Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • حرامانی نے ناقدین کو خبردار کر دیا

    حرامانی نے ناقدین کو خبردار کر دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی باصلاحیت اداکارہ حرا مانی نے باکسنگ گلووز پہن کر ناقدین کو خبردار کر دیا کہ ان سے پنگا لینے کی کوشش نہ کریں-

    باغی ٹی وی : اداکارہ حرا مانی نے بہت کم عرصے میں اپنی حیرت انگیز اداکاری صلاحیتوں کی بدولت شوبز میں اپنی ایک خاص پہچان اور جگہ بنائی ہے حرا مانی نہ صرف سکرین پر مقبول ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کو مداحوں کی ایک بڑی تعداد فالو کرتی ہے اس کی وجہ اداکارہ اپنے مداحوں کے ساتھ بھی رابطے میں رہتی ہیں اور روٹین لائف اور ماضی کی تصویریں شیئر کرتی رہتی ہیں اور شیئر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔

    اداکارہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک تصویر شئیر کی جا میں انہوں نے باکسنگ گلووز پہن رکھے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CGz2H2aH_4g/?igshid=l1c0mhxdgtla
    انسٹاگرام پر تصویر شئیر کرتے ہوئے انہوں نے ناقدین کو خبردار کررے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ مجھ سے پنگا نہ لینا، ورنہ ایک آئے گا زور کا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حرا مانی نے انسٹاگرام پر چند تصاویر شیئر کی تھیں جن میں وہ بچوں والے منہ بنائے بیٹھی ہیں اور ایسے منہ بنا کے بیٹھے ہوئے وہ انتہائی خوبصورت اور کیوٹ نظر آ رہی ہیں۔

    انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ ایسے منہ کیوں بنا ئے ہوئے ہیں اداکارہ نےکیپشن میں بتایا کہ جب اُنہیں سیٹ پر اپنے بیٹے ابراہیم کی یاد آتی ہے تو وہ ایسی حرکتیں کرتی ہیں۔

    اس سے قبل حرا مانی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ اپنی تصویروں سے متعلق مسئلہ شیئر کیا تھا جو کہ صرف اداکارہ کا ہی نہیں بلکہ ہر لڑکی کا ہے اداکارہ نے انسٹاگرام پر اپنی دو تصاویر شئیر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے 10 تصاویر لی تھیں جس میں سے بس یہی دو اچھی آئی ہیں-

    اداکارہ کے اس کیپشن پر عامر لیاقت کی بیوی سیدہ طوبیٰ عامر نے بھی کمنٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ ہماری زندگیوں کی کہانی ہے-

    واضح رہے کہ اداکارہ کا اصل نام حرا سلمان ہے، حرا مانی اور سلمان ثاقب شیخ 2008 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے ان کے دو بیٹے مزمل اور ابراہیم ہیں۔

    حرامانی کو تصاویر سے متعلق کیا مسائل درپیش ہیں؟

    حرا مانی کو سیٹ پر جب بیٹے کی یاد آتی ہے تو کیا کرتیں ہیں ؟

  • سسٹین ایبل فیشن ، دیسی فیشن کا نیا فینسی نام ہے   منشا پاشا

    سسٹین ایبل فیشن ، دیسی فیشن کا نیا فینسی نام ہے منشا پاشا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ منشا پاشا کا کہنا ہے کہ سسٹین ایبل فیشن صدیوں سے چلے آرہے ہیں اور اصل میں یہ دیسی فیشن کا ہی نیا فینسی نام ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ چند سال سے دنیا بھر میں ’سسٹین ایبل فیشن‘ کی اصطلاح کا زیادہ استعمال کیا جانے لگا ہے اور بڑے ادارے فیشن کی مصنوعات کو متعدد بار استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔

    اسی اصطلاح پر اداکارہ منشا پاشا نے بھی حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں مداحوں کو آسان الفاظ میں سمجھایا کہ دراصل ’سسٹین ایبل فیشن‘ کیا ہے اور اسے فینسی نام دے کر لوگوں کو کیا سمجھایا جا رہا ہے؟

    منشاپاشا نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ دراصل ’سسٹین ایبل فیشن‘ صدیوں سے چلے آ رہے ہیں اور یہ دیسی فیشن کا نیا فینسی نام ہے۔

    اداکارہ نے لکھا کہ آج کل ’سسٹین ایبل فیشن‘ اس لیے ٹرینڈ بنا ہوا ہے کیوںکہ اسے فینسی نام دیا گیا ہے لیکن درحقیقت یہ وہی ہمارا پرانا دیسی فیشن ہے۔


    منشا پاشا نے لکھا کہ برصغیر میں ہمشیہ والدین نے اپنی اولاد کو سکھایا ہے کہ چیزوں کو ضائع مت کریں اور کپڑوں کو الگ الگ تقریبات میں استعمال کریں۔

    اداکارہ نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ اور ان کی بہنیں ایک دوسرے کے کپڑے پہن کر بڑی ہوئی ہیں۔

    منشا پاشا نے انکشاف کیا کہ یہی کچھ ایک دیسی گھرانے کی حقیقی آواز دینے کے لئے مقبول ڈرامے ’زندگی گلزار ہے‘ کی شوٹنگ کے سیٹ پر کیا گیا تھا ڈرامے کے چبد سینز میں جب انہوں نے صنم سعید کے کپڑے پہنے اور صنم سعید نے ثنا سرفراز کے کپڑے پہنے۔

    انہوں نے ٹوئٹ کے آخر میں لکھا کہ ممختصر یہ کہ ، دیسی فیشن ہی پائیدار فیشن ہے۔

    اداکارہ کی ان ٹوئٹس پر صارفین نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ منشا پاشا سسٹین ایبلٹی کے وسیع موضوع کا احاطہ کرنے میں ناکام ہوگئیں۔


    انکتا نامی صارف نے لکھا کہ دیسی فیشن ہمیشہ پائیدار فیشن نہیں ہوتا۔ کپڑے کو شیئر کرنا ان پائیدار چیزوں میں سے ایک ہے جو آپ پائیدار الماری برقرار رکھنے کے لئے کرسکتے ہیں۔ کپڑا کس طرح بنایا جاتا ہے اور اسے کیسے رنگایا جاتا ہے یہ سب سے اہم ہے۔ دیسی فیشن پولیسٹر سے بنا ہے جوان سسٹین ایبل ہے-

    جس پر منشا پاشا نے اپنے گزشتہ روز کے ٹوئٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اخلاقی فیشن میں بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جس میں ورکرز کے حقوق، رنگے جانے والے کپڑے کے ماحولیاتی اثرات اور پانی کا استعمال بھی شامل ہوتے ہیں۔


    منشا پاشا نے کہا کہ انہوں نے دیسی گھرانوں میں پہلے سے موجود کپڑوں کو دوبارہ استعمال کرنے کے رجحان پر بات کی تھی جسے اب سسٹین ایبل فیشن کے طور پر آن لائن فروغ دیا جارہا ہے۔

    منشا پاشا کی اس ٹوئٹ کے رد عمل پر ٹوءٹر صارف نے کہا کہ ہماری مشہور شخصیات کو پائیدار فیشن کی بات کرتے ہوئے دیکھ کر بہت اچھا لگا یہ پائیدار ترقی اور کارپوریٹ پائیداری کی عالمی تحریک کا ایک حصہ ہے۔
    https://twitter.com/MasoodA69428359/status/1320722284055826434?s=20
    صارف نے کہا کہ پائیدار فیشن کے صحیح تصور کے بارے میں شعور پیدا کرنے کے لئے اکیڈمیا اور فیشن انڈسٹری کو مل کر کام کرنا چاہئے۔
    https://twitter.com/darya_farhad/status/1320707866702028802?s=20

    واضح رہے کہ ماحولیات کے تحفظ اور وسائل کو محفوظ بنانے کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے فیشن کی دنیا میں ’سسٹین ایبل فیشن‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بڑے ادارے فیشن کی مصنوعات کو متعدد بار استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔ مذکورہ اصطلاح کو استعمال کرنے کا مقصد فیشن انڈسٹری میں بننے والی مصنوعات کے بار بار استعمال کرنا ہے اور ساتھ ہی اس کا مقصد ایسی مصنوعات تیار کرنا ہے جو مختلف مواقع پر استعمال کی جا سکیں۔

    ’سسٹین ایبل فیشن‘ کی اصطلاح کا مقصد فیشن کی دنیا میں کپڑوں، جوتوں اور دیگر چیزوں کو متعدد بار استعمال کرکے وسائل کو محفوظ بنانا اور ماحولیات کا تحفظ ہے۔

    منشا پاشا کی سالگرہ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

  • راحت فتح علی خان ایک مرتبہ پھر ایف بی آر کے نشانے پر

    راحت فتح علی خان ایک مرتبہ پھر ایف بی آر کے نشانے پر

    لاہور: پاکستان میوزک انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ معروف گلوکار راحت فتح علی خان ایک مرتبہ پھر ایف بی آر کے نشانے پر آگئے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق فییڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے راحت فتح علی خان کی غیرملکی کنسرٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا سراغ لگانے کیلئے کارروائی شروع کردی یے-

    اس حوالے سے ایف بی آر نے گلوکار راحت فتح علی خان کے حوالے سے فیدرل انویسٹی گیشن ایجنسی( ایف آئی اے) کو خط لکھ دیا ہے۔

    ایف بی آر نے اپنے لکھے گئے خط میں ایف آئی اے سے راحت فتح علی خان کی گذشتہ چھ سالوں کی ٹریول ہسٹری مانگی ہے-

    علاوہ ازیں خط میں ایف آئی اے کو یکم جولائی 2014سے تاحال راحت فتح علی خان کے تمام غیرملکی دوروں کی تفصیل فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

    دوسری جانب گلو کار کی ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ ابھی تک ایف بی آر کا کوئی پیغام راحت فتح علی تک نہیں پہنچا ہے۔ خان کے منیجر محمد عامر نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا ،ہمیں ابھی تک ایف بی آر کی طرف سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ ہم فی الحال اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گلوکار اپنے ٹیکسوں کی ادائیگی کے سلسلے میں ایف بی آر کے ریڈار کے پر رہا ہے ٹیکس چوری کے معاملے میں سن 2017 میں گلوکار کے بینک اکاؤنٹس پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ اس وقت ، ایف بی آر کی جانب سے سن 2015 میں 3 ملین روپے سے زائد مالیت کے انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی کے سبب یہ کارروائی کی گئی تھی۔

    اس سے قبل سن2011 میں بھی گلوکار کو غیر ملکی دورے سے واپسی کے بعد لاہور ریجنل ٹیکس آفس طلب کیا گیا اور ایف بی آر کے ممبروں نے بتایا تھا کہ بورڈ کے بار بار مطلع کر نے کے باوجود انہوں نے پچھلے 5 سالوں سے اپنا ٹیکس ادا نہیں کیا ہے۔

    اس وقت راحت فتح علی خان نے پاکستانی ٹیکس قوانین اور طریقہ کار سے لاعلمی کی اپیل کی تھی اور اب سے وقت پر ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کا وعدہ کیا تھا۔

  • یاسرحسین  کو سوشل میڈیا صارف نے درندہ کیوں کہا ؟

    یاسرحسین کو سوشل میڈیا صارف نے درندہ کیوں کہا ؟

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور میزبان یاسر حیسن کو سوشل میڈیا صارف نے (beast) درندہ کہہ ڈالا-

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ اقراء عزیز نے کچھ تصویریں شیئر کی ہیں جن میں وہ یاسر حسین کے ساتھ کھڑی ہیں ان دونوں کی یہ تصاویر شمالی علاقہ جات کی سیر سپاٹوں کے دوران لی گئیں تھیں –
    https://www.instagram.com/p/CGzt_cQHQCz/?utm_source=ig_embed
    انسٹاگرام پر اداکارہ نے تصویر شئیر کرتے ہوئے اداکارہ لکھا کہ یہ تم ہو، یہ میں ہوں اور یہ ہم ہیں۔

    اداکارہ کی اس پوسٹ پر ان کے شوہر یاسر حسین نے شاعرانہ انداز میں کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سنا ہے اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں، سو ہم بہار پہ الزام دھار کے دیکھتے ہیں سنا ہر رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے، ستارے بام ِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں ۔

    یاسر حسین کے کمنٹ کا جواب دیتے ہوئے اہلیہ اقراء نے لکھا کہ سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھرتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں۔

    دوسری جانب اداکارہ کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے بھی دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں کیونکہ یاسر حسین اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے زیادہ پسند نہیں کیے جاتے اس لیے صارفین اکثر اُن کی پوسٹ پر ایسے ہی کمنٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں صارفین نے اقراء کو کوئین قرار دیا- جبکہ ایک صارف خاتون نے کمنٹ میں یاسر کو بیوٹی اینڈ دی بیسٹ کہہ ڈالا-


    جہاں لوگوں نے پوسٹ پر مزاحیہ اور تنقید بھرے تبصرے کئے وہیں کچھ سارفین نے دونوں کی جوڑی کو خوبصورت اور بہترین جوڑی قرار دیتے ہوئے جوڑی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا-

  • شیخ رشید کو گرفتار کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    شیخ رشید کو گرفتار کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    27 اکتوبر (آج بروز منگل) کو قفاقی ویز ریلوے شیخ رشید کو گرفتار کرنے کا ہیش ٹیگ پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹرینڈ کر رہا ہے اور ابھی سہ پہر تک اس ArrestSheikhRashid # ٹوئٹر پر دوسرے نمبر ہے اور اس کے حوالے سے 6 ہزار 60 ٹوئٹس میں تبصرے کئے جا چُکے ہیں-

    باغی ٹی وی : یہ ٹرینڈ اس وقت سامنے آیا جب دو روز قبل اتوار کو کوئٹہ کے بعد آج دوسرا دھماکہ پشاور میں ایک مدرسے میں ہوا اور لوگوں نے سیخ رشید کے اس بیان پر جو انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسوں کے حوالے سے دیا تھا کی وجہ سے شیخ رشید کو ان سانحوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ٹوئٹر کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے اس ٹرینڈ کے ذریعے وفاقی وزیر کی گرفتاری اور انویسٹی گیشن کا مطالبہ کر دیا-

    واضح رہے کہ شیخ رشید نے پی ڈی ایم کے جلسوں کے حوالے سے اپنے پغام میں کہا تھا کہ میں نے پی ڈی ایم کو کہا تھا کہ جلسے نہ کرو کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے ، کورونا پھیل سکتا ہے،دہشت گردی ہو سکتی ہے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو چُکے ہیں کوئٹہ پشاور میں کوئی واقعہ ہو سکتا ہے کوئٹہ اور پزاور کے لئے دعا گو ہوں- شیخ رشید کے اس بیان کے بعد سے ہیش ٹیگ شیخ رشید کو گرفتارکرو کا ٹرینڈ سامنے آیا اور لوگوں نے تبصروں میں اپنے مطالبات پیش کئے اور شیخ رشید کے اس بیان پر سوالات اُٹھائے-


    ایک ٹوئٹر صارف نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وزیر داخلہ کے بجائے وزیر ریلوے کیسے واقف تھے ؟؟؟
    https://twitter.com/Imran_0U/status/1321028678084661252?s=20
    امان اللہ نامی صارف نے لکھا کہ اس شخص کو گرفتار کریں وہ پشاور میں ہونے والے اس دھماکے کے پیچھے ماسٹر مین ہے-


    رمضان نامی صارف نے لکھا کہ اس کا مطلب ہے اس کے بارے میں پہلے ہی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی-


    ماجد نامی صارف نے لکھا کہ کچھ دن پہلے ، شیخ رشید ، جو وزیر اعظم عمران خان کا ایک خاص آدمی تھا دہشت گردوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور پشاور میں دھماکے ہوسکتے ہیں۔ آج بھی وہی ہوا ہے۔ ہم پشتونوں کی مذمت کرتے ہیں ۔


    https://twitter.com/arshadsherani/status/1321025228030545920?s=20
    ارشد سہرانی نامی صارف نے لکھا کہ شیخ رشید سب کچھ جانتے ہیں اور دھماکے کے بارے میں انھیں کس نے بتایا۔ وہ وزیر داخلہ تو نہیں ہیں بلکہ کچھ لوگوں کا ترجمان بھی ہے۔


    مبین نور علی نامی صارف نے متعلقہ حکام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چونکہ سب سے زیادہ دانشور آدمی ، شیخ رشید ، وزیر ریلوے جو ہر سیاسی معاملے میں دخل اندازی کرتا ہے ، کوئٹہ اور پشاور میں دھمکیوں کے بارے میں پہلے ہی جانتا تھا پھر متعلقہ حکام نے پہلے ہی متعلقہ اقدامات کیوں نہیں کیے؟


    اعجازالحق نامی صارف نے شیخ رشید کو ایک بڑا دہشت گرد قراردیا-


    ایک صارف نے لکھا کہ ٹھیک ہے. اگر آپ گرفتاری نہیں کرسکتے ہیں تو پھر اس سے اپنا منہ بند رکھنے کو کہیں۔اس منحوس بندے کو چپ کراؤ-


    ایم صابر محمود نامی صارف نے لکھا کہ امید ہے یہ ٹرینڈ آج رات کے ٹاک شوز میں ڈسکس ہوگا اور شیخ رشید سے دہشت گردی کی پیشگوئی بابت سوال ہونگے –


    سلیم سلیمانی صارف نے لکھا کہ اس پریس کانفرنس کو سامنے رکھتے ہوئے پشاور اور کوئٹہ دھماکوں کی ایف آئی آر شیخ رشید کے خلاف درج ہونی چاہیے اور انکو شامل تفتیش کرنا چاہیے۔


    ارم نامی صارف نے لکھا کہ ذمہ دار عمران نیازی اور اسکے لانے والے ہیں یاد کریں جب نیازی شیطان دھرنہ ختم کروانا چاہتا تھا تب بھی پشاور کے سکول میں دھماکہ کروا کر کتنے معصوم جانوں سے کھیلا گیا تھا اس وقت مُلک شیطانوں کے نرغے میں ہے جو اپنے گناہوں کا ذمہ دار دہشت گردوں کو قرار دے کر بری ہوجاتے ہیں۔
    https://twitter.com/MalikMahboobSul/status/1321027041182048256?s=20
    ملک محبوب نامی صارف نے لکھا مجھے إن دھماکوں کا کُھرا شیخ رشید تک کیوں لے کر جارہا ہے-
    https://twitter.com/Ladla74/status/1321028664885153793?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ پشاور دھماکہ یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کوئی بھی درد دل رکھنے والا شخص یہ نہی دیکھ سکتا جو بھی اس سانحے میں ملوث ہے ان سب کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے –


    میاں رمضان شفیق نامی صارف نے سیکیورٹی ایجنسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ پی ڈی ایم جلسے میں سکیورٹی رسک کی انفارمیشن سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس پہلے سے موجود تھی اور یہ جو پشاور میں ہوا ہے اُس وقت سکیورٹی ایجنسیاں کیا کر رہی تھی؟ اب عوام ہوش کے ناخن لے اصل دہشتگرد گروہ کون ہے مُلک میں وہ اب اپنے ذاتی مفادات کو بچانے کی خاطر ملک تباہ-


    ارشد سلیم خان نامی صارف نے لکھا کہ اللہ کے جانب سے وحی کا نظام تو 1300 سال پہلے ختم ہوگیا ہے-تب شیدا ٹلی کو کیسا پتہ چلا کہ دھماکہ ہوگا؟


    ایک صارف نے لکھا کہ پشاور اور کوئٹہ میں دھماکوں کی خبر تین دن پہلے شیخ رشید نے دی تھی یا تو دھماکے کرنے والے کو خبر ہوتی ہے یا کرانے والے کو اس لیے تحقیقات کا آغاز شیخ رشید سے کیا جائے-


    ایک صارف حمید اللہ نے لکھا کہ دیکھتے ہیں، کب جی آئی ٹی بنتی ہے؟ کب قومی قیادت سر جوڑ کر بھیٹتی ہے؟ اور کب نیشنل ایکشن پلان بنتا ہے؟ اور ہاں کب دہشت گردوں کے ترجمان شیخ رشید کو گرفتار کیا جاتاہے؟؟


    https://twitter.com/HasnaDasti/status/1321028095449681920?s=20

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگر آباد میں مدرسے سے ملحقہ مسجد میں دھماکے میں 7 افراد شہید اور 100 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈکلیئر اور ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں اس وقت ہوا جب تدریسی عمل جاری تھا، اسی دوران ایک شخص بیگ اٹھائے ہال میں داخل ہوا اور پھر کچھ لمحوں بعد زور دار دھماکا ہوگیا۔ مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، چھت سے پلستر اکھڑ گیا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا، شیشوں کی کرچیاں، طلبا کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں، ریسیو ٹیموں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا-

    خیال رہے کہ اس سے دو روز قبل اتوار کو کوئٹہ میں بھی دھماکہ ہوا تھا جس مین کافی جانی مالی نقصان ہو اتھا-

    پشاور میں دھماکا، مدرسے کے 5 طلبا جاں بحق، 50 زخمی

    مشکوک شخص مدرسے میں آیا اور یہ چیز چھوڑ کر گیا جس کے بعد دھماکہ ہوا، پولیس

    پشاورمدرسے میں دھماکے کے بعد کے مناظر کی ویڈیو

    مدرسے میں کلاس جاری تھی،مہتمم پڑھا رہے تھے، اچانک دھماکہ ہو گیا، کلاس کی ویڈیو وائرل

    ریسکیو 1122 نے کتنے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا؟ زخمیوں کو خون کاعطیہ دینے کی اپیل

    مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مریم نواز

    یوم سیاہ کشمیر کے باعث دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے

    پشاور دھماکہ، وزیراعظم کا سخت رد عمل سامنے آ گیا،بڑا اعلان

    پشاور دھماکہ، آصف زرداری بھی خاموش نہ رہ سکے، تنقید کے ساتھ مطالبہ بھی کر دیا

    پشاور دھماکہ، زخمیوں میں اضافہ،ہدف کون تھا؟ مدرسہ مہتمم نے کا بیان آ گیا

    مدرسہ دھماکہ،سانحہ اے پی ایس کے دکھ تازہ ہو گئے، نواز شریف

    وفاقی کابینہ اجلاس، پشاور مدرسہ حملے بارے کیا ہوئی بات؟

    پشاور دھماکہ،دیر باجوڑ میں کچھ لوگ پکڑے گئے ہیں،آئی جی کا انکشاف

    پشاور مدرسہ دھماکہ،اموات اورزخمیوں میں اضافہ

     

  • نبیﷺ محترم ہمارے   بقلم:جویریہ بتول

    نبیﷺ محترم ہمارے بقلم:جویریہ بتول

    نبیﷺ محترم ہمارے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمیں جاں سے بھی پیارے…
    ہیں نبیﷺ محترم ہمارے…
    یہ جو مال و منال سارے…
    اور خواہشات و خیال سارے…
    سب اُن پہ فدا ہوں گے…
    اب عہد یہ وفا ہوں گے…
    کھولیں گے جو زبانیں اپنی…
    لہرائیں گی یہ بانہیں آہنی…
    ہم تن من یہ واریں گے…
    سرِ عام یہ پکاریں گے…
    فداک ابی و امی و جسدی…
    پیارے نبی اے پیارے نبیﷺ…
    قدرت کا کوڑا برسے گا اِن پر…
    ہو جائے سر یہ بوجھل تن پر…
    نہ کم روشنی مہ کی ہو گی…
    نہ دمک رستوں کی کھو گی…
    یہ نامِ ارفع رفعت پہ رہے گا…
    ہر اک شاتم خود ہی کہے گا…
    میں ذلیل تھا، بے دلیل تھا…
    یہ نامِ محمد کتنا جمیل تھا…!!!
    وہ جو اپنے اور پرائے کے…
    سب بے سہارا و سرائے کے…
    جو عارفوں اور منکروں کے…
    سب دوستوں اور دشمنوں کے…
    یکساں ہی محافظ و رہبر ہیں…
    وہ بہاروں کے ہی پیام بر ہیں…!!!
    (ﷺ،ﷺ،ﷺ،ﷺ ،ﷺ)۔

  • یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم   بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمارے لیئے تو کافی ہے بس بات آپ کی…
    ہماری چاہتوں کا مدعا ہے ذات آپ کی…
    ہمارے سفر کی ہر روشنی آپ کے نام سے ہے…
    ہماری فلاح تو آپ کے لائے نظام سے ہے…
    ہمارے شکستہ دلوں کا سکوں آپ کے ذکر میں ہے…
    ہمارا جینا اُمَّت میں آپ کی،ہمارے فخر میں ہے…
    آرامِ جاں ہمارا اس نام کی بدولت ہے…
    کرےجو توہین اس کی سدا اس سے عداوت ہے…
    دشمن آپ کا ہر دور میں بے نام ہی رہے گا…
    ذلتوں سے دوچار وہ ہر گام ہی رہے گا…
    یہ نام تو روشنی ہے،اسے روکو گے کہاں تک؟
    کرے گی پیچھا تمہارا تم پہنچو گے جہاں تک…
    رب کی پکڑ کا کوڑا برسے گا ہر گستاخ پر…
    یہ وعدۂ ربی ہے، ہو گا پورا ہر نفاق پر…
    تمہاری سیاہ کاریوں سے پردہ اُٹھتا ہی رہے گا…
    یہ نامِ محمد تا قیامت اُبھرتا ہی رہے گا…!!!!

  • توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری  تحریر:جویریہ بتول

    توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری تحریر:جویریہ بتول

    توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    27 اکتوبر 2020.
    نائن الیون کے بعد جس فتنے نے سر اُٹھایا…وہ توہینِ قرآن اور توہینِ رسالتﷺ ہے…

    افغانستان کی سر زمین پر شکست سے دوچار ہونے کے بعد جس چیز کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اور اشتعال دلانے کی جو مذموم کوششیں کی گئیں وہ توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت پر مبنی تھیں…

    یورپی میڈیا میں بارہا ان مذموم سرگرمیوں کو آزمایا گیا،مقابلے کروائے گئے اور باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیک وقت بھی اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا گیا…

    فرانس میں بھی کبھی مسلمان خواتین سکارف اوڑھنے کے جرم میں اذیت و جرمانے کے عمل سے گزرتی ہیں تو کبھی آزادئ اظہار کی آڑ میں گستاخانہ خاکے چھاپ کر مسلم امہ کو چیلنج کیا جاتا ہے…

    2011،2006 اور 2013ء میں بھی فرانسیسی جریدے نے یہ مذموم فعل سر انجام دیا اور بطورِ سرِ ورق شائع کیا گیا…
    اُس وقت بھی ایسے تنگ نظر اور فتنہ پردازوں کی سرپرستی فرانس کی حکومت کر رہی تھی…
    اور تب بھی یہ تاثر دیا گیا کہ یہ اقدام اسلام کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندی کے خلاف ہے…
    تو سوال یہ ہے کہ کیا اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے جسے معتدل اور جس امت کو امت وسط کہا گیا ہے…؟
    جو مسلمان اخلاق و اطوار کے اعتبار سے آج بھی دنیا کی بہترین قوم ہیں…
    اور کیا یہ مذموم افعال امن پسندی کا پیام ہیں…؟؟؟

    آسمانی مذاہب پر یقین رکھنے والوں کے لیئے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے اور انہیں جو اسلامو فوبیا کا مرض لاحق ہو چکا ہے یہ دنیا کے امن کے لیئے ہر گز موزوں نہیں ہے…

    ہر اسلام کش اقدام کو آزادئ اظہار کا نام دینا یورپ و مغرب کی فطرت میں رچ بس گیا ہے اور اس چیز نے دنیا کو تقسیم کیا ہے…
    اب حالیہ اقدامات جن میں فرانس کےصدر میکرون کی جانب سے باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں یہ رذیل ترین قدم اُٹھا کر دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے…

    ماضی میں فرانس کے جس جریدے نے یہ قدم اُٹھایا تھا اسی صحافی نے جب ایک بار فرانس کے صدر کو مذاق کا نشانہ بنایا تو کئی ماہ تک اسے بندش کا سامنا کرنا پڑا…

    یعنی فرانس کے صدر کی توہین قابلِ سزا جرم ہے لیکن مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین آزادئ اظہار رائے ہے…؟؟؟
    تو سوال یہ ہے کہ کیا مسلم امہ کی جانب سے صرف مذمتی بیانات اور ریلیاں نکال لینے سے یہ سلسلہ رک جائے گا…؟
    صرف ان اقدامات سے ناموسِ رسالت کا تحفظ ہم سے ممکن ہو پائے گا…؟

    اسلامی ممالک کے سربراہان پر یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ سخت معاشی بائیکاٹ کے علاوہ توہینِ رسالت پر سخت سے سخت سزا کا عالمی سطح پر قانون منظور کروائیں…

    تمام اختلافات بھلا کر مذہبی،سیاسی،سفارتی اور عملی اقدامات کے حوالے سے ایک ہو جائیں…
    سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے گروپس میں منقسم ہونے کی بجائے ایک آواز ہو کر دنیا تک اپنا واضح پیغام پہنچائیں…
    علمائے امت اس سازش کو فتنہ ڈکلیئر کریں اور دنیا پر اس حوالے سے اپنا مؤقف صاف بیان اور واضح کر دیں…

    ورنہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اگر صرف بیانات سے کام چلتا تو یہ سلسلہ تھم چکا ہوتا اور آئے روز نت نئے فساد سر نہ اُٹھاتے،اور مسلم آبادیاں راکھ کا ڈھیر نہ بنتیں…!!!

    مشرق اور مغرب کے درمیان آج بھی ادب و اخلاق میں جو واضح تفاوت ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے…
    ایسی آزادی پر عالمی قدغن لگنی چاہیئے جو نفرت،اور مجرمانہ ذہنیت سے جنم لیتی ہے اور دنیائے امن کے لیئے سنگین خطرہ بن جاتی ہے…!!!

    کوئی بھی شخصیت چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی اسے چاہنے والوں کی تعداد سینکڑوں،ہزاروں اور لاکھوں،کروڑوں تک بھی پہنچ سکتی ہے لیکن اس پہ جان نچھاور کرنے والوں کی تعداد چند ایک سے بڑھ نہیں سکے گی…

    نبیﷺ وہ واحد شخصیت ہیں جن سے اربوں لوگوں کی عقیدت یہ ہے کہ وہ اس نامِ نامی پر اپنی جانیں بھی نچھار کر دینا اعزاز اور ایمان کی تکمیل سمجھتے ہیں…

    گبن کے الفاظ میں:
    عیسائی اگر اس بات کو سمجھیں تو اچھا ہے کہ محمدﷺ کے پیروکاروں نے جو قربانیاں دی ہیں انہیں عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں میں ڈھونڈنا مشکل ہے…!!!

    آغازِ سفر سے ہی اس کارواں کا ہر مسافر میرِ کارواں پر جان نچھاور کرنے کے لیئے تیار رہا ہے…
    ابو لہب، ابو جہل،امیہ بن خلف اور ابو رافع کے جانشین تاریخ کے کسی دور میں بھی ان اوچھی حرکات سے باز نہیں آئے اور پھر ان کا انجام بھی تاریخ ہی لکھا کرتی ہے…

    رب اپنے محبوب پیغمبرﷺ کی توہین کرنے والوں کا بدلہ اپنے نادیدہ لشکروں سے لینے پر بھی قادر ہے…
    مگر ہمیں سوچنا یہ ہے کہ من حیث امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا کردار کیا تھا،کیا ہے اور کیا ہو گا…؟؟؟
    یہ منصب،روٹی اور مال و منال سب یہاں ثانویت اختیار کر جانے چاہیئیں…!!!

    مؤرخ عشروں سے انگشت بدنداں یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ ہم نے اب تک اس سلسلہ میں کیا حاصل کیا اور دنیا کو حقائق کا قائل کروانے میں کتنے کامیاب رہے…؟؟؟
    کہ محمدﷺ ہیں متاعِ عالم ایجاد سے پیارے…!!!!!
    ===============================

  • عائزہ خان ٹام کروز کی دیوانی

    عائزہ خان ٹام کروز کی دیوانی

    ڈرامہ سیریل پیارے افضل سے شہرت حاصل کرنے والی پاکستان کی با صلاحیت اداکارہ عائزہ خان ہالی وڈ کے مقبول ترین اداکار ٹام کروز کی دیوانی ہو گئیں ۔

    باغی ٹی وی : باصلاحیت اور خوبرو اداکارہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر ٹام کروز اور اپنی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کی اور ساتھ ’لال دل والی ایموجی‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
    https://www.instagram.com/p/CGxTm6WhKOa/?igshid=1t8rcaq4swj18
    عائزہ خان کا شمار پاکستان کی بہترین اداکاراؤں میں کیا جاتا ہے 2009 میں انہوں نے 18 سال کی عمر میں اپنے پہلے ڈرامے تم جو ملے میں کام کیا تھا اس کے بعد وہ عکس، پیارے افضل، میرا سائیں 2، تم کون پیا، بکھرا میرا نصیب، میرے پاس تم ہو،محبت تم سے نفرت اور تھوڑا سا حق جیسے کامیاب ڈراموں میں کام کرچکی ہیں۔

    عائزہ خان کی اداکار دانش تیمور سے 2014 میں شادی ہوئی تھی جوڑی کے دو بچے ہیں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش 2015 میں ہوئی تھی جبکہ 2017 میں بیٹا پیدا ہوا۔

    دوسری جانب ہالی ووڈ اسٹار ٹام کروز اپنے خطرناک اسٹنٹس کے باعث جانے جاتے ہیں جکئی بات تو وہ اتنے خطرناک اسٹنٹ کرتے ہیں کہ لوگ وہ اسٹنٹ دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتے ہیں-

  • علی ظفر کو نمل نالج سٹی کا ایمبیسڈر مقرر کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کا رد عمل

    علی ظفر کو نمل نالج سٹی کا ایمبیسڈر مقرر کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کا رد عمل

    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے نامور گلوکار و اداکار علی ظفر کو ملک کے پہلے نمل نالج سٹی کا ایمبیسڈر مقرر کردیا-

    باغی ٹی وی : گذشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی گئی ٹوئٹ میں گلوکار علی ظفر نے بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستان کے پہلے اور سب سے بڑے نالج سٹی ’نمل نالج سٹی‘ کا ایمبیسڈر مقرر کیا جانا ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

    علی ظفر نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا تھا کہ کسی ملک اور معاشرے کی ترقی میں علم کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

    علاوہ انسٹا گرام پوسٹ میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر کنول امین اور پروفیسر محمد ظفر اللہ کا بیٹا ہونے کے باعث میرے لیے یہ اعزاز انتہائی اطمینان بخش اور پرجوش ہے جنہوں نے بطور ماہر تعلیم اپنی زندگی کو حصول علم اور اسے پھیلانے کے لیے وقف کیا اور ہمیں بھی اسی راہ پر چلنے پر زوردیا۔

    علی ظفر نے کہا تھا کہ اللہ نے مجھے موقع دیا ہے کہ میں بطور ایمبیسڈر اپنی نوعیت کے پہلے نالج سٹی ’نمل’ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کروں۔

    گلوکار نے مزید لکھا تھا کہ بنجر زمین میں بنایا ہوا ایک ایسا شہر جس کا تصور وزیر اعظم عمران خان نے کیا ہے۔

    خیال رہے کہ نمل نالج سٹی کا ایمبیسڈر مقرر کیا جانا علی ظفر کے لیے رواں برس کا دوسرا بڑا اعزاز ہے، اس سے قبل اگست میں صدر مملکت کی جانب سے سول ایوارڈز کا اعلان کیا گیا تھا جن میں علی ظفر کا نام بھی شامل تھا۔

    علی ظفر کے اس نمل نالج سٹی کے سفیر مقرر کرنے کے بعد سے علی ظفر پاکستان ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں صارفین علی ظفر کے سفیر بننے پر تبصروں میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں-


    ایمن نامی خاتون نے علی ظفر کے نمل نالج سٹی کے سفیر مقرر ہونے پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آپ کا استقبال ہے جہاں عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات عاطف میاں یونیورسٹی طلباء سے خطاب نہیں کرسکتے ہیں اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے علی ظفر کو جن کے نام کی کوئی سند نہیں ہے اس یونیورسٹی میں تعلیمی سفیر مقرر کیا جاتا ہے جس کی بانی چیئر موجودہ وزیر اعظم ہیں۔


    ایمان نامی خاتون نے تنقیدی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت کی طرف سے علی ظفر کا تازہ ترین انعام ، آئیے واضح کریں: اس سے بھی اس بارے میں کوئی غرض نہیں کہ اس مرحلے پر علی ظفر بے قصور ہے یا قصوروار ہے۔ ملک کے وزیر اعظم کا یہ واضح اشارہ ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہئے۔


    ایمان نامی خاتون نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ علی ظفر کی "بدنامی” جاری ہے کیوں کہ حکومت اسے مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا بدلہ دیتی ہے۔وزیر اعظم کا قابل تحسین اقدام۔ پی ٹی آئی اور عمران خان نے متاثرین کی قیمت پر علی ظفر کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ مہذب یا مہذب حکومتوں کا طرز عمل ایسا نہیں ہے۔


    اس کے برعکس ایک خاتون صارف نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ آہ ہاں عالمی شہرت یافتہ علی ظفر جو بنیادی طور پر اپنے فکری اور علمی حصولیات کے لئے مشہور ہیں-
    https://twitter.com/TrimiziiiSyeda/status/1320643725454938114?s=20
    سیدہ ترمذی نامی ایک صارف نے لکھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گلوکار / اداکار علی ظفر کو نمل نالج سٹی کا سفیر مقرر کیا واقعی وقت بہترین بدلہ ہے-
    https://twitter.com/SilkLodhi/status/1320655790156505088?s=20
    ایک صارف نے سوالیہ انداز مین ٹوئٹ کیا کہ عمران خان نے گلوکار اور اداکار علی ظفر کو نمل نالج سٹی کا سفیر مقرر کیا ہےکس بنیاد پر؟ اہلیت؟ تعلیمی پیشوں میں مہارت؟


    ایک صارف نے عمران خان کو تیگ کرتے ہوئے لکھا کہ علی ظفر کی بجائے شہزاد رائے نمل نالج سٹی کے سفیر کے لئے بیترین انتخاب تھا-

    خیال رہے کہ 2 روز قبل 24 اکتوبر کو وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں نمل نالج سٹی فیز ون کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

    تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے سستے اور معیاری اعلیٰ تعلیمی مواقع فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اچھی تعلیم ہی تحمل مزاج اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔

    وزیراعظم آفس سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا اس نالج سٹی کا وژن دور دراز علاقوں کی پسماندہ آبادی کے لیے وزیراعظم نے پیش کیا تھا۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دی گئی تھی کہ نالج سٹی کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد پسماندہ علاقوں کے 10 ہزار سے زائد طلبہ اس مستفید ہوں گے۔

    وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ منصوبہ ماحول دوست اور گرین اسٹرکچر کا جدید نمونہ ہوگا سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے لاکھوں روپے کے عطیات دینے والے افراد کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے اس نالج سٹی کو بین الاقوامی شہرت کا حامل ادارے میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔

    اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پربتایا گیا تھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے نالج سٹی کا تصور میں نے 2005 میں کیا تھا اور آج اس کا پہلا قدم حقیقت بن گیا ہے۔

    علی ظفر نمل نالج سٹی کے سفیر مقرر