Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • یہ کون لوگ ہیں؟   ازقلم: شاہین

    یہ کون لوگ ہیں؟ ازقلم: شاہین

    بچے تو بچے ہوتے ہیں
    بہت معصوم سے پھول
    اور
    طالب علم بھی سب طالب علم ہوتے ہیں
    علم کی چاہ میں چلنے والے مسافر
    ایک ہی ملک
    ایک ہی شہر
    ایک ہی مذہب
    کے
    دو ادارے
    ایک مدرسہ
    ایک سکول
    دونوں سانحات کا منبع بھی ایک ہی

    لیکن!!!

    یہ کوووووون لوووووگ ہیں
    جو
    ان سانحات کو بھی اپنے مقاصد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں
    جو مدرسے اور سکول کے طالب علموں میں تفرقہ پھیلا کر میرے وطن کو ایک گہری سازش کی نذر کرنے میں ممد و معاون ثابت ہورہے ہیں
    دشمن تب بھی وہی تھا
    دشمن آج بھی وہی ہے
    وار تب بھی وہی تھا
    وار آج بھی وہی ہے

    خدارا!!!!!
    اس وطن عزیز کو ایک اور اندھی فرقہ واریت/خانہ جنگی جیسی خونی صورتحال میں نا دھکیلیں۔
    سوشل میڈیا کے دانشورو
    خدارا تمہاری دانشوری کو اور میدان بہت ہیں
    میرا وطن لہو لہو ہے
    ان گنت قربانیوں کے بعد دہشت گردانہ حملوں سے پاک ہوا تھا اب خدارا ایک اور جنگ نا کھڑی کرو

    خدارا
    تمہاری قرآن سے محبت اپنی جگہ
    مدارس میرا بھی عشق وجنون ہیں
    لیکن
    ہوش کے ناخن لو
    جذباتیت اور اندھی تقلید
    یا ریٹنگ کے چکر میں اس کلمے والی دھرتی کو تباہ نا کرو
    حکمرانوں سے تمہارے اختلافات اپنی جگہ
    محکموں سے شکایات اپنی جگہ
    لیکن ہوچھو ان ماؤں سے جن کے جوان اس سوہنی دھرتی کو بچانے میں شہید ہوئے
    پوچھو
    اس آزادی کی قدر
    اس دھرتی کی قیمت
    مقبوضہ کشمیر کی ماؤں بہنوں بیٹیوں بوڑھوں جوانوں سے جو اس دھرتی کی محبت میں جو اس سرزمین کی آرزو میں جو اس سبز ہلالی اور کلمے کے نام پہ حاصل ہونے والے ٹکڑے کی خاطر کٹے چلے جارہے ہیں
    پوچھو ان سے جنہوں نے خاندان کٹوا کر یہ دھرتی حاصل کی
    پوچھو ان معصوم بچوں سے جو اپنے بابا کی وردی پہ فخر کرتے ہیں اور صرف وہ وردی ہی ان کی امید ہے ان کا یقین ہے کہ ان کے بابا اس پاک دھرتی کی بقاء کی خاطر شہید ہوئے ہیں
    پوچھو اس ماں سے جس کا جوان اکلوتا بیٹا اس کا آخری سہارا اس وطن پہ قربان ہوا
    کوئی میجر جرنل کرنل نائیک حوالدار سپاہی سب کے سب
    دو چار کی غداری کی سزا اس وطن کو نا دو خدارا
    تم اپنے گریبان میں جھانکو تم بھی مکمل نہی ہو
    کتنی کوتاہیاں تمہارے اندر ہیں
    سمجھو
    خدارا سمجھو!!!!!
    جاؤ پڑھو تاریخ
    سمجھو دشمن کی چال
    کہ کیسے ہنستا ہے وہ تم پہ کہ گھر بھی اپنا جلاتے ہیں
    تمہاری جذباتیت کو آگ لگا کر تمہارا نشیمن بھی تمہارے ہاتھوں تباہ کرتے ہیں اس گلشن کی جڑوں کو کھوکھلا بھی تم سے کرواتے ہیں

    ارے او نام نہاد دانشوروں
    اپنی دانشوری کسی اور موقعے کے لئے اٹھا رکھو
    اپنے گھر کی ساس بہو کی لڑائیوں پہ اس دانشوری کو جھاڑ لو
    میرے وطن کو اپنی اس دانشوری سے معاف ہی رکھو
    خدا تمہارا بھلا کرے!!!!!
    @درد_ملت
    شاہین؂ کے قلم سے

  • ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت   از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ۔۔۔۔۔۔ بے مثال اسلامی مملكت

    از قلم عظمی ناصر ہاشمی

    وادی بطحا کے پہاڑوں سے آواز بلند ہو رہی تھی…………
    عرب کے لوگو!
    ” یہ رہا تمہارا نصیب جس کا تم انتظار کر رہے تھے”
    ۔اہل علاقہ کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ لوگ اپنے ہتھیار سجاکر اپنے محبوب کے استقبال کے لیے یثرب کے ٹیلوں کی جانب دوڑ پڑے ۔یہ ایک تاریخی دن تھا ۔جس کی مثال سرزمین مدینہ میں کبھی نہ ملی تھی-

    ۔گلی کوچے تقدیس و تحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے۔

    چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں خوشی اور مسرت کے نغمے گا رہی تھیں۔

    اشرق البدر علینا من ثنیہ الوداع

    ثنیہ کی پہاڑیوں کی جانب سے ہم پر چودھویں کا چاند ظاہر ہوا

    وجب الشکر علینا ما دعا للہ داعی

    کیا عمدہ دین اور تعلیم ہے جس کی وجہ سے ہم پر اللہ کا شکر لازم ہے

    ایھا المبعوث فینا۔۔۔۔۔جئت بالامرالمطاع

    تیرے حکم کی اطاعت ہم پر فرض ہے ۔اے! ہم میں بھیجے جانے والے ۔

    جی ہاں !
    یہ پرجوش اور پرتکلف استقبال محمد عربی، والی بطحا ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہو رہا تھا ۔آپ کا مکہ سے مدینہ أنا ‘ ان مع العسر یسرا ” کی تفسیر ثابت ہوا تھا ۔
    ایسا پروٹوکول کبھی کسی بڑے سے بڑے سیاستدان کو بھی نہیں ملا جو آپ کے نصیب میں رکھ دیا گیا ۔اس شہر میں آ جانے سے ان تمام زخموں پر مرہم لگ گیا جو کفار مکہ کے ہاتھوں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو لگائے گئے تھے ۔یہاں آکر مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا
    "ابن قیم "کے مدینہ پہنچنے کے خوبصورت منظر کو یوں بیان کرتے ہیں۔
    ” بنی عمرو بن عوف قبیلہ ساکنان قبا میں شور بلند ہوا زوردار تکبیر کی آواز سنی گئی مسلمان آپ کی آمد کی خوشی میں نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے استقبال کے لیے نکل کھڑے ہوئے پھر آپ سے مل کر تحیہ نبوت پیش کیا ۔اور آپ کے اردگرد پروانوں کی طرح کھڑے ہو گئے اس وقت آپ پر سکینت نازل ہوئی اور یہ وحی اتری ۔
    فان اللہ ھو مولاہ وجبریل و صالح المومنین والملئکہ بعد ذلک ظہیرا۔
    پس اللہ آپ کا کارساز ہے اور جبرائیل علیہ السلام اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی آپ کے مددگار ہیں۔”

    مکہ سے مدینہ ہجرت کا دشوار گزار سفر محض ایک تفریحی سفر نہ تھا بلکہ اس سفر نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ اور عرب کی سیاسی و تاریخی اہمیت کو یکسر بدل کے رکھ دیا ۔
    ایک اسلامی مملکت کے قیام کے بعد اس کے اندرونی اور بیرونی نظام کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی کرنا ناگزیر ہے ۔

    آئیے ہم اس سیاست پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں ۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس شہر کا نام یثرب تھا۔ آپ کے یہاں پہنچنے پر اس کا نام مدینہ الرسول رکھ دیا گیا ۔یہ اسلام کا پہلا گڑھ تھا جہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ رہائش اختیار کر کے پہلی سلطنت اسلامیہ کی بنیاد رکھی ۔

    عزیز قارئین !

    یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں آنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ آپ سکون سے اپنے حجرے میں بیٹھ کر عبادت کرتے اور آرام کرتے کیونکہ یہاں آپ کے حامیوں کی تعداد انصار و مہاجرین کی صورت میں بہت زیادہ تھی لیکن آپ کو یہ گوارا نہ تھا اور ہر دن آپ مسلمانوں کی فلاح اور اسلام کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے ۔

    مدنی دور کو ہم تین ادوار پر تقسیم کر سکتے ہیں ۔

    نمبر (1 )پہلا مرحلہ( سن 1 ہجری سے سن 6ہجری )

    نمبر (2 )دوسرا مرحلہ( 6 ہجری سے آٹھ ہجری تک)

    نمبر( 3) تیسرا مرحلہ( 8 ہجری سے حیات اخیریعنی 11 ہجری تک )

    پہلا مرحلہ

    💫تعمیر مسجد نبوی ۔۔۔۔۔۔۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی مدینہ میں رہائش پذیر ہوئے اور جہاں آپ کی اونٹنی بیٹھی تھی وہاں آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر کرنا شروع کی اور یہ ثابت کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں مساجد اور مدارس بہت اہمیت کے حامل ہیں اور بنفس نفیس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ آپ نے اینٹ اور پتھر بذات خود ڈھوۓ-

    مسجد نبوی محض نماز ادا کرنے کے لیے ہی نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات و ہدایات کا مرکز بھی تھی ۔ اور أپ نے مسجد نبوی سے ملحق ” الصفہ” کے نام سے ایک چبوترہ قائم کیا۔ اس مدرسہ میں صحابہ کرام دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے ۔ اور وہ فقراء و مساکین کا مسکن بھی تھا جن کا نہ کوئی اہل وعیال تھا اور نہ گھر بار۔
    علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی تھی جس میں مجلس شوری اور مجلس انتظامیہ کے اجلاس ہوا کرتے تھے ۔

    💫محبت و بھائی چارہ

    جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام کیا اس طرح آپ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا کر ایک اسلامی ریاست کے لیے اخوت و اتحاد کی فضاء قائم کی اور واضح کیا کہ ایک ریاست کی ترقی اور استحکام کے لیے اتحاد ایک مضبوط کڑی ثابت ہوتا ہے۔

    جس قوم اور مملکت میں نااتفاقی پیدا ہو جائے وہاں قوت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بیرونی قوتیں اسے کچلنے کے لیے سر اٹھانے لگتی ہیں

    💫غیر مسلم قوتوں سے عہد و پیمان

    آپ نے اسلامی مملکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے یہودیوں سے معاہدے کئے تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور وقت آنے پر ان سے مالی اور جسمانی مدد بھی لی جا سکے یعنی اپنے فائدے کے لیے کفار سے معاہدے کئے جا سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی آپ نے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر ایسا نہیں ہے کہ ان سے مدد لیتے وقت ہم اپنا دین اور ایمان بھی ان کے ہاتھوں بیچ دیں اس معاہدے کے طے ہو جانے کے بعد مدینہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے وفاقی حکومت بن گئے اور مدینہ ان کا دارالحکومت تھا جس کے سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔

    💫سرایا اور غزوات

    مدینہ میں سکونت پذیر ہونے کے بعد آپ نے بہت سے سرایا اور غزوات کئے ۔ سرایا اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم صل وسلم نے بذات خود شرکت نہ کی بلکہ کسی صحابی کو سپہ سالار بنا کر بھیجا ہو اور غزوہ وہ جنگ جس میں بطور جرنیل آپ نے خود شرکت کی ہو۔ جب یہود و نصاریٰ فتنہ اور شر پھیلانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے لگے تو باوجود قوت اور مال و اسباب کی کمی کے آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر ان کو بھرپور جواب دیا-

    غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق وغیرہ ان جنگوں کا مقصد کفر پر اسلام کا رعب اور غلبہ طاری کرنا تھا اور اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ کفر و اسلام کی جنگ روز اول تاروز آخر جاری رہنے والی ہے اور اہل اسلام کو اپنے مذہب کے دفاع کے لیے غیر مسلموں پر کڑی نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان سے جنگ کرنا ناگزیر ہے ۔

    💫بادشاہوں اور امراء کے نام خطوط
    6ہجری میں جب حضور صل وسلم حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لیکر انہیں اسلام کی دعوت دی اور اس مقصد کے لیے آپ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کرام کو بطور قا صد منتخب فرمایا اور انہیں بادشا ہو ں کے پاس خطوط دے کر روانہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے نامور شہنشاہوں جیسا کہ نجاشی شاہ حبش، مقوقس شاہ مصر، قیصر شاہ روم ، حارث حاکم دمشق، شاہ عمان کو خطوط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ ان خطوط کے ذریعے نبی صل وسلم نے اپنی دعوت روۓ زمین کے بیشتر بادشاہوں تک پہنچادی اس کے جواب میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر کیا-

    💫فتح مکہ

    17 رمضان 8 ہجری کو رسول اسلم مراؤ ا لظہران سے مکہ روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ دس ہزار صحابہ کرام تھے اتنا بڑا لشکر دیکھ کر ابوسفیان پکار اٹھا ۔
    اے قریش کے لوگو !
    محمد ہمارے پاس بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ جس کی تم تاب نہیں لا سکتے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باآسانی مکہ کو فتح کرلیا اور انصار و مہاجرین کے جلو میں مسجد حرام تشریف لے گئے اور بیت اللہ کے گرد 360 بتوں کو کمان کی ٹھوکر مار کر ان کے چہروں کے بل گرا دیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے۔
    جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا
    ” حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے”
    أپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفتح مکہ کی خوشی میں ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر آٹھ نوافل شکرانے کے پڑھے۔
    حاصل کلام یہ کہ ریاست مدینہ کے حکمران نے اپنی حکمرانی کے دوران جہد مسلسل کی اور اس بنیادی اسلامی سلطنت کو مزید مستحکم اورمضبوط بنانے میں دن رات ایک کر دیا ۔

    💫مکارم اخلا ق پر عمل درأمد

    علاوہ ازیں اپنے معاشرے کو ہر سماجی برائی سے پاک کر دیا کفر و شرک و بت پرستی قمارباز ی ،شراب نوشی، رشوت ستانی ,سودخوری ,چوری چکاری ,ذخیرہ اندوزی, زنا کاری اور فحاشی کا خاتمہ کیا آپ نے احتر ام انسانیت کا درس دیتے ہوئے انسان کو حیوانیت سے دور رہنا سکھایا ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے کوشاں رہتے۔ انہوں نے آداب و اخلاق، بھائی چارگی ، محبت و اطاعت کے گر سکھا ئے ۔
    آپ نے فرمایا”
    اے لوگو !
    سلام پھلاؤ ،کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، صدقہ خیرات کرو، نماز روزے کی پابندی کرو ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق نسواں مقرر کرتے ہوئے تحفظ نسواں کا پرچار کیا ۔
    عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔
    اور شرعی حدود پر سختی سے عمل کروایا ۔
    اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا کہ ایک اسلامی حکومت کے حکمران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ کی بناۓ ہوۓ قوانین و عبادات پر عوام کو عمل کروائے۔ تاکہ معاشرہ بہتر ا قداروکردار کا مجسمہ بن جائے ۔
    پہلی اسلامی ریاست کا یہ حکمران اول بنی نوع انسان کے لئے رحمت للعالمین کا لقب لے کر دنیا میں تشریف لائے۔
    اور ہاں اسلامی اصلاحات کرنے سے پہلے ذاتی اسوہ حسنہ پیش کیا ۔۔۔جو کہا کر کے دکھایا ۔
    دنیا کا یہ عظیم تر حکمران آنے والے حکمرانوں کے لئے قیمتی قوانین اور اصطلاحات وضع کرکے اس دار فانی سے 63 سال کی عمر میں رخصت ہو گیا جو قیامت تک آنے والوں کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔

    سوچنے کے لائق بات تو یہ ہے کہ ہم کس منہ سے ریاست مدینہ کی بات کر سکتے ہیں جبکہ ہم سے کسی ایک اسلامی قانون کی پاسداری بھی بہت دشوار ہے۔ دعا ہے کہا للہ پاک ہمیں ایسے حکمران عطا فرمائے جو ریاست مدینہ کے تصور کا پاس رکھ سکیں اور اسلام کو سر بلندی عطا کر سکیں۔ ( آمین)

  • فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار     بقلم انجینئر محمد ابرار

    فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار بقلم انجینئر محمد ابرار

    عنوان. فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار
    انجینئر محمد ابرار

    اللہ تعالی نے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا ہے.آپ کی ذات رحمت للعالمین ہے اور زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ یے. آپ کی زندگی میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام قتل کے واقعات بھی ملتے ہیں. حالیہ دنوں میں فرانس کی عمارت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دکھائے گئے.یہ واقع اس وقت پیش آیا جب فرانس کے ایک سکول میں سیموئل پارٹی نامی ہسٹری کے استاد نے اپنی ایک کلاس میں آزادی اظہارِ رائے پر طلباء کو لیکچر دیتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون معاذ اللہ پروجیکٹر پر دکھائے. سیموئل کو ایک طالب علم نے واصل جہنم کیا جس کے بعد فرانس کے صدر نے سرکاری عمارت پر ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے آویزاں کئے. ایک خاکے میں ٹوائلٹ پیپر کے تین رول دکھا کر ان کو بالترتیب بائبل، قرآن اور زبور کا نام دیا گیا. اس واقعہ کے بعد پورے عالم اسلام میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور کئی اسلامی ممالک میں عوام نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے محبت کا ثبوت دیا. سلطلنت عثمانیہ کے دور میں اگر کسی جگہ مسلمانوں کے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا تو وہ حملہ پورے عالم اسلام پر تصور کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ اس کا جواب دیتی تھی سلطنت کے ختم ہونے کے بعد یورپ نے پھر پرانی روش پر چلتے ہوئے گستاخی کی ناپاک جسارت کی ہے.ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یہ دماغی مریض ہے اسے دماغی علاج کی ضرورت ہے. اس بیان کے بعد فرانسیسی صدر نے رد عمل دیتے ہوئے ترکی میں موجود سفیر کو واپس طلب کر لیا. کویت سمیت کئی ممالک نے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا اور اپنے سپر سٹورز سے فرانس کی تیار کردہ مصنوعات ہٹا دیں. دنیا کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے فقط فرانس کے صدر کو لوگوں کو تقسیم نہ کرنے اور انتہاپسندی کو ہوا نہ دینے کا کہہ کر نیلسن منڈیلا کی مثال دے کر اسی پر اکتفا کیا. وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین منافی ہے اور لوگوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے. وزیر اعظم صاحب اپنے سیاسی مخالفین کو تو منہ ہر ہاتھ پھیر پھیر کر واپس لانے اور احستاب کی دھمکیاں دیتے رہے مگر وجہ تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر ایک مردانہ بیان نہ دے سکے جو ان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر اب بھی موصوف ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں. وزیر اعظم کی شان میں توہین پر تو ایکشن لیا جاتا ہے مگر عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے صدر ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد فوراً جلد صحتیابی کی دعائیں دیتے تو نظر آتے ہیں مگر گستاخی کے رد عمل میں تین دن گزر جانے کے بعد اتنا مصلحت پسندانہ رد عمل کیوں دیتے ہیں؟ پالیمنٹ کا اجلاس اس معاملے پر طلب کیا جاتا ہے جس میں بھی مقتدر ارکان و اپوزیشن سیاست کرتی نظر آتی ہے جس کے نتیجے میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس 10 منٹ کے لئے موخر کرنا پڑتا یے بعد ازاں فقط ایک قرار داد منظور کر لی جاتی ہے جس کی یورپ کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں.کیا ہماری غیرت ایمانی ختم ہو چکی یے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے حساس مسئلہ پر بھی ہمارے حکمران ایک پیج پر نظر نہیں آتے. بجائے عالم کفر کو للکارنے کے وہ فقط اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں. اس ساری صورت حال میں علامہ خادم حسین رضوی کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ ایٹم بم باہر نکالیں دشمن کو للکاریں یہ کس لئے ہم نے رکھا ہوا یے. ساتھ ہی انہوں نے حکومت وقت کو وارننگ دیتے ہوئے مجلس شورہ کا اجلاس بلوا پر فرانس کے مسئلہ پر اگلا لاحہ عمل طے کرنے کا عندیہ دیا. یادرہے کہ ہالینڈ میں بھی گستاخانہ کارٹونز کے خلاف علامہ خادم حسین رضوی نے ہالینڈ ایمبیسی کو بند کرنے کے لئے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا تھا جس نے نتیجے میں ہالینڈ کو گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنا پڑا اور گیرٹ ولڈر نامی گستاخ سیاست دان علامہ صاحب کا نام لے لے کر ٹویٹ کرتا رہا کہ انہوں نے میرے خلاف قتل کا فتوہ دیا ہے. اس معاملہ پر بھی حکومتی ٹولہ بغلیں بجاتا اور کریڈٹ لیتا نظر آیا.حالانکہ علامہ صاحب کی جانب سے لانگ مارچ کا فیصلہ حکومتی سستی و نا اہلی کو دیکھتے ہوئے کیا گیا اور اسی مارچ کی بدولت عین اسی وقت جب ہزاروں کارکنان راستے میں مختلف شہروں میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کر کے علامہ خادم رضوی کی قیادت میں اسلام آباد داخل ہوئے ہالینڈ کی جانب سے فیصلہ منسوخی کی خبر نشر کی گئی. دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی فتح مکہ والے دن رسول اللہ نے تمام لوگوں کی عام معافی کا اعلان فرمایا مگر گستاخ شخص کعبہ کے غلاف میں بھی لپٹا ہوا نہ بچ سکا. حضرت علی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس نے کسی نبی جو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا” حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو آپ نے فرمایا "جس نے اللہ کو یا انبیائے اکرام میں سے کسی جو گالی دی تو اسے قتل کر دیا جائے” امام مالک کا فرمان ہے "اگر رسول اللہ کی شان میں گستاخی ہو اور امت اس کا بدلہ نہ لے سکے تو ساری امت مر جائے”. حکومت وقت پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حکومتی سطح پر فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرے. فرانسیسی سفیر کو مملکت پاکستان سے نکالنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی سفیر کو واپس بلوایا جائے۔
    (انجینئر محمد ابرار ایم فل سٹرکچرل انجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔ شعبہ صحافت سے وابسطہ ہیں اور روزنامہ لاہور پوسٹ کے ڈسٹرکٹ رپورٹر ہیں۔ کافی عرصہ سے حالات حاضرہ ،مذہبی، سیاسی، سماجی اور اصلاحی موضوعات پر مختلف ویب پیجز پر لکھتے ہیں۔ باغی ٹی وی کے لئے بطور خاص لکھ رہے ہیں۔)

  • فرانسیسی سفیر کر ملک بدر کرو، پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کا حکومت سے مطالبہ

    فرانسیسی سفیر کر ملک بدر کرو، پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کا حکومت سے مطالبہ

    فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد سے فیس بُک پر صارفین کی جانب سے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے پاکستان میں مقیم فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے-

    باغی ٹی وی : فرانس کے بعد جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات اور فرانس کے صدر کے بیانات نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے فرانس کی جانب سے کی جانے والی اس حرکت پوری مسلم امہ شدید غم و غصے کی کیفیت میں ہے اور فرانس حکومت کے خلاف ریلیوں کی صورت میں اور سوشل میڈیا پلیت فارمز پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں فرانس کی تمام قسم کی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کیا جا چُکا ہے-

    جہاں فرانس کی اس گستاخی پر فرانس کی بھر پور مذمت کی جا رہی ہے اور غم و غصے کا اظہارکرتے ہوئے فرانسیسی پرڈکٹس کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے وہیں پاکستان کی حکومت سے پاکستان میں مقیم فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے صرف یہی نہیں صارفین غم و گصے کی شدید کیفیت میں پاکستانی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے-

    فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرو چیلنج

    ایک صارف نے لکھا کہ فرانس کی حکومت دہشتگردی پر اتر آئی ہے گزشتہ چند دنوں کے دوران:فرانس کی حکومت نے سرکاری عمارتوں پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے اسکرین پر لگا کر نمائش کروائی اور پوری عرب دنیا میں اس پر احتجاج بھی ہو رہا ہےفرانس میں دو مسلم حجابی خواتین پر انتہا پسند عیسائی نے قاتلانہ حملہ کیا۔

    فرانس ہی میں عیسائی اسکول ٹیچر نے اپنی کلاس میں نبی پاک کا اعلانیہ مذاق اڑایا جسے پھر طلباء نے انجام تک پہنچایا فرانس کی حکومت نے سو سے زائد مساجد کو دہشتگردی کا خطرہ بتا کر بند کریا میڈیا کو نہ کفار کی دہشتگردی نظر نہیں آتی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کا پر امن احتجاج میڈیا والوں کو جب دجال کا فتنہ کہا جاتا ہے تو صحافی ناراض ہوتے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ میڈیا پر اس وقت سیکولر، ملحد اور شیطان کے پجاری قابض ہیں۔

    اللہ ہمیں ایسے لیڈر عطا فرماٸے تا کہ فرانسیسوں کو اپنے اوقات یاد دلا دےاس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں شکریہ۔

    شیخ نصراللہ نامی صارف نے لکھا کہ فرانس نے حکومتی بلڈنگز پر لگی سکرینز پر کارٹونز کی تصاویر لگا کر توہین رسالت کا سرکاری سطح پر ارتکاب کیا ‎ہلاک ہونے والے ملعون ٹیچر کو فرانس کا اعلٰی ترین ایوارڈ دیا کہ گویا اس ٹیچر نے کوئی بہت مقدس فریضہ انجام دیتے ہوئے جان دی ہو۔

    ‎لیکن اس کے جواب میں کوئی ایک مسلم ملک جس کے حکمرانوں نے فرانس کو کوئی دھمکی دی ہو؟ یا اپنا سفیر وہاں سے بلا لیا ہو؟ یا اپنے ملک میں تعینات فرانس کے سفیر ملک بدر کیا ہو؟ یا کم از کم اس کو بلا کر اس کو وارننگ دی ہو؟
    ‎یہ ہیں "برادر اسلامی” ممالک؟ اور یہ ہیں ان کے "مسلمان” حکمران؟ ان کی فوجیں مجاہد ہیں؟ مقدس ہیں؟ مکھی پر مکھی مارنے اور اپنے ہی شہریوں کو ذلیل کرنے ، ان کو مارنے، زمینیں ہتھیا کر رہائشی سکیمیں بنا کر ڈکارنے اور عیاشی کرنے کے بعد بیرون ملک خاندانوں سمیت "اپنے وطنوں” کو چلے جانے کے سواء انہوں نے کیا کیا ہے؟

    ‎کیسی ریاست مدینہ؟ ‎ریاست مدینہ کا نام استعمال کے اس کی توہین کرنا بند کرو !

    ‎سلطان صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح پر عام معافی دی، لیکن اس گندے انڈے کو خاص طور پر اپنے ہاتھ سے قتل کیا تھا جو یروشلم پر صلیبی قبضے کے دوران رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑایا کرتا تھا اور فقرے کسا کرتا تھا۔

    ‎ہمارے حکمران اگر فرانس کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتے، تو کم از کم اس کے ساتھ سفارتی پینگیں ڈالنے سے تو باز رہیں ! ان کے سفیر کو تو نکال باہر کریں۔۔ لیکن ان کو تو ان سفیروں کے ذریعہ ویزوں اور یورپین یونین کی بارگاہ میں شرف قبولیت کی فکر ہے، تاکہ یہ عیاش حکمران لوٹ مار کرنے کے بعد اپنے وطنوں کو روانہ ہوتے رہیں-

    ‎ریاست مدینہ کا رب کوئی فرانس، کوئی امریکہ یا یورپین یونین نہ تھے۔ ریاست مدینہ کا رب اللہ سبحانہ و تعالٰی کی ذات تھی۔

    فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد تین ملین سے زائد فیسبک صارفین کا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود

    فرانس کی اسلام دشمنی،پنجاب اور کے پی اسمبلی میں قرارداد مذمت جمع

    پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک فرانس کا بائیکاٹ کریں،چودھری پرویز الہیٰ کا بڑا مطالبہ

    گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے معاملے پر پاکستان کا فرانس سے شدید احتجاج

    پاکستان پہلا ملک جس نے فرانسیسی سفیرکو طلب کیا، گساخانہ خاکوں کا مسئلہ کہاں کہاں اٹھائیں گے، طاہر اشرفی نے بتا دیا

    وزیراعظم کافیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے اسلام مخالف مواد پر فوری پابندی کا مطالبہ

    فرانس کے اسلام مخالف بیان پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، وزیر خارجہ نے بتا دیا

    فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، مولانا فضل الرحمان نے بڑے احتجاج کا اعلان کردیا

  • فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد تین ملین سے زائد فیسبک صارفین کا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود

    فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد تین ملین سے زائد فیسبک صارفین کا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود

    فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد تین ملین سے زائد فیسبک صارفین کی جانب سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود کے گلدستے بھیجے گئے-

    باغی ٹی وی : فرانس کے بعد جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات اور فرانس کے صدر کے بیانات نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے فرانس کی جانب سے کی جانے والی اس حرکت پوری مسلم امہ شدید غم و غصے کی کیفیت میں ہے اور فرانس حکومت کے خلاف ریلیوں کی صورت میں اور سوشل میڈیا پلیت فارمز پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں فرانس کی تمام قسم کی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کیا جا چُکا ہے-

    جہاں فرانس کی اس گستاخی پر فرانس کی بھر پور مذمت کی جا رہی ہے اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں فیس بُک صارفین کی جانب سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھنےکا انعقاد کیا گیا ہے اور صارفین اپنی پوسٹ مین نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھ رہے ہیں-

    اور اب تک اس ٹرینڈ میں تین ملین سے زائد لوگ شامل ہو چُکے ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد پاک کے گلدستے نچھاور کر تے ہوئے اپنے پیارے نبی اور اللہ کے محبوب نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں-

    چیلنج کا حصہ بننے کے لئے یہاں کلک کریں

    فرانس کی اسلام دشمنی،پنجاب اور کے پی اسمبلی میں قرارداد مذمت جمع

    پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک فرانس کا بائیکاٹ کریں،چودھری پرویز الہیٰ کا بڑا مطالبہ

    گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے معاملے پر پاکستان کا فرانس سے شدید احتجاج

    پاکستان پہلا ملک جس نے فرانسیسی سفیرکو طلب کیا، گساخانہ خاکوں کا مسئلہ کہاں کہاں اٹھائیں گے، طاہر اشرفی نے بتا دیا

    وزیراعظم کافیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے اسلام مخالف مواد پر فوری پابندی کا مطالبہ

    فرانس کے اسلام مخالف بیان پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، وزیر خارجہ نے بتا دیا

    فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، مولانا فضل الرحمان نے بڑے احتجاج کا اعلان کردیا

  • پاکستانی عوام کو براق اوزڈیمیرکی پاکستان آمد کا بے چینی سے انتظار

    پاکستانی عوام کو براق اوزڈیمیرکی پاکستان آمد کا بے چینی سے انتظار

    گزشتہ روز تُرک شیف براق اوزڈیمیرنے پاکستان آنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان پہنچ سکتے ہیں ،اطلاعات کے مطابق تُرک شیف براق اوزڈیمیرکا پاکستان آنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ پاکستان اورپاکستانیوں‌سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہیں‌-

    باغی ٹی وی : گذشتہ روز سماجیہ رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹوئٹ میں سئیر کردہ ویڈیو میں تُرک شیف براق اوزڈیمیرنے پاکستان آنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اپنے ویڈیوپیغام میں کہا تھا کہ وہ بہت جلد پاکستان پہنچنے والے ہیں جہاں وہ پاکستان کی حسین سرزمین پرکچھ دن گزاریں گے-


    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سندھی شال اور ٹوپی پہن کر اردو میں پاکستان آنے کا پیغام دیتے ہوئے تُرک شیف براق اوزڈیمیرنے بڑی خوشی کااظہارکیا اور ساتھ ہی اس خوشی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی بلند کئے- براق نے اپنی ٹوئٹ کے آخر میں ہیش ٹیگ پاکستان اور ہش ٹیگ ترکی کا بھی استعمال کیا-

    تُرک شیف براق اوزڈیمیرنے پاکستان زندہ باد کے ساتھ ترکی زندہ باد کے نعرے بھی لگائے ، ان نعروں کوسن کرپاکستانی بڑے خوش ہورہے ہیں اور سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے عالمی شہرت یافتہ تُرک شیف کے ساتھ محبت کا اظہار کر تے ہوئے انہیں نہ صرف انگلش اور اردو میں بلکہ ترکی زبان میں بھی پاکستان میں خوش آمدید کہہ رہے ہیں-


    علی رضوان نامی صارف نے لکھا کہ ہم بے چینی سے آپ کی پاکستان آمد کے منتظر ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جب آپ ہمارے ساتھ بیٹھیں گے تو آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوگا کہ آپ دوسروں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ترکی پاکستان کا دوسرا وطن ہے اور پاکستان آپ کا دوسرا وطن ہے۔


    ایک اور صارف نے براق کو پاکستان میں کوش آمدید کہا-


    https://twitter.com/YasirShaikh99/status/1320792322095931392?s=20


    https://twitter.com/FoodZana/status/1320780517055365123?s=20

    اس سے قبل بھی عالمی شہرت یافتہ تُرک شیف براق اوزڈیمیر نے اپنے ویڈیو پیغام میں پاکستان اور کشمیر سے محبت کا اظہار کیا اور کشمیر آنے کی خوہش ظاہر کی تھی –

    سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں براق نے پاکستان کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا تعلق ترکی سے ہے، ہم پاکستان سےبہت بہت زیادہ محبت کرتےہیں۔ پاکستان ہمارے دل میں ہے۔ میری خواہش اور دعا ہےکہ ہم جلد کشمیر میں آئیں۔ کشمیر کےلیے محبت پاکستان کےلیے محبت ویڈیو میں براق کے ساتھ موجود ترک سماجی کارکن علی کیسک نے بھی کشمیر اور پاکستان کے ساتھ محبت کا اظہار کیا تھا –

    ترکش شیف کی دورہ پاکستان میں لاہور اور اسلام آباد میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہو ں گی لاہور میں گورنر پنجاب سے بھی ملاقات ہو گی علاوہ ازیں براق آزاد کشمیر کا دورہ بھی کریں گے ان کے دورے کے لئےخصوصی انتظامات اور تیاریاں جاری ہیں-

    ترک شیف کے مداحوں کو جہاں ان کے پاکستان آنے کی بے چینی سے انتظار ہے اور اپنی پسندیدہ معروف شخصیت کی آمد کی خوشی میں خصوصی انتظامات کر رہے ہیں وہیں عا لمی شہرت یافتہ شیف براق کی پاکستان آمد پر باغی ٹی وی بھی پاکستانیوں کی خوشی میں شریک ہوتے ہوئےان کی بھر پور کوریج کرے گا اور براق کے پاکستانی مداحوں کو ان کے پاکستان میں وزٹ پر لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرے گا-

    باغی ٹی وی پاکستان کا ڈیجیٹل میڈیا کا معروف ادارہ ہے جسے نہ صرف پاکستان بلکہ اوورسیز پاکستانیوں میں بھی مقبولیت حاصل ہے۔ پاک ترکی تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھی باغی ٹی وی کوشاں ہے۔ باغی ٹی وی برادر ملکوں پاکستان اور ترکی کے تعلقات کی مزید مضبوطی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے-جو کہ میڈیا کے میدان میں ایک قابل تحسین کاوش ہے-

    میں بہت جلد پاکستان آ رہا ہوں ۔ مشہور ترک شیف اور سوشل میڈیا سٹار براق اوزڈیمیر کا اردو میں ویڈیو پیغام

    تُرک شیف براق اوزڈیمیر نے ننھی مداح کی خواہش پوری کر دی

    ترک شیف براق اوزڈیمیر کا پاکستان سے اظہار محبت

    عالمی شہرت یافتہ ترک شیف براق اوزڈیمیر کا پاکستان آنے کا اعلان

    میری خواہش اور دعا ہے کہ میں جلد کشمیر آؤں ترک شیف براق اوزڈیمیر

    عمران عباس کو بھی ترک شیف براق اوزڈیمیر کی پاکستان آمد کا بے چینی سے انتظار

  • فرح خان کے ڈانس پارٹنر عالمی وبا کورونا کے باعث چل بسے

    فرح خان کے ڈانس پارٹنر عالمی وبا کورونا کے باعث چل بسے

    بالی وڈ کی معروف کوریوگرافر اور ہدایت کارہ فرح خان کے ڈانس پارٹنرعالمگیر وبا کورونا وائرس سےانتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر بھارتی کوریوگرافر فرح خان نے کچھ تصاویر شیئر کی ہیں جن میں وہ اپنے ڈانس پارٹنر ’ہیمو سنہا‘ کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں۔
    https://www.instagram.com/farahkhankunder/?utm_source=ig_embed
    انسٹاگرام پر شیئر کی گئیں تصاویر کے ساتھ کیپشن میں فرح خان نے لکھا کہ تم سکون میں رہو میرے ڈانس پارنٹر میرے دوست اور میرے رہنمائی کرنے والے ہیمو سنہا میری آپ کے ساتھ چند خوبصورت یادیں۔

    فرح خان کی جانب سے شئیر کی گئی پوسٹ پر صارفین کی جانب سےافسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    بھارتی میڈیا پورٹس کے مطابق ہیمو سنہا کچھ عرصہ قبل عالمگیر وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے وہ کئی دنوں سے اسپتال میں داخل تھے جہاں اُن کا علاج جاری تھا لیکن وہ کورونا وائرس کو شکست دینے میں ناکام رہے اور اس وبائی سے لڑتے لڑتے انتقال کر گئے۔

    واضح رہے کہ فرح خان اور ہیمو سنہا 1980 کی دہائی سے ایک ساتھ کال کر رہے تھے۔

  • جنت مرزا نے دل فروخت کرنے کی قیمت بتا دی

    جنت مرزا نے دل فروخت کرنے کی قیمت بتا دی

    ایک کروڑ سے زائد فالوورز رکھنے والی پاکستان کی نمبر ون ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا نے اپنے مداحوں کو دل فروخت کرنے کی قیمت بتا دی-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر جنت مرزا نے تصاویر شئیر کی ہیں جن میں وہ بیڈمنٹن کھیلتی نظر آرہی ہیں جبکہ ایک تصویر وہ اپنی جیت کا جشن بھی مناتی دکھائی دی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CGxO1n_ALvC/?igshid=17z135qoag72p
    جنت مرزا نے انسٹاگرام پر تصویریں شئیرکرتے ہوئے لکھا کہ دل برائے فروخت ہے جس کی قیمت صرف ایک مسکراہٹ ہے۔

    ٹک ٹاک اسٹار نے مداحوں کی رائے پوچھتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ بیڈمنٹن یا ٹینس؟

    جنت مرزا کی پوسٹ پر صارفین نے تعریفی کمنٹس کرنے کے ساتھ ساتھ تبصرے بھی کئے اور اپنی پسندیدہ ٹک ٹاک اسٹار سے سوالات بھی کئے جن کے جنت مرزا نے جوب دیئے-

    جنت مرزا کے سوال پر حرا شیخ نامی صارف نے بیڈمنٹن کا انتخاب کرتے ہوئے ٹک ٹاک اسٹار سے سوال کیا کہ آپ کا کیا کھیلتی ہو؟ جس پر جنت مرزا نے جواب دیا کھیلتی ہو اور کھیل رہی ہو میں فرق نظر آتا ہے کوئی برو؟

    عابدہ صارف نے پوچھا کہ سُنا ہے آپ پہلے 20 منٹ میں کمنٹس کے جواب دیتی ہیں جس پر جنت مرزا نے کہا ہاں جی-

    ایک صارف نے جنت مرزا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ کرکٹ سب سے اچھی ہے۔ جس پر جنت مرزا نے کہا کہ تیراکی کرکٹ سے بھی اچھی ہے۔

    ایک صارف نے کہا کہ وہسے آپ ٹینس کھیل رہی ہیں یا بیڈمنٹن ؟ ٹک ٹاکر نے جواب دیا بیڈمنٹن-

    ایک صارف نے کہا کہ علیشبہ اور عمر میں سے کسی ایک کو چنیں صارف نے کہا کہ سوال تھوڑا مشکل ہے مین کرائی نہیں ڈلوانا چاہتا ، صارف کے سوال پر جنت مرزا نے کہا کہ آپکا ارادہ ہی لڑائی ڈلوانے کا ہے-

    ایک صارف نے ٹک ٹاک اسٹار سے پوچھا کہ آپ کو کرکٹ اور تیراکی میں سے کیا پسند ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے جنت مرزا نے کہا کہ تیراکی۔

    ایک صرف نے کہا کہ اب آپ پاکستان آ جائیں جس پر جنت مرزا نے کہا کہ آپ نے بلایا ہمیں سمجھیں ہم آ گئے-

    خیال رہے کہ فیصل آباد کی رہائشی جنت مرزا پاکستان کی مقبول ٹک ٹاکر ہیں جن کے ٹک ٹاک پر ایک کروڑ سے زائد فالوورز ہیں جبکہ گزشتہ دنوں ہی اُن کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بھی تصدیق شدہ ہوچکا ہے۔

    جنت مرزا کی اپنے نام سے منسوب جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ کی تردید

    جنت مرزا نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

    یا تو اگلے بندے کو شہرت نہ دیں یا پھر ذہنی مریض نہ بنائیں جنت مرزا کی سوشل میڈیا صارفین سے درخواست

    جنت مرزا کی وقار ذکا پر ٹک ٹاکرز کے خلاف بولنے پر شدید تنقید

    جنت مرزا ایک کروڑ فالوورز رکھنے والی پہلی پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار بن گئیں

    ایک کروڑ فالوورز مکمل ہونے کی خوشی میں جاپان میں جنت مرزا اور اُن کی فیملی کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد

    پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کے بعد جنت مرزا کا سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل

    جنت مرزا پی ٹی اے ( پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی) کی شکر گزار کیوں؟

    جنت مرزا کا ٹک ٹاکرز کو اہم مشورہ

  • شنیرا اکرم کراچی کے لئے کس کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہیں

    شنیرا اکرم کراچی کے لئے کس کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہیں

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور سماجی کارکن شنیرا اکرم نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ پورے کراچی کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) کی خدمات حاصل ہوں۔

    باغی ٹی وی :سماجی اور معاشرتی مسائل پر اپنی آواز بُلند کرنے والی شنیرا اکرم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں پورے کراچی کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) کی خدمات حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے عملے کی کا رگردگی کی تعریف کی-


    شنیرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سوچئے اگر ہمارے پاس کراچی کے ہر حصے کے لئے سی بی سی ہوتا !

    سماجی کارکن نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں سی بی سی عملے کی صفائی کرتے ہوئے تصویریں شیئر کر لکھا کہ ایک بار پھر سی بی سی کی جانب سے قابل ستائش کاوشیں کی جارہی ہیں۔


    شنیرا نے سی بی سی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری گندگی کو صاف کرنے اور ہمارے ساحل سمندر کے آس پاس کے ان عوامی علاقوں پر آپ کی مسلسل مدد اور توجہ کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں۔

    وسیم اکرم کی اہلیہ نے یہ لکھا کہ اگر ہم عوامی علاقوں کی دیکھ بھال کرنے کا طریقہ نہیں سیکھتے تو پھر ہم ان کو رکھنے کے مستحق بھی نہیں ہیں۔


    شنیرا اکرم کی اس ٹوئٹ پر ایک ٹویٹر صارف نے انہیں مستقبل میں کراچی کی گورنر قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا-

    ایک اور ٹوئٹ میں شنیرا نے لکھا کہ یہ جگہ ڈمپ سائٹ تھی ہفتے کے اختتام پر جب عام طور پر لوگ سیر و تفریح کی غرض سے ساحل کا رخ کرتے ہیں تو اپنی موجودگی کا ثبوت کچرے کی صورت میں چھوڑ کر جاتے ہیں جو سڑک پر ریت میں پڑا رہتا ہے یا سمندر میں بہہ جاتا ہے۔

    انہوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ سی بی سی نے سارا ہفتہ صفائی میں صرف کیا ہے وہ ساحل پر گندگی نہ پھیلائیں اور صفائی کا خود سے ہی خیال رکھیں۔

    سی ویو کی صفائی دیکھ کر شنیرا اکرم اور وسیم اکرم کی جانب سے خوشی اور اطمینان کا اظہار

    سی ویو پر گندگی کے ڈھیر دیکھ کر شنیرا اکرم کا برہمی کا اظہار

    کراچی سی ویو کی حالت دیکھ کر وسیم اکرم کا مایوسی کا اظہار،کہا اہلیہ کو سی ویو پر…

    ہمارا کراچی تکلیف میں ہے ہم مدد کے لیے آواز بُلند کر رہے ہیں لیکن ہماری آواز سُننے والا کوئی نہیں ہے شنیرا اکرم

  • شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر بھارتی اداکارہ پر چھریوں سے حملہ

    شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر بھارتی اداکارہ پر چھریوں سے حملہ

    بھارتی ٹیلی ویژن اداکارہ مالوی ملہوترا کو شادی کی پیشکش ٹھکرانے پردوست نے چھریوں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ویب سائٹ مڈڈے کے مطابق بھارتی اداکارہ مالوی مہوترا کو گزشتہ رات ایک دوست نے شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر بدلہ لینے کی غرض سے چھریوں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں مالوی شدیدی زخمی ہو گئیں۔

    پولیس نے بتایا کہ نواحی شہر اندھیری میں ایک شخص نے مبینہ طور پر ایک ٹی وی اداکارہ پر چاقو سے وار کیا۔

    یہ واقعہ پیر کےروز شام نو بجے کے لگ بھگ اندھیری کے علاقے ورسووا میں اس وقت پیش آیا جب اداکارہ مالوی ملہوترا ایک کیفے سے گھر لوٹ رہی تھیں۔

    ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزم یوگیش مہیپال سنگھ ، جو ایک مہنگی ترین کار میں سوار تھا نے اسے راستے میں روک لیا اور پوچھا کہ اس نے اس سے بات کیوں نہیں کی ہے۔

    بھارتی پولیس کے مطابق مالوی ملہوترا پر اُن کے دوست کے مابین جھگڑا ہوگیا اور ملزم نے ملہوترا کو پیٹ میں اور دونوں ہاتھوں پر چاقو سے 3 وار کیےاور فرار ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ اداکارہ مالوی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اُن کا علاج جاری ہے جبکہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اداکارہ مالوی ملہوترا کے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتانا ہے کہ وہ اور منیش پال سنگھ ایک دوسرے کو ایک سال سے جانتے ہیں، منیش سنگھ اُن سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر اُنہوں نے منیش سنگھ سے شادی سے انکار کے بعد بات کرنا بھی بند کر دی تھی۔

    انہوں نے پولیس کو مزید بتایا کہ وہ کل رات دبئی سے واپس بھارت پہنچی تھیں اور چائے پینے کیفے جا رہی تھیں اچانک سے منیش سنگھ اُن کے پاس آیا اور بات نہ کرنے کی وجہ پوچھی جس پر اُنہوں نے منیش سنگھ کو کہا کہ وہ بات نہیں کرنا چاہتیں اس لیے اُن کا پیچھا کرنا اور اُن سے بات کرنے کی کوشش چھوڑ دیں۔

    اداکارہ نے کہا کہ اُن کے منع کرنے پر منیش سنگھ نے اُن پر چھریوں سے حملہ کرتے ہوئے 3 وار کیے اور وہاں سے فرار ہو گیا۔