Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے تحریر:عاصم مجید، لاہور

    مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے تحریر:عاصم مجید، لاہور

    منفی سوچ
    عاصم مجید، لاہور

    انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ ایک منفی جملہ یا بعض اوقات ایک منفی لفظ انسان کے رویے کو بہت حد تک کڑوا کر دیتا ہے۔
    انسان اس جملے کی کڑواہٹ اور منفی جملے کو لے کر کئی گھنٹے تک کڑوا ہی رہتا ہے اور اس دوران کئے گئے فیصلے اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    مثبت سوچ ،مثبت جملے اور معاشرے میں ہوتے ہوئے مثبت کام دیکھ کر انسانی زندگی پر مثبت اثرات ہوتے ہیں۔
    ہمارا میڈیا زیادہ تر منفی واقعات رپورٹ کرتا ہے۔ لہذا منفی سوچ ہی پروان چڑھتی ہے۔
    یہ منفی سوچ والے افراد اپنے گھر، دوست اور دفتری اوقات میں اپنے ساتھیوں میں منفی سوچ پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ منفی سوچ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ الفاظ کی بناوٹ ہمارے رویہ پر بہت حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسا ہمارے ٹی وی شوز میں موجود اینکر حضرات کے بارے میں ایک چلتا پھرتا دلچسپ تجزیہ ہے۔ یقینا یہ سو فیصد درست نہیں ہو گا. لیکن ہماری منفی سوچ کی عکاس ہے۔

    .
    بندہ اگر ایک گھنٹہ مسلسل ڈاکٹر شاھد مسعود کو سن لے جو کہ ویسے بھی ناممکن تو اس کو پختہ یقین ھو چلے گا کہ اگلے چار گھنٹے بعد قیامت آنے والی ہے.
    .
    بندہ آدھا گھنٹہ اگر مسلسل زید حامد کو سن لے (خدا نخواستہ) تو اس کو ایسا محسوس ہونے لگے گا کہ آج رات ہی ہماری فوج دہلی پر پاکستانی پرچم ٹھوک ڈالے گی.
    .
    بندہ اگر آدھا گھنٹا ارشاد بھٹی کو جھیلنے کی کوشش کر بیٹھے تو اس کو لگے گا کہ بھٹی کی جیب میں گھر کے سودے کی چار پانچ پرچیاں ہر وقت ہوتی ہیں جن کو وہ ٹی وی پہ سبق کی طرح سناتا رہتا ہے۔
    ۔
    بندہ اگر پندرہ منٹ ہی حسن نثار کو سن لے تو اسے یہ محسوس ہونے لگے گا کہ ابھی یہ ٹی وی اسکرین سے نکل کر میرا گریبان پکڑ کر ادھار مانگ لے گا.
    .
    بندہ اگر ایک گھنٹہ مبشر لقمان کے انکشافات سن لے تو اس کو پختہ یقین ہو جائے گا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ بھی نون لیگ نے کرایا.
    .
    بندہ اگر آدھا گھنٹہ منصور علی خان کو سن لے تو اسے تیس منٹ میں لفظ "میرے کپتان” تین ہزار چار سو دس بار سنائی دینے کی وجہ کانوں میں تان، تان، تان کی گونج اگلے دو ہفتے آتی رہے گی۔
    ۔
    بنده صرف پانچ منٹ روف کلاسرا کو سن لے تو ایسے لگتا هے جیسے پوری دنیا جہاں کی کرپشن صرف حکمران پارٹی نے هی کی ھے.
    .
    بندہ صرف اگر ایک گھنٹہ حامد میر کو سن لے تو ایسے لگتا ھے کہ اس کو بھی ابھی نامعلوم ایجنسیاں اسی طرح لاپتہ کرنے والی ھیں جس طرح باقی مسنگ پرسن کو کیا ھے.
    ۔
    بندہ اگر دس منٹ ارشد شریف کو سن بیٹھے تو اسے لگے گا کہ اٹھارویں ترمیم کو فوری ختم کرنا، کرونا ختم کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے ورنہ پاکستان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
    ۔
    بندہ اگر اوریا مقبول جان کو چند منٹ سن لے تو اسے لگے گا کہ پاکستان کے لیے سب سے اچھا ہے کہ ملک میں فی الفور سپہ سالار کی قیادت میں اسلامی صدارتی نظام نافذ کر دیا جائے۔
    ۔
    بندہ صرف جاوید چودھری کو دس منٹ (مجھ سے تو اس سے زیادہ سنا نہیں جاتا) سن لے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے ابن رازی، توتن خامن، گوتم بدھ اور خلیل جبران سارے اس کے کلاس فیلو تھے اور یہ ان سب کا مانیٹر تھا۔

    بندہ اگر صرف ایک گھنٹہ سوشل میڈیا کو دیکھ لے تو ایسا لگتا ھے کہ پاکستان ایک حنوط شدہ ممی کی مانند ھے اور اللہ نہ کرے کسی بھی وقت یہ ٹوٹ سکتا ھے.

    کمال تجزیہ ہے۔
    یعنی کہ لکھنے والے نے یہ محسوس کیا ہے کہ تقریبا جتنے بھی اینکر حضرات ٹی وی شو پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ پاکستان کا صرف منفی چہرہ سامنے لے کر آتے ہیں۔
    شاید ہی کوئی اینکر ایسا ہو جو پاکستان میں مثبت خبریں ، مثبت چہرا ، کئی افراد کا کامیاب کاروبار اور فلاحی کاموں کے متعلق بتاتا ہو۔

    ایسے منفی اثرات دینے والے میڈیا سے منفی اثرات رکھنے والے لوگ سامنے آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں دوست ، احباب اور رشتہ داروں میں مثبت خبریں اور پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے لے کر آئیں۔
    کیونکہ
    مثبت سوچ ہی تعمیری معاشرہ کی اساس ہے۔

  • حالیہ سیریز کی شکست کا قصوروار کسی خاص پلیئر یا کسی ایک شعبے کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا  تحریر:اسد عباس خان

    حالیہ سیریز کی شکست کا قصوروار کسی خاص پلیئر یا کسی ایک شعبے کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا تحریر:اسد عباس خان

    25 اگست کو ساوٹھیمپٹن کے میدان پر جب وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان انگلش وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ساتھ مشترکہ مین آف دی سیریز قرار پائے تو یہی ایک پاکستان کی واحد کامیابی تھی۔ تیسرے ٹیسٹ میں فالو آن ہونے کے باوجود میچ ڈرا کرنے والی ٹیم کے کپتان اظہر علی سیریز کی شکست سے یقیناً مایوس ہوں گے۔ فاتح کپتان جوئے روٹ کی خوش قسمتی کہیں یا مقابل ٹیم کی غیر ذمہ داری جب پہلے ٹیسٹ میں انگلش ٹیم نے یقینی شکست کو ناقابل یقین جیت میں بدل ڈالا اور سیریز جیتنے کے مستحق ٹھہرے ورنہ اظہر علی کی جگہ جوئے روٹ ناقدین کے تنقیدی نشتر سہ رہے ہوتے۔ مجموعی طور پر کھلاڑیوں سے زیادہ موسم کھل کر کھیلا لیکن جب کبھی بھی خاص طور پر مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں اترنے کا موقع ملا تو انہوں نے بھی واپس پویلین لوٹنے میں دیر نہیں لگائی۔ جہاں بائیں ہاتھ کے اوپنر بیٹسمین شان مسعود سیریز کے اولین میچ کی پہلی اننگز میں شاندار سینچری اسکور کرنے کے بعد اچھے کھیل کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکے۔ وہیں بابر اعظم جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی بھی پانچ اننگز میں کُل دو بار ہی پچاس کا آکڑا عبور کر پاۓ جو اتنے بڑے ٹیلنٹ کی شان کے سراسر خلاف ہے۔ آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انگلش ٹیم کی ناقص فیلڈنگ کے باعث دو بار آؤٹ ہونے سے بچ جانے والے کپتان اظہر علی 141 رنز کی اننگز کھیل کر وقتی ہی سہی لیکن ٹیم میں اپنی جگہ اور کپتانی بچانے میں کامیاب رہے۔ تجربہ کار بیٹسمین اسد شفیق اس پوری سیریز میں مکمل فیل نظر آۓ۔ اس کے علاوہ ایک دہائی کے طویل انتظار کے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین فواد عالم کی بدقسمتی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اب اگر باؤلنگ کی طرف آئیں تو سیریز کے اختتام پر کچھ نقاد تجزیہ نگار (تقریبا) اس نو مولود فاسٹ باؤلنگ کو انگلینڈ کا دورہ کرنے والی اب تک کی کسی بھی پاکستانی ٹیم کا کمزور ترین باؤلنگ اٹیک کہ رہے ہیں، لیکن اس بات میں وزن نہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین 200 وکٹیں حاصل کرنے والے تجربہ کار اسپنر یاسر شاہ کے ساتھ دھیمی رفتار کے مالک محمد عباس نہ صرف وکٹوں کی سینچری مکمل کرنے کے قریب ہیں بلکہ اپنی نپی تلی لائن اور لینتھ سے عالمی کرکٹ میں اپنا ایک منفرد نام بھی بنا چکے ہیں۔ جبکہ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ نسیم شاہ بھی غیر معمولی ٹیلنٹ کے حامل ہیں۔ لیکن جب حالیہ سیریز میں کارکردگی کا جائزہ لیں تو ماسوائے یاسر شاہ کے تمام فاسٹ باؤلر واقعی آف کلر نظر آۓ۔ تین ٹیسٹ میچز میں مجموعی طور پر 29 انگلش کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں یاسر شاہ کی وکٹوں کی تعداد 11 رہی۔ جبکہ محمد عباس اور شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں 5،5 اور اٹھارہ سالہ نوجوان نسیم شاہ نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سیریز کی شکست کا قصوروار کسی خاص پلیئر یا کسی ایک شعبے کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جہاں بیٹسمینوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا وہیں ناقص کپتانی کے ساتھ خراب باؤلنگ بھی اس ہار میں برابر کی شریک رہی۔
    سرخ بال کے کھیل میں پریشان کن اختتام کے بعد اب سفید رنگ کی گیند سے ایک نئی سیریز کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ محدود دورانیے کے کھیل میں نہ صرف کھیل کا فارمیٹ تبدیل ہوگا بلکہ کپتان اور کھلاڑی بھی تبدیل ہوں گے۔ ٹی 20 پاکستان کا پسندیدہ فارمیٹ ضرور سہی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سیریز کا نتیجہ بھی تبدیل ہو پائے گا۔۔ ؟؟؟؟؟

    صدائے اسد
    اسد عباس خان

  • لہو سے رنگیں چند اوراق  اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے  ازقلم:عظمیٰ ناصر ہاشمی

    لہو سے رنگیں چند اوراق اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے ازقلم:عظمیٰ ناصر ہاشمی

    لہو سے رنگیں چند اوراق
    اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے

    از قلم :عظمیٰ ناصر ہاشمی

    اوائل نبوت کا زمانہ ہے۔میرے آقا رسالت پر فائز کیے جا چکے ہیں۔خفیہ تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری ہے آغاز وحی کے ساتھ ہی کفر و شرک اور حق و باطل کی کشمکش شروع ہوگئی۔
    کفّار قریش نے مکہ کے ان تمام قبائل کو تکلیف دینا شروع کر دیں جو آپ ﷺپر ایمان لا رہے تھے پہلے پہل اسلام کا اظہار کرنے والوں میں پہلے سات افراد ابوبکر ،عمار ان کی والدہ سمیہ، صہیب ، بلال اور مقداد تھے
    ⚡حضرت بلال کا یہ حال تھا کہ ان کے مالک نے انہیں اپنے دو بیٹوں کے سپرد کردیا جو انہیں مکے کی سڑکوں پر ہر طرف گھسیٹنے پھرتے تھے انہیں تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھے گئے۔لیکن وہ خدا کے عشق میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ ان کی زبان سے سوائے احد احد کے سوا کچھ نہیں نکلتا تھا۔
    ⚡ آغاز اسلام کے پیروکاروں کو بارہا زنجیریں پہنا کر تپتی زمین پر کھڑا رکھا گیا لیکن ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی ایک دن دوپہر میں مشرکین نے انہیں عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا آپ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے جب ان کے قریب آۓ تو فرمایا الیاس صبر کرو اللہ تعالی نے تم سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اسلام میں شہیدہونے والی سب سے پہلی خاتون ام عمار یعنی سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا تھی جن کو ابوجہل نے ان کے دل میں تیز دھار خنجر جیسا ہتھیار مار کر ہلاک کردیا ۔
    ⚡ایک بار اڑتیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھما جن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار اسلام کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے اجازت دے دی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کو لے کر مسجد میں گئے اور تقریر کرتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تقریر سنتے ہیں کفار نے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ سب سے زیادہ چوٹیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو آئیں چہرے پر اتنی ضربات تھیں کہ پہچان مشکل ہوگئ ان کے جانبر ہونے کی امید نہ تھی ان کی یہ حالت دیکھ کر نبی کریمﷺ آبدیدہ ہوگئے۔
    ⚡شعب ابی طالب میں جس کی مدت تقریبا تین سال تھی اس میں محصور مسلمانوں پر کفار نے ظلم کی انتہا کردی مسلمانوں کے کمسن بچوں کی بھوک پیاس سے بلکنے کی آوازیں وہاں سے دور تک سنائی دیتی تھی ۔

    ⚡ہجرت حبشہ کے وقت آپ کی بیٹی زینب کو برے طریقے سے شہید کر دیا گیا وہ چٹان پر گریں اور ان کا حمل ساقط ہوگیا۔پھر مسلسل تکلیف میں رہنے کے بعد فوت ہو گئی

    ⚡منظر بدلتا ہے اسلام کو کچھ قوت حاصل ہوتی ہے۔آپ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آچکے ہیں مسلمانوں کی تعداد بڑھتے ہی جہاد کا حکم نازل ہو گیا ۔چار بڑے غزوات اور سریا میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ آپ کے رشتہ دار بھی شہید کر دیئے گئے جنگ بدر میں مسلمانوں پر اللہ کا خاص کرم تھا نشاندہی فرشتوں کے ساتھ انہیں نصرت دی گئی اور فتح و کامرانی ان کا مقدر بنیں لیکن

    ⚡جنگ احد میں مسلمانوں کے لئے آزمائش بن گئی اس جنگ میں نبی کریمﷺکا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا اور سامنے کے دندان مبارک ٹوٹ گئے۔
    ⚡ آپ کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک وحشی حبشی نے شہید کر دیا۔ہندہ بنت عتبہ حضرت حمزہ کی شہادت کی خبر سن کر وحشیوں کی طرح دوڑتی ہوئی آئی اور ان کا سینہ چاک کرکے کلیجہ نکالا اور جب چبانے لگی جب نہ نکالا گیا تو اسے چبا کر تھوک دیا حضرت محمدﷺ حمزہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر کھڑے ہوگئے اور آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ایسی مصیبت جیسی حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ پر پڑی دنیا میں کسی پر نا پڑی ہو گی۔حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش کی حالت دیکھ کر حضرت رضی اللہ تعالی عنہا صفیہ جوحضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن تھیں فطرتا زاروقطار رونے لگیں لیکن انہوں نے بھی اسے رضائے الہی کہہ کر بڑے صبر کا ثبوت دیا۔
    ⚡ غزوہ موتہ میں جس روز جعفر بن ابی طالب شہید ہوئے اسی روز ان حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جعفر کو بلا کر اپنی گود میں بٹھایا ان کی پیشانی اور آنکھوں پر بوسے دیے جبکہ آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
    ⚡نبی اکرمﷺ کے بیٹے ابراہیم جو ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے تھے بچپن میں ہی فوت ہو گئے آپﷺ ان پر جھک کر روۓ یہاں تک کہ آپ کے دونوں جبڑے اور دونوں پہلو ہلنے لگے اور پھر فرمایا آنکھیں روتی ہیں اور دل غمگین ہے لیکن ہم وہ بات نہیں کرتے جو رب کو ناراض کر دے۔
    یہ تو چند واقعات ہیں جب کہ نبیﷺ کی زندگی غم و الم سے ہی عبارت تھی آپ کی آنکھیں ہنجو برساتیں کیونکہ آپﷺ جیسا نرم دل انسان دنیا میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا جنہیں رحمت اللعالمین کا خطاب دیا گیا اپنے بیٹے ابراہیم جو چھ ماہ کے تھے ان کی وفات پر آپﷺ رونے لگے تو ایک صحابی نے کہا یا نبی یہ آنسو کیسے آپﷺ نے فرمایا آنسو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں لیکن زبان سے ہم وہی کہیں گے جو اللہ چاہے گا یعنی کہ آپ نے زبان سے کبھی کفریہ کلمات نہیں کہے اور نہ ہی ہاتھوں کو سینے پر مارا۔
    ⚡مزید تاریخ میں آگے بڑھیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں بہت سے فتنوں نے سر اٹھایا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بڑے افہام و تفہیم اور طاقت کے وار سے ختم کیے
    ⚡۔سن 13 ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا دور خلافت ہمیں یاد ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی جرات و بہادری اور طاقت سے بیت المقدس کے علاوہ 22 لاکھ مربع میل پر اسلامی سلطنت کو وسعت دی اور بہت سی اصلاحات کی آپ کو رومی گرامی گھرانے کے ایک مجوسی ابو لؤلؤہ فیروز نے 26 ذی الحجہ کو آپ پر دو دھارے خنجر سے وار کیے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد سے اٹھا کر گھر لایا گیا تین دن کے بعد آپ وفات پا گئے اور آپ کو حجرہ نبویہ میں یکم محرم کو دفن کیا گیا اگر شریعت اسلامیہ میں ماتم کی اجازت ہوتی تو دنیا اس بے باک اور نڈر شخصیت پرصدیوں نوحہ کرتی۔
    ⚡سن 24 ہجری کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی گئی آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے 24 تا 35 تک نظام خلافت احسن انداز سے چلا یا پھر کچھ شر پسند لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت سے بغاوت کر دی اور عوام کو بھی اس بات پر اکسایا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو چالیس دن کے لیے گھر میں قید کر دیا گیا آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا ذوالقعدہ کے آخر سے لے کر آٹھ ذوالحجہ تک مسلسل محاصرہ رہا۔ انصار و مہاجرین میں سے 700 کے قریب لوگ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے لیکن آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے سب کو واپس بھیج دیا اور انہیں قسم دی کہ وہ اپنے ہاتھ کو روکے رکھیں گے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپﷺ نے فرمایا اے عثمان ہمارے پاس افطاری کرنا بس آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی دن روزہ رکھا اور باغی لوگ دروازوں اور دیواروں سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر داخل ہو گئے اور اسی روز آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کر دیا گیا۔اسود بن حمران نامی شخص نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سینے پر برچھا مارا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کر دیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت قرآن کی تلاوت کر رہے تھے
    حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے آخر کا زمانہ فتنے سے بھر گیا اور بہت سے کبار صحابہ اس فتنے سے الگ رہے کیونکہ اس دور خوارج کی جماعت نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا گہراؤ کر لیا تھا۔18 ذی الحجہ کو جمعہ کے روز عثمان رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوگئے اور ذوالحجہ کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مسند خلافت پر فائز ہوگئے۔

    ⚡ خوارج کے بارے میں متفق علیہ کی حدیث ہے کہ لوگوں کے انتشار کے وقت خوارج نکلیں گے اور انہیں دو فرقوں میں سے بہتر فرقہ قتل کرے گا۔ان خوارجیوں میں سے ہی ایک شخص ابن ملجم تھا جب سترہ رمضان کی صبح فجر کی نماز پڑھانے کے لئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ باہر نکلے تو اس نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سر پر تلوار ماری تو آپ کے سر سے خون آپ کی داڑھی پر بہنے لگا ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو گھر لایا گیا۔حتی کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا 17 رمضان 40 ہجری کو شہید ہو گئے۔

    ⚡تاریخ پر مزید نظر دوڑائیں تو 61 ہجری کا واقعہ یاد آ جاتا ہےجب امیر معاویہ کی وفات ہوگئی تو یزید بن معاویہ نے خلافت سنبھالی اس نے تمام امراءاور کبار صحابہ کو اپنی بیعت کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت امام حسین نے اسے قبول نہ کیا اور ایسا آپ نے عراقی عوام کی طرف سے آنے والے خطوط کی وجہ سے کیا جو آپ کو وہاں بلا رہے تھے آپ اپنے اہل و عیال اور مکہ سے لے کر روانہ ہوگئے جب جب آپ کربلا کے مقام پر پہنچے تو ابن زیاد نے چار ہزار فوج کے ساتھ آپ کو گھیر لیا اس نے نہ صرف آپ کے خیموں کو آگ لگا دی بلکہ ایک ایک کر کے اہل بیت کو بھی شہید کر ڈالا آپ کو شہیدکر کے آپ کا سر یزید کے پاس لے آیا اسلام کی تاریخ میں ایسا اندوہناک واقعہ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔اور ظالم کے حوصلے پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے جس نے اپنی فوج بالخصوص شمر کے ساتھ مل کر نواسہ رسول کے نانا کی بھی لاج نہ رکھی۔

    ⚡73 ہجری میں میں حجاج بن یوسف (اللہ اس کا بھلا نہ کرے) ذوالحجہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا ۔پانچ ماہ 17 راتوں تک محاصرہ کیے رکھا اور جمادی الاول میں انہیں قتل کردیا گیا اور آپ کے جسم کو ایک گھاٹی پر لٹکا دیا ۔

    مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور تعصب نے اسلامی حکومت کو بہت نقصان پہنچایا ۔ اور ہم نے اس راہ میں بہت سے نایاب ہیرے بھی کھو دیے۔ آپس میں مسلمانوں کے انتشار و افتراق کی وجہ سے چنگیز خان’ ہلاکو خان ‘فرنگیوں اور تاتاریوں کو مسلمانوں پر چڑھنے کا موقع ملا ۔بقول اس شعر کے ۔
    دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
    لوگوں نے میرے گھر میں رستے بنا لیے
    ⚡617 میں چنگیز خان نے اپنے ساتھی تاتاریوں کے ساتھ مل کر چین کے دور دراز علاقوں سے لے کر بلا د عراق اور بہت سے مسلم ممالک پر قبضہ کرلیا وہ جس شہر میں داخل ہوتے سب کو قتل کر دیتے تھے سامان لوٹ کر اسے تلف کر دیتے مسلمانوں کے خزانے سے ریشم اکٹھا کر لیتے اور جب ان سے نہ اٹھایا جاتا تو اسے آگ لگاتے اور پھر تماشا دیکھتے ۔
    ⚡656ھ میں تاتاریوں نے بغداد سے جنگ کی مسلسل چالیس روز تک ان کی تلوار مسلمانوں پر چلتی رہی اس معرکہ میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کیا گیا حتیٰ کہ گلیوں میں خون کے نالے جاری ہوگئے اور دریا سرخ ہوگیا اس طرح تاتاریوں نے بنو عباس کی شاندار حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔
    ⚡مزید آگے بڑھتے جائیں تو1857 میں بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اور
    ⚡ 1947 میں ہجرت پاکستان کے وقت مسلمانوں کی خون میں لتھڑی ہوئی لاشیں آزادی کا تحفہ بنا کر پاکستان میں بھیجی گئیں۔
    خلاصہ کلام یہ کہ تاریخ کے یہ لہو لہو اوراق ہمارے لئے عبرت کا باعث ہیں نہ کہ تعصب اور انتشار کا۔ اگرہم ماتم کی بات کریں (جو کہ اسلام میں ممنوع ہے )تو پھر ہم سارا سال ہی ماتم کرتے رہیں کیوں کہ اسلامی تاریخ میں کوئی مہینہ بھی ظلم و جور سے خالی نہیں تو تاریخ سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ۔ساتھ ہی ساتھ صبر و تحمل اور اللہ سے استعانت مانگنے کی ضرورت ہے ان تمام حالات میں ہماری نظر اللہ اور اس کے رسول پر ہونی چاہیے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اطیعو اللہ و اطیعو الرسول
    اور ایک آیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔
    غور و تدبر کرنے کے لئے قرآن کی یہ آیت ہی کافی ہے
    ⚡واستعینوا بالصبر والصلوہ اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو
    اور اگلی ایک اور آیت میں ہے کہ البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے خوف بھوک مال اور ثمرا ت کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے سورۃ (البقرہ )

    دورے حاضر میں تفرقہ بازی سے زیادہ کفر کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم غلام مسلمانوں کو پنجہ غلامی سے چھڑا سکیں۔
    جب ہم اللہ تعالی کے حکم پر چلیں گے تو وہ ہماری مدد ضرور کرے گا اور غیبی مدد سے حق پر چلنے والوں کو باطل پر فتح دے گا ۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور صحیح سنت رسول زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
    *******

  • خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے  تحریر:بلال شوکت آزاد

    خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے تحریر:بلال شوکت آزاد

    خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔”

    آپ نے خلافت و ملوکیت پڑھ لی, آپ نے سانحہ کربلا پڑھ لی, آپ نے مرزا جہلمی اور مولوی اسحاق جہالوی کو سن لیا اور آپ نے فیسبک پر مختلف بزعم خویش ذاکرین و قصہ خوانوں کی کہانیاں سن لیں تو کیا آپ کے پاس لائسنس آگیا ہے کہ آپ عدالت لگا کر قاضی بن جائیں اور گڑے مردے اکھاڑ کر چودہ سو سال سے دہکتی بلکہ صاف کہوں تو دہکائی جانے والی آگ میں تیل ڈالنے کی ذمہ داری ادا کرنا شروع کردیں؟

    کتب میں دونوں نہیں بلکہ تینوں جانب کی کہانیاں اور قصے درج ہیں لیکن ہر ایک کے لیے دو جانب کی کہانیاں اور قصے دیوانے کا خواب اور من گھڑت ہے (یہ فیکٹ ہے)۔

    لہذا ایسے میں ہمیں مشترکات پر اکھٹا ہونا اور لوگوں کو جمع کرنا چاہیے نا کہ متفرقات میں الجھ اور الجھا کر فساد فی الارض کی وجہ بننا چاہیے۔

    ہمیں ان دس دنوں میں اگر کچھ نہ کچھ لازمی کرنا ہی ہے تو حضرت حسین رض بن علی رض کی تعلیمات (جو کہ وہی ہیں جو آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ہیں) اور سیرت کا مطالعہ اور بیان کرنا چاہیئے۔

    واللہ یہ تو کسی کتاب میں نہیں پڑھا یا کسی معلم سے نہیں سنا کہ قبر میں اہلبیت رض اور صحابہ رض کی بابت سوال ہونگے البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بابت عدالت لگے گی یہ ضرور بارہا پڑھا اور سنا ہے لہذا ایک ایسے غیر حل شدہ مسئلے بلکہ یہ کہوں کہ معمے کے حل میں دس دن یا پورا سال ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے سے بہتر ہے کہ مشترکات پر متحد ہوکر صدیقی, عمری, عثمانی, علوی, حسنی, حسینی اور اموی تقسیم سے بچ بچا کر نکلا جائے اور صرف محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم بننے اور بنانے پر اکتفاء کیا جائے۔

    آپ میں سے کسی کو 80 سال قبل کے واقعات کا کامل علم یا تصدیق نہیں ہوگی اور نہ ہوسکتی ہے جبکہ دنیا تب صنعتی اور جدید انقلاب کے دروازے میں داخل ہوچکی تھی, ایسے میں آپ اور میں چودہ سو سال پہلے کے واقعات کا کامل علم یا تصدیق رکھنے کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں اور یہ کیونکر ممکن ہو جبکہ یہاں احادیث کی سند اور صحت تک پر سوال اور اعتراضات موجود ہیں تو وہاں تاریخ کیونکر مستند اور مکمل ہوگی اور ہوسکتی ہے؟

    بہرکیف کربلا میں حق و باطل کا معرکہ بپا ہوا تھا, نہتوں پر ظلم و ستم ہوا تھا, خانوادہ رسول اللہ کا بہیمانہ قتل ہوا تھا, سرزمین اسلام پر قیمتی لہو گرا تھا اور اسلام و امت مسلمہ میں تاقیامت تفرقہ اور نفرت پر مبنی گروہوں کے جنم کا آغاز ہوا تھا۔ ۔ ۔ یہ وہ سچائیاں ہیں جن کا انکار ممکن نہیں لیکن معاملات اور حقائق کیا تھے, کیا ہیں اور کیا دریافت ہونگے ان پر ہم کاملیت اور مصدقہ کی مہر غلو اور جانبداری کا مظاہرہ کرکے ثبت کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں پر حقیقتاً ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ ہماری ثبت شدہ مہر سے معاملات حل ہوسکیں یا ختم ہوسکیں۔

    جو مسئلہ یا معمہ چودہ سو سال سے حل نہیں ہوسکا اس پر دانشوری بگھارنا اور "تو کافر میں مومن” والے بحث و مباحث کا سراسر کوئی فائدہ اور ضرورت نہیں۔

    آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ایک مرد مومن کا قول ہے کہ

    "خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔”

    لہذا خاموش رہ لیں اور اللہ پر اس مسئلے یا معمے کا حل چھوڑ دیں۔ ۔ ۔ واللہ روز قیامت صرف قیامت کا ہی دن نہیں ہوگا بلکہ ایک سرپرائز ڈے ہوگا جہاں ایسے ایسے سرپرائز ملیں گے کہ زمین پر موجود ہر تیس مار خاں اس دن انگشتِ بدنداں ہوگا۔

    بندے بن جاؤ فیسبکی مومنوں بندے بن جاؤ۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل تحریر:محمد نعیم شہزاد

    یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل
    محمد نعیم شہزاد

    ملک پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے قدرتی وسائل سے تو مالا مال کیا ہی ہے ساتھ میں ایسے مفکر اور فلاسفر بھی عطا کر دیے ہیں کہ جو ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کو اپنا بنیادی حق تصور کرتے ہیں اور اپنی ہی رائے کو حتمی اور قابل عمل سمجھتے ہوئے ہر دوسرے شخص کی رائے کو بلا سوچے سمجھے مسترد کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی آئی حکومت کے ویژن کے مطابق یکساں نصاب تعلیم کے مسئلے پر بھی ہوا۔ ویسے اگر حکومت اس مسئلہ پر بحث و مباحثہ کرنے کے لیے پبلک کال دے دے اور بحث میں شامل ہونے کے لیے پی پی ایس سی طرز کا ایک ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط لازمی کر دے اور ٹیسٹ میں ناکام ہونے والوں کو بحث میں شمولیت سے محروم ہونے کے ساتھ بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے تو آج ہی ساری بحث ختم ہو جائے اور ہر طرف ہی اس پالیسی کے حامی نظر آنے لگیں۔

    یہ تو رہی بات ان معترضین کی کہ جن کو اعتراض کرنے میں ثواب دارین نظر آتا ہے ۔ اب کچھ جائزہ لیتے ہیں کہ یکساں نصاب تعلیم کی اہمیت و ضرورت کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت تعلیم کو کئی کیٹیگریز میں منقسم کر دیا گیا ہے۔ مدارس کا الگ نظام ہے اور سکولنگ میں اپنے بہت سے متنوع نظام ہائے کار اور نصاب رائج ہیں۔ جس کے باعث طبقاتی تقسیم، عدم اعتماد اور عدم مساوات کی فضا قائم ہے۔ تقسیم در تقسیم کے باعث آج ایک سسٹم کے تحت کسی بھی لیول کی تعلیم مکمل کرنے والا طالب علم دوسرے سسٹم کے نصاب تعلیم سے ان دیکھے خوف کا شکار نظر آتا ہے اور محض کتاب کا ٹائٹل ہی دیکھ کر اندازہ لگا لیتا ہے کہ یہ کتاب چونکہ میں نے نہیں پڑھی لہٰذا میں اس کے مندرجات کو نہیں جانتا۔ ایک عرصے سے شعبہ تعلیم سے وابستہ رہنے اور مختلف سسٹمز کے نصاب تعلیم کو دیکھنے، طلباء سے ڈسکشن اور شئیرنگ کی صورت میں میرا ان مختلف سسٹمز کے تحت چلنے والے اداروں کے نصاب اور طریقہ تعلیم سے واسطہ رہا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق ملک میں چلنے والے تمام سسٹمز میں چونکہ ایک ہی نصاب (Curriculum) کو مدنظر رکھتے ہوئے کتب شامل تدریس کی جاتی ہیں لہٰذا ان کے مندرجات میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ اس میں استثنائی صورت صرف بعض اداروں کی سائنس کی کتب کے حوالے سے ہو سکتی ہے مگر اکثریت اداروں میں ایک جیسا ہی content پڑھایا جاتا ہے۔ اس میں جو سب سے بڑا فرق دیکھا جا سکتا ہے وہ approach کا ہے۔ بہت سارے اداروں میں امتحان میں اچھے گریڈ لینے کو معیار بنا لیا گیا ہے اور طلباء کو صرف ایک ہی مقصد کے تحت تیار کیا جاتا ہے کہ امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر کس طرح حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے اداروں سے فارغ ہونے والے طلباء اچھے نمبر لے کر کامیاب تو ہو جاتے ہیں مگر علمی استعداد نا ہونے کے باعث مستقبل میں ناکام ہوتے ہیں۔ جبکہ بڑے پرائیویٹ اداروں کی بات کی جائے تو ان کی اپروچ based concept اور زیادہ practical ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے مگر ہماری قوم کا المیہ ہے کہ اسے achievement کا جنون کسی طرف سکون نہیں لینے دیتا۔ لہذا بڑی تعداد میں ان اداروں کے طلباء کے والدین انھیں گریڈز اور نمبروں کے چکر میں لے آتے ہیں اور ہمارے طلباء رٹا بازی کا سہارا لے کر بین الاقوامی تعلیمی نظام میں بھی نمبروں کے اعتبار سے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر اپنی صلاحیتوں کو زنگ آلود بنا لیتے ہیں۔

    تعلیم ہمارے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ جیسا کہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

    ’’تعلیم کے بغیر مکمل تاریکی تھی اور تعلیم سے روشنی ہے۔ تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔‘‘

    ان سب حالات و واقعات میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنا بہت خوش آئند ہے اور امید افزا ہے۔ حکومت کو کسی قسم کا پریشر لیے بغیر اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے مگر ساتھ ہی ایجوکیشنل اپروچ میں بھی تبدیلی لائیں تاکہ نمبروں اور گریڈز کی رسیا قوم تعلیم کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکے اور اس سے کماحقہ مستفید بھی ہو۔ اس کے لیے نصاب کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے ہدایت نامے جاری کیے جائیں کہ کس سبق کو کس انداز سے پیش کیا جائے اور اس کے اہداف و مقاصد کیا ہوں گے اور ساتھ ہی ایک منصفانہ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے جو طے کردہ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اگر حکومت یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو یقیناً یہ ایک بڑی کامیابی اور بانئ پاکستان کے خواب کی تکمیل کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔

  • حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان   بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ…!!!
    (بقلم جویریہ بتول)۔
    پیارے نبی کا پیارا…
    ریحان حسین ہیں…
    علی و فاطمہ کے دل کا…
    اک ارمان حسین ہیں…
    جنہیں گود میں بٹھا کر…
    پیارے نبی نے چوما…
    آنکھوں کی ہیں ٹھنڈ…
    اور جان حسین ہیں…
    کندھوں پر بٹھا کر…
    جھولا جنہیں جھُلایا…
    بانہوں میں جنہیں سمیٹا…
    وہ ذی شان حسین ہیں…
    حسین مجھ سے ہے…
    اور میں حسین سے ہوں…
    کہا نبی نے جنت میں…
    سردارِ نوجوانان حسین ہیں…
    علمی کمالات سے تھے جو مزین…
    دلائل وحق کی زبان حسین ہیں…
    جرأت و شجاعت کے پیکر…
    سخاوت کا بحرِ بیکراں حسین ہیں…
    صحابہ کے حصار میں…
    محبتیں جنہوں نے پائیں…
    ہر اہلِ ایمان کے دل کا…
    قرار و ایمان حسین ہیں…
    نانا کے نقشِ قدم پر…
    چلتے ہوئے اک سفر ہے…
    وقتِ کرب میں وفاؤں کا…
    بھاری سامان حسین ہیں…
    کوفی تھے جو لا یوفی…
    سازش تھی جو اندر…
    دکھائی نہ تھی کوئی…
    گرمی صحرا کی تھی…
    اور پریشان حسین ہیں…
    لبِ فرات پہ جو تھی…
    پیاس اور تشنہ لبی…
    چٹیل میدان میں کھڑے…
    کوہِ ہمت کا نشان حسین ہیں…
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…؟
    نبی کی گود میں پالے…
    نشانہ جہاں حسین ہیں…!
    وہ جاں نثار سا قافلہ…
    جو قلیل سا تھا کھڑا…
    کیسی بے مثل اطاعت تھی…؟
    واں قیادت کی داستان حسین ہیں…
    کیا چلتے ہوئے جو عزم تھا…!!!
    اور جو نرمی کا رنگِ رزم تھا…
    دمِ آخر تک صلح کی کاوشیں…
    رحم و مودت کا اک پیمان حسین ہیں…
    دھوکے سے تھا جو بلایا…
    غلط فہمیوں سے ستایا…
    اُن سازشیوں کے سامنے…
    بنے اک چٹان حسین ہیں…
    کربلا کی خاک پر ہےرقم…
    اک مظلومیت کی داستاں…
    اُس داستان کا روشن…
    عنوان حسین ہیں…
    شہادت کا تاج پہن کر…
    وہ جنت مکین ہوئے…
    مومنوں کے دلوں میں…
    آج بھی تاباں حسین ہیں…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ہالی وڈ بلاک بسٹر فلم بلیک پینتھر کے اداکار چیڈوک بوسمین کینسر کے باعث انتقال کرگئے

    ہالی وڈ بلاک بسٹر فلم بلیک پینتھر کے اداکار چیڈوک بوسمین کینسر کے باعث انتقال کرگئے

    ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم بلیک پینتھر کے اداکار چیڈوک بوسمین کینسر کے باعث انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : 43 سالہ اداکار ،پروڈیوسر ڈائریکٹر اور رائٹر چیڈوک بوسمین کا انتقال کینسر کے باعث لاس اینجلس میں واقع گھر پر ہوا اداکار کے اہل خانہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اداکار کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک نوٹ شئیر کیا جس میں لکھا کہ چیڈوک بوسمین اب ہم میں نہیں رہے۔


    ٹوئٹر پر جاری پیغام میں لکھا گیا کہ چیڈوک بوسمین میں 2016 میں تیسرے اسٹیج کے بڑی آنت کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جو گزرتے وقت کے ساتھ چوتھے اسٹیج میں پہنچ گیا تھا

    اہل خانہ نے پیغام میں مزید لکھا گیا کہ وہ حقیقی فائٹر تھے اور اس دوران آپ کے لیے بہت سی فلمز لائے جنہیں آپ سب نے بہت پسند کیا مارشل سے لے کر دا 5 بلڈز، ما رینیز بلیک باٹم اور دیگر کئی فلموں کی شوٹنگ لاتعداد سرجریز اور کیموتھراپی کے درمیان ہوئیں۔

    اہل خان نے کہا کہ بلیک پینتھر میں کنگ ٹی چالا کا کردار واپس لانا ان کے کیریئر کے لیے اعزاز تھا۔

    اہل خانہ کے جاری پیغام میں لکھا گیا کہ اداکار کے اہل خانہ آپ کی محبت اور دعاؤں پر شکر گزار ہے اور درخواست کرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں ان کی پرائیویسی کا احترام کریں گے۔

    چیڈوک بوسمین جنوبی کیرولینا میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا تھا اور 2013 میں ٹیلیویژن میں چھوٹے رولز کے ذریعے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

    چیڈوک بوسمین نے فلم 42 سے قبل ٹی وی شوز جیسا کہ اے بی سی کے فیملی لنکولن ہائٹس اور این بی سی کے پرسنز ان نو میں کردار ادا کیا تھا لیکن 42 سے قبل انہوں نے دی ایکسپریس میں کام کیا تھا۔ 2014 میں انہوں نے ‘گین آن اپ’ میں موسیقار جیمز براؤن کا کردار ادا کیا تھا چیڈوک بوسمین کی فلموں میں سب سے یادگار بلاک بسٹرفلم بلیک پینتھر تھی جو 2018 میں ریلیز ہوئی تھی۔

    معروف یوٹیوب چینل کیم اینڈ فیم کے بانی 19سالہ لینڈن کلیفور انتقال کر گئے

  • سنجے دت اور عالیہ بھٹ کی ناکامی کا نیا ریکارڈ اپنے نام کرنے والی فلم ’سڑک 2‘ کو شائقین نے خوفناک اور بدترین قرار دیا

    سنجے دت اور عالیہ بھٹ کی ناکامی کا نیا ریکارڈ اپنے نام کرنے والی فلم ’سڑک 2‘ کو شائقین نے خوفناک اور بدترین قرار دیا

    بھارتی سُپر اسٹار سنجے دت ، فلم ساز مہیش بھٹ اورعالیہ بھٹ کی ’سڑک 2‘ فلم کو شائقین نےخوفناک اور بدترین قرار دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی :مہیش بھٹ کی ڈرائریکشن میں بنائی گئی سنجے دت اور عالیہ بھٹ کی فلم ’سڑک 2‘ کے ٹریلر کو رواں ماہ 12 اگست کو ہی ریلیز کیا گیا تھا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ناکامی کا نیا ریکارڈ اپنے نام کرلیا تھا-

    بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق 15 اگست تک ’سڑک 2‘ کے ٹریلر کی ویڈیو بھارت میں ناپسند کی جانے والی یوٹیوب کی پہلی ویڈیو بن گئی تھی-

    رپورٹ کے مطابق عالیہ بھٹ، ادیتیہ رائے کپور، سنجے دت اور پوجا بھٹ کی کاسٹ پر مبنی فلم کےٹریلر کی ویڈیو یوٹیوب پر ناپسند کی جانے والی دنیا کی تیسری بڑی ویڈیو بھی بن گئی۔

    ’سڑک 2‘ سے آگے صرف دو ہی ویڈیوز ایسی ہیں جنہیں یوٹیوب پر سب سے زیادہ ناپسند کیا گیا ہے مذکورہ دو ویڈیوز میں دوسرے نمبر پر کینیڈ ین پاپ اسٹار جسٹن بیبر کے گانے بے بی کی ویڈیو ہے جسے 2010 میں ریلیز کیا گیا تھا تاہم 18 اگست تک ’سڑک 2‘ نے جسٹن بیبر کے گانے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا تھا-

    جسٹن بیبر کی ویڈیو نے گزشتہ ایک دہائی 18 اگست تک یوٹیوب پر ایک کروڑ 10 لاکھ ڈس لائیک حاصل کیے تاہم سڑک 2 کے ٹریلر کی ویڈیو محض 7 دنوں میں ہی 18 اگست تک یوٹیوب پر ایک کروڑ 10 لاکھ ڈس لائیک حاصل کر کے گلوکار کے گانے سے آگے نکل گئی تھی-

    جسٹن بیبر کے گانے اور ’سڑک 2‘ کے ٹریلر سے آگے یوٹیوب کی 2018 میں جاری کی گئی اپنی روائنڈ ویڈیو ہے، جسے 18 اگست تک ایک کروڑ 80 لاکھ بار ناپسند کیا جا چکاتھا-اس طرح سڑک 2 دنیا بھر میں ناپسند کی جانے والی دوسری ویڈیو بن گئی ہے تاہم اب فلم شائقین نے مذکورہ فلم کو خوفناک بھی قرار دیا ہے-

    یہ فلم 1991 میں ریلیز کی گئی مہیش بھٹ کی فلم ‘سڑک’ کا سیکوئل ہے اور 30 سال بعد بننے والی دوسری فلم میں سنجے دت اور پوجا بھٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پرانی فلم میں سنجے دت اور پوجا بھٹ نے مرکزی کردار ادا کیے تھے اور اس فلم کو بہت سراہا گیا تھا اور خیال کیا جا رہا تھا کہ ‘سڑک 2’ کو بھی پسند کیا جائے گا۔

    مگر بد قسمتی سے ’سڑک 2‘ کو ایک ایسے وقت میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ بولی وڈ میں اقربا پروری پر سخت بحث جاری ہے۔سوشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد کئی افراد اور فلمی شخصیات نے ان کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کی مایہ ناز شخصیات کو قرار دیا تھا اور ایسی شخصیات میں فلم ساز مہیش بھٹ بھی شامل تھے۔

    مہیش بھٹ، کرن جوہر اور سنجے لیلا بھنسالی جیسے فلم سازوں پر الزامات لگائے گئے کہ وہ سوشانت سنگھ جیسے باصلاحیت اداکاروں کو نظر انداز کرکے اپنے ہی بچوں کو فلموں میں چانس دیتے ہیں-

    اور سڑک 2 میں بھی مہیش بھٹ نے اپنی بڑی بیٹی پوجا بھٹ سمیت چھوٹی بیٹی عالیہ بھٹ کو پیش کیا جب کہ سنجے دت اور ادیتیہ رائے کپور جیسے فلمی خاندان سے تعلق رکھنے والے اداکاروں کو کاسٹ کیا۔

    یوٹیوب پر سب سے زیادہ ناپسند کی جانے والی ویڈیو کا بدترین مفرد ریکارڈ اپنے نام کرنے والی فلم ‘سڑک 2’ کو 28 اگست کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ پر ریلیز کیا گیا اور اسے دیکھنے والے کئی افراد نے ایک بار پھر فلم پر غصہ نکالا۔

    بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے فلم کے حوالے سے اپنے تبصرے میں ‘سڑک 2’ کو بدترین اور بھیانک قرار دیا اور اسے 30 سال قبل والی فلم کے مقابلے انتہائی گھٹیا قرار دیا۔

    تبصرے میں لکھا گیا کہ دیکھنے والے افراد حیران رہ گئے کہ سڑک 2 کومہیش بھٹ نے بنایا ہے اور ساتھ ہی اس امید کا اظہار کیا گیا کہ مذکورہ فلم کے بعد انہیں توقع ہے کہ عالیہ بھٹ کو کسی اچھی فلم میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔

    اسی طرح ٹائمز آف انڈیا نے بھی ‘سڑک 2’ کے تبصرے میں فلم کو پرانی فلم کے مقابلے انتہائی بیکار قرار دیا جبکہ دیگر بھارتی اخبارات اور شوبز ویب سائٹس میں شائع ہونے والے فلمی تبصروں میں بھی فلم پر تنقید کی گئی جب کہ ٹوئٹر پر بھی صارفین نے مہیش اور عالیہ بھٹ کوبیکار فلم بنانے پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔


    کئی افراد نے فلم کی کہانی، کاسٹ اور مناظر کو بھی بدترین اور بیکار قرار دیا جب کہ فلم کو حقیقت سے دور بھی قرار دیا۔
    https://twitter.com/GarimaC244/status/1299355592654426112?s=20
    کسی نے فلم کی ریٹنگ انتہائی کم ہونے پر عالیہ بھٹ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔


    کچھ افراد نے ادیتیہ رائے کپور کے لیے ہمدری کا اظہار کیاکہ اس بیچارے کا کیا قصور اسے علم نہیں تھا کہ مہیش بھٹ کی فلم میں کام کرنے سے اس کے ساتھ ایسا ہوگا؟
    https://twitter.com/1yudhishthir/status/1299383193930350593?s=20

    مہیش بھٹ کی فلم سڑک 2 کے ٹریلر نے ناکامی کا نیا ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    مہیش بھٹ کی نئی فلم سڑک 2 کا گانا پاکستانی گانے کی کاپی نکلا

  • شہروز سبز واری نے اہلیہ صدف  کنول کو مسکراہٹ کی وجہ قرار دیا

    شہروز سبز واری نے اہلیہ صدف کنول کو مسکراہٹ کی وجہ قرار دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار شہروز سبزواری نے اہلیہ اداکارہ و ماڈل صدف کنول کی سالگرہ پر مبارکباد کے ساتھ سوشل میڈیا پر خوبصورت پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر شہروز سبز واری نے اہلیہ کی 27 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی اور صدف کی ایک دلکش تصویر شیئر کی تصویر شئیر کرتے اداکار نے صدف کو مخاطب کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ تم وہ وجہ ہو جس کے باعث میں ہرروز مسکراتا ہوں-
    https://www.instagram.com/p/CEcanLAjvkk/?utm_source=ig_embed
    شہروز سبزواری نے اپنے پیغام میں صدف کو اپنا سب کچھ قرار دیتے ہوئے ہیپی برتھ ڈے مائی آل لکھا۔
    https://www.instagram.com/p/CESKi5vAU9L/?utm_source=ig_embed
    واضح رہے کہ اس سے قبل صدف نے بھی سوشل میڈیا پر شہروزکی 35 ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے جذبات کااظہارکرتے ہوئے لکھا تھا روحیں ایکدوسرے کو وائبس کے ذریعہ پہچانتی ہیں ، نمائش کے ذریعہ نہیں …سالگرہ کی مبارک ہو، میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ‘

    یاد رہے کہ 31 مئی کو صدف کنول اور شہروز سبزواری نے گھر والوں کی موجودگی میں کراچی میں سادگی سے نکاح کیا تھا-

    اس سے قبل شہروز شبزواری نے سال 2012 میں سائرہ یوسف سے شادی کی تھی تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر رواں ماہ مارچ میں دونوں نے راہیں جدا کرلیں تھی-

    سائرہ یوسف کو طلاق، صدف کنول سے نکاح کرنے پر شہروز سبزواری دونوں پر تنقید جاری

    صدف کنول سے صدف سبزواری تک کا سفر

    شہروز ، سائرہ اور صدف کے بیچ اصل کہانی کیا ہے، پڑھیے اس خبر میں

    بہروز سبزواری نے سائرہ اور شہروز کی طلاق کی تردید کر دی

    شہروز سبزواری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں صدف کنول نے افواہوں کی تردید کر دی

    صدف کنول نے شہروز سبزواری کی سالگرہ یاد گار بنا دی

  • ریا چکربورتی انٹرویو کی نہیں بلکہ تفتیش کی مستحق ہیں  سوشل میڈیا صارفین

    ریا چکربورتی انٹرویو کی نہیں بلکہ تفتیش کی مستحق ہیں سوشل میڈیا صارفین

    بالی وڈ کے نوجوان آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ کی موت نے جہاں بالی وڈ میں اقربا پروری کے موضوع پر بحث چھیڑ دی ہے وہیں اب اس حوالے سے بھارتی عوام کی جانب سے انڈین میڈیا کے کردار بھی سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں انڈیا میں ایک بار پھر سوشانت سنگھ کی موت پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے اور ٹوئٹر پر اس حوالے سے مختلف ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر پر جہاں لوگ اس معاملے پر میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں تو دوسری جانب سوشانت کی گرل فرینڈ ریا چکربورتی کو ہی سوشانت کی موت کا ذمہ دار سمجھنے والے صارفیں ریا کا انٹرویو کرنے والے چینلز کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

    سوشانت سنگھ کی موت کے بعد اور سوشانت کے والد کی جانب سے ریا پر لگائے گئے الزامات کے بعد سے اداکارہ کے خلاف مہم جاری ہے جس میں سوشانت کے مداحوں کے علاوہ انڈیا کے چند مشہور صحافی بھی شامل ہیں۔

    جبکہ انڈیا کےایک چینل نے توریا چکربورتی کو ایک ’چالاک‘ عورت قرار دیا ہے جس نے ’کالے جادو‘ کی مدد سے سوشانت کو خودکشی کرنے پر مجبور کیا ہے-

    اس ضمن میں ویویک نامی صارف نے ٹویٹر پر اپنے ٹوئٹ میں ریا چکربورتی کے ایک بھارتی چینل کو انٹر ویو دینے کی ایک ویڈیو شئیر کی اور لکھا کہ ٹی وی چینلز ریا چکروتی کا انٹرویو کر کے سوشانت سنگھ کیس سے جڑے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اس بکواس کو بند کیا جائے۔


    دوسری جانب سابق رکن پارلیمان ڈاکٹر ادت راج نے اپنے ٹوئٹ میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے اس وقت سے ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا جب سوشانت سنگھ کی موت کی کوریج نے اہم مسائل کو پس پشت ڈال دیا۔


    ڈاکتڑ ادت راج نے مزید لکھا کہ ریا چکربورتی کے انٹرویو کو بہار کے جذبات مجروح کرنے اور بے روزگاری چین اور کورونا جیسے مسائل سے بچنے کے لیے استعمال کیا گیا

    دوسری جانب سوشانت سنگھ کےمداح جو ریا چکربورتی کو ہی ان کی موت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، ریا کا انٹرویو کرنے والے چینلز پر تنقید کر رہے ہیں-


    ایک صارف نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا قومی ٹی وی پر مجرموں کا انٹرویو کرنا بند کیا جائےانہوں نے کہا کہ ریا انٹرویو کی نہیں بلکہ تفتیش کی مستحق ہیں۔


    ایک صارف نے لکھا کہ بند کرو مجرموں کا انٹر ویو لینا بند کر اور کتنا پیسے کے لئے نیچے گرو گے-
    واضح رہے کہ 25 جولائی کو سوشانت سنگھ کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی ایک ایف آئی آر میں ریا چکربورتی پر سوشانت کو خودکشی کے لیے مائل کرنے سوشانت کا پیسہ چوری کرنے، انھیں نشہ آور ادوات دینے، ان کی ذہنی صحت کے بارے میں لوگوں کو بتانے کی دھمکی دینے کے علاوہ خاندان سے دور کرنے کا الزام بھی عائد کیا –

    سی بی آئی کی تفتیش میں سوشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید اُلجھا دیا

    سوشانت کی بہن کا کنگنا رناوت کو مشکلات سے لڑنے اور مضبوط رہنے کا مشورہ

    سوشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہے پوسٹ مارٹم صحیح طریقے سے نہیں ہوا یا…

    قتل کی دھمکیوں کے بعد پوجا بھٹ نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ پرائیویٹ کر لیا

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50 خواہشات

    بھارتی آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں پاکستانی اداکار حسن خان مرکزی کردارادا کریں گے

    بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ نے بالی وڈ میں اقربا پروری اور مافیا کی بحث کو…

    سوشانت سنگھ راجپوت کے قریبی دوست کا سوشانت اور سارہ علی خان کے درمیان تعلقات کا…