Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • حیدر علی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا روشن ستارہ ہیں

    حیدر علی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا روشن ستارہ ہیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ اور پکستان میوزک انڈسٹری کے نامور گلوکار عاصم اظہر نے حیدر علی کی پرفارمنس پر انہیں پاکستان کا رون ستارہ قرارد دیا-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں ڈیبیو کرنے والے حیدر علی نے اس قدر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا دنیا بھر میں جہاں عوام کی جانب سے نوجوان کھلاڑی کی تعریفیں کی جارہی ہیں وہیں پاکستان کی شوبز حیدر علی کی کارگردگی پر خوشی کا اظہار کیا ہے جن میں گلوکار عاصم اظہر اور اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ نے بھی نوجوان کھلاڑی کو سراہتے ہوئےاپنے پیغامات جاری کئے ہیں-

    پاکستانی اداکار فہد مصطفیٰ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ پُر امید ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچز حیدر علی سے دور رہیں گے اور انہیں اپنے اسٹائل میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔

    فہد مصطفیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچز حیدر علی سے دور رہیں گے تاکہ وہ اپنے اسٹائل میں کھیلتے رہیں۔


    انہوں نے حیدر علی کو نصف سینچری کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کی تعریف بھی کی۔


    علاوہ ازیں فہد مصطفیٰ نے محمد حفیظ کے ٹویٹ کو جس میں انہوں نے آج کے میچ میں شاندر کارکردگی اور میچ جیتنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے ان کی میچ میں بہترین اننگز پر مبارکباد دی-


    دوسری جانب گلوکار عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں حیدر علی کو کرکٹ ٹیم میں شاندار ڈیبیو پر سراہتے ہوئے ان کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا ایک روشن ستارہ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ حیدر علی کی پہلے ہی میچ میں شاندار اور جارحانہ بیٹنگ نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروادی ہے اور دنیا بھر میں میچ کے شائقین سے داد وصول کر رہے ہیں- حیدر علی نے اپنے پہلے ہی میچ میں 28 گیندوں پر ففٹی مکمل کر کے ڈیبیو پر یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں-

    تیسرا ٹی20: پاکستان کا انگلینڈ کو فتح کیلئے 191 رنزکا ہدف ،شکست یا فتح ،دونوں ٹیموں کے لیے اہم

    تیسرا ٹی ٹوئنٹی:انگلینڈ کی ٹاس جیت کر فیلڈنگ، پاکستانی ٹیم میں تین تبدیلیاں

    محمد حفیظ اور شاہین شاہ آفریدی کی آئی سی سی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں ترقی

    ایمرا کا سالانہ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020،تین ہزارسے زائد کھلاڑیوں کی شرکت متوقع

  • فیصل قریشی کی مسلسل 7 دن بجلی کی عدم فراہمی پر کے الیکٹرک پر طنزیہ تنقید

    فیصل قریشی کی مسلسل 7 دن بجلی کی عدم فراہمی پر کے الیکٹرک پر طنزیہ تنقید

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور میزبان مسلسل جراچی کی خراب صورتحا ل اور بجلی کی عدم فراہمی پر سوشل میڈیا پر دُکھ اور برہمی کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : گزشتہ رات سوشل میڈیا پر اداکار نے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے گھر مون سون بارشوں کے بعد جانے والی بجلی اب تک بحال نہیں ہوسکی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں اداکار نے لکھا کہ کل صبح 8 بجے ماشاءاللہ سے بغیر بجلی کے سات دن ہوجائیں گے۔


    انہوں نے کے الیکٹرک کو ٹیگ کرتے ہوئے طنزاً ’شاندار‘ بھی لکھا۔

    اس سے قبل فیصل قریشی نے لکھا تھا کہ مسلسل 5 دن سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جنریٹر پر گزارا کیا جارہا ہے۔

    اپنے ٹوئٹ میں دُکھ بیان کرتے ہوئے اداکار کا کہنا تھا کہ پانچ دن سے مسلسل جنریٹر چل رہا ہے اور اب وہ عجیب عجیب سی آوازیں بھی نکال رہا ہے۔

    انہوں نے کے الیکٹرک کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کِیا آپ مجھے میرے نئے جنریٹر کے لئے ادائیگی کریں گے یا سال کا بل نہیں ہے حاصل کریں گے ؟؟؟ اب بھی میرے علاقے میں بجلی نہیں ہے


    یاد رہے کہ کراچی کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی ابھی تک بحال نہیں ہو سکی جبکہ ڈیفیس اور کلفٹن سے بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے اور بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف ان علاقوں کے رہائشیوں کی جانب سے رواں ہفتے پیر کو کنٹونمٹ بورڈ (سی بی سی) کے دفتر کے باہر احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

    ہ ہیڈ ڈسٹری بیوشن کے الیکٹرک احسن انیس کا کہنا ہے کہ ڈیفنس کے4 سے 5 علاقوں میں تا حال پانی موجود ہے پانی کی نکاسی کے بعد 6 سے 12 گھنٹوں میں بجلی بحال ہوگی

    اداکار فیصل قریشی مسلسل 5 دن سے بجلی کی عدم فراہمی پر کے الیکٹرک پر برہم

    کراچی کے 95 فیصد علاقوں میں بجلی معمول پرآگئی،کے الیکٹرک کا دعویٰ

    کراچی میں حالیہ بارشوں سے انفرا سٹرکچر تباہ ہوگیا

     

  • برطانوی معروف یوٹیوب اسٹار جے پلفری دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے

    برطانوی معروف یوٹیوب اسٹار جے پلفری دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے

    برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معروف یوٹیوبر جے جورج ولیم پلفری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : نو مسلم یوٹیوبر جے جورج ولیم پلفری نے اپنے یوٹیوب چینل پر ’میں مسلمان ہوگیا‘ کے عنوان سے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ میں یہ کسی کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا لیکن میرے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے سفر سے بہت سے لوگ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

    جے پلفری نے کہا کہ میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں اسلام کا پیغام سب کے سامنے لاؤں جو واحدانیت، محبت اور امن کا پیغام ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ کچھ روز قبل انہوں نے تُرکی کی سلیمانیہ مسجد کا دورہ کیا اور آخر کار اپنی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم قدم اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔
    https://www.youtube.com/watch?v=EXZFyqGWkyE&feature=youtu.be
    07 منٹ اور 25 سیکنڈ پر مبنی ویڈیو میں انہیں استنبول کی سلیمانیہ مسجد میں کلمہ شہادت اور ایمان کی صفتیں پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    جے پلفری نے کہا کہ دنیا بھر میں گھومنے پھرنے کے دوران میں نے حیرت انگیز لوگوں سے ملاقات کی، اپنے اس مستقل سفر کے دوران میں نے بہت کچھ سیکھا اور تجربہ حاصل لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے روحانی وجود کو سمجھنے کا موقع بھی ملا۔
    https://www.youtube.com/watch?v=d-WTKCudfoE&feature=youtu.be
    انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک میں رہتے ہوئے مجھے اسلام کی سچائی کا بھی اندازہ ہوا جو انتہائی خوبصورت، پُرامن لیکن سب سے زیادہ غلط فہمی کا شکار مذہب ہے-

    نو مسلم یوٹیوبر نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سارے لوگ آج بھی اسلام کی اصل بنیادوں پر تنقید اور غلط فہمی رکھتے ہیں جبکہ اسلام امن ، یکجہتی، اتحاد اور محبت کا درس دینے والا مذہب ہے۔

    جے پلفری نے کہا کہ اسلام کو سمجھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ اسلام ہی وہ راستہ ہے جس کی مجھے برسوں سے تلاش تھی۔

    اپنے پیغام کے آخر میں جے پلفری نے تمام چاہنے والوں اور حمایت کرنے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    خیال رہے کہ جے پلفری برطانیہ کے مشہور و معروف یوٹیوبر ہیں جن کے یوٹیوب پر سبسکرائبرز کی تعداد 5 لاکھ 34 ہزار سے زائد ہے-

    کربلا میں امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت ہمیں ہر طرح کے ظلم اور ناانصافی کے…

    زندگی کو بھرپور طریقے سے جیا جائے تو ہر دن پلک جھپکتے گزرنے کے مترادف ہے مایا علی

    ارطغرل غازی کے مرکزی کردار انجین التان مسجد کا افتتاح کرنے کے لئے پاکستان آئیں گے

     

  • مایاعلی کا ڈپریشن کے شکار لوگوں کے لئے حوصلہ افزا پیغام

    مایاعلی کا ڈپریشن کے شکار لوگوں کے لئے حوصلہ افزا پیغام

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مایا علی نے سوشل میڈیا پر ڈپریشن اور پریشانیوں کے شکار لوگوں کے لئے ایک حوصلہ افزا پیغام شیئر کیا ہے-

    باغی ٹی وی : علامیگیر وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن ںا فذ‌کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کارابری مراکز اور دوسری ثقافتی سرگرمیاں بند ہونے کی وجہ سے بے روزگاری نے لوگوں کو معاشی طور پر کمزور کر دیا ہے اور اس بے روزگاری اور معاشی تنگی اور بے جا بڑھتی ہو مہنگائی کی وجہ سے لوگ پریشانیوں کا شکار ہیں-

    ان مسلسل پریشانیوں کے باعث اب لوگ اپنا اور اپنے خاندان کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے ڈپریشن کا شکار ہونے لگے ہیں تاہم ایسے میں اداکارہ مایا علی جو اکثر بیشتر اپنے مداحوں کو حالات سے نمٹنے اور خوش رہنے اور مستقبل کے بارے میں حوصلہ افزا پیغامات دیتی بظر آتی ہیں-

    ہمیشہ کی طرح اب بھی اداکارہ نے نے اپنے مداحوں اور پریشانیوں کا شکار لوگوں کو ایک اہم پیغام دے دیا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CEl4i2Nn9k1/?utm_source=ig_embed
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر مایا علی نے اپنی ایک دلکش تصویر شئیر کی جس میں انہوں نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا ہے اور مسکرا رہی ہیں-

    ےصویر شئیر کرتے ہوئے مایا علی نے مداحوں کو نصیحت بھرا پیغام دیتے ہوئے لکھا کہ مسکرانے کی وجہ تلاش کریں اور ساتھ ہی ہنسنے کی ایموجیز بھی شیئر کیں۔

    اداکارہ اس پیغام کو ان کے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہا ہے-

    زندگی کو بھرپور طریقے سے جیا جائے تو ہر دن پلک جھپکتے گزرنے کے مترادف ہے مایا علی

  • مہوش حیات کا ظلم کے خلاف مزاحمت پر کشمیری عوام کو خراج تحیسن پیش

    مہوش حیات کا ظلم کے خلاف مزاحمت پر کشمیری عوام کو خراج تحیسن پیش

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور تمغہ امیتاز اداکارہ مہوش حایت نے یوم عاشورہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے پیلیٹ گن کے بے رحمانہ استعمال کو بڑا ظلم قرار دیتے ہوئے کیشمیریوں کے بلند حوصلوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستانی معروف اداکارہ مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اپنے اپنے ٹوئٹ میں ایک ویڈیو شیئر کی جس میں یوم عاشورہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں نکالے جانے والے جلوس پر بھارتی فوج کی جانب سے پیلیٹ گن کا استعمال کیا گیا نتیجے میں ایک نوجوان سر پر چھرہ لگنے کی وجہ سے زخمی ہو گیا۔

    مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمی نوجوان کے سر سے چھرہ نکالنے کی کوشش کی۔ زخمی نوجوان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر لوگوں نے شدید دُکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا اور نہتے اور معصوم کشمیریوں پر پیلیٹ گن کے استعمال کو بھارتی فوج کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔


    مہوش حیات نے زخمی کشمیری نوجوان کی ویڈیو شئیر رکتے ہوئے لکھا کہ وہ ظلم کے خلاف کشمیری عوام کی مزاحمت کو سلام پیش کرتی ہیں –

    اداکارہ نے کہا کہ اگر عالمی برادری انہیں فراموش کردے تب بھی ان کشمیریوں کی صدا ہمیشہ ان پر مسلط کردہ جنگی جرائم سے بلند ہی رہے گی۔

    مہوش حیات نے کشمیریوں کے بلند حوصلوں اور صبر پر فیض احمد فیض کی شاعری کے چند اشعار لکھ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا:

    بول کے لب آزاد ہیں تیرے

    بول زباں اب تک تیری ہے

    تیرا ستواں جسم ہے تیرا

    بول کہ جاں اب تک تیری ہے

    کراچی کے حالات پر مہوش حیات اور انوشے اشرف کی حکام بالا پر شدید تنقید

    زندگی کو بھرپور طریقے سے جیا جائے تو ہر دن پلک جھپکتے گزرنے کے مترادف ہے مایا علی

  • لباس پر تنقید،ایسرا بلجیک کا پاکستانی مداح کو کرارا جواب

    لباس پر تنقید،ایسرا بلجیک کا پاکستانی مداح کو کرارا جواب

    شہرہ آفاق تُرک سیریز ارطغرل غازی میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی ترک اداکارہ ایسا بلجیک نےاپنے لباس پر تنقید کرنے والے پاکستانی مداح کو آخر کار تنگ آ کر کرارا جواب دے دیا-

    باغی ٹی وی : ترک ڈرامہ ’ارطغرل غازی‘ دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اس ڈرامے نے پاکستان میں مقبولیت کے نتعدد نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں اور نہ صرف ڈرامے بلکہ اس کے کرداروں کو بھی پاکستان میں خوب شہرت حاصل ہوئی ہے خاص طور پر مرکزی کرداروں کو-

    پاکستانی عوام ڈرامے کی کہانی اور کرداروں سے اپنے جذبات اور محبت کا اظہار بھی کررہی ہے- سوشل میڈیا پر جہاں ڈرامے کی خوب پزیرائی ہورہی ہے وہیں کچھ پاکستانی مداح ڈرامے کے کرداروں کی ذاتی زندگی پر بھی تنقید کررہے ہیں۔

    پاکستانیوں کی تنقید کا سب سے زیادہ شکار ہونے والی ڈرامے کی ہیروئن ایسرا بلجیک ہیں کیونکہ ایسرا ذاتی زندگی میں ڈرامے میں اپنے کردار حلیمہ سے بالکل مختلف ہیں اور مغربی طرز کا لباس زیب تن کرتی ہیں اور اس لباس میں اکثر تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کرتی ہیں۔

    تاہم ایسرا کا مغربی طرز کا لباس ان کے پاکستانی مداحوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور کئی پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ان کے لباس پر بہت زیادہ تنقید کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کرچکے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ تو اداکارہ نے تنگ آکر انسٹاگرام پر کمنٹ سیکشن ہی کردیا تھا جس سے کوئی تبدیلی نہیں آئی لہذا پاکستانیوں کی جانب سے اپنی پسندیدہ اداکارہ ایسرا پر تنقید کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور انہوں نے پہلی بار اس تنقید پر جواب بھی دیا ہے-

    ترک اداکارہ نے اپنے پر تنقید کرنے والے شخص کو جواب دیا جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

    ان کے مداح نے ایسرا کے لباس پر تنقید کرتے ہوئے کمنٹ کیا کہ حلیمہ باجی آپ ایسا لباس نہ پہنا کریں یہ اچھا نہیں لگتا-

    مداح کے اس کمنٹ پر تُرک اداکارہ ایسرا بلجیک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو ایک چھوٹی سی نصیحت کرتی ہوں مجھے آپ سوشل میڈیا پر فالو نہ کروتو میں آپ کی شکرگزار ہوں گی-

    اس کمنٹ پر جہاں سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ حلیمہ پر تنقید کرنے والے شخص کو برا بھلا کہہ رہے ہیں کہ بے عزتی کرواکر سکون مل گیا پاکستانیوں کو کسی کی ذاتی زندگی میں دخل نہیں دینی چاہیئے پاکستانیوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے وغیرہ وہیں کچھ لوگ اس شخص کی حمایت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس نے حلیمہ کو بڑی بہن کی طرح عزت دیتے ہوئے صرف ایک مشورہ دیا ہے لہذا ایسرا کو ایسے رد عمل نہیں دینا چاہیئے تھا-

    واضح رہے کہ دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے-

    اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔

    مذکورہ سیریزاور اس کی کاسٹ بالخصوص مرکزی کردار پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کرچکے ہیں اس ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی ترک اداکارہ ایسرا بلجیک بھی پاکستانی برانڈز کی ایمبیسڈر بن چکی ہیں۔

    اسرا بلجیک پہلی پاکستانی کمپنی کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    اسمارٹ فون کمپنی کیو موبائل کے لئے ایسرا بلجک کا پہلا اشتہار جاری

    ارطغرل کے مرکزی کردار انجن التان دوزیتان نے 3 بیمار پاکستانی بچوں کی خواہش پوری کردی

  • گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    یہ تینوں خوبصورت اور مضبوط گُنبد مسجد کے ہیں، یہ مسجد اُتّرپردیش کے ضلع سِدّھارتھ نگر، تھانہ ڈومریا گنج کے ایک گاؤں "کَمہَرِیا” میں ہے، آج میں حافظ یحیٰ صاحب سے ملاقات کے لئے اُن کے گھر گیا، اُن سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور بڑی محبّت سے پیش آۓ، حافظ یحییٰ صاحب کے گھر سے مُتّصِل ہی یہ مسجد ہے، مسجد کو دیکھنے کے بعد لگا کہ یہ تو مُغَل فَنِّ تعمیر کی مسجد ہے، مسجد کی تعمیر کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ اِس کی تعمیر کا پتہ نہیں، یعنی یہ بہت ہی قدیم مسجد ہے، اِس طرح کی مسجدیں ہندوستان میں کئی جگہوں پر موجود ہیں، اِس طرح کی مسجدیں ٹھنڈ ہوتی ہیں، مسجد میں قدرتی ہوا کے لئے بہترین انتظام ہوتا ہے، چَھت کا پانی نیچے گِرنے کے لئے بھی تکنیکی اِنتظام ہوتا ہے، دیواریں کافی موٹی ہوتی ہیں، بابری مسجد کے طرز پر اِس مسجد کے بھی گُنبد ہیں، خاص بات یہ ہے کہ سالوں گزرنے کے بعد بھی دیواروں میں دراڑیں نہیں آئی ہیں اور نہ ہی کہیں سوراخ ہوا ہے کہ جس سے مسجد کے اندر پانی آۓ، مُغَل بادشاہوں نے پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعمیر کروائی، جن میں سے اِس طرح کی مسجدیں بھی شامل ہیں جو کئی گاؤں میں پائی جاتی ہیں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • کراچی کا ڈُوبنا  تحریر:عدنان عادل

    کراچی کا ڈُوبنا تحریر:عدنان عادل

    کراچی ملک کا ایک یتیم اور لاوارث شہر ہے۔گزشتہ ہفتہ چند دنوں کی تیز بارش سے شہرمیںجوبربادی ہوئی ٹیلی ویژن چینل صبح شام دکھاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی حالت ِزار کی ویڈیوز نشر کرتے رہے۔ یہ اس شہر کا حال ہے جو وفاقی حکومت کی آمدن کا تقریباً نصف مہیا کرتا ہے اور سندھ حکومت کے محصولات کا نوّے فیصدلیکن بارش کی صورت میں نکاسئی آب کے انتظام سے محروم ہے۔ کراچی کے محنت کش عوام کماتے ہیں جس پر جاگیردار‘ وڈیر ے عیش کررہے ہیں لیکن شہر کے باشندوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ نہ صاف پانی ضرورت کے مطابق دستیاب ہے‘ نہ نکاسئی آب‘ نہ کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست ہے ‘ نہ پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام۔ آدھا شہر کچی آبادیوں میں مقیم ہے۔ یہ کہنا کہ کراچی سمندر کے کنارے آباد ساحلی شہرہے آدھا سچ ہے۔ اب یہ شہرشمال اور مغرب کی جانب اتنا پھیل گیا ہے کہ اسکا بہت سا حصّہ سمندر کے کنارے واقع نہیں ہے بلکہ دُور واقع کیر تھرپہاڑیوں کے کنارے کو چُھو رہا ہے۔ ان پہاڑیوں میں قدرت نے ہزاروں برس میں پانی کے نکاسی کے راستے بنائے ہوئے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو پہاڑیوںسے پانی ان راستوں سے بہہ کر نیچے آتا ہے یعنی سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقہ میں جو کراچی کا مغربی علاقہ ہے۔ یہ برساتی نالے ملکر ہی شہر کی دو ندیاں بناتے ہیں جنہیں لیاری اور ملیر ندی کہا جاتا ہے۔ یہ ندیاں پانی لیکر سمندر میں گرتی ہیں۔ ان قدرتی نالوں کے راستوں میں رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں جنکے ساتھ نکاسئی آب کی غرض سے ڈرین نہیں بنائے گئے۔ ان قدرتی برساتی نالوں اور ندیوں سے ریت نکالی جاتی ہے جس سے تعمیرات کی جاتی ہیں۔اس لئے ان ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ مزید تیز ہوگیا ہے جو شہر کا رُخ کرلیتا ہے۔ ماہر تعمیرات اور اربن پلانرعارف حسن صاحب کے مطابق شہر میںچونسٹھ پینسٹھ بڑے نالے ہیں اور ہزاروں چھوٹے چھوٹے نالے ہیں۔لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتے ہوئے ان نالوں کو محفوظ نہیں کیا گیا بلکہ ان پر تعمیرات کرلی گئیں۔ پانی کے بہہ جانے کے قدرتی راستے مسدود کردیے گئے۔ چھوٹے چھوٹے نالے غائب ہوگئے۔اس پر مستزاد سڑکوں کے ساتھ بنائی جانے والی ڈرین ندیوں میں نہیں گرتیں جس کی وجہ سے بالآخر انکا پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔جب زیادہ مینہ برستا ہے تو شہر کی سڑکیں برساتی نالوںمیں تبدیل ہوجاتی ہیں جسکا مظاہرہ ہم نے چند دنوں پہلے دیکھا ۔ 1960کی دہائی تک کراچی کاسرکاری ترقیاتی ادارہ (کے ڈی اے) اپنی اسکیموں میں گھروں کا گندہ پانی (سیویج) اور برساتی پانی کے نکاس کے لیے الگ الگ نظام بناتا تھا۔ تاہم نجی ہاوسنگ اسکیموں نے اپنے سیویج بڑے برساتی نالوں میں ڈالنے شروع کردیے۔ بعد میں کے ڈی اے نے بھی ایسا کرنا شروع کردیا۔ اب شہر کا بیشتر سیوریج برساتی نالوں میں جاتا ہے۔ سیوریج کا فضلہ برساتی نالوں میں جمتا ہے لیکن ان کی باقاعدگی سے صفائی نہیں کی جاتی کہ پانی کا بہاؤ ہوتا رہے۔ کچھ عرصہ پہلے عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے کراچی میں نکاسئی آب کے لیے اچھی خاصی فنڈنگ کی تھی لیکن وہ بھی ناقص فالو اَپ کی نذر ہوگئی۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی جو کراچی شہر میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرتی ہے اپنے رہائشیوں کونکاسئی آب کی مناسب سہولت تک مہیا نہیں کرسکتی۔ حقیقت یہ ہے کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی ایک بڑے برساتی نالہ کے راستے میں بنائی گئی ہے جو پانی کے سمندرمیں نکاس کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی بھی ایک بڑے قدرتی نالہ کا بہاؤ روکتی ہے۔ مائی کلاچی بائی پاس ایک بڑے نالے کے راستے میں تعمیر کیاگیا ہے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ نالوں میںکی گئی ناجائز تجاوزات نے پوری کردی۔ کراچی کے بڑے نالوں کے بیچوں بیچ مکان اور دکانیں بنائی گئی ہیں۔پانی کیسے سمندر میں جائے؟شہر کے تین بڑے نالوں کا راستہ صاف کرنے کے لیے کم سے کم اسیّ ہزار مکانات منہدم کرنا پڑیں گے ۔جب یہ سب غیر قانونی کام ہورہا تھا تو حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے یاان کاموں میںشریک کار تھے۔ حال ہی میں نیا ناظم آباد کے نام سے ایک نئی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم بنائی گئی جہاں بارش میں مکانات نو دس فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ اس کالونی میںبرساتی پانی کے نکاس کے لیے کوئی ڈرین نہیں بنائی گئی۔ لوگوں کی کروڑوں روپے کی جائیداد تباہ ہوگئی۔ اس ناقص ہاؤسنگ اسکیم کو بنانے والے اور اسکی منظوری دینے والے دونوں قصور وار ہیںلیکن بااثر لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کراچی شہر کی بیس سے زیادہ بڑی سڑکیں ہیں جس کے ارد گرد بڑے بڑے بنگلے تھے لیکن انہیں کسی منصوبہ بندی کے بغیر تجارتی علاقہ بنادیا گیا۔ اب وہاں بڑے بڑے پلازے ‘ شاپنگ مالز ہیں۔ جہاں چند سو لوگ رہتے تھے وہاں ہزاروں لوگ بزنس کرتے ہیں ۔ لاکھوں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ زیادہ لوگوں کے لیے استعمال کا پانی‘ نکاسئی آب کا بندوبست کیسے ہوگا اور ٹریفک کا ہجوم کیسے قابو کیا جائے گا۔ پارکوں کی کچی زمین پانی جذب کیا کرتی تھی وہاںچائنہ کٹنگ کرکے مکانات بنادیے گئے۔ ناجائز تجاوزات اور تجارتی علاقے قرار دیے جانے کے کام ایم کیو ایم نے انجام دیے۔ شہر کی تباہی میں وہ برابر کی ذمہ دار ہے۔ کراچی کے انفراسٹرکچر میں گزشتہ با رہ برسوں میں بہت کم سرمایہ کاری کی گئی۔ پیپلز پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے‘ کراچی شہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اسے یہاں سے ووٹ نہیں ملتے۔ اس بار تواسکے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری لیاری کی پکی سمجھے جانے والی اپنی خاندانی نشست سے بھی ہار گئے تو جذبہ انتقام اور بھی زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کراچی شہر سے سندھ حکومت کو سوا تین سو ارب روپے کی آمد ن متوقع ہے لیکن سالانہ ترقیاتی بجٹ میں اسکے لیے صرف پچیس تیس ارب روپے کی اسکیمیںمختص ہیں۔ حالانکہ اس شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کی خاطر سالانہ ڈیڑھ دو سو ارب روپے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ کراچی شہرسے کما کر اپنی جھولیاں بھرنے والے بہت ہیں لیکن اس پر خرچ کرنے والا کوئی نہیں۔ بارش کے بعد جب بھی شہر میں سیلاب آتا ہے چند روزاسکا اثر رہتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہتری کے لیے کوئی ٹھوس کام ہوجائے تو معجزہ ہی ہوگا۔ ٭٭٭٭٭