Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سائرہ یوسف کے حالیہ فوٹو شوٹ کی سوشل میڈیا پر دھوم

    سائرہ یوسف کے حالیہ فوٹو شوٹ کی سوشل میڈیا پر دھوم

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل سائرہ یوسف کے حالیہ فوٹوشوٹ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ و مال سائرہ یوسف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انستا گرام پر اپنی ایک دلکش تصویر شئیر کی جس میں وہ لال رنگ کی مغربی طرز کی میکسی پہنے ہوئے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CErlNZAJm84/?igshid=1obl3ma08w7fc
    سائرہ یوسف نے یہ نیا فوٹوشوٹ ڈیزائنر علی ذیشان کے لیے مکمل کروایا تصویر میں اداکار کے پیچھے کچھ لوگ پی پی ای پہنے کھڑے ہیں جس پر خیل کیا جا رہا ہے کہ اداکارہ کسی اشتہار کی شُوٹ میں مصروف ہیں۔

    اداکارہ کو اس تصویر پر سوشل میڈیا میں ان کے مداح انہیں کوئین اور گارجئیس لیڈی قرار دے رہے ہیں اور بہت پسند کر رہے ہیں۔

    اداکارہ کی تصویریں نہ صرف اُن کے مداح پسند کررہے ہیں بلکہ ساتھی اداکارائیں بھی کمنٹس میں ان کی خوبصورت تصویر پر ردعمل دیتے ہوئے داد دے رہی ہیں جن میں ایمان سلیمان،ایمن خان، آئرش خان ، شبلی چوہدری و دیکگ شامل ہیں-


    واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں شوبز انڈسٹری کی مقبول جوڑی شہروز سبزواری اور سائرہ یوسف نے شادی کے 8 برس بعد ایک دوسرے سے راہیں جدا کرلی تھیں۔

    حالیہ فوٹو شوٹ پر سارہ اور فلک کو تنقید کا سامنا

  • ایک اور بھارتی اداکارہ نے خود کشی کر لی

    ایک اور بھارتی اداکارہ نے خود کشی کر لی

    ایک اور 26 سالہ بھارتی اداکارہ سراوانی کنداپلی نے خود کشی کرکے موت کو گلے لگا لیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تلوگو ٹی وی کی ایک معروف اداکارہ سراوانی کنداپلی نے دو روز قبل اپنے گھر میں رات 9-10 کے درمیان پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ اداکارہ کے اہل خانہ نے لڑکی کےبوائے فرینڈ کو اس کی موت کا ذمہ دار قرار دے دیا پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

    ’مناسی مامتا‘ اور ’موناراگام‘ سیریلز سے مقبولیت حاصل کرنے والی اداکارہ کوجب عثمانیہ ہسپتال منتقل کیا گیا تو ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ اُن کی موت پہلے ہی ہوچکی تھی جس کے بعد اُن کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کی رپورٹ تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

    انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اداکارہ کی جانب سے یہ انتہائی قدم بلیک میل کیے جانے کی وجہ سے اُٹھایا گیا ہے رپورٹ کے مطابق سراوانی کنداپلی اور اُن کے بوائے فرینڈ دیوراج ریڈی پہلے ٹک ٹاک پر اچھے دوست بنے اُس کے بعد دونوں کے ملاقاتیں کرنے لگے اس دوران دیوراج ریڈی نے سراوانی کی تصاویر لینا شروع کردیں اور پھر اُسے بلیک میل کرنے لگا۔

    سراوانی نے بوائے فرینڈ کی جانب سے بلیک میل کیے جانے کی رپورٹ پولیس میں بھی درج کروائی تھی لیکن جب پولیس کی طرف سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تو اداکارہ نے یہ انتہائی قدم اُٹھایا۔

    تلوگو اداکارہ کے بھائی شیوا کنداپلی نے الزام عائد کیا ہے کہ دیوراج ریڈی اس کی بہن کو پیسوں کے لیے بلیک میل کرتا تھا جس کا مجھے میری بہن نے بتایا کہ دیوراج ریڈی اسے بلیک میل کررہا ہے جس کی وجہ سے وہ سخت دباؤ میں ہے۔

    سراوانی کنداپلی کےاہل خانہ نے دیوراج ریڈی کے خلاف ایس آر نگر پولیس اسٹیشن میں ایک درخواست درج کروائی ہے۔ جہاں کے پولیس انسپکٹر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کی طرف سے ایک آدمی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے غیرقانونی طور پر ہراساں کیا جس پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    بالی وڈ اداکارہ ریا چکر وتی منشیات کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار

    تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جسکی بنیاد پر کہا جاسکے کہ سوشانت سنگھ کو قتل کیا گیا ہے سی بی آئی

    سوشانت سنگھ کیس: خودکشی یا قتل ہسپتال کے اسٹاف کا سنسنی خیز انکشاف

    سوشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہے پوسٹ مارٹم صحیح طریقے سے نہیں ہوا یا…

    سی بی آئی کی تفتیش میں سوشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید اُلجھا دیا

    ریا چکربورتی انٹرویو کی نہیں بلکہ تفتیش کی مستحق ہیں سوشل میڈیا صارفین

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50 خواہشات

    بھارتی آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں پاکستانی اداکار حسن خان مرکزی کردارادا کریں گے

    بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ نے بالی وڈ میں اقربا پروری اور مافیا کی بحث کو…

    سوشانت سنگھ راجپوت کے قریبی دوست کا سوشانت اور سارہ علی خان کے درمیان تعلقات کا…

  • معروف خواجہ سرا  گل پانڑا کو پشاور میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا

    معروف خواجہ سرا گل پانڑا کو پشاور میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا

    معروف ٹرانسجینڈر گل پانڑا کو پشاور میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے جبکہ ساتھی خواجہ سرا چاہت کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق پشاور میں پلوسئی کے قریب خواجہ سرا گل پانڑا کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ایک خواجہ سراءچاہت شدید زخمی حالت میں خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے-

    نقاب پوش ملزمان نے خواجہ سراؤں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں معروف خواجہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ ایک خواجہ سرا چاہت گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہو گیا جسے علاج کے لئے خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا پلوسی میں پروگرام سے واپسی پر آرہے تھے جب انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    #JusticeforGulPanra پاکستان ٹویٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ پر:
    گال پانڑا کے اس بیہمانہ قتل پر پاکتسان ٹوئٹر پر #JusticeforGulPanra ٹاپ ٹرینڈ پر ہے صارفین اس دہشت ناک واقعے اور ظلم پرغم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کی فوراً گرفتاری اور زخت سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں-


    مشاہد بچہ نامی صارف نے افسوس اور غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پشاور میں ایک ٹرانسجینڈر کارکن گل پانڑا کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا یہ ملک کسی کے لئے زیادہ محفوظ نہیں ہے ، خاص طور پر اگر آپ اقلیتی برادری سے ہیں-
    https://twitter.com/TrimiziiiSyeda/status/1303611819630702592?s=20
    سیدہ ترمذی نامی صارف نے لکھا کہ پشاور میں ٹرانس رائٹس کے کارکن گل پانرا کو آج گولی مار کر ہلاک کردیا گیاپہلے جولی کیس اور اب یہ ، براہ کرم ہر انسانیت کو زندہ رہنے دیں-
    https://twitter.com/Salahuddin_T2/status/1303614498796908546?s=20
    صلاح الدین نامی صارف نے لکھا کہ پہلے جولی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب پشاور میں ایک اور ٹرانسجینڈر گل پانرا کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ کیا یہ لوگ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کو جینے کا حق نہیں ہے؟ہم کے پی کے کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گل پانرا کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔


    ایک صارف نے لکھا کہ بھاڑ میں جاؤ اسلامی ریپبلک خدا کے لوگوں کو قتل کرنا آپ کا واحد عمل ہے تھک گئے ہیں ہم انصاف انصاف کر کے ایسے مردودوں پر قیامت کیوں نہیں آتی اس ملک میں ساری قیامتیں غریبیوں کے لئے ہی رہ گئیں ہیں-


    حمزہ شکیل نامی صارف نے لکھا کہ ایک واحد سب سے بڑی برائی امتیازی سلوک ہے!پشاور میں ایک ٹرانسجینڈر خاتون ، گل پانرا کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا اسے پوائنٹ-بلیک رینج پر چھ بار گولی مار دی گئی –


    عابدہ کھر نامی صارف نے غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پشاور سے تعلق رکھنے والا ٹرانسجینڈر گل پانرا گولی مار کر ہلاک ہوگیا۔ اسے 6 بار گولی ماری گئی۔ ٹرانسجینڈر جانور نہیں ہیں وہ انسان جیسے ہم سب ہیں-


    https://twitter.com/SyedaSays__/status/1303613211502149634?s=20


    https://twitter.com/queer_samosa/status/1303594078270095361?s=20


    اداکارہ ثناء جاوید نے بھی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ گل پانڑا ایک ٹرانسجینڈر کارکن کو آج گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ٹرانسجینڈر کے بھی حقوق انسانی حقوق ہیں۔’تمام انسان وقار اور حقوق میں آزاد اور یکساں ہیں’ ایک برادری کی حیثیت سے ہم یہ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ اس کا احترام کرنے کے لئے ہمیں کسی کی شناخت کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔


    https://twitter.com/joonmusIim/status/1303623259485810688?s=20

    اداکارہ نمرہ خان سیڑھیوں سے گر گئیں

    مروہ قتل کیس:شوبز فنکاروں کا ملک میں مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کا…

    5 سالہ بچی کے قاتلوں کے لئے صرف پھانسی کی سزا کافی نہیں اُشنا شاہ

    اداکارہ اشنا شاہ نے فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا شاہ کی خودکشی کو قتل قرار دیا

    جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہئیے تاکہ انہیں دوسروں کے لیے مثال بنایا جاسکے اقرا عزیز

  • معروف خواجہ سرا  گل پانڑا کو پشاور میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا

    معروف خواجہ سرا گل پانڑا کو پشاور میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا

    معروف ٹرانسجینڈر گل پانڑا کو پشاور میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے جبکہ ساتھی خواجہ سرا چاہت کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق پشاور میں پلوسئی کے قریب خواجہ سرا گل پانڑا کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ایک خواجہ سراءچاہت شدید زخمی حالت میں خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے-

    نقاب پوش ملزمان نے خواجہ سراؤں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں معروف خواجہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ ایک خواجہ سرا چاہت گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہو گیا جسے علاج کے لئے خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا پلوسی میں پروگرام سے واپسی پر آرہے تھے جب انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    اداکارہ نمرہ خان سیڑھیوں سے گر گئیں

    مروہ قتل کیس:شوبز فنکاروں کا ملک میں مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کا…

    5 سالہ بچی کے قاتلوں کے لئے صرف پھانسی کی سزا کافی نہیں اُشنا شاہ

    اداکارہ اشنا شاہ نے فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا شاہ کی خودکشی کو قتل قرار دیا

    جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہئیے تاکہ انہیں دوسروں کے لیے مثال بنایا جاسکے اقرا عزیز

  • ثناء جاوید کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 5ملین ہو گئی

    ثناء جاوید کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 5ملین ہو گئی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اورباصلاحیت اداکارہ ثناء جاوید نے انسٹاگرام پر سنگ میل عبور کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جیو انٹرٹینمنٹ کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’خانی‘ سے شہرت پانے والی اداکارہ ثناء جاوید سوسل میڈیا پر اکثر متحرک نظر آتی ہیں اور زیادہ تر اپنی دلکش تصاویر پوسٹ کرتی نظر آتی ہیں اور اپنے مداحوں کے لئے موقع کی مناسبت سے بھی معنی خیز پیغامات بھی جاری کرتی ہیں۔

    تاہم اپنی اداکاری میں شہرت حاصل کرنے کے بعد اداکارہ نے انسٹاگرام پر بھی کامیا بی اپنے نام کر لی ہے ثناء جاوید کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر 5ملین یعنی 50 لاکھ فالوورز ہوگئے ہیں جس کے بعد ثناء جاوید بھی اُن نامور پاکستانی اداکاراؤں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں جن کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 50 لاکھ یا اس سے زیادہ ہے۔


    ثناء جاوید انسٹاگرام اکاؤنٹ سکرین شاٹس
    اس سے ڈرامہ سیریل ثبات میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ سارہ خان کے انسٹاگرام پر 55 لاکھ سے زائد فالوورز ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی اداکاراؤں میں انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والی اداکارہ ایمن خان ہیں جن کے اس وقت انسٹاگرام پر 7 اعشاریہ 3 ملین فالوورز ہیں، دوسرے نمبر پر اداکارہ عائزہ خان ہیں جن کے 7 ملین فالوورز ہیں سجل علی اور صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان 6.6 ملین فالوورز کے ساتھ تیسرے نمبر پر جبکہ اداکارہ منال خان 6.1 ملین فالوورز کے ساتھ چوتھے نمبر ہیں-

    ایمن خان اور عائزہ خان کی انسٹاگرام پر بڑی کامیابی

  • ریا چکرورتی کے والد اور سابق بھارتی فوجی اندرجیت نے فوج سے مدد مانگ لی

    ریا چکرورتی کے والد اور سابق بھارتی فوجی اندرجیت نے فوج سے مدد مانگ لی

    بھارت کے آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی گرل فرینڈ ریا چکرورتی کی گرفتاری کے بعد اُن کے والد اور سابق بھارتی فوجی ’اندر جیت‘ نے فوج سے مدد مانگ لی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت خودکشی کیس میں ایک نیا موڑ آگیا گزشتہ روز نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی ٹیم نے ریا چکرورتی کو سوشانت کو ڈرگس کا عادی بنانے کے الزام میں گرفتار کرلیا بیٹی کی گرفتاری کے بعد والد نے اندارجیت چکرورتی کے سلسہ وار ٹوئٹس میں کئی پیغام سامنے آئے جس میں انہوں نے بھارتی فوج سے مدد مانگ لی-
    https://twitter.com/IndrajitChakra/status/1303386617340547079?s=20
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ریا چکرورتی کے والد اندرجیت چکرورتی نے ریا کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر کہا کہ کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی برداشت نہیں کرسکتا مجھے مرنا چاہیے۔
    https://twitter.com/IndrajitChakra/status/1303383190422171648?s=20
    اندرجیت چکرورتی نے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ ریا کی درخواست ضمانت مسترد ہوگئی ہے جبکہ کیس کی اگلی سماعت جمعرات کو ہوگی۔
    https://twitter.com/IndrajitChakra/status/1303387718789902336?s=20
    ریا کے والد نے ایک اور پیغام میں کہا کہ میں سوشانت کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں آج وہ بھی کافی اُداس ہوگا-

    اندرجیت چکرورتی سابق بھارتی فوجی ہیں، انہوں نے اپنی بیٹی کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک اور ٹوئٹ کیا ہے جس میں انہوں نےاپنے تمام فوجی دستوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میرے فوجی دوستو میں نے آپ لوگوں سے اس سے قبل کبھی مدد نہیں مانگی۔
    https://twitter.com/IndrajitChakra/status/1303392407682080769?s=20
    انہوں نے لکھا کہ ’لیکن آج ایک بے یارو مددگار باپ کی حیثیت سے میں آپ کی حمایت کا طلب گار ہوں۔

    اندرجیت نے اپنے پیغامات کے آخر میں JusticeForRhea# بھی لکھا-

    واضح رہے کہ رواں ماہ 5 ستمبر کو این سی بی نے ریا کے بھائی شووک چکرورتی اور سوشانت سنگھ کے ہاؤس مینیجر سیموئل مرانڈا کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔

    بیٹے کی گرفتاری پربھی اندر جیت چکرورتی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے طنزیہ پیغام جاری کیا تھا لکھاتھا کہ مبارک ہو بھارت آپ نے میرے بیٹے کو گرفتار کرلیا مجھے یقین ہے اس لائن میں اگلا نمبر میری بیٹی اور پھر نہ جانے کس کا ہوگا آپ نے ایک متوسط گھرانے کو ختم کردیا اور یہ سب کچھ انصاف کے تحت ہورہا ہے ۔

    بالی وڈ اداکارہ ریا چکر وتی منشیات کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار

    تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جسکی بنیاد پر کہا جاسکے کہ سوشانت سنگھ کو قتل کیا گیا ہے سی بی آئی

    سوشانت سنگھ کیس: خودکشی یا قتل ہسپتال کے اسٹاف کا سنسنی خیز انکشاف

    سوشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہے پوسٹ مارٹم صحیح طریقے سے نہیں ہوا یا…

    سی بی آئی کی تفتیش میں سوشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید اُلجھا دیا

    ریا چکربورتی انٹرویو کی نہیں بلکہ تفتیش کی مستحق ہیں سوشل میڈیا صارفین

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50 خواہشات

    بھارتی آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں پاکستانی اداکار حسن خان مرکزی کردارادا کریں گے

    بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ نے بالی وڈ میں اقربا پروری اور مافیا کی بحث کو…

    سوشانت سنگھ راجپوت کے قریبی دوست کا سوشانت اور سارہ علی خان کے درمیان تعلقات کا…

  • امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل   تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم

    امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم

    تازہ کالم برائے اشاعت

    امریکہ عرب ممالک اور اسرائیل
    تحریر:ڈاکٹرصابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    دو برس قبل امریکہ نے مسئلہ فلسطین کے عنوان سے ایک امن منصوبہ متعارف کرواتے ہوئے فلسطین کے دارلحکومت یروشلم (القدس) کی طرف امریکی سفارتخانہ کو منتقل کرنے کا اعلان کیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہی فلسطینی دارلحکومت کو غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کا اعلان کردیا۔اس اعلان پر اگر چہ دنیا بھر کی اقوام اور حکومتوں نے امریکی صدر کے فیصلوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی واضح اکثریت سے اس فیصلہ کو مسترد کر دیا گیا۔ امریکہ جو کہ دو سو سالہ ایسی تاریخ کا حامل ہے کہ جس میں صرف اور صرف ہمیں دنیا کی دیگر اقوام کے خلاف امریکی جارحیت ہی ملتی ہے۔کبھی فوجی چڑھائی کے ذریعہ تو کبھی ممالک پر مہلک اور خطر ناک جان لیوا ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں ضائع ہوتی نظر آتی ہیں۔چیدہ چیدہ ممالک میں پاکستان بھی سرفہرست رہا ہے کہ جہاں امریکی ڈرون حملوں نے متعدد بے گناہوں کو بھی قتل کیاہے۔اس کے علاوہ عراق، افغانستان، شام، لبنا، ویتنام، ہیروشیما، ناگا ساکی سمیت افریقی ممالک کی فہرست موجود ہے کہ جہاں امریکی ظلم و جبر کی داستانیں رقم ہیں۔
    ظلم و جبر کی دو سوسالہ تاریخ رکھنے والی امریکی حکومت فلسطین کے مسئلہ میں بھی صہیونیوں کی مدد گار رہی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک سے لاکر بسائے جانے والے صہیونیوں کی پشت پناہ رہی ہے۔ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کی بھرپور حمایت کرنے والی امریکی حکومت ہی تھی۔آج یہی امریکی سامراجی نظام ایک امن منصوبہ بنام ’صدی کی ڈیل‘ کے ذریعہ صہیونی غاصبوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں ہے۔اس منصوبہ کے تحت امریکی حکومت کی یہ خواہش ہے کہ فلسطین کے مسئلہ کو دنیا کی سیاست سے ختم کر دیا جائے۔اور فلسطین میں لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فلسطین سے نواز دیا جائے اور بدلہ میں خطے میں امریکی مفادات اور توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے اسرائیل جیسی خونخوار ریاست کا استعمال بروئے کار لایا جائے۔
    در اصل امریکی سامراجی نظام نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ اپنی ماضی کی ان تمام تر کوششوں اور منصوبوں کی ناکامی کے بعد متعارف کروایا ہے کہ جن میں پہلے جنگیں مسلط کی گئیں، بعد میں فلسطین اور گرد ونواح کے پڑوسی ممالک پر قبضہ کیا گیا اور اس میں بھی ناکامی کے بعد داعش جیسے منصوبہ کو متعارف کیا تاہم بعد ازاں یہ داعش نامی منصوبہ بھی خطے میں موجود اسلامی مزاحمت کے بلاک نے نابود کر دیا ہے۔اب فلسطین سمیت خطے پر مکمل تسلط کے خواب کو پورا کرنے کے لئے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ سامنے لایا گیا ہے۔اس منصوبہ پر عمل درآمد کرنے کے لئے امریکہ نے عرب ممالک کے کردار کو بھی اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ رکھا ہے اور اس عنوان سے محمد بن سلمان اور جیرڈ کشنر دونوں ہی نہایت سرگرم رہے ہیں اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عرب دنیا کے ممالک صدیکی ڈیل کو تسلیم کر لیں۔
    یہاں پر ایک بات جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ کا حل کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے اس میں یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئیے کہ آیا فلسطین کے عوام اس منصوبہ پر کس قدر اعتماد کرتے ہیں اور آخر فلسطینیوں کی رائے کیا ہے؟ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو فلسطینیوں کی رائے اور ان کی اعتماد سازی کے بغیر کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے گا وہ کار آمد نہیں ہو سکتا ہے۔لہذا امریکی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ یعنی صدی کی ڈیل بھی ردی کی ٹوکری میں رکھنے کے لئے ہے۔کیونکہ فلسطینی عوام نے یک زبان ہو کر صدی کی ڈیل کو فلسطین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش قرار دی ہے اور اس منصوبہ کو ایک سو سال قبل بالفور اعلامیہ جیسے خطرناک منصوبہ سے تشبیہ دی ہے۔بالفور اعلامیہ نے سنہ1917ء میں فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا اور اب صدی کی ڈیل نامی یہ منصوبہ امریکی اور عرب ممالک کی جانب سے فلسطین کے مسئلہ اور فلسطین کو دنیا کی سیاست سے نابود کرنے کے مترادف ہے۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب ممالک جو امریکہ کے اس منصوبہ میں امریکی سامراجی نظام کا ساتھ دے رہے ہیں وہ ایک لمحہ کے لئے بھی فلسطینیوں کے حقوق کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔امریکہ اور چند عرب ممالک مل کر فلسطین کا سودا کر رہے ہیں اور اس سودے کا خریدار کوئی اور نہیں پہلے سے ہی فلسطین کی سرزمین پر غاصب و قابض اسرائیل ہے۔
    حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب مسلسل اسرائیل اور عرب امارات کے عہدیداران کی ملاقاتوں کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔سوال یہ ہے آج تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے والوں کو کیا حاصل ہو اہے جو اب متحدہ عرب امارات حاصل کرے گا؟دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ جب اسرائیل تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر آ پہنچا ہے کہ جب وہ اپنے وسیع تر اسرائیل کے خواب کو مکمل نہیں کر پا رہا بلکہ اس سے الٹ اپنے ہی گرد دیواروں کا جال بچھا کر خود کو محدود کر رہا ہے تو ایسے حالات میں متحدہ عرب امارات جیسے ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور تعلقات قائم کرنا کیا اسرئیل کو سہارا دینے اور خطے میں اسرائیلی دہشت گردی کو توسیع دینے کے لئے تو نہیں ہے؟ تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نے خلیج عرب دنیا کی سیکورٹی کو مزید خطرات میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نہ صرف خلیج بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے اہم ملک کے لئے مزید خطرات جنم لیں گے۔
    امریکہ اور عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے لئے راستے ہموار کرنے کے بارے میں خود غاصب اور جعلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اگرامریکہ اور عرب ممالک اسرائیل کی اس وقت میں حمایت نہ کرتے تو اسرائیل بہت پیچے چلا جاتا اور فلسطینی تحریک آزاد ی عنقریب اسرائیل کو نابود کر ڈالتی۔یہ بات نیتن یاہو نے امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اوراور امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر کے اسرائیل کے لئے راستہ فراہم کر دیا ہے کہ وہ دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرے اور عالمی سطح پر سنہ1967ء تک اسرائیل کی واپسی کے مطالبہ کو بھی دفن کر دیاہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر متحدہ عرب امارات اس وقت اسرائیل کا ساتھ نہ دیتا تو فلسطینیوں کی تحریک اسرائیل کے لئے سنگین خطرہ بنتی اور اسرائیل کا وجود باقی رہنا مشکل تھا۔لہذا عرب امارات نے اسرائیل کو بچا لیا ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے نہ صرف فلسطین کے ساتھ بلکہ تحریک آزادی فلسطین کے ہزاروں شہداء کے خون کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان اقوام کے ساتھ خیانت کی ہے اور خود اپنے ماتھے پر ایک ایسے سیاہ کلنک کو لگایا ہے کہ جو کبھی بھی ان کے چہرے سے دور نہیں ہو گا۔ فلسطین،فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل غاصب صہیونیوں کی ایک جعلی ریاست ہے جسے آج نہیں تو کل آخر کار نابود ہونا ہی ہے۔

  • 7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت  ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت
    ازقلم :-
    محمد عبداللہ گِل
    اللہ تبارک و تعالی انسانیت کی فلاح کے لیے ان کو آگ سے بچانے کے لیے،ان تک حق بات کو پہنچانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔یہ انبیاء کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور سرور دو عالم،رحمت العلمین،شافعی روز محشر،محبوب رب العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہوا۔
    اللہ تبارک و تعالی نے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا اور اسلام کو اپنا پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا
    رب کریم قرآن میں سورہ عمران میں ارشاد فرماتے ہیں:-

     إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ  
    بے شک اللہ کے نزدیک(معتبر)دین اسلام ہے

    اللہ تبارک و تعالی نے اپنے حبیب کو آخری نبی بھی بنا کر بھیجا اس کے ساتھ ساتھ اسلام کو پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا۔اور اپنے حبیب خاتم الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دین اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان کر دیا۔
    قرآن میں سورہ المائدہ آیت نمبر 3 میں رب کریم ارشاد فرماتے ہیں:-

    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا [المائدة:3] 

    آج کے دن ہم نے تمھارے لیے(اسلام)دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو مکمل کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

    سورہ المائدہ کی آیت میں دین کے مکمل ہو جانے سے مراد اسلام کو ابدی دین قرار دینا ھے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور پر وحی کا نزول نہیں ہو گا۔اس کے بعد اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر بھیجا اور اس کا اظہار اپنے کلام پاک میں یوں فرمایا:-

    مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(سورہ احزاب 40)

    مسلمانو ! ) محمد ( صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہ۔وسلم ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں ۔ ( ٣٥ ) اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے ۔
    • جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فانی دنیا سے رخصت فرما گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جھوٹے مدعیان نبوت سر اٹھا لگے۔جن میں مسیلمہ کذاب سر فہرست تھا۔ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف اعلان جہاد کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کی سرپرستی میں ان جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جنگ یمامہ لڑی جس میں مسیلمہ کذاب تو جہنم واصل ہوا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر پہرہ دینے کے لیے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہو گے۔ان کا شہادتوں سے گزر جانے کا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ آقا نامدار کی ختم نبوت پر جو انگلی اٹھے گی وہ کاٹ کے رکھ دے گے۔
    • در حقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اس امت پر پروردگار کریم کا احسان عظیم ہے کہ اس عقیدے نے اس امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے، پوری دنیا میں آج مسلمان عقائد وعبادات، احکامات اور ارکان دین کے لحاظ سے جو متفق ہیں وہ صرف اسی عقیدہ کی برکت ہے،مثلاً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس طرح پانچ نمازیں فرض تھیں آج بھی وہی ہیں، رمضان المبارک کے روزے، نصاب زکوٰۃ، حج وعمرہ کے ارکان، صدقہ فطر وعشر کانصاب، قربانی کا طریقہ، ایام عیدین سب اسی طرح ہے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا، یہ سب عقیدہ ختم نبوت کی وجہ سے ہے ورنہ اسلامی عقائد وارکان سلامت نہ رہتے، اسلامی عقائد وارکان کی سلامتی کا سب سے بڑا سبب عقیدہ ختم نبوت ہے چونکہ یہ عقیدہ اسلام کی عالمگیریت اور حفاظت کا ذریعہ ہے اس لیے دنیا ئے کفر شروع سے ہی اس عقیدہ میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ دین اسلام کی عالمگیریت اور مقبولیت میں رکاوٹ کھڑی کی جاسکے اور کسی طرح اس کے ماننے والوں کے ایمان کو متزلزل کیا جاسکے، ان سازشوں کا سلسلہ دور نبوت میں سلیمہ کذاب سے شروع ہوا اور فتنہ قادیانیت تک آن پہنچا لیکن ہر دور میں قدرت نے ان سازشوں کو ناکام کیا ہے اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک یہ سازشیں ناکام ہوتی رہیں گی اور دین اسلام اور ختم نبوت کا پرچم سدا بلند رہے گا۔
    قادیانیت کا فتنہ انگریز نے مسلمانان برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے ہٹانے کے لیے مسلط کیا تھا۔1891میں جب مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعو ی کیا تو سب سے پہلے مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور سید نذیر حسین محدث دہلوی ؒ سمیت دو سو علماء کے دستخطوں سے متفقہ طور پر مرزا غلام قادیانی کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتوی جاری کیا۔مرزاقادیانی سے سب سے پہلا مباہلہ جون 1893میں عید گاہ اہل حدیث امر تسر میں مولانا عبد الحق غزنوی ؒ نے کیا۔ حیات مسیح پر پہلا تحریری مناظرہ مونا بشیر احمد شہسوانی ؒ نے دہلی میں1894 میں کیا جہاں مرزا ملعون فرار اختیار کر گیا اس کے بعد سب سے پہلا کتابچہ مولانا اسماعیل علی گڑھی ؒ نے تحریر کیا سب سے پہلے کتاب کم عمری میں علامہ قاضی سلیمان منصور پوری ؒ نے لکھی جو کہ بعد میں شہرہ آفاق سیرت نگار کے طور پر مشہور ہوئے سب سے پہلے قادیان پہنچ کر مرزا غلام قادیانی اور مرزائیت کی دھجیاں اُڑانے والی عظیم شخصیت شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ کی تھی جن کو تمام مکاتب فکر فاتح قادیان کے لقب سے یاد کرتے ہیں یہی وہ مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ ہیں جن کے ساتھ مباہلہ کی دعا میں مرزا قادیانی ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوا۔علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒ کی ’’القادیانیت ‘‘، ’’مرزائیت اور اسلام‘‘،عربی ،اُردو میں شائع کرکے عظیم کارنامہ سر انجام دیاعلمائے اہلحدیث، دیوبند ، بریلوی مکتب فکر کے مشائخ نے تحریک ختم نبوت میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جن کو بیان کیا جائے تو مکمل کتابچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔پاکستان وجود کے بعد 22 فروری 1974ء کو نشتر کالج کے ًطلبہ کا ایک گروپ ’’شمالی علاقہ جات‘‘ کی سیروتفریح کی غرض سے ملتان سے پشاور جانے والی گاڑی چناب ایکسپریس کے ذریعہ روانہ ہوا جب گاڑی ربوہ (چناب نگر) پہنچی تو مرزائیوں نے گاڑی میں مرزا قادیانی کا کفر والحاد پر مشتمل لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا جس سے طلبہ اور قادیانیوں میں جھڑپ ہوتے ہوتے رہ گئی، 29 مئی 1974ء کو طلبہ چناب ایکسپریس کے ذریعے واپس آرہے تھے کہ گاڑی ربوہ ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو قادیانیوں نے طلبہ پر حملہ کردیا اور اتنا تشدد کیا کہ وہ خون میں نہا گئے جب گاڑی فیصل آباد پہنچی اور عوام نے نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوائوں کو اس زخمی حالت میں دیکھا تو وہ برداشت نہ کرسکے اور قادیانیت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوگیا، یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہر شخص ختم نبوت کا وکیل نظر آیا اور پورے ملک میں احتجاجی ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کا سیلاب امڈ آیا، ختم نبوت کی برکت سے تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور اتفاق رائے سے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا صدر محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضویؒ کو منتخب کرلیا گیا، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحریک چلی اس تحریک میں آپ کے ہمراہ مفتی محمودؒ، مولاناغلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا سید ابو ذر بخاریؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا عبیداللہ انور، آغا شورش کشمیریؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، سید مودودیؒ، مولانا عبدالقادر روہڑیؒ، نوابزادہ نصراللہؒ، مظفر علی شمسیؒ اور دیگر اہم راہنما شامل تھے، حکومت تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگئی، قومی اسمبلی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی نمایندگی مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور دیگر کررہے تھے، مذکورہ حضرات نے شب و روز کی کوششوں سے وہ تمام لٹریچر جمع کیا جو خصوصی کمیٹی کے لیے ضروری تھا، شہداء ختم نبوت کا مقدس خون اور قائدین تحریک تحفظ ختم نبوت کی بے لوث قربانیاں رنگ لے آئیں، قومی اسمبلی نے مرزا ناصر پر 11 دن اور مرزائیت کی لاہوری شاخ کے امیر پر 7 گھنٹے مسلسل بحث کی، 7 ستمبر 1974ء کو وہ مبارک دن آ پہنچا جب قومی اسمبلی نے متفقہ طورپر دن 4بج کر 35 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قائدایوان کی حیثیت سے خصوصی خطاب کیا، عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سلسلے میں آئینی ترمیم کا تاریخی بل پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور اس عظیم کامیابی پر حزب اقتدار وحزب اختلاف خوشی ومسرت سے آپس میں بغل گیر ہوگئے، آغا شورش کشمیریؒ، علامہ محمود احمد رضویؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، اور علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کہا کرتے تھے کہ مولیٰ ’’تیری ادا پر قربان جائیں کہ تونے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا فیصلہ کسی چوک اور چوراہے میں نہیں کرایا بلکہ پارلیمنٹ میں کروایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ دائرہ ا سلام سے خارج ہے۔آخر میں یہ ہی کہوں گا
    کون للکارے گا باطل کو تیرے لہجے میں

  • پاکستان ٹوئٹر پینل پر می ٹو مہم ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر می ٹو مہم ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

    پاکستان سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پینل پر ’می ٹو‘ کا ٹرینڈ ٹاپ کر رہا ہے جس میں اداکار نعمان اعجاز کا ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود دوسری خواتین کے ساتھ معاشقے کے بارے میں بات کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : ’می ٹو‘ ٹرینڈ میں پہلے تو کئی افراد نے فالتو اور موضوع سے ہٹی ہوئی ٹوئٹس بھی کیں تاہم اس معاملے پر سب سے زیادہ اداکار نعمان اعجاز کے ایک سال پرانے انٹرویو کی ایک کلپ شیئر کی گئی۔

    نعمان اعجاز کے پرانے انٹرویو کی کلپ بظاہر ابتدائی طور پر طوبیٰ سید کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے مذکورہ ٹوئٹ کو درجنوں افراد نے شیئر کرنا شروع کردیا۔


    دو منٹ سے زائد دورانیے کی ویڈیو میں نعمان اعجاز شادی شدہ خواتین سے معاشقے کرنے سمیت خواتین کی جانب سے کسی بھی مسئلے کو غلط استعمال کرنے پر بات کرتے دکھائی دئیے۔

    دراصل نعمان اعجاز کی مذکورہ ویڈیو کلپ ان کی جانب سے اداکارہ عفت عمر کو 12 اور 16 اگست 2019 کے درمیان دئیے گئے ایک انٹرویو سے لی گئی۔

    نعمان اعجاز کا مذکورہ انٹرویو عفت عمر نے دو قسطوں پر یوٹیوب پر نشر کیا تھا انٹرویو کی پہلی قسط 12 اگست جب کہ دوسری قسط 16 اگست کو نشر کی گئی تھی۔

    نعمان اعجاز کی ویڈیو کلپ ان کے انٹرویو کی دوسری قسط سے لی گئی جس میں نعمان اعجاز ایک سوال کے جواب میں دوسری خواتین سے محبت کی بات کرتے ہیں۔

    جس میں میزبان عفت عمر نعمان اعجاز سے سوال کرتی ہیں کہ انہوں نے کبھی ایک دن کی محبت کی؟

    جس پر نعمان اعجاز کچھ سوچنے کے بعد بولتے ہیں کہ انہیں ہر لمحے بلکہ ہر روز محبت ہوتی ہے اور وہ بے حد محبت کرنے والے آدمی ہیں۔

    نعمان اعجاز سوال کے جواب میں مزید بتاتے ہیں کہ اگر کوئی بھی خوبصورت خاتون ہیں چاہے اندر سے یا باہر سے یا پھر کوئی مشکل خاتون ہو انہیں محبت ہوجاتی ہے۔

    نعمان اعجاز کے جواب میں عفت عمر پھر سوال کرتی ہیں کہ ایسی صورت میں پھر وہ عشق کرلیتے ہیں؟ جس پر نعمان اعجاز جواب دیتے ہیں کہ ہاں وہ عشق کرلیتے ہیں۔

    نعمان اعجاز کے اعتراف کے بعد عفت عمر ان سے مزید سوال کرتی ہیں کہ پھر بیگم صاحبہ؟ جس پر اداکار بے ججھک اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے بیگم صاحبہ کو کبھی اس بات کا پتا ہی نہیں چلنے دیا۔

    اداکار مزید کہتے ہیں کہ وہ انتہائی اچھے اداکار اور ہوشیار مرد ہیں جس وجہ ان کی بیگم کو کچھ پتا نہیں چلتا۔

    نعمان اعجاز کے اسی جواب پر عفت عمر ان سے مزید سوال کرتی ہیں تو پھر ایسے میں جن سے وہ عشق کرتے ہیں تو ان کو پتا چلتا ہے؟ جس پر اداکار بولتے ہیں کہ ان کے شوہروں کو بھی پتا نہیں چلتا۔

    اس پر ایک بار پھر عفت عمر ان سے پوچھتی ہیں کہ ان خواتین کو خود کو پتا چلتا ہے؟ جس پر نعمان اعجاز جواب دیتے ہیں کہ انہیں بلکل پتا چلتا ہے اور ہم مل کر اس معاملے کا دفاع کرتے ہیں۔

    اداکار کے جواب پر میزبان عفت ہنس پڑتی ہیں اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ ان سے آج نئی باتیں سیکھ رہی ہیں۔

    اسی معاملے کے آخر میں نعمان اعجاز ہنس کر بات کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ اس پروگرام کے بات ان کا ہی ہتھیار ان کے خلاف نہ استعمال کیا جائے۔

    لوگوں نے اتنا کلپ دیکھ کر ہی نعمان اعجاز اور عفت عمر کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیاہے کہ انہوں نے نعمان اعجاز کو ایسی باتیں کرنے پر تنقید کا نشانہ کیوں نہیں بنایا؟ جبکہ مذکورہ انٹر ویو میں ہی اس کے بارے میں نعمان اعجاز نے وضاحت دی تھی-

    مذکورہ انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے می ٹو مہم کے حوالے سے سوال کرنے پر نعمان اعجاز نے کہا کہ اگر کوئی 18 سال کی لڑکی ان کے پاس کام کے لیے آتی ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ انہیں فلاں منصوبے میں فلاں کردار دیا جا سکتا ہے اور وہ ان کا آ ڈیشن لیتے ہیں تاہم آڈیشن کے دوران وہ ان کی امیدوں پر پورا نہیں اترتی تو وہ کچھ اور سوچتے ہیں۔

    اداکار نے بتایا کہ لڑکی کی جانب سے اُمیدوں پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے میں سوچتا ہوں کہ اسے کسی اور منصوبے میں کام دیا جا سکتا ہے لیکن پھر مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ دوسرے منصوبے کے لیے بھی معیار پر پورا نہیں اترتی اور وہ اس لڑکی کو مزید تیسرے منصوبے میں کام کا آسرا دیتے ہیں تو اس سارے عمل میں وہ لڑکی مایوس ہوجائے گی اور وہ غلط سوچنے لگیں گی۔

    نعمان اعجاز کے مطابق اسی صورتحال کی وجہ سے ہی آگے چل کر لڑکی مایوسی اور تنگی کی وجہ سے ان پر الزام لگاتی ہیں اور پھر ’می ٹو‘ شروع ہوجائے گا۔

    نعمان اعجاز نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایسی ہی باتوں کی وجہ سے نئی نسل کی اداکاراؤں سے دور ہوگئے ہیں اور وہ اپنے منصوبوں کے دوران ایسی لڑکیوں یا اداکاراؤں سے دور رہتے ہیں۔
    https://twitter.com/MirPAK5/status/1303268899455217664?s=20


    https://twitter.com/BandaeNacheez1/status/1303315767530868742?s=20


    https://twitter.com/BandaeNacheez1/status/1303315767530868742?s=20


    https://twitter.com/Rizwow/status/1303371424673955840

  • کیا میڈیا آزاد ہے؟؟  تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کیا میڈیا آزاد ہے؟؟ تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کیا میڈیا آزاد ہے؟؟

    ہمارے وزیراعظم نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بہت بڑا دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے ملک کا میڈیا آزاد ہے۔ یہ بھی اس طرح کا جھوٹ ہے جیسا جھوٹا 2013 کے الیکشن 35 پنکچر والا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    ہمارے ملک کا میڈیا حق اور سچ کو نہ دکھاسکتا ہے اور نہ ہی حق بتا سکتا ہے۔ بلکہ کتمان حق بڑے جوش وخروش سے کرتا ہے۔ عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا کر قوم کو نان ایشوز میں مصروف رکھنے کا ہنر خوب جانتا ہے۔
    ملک کا میڈیا یہودی اور ان کے ہمنواؤں کا میڈیا ہونے کا بھرپور ثبوت دیتا ہے۔ اور غیر مسلم اور ملک دشمن ایجنڈے کو خوب پھیلاتا ہے۔ ہر کام جو اسلام کے خلاف ہو وہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر نشر کرتا ہے بلکہ مختلف چینلز کا اس میں مقابلہ ہوتا ہے۔

    بےحیائی، عریانی اور فحاشی کے کلچر کو یہ میڈیا خوب پروموٹ کرتا ہے۔ بلکہ” میرا جسم میری مرضی” جیسے بیہودہ اور واہیات پروگراموں کی مسلسل اور لائیو کوریج بھی کرتا ہے۔ اسلام اور دینی لوگوں کو بدنام کرنے اور ان پر کیچڑ اچھالنے کے لئے ماروی سرمد جیسی آوارہ اور بدچلن عورتوں کو بھی خوب پروموٹ کرتا اور انہیں وقت دیتا ہے۔

    یہی میڈیا ہے جس نے 2014 کا مشہور دھرنا 126 دن تک دن رات دکھایا تھا۔ چند سو افراد اور باقی خالی کرسیاں ہوتی تھیں جنہیں یہ مکمل اور لائیو کوریج دیا کرتے تھے۔ جب کہ اس دھرنے کے مقابلے میں دینی جماعتوں کے بڑے بڑے اور بھرپور پروگرام ہوتے ہیں جنہیں کوریج دینے سے یہ میڈیا ہمت نہیں رکھتا بلکہ ان پروگراموں کی جھلکیاں بھی صحیح طور پر نہیں دکھاتا۔

    کل پشاور میں جمعیت علمائے اسلام کا ختم نبوت کے سلسلے میں ایک تاریخی اور بہت بڑا پروگرام ہوا جس میں قائد جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان صاحب اور قائد اہل حدیث علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب اور دیگر نے خطاب کیا۔ جس قدر پروگرام بڑا تھا اس کے مطابق میڈیا میں کچھ بھی کوریج نہیں دی گئی۔ کیونکہ یہ آزاد میڈیا نہیں بلکہ غلام اور دجالی میڈیا ہے۔
    وقت کی ضرورت ہے کہ اب دینی جماعتیں بھی اپنے سیاسی چینلز قائم کریں اور اس میڈیا سے آزادی حاصل کریں۔
    ۔۔۔۔۔۔ عبدالرحمن ثاقب سکھر