیع ریونیو کو متحرک کرنے کی کوششوں کے ذریعے خاص طور پر زیادہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کا تحفظ کیا جائے گا، اور سماجی معاونت کی اسکیموں کو وسعت دینے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جائے گی۔ صوبوں نے مالی اہداف تک پہنچنے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور اس سلسلے میں ہر صوبائی حکومت نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    پاور سیکٹر میں اصلاحات میں تیزی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے کمزور نفاذ کی وجہ سے، مالی سال 22 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے (CD) کا بہاؤ نمایاں طور پر بڑھ کر تقریباً 850 بلین پی آرز تک پہنچنے کی امید ہے، پروگرام کے اہداف کو اوور شوٹنگ، پاور سیکٹر کی عملداری کو خطرہ، اور بار بار بجلی کی بندش کا باعث بنتا ہے۔

    پاور سیکٹر کی صورتحال کو بہتر بنانے اور لوڈ شیڈنگ کو محدود کرنے کے لیے حکام اصلاحات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جن میں تنقیدی طور پر، بجلی کے نرخوں کی بروقت ایڈجسٹمنٹ بشمول تاخیر سے ہونے والی سالانہ ری بیسنگ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

    مہنگائی کو مزید معتدل سطح تک لے جانے کے لیے فعال مانیٹری پالیسی۔ جون میں ہیڈ لائن افراط زر 20 فیصد سے تجاوز کر گئی، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو نقصان پہنچا۔ اس سلسلے میں، مانیٹری پالیسی میں حالیہ اضافہ ضروری اور مناسب تھا، اور مانیٹری پالیسی کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہوگی کہ افراط زر کو 5-7 فیصد کے درمیانی مدتی مقصد تک مسلسل نیچے لایا جائے۔

    اہم بات یہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کی ترسیل کو بڑھانے کے لیے، دو بڑی ری فنانسنگ اسکیموں EFS اور LTFF (جن میں حالیہ مہینوں میں بالترتیب 700 bps اور 500 bps کا اضافہ کیا گیا ہے) کی شرحیں پالیسی کی شرح سے منسلک رہیں گی۔ زر مبادلہ کی شرح میں زیادہ لچکدار سرگرمی کو بڑھانے اور ذخائر کو مزید محتاط سطح تک دوبارہ بنانے میں مدد کرے گی۔

    غربت کو کم کرنا اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرنا۔ FY22 کے دوران، غیر مشروط کیش ٹرانسفر (UCT) کفالت سکیم تقریباً 80 لاکھ گھرانوں تک پہنچ گئی، وظیفہ میں مستقل اضافہ کے ساتھ PRs 14,000 فی خاندان، جب کہ PRs 2,000 (Sasta Fuel Sasta Diesel, SFSD) کی ایک بار کیش ٹرانسفر کے ساتھ۔ تقریباً 8.6 ملین خاندانوں کو دی گئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے۔ FY23 کے لیے، حکام نے BISP کے لیے 364 بلین PRs مختص کیے ہیں (FY22 میں PRs 250 سے زیادہ) تاکہ 9 ملین خاندانوں کو BISP حفاظتی جال میں لایا جا سکے، اور SFSD سکیم کو اضافی غیر BISP، نچلے متوسط ​​طبقے تک بڑھایا جا سکے۔

    فائدہ اٹھانے والے گورننس کو مضبوط کریں۔ گورننس کو بہتر بنانے اور بدعنوانی کو کم کرنے کے لیے، حکام ایک مضبوط الیکٹرانک اثاثہ جات کے اعلان کا نظام قائم کر رہے ہیں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں (بشمول قومی احتساب بیورو) کا ایک جامع جائزہ لینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی میں ان کی تاثیر کو بڑھایا جا سکے۔

    "مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے لیے SLA کو بنیاد بناتے ہوئے، بیان کردہ پالیسیوں کا مستقل نفاذ، پائیدار اور زیادہ جامع ترقی کے لیے حالات پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ اس کے باوجود حکام کو عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پروگرام کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ضروری اضافی اقدامات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    "آئی ایم ایف کی ٹیم مذاکرات کے دوران نتیجہ خیز بات چیت اور تعاون پر پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔”

    دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ ہوجانے کا اعلان کیا ہے-

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جلد مل جائیں گے جبکہ معاہدے میں مدد اور کوششوں پر وزیر اعظم، ساتھی وزرا، سیکرٹریز اور وزارت خزانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں پاکستان کو بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا جبکہ پاکستان کو طلب اور رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ بھی برقرار رکھنا ہو گا۔

  • قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    قازقستان کے ایک غار سے تقریباً 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات ملی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق،سائنسدانوں کوقازقستان کے علاقے بیدی بیک ضلع میں بورالدائی پہاڑ پر واقع توتیبولک غار میں 48 ہزار سال پہلے رہنے والے ایک شخص کے آثار ملے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر تعلیم اور ڈاکٹر آف ہسٹوریکل سائنسز زاکن تیماگن کا کہنا ہے کہ ہم قازقستان میں واقع اس غارکو جرمنی کی Tübingen یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ تلاش کررہے تھے ، جس میں اسپین، امریکا، رومانیہ اور قازقستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔

    زاکن تیماگن کا کہنا ہے کہ ہم کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں پچھلے سال غار کے اندر سے تاریخی آثار اور راکھ کے باقیات ملے تھے راکھ کی بنیاد پر لیبارٹری نے ثابت کیا کہ یہاں لوگ 48 ہزار سال پہلے رہتے تھے تاہم اور معلومات حاصل کرنے کیلئے ہم ابھی بھی مزید کھدائی کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق 2017 میں شروع ہونے والی کھدائی کے نتیجے میں محقیقن کو غار میں مختلف اشیاء، جیسے ریچھ، انسانی دانت اور ایک بنیادی پتھر ملا اس کے علاوہ ہزاروں سالوں سے زمین میں پڑی راکھ کی باقیات بھی شامل ہیں۔

    یہ علاقہ پچھلی صدی کے وسط میں دریافت ہوا تھا، لیکن کھدائی صرف 2017 میں شروع ہوئی۔ سائنسدانوں نے پہلے صرف ثقافتی تہوں میں کھدائی کی لیکن جلد ہی دیگر اوزاروں کے علاوہ پتھر کی پلیٹیں اور کھرچنے والے جیسے اہم نمونے بھی ملے۔ ان نتائج کو جانچ کے لیے جرمنی بھیجا گیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ 48 ہزار سال پرانے ہیں۔

    جرمن ماہر آثار قدیمہ نے غاروں کی اہمیت کو نوٹ کیا کیونکہ سائنس دان اس علاقے میں پائے جانے والے لوگوں اور جانوروں کی نامیاتی باقیات کو نمونے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ اس بات کی وضاحت کی جا سکے کہ وہاں انسانی نسلیں رہتی تھیں۔

    محققین کے مطابق توتیبولک قازقستان کا پہلا غار ہے جہاں اس قسم کے آثار ملے ۔ محقیقین ان کی عمر اور مخصوص دور کا تعین کرنے کے لیے تقریباً ایک سال تک نمونوں کا مزید مطالعہ کریں گے۔